Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 01)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 01)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
” سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہوگی
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے
پتھرو آج مرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے
اب مری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے
تو نے کیا مجھ کو محبت میں بنا رکھا ہے
پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصرؔ
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے۔۔۔”
فضاء میں گونجتی کلام کی آواز اور رات کا چھایا اندھیرا ماحول کو پُراسرار بنا رہا تھا۔ وہ حیرت سے گاڑی میں بیٹھا شیشے کے پار جگمگاتی ان روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔ گہری رات میں بھی یہاں رونق لگی ہوئی تھی۔
” یار علی !! یہ تو کدھر لے آیا ہے۔ وہ بھی اتنی رات کو۔” وہ جھنجھلاتا ہوا بولا۔
” کاشف کچھ دیر کے لیے خاموش نہیں رہ سکتا؟ تیرے سارے سوالوں کے جواب مل جائینگے پر ابھی خاموشی سے چل۔” علی نے اسے ٹوکا ساتھ ہی گاڑی سے نکل کر سامنے بنی مزار کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھتا چلا گیا۔
کاشف نے غصّے سے سیڑھیاں چڑھتے علی کی پُشت کو گھورا پھر نہ چاہتے ہوئے بھی گاڑی سے نکل کر اس کے پیچھے چل دیا۔
” کدھر ہیں وہ یہیں چبوترے پر تو بیٹھے ہوتے ہیں۔”
خود سے بڑبڑاتا ہوا وہ دور سے ہی چبوترے کے ارد گرد دیکھنے لگا کہ تبھی لوگوں کے ہجوم کو چیرتا ہوا ایک سایہ اسے چبوترے کے ایک کونے پر بیٹھا دکھائی دیا۔
” کاشف ادھر آ وہ رہے۔” علی پُرجوش انداز میں کہتا ہوا چبوترے کی طرف بڑھا۔
کاشف جو حیرت سے مزار میں چلتے پھرتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ علی کی آواز پر خود بھی چبوترے کی طرف بڑھ گیا۔
” اتنی رات میں بھی یہاں لوگ موجود ہیں۔” وہ حیرت زدہ لہجے میں علی سے بولا۔
” اس درگاہ میں دن رات ایسی ہی رونق رہتی ہے۔ خیر مجھے بس اُس بابا سے ملنا ہے۔ اتنی رات کو چادر چڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔” وہ کہتا ہوا چبوترے کے قریب جا رکا۔ جہاں وہ شخص اپنے سامنے بیٹھے شادی شدہ جوڑے کیلئے دعا کر رہا تھا۔
” یہ بابا ہیں؟ یہ کہاں سے بابا لگتے ہیں؟ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اگر اس آدمی کی داڑھی ہٹا دی جائے اور بال کاٹ کر چھوٹے کر دیئے جائیں تو پورے کراچی میں اس سے زیادہ خوبصورت مرد شاید ہی کہیں ملے۔”
کاشف اس کے کان میں گھس کر بولا۔ حیرت کے مارے آنکھیں اُبل کر باہر آنے کو بیتاب تھیں۔
” فضول گوئی سے پرہیز کرو۔”
علی اسے آنکھیں دکھاتا واپس سامنے بیٹھے شخص کی طرف متوجہ ہوا جو اُس شادی شدہ جوڑے کی کسی بات پر مسکرا رہا تھا۔ ایک پل کیلئے علی اس کی مسکراہٹ میں کھو سا گیا۔ دل نے کاشف کی بات پر گواہی دی۔ وہ شخص واقعی حُسن وجمال میں اپنی مثال آپ تھا۔
” تو کہاں کھو گیا؟ ” کاشف نے اس کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے پوچھا۔
” کہیں نہیں۔”
وہ سوچوں سے باہر آیا اور واپس اُن لوگوں کی طرف دیکھنے لگا۔ جہاں وہ شادی شدہ جوڑا اب جانے کے لیے اُٹھ رہا تھا۔ اُس جوڑے کے جاتے ہی وہ دونوں سیدھا اُس بابا کے سامنے جا بیٹھے۔
” السلام علیکم بابا !! “
” وعلیکم السلام !! ” سنجیدہ چہرے سے سلام کا جواب دیتے وہ اپنے گرد موجود اونی چادر کو ٹھیک کرنے لگا۔
” بابا آپ کو یاد ہے پہلے میں آپ سے اپنی جاب کیلئے دعا کروانے آیا تھا۔” علی نے یاد دلانا چاہا۔
” ہاں یاد ہے۔” اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“مجھے جاب مل گئی ہے۔ نیوز اینکر کی۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا تھا۔ آپ سے دعا کروانے کے بعد میں نے سوچا تھا نوکری ملتے ہی آپ کے پاس آؤں گا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ یہ سب آپ کی دعا کی وجہ سے ہوا ہے۔”
علی نے کہتے ہی جھک کر اس کا ہاتھ تھام کر بوسہ دیا اور دونوں آنکھوں سے لگا کر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
” بابا ایک بات پوچھوں؟ “
کاشف جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھا تھا زبان میں اُٹھتی کھجلی کے باعث اب بولے بنا نہ رہ سکا۔
” پوچھو !! “
” آپ پر کس کا ہاتھ ہے؟ “
کاشف کے سوال پر علی نے غصّے سے اسے دیکھا جبکہ سامنے بیٹھے شخص کے چہرے پر مدہم سی مسکراہٹ آگئی۔
” میرا مطلب ہے کہ آپ کی دعا قبول ہوجاتی ہے تو آپ تو۔۔۔” وہ بول ہی رہا تھا کہ سامنے بیٹھے شخص نے اس کی بات کاٹ دی۔
” نہ تو میں کوئی ولی اللہ ہوں، نہ مجھ پر کسی کا ہاتھ ہے۔ یہ تو ٹوٹے دل سے سدا نکلتی ہے جو عرش تک پہنچ جاتی ہے۔”
” اووو !! یعنی دل پر چوٹ کھائی ہے۔”
کہنے کے ساتھ ہی اس نے پورے دانتوں کی نمائش بھی کر دی جو کمر پر پڑتے علی کے گھونسے نے اندر بھی کر دی۔
” اب ہم چلتے ہیں۔” اس سے پہلے کاشف کوئی اگلا سوال کرتا علی فوراً بول اُٹھا۔
” نہیں تم یہاں لائے مجھے اپنی مرضی سے تھے پر اب میں جاؤں گا اپنی مرضی سے۔ بابا آپ اپنی کہانی سنائیں نا کیا ہوا تھا۔” علی کو انکار کر کے وہ بابا سے گویا ہوا۔
” نہیں ابھی نہیں پھر کبھی ابھی جاؤ تم لوگ رات بہت ہوگئی ہے۔” اس نے ٹالنا چاہا پر دل میں ایک خواہش ضرور جاگی تھی اپنا غم بانٹنے کی۔
” آپ سنائیں آپ کی کہانی سننے کیلئے میں ایک رات تو کیا ایک ہفتہ بھی ادھر بیٹھے رہ سکتا ہوں۔”
کاشف کی بات پر اس نے بےتاثر چہرے سے اسے دیکھا۔ اتنے ماہ وسال میں آج پہلی دفعہ تھا جب کوئی اسے سننا چاہتا تھا ورنہ یہاں سب اپنی ہی سنانے آتے تھے۔
” کاشف چلو۔”
علی نے کندھے سے پکڑ کر کھینچا پر وہ ڈھٹ بنا اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھتا رہا جو چہرہ نیچے جھکا کر بیٹھ گیا تھا۔
” سنائیں نا۔” وہ پھر بولا۔
سامنے بیٹھے شخص نے چہرہ اُٹھا کر ان دونوں کو دیکھا ساتھ ہی دھیرے سے مسکرا دیا۔
۔*********۔
اسٹاف روم سے نکل کر اس نے تیزی سے اپنے قدم کلاس کی جانب بڑھا دیئے۔ آج کلاس کا پہلا دن تھا اور آج کہ دن ہی اسے دیر ہوگئی تھی۔
” اُففف !! سر جمال نے کہاں پھنسا دیا۔”
گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے بڑبڑائی ساتھ ہی اپنی رفتار بھی بڑھا دی۔ تیز تیز چلتے ہوئے ابھی وہ کلاس کے دروازے پر پہنچی ہی تھی کہ اندر کا ماحول دیکھ کر دروازے پر ہی رک گئی۔
” بول سالے اب پنگا لے گا مجھ سے ہاں؟ “
کالر سے پکڑ کر اُوپر کو اُٹھائے وہ غصّے سے اسے پوچھ رہا تھا۔ سارے اسٹوڈنٹس ارد گرد جمع ہو کر ماحول سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
” نہیں یوسف بھائی غلطی ہوگئی۔ آئندہ نہیں کروں گا۔ اب نیچے اُتار دو۔” وہ دبلا پتلا سا لڑکا ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔
” یار یوسی چھوڑ دے مر جائے گا بیچارا۔” نوید نے کہتے ہوئے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا کہ تبھی پیچھے سے آتی رعب دار آواز پر سب ایک پل کیلئے سُن ہوگئے۔
” یہ کیا ہو رہا ہے؟ ” وہ جو اتنی دیر سے کھڑی سب برداشت کر رہی تھی اب بولے بنا نہ رہ سکی۔
یوسف نے چہرہ موڑ کر پیچھے دیکھا جہاں وہ کھڑی اسے ہی گھور رہی تھی۔ اس نے فوراً اُس لڑکے کا کالر چھوڑ دیا۔ جو جا کر سیدھا زمین پر گرا تھا۔
” اوئی ماں !! ” وہ کمر سہلاتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا۔
” یہ کلاس ہے یا مچھلی بازار؟ زرا بھی تمیز نہیں ہے۔” وہ غصّے سے بولی۔ کلاس میں موجود سارے اسٹوڈنٹس حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔
یوسف نے پوری طرح سے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے سر سے پیر تک اس لڑکی کو دیکھا۔ بلیک سادہ شلوار قمیض میں سر پر دوپٹہ لیئے، بھوری کام دار چادر کو اپنے گرد لپیٹا ہوا تھا۔ سیاہ کپڑوں میں اس کی گوری رنگت دمک رہی تھی۔ براؤن آنکھوں میں غصّہ لیے وہ قابلِ قبول صورت والی لڑکی اس وقت اسے زہر لگی تھی۔
” آپ کو کوئی مسئلہ ہے مادام؟ ” یوسف نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
وہ بنا کوئی جواب دیئے مڑی پیچھے سے ہنسی کی آوازیں بلند ہوئیں پر وہ ضبط کرتی سیدھا ڈائیس کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئی۔
” کلاس !! آئی ایم یور نیو اکنامکس ٹیچر جسمین ملک۔ سر جمال کی جگہ اب سے میں آپ کی اکنامکس کی کلاس لوں گی۔”
وہ جو اس کے خاموش ہو کر مڑ جانے پر مذاق اڑانے میں لگے تھے۔ اب سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ پھٹی آنکھوں میں حیرت اور خوف لیے سب ساکت کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔ کچھ دیر پہلے مچنے والا شور سناٹے میں بدل گیا تھا۔
” سیٹ ڈاؤن !! “
بس کہنے کے ساتھ ہی ایک بار پھر کلاس میں ہل چل مچی اور اگلے ہی لمحے سب اپنی اپنی جگہ پر موجود تھے۔
” اے یہ ٹیچر ہے؟ کہاں سے؟ ” نوید نے یوسف کی طرف جھک کر سرگوشی کی۔
” اب انٹر پاس اسٹوڈنٹس ہم ماسٹرز والوں کو پڑھائیں گے۔” نوید کے ساتھ بیٹھا جنید بھی بول اُٹھا۔
” اووو بھائی !! اس کی معصوم شکل پر مت جاؤ۔ یہ پچھلے سال میری بہن کی کلاس فیلو رہ چکی ہے۔ ٹاپ کی جینئس اس لیے سر جمال نے ان محترمہ کو اپنی جگہ بلا لیا۔” اب کہ حذیفہ بولا۔ جو یوسف کے ساتھ بیٹھا کب سے سامنے بورڈ پر کام کرتی جسمین کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا۔
” تجھے کیسے پتا؟ ” یوسف نے اسے مشکوک نظروں سے گھورا۔
” کیا مطلب کیسے پتا چلا۔ میری بہن کی دوست تھی ایک بار گھر بھی آچکی ہے۔” حذیفہ چڑ کر بولا۔
ابھی وہ سب اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے کہ تبھی جسمین پیچھے مڑی اور ایک نظر سب پر ڈال کر رعب دار آواز میں بولی۔
” اسے پڑھ کرآئے گا۔ کل آپ سب سے پوچھوں گی۔ اگر جواب نہیں دیا تو کلاس سے باہر اور ضرورت پڑنے پر یونی سے بھی۔” اس نے بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور پھر ڈائیس سے اپنا سامان اُٹھا کر کلاس سے باہر نکل گئی۔
وہ جو ہنسی مزاق اور ادھر اُدھر کی باتوں میں سارا پیریڈ نکال چکے تھے اب ساکت آنکھیں پھاڑے بورڈ کی طرف دیکھ رہے تھے۔
” ابے !! کاپی کرو۔” ہوش میں آتے ہی پیچھے سے کوئی لڑکا چلایا۔
” ابے ٹائم نہیں ہے۔ جلدی تصویر لو۔”
ایک بار پھر کلاس میں ہل چل مچ گئی تھی۔ جتنی خاموشی سے وہ آئی تھی۔ اتنی ہی خاموشی سے چلی بھی گئی تھی۔ لیکن کچھ دیر پہلے والا ان کا سکون اب برباد کر گئی تھی۔
۔*********۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو سامنے ہی اسے ابا حضور تخت پر بیٹھے تسبیح پڑھتے نظر آئے۔ وہ انہیں سلام کرتا ان کے پاس ہی تخت پر جا کر بیٹھ گیا۔
” کیسا رہا آج کا دن؟ ” حیدر صاحب اسے شفقت سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے جو ان کا واحد سہارا تھا۔
” اچھا تھا۔ آپ بتائیں گھر پر اکیلے بور ہونے کے علاؤہ اور کیا کِیا؟ ” یوسف نے انہیں چھیڑا پر وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ غلط موضوع چھیڑ چکا ہے۔
” جب میرے بور ہونے کی اتنی پرواہ ہے تو میری بہو کو کیوں نہیں لے آتے تاکہ میرے آنگن میں بھی رونق ہو جائے۔” حیدر صاحب کی بات پر وہ آنکھیں گھماتا ہوا اُٹھا۔
” میری شادی کے بجائے آپ خود شادی کیوں نہیں کرلیتے۔”
” بکواس بند کرو۔” انہوں نے غصّے سے اسے گھورا۔
وہ افسردگی سے مسکراتا ہوا کچن کی جانب بڑھ گیا۔ جانتا تھا اب جب تک وہ اس کی شکل دیکھتے رہیں گے غصّے سے اسے بکتے رہیں گے۔ آخر اماں حضور سے اتنی محبت جو کرتے تھے۔
سلمیٰ بیگم دو سال پہلے ہی ان دونوں کو چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں اور تب سے ہی ان کے گھر میں ویرانی چھا گئی تھی۔ حیدر صاحب گورمنٹ اسکول میں ٹیچر تھے۔ اس لیے صبح سے دوپہر تک کا وقت بچوں کو پڑھانے میں گزر جاتا تھا پر وہاں سے آنے کے بعد وہ گھر میں اکیلے ہی ہوتے تھے جب تک یوسف نا گھر آ جاتا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ حیدر صاحب اکثر اس کی شادی کا ذکر لے کر بیٹھ جاتے تھے۔ پر وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا کوئی نہ کوئی ایسی بات کر دیتا تھا کہ وہ موضوع کو بھول کر اسے بکنے بیٹھ جاتے تھے۔
” آج سالن بنانے کی باری آپ کی ہے۔” وہ کچن سے جھانکتا ہوا بولا۔
” جانتا ہوں اسکول سے آکر ہی بنا دیا تھا۔ فریج میں رکھا ہے نکال کر گرم کر لو۔” وہ غصّے سے بولے۔
یوسف مسکراتا ہوا کچن سے نکل کر کمرے کی جانب بڑھ گیا تاکہ اپنے اور حیدر صاحب کیلئے فریج سے سالن نکال کر گرم کر سکے۔
۔*********۔
” کیسا رہا تمہارا یونی کا پہلا دن؟ “
وہ سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ڈنر کر رہے تھے کہ تبھی جہانگیر ملک نے اسے مخاطب کیا۔
” اچھا تھا بابا سائیں۔” جسمین نے انہیں جواب دیتے ہوئے سامنے بیٹھے اپنے جان سے پیارے بھائی بلاج کی طرف دیکھا جو آنکھوں سے اسے پُرسکون رہنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
” ٹھیک ہے۔ لیکن بلاج ہم نے تمہارے کہنے پر یونیورسٹی میں پڑھانے کی اجازت دی ہے۔ اس لیے زرا بھی اونچ نیچ کے زمہ دار تم ہوگے۔”
جہانگیر ملک کی بات پر بلاج نے ایک نظر اپنے دونوں بڑے بھائیوں کو دیکھا جن کے چہروں پر طنزیہ مسکراہٹ موجود تھی۔
” جی بابا سائیں آپ بےفکر رہیں۔ مجھے اپنی بہن پر پورا بھروسہ ہے جب اُس نے پڑھائی کے دوران کبھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی کہ ہم سب کا سر جھکے تو ان شاءاللّٰہ آگے بھی کچھ نہیں ہوگا۔” وہ جتا کر بولا۔
جسمین جو سر جھکائے ڈنر کرنے میں مصروف تھی۔ اس نے مزید سر نیچے جھکا دیا۔ کبھی کبھی بہت مشکل لگتا ہے۔ کسی کی بات کا بھرم رکھنا۔ پر اسے بلاج کے بھروسے کا بھرم ساری زندگی رکھنا تھا۔
” اللّٰہ کرے ایسا ہی ہو۔ ورنہ ہم لوگ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے۔” دلاورنے سر جھٹکتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
” بڑے بھائی !! یہ صرف میری بہن نہیں ہے۔ آپ لوگوں کی بھی ہے۔ اتنی بے اعتباری اچھی نہیں ہوتی۔” دلاور کی بات پر وہ ناگواری سے کہتا واپس کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا۔
” ہم بھی اس سے نفرت نہیں کرتے۔ چھوٹی بہن ہے ہماری لیکن تم شاید خود کو اس کا باپ سمجھ بیٹھے ہو جو اس کیلئے ہر فیصلہ خود ہی کر لیتے ہو۔” اب کے خاور بھی بول اُٹھا۔ جس پر دلاور بھی اس کی تائید کرنے لگا۔
” بالکل چار جماعتیں کیا ہم سے زیادہ پڑھ لیں خود کو ہم سب کا باپ سمجھنے لگا ہے۔ بابا سائیں یہ آپ کے لاڈ پیار کا نتیجہ ہے۔ ہم دونوں سے چھوٹا ہو کر بھی ہر بات میں اپنی چلاتا ہے۔”
بلاج جو کب سے خود پر ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا ابھی اس نے کچھ بولنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا کہ جہانگیر ملک نے خاموش کرا دیا۔
” بس بہت ہوگیا۔ تم سب کو لڑنے کیلئے نہیں کہا۔ ویسے بھی ہمیں بھی اپنی بیٹی پر بھروسہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے یونی میں پڑھانے کی اجازت دی۔ اب خاموشی سے اپنا کھانا ختم کرو اب ہم کوئی مزید بحث نہیں سنے۔”
جہانگیر ملک کے کہتے ہی سب اپنی اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ پر جسمین کا دل بالکل اُچاٹ ہوگیا تھا۔ وہ پلیٹ آگے کرتی ہوئی اُٹھی اور سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ بلاج نے تاسف بھری نگاہوں سے تینوں کو دیکھا اور خود بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
۔*********۔
” امی آپ یہ دوائی لیں پھر میں آپ کے کپڑے نکال دیتی ہوں۔” جسمین فائزہ بیگم کو بیڈ سے اُٹھاتے ہوئے بولی۔ جو شدید بخار میں تپ رہی تھیں۔
” وہ وائٹ سوٹ نکال دو۔” دوائی لے کر انہوں نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی اور جسمین کو دیکھنے لگیں جو جلدی جلدی ان کا کمرہ سمیٹ رہی تھی۔
” تمہارے بھائیوں نے کچھ کہا کیا آج ؟ ” وہ اس کے چہرے پر چھائی افسردگی دیکھ کر پوچھنے لگیں۔
اپنے دونوں بیٹوں کی عادت سے واقف جو تھیں۔ باپ کے ساتھ رہتے رہتے دلاور اور خاور بھی جہانگیر ملک جیسے ہی روایتی بھائی بن گئے تھے۔ جو عورت کو چار دیواری تک محدود رکھنا ہی بہتر سمجھتے تھے۔ بس ایک بلاج ہی تھا جو ماں کے قریب ہونے کی وجہ سے اور کچھ باہر ملک سے تعلیم حاصل کرنے کیے بعد تھوڑا آزاد خیال ہوگیا تھا۔ اس لیے ہی وہ اکثر جسمین کے حق میں اپنے باپ کے سامنے بھی کھڑا ہو جاتا تھا۔ کچھ وہ لاڈلا بھی اتنا تھا کہ جہانگیر ملک اس کی کسی بات کو رد نہیں کرتے تھے۔
” نہیں امی بس آپ کو تو پتہ ہے خاور بھائی اور دلاور بھائی تھوڑے سخت طبیعت کے مالک ہیں۔ اس لیے بس اتنا ہی کہہ رہے تھے۔ سنبھل کر رہنا کچھ اونچ نیچ نہ ہو۔ بابا سائیں کی سیاسی جماعت پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ ویسے ہی الیکشن سر پر ہیں۔” وہ کپڑے نکال کر فائزہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئی اور سر ان کی گود میں رکھ لیا۔
” یہ سیاست نے تو ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا خیر !! تم ان کو کوئی موقع نہیں دینا۔ اس سے صرف تمہارا ہی نہیں بلاج کا بھی سر جھک جائے گا۔” وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سمجھانے لگیں۔
” جانتی ہوں امی۔ اگر میرا پیر پھسلا تو میرا بھائی منہ کے بل گرے گا۔ آپ فکر نہیں کریں میں کسی کا بھی سر جھکنے نہیں دوں گی۔” جسمین نے کہتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔
سر جمال کے کہنے پر اس جاب کیلئے بلاج نے کس کس طرح سے اپنے بابا سائیں کو منایا تھا۔ یہ وہ اچھے سے جانتی تھی۔ اس لیے ہر قدم اب پھونک پھونک کر چلنا تھا۔
” چلیں آپ کپڑے بدل کر آرام کریں میں بھی اپنے کمرے میں جاتی ہوں۔”
” ٹھیک ہے۔”
فائزہ بیگم کے کہتے ہی وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اُٹھ کر کمرے سے باہر نکلی کہ تبھی سامنے سے بلاج آتا نظر آیا۔
” تم سوئی نہیں ابھی تک؟ ” وہ قریب آکر بولا۔
” نہیں بس جا ہی رہی تھی۔”
” خاور بھائی اور دلاور بھائی کی باتوں کو دل پر مت لو۔ تمہیں پتہ ہے وہ دل کے بُرے نہیں ہیں۔” جسمین کے افسردہ چہرے کو دیکھتے ہوئے اس نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
” جی بھائی جانتی ہوں۔” وہ دھیرے سے بولی۔
” چلو اب پریشان نہ ہو جاکر سو جاؤ۔” بلاج نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ جس پر وہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب چل پڑی۔
۔*********۔
صبح کے آغاز کے ساتھ ہی وہ تیز رفتاری کے سارے ریکارڈ توڑتا اپنی بائیک لے کر یونی کیلئے روانہ ہوچکا تھا۔ ساتھ ہی نوید کو بھی اس نے راستے سے پِک کر لیا تھا۔
“ابے !! آرام سے چلا بائیک ہے جہاز نہیں۔” نوید یوسف کی ہواؤں سے باتیں کرتی تیز رفتار پر چلایا۔
” تو نے ہی تو کہا جلدی چلا یونی کیلئے دیر ہو رہی ہے۔” وہ بھی تقریباً چلاتے ہوئے بولا۔
” ابے تو یونی کیلئے دیر ہو رہی ہے اوپر جانے کیلئے نہیں۔ کیوں ٹکٹ کٹوانے پر تُلا ہے۔” یوسف کی تیز رفتار پر اسے خوف محسوس ہونے لگا جو گاڑی کو ہواؤں سے باتیں کروا رہا تھا۔
” لے آگیا ٹھکانا۔” وہ بائیک کو یونیورسٹی کے سامنے روکتا ہوا بولا۔
” جنید اور حذیفہ پہنچ گئے۔” نوید گاڑی سے اُتر کر اس کے ساتھ چلنے لگا۔
” کہاں ہیں وہ؟ “
” اور کہاں ہونگے۔ کلاس کے باہر ہیں۔” باتیں کرتے وہ سیدھا کلاس کی طرف پہنچ گئے تھے جہاں حذیفہ اور جنید ان کا انتظار کر رہے تھے۔
” بڑی جلدی آگئے مجھے تو لگا تھا باراتیوں کا انتظام کرنا پڑے گا۔” جنید انہیں دیکھتے ہی بول اُٹھا۔
” بیٹا تیری بارات تو وہ ہٹلر لائے گی آج۔ سنا نہیں تھا کیسے بول کر گئی تھی۔ اسے پڑھ کرآئے گا۔ کل آپ سب سے پوچھوں گی۔ اگر جواب نہیں دیا تو کلاس سے باہر اور ضرورت پڑنے پر یونی سے بھی۔” حذیفہ جسمین کی نکل اُتارتا ہوا جنید کو اچھا خاصا تپا گیا تھا۔
” ابے چپ !! اُس کا تو نام بھی مت لے میرے سامنے۔ کتنی اکڑ ہے اُس میں۔”
” چل یار !! کچھ نہیں کہتی مس جسمین۔ دیکھا نہیں تھا کل یوسف کو بھی کچھ نہیں کہا اور نہ پرنسپل سے شکایت کی۔” نوید کلاس کے اندر داخل ہوتے ہوئے بولا۔ وہ سب بھی اس کی تقلید کرتے ہوئے کلاس اندر چلے گئے۔
” ہاں !! بس رعب جمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔” یوسف نے سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا ساتھ ہی اپنے برابر والی سیٹ پر بیٹھے رضا کے ہاتھ سے بسکٹس کا پیکٹ چھین لیا۔
” یہ میرا ہے۔” وہ بیچارہ معصوم سی شکل لیے اسے دیکھنے لگا یوسف کے ہاتھوں کل کی مار بھولا نہیں تھا۔
” تیرا تھا اب میرا ہے۔” یوسف بسکٹ منہ میں ڈالتے ہوئے بولا۔ وہ بیچارہ بس اس کی شکل دیکھتا رہ گیا۔
” یار !! یوسی مت تنگ کر اُسے۔” نوید نے اس کے ہاتھ سے پیکٹ چھین کر واپس رضا کو تھما دیا۔
” وہ ہٹلر نہیں آئی۔۔۔” حذیفہ بول ہی رہا تھا کہ تبھی جسمین کلاس میں داخل ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی سارے سیدھے ہوکر بیٹھ گئے۔
” کلاس اُمید ہے سب پڑھ کر آئے ہوں گے۔” اس نے کہتے ہوئے ایک نظر سب پر ڈالی۔ سارے ایسے خاموش بیٹھے تھے جیسے کوئی انوکھی بات کر دی ہو۔
” یو اسٹینڈ اپ !! ” جسمین نے یوسف کو اشارہ کرتے ہوئے کہا جس پر وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے کھڑا ہو گیا۔
” نام کیا ہے آپ کا؟ ” وہ اس خوبصورت سے مرد کو دیکھتے ہوئے بولی۔ جو نیوی بلو شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ پہنے اپنے سادہ سے حلیے میں بھی سب میں نمایاں لگ رہا تھا۔
” سید یوسف حیدر !! ” یوسف نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
” ادھر آئے اور Arc Elasticity of Demand کو ڈیفائن کریں۔”
جسمین کے کہنے پر وہ خاموشی سے جا کر اس سے تھوڑا فاصلے پر کھڑا ہو گیا۔ سب چپ سادھے اس ہٹلر کی نانی کو دیکھ رہے تھے۔ جو واقعی انہیں یونی سے باہر نکالنے کے ارادے سے آئی تھی۔
” چلیں مسٹر یوسف حیدر شروع کریں۔”
کہنے کی دیر تھی کہ یوسف حیدر اپنی آواز سے وہاں بیٹھے ہر بندے کو جکڑتا چلا گیا۔ بوریت بھرا سبجیکٹ بھی آج سب کو اچھا لگ رہا تھا۔ جہاں سب توجہ سے اسے سن رہے تھے وہیں جسمین حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ کل والا یوسف تو نہیں تھا۔
۔**********۔
” واہ یوسی !! تو نے تو بولتی بند کر دی اُس ہٹلر کی۔” وہ چاروں کینٹین میں بیٹھے فرینچ فرائز اور برگر کے ساتھ پورا پورا انصاف کر رہے تھے۔ جب منہ میں برگر ٹھونسے حذیفہ گویا ہوا۔
” یار کیا ہٹلر ہٹلر لگا رکھا ہے شرم کرو ٹیچر ہیں وہ ہماری۔” نوید چڑ کر بولا۔ وہ ایسا ہی تھا غلط بات مذاق میں بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔
” نوید ٹھیک بول رہا ہے۔ وہ ٹیچر ہیں ہماری۔” یوسف نے کہتے ہوئے جنید کی پلیٹ سے فرائز اُٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔ اپنے تو وہ پہلے ہی صفا چٹ کر چکا تھا۔
” تو بڑی اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے۔ او ہاں !! آج تعریف جو ہوگئی محترم کی۔” جنید بھی بول اُٹھا۔
” خاک تعریف ہوگئی۔ اتنے بڑے لیکچر پر بس ایک گوڈ۔” یوسف نے منہ بناتے ہوئے سر جھٹکا ساتھ ہی ایک اور فرائز منہ میں۔
” اپنے فرائز تو تو سارے ٹھونس گیا۔ اب میرے پر کیوں ہاتھ صاف کر رہا ہے۔” جنید نے گھور کر پلیٹ اس سے دور کرنی چاہی پر وہ بھی ایک تھا۔
” اوو !! ہٹلر۔”
” کہاں؟ ” جنید نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ تبھی اس کے ہاتھ سے پلیٹ چھین کر یوسف کینٹین سے باہر کو بھاگ گیا۔
” رک سالے آج تو تو گیا۔ مجھے قسم ہے ان آلو کی جیس تیل میں یہ پکے ہیں۔ اُسی سے تجھے جلاؤں گا۔ نہیں تو فرائز مجھ پر حرام ہیں۔”
ایک لمبا چوڑا ڈائلاگ مار کر وہ جیسے ہی کینٹین سے باہر نکلا دروازے پر کھڑے یوسف نے کیچپ لگی کھالی پلیٹ اس کے منہ پر مار دی۔
” تیرے فرائز شہادت پاہ گئے۔” کہنے کے ساتھ ہی یوسف بھاگا پیچھے جنید نے بھی دوڑ لگا دی۔ جبکہ نوید اور حذیفہ کے ساتھ ساتھ کینٹین میں بیٹھا ہر شخص ان کی حرکتوں پر ہنسی سے بے قابو ہو گیا تھا۔
