Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq (Episode 20,21)

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

” میرا نام؟ ” اس نے دھیرے سے دھرایا۔

” ہاں !! کیا ہے تمہارا نام؟ “

” یوسف !! “

” ہمم !! اچھا یہ بتاؤ یہ سب کیسے ہوا؟ “

” یہ سب۔۔۔”

ان کے سوال پر سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ یوسف نے چہرہ موڑ کر اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کی طرف دیکھا جو چھوٹی چھوٹی لکڑیوں میں جکڑی ہوئی تھی۔

” اچھا چلو یہ باتیں بعد میں کرینگے۔ میں تمہارے لیے کچھ کھانے کیلئے لاتا ہوں۔”

اسے سوچ میں گم دیکھ کر وہ کہتے ہوئے اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئے۔ جبکہ ایک بار پھر وہ آنکھیں بند کرتا واپس نیند کی آغوش میں اُترتا چلا گیا تھا۔

۔*********۔

وقت پر لگا کر اس رفتار سے گزرا کہ سب کچھ پیچھے چھوٹتا چلا گیا۔ اس کے زخموں کو بھرتے بھرتے دوماہ گزر چکے تھے۔ اس دوران ندیم نے بہت کوشش کی تھی کہ پولیس کو خبر کر دی جائے مگر یوسف کی ساری کہانی جاننے کے بعد حکیم صاحب نے سختی سے اسے منع کر دیا تھا۔ حکیم صاحب نے بھی اس دوران اس کا بہت ساتھ دیا تھا۔ ان کی محبت اور اپنائیت دیکھتے ہوئے اس نے خود پر بیتی کہہ سنائی تھی۔

وقت یونہی گزرتا جا رہا تھا۔ حکیم صاحب نے اسے مشورہ بھی دیا تھا کہ واپس چلا جائے۔ زندگی یہیں ختم نہیں ہو جاتی آگے بڑھ جائے۔ اپنا گھر بنائے پر یوسف کیلئے اب وہاں کچھ باقی نہیں رہا تھا۔ اس میں اب ہمت نہیں تھی کہ اپنا ٹوٹا بکھرا وجود لے کر وہ اپنے دوستوں کے سامنے جائے۔

گاؤں اُجڑ چکا تھا۔ ایک فقیر کی طرح اب اسے اس درد پر ہی رہنا تھا۔ جہاں اپنے مردہ جذبات اور زندہ وجود کا بوجھ وہ خود ہی اُٹھا سکے۔۔۔

” ممکن نہیں مجھ سے یہ طرزِ منافقت

دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں “

۔*********۔

” مجھے یقین نہیں آ رہا کیا کوئی کسی سے اتنی محبت بھی کر سکتا ہے۔” علی اسے بےیقینی سے دیکھتے ہوئے بولا۔

” آپ کو کتنے سال ہو گئے یہاں یوسف؟ ” اب کے سوال کاشف کی طرف سے تھا۔

” آٹھ سال۔ ” وہ مسکراتے ہوئے بولا۔

” کیا ان آٹھ سالوں میں آپ کا دل نہیں کیا باقی سب کی طرح زندگی گزارنے کا؟ کسی ایک کے جانے سے زندگی ختم تو نہیں ہوجاتی۔” علی نے افسرده سے لہجے میں کہا۔

” وہ بھی یہی کہتی تھیں۔” کہتے ہوئے ایک جاندار مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا۔

محبوب کا ذکر، اُس کا خیال ہی ہر دکھ تکلیف کو بھلا کر چہرے پر مسکراہٹ لانے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ یہ آج اس شخص کے سامنے بیٹھے دونوں نفوس نے جان لیا تھا۔

” وہ کہتی تھیں کوئی کسی کیلئے نہیں مرتا یوسف !! پر میں اُن سے پوچھنا چاہتا تھا۔ کیا کبھی اُنہوں نے مردہ روحوں کو دیکھا ہے؟ جو بظاہر چلتے پھرتے انسان کو زندہ لاش کر دیتی ہیں۔ کہ ایک سانس لیتے وجود کے سوا اور کوئی احساس جذبات باقی نہیں رہتا۔ کیا کبھی دیکھا ہے؟ “

اس نے کہہ کر مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔ دل نے اس لمحے خواہش کی تھی کہ کاش وہ اسے اس حال میں دیکھے اور جان لے کہ مر جانا زندہ رہنے سے کتنا آسان ہوتا ہے۔

” میں جانتا ہوں اُن کی شادی ہوچکی ہے۔ اب اُن کے بارے میں سوچنا ” گناہ ” لگتا ہے۔ لیکن اُن کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچنا ” حرام ” لگتا ہے۔” بات ختم کرتا وہ ایسے خاموش ہو گیا۔ جیسے اب کچھ بھی کہنا نہیں چاہتا ہو۔

علی جو اسے زندگی میں آگے بڑھنے کا مشورہ دینا چاہتا تھا، سمجھانا چاہتا تھا کہ یوں کسی بے وفا عورت کے پیچھے اپنی زندگی برباد نہ کرے۔ لیکن یوسف کی کہی آخری بات پہ سب بے معنی لگنے لگا تھا۔

” مسٹر یوسف حیدر !! محبت کی دنیا کے بادشاہ تم سب کیلئے دعا کرتے ہو پر آج میں تمہارے لیے دعا کرتا ہوں۔ تمہارا حوصلہ، تمہارا صبر، تمہارا انتظار کچھ بھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ بہت جلد تمہیں وہ مل جائے گا جس کی تمنا تم برسوں سے اپنے دل میں لیے بیٹھے ہو۔” کاشف نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے دعا دی تھی۔

” اب کچھ نہیں ہوسکتا سب ختم۔” اس نے پھر مسکرا کر سر جھٹکا۔

” یقین رکھنے والوں کیلئے ہی معجزے ہوا کرتے ہیں یوسف!! ” کاشف بھی مسکرایا تھا۔

یوسف خاموش ہو گیا کہ تبھی فضاء میں اُٹھتی فجر کی اذان کی گونج نے ان تینوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔

” چلو دوست رخصت ہونے کا وقت آن پڑا ہے۔ اب اجازت دو۔” کاشف اور علی اُٹھ کھڑے ہوئے تو یوسف بھی ان کے ساتھ ہی اُٹھ گیا۔

” اچھا لگا تم دونوں سے مل کر۔”

” یہ تو ہمیں کہنا چاہیئے بلکہ اگر یہ علی آج مجھے نہ لاتا تو میں کبھی جان ہی نہیں پاتا کہ اس زمانے میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے محبت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔” کاشف نے مسکرا کر کہتے ہوئے مصافحہ کیلئے ہاتھ آگے بڑھا جسے یوسف نے فوراً تھام لیا۔ علی نے بھی آگے بڑھ کر اس سے مصافحہ کیا۔ جس کے بعد دونوں اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔ ان کے جاتے ہی یوسف وضو بنا کر نماز ادا کرتا، اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوا تھا۔ اتنے ماہ و سال میں بھی کبھی کوئی شکوہ اس کی زبان پر نہیں آیا تھا۔ اس نے صبر کیا تھا اور۔۔۔

” إِنَّ اللّٰه مَعَ الصَّابِرِینَ “

(بے شک اللّٰــــــــــــہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)

سلام پھیر کر اس نے دعا میں ہاتھ اُٹھاتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا۔ جہاں سیاہ بادل اپنا رنگ بدل کر نئی صبح کو خوش آمدید کر رہے تھے۔ ہر صبح کی طرح اس صبح بھی ایک آس دل میں لیے وہ دھیرے سے مسکرایا تھا۔

” فقیرِ عشق ہوں اک در سے لگا بیٹھا ہوں

بھکاری ہوتا تو در در پہ پڑا ملتا میں “

۔*********۔

چاند کی چاندنی میں اُٹھتا سمندر کی لہروں کا رقص ماحول میں ایک فسوں سا طاری کر رہا تھا۔ ایسے میں وہ ساحلِ سمندر کی نرم ریت پر بیٹھی سامنے سمندر کی اُٹھتی لہروں کا شور کو سن رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس کے وجود کو چھوتے تازگی کا احساس دلا رہے تھے۔ اس نے چہرے پر آتی چند آوارہ لٹوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے چہرہ موڑ کر اپنے بائیں جانب دیکھا۔ برابر میں وہ بیٹھا پانی کی طرف چھوٹے چھوٹے پتھر اُچھال رہا تھا۔

وہ مسکرائی اور واپس پانی میں اُٹھتی لہروں کو دیکھنے لگی۔ چاند کی روشنی میں گیلی ریت پر بیٹھے وہ ایک دوسرے کا حصّہ لگ رہے تھے۔

” اتنے خاموش کیوں ہو تم؟ ” اس نے پھر چہرہ موڑ کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” کیونکہ آپ کو میرا بولنا نہیں پسند۔” وہ یونہی پانی کی طرف پتھر اچھالتا ہوا بولا۔

” میں نے ایسا کب کہا؟ ” وہ حیران ہوئی۔

” یہی تو مسئلہ ہے کچھ کہتی نہیں اب آپ؟ “

” کیا الجھی الجھی باتیں کر رہے ہو۔”

” تو آپ سلجھا لیں۔” وہ کہتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا۔

” کہا جا رہے ہو؟ ” اس نے پوچھا۔

” پتا نہیں۔” جواب دیتا وہ سمندر کی لہروں کی جانب بڑھنے لگا۔

” رک جاؤ۔” وہ بھی اُٹھ کھڑی ہوئی۔

” مت جاؤ۔”

اُس نے گردن موڑ کر دیکھا پر رکا نہیں، ساتھ ہی ماحول میں ایک آواز بلند ہوئی تھی۔

” الوداع !! “

اور اس لمحے چاند کی روشنی مدہم پڑتی بادلوں میں جا چھپی۔ اندھیرے سمندر کی بھپرتی لہریں شور مچاتی یوں اُٹھیں کہ ہر منظر کو بہا گئی۔

” رکو۔۔۔ یوسف !! “

جسمین نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ چہرہ فق ہو رہا تھا مانو یوں جسم میں خون کا ایک قطرہ نہ رہا ہو۔ اس نے نظریں گھما کر دیکھا پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ اے سی کی ٹھنڈک میں بھی اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ وہ اُٹھ بیٹھی ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی تو پورا کمرہ روشنی سے جگمگا اٹھا۔

” اُف !! آخر کب جان چھوٹے گی ان خوابوں سے۔” اس نے سر ہاتھوں سے میں تھام لیا۔

ان آٹھ سالوں میں ایسے ہی خواب اس کی ہر رات کا حصّہ بن چکے تھے۔ وہ اپنی من پسند جگہوں پر اس کے ساتھ ہوتی اور ہر خواب کا انجام یہی ہوتا جس کے بعد وہ گھبرا کر آنکھیں کھول دیتی۔

” یااللّٰه !! آج تو دیر ہوگئی۔”

اس نے سامنے دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا۔ فجر کا وقت نکلتا جارہا تھا۔ وہ فوراً بستر چھوڑتی باتھ روم میں چلی گئی۔ چند لمحے بعد وہ وضو بنا کر باہر آئی اور جائے نماز بیچھا کر نماز ادا کرنے لگی۔

” آج دیر سے اُٹھی ہو؟ “

جسمین نے سلام پھیر کر دروازے کی سمت دیکھا۔ جہاں بلاج کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

” جی بھائی بس آنکھ دیر سے کھلی۔” وہ جائے نماز اُٹھاتے ہوئے بولی۔

بلاج چلتا ہوا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا اور بغور اس کے چہرے کو دیکھنے لگا ان آٹھ سالوں نے کتنا بدل کر رکھ دیا تھا اس کو۔

” مجھے گاؤں جانا ہے۔ زمینوں کو دیکھنے۔ واپس آنے میں دو تین دن لگ جائیں گے۔ تم حورین کے ساتھ مزار چلی جانا۔” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔

” پر بھائی میں کیسے؟ آپ انہیں ساتھ لے جائیں راستے میں ہی تو ہے۔” وہ پریشان ہوئی۔ ان آٹھ سالوں میں وہ مزار تک جانے والی ہر راہ سے منہ موڑ چکی تھی۔

” میں نے کہا نا مجھے وہاں دو تین دن لگیں گے۔ تم جاؤ گھر سے باہر نکلا کرو۔ انسان کی صحت کے لیے بھی اچھا رہتا ہے۔” وہ اس کا گال تھپتھپا کر کہتا بغیر اس کا جواب سنے فوراً دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

جسمین وہیں کھڑی اس کی پشت کو دیکھ رہی تھی کہ تبھی ماضی کی ایک بھولی بھٹکی یاد نے اس کے ذہن کے دروازے پر دستک دی تھی۔

” بابا سائی آپ نے کس مصیبت کو گھر میں لاکر بٹھا دیا۔”

جسمین جو شادی کے بعد پہلی دفعہ گھر آئی تھی اور اب جہانگیر ملک سے ملنے ان کے پاس آ رہی تھی کمرے سے آتی دلاور کی آواز پہ دروازے پر ہی رک گئی۔

“تو کیا کروں یاسمین کی طرح اسے بھی مروا دوں؟ ” جہانگیر ملک کی کرخت بھری آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی اس نے بے اختیار منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔

” بابا سائیں نے یاسمین بھابھی کو مروا دیا۔” وہ بے یقینی کی کیفیت میں بڑبڑائی۔ یہ انکشاف ہی ناقابلِ قبول تھا۔

” دلاور بھائی یہ شادی بلاج نے جسمین کی وجہ سے کی ہے۔ تاکہ سمیر اپنی بہن کا خیال کرتے ہوئے جسمین کو کبھی کوئی نقصان نہ پہنچائے اس لیے حورین کو تو برداشت کرنا پڑے گا۔” اب کے خاور کی آواز ابھری۔

وہ جو پہلے ہی جھٹکے سے باہر نہیں نکل پائی تھی۔ اس نئے انکشاف پر اس سے کھڑے رہنا بھی محال ہو گیا۔

” مجھے لگا تھا آپ مجھے سمجھیں گے۔ لیکن میں غلط تھی۔ محبت کے دعوے کرنے والا جو یاسمین بھابھی کے مرنے کے دو ماہ بعد ہی دوسری شادی کیلئے تیار ہو، وہ میری محبت کو کیا سمجھے گا۔”

جسمین کو اپنی کہی بات یاد آئی۔ ساتھ ہی اسے شرمندگی بھی ہوئی۔ کتنے آرام سے وہ اسے کہہ گئی تھی کہ بلاج یاسمین سے محبت نہیں کرتا تھا۔ تبھی اتنی جلدی اُسے بھول کر آگے بڑھ رہا ہے۔

” بھائی نے میری وجہ سے یہ شادی کی اور میں ناجانے کیا سوچ بیٹھی تھی۔”

آنسوں بہاتے ہوئے اس نے سوچا کہ تبھی اندر سے آتی قدموں کی آواز پر وہ فوراً آنسوں صاف کرتے ہوئے وہاں سے بھاگتی چلی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ماضی کا دروازہ بند ہوا تھا اور وہ حال کی دنیا میں لوٹتی ہوئی سرد آہ بھر کر رہ گئی۔

” مجھے معاف کر دینا بھائی۔ ہمت نہیں مجھ میں آپ سے روبرو ہو کر معافی مانگ سکوں۔” وہ بڑبڑائی تھی۔

۔*********۔

” حدید چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ پھر چلنا ہے نا باہر۔”

ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے سے حورین اپنے پانچ سالہ بیٹے کو دیکھتے ہوئے بولی۔ جو بیڈ پر بیٹھا کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔

” ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ” کھلونوں سے کھیلتے ہوئے ہی سوال کیا۔

” مزار پر جا رہے ہیں بیٹا۔”

” بابا تو چلے گئے۔ ہم کس کے ساتھ جا رہے ہیں؟ “

اس نے چہرہ اُٹھا کر معصومیت سے ماں کی پشت کو دیکھا جو آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بال بنا رہی تھیں۔

” ہم پھوپھو کے ساتھ جا رہے ہیں۔ چلو اب جلدی سے اُٹھو۔” حورین نے اس کے پاس آکر اسے بیڈ پر کھڑا کیا۔

“میں پھوپھو سے تیار ہوں گا۔” حدید چہک کر کہتا فوراً بیڈ سے اُترا۔

” اچھا یہ لو کپڑے تو لے جاؤ اور پھوپھو دادو کے کمرے میں ہیں وہاں چلے جاؤ۔” حورین نے اسے کپڑے پکڑائے جسے لیتے ہی وہ خوشی سے چہکتا ہوا فوراً کمرے سے باہر نکل گیا۔

۔*********۔

بیڈ پر بیٹھی وہ خاموشی سے فائزہ بیگم کو دیکھ رہی تھی۔ جو تین سال سے فالج کے اٹیک کے باعث بستر سے لگی ہوئی تھیں۔ کافی عرصہ علاج کرانے کے بعد بھی کوئی دوا کام نہ آئی کہ وہ پھر سے اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتیں۔ ڈاکٹر ہونے کے باوجود بھی بلاج ان کیلئے کچھ نہیں کر سکا تھا۔ بے شک اللّٰه کے فیصلوں کے آگے انسان بے بس ہوجاتا ہے۔

” آہ امی !! ہم سب کو تو اپنے کیے کی سزا ملی پر نہ جانے آپ اور بھائی کس گناہ کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ یا پھر یہ آزمائش ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔”

اس نے نم ہوتی آنکھوں کو صاف کیا اور ناشتے کے برتن اُٹھا کر کمرے سے باہر نکلنے لگی کہ سامنے سے حدید بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا۔

” آپ یہاں کیا کر رہی ہیں پھوپھو؟ “

” بیٹا میں دادو کو ناشتہ کرانے آئی تھی۔” وہ پیار سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔

” اچھا مجھے تیار کر دیں پھر ہمیں مزار جانا ہے۔ ایسا ماما نے بولا ہے۔” کہتے ہوئے اس نے ہاتھ میں پکڑے کپڑے آگے کیے۔

” اچھا آپ اسے میرے کمرے میں لے کر جاؤ۔ میں ابھی برتن رکھ کر آتی ہوں۔”

جسمین کے کہنے پر وہ اثبات میں سر ہلاتا فوراً اس کے کمرے کی جانب بھاگ گیا جبکہ جسمین ناشتے کے برتن رکھنے نیچے کچن میں چلی گئی تھی۔

۔*********۔

وہ آج پھر اس گھر کے سامنے موجود تھا۔ جہاں سے اس کا چین، سکون، خوشیاں، راحتیں سب وابستہ تھیں۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی اس نے اس در کو کھٹکھٹانا نہیں چھوڑا تھا۔ ابھی بھی وہ دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس نے ہاتھ بڑھا کر بیل بجائی۔ چند لمحوں بعد ہی دروازہ کھلا تھا۔ سامنے قمر بیگم کھڑی مسکرا کر اسے دیکھنے لگیں۔

” السلام علیکم !! “

” وعلیکم السلام !! بلاج بیٹا اندر آؤ۔” انہوں نے سائڈ پر ہوتے ہوئے اسے راستہ دیا۔

وہ آرام سے چلتا ہوا لاؤنج کی طرف بڑھا اور وہاں موجود صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔

” انکل کی طبیعت کیسی ہے؟ “

” اب ٹھیک ہے۔”

وہ کہتے ہوئے کچن کی جانب بڑھ گئیں۔ تھوڑی دیر بعد جب واپس آئیں تو ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھی۔

” داؤد آفس گیا ہے؟ “

” ہاں وہ آفس گیا ہے۔”

وہ بلاج کے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولیں اور بغور اسے دیکھنے لگیں جو اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی بدلا نہیں تھا۔ جب اس کی شادی کا سنا تو فطری طور پہ ان کا رویہ اس کے ساتھ تلخ ہو گیا تھا۔ لیکن اس دوران بلاج کے پیار و خلوص نے یہ اچھے سے باور کرا دیا تھا کہ اس نے شادی ضرور کر لی ہے۔ مگر یاسمین اور اُس سے جڑے لوگوں کو بھولا نہیں ہے۔

” لبابہ کا فون آیا تھا؟ ” اس نے سر اُٹھا کر قمر بیگم کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔

” ہاں آنے کا کہہ رہی تھی پر اس کی ساس کی طبیعت خراب ہو گئی تو آ نہیں سکی۔”

ان کی بات پر بلاج سمجھنے کے انداز میں سر ہلاتا واپس چائے پینے میں مصروف ہو گیا۔ لبابہ کی شادی کو ایک سال ہوگیا تھا۔ یہ رشتہ بھی بلاج نے ہی اپنے جان پہچان کے لوگوں میں کروایا تھا۔ رشتہ مناسب تھا۔ اس لیے قمر بیگم یا ظفر عباسی نے کوئی اعتراض نہیں اُٹھایا تھا۔

” تمہارے بیٹے کی سالگرہ ہے نا اس مہینے میں؟ “

قمر بیگم کے سوال پر اس نے چونک کر انہیں دیکھا۔ ان کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔ بلاج نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

” ہاں!! اس لیے آج حورین اُسے مزار پر لے کر جا رہی ہے۔”

” اچھا تم ان کے ساتھ نہیں جا رہے؟ ” ایک اور سوال۔

” نہیں میں گاؤں جا رہا تھا دو تین دن کیلئے تو اس لیے آپ سے ملنے چلا آیا۔” اس نے مسکرا کر کہا۔ قمر بیگم بھی دھیرے سے مسکرا دیں۔

” اچھا کیا۔۔۔ میں نے تمہارے بیٹے کیلئے کچھ تحائف خریدے تھے پر تم ابھی جا رہے ہو تو بعد میں لے جانا۔”

” آنٹی !! “

اس نے چائے کا کپ ٹرے میں رکھا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔ قمر بیگم بھی اس کے ساتھ ہی اُٹھ گئیں۔

” وہ گھر آپ کا بھی ہے۔ آپ خود آئے گا اُسے تحائف دینے۔” وہ ان کے ہاتھ تھام کر بولا۔

قمر بیگم خاموش ہی رہیں۔ ایک ماں کیلئے بڑا تکلیف دہ تھا۔ اپنی بیٹی کی جگہ کسی دوسری عورت کو دیکھنا۔

” اچھا میں انکل سے مل آؤں پھر مجھے جانا بھی ہے۔”

بلاج مسکرا کر کہتا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ قمر بیگم وہیں کھڑی نم آنکھوں سے اس کی پشت کو دیکھ رہی تھیں۔

” یاسمین کاش تم زندہ ہوتیں تو آج اس شخص کے ساتھ تم بھی اس گھر میں موجود ہوتیں۔” وہ سوچ کر رہ گئیں۔

۔*********۔

گاڑی تیز رفتاری سے دوڑتی ہوئی سیدھا اس درگاہ کے سامنے جا رکی تھی۔ اس نے گاڑی سے نکلتے ہی سیڑھیوں کی جانب دیکھا۔ آج بھی یہاں کا ماحول ایسا ہی تھا۔ جیسا آٹھ سال پہلے تھا۔ وہی چہل پہل، وہی رونق کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ پھر کیا تھا جو بدل گیا تھا؟

ہاں!! اس کا اپنا آپ بدل گیا تھا۔ اب وہ پہلے جیسی جسمین نہیں رہی تھی۔ جو اپنی منتوں مرادوں کیلئے یہاں کا رخ کیا کرتی تھی۔ اب یہ وہ جسمین تھی جس کی کوئی منتیں مرادیں ہی نہیں تھیں۔۔۔

” چلو جسمین کہاں گم ہو۔”

حوریں کی جھنجھلائی ہوئی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی جو سوچ کی دنیا سے باہر لے آئی۔

” کہیں نہیں۔ چلیں اب جلدی کریں جو کرنا ہے۔” جسمین بھی روکھے لہجے میں جواب دے کر سیڑھیاں چڑھنے لگی۔

پیچھے ہی حورین اور حدید کے ساتھ سکینہ بی ہاتھ میں سامان پکڑے چل رہی تھیں۔

” آپ جائیں جا کر چادر چڑھا دیں۔ تب تک میں غریبوں میں سامان تقسیم کراتی ہوں۔”

جسمین کہتی ہوئی سکینہ بی کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے غریبوں کی جانب بڑھ گئی۔ جبکہ حورین حدید کو ساتھ لیے زنانہ حصے میں جا کر فاتحہ پڑھنے لگی تھی۔

” میں ان سب چیزوں کو نہیں مانتا اس لیے شادی کے بعد آپ مزار وغیرہ پر نہیں جائیں گی۔”

غریبوں میں سامان تقسیم کرتے ہوئے اسے یوسف کی کہی بات یاد آئی۔ اس نے نظریں اُٹھا کر چاروں طرف دیکھا۔ کوئی دیا جلا رہا تھا تو کوئی منت کا دھاگہ باندھ رہا تھا۔ اس کی نظر جالی دار سبز دیوار پر جا رکی۔

” سکینہ بی آپ باقی سامان تقسیم کر دیں میں ابھی آئی۔”

جسمین کہتے ہوئے فوراً اس جانب بڑھی۔ انگنت دھاگوں سے سجی سبز دیودار آج بھی ویسے ہی تھی۔

” ویسے اگر تم بعد میں کبھی یہاں آئیں تو تمہیں کیسے پتا چلے گا ان میں سے تمہارا دھاگہ کونسا ہے؟ ” اسے یاسمین کی کہی بات یاد آئی۔

” یہ میں نے دیوار کے کونے پر باندھا ہے اور پھر اب تو اس پر یہ سیاہ نشان بھی موجود ہے۔” اب کے اسے اپنی آواز سنائی دی۔

اس نے دیوار کے کونے پر دیکھا۔ کئی دھاگوں کے بیچ پھنسا وہ سیاہ نشان والا دھاگا اب بھی موجود تھا۔ اس نے ہاتھ بڑا کر اس دھاگے کو چھوا۔

” او ہو !! کیا بات کر رہی ہو یہ صرف ایک دھاگا ہے اور ویسے بھی اللّٰه کو تمہاری فریادیں اور دعائیں سنے کیلئے ان دھاگوں کی ضرورت نہیں۔” یاسمین نے اسے سمجھانا چاہا تھا۔

” آپ نے ٹھیک کہا تھا یاسمین بھابھی۔ اللّٰه کو ان چراغوں کی، دھاگوں کی ضرورت نہیں۔ میں ہی شرک کر بیٹھی تھی۔”

وہ بڑبڑائی ساتھ ہی دھاگے کی گراہ ڈھیلی کرتے ہوئے اس نے ایک جھٹکے سے اُسے کھینچ لیا۔ یہی وقت تھا، یہی مقام تھا۔ جب آٹھ سال پہلے وہ یہاں دھاگہ باندھنے آئی تھی اور آج آٹھ سال بعد یہی دھاگہ کھولنے۔۔۔

جسمین نے نیچے نظریں جھکا کر دیکھا۔ دھاگہ کھل کر زمین پر جا گرا تھا۔ اس نے نظریں ہٹالیں اور سکینہ بی کی طرف بڑھنے لگی کہ سامنے سے حورین حدید کا ہاتھ تھامے اس کے پاس چلی آئی۔

” چلیں؟ “

” نہیں !! آگے چبوترے پر ایک بابا بیٹھتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں وہ جو بھی دعا کرتا ہے۔ پوری ہو جاتی ہے۔ مجھے ابھی ان سے ملنا ہے چلو۔” حورین نے حکم دینے والے انداز میں کہا۔

” کیوں؟ آپ تو یہاں بھائی کے ساتھ آتی رہتی ہیں۔ وہ لے کے نہیں گئے بابا کے پاس؟ ” جسمین نے اپنی ناگواری دباتے ہوئے پوچھا۔

” نہیں !! بلاج سے بھی کہا تھا کہ مجھے اُس بابا کے پاس لے کر چلیں۔ لیکن میری سنتے ہی کہاں ہیں۔ وہ تو گاڑی سے باہر نکل کر مزار کی سیڑھیاں تک نہیں چڑھتے تھے کہ اُن کے پاس ٹائم نہیں۔ میں ہی اکیلے آ کر چادر چڑھاتی تھی۔” وہ منہ بنا کر بولی۔

جسمین نے چونک کر اسے دیکھا۔ ایک یاسمین تھی جس کی ہر بات کو پورا کرنے کیلئے وہ بابا سائیں تک سے لڑ گیا تھا اور ایک حورین ہے۔ جس کے بقول بلاج اس کی سنتا ہی نہیں۔۔۔

” آخر ایسی بھی کیا وجہ تھی؟ ” جسمین نے سوچا اور جو جواب اسے ملا وہ تھا ” محبت ” جو بلاج کو یاسمین سے تھی یا یوں کہو کہ یاسمین سے ہے۔۔۔

” اب کس سوچ میں گم ہو گئیں۔ چلو میں آج مل کر ہی جاؤ گی۔” وہ دوٹوک انداز میں کہتی ہوئی حدید کا ہاتھ تھامے آگے بڑھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی جسمین کو اس کے پیچھے چلنا پڑا۔

۔*********۔

” آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے کمرے میں جا کر لیٹ جائیں۔”

وہ حکیم صاحب کو دیکھتے ہوئے بولا۔ جو چبوترے پر اس کے ساتھ بیٹھے کبوتروں کو دانہ ڈال رہے تھے۔

” مجھے معلوم ہے میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم مجھے بستر سے ہی لگا دو۔” وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولے۔

” میری اتنی مجال کہاں۔” یوسف بھی مسکرایا۔

” مجھے کچھ دوائیاں بنا کر رکھنی ہیں۔ ناصر کو بھیجا تھا جڑی بوٹیاں لانے لگتا ہے شام تک ہی آئے گا۔” وہ پریشانی سے کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

” فکر نہیں کریں۔ وہ آتا ہے تو میں آپ کو بتا دوں گا۔” یوسف نے انہیں تسلی دینی چاہی۔

” ٹھیک ہے پھر میں کمرے میں جاتا ہوں۔” وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے آگے اُس چھوٹے سے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔

ان کے جاتے ہی یوسف نے پاس رکھا دانہ اُٹھایا اور کبوتروں کو ڈالنے لگا۔ ابھی چند سیکنڈز ہی گزرے تھے کہ سامنے سے ندیم آتا دکھائی دیا۔

” اور یوسف کیا ہو رہا ہے؟ “

” کچھ نہیں تم سناؤ گھر میں سب کیسے ہیں؟ “

” ویسے تو سب ٹھیک ہے پر زوجہ نے کہا ہے بابا جی سے دعا کروا لوں۔” یوسف کے پاس بیٹھتا وہ ہنستے ہوئے بولا۔ صاف ظاہر تھا وہ مذاق اڑا رہا ہے۔

” یار !! میں ایک عام سا خطا کار بشر ہوں کوئی فرشتہ نہیں لوگ کیسے آنکھیں بند کرکے یوں کسی کے بھی مرید بن بیٹھتے ہیں۔ جس اللّٰه کی وہ عبادت کرتے ہیں میں بھی اُسی اللّٰه کی عبادت کرتا ہوں۔ وہ جو کافروں کی بھی آواز سنتا ہے تو ان کی کیوں نہیں سنے گا۔ یہ لوگ سوچتے کیوں نہیں؟ ” یوسف نے تاسف سے کہتے ہوئے سر جھٹکا۔

” بیٹا ہر کوئی آسانی تلاش کرتا ہے۔ اب کون مصلہ بچھائے، کون دعا مانگے۔ انہیں بیوقوف لوگوں نے تو ان دو نمبر پیر فقیروں کی جیبیں چمکا رکھی ہیں۔ پھر یہ تو عام سی بات ہے اب تو مذہب کی اڑ میں ناجانے کیا کچھ ہونے لگا ہے۔” وہ افسوس کرتا ہوا بولا۔

” میں تنگ آ گیا ہوں۔ دل کرتا ہے یہاں سے چلا جاؤ پر دنیا سے بھی اب وحشت ہونے لگی ہے۔ ناجانے یہ سب کب ختم ہو گا۔” کہتے ہوئے یوسف آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔

اسے یاد تھا وہ دن جب ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر حکیم صاحب کے پاس آئی تھی کہ اُس کا بیٹا بیمار ہے کوئی علاج کام نہیں آرہا تب اُس ماں کی تکلیف دیکھتے ہوئے اس نے ویسے ہی اُس کیلئے دعا کر دی تھی پر کیا پتا تھا اس کی دعا ایسا رنگ لائے گی کہ عقیدت رکھنے والا ہر شخص اس کے در کا مرید بن جائے گا۔ اُس دن سے یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیا۔ جس یوسف کی اپنی دعائیں قبول نہیں ہوئی تھیں آج وہ دوسروں کیلئے دعاؤں کی قبولیت کا سبب بن گیا تھا۔

“اب یہ سب کبھی ختم نہیں ہوگا وہ دیکھو سامنے وہ عورتیں آ رہی ہیں۔”

ندیم نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔ جہاں ایک عورت تیزی سے ان کی جانب بڑھ رہی تھی جبکہ پیچھے دوسری بچے کا ہاتھ پکڑے آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔

” رقصِ سماء ہے

کہ لمحہِ ملن ہے “

یوسف نے نظریں گھما کر اس طرف دیکھا اور اسی لمحے حدید کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتی جسمین رک کر حدید کی طرف جھکی تھی۔

” پھوپھو میرے جوتے کی لیس کھل گئی۔”

” لاؤ میں باندھ دیتی ہوں۔” جسمین اس کے جوتے کی لیس باندھنے لگی۔ سر پر موجود دوپٹے نے اس کا چہرہ مکمل طور پر چھپا دیا تھا۔ چبوترے پر بیٹھا یوسف سرسری سی نظر ان پر ڈالتا اُٹھ کھڑا ہوا۔ فضاء میں اذان کی آواز جو گونجنے لگی تھی۔

” ندیم ظہر کی اذان ہو رہی ہے۔ میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں۔” وہ کہتا ہوا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

” دعا واجب ہے

کہ لمحہِ ہجر ہے”

” سنیں یہاں بابا بیٹھتے ہیں نا؟ ” حورین نے ندیم کے سامنے جاکر پوچھا۔

” ہاں !! پر وہ تو گئے ظہر کی نماز ادا کرنے۔ اب آپ انتظار کرسکتی ہیں تو کر لیں۔” وہ ارد گرد دیکھتا لاپرواہی سے بولا اور آگے بڑھ گیا۔

” اف !! اب کیا کروں۔” حورین نے اپنا ماتھا چھوا۔

” کیا ہوا؟ نہیں بیٹھے؟ ” اس کا پریشان سا چہرہ دیکھ کر جسمین نے قریب آتے ہوئے پوچھا۔

” وہ نماز پڑھنے گئے ہیں۔ ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔”

” کیا !! بالکل نہیں۔ واپس جانے میں بھی وقت لگ جائے گا مجھے نماز بھی پڑھنی ہے اور پھر امی۔۔۔ واپس چلیں۔” اس نے صاف انکار کیا۔

” میں نے کہا نا مجھے ملنا ہے۔” حورین نے گھور کر اسے دیکھا ” نہ” سننے کی عادت جو نہیں تھی۔

” سوری بھابھی پر میں جا رہی ہوں۔ آپ رک کر انتظار کریں۔” جسمین کہتی ہوئی حدید کا ہاتھ تھامے واپسی کیلئے مڑ گئی۔ ناچار حورین بھی جلتی کلستی اس کے پیچھے چل پڑی۔

۔*********۔

وہ کچن میں کھڑی کام میں مصروف تھی جب باہر سے آتی بیل کی آواز پر ہاتھ صاف کرتی تیزی سے دروازے کی جانب بڑھی۔ دروازہ کھولا تو سامنے ہی تھکا ہارا سا نوید کھڑا تھا۔

” اتنی دیر لگادی آج آنے میں۔” سلام دعا کے بعد صوبیہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے بولی۔

” جنید اور حذیفہ سے ملنے گیا تھا۔” وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا لاؤنج میں صوفے پر جا بیٹھا۔

” یوسف بھائی کے سلسلے میں؟ “

صوبیہ نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا۔ آٹھ سال گزر گئے تھے۔ مگر اب تک ان تینوں نے اُسے ڈھونڈنا ترک نہیں کیا تھا۔

” امی اور تانیہ (نوید کی بیٹی) کہاں ہیں؟ ” نوید نے بات بدلنی چاہی۔

” وہ دونوں سو رہی ہیں۔ لیکن میں نے جو پوچھا ہے اُس کا جواب دیں۔ بات نہ بدلیں۔” وہ بھی اسی کی بیوی تھی۔ اس لیے اس کا بات بدلنا فوراً پکڑ لیا۔

” ہاں !! یوسف کے سلسلے میں ملنے گیا تھا۔” وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے سکون سے بولا۔

” دیکھیں نوید آپ یقین کیوں نہیں کر لیتے یوسف بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔”وہ سمجھاتے ہوئے بولی۔

” اگر کچھ اچھا نہیں بول سکتی تو بکواس بھی مت کرو۔ جاؤ جا کر پانی لا کر دو۔” وہ ایک دم بھڑک اُٹھا۔

” نوید پولیس نے۔۔۔”

” کیا پولیس نے؟ پولیس نے کہا سمندر میں ڈوب کر مرنے والا شخص یوسف تھا تو میں آنکھیں بند کر کے یقین کر لوں جبکہ اُس کی لاش تک پانی سے نہیں نکال سکے۔” صوبیہ کی بات کاٹ کر وہ بولا نہیں غرایا تھا۔

جس دن یوسف غائب ہوا تھا۔ اسی دن ایک اور حادثہ پیش آیا تھا۔ ساحلِ سمندر پر ایک شخص نے پانی میں ڈوب کر خودکشی کر لی تھی۔ رات بھر تلاش کے بعد بھی اس شخص کی لاش نہیں ملی تھی اور نہ یہ پتا چل سکا تھا کہ وہ شخص کون تھا۔ لیکن جب نوید نے یوسف کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس اسٹیشن میں درج کروائی تو چند دن یوسف کو تلاش کرنے کے بعد پولیس نے یہ کہہ کر کیس بند کر دیا کہ ساحلِ سمندر میں ڈوب کر خودکشی کرنے والا شخص یوسف ہی تھا۔ نوید کے ساتھ ساتھ جنید اور حذیفہ کو بھی غصّہ تو بہت آیا تھا پر اس کرپٹ ادارے کا کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ اس لیے تینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت یوسف کو ڈھونڈنا شروع کر دیا تھا۔ ہر وہ جگہ جہاں یوسف پایا جا سکتا تھا انہوں نے چھان ماری تھی۔ ان آٹھ سالوں میں کئی کئی بار ایک آس لیے ہر اُس جگہ گئے تھے جہاں یوسف ہوسکتا تھا پر ہر بار انہیں ناکامی ہی ملی تھی۔

” نوید یوسف بھائی بچے نہیں تھے جو کہیں کھو گئے ہیں اور تم انہیں ڈھونڈتے پھرو۔” صوبیہ اب کے تھکے ہوئے انداز میں بولی۔ چار سال ہونے والے تھے شادی کو اور ان چار سالوں میں جب بھی ان کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اس ایک بات کو ہی لے کر ہوا تھا۔

” میں تم سے جھگڑا نہیں کرنا چاہتا اس لیے اگر میری پریشانی ختم نہیں کرسکتی تو بڑھاؤ بھی مت جاؤ یہاں سے۔” ہاتھ کی مٹھی بنائے وہ غصّہ ضبط کرتے ہوئے بولا۔

” اچھا ٹھیک ہے اب کچھ نہیں بولتی۔ جائیں جا کر فریش ہو جائیں تب تک میں کھانا لگاتی ہوں۔”

وہ منہ بناتی ہوئی کچن کی جانب بڑھ گئی۔ نوید نے گھور کر اس کی پشت کو دیکھا پھر خود بھی اُٹھ کر کچن میں آیا اور فریج میں سے پانی کی بوتل نکال کر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ مگر جاتے جاتے بھی صوبیہ کو گھوری سے نوازنا نہیں بھولا تھا۔

” اف !! پانی تو دینا ہی بھول گئی۔” دانتوں میں زبان دباتی، وہ بڑبڑائی۔

۔*********۔

کمرے میں بیڈ پر بیٹھی وہ کوئی کتاب پڑھ رہی تھی جب حورین کے کمرے سے آتی حدید کے رونے کی آواز اسے اپنی جانب متوجہ کر گئی۔

” یہ کیوں رو رہا ہے؟ ” وہ کتاب وہیں بیڈ پر چھوڑتی، کمرے سے باہر نکل کر حورین کے کمرے کی جانب بڑھی۔ دروازے پر پہنچ کر دیکھا تو حورین اُسے ڈانٹ رہی تھی۔

” کیا ہوا بھابھی کیوں ڈانٹ رہی ہیں؟ ” جسمین نے حدید کی جانب بڑھتے ہوئے پوچھا۔ حدید کا رونا اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔

” اس نے اتنی مہنگی نائٹ کریم کی شیشی پھینک کر توڑ دی۔ اب میں کیا لگاؤ۔”

وہ غصّے سے چلاتے ہوئے بولی اور ایک بار پھر حدید کی طرف بڑھنے لگی تھی مگر اس سے پہلے ہی جسمین نے جھک کر حدید کو گلے سے لگا لیا۔

” کیا ہو گیا ہے بھابھی۔ کل نئی لے آئے گا۔ ایک رات نہیں لگائیں گی تو کچھ ہو نہیں جائے گا۔” جسمین کا کہنا تھا کہ وہ مزید بھڑک اٹھی۔

” بی بی میں اپنی خوبصورتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ آج جو اپنے شوہر کے دل میں اُتری ہوئی ہوں اس بناؤ سنگھار کی وجہ سے ہے۔ ورنہ آج میں بھی تمہاری طرح بھائی کے گھر پر پڑی ہوتی۔ ہنہہ !! خود تو پانچ سال گزارنے کے بعد بھی شوہر کے دل میں جگہ بنا نہیں سکی۔”

حورین کہتے ہوئے آخر میں دھیرے سے بڑبڑائی لیکن آواز اتنی اونچی تھی کہ جسمین کا دل چیر گئی تھی۔ حدید کا ہاتھ پکڑے وہ سیدھی اُٹھ کھڑی ہوئی۔

” اول تو یہ گھر میرا ہے، میرے نام ہے اور جہاں تک رہی حُسن کی بات، اتنا بھی غرور اچھا نہیں ہوتا بھابھی۔ غرور صرف اللّٰه کی ذات کو جچتا ہے۔ اُس کے بندو کو نہیں۔” وہ ضبط کرتی ہوئی بولی۔

” جاؤ بی بی !! تمہارے لیکچر کی ضرورت نہیں اور ہاں میں حدید کی ماں ہوں۔ اسے کیسے سنبھالنا ہے اچھے سے جانتی ہوں۔ تمہیں اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔”

کہتے ہوئے اس نے حدید کو اپنی طرف کھینچا۔ جس پر حدید کا ہاتھ جسمین کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اس نے ایک نظر اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا۔ آنکھوں میں تیزی سے آنسو جمع ہونے لگے تھے۔ وہ فوراً آنسوؤں پر بندھ باندھتی کمرے سے باہر نکل گئی۔

۔*********۔

حورین کے کمرے سے نکل کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلی آئی تھی اور اب کھڑکی کے سامنے کھڑی افق پر نظر آتے چاند کو دیکھ رہی تھی۔ حورین کی باتوں نے اس کے زخموں کو ایک بار پھر سے ہرا کر دیا تھا۔

جسمین جانتی تھی۔ وہ دل کی بُری نہیں ہے۔ بس کچھ حسن کا غرور ہے، کچھ غصّے کی تیزی اس لیے بنا سوچے سمجھے جو منہ میں آتا ہے بول جاتی ہے اور کل جب اپنے لفظوں کا احساس ہوگا وہ معافی بھی مانگ لے گی۔ لیکن اپنے دل کو کیسے سمجھاتی جو حورین کی باتوں پر خون کے آنسو رونے لگا تھا۔ کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا۔ وہ یونہی آسمان کی طرف دیکھتی ماضی کو سوچنے لگی۔

” کہاں جا رہے ہیں آپ؟ “

کھڑکی پر پردے ڈال کر وہ مڑی تو سمیر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا باہر جانے کیلئے تیار ہو رہا تھا۔ کل رات کا گھر سے نکلا وہ آج شام میں ہی تو لوٹا تھا اور تب سے اب تک اپنی نیند پوری کرنے کے بعد ایک بار پھر باہر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔

” تم سے کتنی بار کہا ہے میرے معاملے میں ٹانگ مت اڑایا کرو اپنے کام سے کام رکھو۔” وہ آئینے میں سے اسے دیکھتے ہوئے دانت پیس کر بولا۔

” میں بیوی ہوں آپ کی روک نہیں رہی لیکن جاننے کا پورا حق رکھتی ہوں کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔” وہ بےتاثر چہرے سے اس کی پشت کو دیکھتی ہوئی دھیرے سے بولی۔ یہ رویہ تو وہ شادی کے پہلے دن سے برداشت کر رہی تھی۔

” بیوی ایک اولاد تک تو دے نہیں سکی اور خود کو بیوی کہتی ہو۔” سمیر طنزیہ لہجے میں بولا۔

” آپ۔۔۔ آپ اس بات کا ذمہ دار مجھے نہیں ٹھہرا سکتے۔ شادی کو پانچ سال ہونے والے ہیں۔ لیکن ان پانچ سالوں میں پانچ دن بھی آپ نے میرے ساتھ بیٹھ کر کبھی ٹھیک سے بات تک نہیں کی۔ سارا وقت گھر سے باہر رہتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو ایک نظر بھی مجھ پر ڈالنا گوارہ نہیں کرتے۔” کہتے ہوئے جسمین کی آواز رندھ گئی۔

ان سالوں میں یہ طعنے وہ کرن عالمگیر کے منہ سے بھی کئی بار سن چکی تھی۔ لیکن کیا کہتی کہ ان کا بیٹا ہی اسے وقت نہیں دیتا۔

” ناشکری عورت !! اگر اتنا ہی مسئلہ ہے تو آؤ تمہارے سارے مسئلے ختم کر دوں۔”

جسمین کا بازو پکڑ کر وہ اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا۔

” چھوڑیں یہ کیا کر رہے ہیں؟ کہاں لے جا رہے ہیں؟ جھوڑیں۔۔۔”

وہ چلاتے ہوئے مسلسل خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر سمیر کان بند کیے سیڑھیوں سے نیچے اُترتا اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔

” جاؤ اپنے بھائی کے پاس۔ تمہاری اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ویسے بھی تمہارے اُس باپ اور دوسرے بھائیوں کی وجہ سے برداشت کر رہا تھا۔ پر اب مزید یہ ناٹک کرنے کی ضرورت نہیں۔”

دروازے کے سامنے پہنچ کر وہ اس کا بازو چھوڑتے ہوئے دھاڑا۔ جسمین فق پڑتے چہرے سے اسے دیکھے گئی پھر ہمت مجتمع کرتی گویا ہوئی۔

” میں آپ کی بیوی ہوں کہیں نہیں جا رہی اور میرا نہیں تو اپنی بہن کا خیال کریں اُس گھر میں آپ کی بہن بھی رہتی ہے۔”

جسمین نے ڈرانا ضروری سمجھا جبکہ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی اس کا بھائی سمیر کی طرح کم ظرف نہیں۔ وہ کبھی ایک عورت سے بدلہ نہیں لے گا۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی اس حویلی کے مردوں کو بےحسی اور خودغرضی باپ دادا کی وراثت سے ملی تھی۔

” اوہ !! اچھا دیکھتا ہوں تیرا بھائی کیا کرے گا۔” وہ غرایا۔

ان کی آوازیں سن کر کرن عالمگیر اپنے کمرے سے باہر نکل آئی تھیں۔ گھر کے سارے ملازمین بھی کام چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔

“بیٹا یہ کیا کر رہے ہو؟ ” کرن عالمگیر نے ٹوکا۔

بھائی کو نہ سہی ماں کو تو بیٹی کا خیال تھا۔ وہ ان نزاکتوں کو سمجھتی تھیں کہ اگر جسمین کے ساتھ کچھ غلط ہوا تو ان کی اپنی بیٹی کی زندگی بھی تباہ ہو جائے گی۔ آخر وٹے سٹے کا ایک یہی تو سب سے بڑا نقصان ہے۔

“میں سمیر عالمگیر اپنے پورے ہوش و حواس میں جسمین ملک کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔”

اسکے الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ جو جسمین کو اپنے کان میں اُنڈلتا محسوس ہوا۔ وہ بےیقینی کا مجسمہ بنی ساکت نظروں سے اس خود غرض شخص کو دیکھ رہی تھی۔ جس نے بنا کسی غلطی کے اسے سزا سنا دی تھی۔

” نکلو اب یہاں سے دیکھتا ہوں تیرا بھائی کیا کرتا ہے۔”

سمیر نے ہاتھ سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ پر جسمین کے کانوں تک تو اس کی آواز پہنچ ہی نہیں رہی تھی اسے تو اپنے الفاظ سنائی دے رہے تھے۔

” دیکھو یوسف مجھے معاف کردو۔ پلیز یہاں سے چلے جاؤ۔”

ہاں !! اس نے بھی یوسف کو اپنے گھر سے چلے جانے کو کہا تھا اور آج سود سمیت قسمت نے اسے سب لوٹا دیا تھا۔ یوں تو اسلام میں سود حرام ہے۔ لیکن مکافات عمل ایک ایسا کاروبار ہے جس میں سب کچھ سود سمیت ہی لوٹایا جاتا ہے۔ پھر چاہے وہ خوشیاں ہوں یا غم۔۔۔

” نکلو یہاں سے کوئی جگہ نہیں اب یہاں تمہاری۔”

سمیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دروازے کی جانب دھکیلا، وہ لڑکھڑاتی ہوئی سیدھا چوکھٹ کے پار جا گری تھی اور اس کے ساتھ ہی وہ سوچوں کے دلدل سے نکلتی حال میں لوٹ آئی تھی۔

” کافی عرصہ میں یہ ہی سوچتی رہی کہ سمیر نے مجھے کس بات کی سزا دی۔ لاکھ کوشش کے باوجود بھی میں اُس کے دل میں جگہ نہیں بنا پائی۔” اس نے خود کلامی کرتے ہوئے گولڈن بریسلٹ کو دیکھا جو آج بھی اپنی پوری آب و تاب سے چمکتا اس کی کلائی پر موجود تھا۔

” ہر بار سوچنے کے بعد مجھے ایک ہی جواب ملتا تھا کہ تمارا دل اُجاڑ کر میں دوسرے کی دنیا کیسے آباد کر پاتی۔ میرے ساتھ جو ہوا وہ میری کی گئی زیادتیوں کی وجہ سے تھا جو میں تمہارے ساتھ کر گئی۔” اس نے سرد آہ بھر کر اپنا سر کھڑکی سے ٹکا دیا۔ نظر پھر آسمان کی طرف اُٹھ گئی تھیں۔

” سب کچھ جانتے ہوئے بھی تمہیں امید دلائی اور پھر امید دلا کر چھوڑ دیا۔ کتنی تکلیف ہوئی ہوگی تمہیں اس بات کا اندازہ مجھے تب ہوا جب طلاق کے تین بول میرے منہ پر مار کر سمیر نے مجھے چھوڑ دیا تھا۔ اُس سے تو میری کوئی دلی وابستگی نہیں تھی مگر مجھے پھر بھی تکلیف ہوئی تھی۔ لیکن تم سے۔۔۔ تم سے تو محبت کی تھی میں نے، امیدیں دلائی تھیں۔ پھر تمہارے دل پر کیا گزری ہوگی۔” ایک بار پھر اس نے سوچتے ہوئے نظریں اپنے ہاتھ میں موجود بریسلٹ پر مرکوز کر دیں۔

” بس ایک بار مل جاؤ یوسف !! بس ایک بار تاکہ میں تم سے اپنی ہر زیادتی کی معافی مانگ سکوں۔” تصور میں یوسف کو مخاطب کرتی، وہ بالآخر سسک اُٹھی۔

Episode 21

” کیا یار اچھا بھلا گھر پر نیند پوری کر رہا تھا تو نے بلا لیا۔” جنید نے لاؤنج میں موجود صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

اتوار کے باعث وہ گھر پر اپنی نیند پوری کرنے میں مگن تھا۔ مگر نوید کی کال آتے ہی اسے بستر چھوڑ کر اس کے پاس آنا پڑا اور یہی حال کچھ حذیفہ کا بھی تھا۔

” تم لوگ بس نیندیں پوری کرتے رہو۔” وہ چڑ کر بولا۔

” اچھا چل غصّہ نہ کر اور بھابھی سے بول کچھ کھانے کو لا دیں۔” جنید نے ایک انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔ نوید نے ناگواری سے اسے دیکھا۔

” صوبیہ تانیہ کے ساتھ گھر گئی ہے رات کو آئے گی اور امی کی طبیعت ٹھیک نہیں اس لیے گھر سے کھا کر آنا تھا۔”

” اچھا بس باہر چلتے ہیں وہیں پر کچھ کھا لینگے۔” جنید کا منہ کھلتے دیکھ حذیفہ نے ٹوکا۔

” چلو پھر چلیں۔”

جنید اُٹھ کھڑا ہوا اس کے ساتھ ہی نوید اور حذیفہ بھی کھڑے ہوتے گھر سے باہر نکل گئے۔ چند قدموں کے فاصلے پر ہی چائے کی دوکان تھی وہ تینوں وہاں چلے آئے۔

” چھوٹے تین کپ چائے ساتھ میں کچھ کھانے کیلئے بھی۔” نوید نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کام کرتے ملازم کو آواز لگائی پھر ان دونوں کی جانب متوجہ ہوا۔

” جسمین کا کچھ پتا چلا؟ “

” یار تو کیوں اُن کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ یوسف کو ڈھونڈنے کے بجائے اب تو مس جسمین کے پیچھے پڑ گیا۔” حذیفہ جھنجھلا کر بولا۔

” ہاں تو اب تک میں اس امید پر خاموش تھا کہ یوسف مل جائے گا مگر اب نہیں، میں اُس عورت کو چھوڑوں گا نہیں۔ اگر سمندر میں ڈوب کر مرنے والا شخص واقعی یوسف تھا تو اُس کی موت کی ذمہ دار وہ عورت تھی۔” وہ مٹھیاں بھینچے غصّہ ضبط کرنے لگا۔

” مس جسمین کی شادی ہوگئی تھی۔ کہاں ڈھونڈے گا تو انہیں؟ ہمارے پاس تو اتنا پیسہ بھی نہیں کہ کسی انویسٹی گیٹر کے زریعے ہی معلوم کر سکیں، دونوں کہاں ہیں۔ اوپر سے جسمین کے گھر والوں نے اپنا گھر بھی بدل لیا اب کہاں رہتے ہیں یہ بھی خبر نہیں۔” جنید نے اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا۔

جسمین کے بارے میں اتنی معلومات بھی نوید نے ہی حاصل کی تھی۔ اس کا یوں جسمین کو تلاش کرنا جنید اور حذیفہ کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔ ان دونوں کو بس یوسف سے مطلب تھا۔ باقی جسمین کا کیا ہوا، کس سے شادی ہوئی اور اُس کے گھر والوں نے اپنی حویلی چھوڑ کر کہاں گھر لیا؟ یہ سب جاننے میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ جسمین کے گھر والوں نے حویلی کیوں چھوڑی یہ وہ تینوں اچھے سے جانتے تھے اور سن کر دکھ بھی ہوا تھا۔

” تم لوگ کچھ بھی کہو، بس ایک بار مجھے وہ عورت نظر آجائے چھوڑوں گا نہیں۔”

نوید کی بات پر اب کے وہ دونوں خاموش ہی رہے جان جو گئے تھے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

” اچھا چلو چائے پیو پھر چلتے ہیں یوسف کی تلاش میں۔” حذیفہ نے چائے کا کپ اُٹھاتے ہوئے کہا۔ جو ابھی ابھی دکان کا ملازم ان کی ٹیبل پر رکھ کر گیا تھا۔

” ہاں ٹھیک ہے۔”

نوید نے بھی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنا کپ اٹھا لیا جبکہ جنید غائب دماغی سے بیٹھا اپنے سامنے رکھے بھانپ اُڑاتے کپ کو گھور رہا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یوسف کے ملنے کی امید دم توڑنے لگی تھی۔

۔*********۔

تپتی دوپہر میں اپنے آبائی گاؤں کی سڑکوں پر چلتا ہوا وہ اس شہرِ خموشاں کے سامنے آ کر کھڑا ہوا، قدم تھے کہ تھم سے گئے۔ کچھ لمحے وہ وہیں کھڑا اپنی ہمت مجتمع کرتا رہا پھر ایک گہرا سانس لیتا وہ قبرستان میں داخل ہو گیا۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ وہ قدم اٹھاتا بائیں کنارے پر واقع ان پھولوں سے ڈھکی قبروں کے قریب جا پہنچا اور نم ہوتی آنکھوں سے قبروں کو دیکھتا وہ وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

” بابا !! ” لب ہلے۔

اس نے دھیرے سے اپنا ہاتھ قبر پر رکھا۔ جیسے کسی کا لمس محسوس کررہا ہو۔ جیسے کسی اپنے سے مل رہا ہو۔ وہ اپنا جو آج منوں مٹی تلے دفن تھا۔

” بلاج میرے بچے مجھے فخر ہے تم پر۔” اسے جہانگیر ملک کی آواز سنائی دی۔

” اے میرے چھوٹے، میرا شیر!! ” خاور اسے کندھے پر اُٹھائے پورے گھر میں گھوم رہا تھا۔

” بابا سائیں آپ نے اسے سر چڑھا رکھا ہے۔” دلاور کی خفگی بھری آواز ابھری۔

پھولوں سے ڈھکی قبر پر دھیرے دھیرے ہاتھ پھیرتے ہوئے بچپن سے لے کر جوانی تک کی ایک ایک یاد اس کے دماغ میں گھوم رہی تھی۔ گلاب کی نم پتیوں کو چُھوتا ہوا اس کا ہاتھ جب قبر پر لگی تختی پر گیا تو ایک آواز اس کے کانوں میں گونج اُٹھی۔

” بلاج میرے بچے مجھے معاف کردو۔ میں نے تم سے تمہاری خوشیاں چھین لیں۔”

وہ قبر پر سر رکھ کر بیٹھ گیا۔ اس کا دل رو رہا تھا۔ بچھڑنے والے کو یاد کررہا تھا کہ تبھی اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر مٹی میں جذب ہوگیا۔

” میں نے آپ تینوں کو معاف کردیا۔ لیکن اصل مجرم تو آپ یاسمین اور اُس کے گھر والوں کے تھے۔” وہ دھیرے سے بڑبڑایا۔

بار بار اس کی نظروں میں خون سے لت پت جہانگیر ملک کا وجود سامنے آ رہا تھا۔ جو اس کے سامنے ہاتھ جوڑے معافی مانگ رہے تھے۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں اور خود کو ماضی کی لہروں میں بہنے دیا۔

” جہانگیر ملک زندہ باد !! “

” جہانگیر ملک زندہ باد !! “

تقریر کے ختم ہوتے ہی لوگوں کا حد سے زیادہ ہجوم کھڑا اب یہ نعرہ لگا رہا تھا۔ سامنے ہی اسٹیج پر کھڑے جہانگیر ملک ہاتھ اوپر اُٹھائے مسکرا کر ان سب کی محبت وصول کر رہے تھے۔ ان کے پیچھے ہی دلاور دائیں طرف جبکہ خاور بائیں طرف کھڑا تھا۔ ان کا جلسہ کامیاب ہوا تھا۔ ہر طرف ان کے نام کے نعرے لگ رہے تھے۔

وہ یونہی مسکراتے ہوئے سب کو دیکھ رہے تھے کہ تبھی سیاہ لباس میں چہرے پر نقاب لگائے دو نامعلوم افراد ہجوم کو چیرتے ہوئے ان کے سامنے آکھڑے ہوئے۔

لمحے کی دیر تھی کہ اندھا دھند فائرنگ کے ساتھ ہی وہاں کہرام برپا ہوگیا۔ پولیس بھی حرکت میں آچکی تھی۔ ہجوم میں بھی بھگدڑ مچ چکی تھی۔ جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ نامعلوم افراد فوراً وہاں سے روپوش ہوگئے۔

اُدھر اسٹیج پر کھڑے لوگ جہانگیر ملک کے ساتھ ساتھ دلاور اور خاور کو بھی گھیرے میں لے چکے تھے۔ خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔ ایمبولینس کے آتے ہی انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ مگر اللّٰه کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ بلاج کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی دلاور اور خاور دم توڑ چکے تھے جبکہ جہانگیر ملک بیٹے کا انتظار کرتے اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے۔

” بابا سائیں !! “

بلاج ہانپتا کانپتا آئی سی یو میں داخل ہوا۔ اسے دیکھتے ہی جہانگیر ملک کے آنسوؤں میں روانی آگئی۔

” بابا سائیں !! “

“بلاج میرے بچے مجھے معاف کردو۔ میں نے تم سے تمہاری خوشیاں چھین لیں۔” اپنے کانپتے ہاتھوں کو اس کے سامنے جوڑتے ہوئے وہ آج اعتراف کر رہے تھے۔ بلاج نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔

” بابا سائیں میں۔۔۔”

اس سے پہلے بلاج ان سے کچھ کہتا۔ ایک ہچکی سنائی دی تھی۔ ساتھ ہی آنسو بھی آنکھوں میں ٹھہر سے گئے۔

” بابا سائیں !! “

وقتِ رخصت تھا۔ اس دنیا میں آنے والے کیلئے۔

بلاج ساکت نظروں سے انہیں دیکھے گیا۔ تو کیا انصاف ہوگیا تھا؟ کیا اللّٰه نے یاسمین کو انصاف دلا دیا تھا؟ جس انا، جس شہرت، جس کرسی کیلئے وہ دوسروں پر ظلم کرتے آئے تھے وہ سب دنیا میں ہی رہ گیا تھا۔ اللّٰه نے ان کی رسیوں کو کھینچ لیا تھا۔

ظالم چاہے جتنا بھی ظلم کرلے مگر جب اللّٰه ان کی ڈھیلی چھوڑی رسی کھینچنے پر آتا ہے تو بندے کی ساری چالاکیاں دھری رہ جاتی ہیں۔ جہانگیر ملک اور اس کے بیٹوں کے ساتھ بھی یہ ہی ہوا تھا۔ بیٹا ہونے کے ناطے بلاج تو انہیں سزا نہیں دلا سکا تھا مگر اللّٰه نے انصاف ضرور کر دیا تھا۔۔۔

” بابا سائیں !! “

آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے سرد آہ بھری۔ انسان کتنا سخت جان ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اسے ان گزرے آٹھ سالوں میں ہوگیا تھا۔ جس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا، وقت آنے پر خاموشی سے سہہ جاتا ہے۔

” سب بکھرتا چلا گیا بابا سائیں اور میں کچھ بھی نہیں کرسکا۔ انسان کتنا بےبس ہو جاتا ہے نا قسمت کے آگے۔” آنکھ سے نکلتے آنسوؤں کو اس نے گال پر بہنے دیا۔

” پہلے یاسمین مجھے چھوڑ کر چلی گئی جس کے بعد میں نے جسمین سے یوسف کو بھی چھین لیا۔ پھر آپ تینوں بھی اس دنیا سے چلے گئے جس کا صدمہ امی برداشت نہ کرسکیں اور بستر سے ہی لگ کر رہ گئیں اور۔۔۔ اور پھر سمیر اُس کو بھی موقع مل گیا۔ اُس نے بھی میری گڑیا کو طلاق دے دی۔”

کرب سے سوچتے ہوئے اس نے گالوں پر بہتے آنسوؤں کو صاف کیا اور کھڑے ہو کر تینوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے لگا۔

ہر صورت میں نقصان ان دونوں بہن بھائی کا ہی تو ہوا تھا۔ جسمین کی طلاق کے بعد بلاج نے بھی یہی سوچا تھا کہ جیسے اس کی بہن کو واپس لوٹا دیا گیا ہے، وہ بھی سمیر کی بہن کو ویسے ہی لوٹا دے۔ مگر اس کی تربیت اور مردانگی نے یہ گوارہ نہ کیا کہ وہ ایک کمزور پر ناحق ظلم کرے۔ غلطی بھائی نے کی تھی تو پھر بہن کو سزا کیوں؟

یہ سوچ آتے ہی اس نے ہر ارادہ ترک کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سیاست سے بھی ہر تعلق ختم کر دیا تھا۔ حویلی چھوڑ کر نیا گھر خرید لیا۔ جسے اس نے جسمین کے نام کر دیا تھا تاکہ مستقبل میں جسمین کو کوئی طعنہ نہ ملے۔ مگر اس کے باوجود بھی وقتاً فوقتاً حورین اُس پر اپنی زبان کی تیزی دیکھا جاتی تھی۔ جسے سن کر جسمین بس صبر کے گھونٹ بھر کے رہ جاتی۔۔۔

۔*********۔

ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی وہ جوس کا گلاس منہ کو لگائے گھونٹ گھونٹ حلق میں اُتار رہی تھی۔ جب جسمین ہاتھ میں ٹرے تھامے کچن میں داخل ہوئی۔ وہ ابھی فائزہ بیگم کو کھانا کھلا کر آئی تھی اور اب سنک کے پاس جا کر برتن دھونے لگی۔

” سنو !! “

گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے حورین نے جسمین کو مخاطب کیا۔ صبح سے ان کا اب آمنا سامنا ہوا تھا۔

” جی !! “

جسمین نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جبکہ اچھی طرح سے جانتی تھی وہ کیا کہنے والی ہے۔

” سوری !! کل رات میں غصّے میں کچھ زیادہ ہی بول گئی تھی۔”

حورین کی بات پر وہ خاموش ہی رہی۔ چوٹ دل کو لگی تھی پھر زبان سے کیا کہتی۔

” کچھ بولو گی نہیں؟ ” اس کو خاموش کھڑا دیکھ کر حورین پھر بولی۔

” بھائی کی کال آئی؟ ” جسمین نے بات ہی بدل دی۔

” ہاں!! تمہارا پوچھ رہے تھے۔ تمہیں کال بھی کر رہے تھے پر شاید تم سو رہی تھیں۔” اس نے کہتے ہوئے ایک بار پھر گلاس اُٹھا کر لبوں سے لگا لیا۔

” جی بس وہ رات دیر سے سوئی تھی۔ اچھا بھائی نے کچھ بتایا؟ وہ قبروستان گئے تھے؟ “

برتنوں کو دھونے کے بعد کیبنٹ میں رکہتے ہوئے جسمین نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” ہاں گئے تھے۔ وہاں سے واپسی پر ہی کال کی تھی۔ ایک تو سمجھ نہیں آتا ساری زندگی آبائی گاؤں سے دور رہنے کے بعد مرتے وقت کیوں آبائی گاؤں کی یاد جاگ جاتی ہے۔” آخری بات اس نے دھیرے سے کہی تاکہ جسمین تک نہ پہنچ سکے۔

اسے بلاج کا گاؤں جانا بالکل پسند نہیں تھا اور چونکہ بلاج نے اپنی روایت کو قائم رکھتے ہوئے جہانگیر ملک اور دونوں بھائیوں کو اپنے آبائی گاؤں میں ہی دفنایا تھا۔ اس لیے وہ باپ بھائیوں کی قبر پر فاتحہ پڑھنے اور زمینوں کے معاملات سنبھالنے کیلئے سال میں کئی بار گاؤں کا چکر لگا آتا تھا۔

” اچھا سنو اپنے بھائی کو کال کر لینا انہیں تم سے بات کرنی تھی۔” اس نے کچن سے باہر نکلتی جسمین سے کہا۔ وہ اثبات میں سر ہلاتی کچن سے نکل کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

” ہنہہ !! لوگوں کو اپنی بیوی بچوں کی فکر ستائے رکھتی ہے مگر ہمارے میاں یہاں بہن کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔” وہ بڑبڑائی۔

۔*********۔

” یوسف بھائی یہ سامان کہاں رکھوں؟ “

سامان ہاتھ میں اُٹھائے نواز کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔ سامنے چارپائی پر لیٹے یوسف نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا۔

” اسے تم حکیم صاحب کے پاس لے جاؤ وہ بتا دینگے۔”

” جی ٹھیک ہے۔” یوسف کے کہنے پر وہ اثبات میں سر ہلاتا واپس کمرے سے باہر نکل گیا۔

” اے یوسف میاں تم ہم کو ایک بات تو بتاؤ۔” پاس ہی فرش پر جڑی بوٹیوں کو پیسنے میں مگن ناصر نے اسے مخاطب کیا۔

” ہاں پوچھیں !! ” یوسف نے کروٹ لیتے ہوئے چہرہ اس کی جانب موڑ لیا۔

” تم شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ کیا تمہارا دل نہیں کرتا بیوی ہو، بچے ہوں۔ کب تک ایسے حال میں زندگی گزارتے رہو گے؟ ” ناصر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

” جب جذبات، خواہشات سب دفن ہو جائیں تو انسان کس حال میں زندگی گزار رہا ہے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ بس زندگی گزر جائے اتنا کافی ہے۔” یوسف اس کی پہلی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔

” ہاں وہ تو ٹھیک ہے پر تعلق ختم ہونے کے بعد مرد تو آگے بڑھ ہی جاتا ہے۔ ایک کے پیچھے ساری زندگی یوں تنہا تو نہیں گزار دیتا۔”

کہتا ہوا وہ برتنوں کو ایک طرف رکھ کر یوسف کی چارپائی کے سامنے ہی کرسی رکھ کر بیٹھ گیا۔ ان آٹھ سالوں میں وہ یوسف کے بارے میں سب کچھ تو نہیں پر بہت کچھ جان گیا تھا۔ جیسے یوسف کی تعلیم کیا ہے۔ اس کے ماں باپ اب اس دنیا میں نہیں اور یہ بھی کہ وہ کسی لڑکی سے محبت کرتا تھا اور اُس کے بعد کسی سے شادی نہیں کی۔

” کوئی کہتا ہے تعلق ختم ہونے کے بعد مرد آگے بڑھ جاتا ہے تو کوئی کہتا ہے عورت۔۔۔ مگر حقیقت یہ ہے جس نے محبت کی ہی نہ ہو وہی آگے بڑھتا ہے۔ سچا اور مخلص ہمیشہ وہیں بندھا رہ جاتا ہے پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔” یوسف نے مسکرا کر کہتے ہوئے سر جھٹکا۔ نگاہوں میں یکدم کسی کا سایا لہرایا تھا۔

” تمہارے فلسفے تو میری سمجھ سے باہر ہیں۔ ہمارے یہاں تو دو تین شادی کر لیتے ہیں۔ ایک تم ہو جس نے ایک بھی نہیں کی۔” ناصر منہ بناتا ہوا بولا۔

یوسف نے مسکرا کر اسے دیکھا مگر بولا کچھ نہیں کچھ باتوں کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہوتی ہے۔ ویسے بھی وہ اچھے سے جانتا تھا۔ ہم مشرقی لوگ شادی کو ہی زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں۔ زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد بھی وہ شخص دنیا کی نظر میں کچھ بھی نہیں جس کی ” شادی” نہیں ہوئی۔ مگر درحقیقت شادی صرف زندگی کا ایک حصّہ ہے۔ زندگی کا مقصد نہیں۔۔۔

” اب اکیلے اکیلے کیوں مسکرا رہے ہو؟ ” اسے مسکراتے دیکھ ناصر پوچھ بیٹھا۔

” کچھ نہیں مجھے نیند آ رہی ہے۔”

” اے تم بھی بڑا عجیب بندہ ہے۔” ناصر اسے گھورتا ہوا کرسی سے اُٹھا اور واپس اپنے کام میں لگ گیا۔ جبکہ ناصر کی اس بات نے یوسف کو ناجانے کیا کچھ یاد کرا دیا تھا۔

” سدھر جا یوسی۔”

” یہ کبھی نہیں سدھر سکتا۔”

” ابے مروائے گا کیا یوسی۔”

” یوسف کے بچے میں تجھے بچانے نہیں آؤں گا۔”

” ہم ایک دوسرے کیلئے جان دے بھی سکتے ہیں اور لے بھی سکتے ہیں کیوں یوسف۔”

نوید کی باتیں، جنید کی شرارتیں، حذیفہ کی مسکراہٹیں سب اس کے ذہن میں گھومنے لگا تھا۔ بے چین ہو کر یوسف کروٹ بدلتے ہوئے چھت کو گھورنے لگا۔ اسے آج جسمین کے ساتھ ساتھ اُن تینوں کی باتیں بھی شدت سے یاد آ رہی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہیں دیکھنے خواہش بھی اب شدت اختیار کرنے لگی تھی۔

۔*********۔

فجر کی اذان کے ساتھ ہی آسمان پر چھائے سرمئی بادل دھیرے دھیرے سرکتے نئی صبح کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ ایسے میں بلاج گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگائے کھڑا حویلی کو دیکھ رہا تھا ساتھ ہی ایک ملازم اس کا سامان گاڑی میں رکھ رہا تھا۔ جب کامران اس کے پاس چلا آیا۔ وہ ان کی آبائی حویلی کے ملازم کا بیٹا تھا اور والد کے انتقال کے بعد اب وہی حویلی کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ جب بھی بلاج کا گاؤں آنا ہوتا۔ اس سے پہلے ہی کامران حویلی کی صفائی کروا دیتا تھا تاکہ بلاج کو کوئی پریشانی نہ ہو۔

” چھوٹے سر کار آپ جا رہے ہیں۔ ایک دو دن اور رک جاتے۔”

” نہیں کامران مجھے جلدی پہنچنا ہے اور اکمل میرے ساتھ جا رہا ہے۔ تم بس حویلی کی دیکھ بھال کرتے رہنا۔” بلاج نے اس کا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔

” چلیں ٹھیک ہے جیسے آپ کو بہتر لگے۔” کامران نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

ملازم سامان گاڑی میں رکھ چکا تھا اور اب گاڑی کا دروازہ کھولے بلاج کے بیٹھنے کا انتظار کر رہا تھا۔

” چلو چلتا ہوں۔”

بلاج کامران سے مصافحہ کرتا اپنی گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا۔ ملازم نے گاڑی کا دروازہ بند کیا پھر گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔

” اکمل تم واقعی شہر جانا چاہتے ہو نا۔ یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے؟ ” بلاج نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اکمل کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” جی چھوٹے سرکار مجھے وہاں کام کرنا ہے تاکہ گھر والوں کو کچھ پیسے ہی بھیج سکوں۔”

” ٹھیک ہے پھر چلو۔”

” جی۔” اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور حویلی کے بیرونی دروازے سے باہر نکالتے ہوئے سڑک پر ڈال دی۔

گاڑی اپنی رفتار سے سڑکوں پر دوڑتی آگے بڑھ رہی تھی۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔ بلاج جو اپنی سوچوں میں گم بیٹھا تھا اس جھٹکے سے باہر نکل آیا۔

” کیا ہوا گاڑی کیوں روک دی؟ “

” وہ یہ درگاہ ہے نا، میں بس تھوڑی دیر میں آیا۔”

اکمل کے کہنے پر بلاج نے نظریں گھما کر شیشے کے پار دیکھا جہاں لوگ سیڑھیاں چڑھتے مزار پر جا رہے تھے۔

” ٹھیک ہے جلدی آنا۔”

بلاج کے کہتے ہی وہ اثبات میں سر ہلاتا فوراً گاڑی سے نکل کر مزار کی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ بلاج وہیں گاڑی میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا۔

” اف !! یہ کہاں رہ گیا۔ ایک تو فون نمبر بھی نہیں ہے بندہ کال ہی کر لے۔”

تھوڑی دیر گزرنے کے بعد بھی جب وہ نہ آیا تو بلاج جھنجھلا اُٹھا ساتھ ہی گاڑی سے نکل کر اس نے اپنے قدم بھی مزار کی سیڑھیوں کی جانب بڑھا دیئے۔

۔*********۔

صبح کی تازہ ہوا میں سانس لیتا وہ ادھر سے اُدھر ٹہل رہا تھا۔ زندگی بس اس درگاہ تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی وہ اپنے دوستوں سے ملنے کی ہمت اپنے اندر مفقود پاتا تھا۔

” کیا وہ مجھے یاد کرتے ہوں گے؟ ” اس نے سوچتے ہوئے پاس موجود کیاریوں کو دیکھا جن میں کھلتے پھول اس کی محنت کا ثمر تھے۔

” ان آٹھ سالوں میں کیا کچھ بدل گیا ہوگا۔ ان کی شادی ہوگئی ہوگی۔ بیوی، بچے، جاب ذمہ داریاں بڑھ گئی ہوں گی۔ ایسے میں کہاں انہیں یاد ہوگا کہ کوئی یوسف حیدر بھی ان کی زندگی میں تھا۔” اس نے سرد آہ بھری۔

یونہی چند لمحے وہ مزید ادھر سے اُدھر سے ٹہلتا رہا پھر تھک کر وہیں چبوترے پر آ بیٹھا۔

” اور مانو کیا حال ہے تمہارا۔”

پاس لیٹی بلی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا کہ تبھی قریب سے آتی آواز پر وہ ایک پل کیلئے سن ہو گیا۔

” یوسف تم۔۔۔”

۔*********۔

مزار کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا وہ اوپر آیا۔ صبح کے باعث ابھی چند لوگ ہی چلتے پھرتے نظر آ رہے تھے۔ اس نے نظر گھما کر دیکھا اکمل ادھر کہیں بھی نہیں تھا۔ بلاج نے اپنے قدم آگے کی طرف بڑھا دیئے۔

ابھی چند قدم چلا ہی تھا کہ سامنے ہی ایک آدمی ٹہلتا ہوا نظر آیا۔ سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس، سرمئی چادر اپنے گر لپیٹے وہ اس کی طرف پشت کیے ہوئے تھا۔ اُس کے سیاہ لمبے بال گردن کو چھو رہے تھے۔

بلاج نے اس پر سے نظریں ہٹا لیں اور ایک بار پھر اکمل کو ڈھنڈنے لگا کہ اچانک نظر بھٹک کر پھر اُس آدمی پر پڑی اور وہیں ٹھہر گئی۔

سیاہ داڑھی، کالی گہری آنکھیں جن میں قدرتی گلابی ڈوریں کھینچی تھیں، تیکھے نقوش، سرخ و سفید رنگ کا حامل وہ شخص بلاشبہ وہی تھا۔ جو چبوترے پر بیٹھا بلی کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ بلاج نے اپنے قدم اس کی جانب بڑھا دیئے۔

” کل جسمین اور میرا نکاح ہے یوسف۔ امید کرتا ہوں اب تم اُسے تنگ نہیں کرو گے۔ اپنے قدم یہیں روک لو اور پلٹ جاؤ کیونکہ اب یہاں تمہیں کچھ نہیں ملنے والا۔” بڑھتے ہوئے قدموں کے ساتھ اسے اپنی آواز سنائی دی۔

” آپ۔۔۔ آپ جھوٹ بول رہے ہیں بولیں۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ وہ میرا انتظار کریں گی۔” یوسف کی درد بھری آواز اُبھری جس نے اس کے بڑھتے قدموں کو بھاری کر دیا۔ ہر ایک قدم اُٹھانا مشکل لگ رہا تھا۔

” دیکھو یوسف میں جانتا ہوں تم بہت محبت کرتے ہو۔ لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ تم جسمین کو بھول جاؤ اور زندگی میں آگے بڑھو۔ پوری زندگی تمہارے سامنے پڑی ہے۔ سمجھ رہے ہو نا تم؟ ” سامنے نظریں جمائے اس نے تب کے یوسف اور اب کے یوسف میں فرق کرنا چاہا۔ زمین آسمان کا فرق تھا جو ان کے درمیان آ کھڑا ہوا تھا۔

“یوسف تم۔۔۔”

بلاج اُس کے عین سامنے جا کھڑا ہوا۔ یوسف جو بلی کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر رہا تھا۔ اس آواز پر ایک پل کیلئے رکا پھر تیزی سے چہرہ اوپر اُٹھا کر بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔

” یوسف تم۔۔۔ تم یوسف ہی ہونا۔”

بلاج ششدر سا اپنے سامنے زمین پر بیٹھے اس شخص کو دیکھ رہا تھا۔ وہ کیا تھا۔ کیا بن گیا تھا۔

” بلاج۔۔۔ بلاج بھائی آپ۔۔۔ آپ یہاں ؟ “

آٹھ سال بعد وہ اپنے سامنے اس شخص کو دیکھ رہا تھا۔ جسمین سے جڑا شخص….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *