Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq (Episode 03)

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

” بابا سائیں آپ نے بلایا۔”

جہانگیر ملک جو سگار پیتے کسی گہری سوچ میں گم تھے اس کی آواز پر چونک کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں بلاج کھڑا اجازت طلب نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔

” ہاں !! آؤ تم سے ضروری بات کرنی ہے۔”

ان کے کہتے ہی وہ جہانگیر ملک کے سامنے رکھی کرسی پر جا بیٹھا۔ اب دونوں آمنے سامنے موجود تھے۔ درمیان میں ایک ٹیبل حائل تھی۔ جس پر سگار کا سامان پڑا تھا۔

” تمہیں ہم نے جسمین کے رشتے کے بارے میں بتایا تھا نا۔”

” جی بابا سائیں۔” وہ سر جھکائے بولا۔

” دلدار خان کا بیٹا اگلے ماہ پاکستان واپس آرہا ہے۔ تب ہم جسمین اور شیراز کی منگنی کر دینگے۔ جتنی جلدی ہو سکے جسمین کو یہ بات سمجھا دو ورنہ پھر ہم اپنے طریقے سے بات کریں گے۔” بلاج کے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے وہ دوٹوک لہجے میں بولے۔

” بابا سائیں آپ محض پارٹی کو مضبوط بنانے کیلئے اپنی بیٹی کا رشتہ اُس دلدار خان کے گھر کر رہے ہیں۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ وہ کتنا عیاش آدمی ہے۔ جب باپ ایسا ہے تو بیٹا کیسا ہوگا۔” وہ بےبسی سے بولا۔

جب سے جہانگیر ملک نے اس رشتے کے بارے میں اسے بتایا تھا۔ تب سے ہی وہ انہیں اس رشتے کے نقصانات گنواہ رہا تھا۔ مگر جہانگیر ملک نے شاید اس بار قسم کھا رکھی تھی۔ وہ اس کا نکتہ اعتراض اُٹھنے سے پہلے ہی رد کر دیتے تھے اور آج بھی یہی ہونا تھا۔

” تم بھی تو ہماری اولاد ہو پر کتنا فرق ہے تم میں اور ہم میں پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ شیراز بھی اپنے باپ کی طرح ہوگا۔”

جہانگیر ملک کی بات پر بلاج خاموش ہوگیا۔ وہ سمجھ گیا تھا اب وہ کچھ بھی کہہ لے جہانگیر ملک نے اپنی ہی کرنی ہے۔

” اب جاؤ رات بہت ہوگئی ہے اور جتنی جلدی ہوسکے خود کو اور جسمین کو اس رشتے کیلئے تیار کرو۔ شیراز کی آمد کے بعد ہم کوئی تماشا برداشت نہیں کرینگے۔”

” جی۔”

وہ دھیمی آواز میں کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔ چاہ کر بھی آج وہ اپنی بہن کیلئے کچھ نہیں کر پایا رہا تھا۔

۔*********۔

سر وقار کی کلاس آف ہوئی تو یوسف نے باہر نکل کر اپنے قدم تیزی سے اسٹاف روم کی جانب بڑھا دیئے۔ ان تینوں کو وہ پہلے ہی کینٹین میں جانے کا کہہ چکا تھا اور خود اسٹاف روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے ہلکے سے دستک دے کر اجازت طلب کی۔

” کم ان۔”

اجازت ملتے ہی اس نے اپنے قدم اندر کی جانب بڑھا دیئے۔ جہاں وہ سفید شلوار قمیض میں سر پر لال دوپٹہ لیے بیٹھی کام میں مصروف تھی۔ یوسف اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

” مس جسمین !! “

” یس !! “

جسمین نے چہرہ اُٹھا کر اسے دیکھا۔ جو میرون شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس ہاتھ میں فائل پکڑے اس کے سامنے کھڑا تھا۔ یوسف کے آنے کا مقصد اسے اچھی طرح سے سمجھ آ گیا تھا۔

” مس یہ اسائمنٹ وہ کل۔۔۔”

” کل آخری تاریخ تھی اسائمنٹ جمع کرانے کی۔ آپ نے نہیں کروایا یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ رولز سب کے لیے برابر ہیں۔” وہ تیزی سے اس کی بات کاٹ کر بولی۔

یوسف نے سر نیچے جھکا لیا۔ ہاتھ کی مٹھی سختی سے بھینچ لی تھی۔ جسمین کو لگا وہ کچھ بولے گا۔ مگر وہ خاموش رہا۔

” اب آپ جا سکتے ہیں۔” وہ کہہ کر اپنی جگہ سے اُٹھی ابھی دو قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ یوسف نے اسے پکڑ کر دیوار سے لگا دیا۔

” چھوڑو چھوڑو۔” گلے پر موجود یوسف کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے وہ بمشکل بولی کہ تبھی اندر آتے نوید نے بھاگ کر اسے پکڑا۔

” چھوڑ یوسف پاگل ہو گیا ہے کیا۔” نوید ہٹانے کی کوشش کرتا ہوا بولا مگر یوسف پر تو جیسے کوئی جنون سوار ہو گیا تھا۔ کچھ سن ہی نہیں رہا تھا۔

” چھوڑو۔”

آنکھوں کو سختی سے میچ رکھا تھا۔ تکلیف کے باعث ایک آنسو تیزی سے نکل کر اس کے گال پر بہہ گیا۔ تبھی جسمین نے پلکوں کی جھالر اُٹھا کر اس سنگ دل کو دیکھا۔ نم آنکھیں، کپکپاتے ہونٹ۔۔۔ یوسف فوراً اسے چھوڑ کر پیچھے ہوا اور بس یہیں سے تصورِعشق کا آغاز ہوا۔

” آؤٹ۔۔۔ آؤٹ گیٹ آؤٹ !! ” گلے پر ہاتھ رکھے وہ چیخی۔

نوید فوراً یوسف کو کھینچتا اسٹاف روم سے باہر لے گیا۔

” یہ کیا حرکت تھی۔ وہ تو شکر ہے میں تجھے بلانے آ گیا۔” نوید غصّے سے چلایا۔

یوسف نے اپنا بازو چھڑا کر ایک نظر اسٹاف روم کے بند دروازے پر ڈالی اور بغیر کوئی جواب دیئے نوید کو وہیں کھڑا چھوڑ کر تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

ابھی تو ” عین ” لکھا ہے

ابھی تو ” شین ” باقی ہے

ابھی اُن ” منزلوں ” پر ہم کہاں

جہاں ” قاف ” باقی ہے

۔**********۔

” آج اتنی جلدی آگئے؟ “

بیل کی آواز پر حیدر صاحب نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے یوسف کو کھڑا پایا۔ وہ بغیر کوئی جواب دیئے ان کی سائڈ سے نکلتا اندر کی جانب بڑھا۔

” کیا ہوا اتنے خاموش کیوں ہو؟ “

حیدر صاحب نے پھر پوچھا آج سے پہلے کبھی انہوں نے اسے یوں خاموش نہیں دیکھا تھا۔ چاہے کتنی بھی بڑی بات ہو وہ تھوڑی دیر بعد ہی نارمل ہو جاتا تھا۔ مگر آج اس کی خاموشی کچھ بُرا ہونے کی گواہی دے رہی تھی۔

” کچھ نہیں ہوا بس کلاس نہیں تھی تو گھر آ گیا کچھ تھکن بھی محسوس ہو رہی ہے۔ میں ابھی آرام کرنے جا رہا ہوں تھوڑی دیر بعد کھانا تیار کردوں گا۔” وہ اپنی پیشانی مسلتے ہوئے بولا۔ حیدر صاحب نے غور سے اسے دیکھا جو کافی پریشان لگ رہا تھا۔

” نہیں تم رہنے دو آرام کرو میں خود کر لوں گا۔”

” آپ کی بھی تو طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔”

” میں اب بالکل ٹھیک ہوں تم جاؤ جاکر سو جاؤ۔”

حیدر صاحب کے کہنے پر یوسف اثبات میں سر ہلاتا کمرے میں چلا آیا اور سیدھا بیڈ پر بیٹھ کر سر ہاتھوں میں تھام لیا۔

” اُف !! یہ کیا کر دیا میں نے۔ اتنی گھٹیا حرکت کیسے ہوگئی مجھ سے۔” اپنے بالوں کو مٹھی میں سختی سے جکڑے اس نے شرمندگی سے سوچا۔

” پتا نہیں میں کب اپنے غصّے کو قابو کرنا سیکھوں گا۔” خود سے بڑبڑاتا وہ وہیں بیڈ پر لیٹ گیا۔

اس بات سے انجان کہ آنے والا وقت کتنی ہی تبدیلیاں اس کی زندگی میں لانے والا ہے۔ پھر شاید غصّہ اکڑ تو بس نام کو ہی رہ جانا ہے۔

۔*********۔

وہ تینوں کلاس میں بیٹھے لیکچر نوٹ کر رہے تھے۔ جب نوید نے چہرہ موڑ کر اپنے برابر والی سیٹ کو دیکھا۔ تین دن گزر چکے تھے۔ اُس دن کے بعد سے یوسف دوبارہ یونی نہیں آیا تھا اور نہ ہی کال اُٹھا رہا تھا۔ جنید اور حذیفہ تو اُس سے ملنے گھر بھی جانا چاہتے تھے پر نوید نے یہ کہہ کر روک دیا کہ ” اُسے اپنی غلطی کا احساس خود ہونے دو۔” اسے شدید غصّہ تھا یوسف پر اور مس جسمین کے سامنے شرمندگی بھی بہت محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بات کرنا چاہتا تھا مس جسمین سے یوسف کی طرف سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔ پر یوسف نے تو کچھ بھی کرنے لائق نہیں چھوڑا تھا۔ حرکت ہی ایسی گھٹیا کی تھی۔

” آج وہ پھر نہیں آیا۔” نوید کی نظریں سیٹ پر دیکھ حذیفہ اس کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی میں بولا۔

” کام بھی تو ایسے کیے ہیں۔ کیسے ہمت ہوگی آنے کی۔” اس نے کہتے ہوئے سر جھٹکا اور واپس لیکچر نوٹ کرنے لگا۔

” پر بات ہوئی کیا تھی جو وہ اس حد تک پہنچ گیا؟ ” جنید نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی یوسف کے پاس پہنچ جائے پر پھر نوید۔۔۔

” کیا ہونی ہے بات؟ یقیناً مس جسمین نے اسائمنٹ لینے سے انکار کر دیا ہوگا اور بجائے اُن کے انکار کو رد کر کے اپنی مجبوری بتانے کے یوسف صاحب نے اُن کا گلا ہی پکڑ لیا۔” نوید نے اندازہ لگایا یوسف کی عادت کو تو وہ اچھے سے جانتا تھا۔

” پر یار !! مس جسمین کو بھی انکار نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ سب ٹیچرز جانتے ہیں یوسف بغیر کسی وجہ کے چھٹی نہیں کرتا۔”

” مس جسمین نئی ہیں۔ انہیں ابھی اتنا نہیں پتا اسٹوڈنٹس کے بارے میں۔” حذیفہ کی بات پر نوید جتاتے ہوئے بولا۔

جس پر وہ دونوں خاموش ہو کر واپس اپنے اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئے۔ نوید بھی گہرا سانس اندر کھینچتا واپس نوٹس پر جھک گیا۔ اسے بے حد افسوس تھا۔ یوسف کیلئے، مس جسمین کیلئے۔۔۔

۔*********۔

دوپہر کے دو بجنے کو تھے اور یوسف ابھی بھی اپنے کمرے میں لیٹا گہری نیند میں سو رہا تھا۔ در حقیقت وہ سویا ہی حیدر صاحب کے اسکول جانے کے بعد تھا۔ رات تو ساری جاگ کر گزاری تھی یا یوں کہا جائے کہ کسی کو یاد کرنے میں گزاری تھی۔

” چھوڑ چھوڑ۔”

” چھوڑ یوسف پاگل ہو گیا ہے کیا۔”

” آؤٹ۔۔۔ گیٹ آؤٹ۔”

” نہیں۔۔۔ نہیں میں۔” یوسف ایکدم نیند سے ہڑبڑا کر اُٹھا۔ لائٹ جانے کے باعث وہ پسینے سے شرابور ہو رہا تھا۔ کچھ گھبراہٹ بھی طاری ہونے لگی تھی۔ جس کی اصل وجہ آنسوؤں سے بھری دو آنکھیں تھیں۔

” اُف !! کہاں پھنس گیا۔”

چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے بےبسی سے سوچا کہ تبھی بیرونی دروازے پر لگی بیل کی آواز سنائی دینے لگی۔

” یقیناً ابو آگئے۔”

یوسف جلدی سے بستر چھوڑتا دروازے کی جانب دوڑا جہاں واقعی حیدر صاحب کھڑے دروازہ کھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔

” السلام علیکم ابو !! ” اس نے دروازہ کھولتے ہی سلام کیا۔

” وعلیکم السلام برخوردار !! ” سلام کا جواب دیتے ہوئے حیدر صاحب نے بغور اسے دیکھا جس کی آنکھیں ابھی سو کر اٹھنے کی چغلی کھا رہی تھیں۔

” کھانے کو کیا بنایا ہے؟ “

ان کے سوال پر یوسف ایک دم گڑبڑا اُٹھا۔ سارا وقت تو سوتا رہا تھا۔ کھانا پھر کیا فرشتوں نے آکر بنانا تھا۔

” جی۔۔۔ وہ۔”

” یوسف بیٹا !! کیا بات ہے؟ کیا چھپا رہے ہو؟ دو تین دن سے یونیورسٹی بھی نہیں جا رہے۔ کچھ ہوا ہے کیا؟ ” حیدر صاحب نے تخت پر بیٹھتے ہوئے پوچھا ساتھ ہی جھک کر چپل اُتارنے لگے۔

” نہیں تو ابو۔ ایسی کوئی بات نہیں۔” وہ وہیں کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔ آخر باپ تھے۔ دل میں چھپی چوری کیسے نہ پکڑتے۔

” یوسف کیا میں تمہیں نہیں جانتا؟ تمہارے غصّے کو بھی اچھے سے جانتا ہوں۔ اگر کوئی بات ہے تو مجھ سے شیئر کرو۔”

یوسف چلتا ہوا ان کے پاس ہی زمین پر آ بیٹھا اور سر ان کے گھٹنوں پر ٹکا دیا۔

” ابو بس ایک غلطی ہوگئی۔ لیکن اب ہمت نہیں ہو رہی کے اُسے سدھار سکوں۔”

” جب غلطی کرتے وقت شرم محسوس نہیں کی تو معافی مانگنے میں کیسی شرم۔” وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔ ان کی بات پر یوسف نے فوراً سر اُٹھا کر دیکھا۔

” ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ یہ ہی سوچ رہے ہو مجھے کیسے پتا کہ کسی اور کے ساتھ زیادتی کر آئے ہو؟ ” یوسف نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

” میں اپنے بیٹے کو اچھے سے جانتا ہوں۔ اگر نقصان تمہارا ہوتا تو تم کبھی اتنے پریشان نہ ہوتے لیکن تم سے یقیناً کسی اور کا نقصان ہوگیا۔ جو تمہیں سکون نہیں لینے دے رہا۔”

” جی ابو بہت غلط کر دیا میں نے۔” اس نے واپس سر ان کے گھٹنوں پر ٹکا دیا۔

” کیا معافی کی گنجائش نکل سکتی ہے؟ “

حیدر صاحب نے کچھ شک کے تحت پوچھا۔ وہ کس غلطی کی بات کر رہا تھا وہ نہیں جانتے تھے۔ پر جو خیالات دماغ میں آ رہے تھے۔ وہ اُن کی نفی بھی چاہتے تھے۔

” ہاں !! اب ایسا بھی غلط نہیں کیا کہ معافی نہ مل سکے۔” ان کی بات میں چھپا مطلب یوسف اچھے سے سمجھ گیا تھا۔

” تو پھر بیٹا مجھے بھی معاف کر دو۔ کیونکہ میں نے بھی کچھ ایسا نہیں کیا کہ مجھے بھوکا رہنے کی سزا دی جائے۔” حیدر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ تیزی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔

” سوری ابو !! باتوں میں بھول ہی گیا۔ میں ابھی کچھ آپ کیلئے بناتا ہوں۔” وہ کہتا ہوا سیدھا کچن میں چلا گیا۔ جبکہ حیدر صاحب اس کی بوکھلاہٹ پر مسکراتے ہوئے اُٹھ کر کمرے کی جانب بڑھ گئے۔

۔*********۔

” کیا میں اندر آجاؤں؟ “

فائزہ بیگم جو الماری کے سامنے کھڑی کپڑے نکال رہی تھیں۔ اس آواز پر چونک کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں بلیک شلوار قمیض میں ملبوس اُن کا شہزادوں جیسا بیٹا بلاج کھڑا تھا۔

” آجاؤ بیٹا۔”

اجازت ملتے ہی وہ ان کے بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا۔ فائزہ بیگم بھی فوراً الماری کا دروازہ بند کر کے بیڈ پر اس کے سامنے آ کر بیٹھ گئیں۔

” کیا ہوا کوئی بات ہے؟ “

” ہاں !! بہت ضروری بات ہے۔” بلاج سنجیدہ سا بولا۔

” کیا ہوا؟ سب ٹھیک تو ہے؟ ” وہ پریشان ہو اُٹھیں۔

” امی بابا سائیں جسمین کا رشتہ دلدار خان کے بیٹے شیراز سے پکا کرنا چاہتے ہیں۔”

بلاج کی بات پر وہ بے یقینی سے اسے دیکھے گئیں۔

آخر کون نہیں تھا جو دلدار خان کی عیاش طبیعت سے واقف نہ رہا ہو۔

” تم۔۔۔ تم نے اُنہیں منع نہیں کیا؟ ” وہ دھیرے سے بولیں۔ کتنی مشکل سے یہ الفاظ ادا ہوئے تھے۔ بھلا کون جانتے بوجھتے اپنی بیٹی ایسے لوگوں میں دیتا ہے۔ پر شاید جہانگیر ملک یہ کر سکتا ہے۔

” کوشش کی تھی۔ پر کچھ سننے کو تیار نہیں ہیں۔” وہ سر جھکائے کہنے لگا جیسے ساری غلطی اسی کی ہو۔

” اب؟ “

فائزہ بیگم کے سوال پر اس نے گہرا سانس لے کر ان کی طرف دیکھا۔ جو نم آنکھوں میں امید لیے اسے دیکھ رہی تھیں۔

” جسمین کو ابھی نہیں بتاے گا میں کچھ کرتا ہوں۔” بلاج کہتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا اور ہمت نہیں تھی ان آنکھوں میں دیکھنے کی۔

” چلتا ہوں۔”

وہ فوراً وہاں سے نکل گیا۔ جبکہ فائزہ بیگم ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے جاتے دیکھ دل ہی دل میں جسمین کے اچھے نصیب کی دعا کرنے لگیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *