Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 09)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 09)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
فٹبال گراؤنڈ میں کھڑا وہ غائب دماغی سے ان تینوں کو دیکھ رہا تھا۔ سوچوں کے تانے بانے سب جسمین سے جوڑے تھے۔ یوسف وہاں سے منہ پھیر کر چلا تو آیا تھا پر دل شاید وہیں چھوڑ آیا تھا۔
وہ یوں ہی کھڑا انہیں دیکھتا رہا جب بال ہوا میں اُڑتی ہوئی سیدھا اس کے سینے پر آ لگی۔
” ابے یوسف دھیان کہاں ہے تیرا؟ ٹھیک سے کھیل۔” حذیفہ نے اسے گھورا۔
یوسف نے نیچے گری بال کو دیکھا ساتھ ہی اُٹھا کر ان کی طرف اچھال دیا۔
” تم لوگ پریکٹس کرو میں ابھی آیا۔”
” کہاں جا رہا ہے؟ “
نوید نے اسے جاتے دیکھ کر پوچھا۔ مگر وہ سنے بغیر ہی وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
” اسے کیا ہوا؟ “
جنید حیرت سے یوسف کو جاتے دیکھ رہا تھا۔ فٹبال کے معاملے میں یوسف کافی حد تک جنونی تھا۔ مگر آج اس کی غائب دماغی ان سب کو حیرت میں مبتلا کر رہی تھی۔
” پتا نہیں ہوسکتا ہے کوئی کام یاد آگیا ہو۔ خیر بال پاس کرو۔”
نوید نے ان کا دھیان بٹانا چاہا پر وہ اچھے سے سمجھ گیا تھا یوسف اس وقت کہاں گیا ہوگا۔
۔*********۔
واپس کوریڈور کی طرف آ کر وہ چاروں اطراف میں نظر گھماتا اُسے ڈھونڈ رہا تھا۔ پر نہ جانے وہ کہاں چھپ کر بیٹھ گئی تھی۔ یوسف تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔ ایک ایک کلاس دیکھتا وہ بےچین ہوتے دل کے ساتھ جسمین کو ڈھونڈ رہا تھا۔ بس اُس کی ایک جھلک کیلئے کہ تبھی وہ اسے اسٹاف روم کی طرف جاتی دکھائی دی۔
یوسف وہیں کھڑا اسے دیکھنے لگا۔ اس کی ایک جھلک نے ہی جلتے دل پر پھوار کا کام کیا تھا کہ تپتے صحرا سے نکل کر وہ ساگر کنارے آ کھڑا ہوا ہو۔ اپنی آنکھوں کی پیاس بجھاتا وہ جسمین کو جاتے دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً وہ رکی۔
یوسف فوراً قریب موجود پلر کے پیچھے چھپ گیا۔
اُدھر خود پر کسی کی نظریں محسوس کرتی جسمین رک کر چاروں جانب دیکھ رہی تھی۔ پر وہاں کوئی ایسا موجود نہیں تھا جو اُس کی طرف متوجہ ہو۔
” شاید میرا وہم ہے۔” خود سے کہتی وہ واپس اسٹاف روم کی جانب بڑھ گئی۔
یوسف نے پلر کی آڑ لے کر اسے جاتے دیکھا۔ جسمین تیزی سے چلتے ہوئے بائیں جانب مڑ رہی تھی۔ وہ جا چکی تھی پر یوسف وہیں کھڑا اس لمحے کو محسوس کر رہا تھا جب پیچھے سے کسی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
” یوسف حیدر !! “
۔*********۔
” ابے یار یہ یوسف کہاں رہ گیا؟ ” جنید جھنجھلاتا ہوا بولا۔
کب سے وہ تینوں اُس کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے پر یوسف نے تو شاید نہ آنے کی قسم کھا رکھی تھی۔
” ہمیں کیا پتا۔ ہم بھی تیرے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔” حذیفہ نے اس کی بات کو مذاق میں اُڑایا۔
” جب منہ کھولنا بکواس ہی کرنا۔” جنید تپ کر بولا۔
نوید وہاں بیٹھا بیزاری سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ دفعتاً وہ فٹبال چھوڑ کر اُٹھ کھڑا ہوا۔
” چلو سر وقار کی کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے۔”
نوید انہیں ساتھ چلنے کا اشارہ کرتا خود بھی فٹبال گراؤنڈ سے باہر نکل گیا۔
ایک دوسرے سے باتیں کرتے ابھی وہ کوریڈور میں پہنچے ہی تھے جب ان کی نظر یوسف پر پڑی جو اپنے سامنے کھڑے شخص سے باتیں کر رہا تھا۔
۔*********۔
” یوسف حیدر !! “
پیچھے سے آتی آواز پر یوسف چونک کر مڑا سامنے ہی سر وقار کھڑے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
” جی سر !! “
” کس کو چھپ چھپ کر دیکھ رہے ہو؟ “
” کیا مطلب ہے سر آپ کا میں آپ کو لڑکیاں تاڑنے والا لگتا ہوں؟ ” آنکھیں پھیلاتے ہوئے یوسف نے پلٹ کر سوال کیا۔
” ابھی دو منٹ پہلے تک تو مجھے نہیں لگتا تھا پر اب تم مشکوک ہو۔”
انہوں نے کہتے ہوئے اوپر سے نیچے تک یوسف کو دیکھا۔ یوسف کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوگئی۔
” سر یہ نیند میں ہے۔”
پاس سے آتی آواز پر دونوں نے چہرہ موڑ کر دائیں جانب دیکھا۔ جہاں وہ تینوں کھڑے تھے۔
” نیند میں؟ “
” جی سر آج کل اسے نیند میں چلنے کی بیماری ہوگئی ہے۔ جاگتی آنکھوں سے نیند میں چلا جاتا ہے۔ اب دیکھیں آپ کو لگ رہا ہے یہ اُٹھا ہوا ہے لیکن یہ سو رہا ہے۔” جنید نے کہتے ہوئے یوسف کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا۔
یوسف نے دانت پیستے ہوئے اسے گھورا جبکہ پیچھے کھڑے نوید اور حذیفہ اپنی مسکراہٹ دبانے کی ناکام کوشش کرنے لگے۔
” برخوردار !! کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے۔ اگر آپ سب کا مذاق ختم ہو گیا ہو تو کلاس میں چلیں۔”
ان تینوں سے کہتے وہ یوسف کی طرف مڑے جس پر یوسف نے گڑبڑا کر سر نیچے جھکا لیا۔
” میری نظریں آپ پر ہی ہیں۔”
” جی سر۔” سر جھکائے ہی جواب دیا۔
” Be careful !! “
ایک کڑی نظر یوسف پر ڈال کر وہ وہاں سے چلے گئے۔ جبکہ اب یوسف کا ذہن ان تینوں سے بچنے کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے میں لگے تھے۔
” یوسف کے بچے !! “
۔*********۔
” سردارنی جی وہ چھوٹے سرکار ( بلاج ) کو ضروری کام کی وجہ سے ہسپتال جانا پڑگیا اور وہ بول کر گئے ہیں آپ ڈرائیور کو بھیج دے گا تاکہ چھوٹی بی بی کو یونی سے لے آئیں۔”
فائرہ بیگم ابھی اپنے بھائی کے گھر سے لوٹی تھیں جب شبانہ (ملازمہ) نے کمرے میں آکر بلاج کا پیغام دیا۔
” لیکن سلیمان (ڈرائیور) کو تو خاور نے بلا لیا۔ آج اُس کا ڈرائیور نہیں آیا تو خاور سلیمان کو اپنے ساتھ لے گیا۔” فائزہ بیگم ایک دم پریشان ہو اُٹھیں۔
” اب کیا کریں سردارنی جی؟ ” شبانہ نے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
تم ایسا کرو بلاج کو فون کرو وہ کچھ کر لے گا۔”
” جی سردارنی جی۔”
شبانہ تابعداری سے کہتی فوراً کمرے سے نکل کر لاؤنج میں موجود ٹیلیفون کے پاس چلی آئی۔ بلاج کا نمبر ملا کر وہ اُس کے فون اُٹھانے کا انتظار کرنے لگی۔ بیل جا رہی تھی پر کوئی اُٹھا نہیں رہا تھا۔ مایوسی سے ریسیور رکھ کر وہ واپس فائزہ بیگم کے کمرے میں چلی آئی۔
” سردارنی جی چھوٹے سرکار فون نہیں اُٹھا رہے۔”
” ہائے اللّٰه !! اب کیا ہوگا۔”
فائزہ بیگم پریشانی سے اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ گھر میں کوئی اور بھی موجود نہیں تھا کہ وہ جسمین کو لینے بھیج دیتیں۔
” سردارنی جی ابھی تو چھوٹی بی بی کے آنے میں تھوڑا وقت ہے ہوسکتا ہے تب تک سلیمان یا چھوٹے سرکار گھر آجائیں۔”
” ہاں اللّٰه کرے ایسا ہی ہو۔ چلو تم جاؤ جاکے کام کرو اور تھوڑی دیر بعد پھر بلاج کو فون کرنا شاید اُٹھا لے۔”
” جی اچھا۔”
شبانہ اثبات میں سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی جبکہ فائزہ بیگم سفری تھکن کے باعث کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے بیڈ پر لیٹ چکی تھیں۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ گہری نیند اُتر چکی تھیں۔
۔*********۔
یونی تقریباً خالی ہونے لگی تھی۔ چند ہی لوگ چلتے پھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ ایسے میں وہ یونی کے باہر کھڑی کب سے ڈرائیور کا انتظار کر رہی تھی۔ جس نے گویا آج نہ آنے کی قسم کھا رکھی تھی۔
” اف !! حد ہے۔ کہاں رہے گئے؟ “
خود سے بڑبڑاتی وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ جب یونی کے گیٹ سے اپنی بائیک پر بیٹھا یوسف باہر آتا دکھائی دیا۔
جسمین کے پاس سے گزرتا یوسف بڑی شان سے اسے نظر انداز کرتا بائیک آگے بھگا لے گیا۔ جبکہ جسمین حیرت سے اسے جاتے دیکھنے لگی۔ ایک نظر بھی اس نے جسمین پر نہیں ڈالی تھی۔ یوسف کا رویہ آج اسے قدم قدم پر حیران کرنے پر تُلا تھا۔
اُدھر یوسف جو خود پر ضبط کرتا اس کے پاس سے گزر کر گیا تھا۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر بائیک واپس یونی کی جانب موڑ لی۔ تیزی سے بھگاتا وہ عین اس کے سامنے جا رکا۔ جسمین حیرت سے اس سرپھرے کو دیکھنے لگی۔
” ابھی تک یہاں کیا کر رہی ہیں؟ ” سامنے روڈ پر دیکھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔
” ڈرائیور نہیں آیا۔” نہ چاہتے ہوئے بھی جواب دیا۔
” بیٹھیں یہاں کھڑے رہنا ٹھیک نہیں۔” سنجیدگی ہنوز قائم تھی۔
” نہیں میں ٹیکسی لے لوں گی۔” جان چھڑانے والے انداز میں کہتی وہ ابھی روڈ کی طرف دیکھتی اپنی گاڑی کو تلاش کر رہی تھی جب یوسف کی بات پر چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔
” راہ چلتے اجنبی پر بھروسہ ہے اپنے اسٹوڈنٹ پر نہیں۔” آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ اس کے جواب کا منتظر تھا۔ جسمین نے اپنی نظریں نیچے جھکا لیں۔ وہ کیسے اس کی سوچ تک پہنچ گیا تھا۔
” لیں یہ بیگ میں کندھے پر لٹکا لیتا ہوں اس طرح یہ بیگ ہمارے درمیان آجائے گا اور آپ مجھ سے ٹچ نہیں ہوں گی۔”
یوسف نے کہتے ہوئے بائیک پر آگے رکھا اپنا بیگ اُٹھایا اور کندھے پر لے لیا۔
جسمین اپنی جگہ یونہی کھڑی رہی۔ اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ یوسف کے ماتھے پر بل پڑنے لگے مگر اگلے ہی لمحے وہ مسکرا دیا۔
” مجھ پر نہ سہی اللّٰه پر تو بھروسہ ہے اُسی کا نام لے کر بیٹھ جائیں۔ یقین کریں مایوس نہیں ہوں گی۔”
یوسف کی بات پر وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔ جہاں ایک مرد اور عورت کے درمیان تیسرا “شیطان” ہوتا ہے۔ وہاں وہ اپنے اور جسمین کے درمیان “اللّٰه” کو لے آیا تھا۔
وہ خاموشی سے سر جھکائے بائیک پر جا کر بیٹھ گئی۔ بیچ میں یوسف کا کتابوں سے بھرا بیگ موجود تھا جو ان کے بیچ فاصلہ پیدا کر رہا تھا۔ وہ مطمئن سی ہوگئی۔
” بائیک مضبوطی سے پکڑ لیں اور مجھے راستہ بتاتے رہے گا۔” یوسف نے کہتے ہوئے بائیک اسٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی۔
تیز دھوپ میں چلتی گرم ہوئیں بھی ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھیں۔ راستے میں گزرتا ہر منظر آج سے پہلے کبھی اتنا خوبصورت نہیں لگا تھا۔ دھیرے دھیرے چلاتا جہاں یوسف اس پل کو محسوس کر رہا تھا۔ وہیں جسمین یہ سوچ رہی تھی کہ کیا اس سے حسین کوئی سواری ہوسکتی ہے؟
” ٹھیک سے بیٹھی ہیں نا؟ ” یوسف نے زرا کا زرا چہرہ موڑ کر پوچھا گاڑیوں کے شور میں اس کی آواز سنا کافی مشکل تھا۔ جسمین نے چہرے کو تھوڑا آگے کیا۔
” کیا بول رہے ہیں؟ “
” ٹھیک سے بیٹھی ہیں؟ کوئی مسئلہ تو نہیں؟ ” یوسف کا متفکر لہجہ، وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔
” ہاں ٹھیک ہے۔”
ایک ہاتھ سے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتی جسمین ارد گرد دیکھنے لگی یہ علاقہ قدرِ سنسان تھا۔ چند ایک بائیک ہی ادھر سے گزرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ آج سے پہلے اس نے کبھی ان راستوں پر غور نہیں کیا تھا پر آج یوسف کے ساتھ بیٹھی وہ سب محسوس کر رہی تھی۔
” چھمک چھلو ادھر بھی دیکھ لو۔”
وہ ارد گرد دیکھتی اپنی سوچوں میں گم تھی۔ جب دو لڑکے بائیک پر بیٹھے اس پر جملہ اُچھال کر ہنستے ہوئے آگے نکل گئے۔
یوسف کی غصّے سے رگیں تن چکی تھیں۔ سختی سے لب بھینچے اس نے بائیک کی رفتار تیز کردی۔
” یوسف چھوڑو۔”
اس کا ارادہ بھانپ کر جسمین فوراً بولی۔ مگر وہ نظرانداز کیے تیزی سے بائیک دوڑاتا ان کے سامنے جا رکا۔
یوسف کو اپنے سامنے دیکھ کر ان لڑکوں نے فوراً بریک لگایا۔ عین ممکن تھا کہ ان کی بائیک یوسف کی بائیک سے ٹکرا جاتی۔
” اے پاگل ہے کیا؟ ” بائیک پر بیٹھے لڑکوں میں سے آگے والا غصّے سے چلایا۔
یوسف بائیک چھوڑ کر کندھے پر لٹکا بیگ جسمین کو پکڑاتا ان کی جانب بڑھنے لگا تھا جب جسمین نے اس آستین کو پکڑ کر روکنا چاہا۔
” نہیں یوسف جانے دو۔”
یوسف نے ایک نظر اس کے پریشان چہرے کو دیکھا اور نرمی سے اپنی آستین اس کی گرفت سے چھڑائی۔
” ابے مان لے مان لے اپنی بہن کی بات مان لے۔” ان دونوں کو دیکھ کر اُن لڑکوں نے پھر جملہ پھینکا اور ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگے۔
اور یہیں یوسف حیدر کی بس ہوئی تھی تیزی سے ان کی طرف بڑھ کر آگے بیٹھے لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر وہ بائیک سے ہوا میں اُٹھا چکا تھا۔ وہ دبلا پتلا سا لڑکا یوسف جیسے مضبوط قد و قامت کے مالک شخص کے سامنے بچہ ہی لگ رہا تھا۔
” اب بول سالے کیا بول رہا تھا۔” گریبان سے پکڑ کر اُٹھائے وہ غرایا۔ تبھی دوسرا لڑکا بائیک چھوڑ کر یوسف کی طرف بڑھا۔
” ہاں تو بھی آجا۔”
کہنے کے ساتھ ہی گریبان سے پکڑے لڑکے کو دوسرے لڑکے کے اوپر اچھال دیا۔ دونوں سیدھا جاکر زمین بوس ہوچکے تھے۔ یوسف آگے بڑھا اور بھپرے ہوئے شیر کی طرح ان جھپٹ گیا۔ اچھا خاصا تماشا لگ چکا تھا۔ جسمین پریشانی سے کھڑی ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔ آس پاس سے گزرتے لوگ بھی رک رک کر اس تماشے کو دیکھنے لگے تھے۔ معاملے کی نزاکت کو وہ اچھے سے سمجھ گئے تھے اس لیے کوئی بھی ان لڑکوں کو بچانے نہیں آیا تھا۔
” یوسف چھوڑ دو پاگل مت بنو۔”
جسمین چلائی۔ یوسف کے غصّے سے تو وہ اچھی طرح واقف تھی۔ غصّے میں تو اس نے جسمین کے عورت ہونے کا لحاظ نہیں کیا تھا وہ تو پھر بھی لڑکے تھے۔
” بیٹا چھوڑ دو مر جائیں گے۔ ان لوگوں کو تو بس اللّٰه ہی ہدایت دے سکتا ہے۔”
جسمین کے چلانے پر ایک آدمی نے آگے بڑھ کر یوسف کو روکنا چاہا۔ جو بیدردی سے ان لڑکوں کو پیٹنے میں لگا تھا۔
” آج کے بعد کسی لڑکی پر یوں جملے اچھالنے سے پہلے اس دن کو یاد کر لینا۔”
یوسف کہہ کر پیچھے ہٹا اور جسمین کی جانب بڑھ گیا کچھ بھی کہے سنے بغیر وہ اس کے ہاتھ سے بیگ واپس کندھے پر لٹکاتا بائیک پر بیٹھ گیا۔ جسمین نے غصّے سے اسے گھورا۔
” بیٹھ جائیں ویسے ہی دیر ہو گئی ہے۔” مسکراہٹ دبائے وہ بولا۔
” سدھرنا مت تم۔”
دانت پیس کر کہتی وہ بھی بائیک پر بیٹھ چکی تھی۔ یوسف نے مسکرا کر بائیک اسٹارٹ کی اور آگے بڑھا لے گیا۔ اب جلد از جلد گھر بھی تو پہنچنا تھا۔
