Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq (Episode 16)

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

تپتی دوپہر میں تیز رفتاری سے دوڑتی دو گاڑیاں سیدھا اس مزار کے سامنے جا رکی تھی۔ ایک میں فائزہ بیگم اور شبانہ موجود تھیں جبکہ دوسری گاڑی میں جسمین کے ساتھ یاسمین بیٹھی تھی۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس سر پر لال دوپٹہ لیے یاسمین حیرت سے اس جگہ کو دیکھ رہی تھی۔ وہ پہلے کبھی مزار پر نہیں آئی تھی۔ نہ ہی اسنے کبھی آنے کا سوچا تھا۔ وہ الگ فرقے سے تعلق رکھتی تھی بلاج الگ۔ مگر دل مل چکے تھے جس کے بعد ہر ذات پات، فرقہ واریت کہیں بہت پیچھے رہ گیا تھا۔

” چلیں بھابھی؟ “

گاڑی کا دروازہ کھول کر جسمین نے اترنے کا اشارہ کیا جس پر یاسمین سر ہلاتی باہر نکل آئی۔ وہ یہاں آنا نہیں چاہتی تھی مگر بلاج کی خوشی کیلئے انکار بھی نہیں کر پائی تھی۔

” بیٹا مجھے معلوم ہے تم یہ سب نہیں مانتی پر تم یہاں ہماری خوشی کیلئے آئیں مجھے اچھا لگا۔ باقی تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہم میں سے کوئی تمہیں مجبور نہیں کرے گا۔” فائزہ بیگم نے اس کے پاس آ کر شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ یاسمین مسکرا دی۔

“چلو آجاؤ۔”

یاسمین کو ساتھ لیے وہ مزار کی سیڑھیاں چڑھنے لگیں۔ شبانہ اور جسمین بھی ان کے پیچھے ہی تھیں۔ سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس، سر پر ہم رنگ دوپٹہ اوڑھے جسمین تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی ارد گرد لوگوں کو بھی دیکھ رہی تھی۔ اتنی دھوپ میں بھی وہاں ایک جہان آباد تھا۔

سیڑھیوں سے اوپر پہنچ کر وہ پھولوں کے ہار اور منت کی چادر ہاتھ میں لیے زنانہ حصے میں آکر فاتحہ پڑھنے لگی۔ یاسمین حیرت سے وہاں موجود سب عورتوں کو چادر چڑھاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔

” بھابھی آپ میرے ساتھ آئیں۔”

جسمین اس کا ہاتھ تھامے وہاں سے نکل کر اس دیوار کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ جہاں کتنوں کی مردایں دھاگے کی صورت بندھی تھیں۔

” یہ اتنے دھاگے کیوں بندھے ہیں؟ ” یاسمین نے حیرت سے اس سبز رنگ کی جالی دار دیوار پر بندھے دھاگوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” منت کے دھاگے ہیں۔” جسمین کہتے ہوئے خود بھی ہاتھ میں موجود منت کا دھاگہ باندھنے لگی۔

ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کے پاس مانگنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ لیکن اس بار کسی امتحانی پرچے میں پاس ہونے کیلئے دعا نہیں کرنی تھی بلکہ زندگی کے امتحان میں پاس ہونے کی دعا کرنی تھی۔ وہ مانگنا تھا جو اب سے پہلے کبھی نہیں مانگا تھا۔ وہ پانا تھا جو اب سے پہلے کبھی نہیں چاہا تھا۔ وہ ایک شخص جو اب سے پہلے خواب تک میں نہیں آیا تھا۔ وہ۔۔۔ جو یوسف حیدر تھا۔ ایک جسمین کا۔۔۔ یوسف حیدر !!

” یہ کیا۔۔۔”

منت کا دھاگہ باندھتے ہوئے اس کی نظر اس نشان پر پڑی۔ جو ” سیاہ ” تھا۔

” کیا ہوا؟ ” اس کے چہرے پر چھائی پریشانی کو دیکھتے ہوئے یاسمین نے پوچھا۔

” میرے دھاگے پر یہ سیاہ نشان ہے۔ یہ کوئی اچھا شگون نہیں۔”

” او ہو !! کیا بات کر رہی ہو یہ صرف ایک دھاگہ ہے اور ویسے بھی اللّٰه کو تمہاری فریادیں اور دعائیں سنے کیلئے ان دھاگوں کی ضرورت نہیں۔” جسمین کی پریشانی کم کرنے کیلئے وہ سمجھاتے ہوئے بولی۔

” اچھا کیا یہ ہمیشہ یہیں بندھا رہے گا؟ ” یاسمین نے بات بدلی۔ جس میں کچھ تجسس بھی شامل تھا۔

” ہاں۔”

” ویسے اگر تم بعد میں کبھی یہاں آئیں تو تمہیں کیسے پتا چلے گا ان میں سے تمہارا دھاگہ کونسا ہے؟ ” ایک اور سوال۔ جسمین نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

” یہ میں نے دیوار کے کونے پر باندھا ہے اور پھر اب تو اس پر یہ سیاہ نشان بھی موجود ہے۔”

یاسمین کی بات کا اثر اس پر ہوا تھا یا نہیں۔۔۔ پر اب وہ اس سیاہ نشان کو الگ ہی نظر سے دیکھ رہی تھی۔

” او ہاں !! یہ تو فائدہ ہو گیا۔ اب اس سیاہ نشان سے تم فوراً پہچان جاؤ گی کہ یہ ہی تمہارا ہے۔”

” جی !! اب چلیں امی کے پاس چلتے ہیں۔” جسمین مسکرا کر کہتی اسے لیے فائزہ بیگم کی طرف بڑھ گئی جہاں وہ چبوترے پر بیٹھے فقیروں میں سامان تقسیم کر رہی تھیں۔ شبانہ ہاتھ میں کھانے پینے کے ساتھ ساتھ کپڑے وغیرہ لیے ان کے پیچھے کھڑی تھی۔

” آگئیں تم دونوں۔” ان دونوں کو دیکھ کر وہ مسکرائیں۔

” جی !! اب آپ نے غریبوں میں سامان تقسیم کر دیا تو چلیں؟ “

” ہاں چلو اور شبانہ یہ باقی سامان سیڑھیوں پر بیٹھے لوگوں میں تقسیم کر دو جب تک ہم گاڑی میں جا کر بیٹھتے ہیں۔”

شبانہ کو ہدایت دیتیں وہ ان دونوں کے ساتھ واپس گاڑیوں کی طرف بڑھ گئیں۔ سب سے زیادہ انہیں یاسمین کی فکر تھی جو نہ جانے یہاں آ کر کیسا محسوس کر رہی تھی۔

” تم پریشان تو نہیں ہوئی بیٹا۔” گاڑی کے پاس پہنچ کر انہوں نے پیار سے پوچھا۔

” نہیں آنٹی کوئی پریشانی نہیں ہوئی آپ فکر نہیں کریں۔” یاسمین مسکرائی۔ اسے خوشی تھی کہ فائزہ بیگم نے اسے زبردستی کچھ کرنے کو نہیں کہا تھا۔ نہ ہی اپنے رنگ میں رگنے کی کوشش کی تھی۔

” چلو گاڑی میں بیٹھو تم دونوں شبانہ کے آتے ہی چلتے ہیں۔”

” جی۔”

فائزہ بیگم کی بات پر اثبات میں سر ہلاتی وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد ہی شبانہ بھی سامان تقسیم کرکے ان کے پاس چلی آئی تھی۔ جس کے بعد وہ فوراً ہی وہاں سے نکلتے گھر کیلئے روانہ ہو چکے تھے۔

۔*********۔

” کیا بونڈنگ ہے آپ میں۔” جنید نے یوسف کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا۔

یوسف کو چوٹ لگنے کی وجہ سے آج یوسف اور نوید یونی نہیں گئے تھے۔ اس لیے حذیفہ اور جنید یونی کے بعد ان دونوں سے ملنے چلے آئے تھے اور اب کمرے میں بیٹھے مسلسل شرارت سے یوسف کو دیکھ رہے تھے۔

” بکواس نہیں کرو سیدھے طریقے سے بکو کیا کہنا ہے۔” یوسف جانتا تھا کوئی پتے کی بات تو کرینگے نہیں اس لیے چڑ کر بولا۔

” آج تو نہیں آیا اور مس جسمین بھی۔ اس لیے تنگ کر رہا ہے تجھے۔” حذیفہ نے ہنستے ہوئے کہا۔

” تو میں کیا کروں؟ مجھے تو چوٹ لگی ہے اس لیے نہیں گیا۔” وہ مزید چڑا جبکہ ذہن میں جسمین کو لے کر ہل چل مچ چکی تھی۔

” ہاں اور وہ تیری وجہ سے نہیں آئی ہوں گی۔ دل نہیں لگے گا نا تیرے بغیر۔” جنید نے کہہ کر حذیفہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارا ساتھ ہی دونوں قہقہہ لگا کر ہنس دیئے۔

انہیں ہنستا دیکھ یوسف کا دل کیا سائڈ ٹیبل پر رکھا گلدان اُٹھا کر ان دونوں کے سر پر دے مارے۔

” تنگ مت کرو اُسے۔” نوید ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھامے کمرے داخل ہوتے ہوئے بولا۔ نظر سیدھا ان دونوں پر پڑی تھی جو بیڈ پر گرے ہنسنے میں لگے تھے۔

” بس نوید تجھے پتا ہے تو مجھے کب اچھا لگتا ہے۔” نوید کے ہاتھ میں چائے کی ٹرے کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا۔

” ہاں جب تیری عزت افزائی کرتا ہوں گھونسوں کے ساتھ۔” جنید کو جواب دیتے ہوئے اس نے ٹرے بیڈ کے درمیان میں رکھ دی۔ کل سے اس نے بغیر کسی خاص وجہ کے یوسف کو بیڈ سے اُٹھنے نہیں دیا تھا۔ سارا سامان اسے بیڈ پر ہی لا کر دے رہا تھا۔

” مجھے باہر جانا ہے اور مزید گھر پر نہیں بیٹھ سکتا۔” یوسف کا موڈ خاصا چڑچڑا ہو رہا تھا۔ کچھ طبیعت کا اثر تھا تو کچھ کل سے نوید کی باتوں نے بھی ذہن کو الجھا رکھا تھا۔

” بیٹھے رہو چپ چاپ اور تم مجھے لیکچرز نوٹ کروا دینا آج کے۔” یوسف سے کہہ کر وہ حذیفہ اور جنید سے مخاطب ہوا۔ جو مزے سے چائے کی چسکیاں بھر رہے تھے۔

” اوکے۔”

” تم لوگ رکو میں بس ابھی آیا۔”

ان تینوں کو باتیں کرتے دیکھ یوسف نے اپنا موبائل اُٹھا کر جیب میں رکھا اور ان سے کہتا ہوا بیڈ سے اُتر کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ جبکہ وہ اسے پیچھے سے آوازیں ہی دیتے رہ گئے۔

” آہ !! یہ نہیں سدھرے گا۔”

۔*********۔

کمرے میں بیٹھا دلاور خاموشی سے جہانگیر ملک کو دیکھ رہا تھا جو فون پر مسلسل ہدایت دیتے مقابل کو سمجھانے میں لگے تھے۔ جس پر مقابل بھی انہیں تسلیاں دیتے ہوئے اب فون رکھ چکا تھا۔

” کیا بابا سائیں کام ہوجائے گا نا؟ ” مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے دلاور نے مسکرا کر پوچھا۔

” ہاں کریم نے ہمیں یقین دلایا ہے۔ مایوس نہیں کرے گا۔ کل کا سورج اس کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔” نفرت سے کہتے ہوئے انہوں نے خاور کی طرف دیکھا۔ جو صوفے پر آرام سے بیٹھا انہیں سن رہا تھا۔

” اس شجاع عالمگیر نے اپنے بیٹے کے رشتے کا کہا تھا۔ معلوم کرو کن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ اس بار ہم بلاج کو اختلاف کرنے کا کوئی موقع نہیں دینگے۔” وہ ہنکار بھرتے ہوئے بولے۔

” آپ پریشان نہ ہوں میں سب معلوم کر لوں گا۔ بس اب جلد سے جلد آپ جسمین کا رشتہ کر دیں۔ ورنہ ایسا نہ ہو وہ بھی کسی مرد کو ہمارے سامنے لاکر کھڑا کردے۔”

خاور کا ذہن اب بھی یوسف میں ہی اٹکا ہوا تھا۔ اس لیے اب وہ جلد از جلد جسمین کی شادی کروانا چاہتا تھا۔ نہ جانے کیوں پر یوسف اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔ اُس کی بے خوفی آج بھی اسے غصّہ دلا دیتی تھی۔

۔*********۔

رات کی تاریکی منجمند ہوئی۔ وہیں صبح کا سورج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ دوبارہ روشن ہوچکا تھا۔ کانوں میں رس گھولتی پرندوں کی چہچہاہٹ، فضا میں چھائی پھولوں کی مسحورکن مہک جو نتھنوں سے ٹکڑا کر لبوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ بکھیرے ہوئے تھی۔ سرد ہوا کے جھونکے جو ہر سوں اپنے پر پھیلائے ہوئے تھا اپنے آپ میں مکمل ہونے کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ ایسے میں اس مکمل اور پرکشش تصویر کا حصہ بنے جسمین دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی اپنے آفس کی جانب بڑھ رہی تھی جب کوئی اور بھی اس کے ہم قدم آ ہوا۔

” کیسی ہیں؟ ” درمیان میں زرا کا زرا فاصلہ رکھتے ہوئے یوسف نے پوچھا۔

” میں تو ٹھیک ہوں اور آپ؟ ” بغیر اس کی طرف دیکھے ہی وہ پہچان گئی تھی سوال کرنے والا شخص کون ہے۔

” اف !! اب تو یہ ” آپ ” کہنے کی فارمیلٹی چھوڑ دیں۔ خیر میں بھی ٹھیک ہوں۔ ویسے کل میں آپ کو کال کر رہا تھا اُٹھائی کیوں نہیں؟ ” خفگی سے سوال کیا۔ جسمین نے مسکراہٹ دبائی۔

” کیونکہ مجھے یہ فون پر رابطے نہیں پسند۔”

” اور کیا کیا نہیں پسند ابھی بتا دیں تاکہ آگے سے نہ کروں۔”

” اور۔۔۔۔ اور تم نہیں پسند۔” جسمین کے سنجیدہ انداز پر یوسف کے قدم وہیں رک گئے۔ جبکہ وہ مسکراہٹ دباتی آگے بڑھ گئی۔

” ایسے کیسے نہیں پسند؟ تبھی میری وجہ سے کل آپ بھی یونی نہیں آئیں۔” ماتھے پر بل ڈالے وہ ایک بار پھر اس کے پیچھے چلتے ہوئے بولا۔

” کس نے اتنی بڑی خوش فہمی میں مبتلا کر دیا؟ ” آفس کے سامنے پہنچ کر جسمین نے رک کر اسے دیکھا۔

” کسی نے نہیں کیونکہ یہ خوش فہمی نہیں حقیقت ہے۔” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا۔ جسمین نے نظریں پھیریں اور آفس کا دروازہ کھول کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔ یوسف بھی اس کے پیچھے ہی اندر آیا۔

” خوش فہمی اب غلط فہمی میں بدل رہی ہے مسٹر یوسف !! میں کل درگاہ پر گئی تھی۔ اس لیے کل یونی نہیں آ سکی۔” وہ جتا کر بولتی اپنی چیئر پر جا بیٹھی۔

” درگاہ !! آپ درگاہ پر جاتی ہیں؟ ” یوسف نے بھنویں اچکائے اسے دیکھا۔

” ہاں کیوں؟ ” وہ الجھی۔

” کچھ نہیں بس میں ان سب چیزوں کو نہیں مانتا اس لیے شادی کے بعد آپ مزار وغیرہ پر نہیں جائیں گی۔” وہ سکون سے بولتا جسمین کو ٹھیک ٹھاک تپا گیا۔

” تم۔۔۔ تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے؟ “

” آپ کا ہونے والا شوہر۔” یوسف مسکرایا جبکہ جسمین نے لب بھینچے گھور کر اسے دیکھا جو ڈھٹائی سے اس پر حق جتا رہا تھا۔

” لگتا ہے بازو پر لگی گولی نے دماغ پر اثر کر دیا ہے۔”

” گولی نے تو نہیں پر کسی کے تصور نے ضرور اثر کر دیا ہے۔” دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر جھکتا وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔ جسمین نے نظریں جھکا لیں۔

جسمین نے اظہار نہیں کیا تھا نہ ہی کرنے کا ارادہ رکھتی تھی اور نہ ہی یوسف اس سے اظہار کروانا چاہتا تھا۔ وہ جسمین کا بھرم رکھنا چاہتا تھا اور اب جب جذبات انداز سے جھلکنے لگے تھے تو لفظوں کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ یوسف کیلئے اتنا ہی کافی تھا کہ جسمین اب اس کے جذبات کو جھٹلا نہیں رہی تھی۔

” تم۔۔۔ تم کیوں آگئے آج یونی؟ ایک دو دن گھر پر اور آرام کرتے۔” جسمین نے بات بدلی۔ خود پر جمی یوسف کی نظریں اسے کنفیوز کر رہی تھیں۔

” اگر نہیں آتا تو پھر معلوم کیسے ہوتا کہ آپ کو میری فکر ہے یا نہیں۔” یوسف کی بات پر وہ جھنپ سی گئی اور دل میں ہی خود کو کوسنے لگی کہ آخر اس نے یہ پوچھا ہی کیوں۔

” اب چلتا ہوں کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے۔”

شہادت کی انگلی سے اس کا گال چھوتا وہ پیچھے ہٹا اور سیدھا آفس سے باہر نکل گیا۔ جبکہ اپنے دائیں گال پر ہاتھ رکھے بیٹھی جسمین دھیرے سے مسکرا دی۔

۔*********۔

ہاتھ میں بندھی گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے وہ سگنل کے کھلنے کا انتظار کر رہی تھی۔ جلدی جلدی کرتے بھی اسے ہسپتال کے لیے دیر ہوگئی تھی باقی کی کسر اس ٹریفک جام نے پوری کردی تھی۔

” کھل جا یار ورنہ بلاج نے تو آج میرا قتل کر دینا ہے۔”

وہ بڑبڑائی ساتھ ہی موبائل اُٹھا کر دیکھا جہاں بلاج کے کتنے ہی میسجز وہ موصول کر چکی تھی۔ مگر ان کا جواب نہیں دیا تھا۔ ابھی وہ ان میسجز کو دیکھ ہی رہی تھی کہ دفعتاً موبائل ٹون بجی اسکرین پر بلاج کا نام جگمگانے لگا۔ اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ کال ریسیو کی۔

” ہیلو !! “

” کہاں ہو کب سے میسجز کر رہا ہوں۔ جواب کیوں نہیں دے رہیں؟ ” اسپیکر سے بلاج کی جھنجھلائی آواز ابھری۔

” بس آ رہی ہوں بابا ٹریفک میں پھنس گئی تھی۔”

سگنل لائٹ گرین ہوتے دیکھ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی۔

” اوکے سنبھل کر آنا اور آئی لو یو۔”

محبت بھرے لہجے میں کہتا وہ کال کاٹ چکا تھا۔ یاسمین نے مسکراتے ہوئے موبائل ڈش بورڈ پر رکھا۔ روڈ پر نظریں جمائے وہ گاڑی تیزی سے آگے بڑھاتی قدرِ سنسان علاقے میں داخل ہو چکی تھی۔ اکا دکا گاڑیاں ہی پیچھے آتی دکھائی دے رہی تھیں۔ گاڑی کی اسپیڈ مزید تیز کرتی وہ آگے بڑھ رہی تھی جب پیچھے سے آتی بائیک نے یکدم سامنے آ کر راستہ روکا۔ یاسمین نے فوراً بریک پر پاؤں رکھ کر گاڑی روکی عین ممکن تھا کہ گاڑی سیدھا بائیک سے جا ٹکراتی۔

” آہ !! “

جھٹکے کی وجہ سے سر اسٹیرنگ ویل سے جا ٹکرایا تھا وہ کراہ اُٹھی۔

” کیا بدتمیزی ہے۔”

غصّے سے بڑبڑاتے ہوئے اس نے جیسے ہی چہرہ اُٹھا کر سامنے بائیک پر بیٹھے ان دونوں لڑکوں کو دیکھا کہ تبھی فضاء میں گولی کی آواز گونجی۔ درختوں پر بیٹھے پرندے شور مچاتے ہوئے فضاء میں اُڑتے چلے گئے۔ شاید رو رہے تھے۔ یکدم ماحول میں شور اُٹھا تھا اور پھر ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ سناٹا۔۔۔ موت کا سا سناٹا۔

” موت کی آغوش میں یوں بھی کھو جاتے ہیں

پلکیں جھکاتے ہیں اور گہری نیند سو جاتے ہیں “

۔*********۔

تیزی سے کوریڈور سے گزرتا وہ اس روم کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ کانپتے ہاتھوں سے ہینڈل تھام کر آگے کو دھکیلا، دروازہ کھلتا چلا گیا۔ سامنے ہی وہ بلب کی روشنی میں اکیلی اسٹریچر پر لیٹی اپنی آخری آرام گاہ میں اُترنے کا انتظار کر رہی تھی۔ بلاج دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتا اس کی جانب بڑھا۔

” بس آ رہی ہوں بابا ٹریفک میں پھنس گئی تھی۔”

بلاج نے اس کے چہرے کو دیکھا۔ جہاں ماتھے پر گولی کا نشان تھا۔ ماتھے پر گولی لگنے کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ چکی تھی۔

بلاج نے دھیرے سے اس کے ماتھے کو چھوا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو وہ اس سے بات کر رہی تھی اور اب آنکھیں بند کیے ایسے لیٹی تھی جیسے اب اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔

” تم پھر اداس ہو آخر چل کیا رہا ہے تمہارے دماغ میں؟ “

اسے اپنی آواز آتی سنائی دی۔ کل ہی تو وہ اس کے چہرے پر

چھائی اداسی کو دیکھتے ہوئے خفگی سے پوچھ رہا تھا اور وہ کہہ رہی تھی۔۔۔

” نہیں میں اداس نہیں ہوں بلکہ اب تو بہت خوش ہوں اب اگر موت بھی آجائے تو غم نہیں۔”

” بکواس نہ کیا کرو۔۔”

اب کے اپنی جھنجھلاتی ہوئی آواز سنائی دی۔ لیکن سامنے لیٹی لڑکی نے شاید بہت اچھے سے اس کی بات پر کان دھرے تھے کہ اب وہ بکواس کرنا تو دور کچھ اچھا بھی نہیں بول رہی تھی۔

” اُٹھو ایسے کیوں لیٹی ہو اُٹھو۔”

یاسمین کے چہرے پر جھکا وہ پیار سے اس کے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔ بار بار پلکیں جھپکا کر وہ اس نمی کو پیچھے دھکیل رہا تھا جو ان کے دیدار میں دیوار بن رہی تھی۔

” اُٹھو اب کیوں ناراض ہو میں نے تو تمہاری ہر بات مانی ہے۔ نکاح بھی کیا تمہارے کہنے پر پھر کیوں میرے ساتھ ایسا کر رہی ہو۔”

بلاج نے اسے جھنجھوڑا مگر دوسری طرف خاموشی چھائی رہی۔ بھلا جانے والوں نے بھی کبھی پلٹ کر دیکھا ہے۔ کبھی جواب دیا ہے۔ وہ تو چلے جاتے ہیں بغیر پیچھے دیکھے، بغیر یہ جانے کہ ان کے جانے کے بعد پیچھے چھوٹ جانے والے پل پل کس اذیت سے گزریں گے۔

” ڈاکٹر بلاج !! “

پیچھے سے آتی مردانہ آواز پر بلاج فوراً سیدھا ہوا اور آنکھوں کو صاف کرتا دروازے کی طرف مڑا جہاں ڈاکٹر قدیر کے ساتھ پولیس آفیسر شبیر بھی موجود تھا۔

اس واقعے کے بعد وہاں سڑک پر سے گزرتے لوگوں نے کار میں موجود یاسمین کی لاش کو دیکھ کر فوراً پولیس کو کال کر دی تھی۔ وہاں پہنچ کر پولیس کو چیکنگ کے دوران یاسمین کی کار سے صرف ہسپتال کا کارڈ ملا تھا۔ جس پر یاسمین کا نام اور ہسپتال کا پتہ موجود تھا ساتھ ہی ہسپتال کا نمبر بھی تھا۔ جس کے زریعے سے پولیس نے فوراً ہی ہسپتال میں کال کر کے اطلاع دیتے ہوئے ایمبولینس کو بلا لیا تھا۔

” جی؟ “

” ڈاکٹر بلاج یہ ڈکیتی کا کیس لگتا ہے۔ کیونکہ آپ کی وائف کی کار سے سوائے ہسپتال کے کارڈ کے علاوہ کچھ برآمد نہیں ہوا اور بقول آپ کے اس واقعے سے تھوڑی دیر پہلے ہی انہوں نے آپ سے فون پر بات کی تھی۔”

آفیسر شبیر نے سنجیدگی سے بلاج کو دیکھتے ہوئے کہا۔ جہانگیر ملک اور ان کے گھرانے سے وہ بخوبی واقف تھا۔ اس لیے ان قاتلوں کو ڈھونڈنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا تھا۔

” مجھے بس جلد از جلد وہ قاتل اپنے سامنے چاہیں۔ وہ کون تھے اور کیوں ایسا کیا یہ پتا لگانا آپ کا مسئلہ ہے۔” بلاج خود پر ضبط کرتے ہوئے بولا۔

” آپ فکر نہیں کریں ڈاکٹر بلاج بہت جلد وہ قاتل آپ کے سامنے ہوں گے۔”

کہتے ہوئے آفیسر شبیر نے مصافحہ کیلئے بلاج کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے اس نے فوراً تھام لیا۔ دست بوسی کے بعد وہ روم سے باہر نکل گئے۔ جبکہ ڈاکٹر قدیر وہیں کھڑے اس کی ضبط سے لال انگارا ہوتی آنکھوں کو دیکھنے لگے۔ تسلی بخش جیسے سب الفاظ ختم ہو چکے تھے۔ سوائے دکھ کے اب کچھ نہ تھا کسی کے پاس۔

” سنبھال خود کو بلاج !! “

بلاج کا شانہ تھپک کر کہتے وہ خود بھی باہر چلے گئے۔ دروازہ بند ہوا اور خود پر کرتا ضبط بالآخر کھو دیا۔ پھوٹ پھوٹ کر روتا وہ وہیں اسٹریچر کے پاس بیٹھتا چلا گیا۔ یاسمین خود تو چلی گئی تھی مگر پل پل مرنے کیلئے بلاج کو چھوڑ گئی تھی۔

” بچھڑا کچھ اِس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی

اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالد میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان​

وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا​ “

(خالد شریف)

۔*********۔

عباسی ولا میں صفِ ماتم بچھ چکا تھا۔ آس پڑوس کے لوگ بھی جمع ہونے لگے تھے۔ گھر میں ماتم کا سما تھا۔ یاسمین کی میت کو ہسپتال سے گھر لے آئے تھے اور اب کفن میں لپٹی ان سب کے سامنے موجود تھی۔ فائزہ ملک قمر بیگم کے پاس تھیں جو روتے روتے بے ہوش ہوچکی تھیں۔ بڑی بیٹی کے جانے کا صدمہ ناقابلِ برداشت تھا۔

بلاج اور داؤد ظفر عباسی کے پاس موجود تھے جو بالکل سکتے میں آ چکے تھے۔ بیٹی کو ایسے رخصت کرنا پڑے گا یہ ان کے وہم وگمان میں بھی کہیں نہیں تھا۔

ادھر جسمین لبابہ کو سنبھال رہی تھی۔ خبر ملتے ہی وہ یونیورسٹی سے نکل کر سیدھا فائزہ بیگم کے ساتھ یہاں چلی آئی تھی۔

” اذان کا وقت ہو رہا ہے جس نے چہرہ نہیں دیکھا دیکھ لے پھر میت کو لے جائے گے۔”

وہاں موجود یاسمین کے رشتے داروں میں سے کسی نے کہا۔ سب اُٹھ اُٹھ کر چہرہ دیکھتے آخری دیدار کرنے لگے۔ کہ میت کو اٹھانے کا وقت آن کھڑا ہوا۔

قمر بیگم جو ہوش میں آنے کے بعد بالکل خاموش بیٹھی تھیں۔ یاسمین کی میت کو اُٹھاتے دیکھ دوڑ کر اس پر جھکی۔

” کہاں لے کر جارہے ہیں آپ سب میرے بیٹی کو؟ میری بیٹی کو تو کچھ نہیں ہوا۔ یاسمین۔۔۔میری جان۔۔۔اٹھو نا میری بچی۔۔۔ دیکھو نا اپنی ماں کی طرف۔” وہ چیخ چیخ کر رونے لگیں۔ وہاں موجود ہر آنکھ اشک بار تھی۔

” آپی آنکھیں کھولو نا۔” لبابہ چلائی۔

جسمین کیلئے لبابہ کو سنبھالنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ اس کے تو خود اپنے آنسو بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

فائزہ بیگم اور کچھ عورتوں نے قمر بیگم کو پکڑ کر پیچھے کیا جس کے بعد بلاج اور داؤد ظفر عباسی اور باقی مردوں کے ساتھ مل کر جنازے کو کاندھے پر اُٹھائے وہاں سے باہر نکل گئے۔ ان کے جاتے ہی عورتوں کے رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں اور ایک بار پھر قمر بیگم چیختے ہوئے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوچکی تھیں۔

۔*********۔

تیری خوشبو کا پتہ کرتی ہے

مجھ پہ احسان ہوا کرتی ہے

شب کی تنہائی میں اب تو اکثر

گفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے

دل کو اُس رہا پہ چلنا ہی نہیں

جو مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے

زندگی میری تھی لیکن اب تو

تیرے کہنے پر رہا کرتی ہے

اُس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھ

دل کا احوال کہا کرتی ہے

(پروین شاکر)

رات کی تاریکی اپنا جوبن لیے پوری آب و تاب سے چمک رہی تھی۔ اسی تاریکی میں وہ وجود دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے سامنے موجود اس گھر کو دیکھ رہا تھا۔ جہاں کبھی اس کی متاعِ جان رہا کرتی تھی۔

آج پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا اُسے اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اس ایک ہفتے میں ایک پل بھی ایسا نہیں تھا جس میں بلاج نے اسے یاد نہ کیا ہو۔

لوگ کہتے ہیں جانے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا مگر کوئی ان سے پوچھے جس کی پوری دنیا ہی اُس ایک شخص کے جانے سے اُجڑ جائے تو وہ کیسے جیئے؟

اگر تم زندگی گزارنے کو جینا کہتے ہو تو پھر وہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ دیکھو !! ایک اور عاشق زندہ وجود مردہ جذبات لیے کھڑا ویران آنکھوں سے اپنے محبوب کا اُجڑا آشیانہ دیکھتے ہوئے جی رہا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے اس کے دل کا آشیانہ اُجڑ چکا ہے مگر وہ جی رہا ہے۔ ریگستان میں پانی کی تلاش میں بھٹکتے اُس مسافر کی طرح جو ناکامی لیے جی رہا ہے۔۔۔

” یاسمین !! “

دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے، آنکھیں بند کیے وہ کار کی بونٹ سے ٹیک لگائے زیرِ لب بڑبڑایا۔ ہوا کے جھونکے اس کے چہرے کو چھوتے کسی اپنے کے پاس ہونے کا احساس دلا رہے تھے۔ وہ چند لمحے یونہی آنکھوں کو بند کیے کھڑا رہا کہ دفعتاً آنکھیں کھولیں۔ بائیں ہاتھ پر کسی اپنے کا لمس محسوس ہوا تھا۔ کوئی تھا جو اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لے رہا تھا۔ بلاج نے اپنے بائیں جانب چہرہ موڑ کر دیکھا۔ جہاں وہ کھڑی مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔ ہاتھ اب بھی نرم و نازک ہاتھ میں موجود تھا اور وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔

” اندر نہیں آؤ گے؟ “

” اب تم بلاتی نہیں۔” جواب میں شکوہ تھا۔

” میں بلاؤں گی تو آؤ گے؟ “

” کیوں نہیں۔”

اور وہ مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھی۔ وہاں جہاں وہ رہا کرتی تھی۔ دروازے پر رک کر بیل بجائی۔ چند لمحوں بعد ہی دروازہ کھلا سامنے داؤد تھا۔

” بلاج بھائی اکیلے آئے ہیں؟ “

اس نے بلاج کے پیچھے جھانکتے ہوئے پوچھا۔ شاید جسمین یا فائزہ ملک بھی ساتھ ہوں پر وہاں کوئی نہیں تھا سوائے بلاج کے۔

” اکیلے۔۔۔” وہ دھیرے سے بڑبڑایا ساتھ ہی اپنے ارد گرد دیکھا جہاں کوئی نہیں تھا۔ بلاج نے گہرا سانس لیتے ہوئے سر جھٹکا۔ تو اب طے ہوا زندگی گزارنے کا بہانہ مل گیا۔ تخیل میں بنتی تصویر نگاہوں میں آنے لگی۔

” کیا ہوا اندر آئیں نا۔”

بلاج کو خاموش کھڑے دیکھ اس نے سائڈ پر ہوتے ہوئے اندر آنے کا راستہ دیا۔ بلاج خاموشی سے اندر کی جانب بڑھ گیا۔ لان سے گزر کر وہ اندرونی دروازے سے لاؤنج میں داخل ہوئے۔

” آپ بیٹھیں میں امی کو بلاتا ہوں۔” داؤد کہتا ہوا قمر بیگم کے قمرے کی جانب بڑھ گیا۔

بلاج خاموش نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا جب اپنے شانے پر کسی کا لمس محسوس کر کے پیچھے مڑا۔

” مجھے ڈھونڈ رہے ہو؟ ” وہ مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

” نہیں۔”

” پھر یاد نہیں کرتے مجھے؟ “

“نہیں۔”

” بھول گئے مجھے؟ “

” بھولتی ہی تو نہیں کہ یاد کروں۔” بلاج نے اس ہاتھ تھام کر اپنے عین دل کے مقام پر رکھا۔

” تم تو یہاں رہتی ہو جہاں داخل ہونے کا راستہ تو ہے لیکن باہر نکل جانے کا نہیں۔”

بلاج کی بات پر یاسمین کھل کر مسکرا دی۔ وہ نم آنکھوں سے اس کی مسکراہٹ کو دیکھے گیا۔

” بلاج بیٹا !! “

قریب سے آتی آواز پر وہ چونکا چہرہ موڑ کر دائیں جانب دیکھا داؤد کے ساتھ قمر بیگم کھڑی تھیں۔

” بھائی آپ بیٹھ تو جائیں۔ ایسے کیوں کھڑے ہیں؟ ” داؤد کے سوال پر اس نے پھر نگاہیں چاروں طرف گھمائی۔ وہ اب بھی اکیلا ہی کھڑا تھا اور کیوں کھڑا تھا یہ بھی بس وہی جانتا تھا۔

” بیٹھ جاؤ بیٹا۔” قمر بیگم کے کہنے پر وہ اثبات میں سر ہلاتا صوفے پر بیٹھ گیا۔ قمر بیگم اس کے سامنے جا بیٹھیں۔ داؤد ان کے قریب ہی کھڑا رہا۔

” کیسی طبیعت ہے آنٹی؟ “

بلاج نے ان کے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔جوان اولاد کے چلے جانے کے بعد بھلا ماں باپ کیسے ہو سکتے ہیں۔

” ٹھیک ہوں بیٹا۔” وہ دھیرے سے بولیں۔

” اور انکل وہ کہاں ہیں؟ “

” وہ باہر گئے ہیں کوئی کام تھا شاید۔” وہ کہہ کر خاموش ہو گئی جیسے کہنے کو کچھ بچا ہی نہ ہو۔

” اپنا خیال رکھیں آنٹی لبابہ اور داؤد کی ذمہ داری بھی آپ کے سر پر ہے۔” بلاج کی بات وہ اثبات میں سر ہلاتی یکدم رو پڑیں۔ وہ فوراً اپنی جگہ سے اُٹھ کر قمر بیگم کے سامنے گھٹنوں کے بل جا بیٹھا۔

” ایسے نہیں روئیں آنٹی۔ میں ہوں نا آپ کے پاس آپ کا بیٹا۔ آپ فکر نہیں کریں میں کبھی بھی آپ لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا۔” قمر بیگم کے آنسو صاف کرتا وہ انہیں دلاسہ دینے لگا اب سوائے دکھ اور دلاسوں کے رہ ہی کیا گیا تھا۔

” تم بہت اچھے ہو بیٹا۔”

قمر بیگم نے بلاج کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے گلے سے لگا لیا پاس کھڑا داؤد بھی پیچھے سے بلاج کے گلے لگ گیا۔ تینوں کی آنکھیں نم تھیں جو اب کم ہی خشک رہا کرتی تھی۔

۔*********۔

” کیسی ہیں؟ “

وہ تیزی سے اسٹاف روم کی جانب بڑھ رہی تھی جب پیچھے سے آتی آواز پر رک کر پیچھے مڑی۔ سکن کلر کی شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ میں ملبوس ہاتھوں کو جیبوں میں ڈالے وہ مسکراتا ہوا جسمین کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

” تم پر فرض ہے کلاس سے پہلے میرے پاس آ کر حاضری دینا؟ ” جسمین نے بھنویں اچکائیں۔

” بالکل فرض ہے جسے میں قضاء نہیں کر سکتا۔” وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا۔ بھلا شرمندگی پھر کیسے چھو کر گزر جاتی۔ جسمین نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے مڑ کر واپس چلنا شروع کر دیا۔ یوسف نے بھی اس کے ساتھ ہی قدم بڑھا دیئے۔

” بلاج بھائی اب کیسے ہیں؟ “

” ٹھیک ہیں بس خاموش ہو گئے ہیں زیادہ بات نہیں کرتے۔” بلاج کا سوچتے ہی جسمین کے چہرے پر اداسی اُتر آئی تھی چاہ کر بھی وہ اپنے جان سے پیارے بھائی کیلئے کچھ نہیں کرسکتی تھی۔

” خاموش تو ہوں گے ہی کتنا خوش تھے وہ نکاح والے دن اور اب۔۔۔” دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔ کچھ پل یونہی خاموشی سے گزرے کے وہ پھر بولا۔

” میں تو اب اپنے لیے بھی ہر نماز میں دعا کرنے لگا ہوں کہ آپ کا ساتھ ساری زندگی کیلئے ملے ورنہ میں تو مر ہی جاؤں گا۔”

آس پاس سے گزرتے ہوئے اسٹوڈنٹس کو دیکھتا وہ دھیرے سے بولا۔ جبکہ سر جھکائے چلتی جسمین نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ یہ وہ یوسف تو نہیں تھا جس نے جسمین پر ہاتھ تک اُٹھا دیا تھا۔ یہ تو کوئی اور ہی تھا جو جسمین کے سامنے کھڑا اس کے بغیر مرجانے تک کی باتیں کر رہا تھا۔

” زیادہ فیلمی ڈائلاگ مت مارو۔”

” یہ ڈائلاگ نہیں حقیقت ہے۔ جس شخص کی دنیا بس ایک انسان سے جوڑی ہو اور اگر وہ ہی بچھڑ جائے تو بندہ زندہ رہ کر کیا کرے گا۔” محبت سے جسمین کی طرف دیکھتے ہوئے وہ اس کا اپنی زندگی میں مقام بتا رہا تھا محبت کا یقین دلا رہا تھا۔

” کوئی کسی کیلئے نہیں مرتا یوسف اور پلیز آئندہ یہ بات مت کرنا۔” سخت لہجے میں کہتی وہ تیزی سے آگے بڑھ چکی تھی جبکہ وہ وہیں کھڑا اسے جاتے دیکھ زیرِ لب کہہ رہا تھا۔

” پر یوسف حیدر آپ کیلئے مر سکتا ہے جسمین ملک !! “

۔*********۔

ڈھلتی شام میں وہ بیٹھک میں موجود حقے کے کش بھرتے اپنے سامنے بیٹھے دلاور کو سن رہے تھے جو ان کے سامنے تخت پر گاؤ تکیہ سے ٹیک لگائے پارٹی میں ہونے والے ہنگامے سے آگاہ کر رہا تھا۔

” دلدار خان نے ہماری ناک میں دم کر کے رکھ دیا ہے۔ ہمارے بندوں کو لڑوا کر ہمارے ہی خلاف کرنا چاہ رہا ہے۔” وہ ہنکار بھرتے ہوئے بولے۔

” میں تو کہتا ہوں بابا سائیں اس کا بھی کام تمام کروا دیں۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔” مونچھوں کو تاؤ دیتا وہ خباثت سے مسکرایا۔

” اگر ہم نے ایسا کیا تو سب کا شک ہم پر ہی جائے گا اور ویسے بھی اُس لڑکی کے مرنے کی وجہ سے جو لوگ ہمدردی جتا رہے ہیں وہ بھی ہم پر شک کرنے لگیں گے۔”

کرخت لہجے میں کہتے ہوئے وہ حقے سے کش بھرنے لگے۔ جبکہ ان کے پاس کسی کام سے آتا بلاج چونک کر دروازے پر رکا تھا۔ باتوں سے تو یہ ہی لگا تھا گفتگو کا محور یاسمین ہے۔

” وہ آفیسر شبیر ابھی تک تو ہمارے بندوں کو پکڑ نہیں پایا تو کوئی اور ہم پر شک کیسے کرے گا۔” دلاور نے مذاق اُڑانے والے انداز میں کہا کہ تبھی ایک جھٹکے سے دروازہ کھولتا بلاج اندر داخل ہوا۔

” میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا بابا سائیں آپ اس حد تک گر سکتے ہیں۔ یاسمین کو میری زندگی سے نکالنے کیلئے آپ نے اُسے جان سے مار دیا۔”

بلاج بے یقینی سے جہانگیر ملک کو دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔ وہ تو قاتلوں کو باہر ڈھونڈتا پھر رہا تھا جبکہ وہ اس کے اپنے گھر میں موجود تھے۔

” کیا بکواس کر رہے ہو؟ “

جہانگیر ملک جو اچانک اس کی آمد پر گڑبڑا گئے تھے۔ اب سنبھل کر بولے۔ البتہ دلاور مزے سے بیٹھا ایک نئے تماشے کے شروع ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔

” بکواس !! میں بکواس کر رہا ہوں تو وہ کیا تھا جو آپ دونوں ابھی کر رہے تھے؟ یوں تو مجھے آپ کی اولاد ہونے پر پہلے بھی کوئی فخر نہیں تھا لیکن آج۔۔۔ آج مجھے شرم آرہی ہے آپ کا بیٹا ہونے پر۔”

سرخ آنکھیں لیے وہ بےبسی سے بولا۔ اب اپنے سامنے کھڑے شخص کو کیا کہتا جو باپ کے روپ میں سانپ بنا بیٹھا تھا۔ اپنی ہی اولاد کی خوشیاں نگل گیا تھا۔

” زبان سنبھال کر بات کرو۔ پتا بھی ہے کس سے کیا کہہ رہے ہو۔ ہوش میں تو ہو تم؟ ” وہ دھاڑے۔ جو وہ نہیں چاہتے تھے وہ ہو گیا تھا۔ بلاج کو بدگمان نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن اب اپنے خلاف کر بیٹھے تھے۔

” ایک بات یاد رکھے گا جہانگیر ملک !! آپ نے اُسے میری زندگی سے تو نکال دیا لیکن کبھی میرے دل سے نہیں نکال پائیں گے اور ویسے بھی اگر دشمن بھی مر جائے تو اُس کیلئے بھی دل میں نرم گوشہ پیدا ہو ہی جاتا ہے پھر وہ تو میری بیوی اور سب سے بڑھ کر میری محبت تھی۔” جتا کر کہتا وہ مڑ کر دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ یکدم رکا۔

” اور ہاں !! یہ بھی یاد رکھے گا۔ بُرائی کتنی ہی طاقتور کیوں نا ہو انجام اس کا زوال ہی ہوتا ہے۔ آپ کو بھی بہت جلد اپنے گناہوں کا حساب دینا ہوگا۔”

جہانگیر ملک کو وہیں ساکت چھوڑ کر بلاج وہاں سے فوراً باہر نکل گیا۔ جبکہ تخت پر بیٹھا دلاور مسکراتے ہوئے اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا۔

” صدقے !! “

۔*********۔

کمرے میں داخل ہو کر اس نے پوری قوت سے دروازہ بند کیا۔ دل تھا کہ ابھی پھٹ جائے گا۔ یہ انکشاف ہی اتنا تکلیف دہ تھا کہ ابھی تک وہ اس بات کو مانے سے انکاری تھا کہ اس کا اپنا سگا باپ کسی کی جان بھی لے سکتا ہے۔ بلاج کا دل چاہا ہر چیز کو تہس نہس کر دے۔ آگے بڑھ کر بیڈ کی چادر کو نوچ کر زمین پر پھینک دیا۔ کشن اور تکیے نیچے فرش پر جا گرے تھے۔

اس نے مڑ کر ڈریسنگ ٹیبل پر موجود ساری چیزیں ہاتھ مار کر نیچھے گرا دیں۔ ہر چیز نیچے گر کر فرش پر بکھرتی چلی گئی۔ مہنگے پرفیوم کی شیشیاں نیچے چکنا چور ہو چکی تھیں۔ دو منٹ میں ہی کمرے کا نقشہ بدل چکا تھا۔

” کیسے کر سکتے ہیں بابا سائیں آپ ایسا؟ مارنا تھا تو مجھے مار دیتے۔ اُس معصوم کی جان تو نہ لیتے۔”

بلاج نے سوچتے ہوئے غصّے سے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پر ہاتھ مارا جو زور دار آواز کے ساتھ چکنا چور ہو کر ماربل کے فرش پر گر چکا تھا۔

” کیا ہوا بھائی؟ “

” بیٹا؟ “

شور کی آواز سن کر اس کے کمرے کی طرف آتی جسمین اور فائزہ بیگم نے دروازے پر ہی رکتے ہوئے پوچھا۔ کمرے کی حالت دیکھتے ہی انہیں کسی گڑبڑ کے ہونے کا احساس ہو گیا تھا۔

” کچھ نہیں آپ لوگ جائیں۔”

بلاج خود پر قابو پاتے ہوئے بولا۔ چاہے کتنا ہی غصّے میں کیوں نا ہو۔ وہ کبھی اپنا غصّہ ان دونوں عورتوں پر نہیں اُتارا سکتا تھا۔

” پر ہوا کیا ہے؟ اپنے بابا سائیں کے پاس گئے تھے۔ کیا انہوں نے کچھ کہا ہے؟ ” فائزہ بیگم نے ایک اور کوشش کی جبکہ اچھے سے جانتی تھیں۔ وہ کبھی اپنی وجہ سے انہیں پریشان نہیں کرے گا۔

” امی میں نے کہا نا کچھ نہیں ہوا۔ بس زرا سا غصّہ آ گیا تھا اب ٹھیک ہوں آپ جائیں۔ جسمین لے کر جاؤ۔” کہتے ہوئے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا تاکہ ہاتھ سے نکلتا خون ان کی نظروں میں نہ آجائے۔

” چلیں امی۔”

جسمین نے فائزہ بیگم کو شانوں سے تھاما۔ فائزہ بیگم نے بھی اب کی بار کوئی بات نہ کی اور خاموش واپس پلٹ گئیں۔ ان دونوں کے جاتے ہی بلاج نے اپنا ہاتھ چہرے کے سامنے کیا جہاں سے تیزی سے خون نکل رہا تھا۔ ایک تلخ مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھولیا۔ کہیں دور سے ایک مانوس سی آواز سنائی دی تھی۔

” اپنا خیال رکھا کرو بلاج !! “

” بے وفا وقت تھا، وہ تھے یا مقدر میرا

بات جو بھی تھی بہر حال انجام جدائی نکلا “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *