Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 05)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 05)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
” ابے یہ یوسف کہاں رہ گیا؟ مجھے تو لگا تھا غصّے میں سیدھا یہاں آیا ہوگا۔”
حذیفہ دروازے پر کھڑا، کینٹین میں نظریں دوڑاتا ہوا بولا۔ جبکہ نوید اور جنید پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو کر ٹیبل پر جگہ سنبھال چکے تھے۔
” آتا ہی ہوگا تو بھی بیٹھ کر پیٹ پوجا کر لے۔” جنید نے کہتے ہوئے وہاں موجود لڑکے کو اپنے پاس بلایا۔ جو اس کے ایک اشارے پر آرڈر لینے کیلئے ہاتھ میں کاپی پین لیے دوڑا چلا آیا تھا۔
” ابے کہیں وہ پھر غصّے میں مس ہٹلر کے پاس تو نہیں پہنچ گیا۔” الفاظ منہ سے ادا ہی ہوئے تھے کہ تبھی سامنے سے مسکراتے ہوئے یوسف ان کے پاس چلا آیا۔
” خیریت تو ہے بھائی؟ اتنی بے عزتی کے بعد بھی مسکرا رہا ہے۔” جنید نے بغور اس کی مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے پوچھا کہ تبھی وہ لڑکا برگر اور فرائز لیے ان کی ٹیبل پر حاضر ہوگیا۔
” چھوٹے ایک میرے لیے بھی۔” یوسف لڑکے سے کہتا کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ وہ تینوں حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔ جب تینوں کی نظر خود پر محسوس کر کے یوسف جھنجھلا گیا۔
” کیا اُلو کی طرح گھورے جا رہے ہو۔”
” تو پھر تو ہی بتا دے ماجرا کیا ہے؟ ” نوید اسے گھورتے ہوئے بولا۔ جسمین سے معافی مانگنے والی بات یوسف نے کل رات ہی اسے فون پر بتا دی تھی۔ جس کے بعد سے نوید کی ناراضگی بھی دور ہو گئی تھی۔
” کچھ نہیں ہے۔ آخر تم لوگ جاننا کیا چاہ رہے ہو؟ ” یوسف نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
” ہم یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں۔ اتنی بے عزتی کے بعد بھی تجھے غصّہ نہیں آیا؟ “
” الٹا مسکراہٹ تو دیکھو بابے میاں کی۔” جنید کی بات حذیفہ نے بیچ میں ہی اچک لی۔
” کچھ بھی نہیں ہے تم لوگ اپنی اوور ایکٹنگ بند کرو اور مجھے سکون سے کھانے دو۔”
یوسف نے انہیں لتاڑا ساتھ ہی پاس آتے لڑکے کے ہاتھ سے برگر کی پلیٹ تھام کر اس کے ساتھ بھرپور طریقے سے انصاف کرنے لگا۔
” ویسے آج لیٹ کیوں ہوگئے؟ ” نوید نے یاد آنے پر پوچھا۔
” کچھ نہیں بس بائیک خراب ہو گئی تھی راستے میں۔” یوسف سرسری انداز میں بولتا واپس پلیٹ پر جھک گیا۔
” ویسے مس جسمین نے تجھے پاس کیسے کر دیا؟ ” کل سے مچلتا ذہن میں سوال اب کے جنید کی زبان پر آ ہی گیا۔
” جاکر مس جسمین سے ہی پوچھ لے۔”
جسمین کے نام پر امڈ آنے والی مسکراہٹ کو بروقت دبا کر وہ دانت پیستے ہوئے بولا اور اٹھ کر تیزی سے کینٹین سے باہر نکل گیا۔ مزید ان کے ساتھ بیٹھنا پیروں پر خود ہی کلہاڑی مارنے کے برابر تھا۔
” دلا دیا نا غصّہ اُسے۔” نوید نے رکھ کر جنید کے سر پہ ایک ہاتھ مارا۔ جس پر جنید اسے گھوری سے نوازتا اپنا سر سہلا کر رہ گیا۔
۔*********۔
یونی سے واپس آنے کے بعد جسمین کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے اپنے کمرے میں چلی آئی تھی۔ کافی دیر سونے کی کوشش کرتی وہ بےچینی سے کمرے میں لیٹی کروٹیں بدل رہی تھی۔ آنکھیں بند کرتے ہی یوسف کی وہ جزبے لٹاتی نظریں بار بار اس کے ذہن کے پردے پر اُبھر رہی تھیں۔ جنہیں جھٹک کر وہ کچھ دیر آرام کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔
” اُف!! ” تھک ہار کر وہ اُٹھ بیٹھی۔
” کیا مصیبت ہے۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ مجھے یوسف سے اس بارے ميں بات کرنی ہوگی۔ مگر کہوں گی کیا؟ اُس نے بھی تو ابھی کچھ نہیں کہا یا شاید میں ہی کچھ غلط سوچ رہی ہوں۔ ہاں شاید ایسا ہی ہے میں ہی بلاوجہ سر پر سوار کر رہی ہوں۔”
خود کو دھوکہ دیتی وہ ایک بار پھر یوسف کی نظروں کو جھٹلاتے ہوئے خود کو مطمئن کرنے لگی۔
” میں۔۔ میں اب اُس سے دور ہی رہوں گی۔ ہاں یہ ٹھیک ہے۔ جب میں اُسے کچھ بولوں گی ہی نہیں تو وہ بھی مجھ سے الجھے گا نہیں۔”
خود سے بڑبڑاتی وہ بیڈ پر پڑا اپنا دوپٹہ اُٹھا کر اچھے سے اوڑھتی کمرے سے باہر نکل گئی۔ اب جب نیند آنی ہی نہیں تھی تو کیوں نہ فائزہ بیگم کا ہی کچھ کام میں ہاتھ بٹا دیا جائے۔
۔*********۔
وقت کا کام ہے گزر جانا اور وہ پر لگا کر تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔ جسمین نے یوسف کی حرکتوں پر ٹوکنا چھوڑ دیا تھا۔ کچھ جسمین کی یوسف کیلئے ناپسندیدگی بھی تھی۔ کچھ ان کے مابین یوسف کے جزبات بھی۔
جہاں یونی کے پہلے دن سے وہ یوسف کے رویے سے اُسے ناپسند کرتی تھی۔ وہیں اب یوسف کے جزبے لٹاتی نظروں سے پریشان رہنے لگی تھی۔
جسمین کو دیکھتے ہی جو چمک اس کی آنکھوں میں در آتی تھی۔ وہ کسی اور کو دکھے یا نہ دکھے پر جسمین کو ضروری نظر آجاتی تھی۔
دوسری طرف یوسف تھا۔ جو یونی کے پہلے دن سے ہی جسمین کی طرف کھینچا جا رہا تھا۔ وہیں وہ خود کو جھٹلاتا اب مکمل طور پر اس کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ جسمین کو سوچنے لگا تھا۔ اُسے دیکھتے ہی اپنی نظریں نیچے کر لیتا۔ کہیں دل میں چھپا چور آنکھوں سے عیاں نہ ہو جائے۔ مگر چور تو پکڑا گیا تھا۔ جو خود چیخ چیخ کر اپنے ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔
وہ جو خوبصورتی اور وجاہت میں اپنی مثال آپ تھا۔ وہ ایک قابلِ قبول سی صورت والی کے عشق میں گرفتار تھا۔
” پہلی نظر نے جو تصورِ عشق سے نوازا ہے
رہائی نہیں اس میں کوئی۔۔۔ بس گہرائی تک اُتر جانا ہے “
۔*********۔
” یوسف !! “
وہ چاروں اس وقت کلاس میں بیٹھے لیکچر سن رہے تھے۔ جب نوید نے چہرہ موڑ کر یوسف کو دھیرے سے آواز دی۔
دونوں کہنیوں کو ٹیبل پر ٹکائے، چہرہ ہاتھوں میں دے پوری توجہ سے یوسف سامنے دیکھ رہا تھا۔ یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ توجہ لیکچر پر ہے یا لیکچر دینے والی پر۔
” ابے یوسف !! “
اب کے نوید نے اسے کندھے سے پکڑ کر ہلایا۔ جس پر یوسف جھنجھلاتا ہوا اس کی طرف مڑا۔
” کیا ہے؟ “
آواز اتنی اونچی تھی کہ جسمین جو کب سے اس کی نظروں کو خود پر برداشت کر رہی تھی موقع ملتے ہی پھٹ پڑی۔
” مسٹر یوسف حیدر آؤٹ !! ” وہ دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
کلاس میں ایک دم سناٹا چھا گیا تھا۔ جہاں پہلے سرگوشیوں میں آوازیں گونج رہی تھیں اب وہاں ایسا سکوت طاری تھا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی دھماکے کی طرح ثابت ہوتی۔
” لیکن مس۔۔۔”
” آئی سیڈ آؤٹ !! “
یوسف کی بات کاٹتے ہوئے ایک بار پھر کہا گیا۔ وہ سر جھکائے کھڑا ہو گیا۔ سب اسٹوڈنٹس حیرت سے کبھی اسے تو کبھی جسمین کو دیکھ رہے تھے۔ یہ بھی پہلی دفعہ تھا کہ کسی ٹیچر نے یوں یوسف کو کلاس سے باہر نکل جانے کو کہا تھا۔ ورنہ جسمین سے پہلے تک وہ ہر ٹیچر کا چہیتا ہی رہا تھا۔
” شاید آپ کو سنائی نہیں دے رہا۔”
ایک بار پھر سناٹے میں آواز گونجی۔ یوسف دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے وہاں سے تیزی سے نکلتا چلا گیا۔
نوید نے شرمندہ سی نظر حذیفہ اور جنید پر ڈالی جو اسے بُری طرح سے گھورنے میں لگے تھے۔
” مجھے کیا پتا تھا ایسا ہو جائے گا۔”
اس نے دھیرے سے احتجاج کیا جبکہ وہ دونوں سر جھٹک کر واپس لیکچر کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
۔*********۔
وہ دستک دے کر کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی جہانگیر ملک کرسی پر بیٹھے اخبار میں موجود خبروں کو پڑھنے میں مصروف تھے۔ وہ چلتا ہوا ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
” کیا ہوا؟ “
جہانگیر ملک نے اخبار سے نظر ہٹاتے ہوئے سامنے کھڑے بلاج کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو چہرے پر سنجیدگی لیے انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔
” یہ لیں یہ وہ فائل ہے جس میں دلدار خان کے بیٹے کے سارے کرتوت درج ہیں۔”
اس کی بات پر جہانگیر ملک جو پرسکون بیٹھے تھے ایک دم سیدھے ہوکر اسے دیکھنے لگے۔
” یہ سب۔”
فائل ہاتھ میں لیے وہ ایک ایک صفحہ پلٹ رہے تھے جہاں موجود تصویر اور درج معلومات شیراز کی بد کاریوں کی گواہ تھی۔
” اس شخص کو اپنی بیٹی دینے جا رہے تھے آپ۔ وہ تو اچھا ہوا اپنے دوست کی مدد سے میں نے ساری معلومات حاصل کرلی ورنہ نہ جانے میری بہن کا کیا حال ہوتا۔” وہ ضبط کرتے ہوئے بولا۔
” اُمید کرتا ہوں اس سب کو دیکھنے کے بعد آپ اپنا ارادہ بدل دینگے، بقول آپ کے وہ میری بہن ہی نہیں آپ کی بیٹی بھی ہے۔”
جتا کر کہتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی جہانگیر ملک نے ہاتھ میں پکڑی فائل کو زور سے سامنے دیوار پر دے مارا۔ جس سے تصویریں نکل کر فرش پر ادھر اُدھر بکھر گئی تھیں۔
۔*********۔
جسمین اسٹاف روم میں داخل ہوئی تو یوسف پہلے ہی اس کی ٹیبل کے سامنے رکھی چیر پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے آرام سے بیٹھا تھا۔ اسے دیکھتے ہی جسمین کا دماغ گھوم گیا۔
” آپ یہاں کیا کر رہے ہیں مسٹر یوسف؟ ” ہاتھ میں پکڑی فائل کو ٹیبل پر پٹختے ہوئے وہ غصّے سے گویا ہوئی۔
اسے سامنے دیکھ کر یوسف بھی اس کے مقابل نظریں جھکائے کھڑا ہوگیا۔
” آپ جانتی ہیں میری غلطی نہیں تھی پھر آپ نے ایسا کیوں کیا؟ کیا آپ اب تک ناراض ہیں؟ ” وہ پوچھ رہا تھا جس پر جسمین مزید بھڑک اُٹھی۔
” ناراض !! میں بھلا آپ سے کیوں ناراض ہونے لگی؟ آپ کوئی مونٹیسوری کے بچے نہیں ہیں۔ جن کو ناراضگی دکھا کر ہوم ورک کروایا جائے۔”
” تو پھر آپ نے مجھے کلاس سے کیوں نکالا؟ ” اب کے ضبط سے لال ہوتی نگاہیں اُٹھا کر جسمین کو دیکھا۔
اس کی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر جسمین کو وہ دن شدت سے یاد آیا۔
وہ جو یوسف کی نظروں سے تنگ آ کر باز پرس کرنا چاہتی تھی۔ اس کے بدلتے رویے کا پوچھنا چاہتی تھی۔ اب خاموش کھڑی تھی۔ سارے الفاظ زبان پر آکر دم توڑ گئے تھے۔ جسمین نے فوراً اپنی نظریں جھکا لیں۔
” میرے ضبط کا مزید امتحان مت لیں۔” غصّے سے کہتا وہ وہاں رکا نہیں تھا۔
اس کے جاتے ہی گہرا سانس لے کر خود کو پرسکون کرتی جسمین فائل اُٹھا کر وہیں چیر پر بیٹھ گئی۔ ابھی اور بھی بہت کام تھے جو مکمل کرنے تھے۔
