Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq (Episode 11,12)

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

” بلاج رکو !! “

بلاج جو ہسپتال کے کوریڈور میں چلتا اپنے روم کی طرف جا رہا تھا پیچھے سے آتی نسوانی آواز پر ایک دم رکا۔ وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی اس تک آئی۔

” اب چلو۔” مسکرا کر کہتی وہ اس کا ہاتھ پکڑ چکی تھی۔

” یاسمین کیا کر رہی ہو کوئی دیکھ لے گا۔”

بلاج نے گھور کر اسے دیکھا ساتھ ہی ہاتھ چھڑوانے کی ہلکی سی کوشش کی جس پر یاسمین کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔

” جب دل نہیں کر رہا ہاتھ چھڑوانے کا تو کوشش کیوں کر رہے ہو؟ “

” تم نا۔۔۔روم میں چلو کوئی آجائے گا۔” کہنے کے ساتھ ہی وہ یاسمین کا ہاتھ پکڑے اپنے روم میں لے آیا۔

” بیٹھ جاؤ۔” کرسی کی طرح اشارہ کرتا وہ خود بھی بیٹھ چکا تھا۔

” تم گھر والوں سے کب بات کرو گے؟ ” اب کے وہ منہ پھیلائے اسے گھور رہی تھی۔ بلاج مسکرا دیا۔

” ڈاکٹر یاسمین عباسی !! یہ کوئی مسئلہ کشمیر نہیں جو تم اتنا پریشان ہو رہی ہو۔”

” تمہارے گھر والے خاندان کی کسی لڑکی سے تمہاری شادی کر دینگے اور تم بول رہے ہو یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔” بلاج کی بات پر وہ دانت پیس کر بولی۔

” یار ابھی مجھ سے بڑے دو بھائی اور ہیں کیسے بات کروں ابھی بابا سائیں سے؟ ” بلاج نے اسے سمجھانا چاہا پر شاید آج وہ سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھی۔

” تم۔۔۔ تم بس اپنے بھائیوں کی شادی کا انتظار کرتے رہو اور میرے گھر والے میری کہیں اور شادی کرا دینگے۔ بلکہ جب تم میں اتنی ہمت نہیں کے میرا ہاتھ تھام سکو تو اظہارِ محبت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اپنے جزبات کو دل میں ہی رکھتے۔ مجھے یوں حسین خواب نہ دکھاتے جن کی تعبیر نہیں۔”

غصّے سے اسے سناتی یاسمین جانے کیلئے مڑی ہی تھی کہ بلاج فوراً کرسی سے اُٹھ کر اس کے پاس آیا۔

” ہوگیا تمہارا؟ “

شانوں سے تھام کر وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا پوچھ رہا تھا۔ یاسمین نے نظریں نیچے جھکا لیں۔

” تین سال سے اس ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں۔ تین سال سے تم مجھے جانتی ہو۔ اگر ہمت نہ ہوتی تمہارا ہاتھ تھامنے کی تو کبھی تم سے اظہار نہیں کرتا۔ ہم مچیور انسان ہیں۔ ٹین ایجرز کی طرح بیہو مت کرو۔”

” لیکن اگر تمہارے بابا سائیں نہیں مانے تو؟ ” یاسمین نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔

” ایک مرد صرف اپنے سے جڑی ہوئی عورتوں کی وجہ سے مجبور ہوتا ہے۔ میری ماں بہن کو کوئی اعتراض نہیں۔ تم سے اظہار کرنے سے پہلے ہی میں نے اُن کو تمہارے بارے میں بتا دیا تھا۔ باقی بابا سائیں کی فکر مت کرو۔ وہ نہ بھی مانے تو پھر بھی میں تم سے ہی شادی کروں گا۔ سمجھی؟ ” بلاج کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

تین سال سے وہ ایک ساتھ تھے۔ ایک تعلق میں تھے پر اب اس تعلق کو وہ نام دینا چاہتی تھی ایک مقام دینا چاہتی تھی۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی کچھ خوابوں کی تعبیر نہیں ہوتی، کچھ رشتوں کا مقام نہیں ہوتا۔ کچھ رشتے بے نام ہی رہتے ہیں بے مقام ہی رہتے۔

۔*********۔

وہ تینوں اس وقت جنید کے گھر پر موجود تھے۔ جو ماں کے سامنے چار پائی پر بیٹھا ان کی جھڑکیاں سن رہا تھا۔ ساتھ ہی ایک قہر آلود نظر ان تینوں پر ڈالتا جن کے دانت اندر جانے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔

” ارے ان تینوں کو دیکھ کتنے پیارے بچے ہیں اور ایک تو ہے۔ جسے زرا گھر کی فکر نہیں اللّٰه نے بھی ایسی نالائق اولاد میرے ہی نصیب میں لکھی تھی۔”

ریحانہ بیگم نے روٹی بیلتے ہوئے کچن کی کھڑکی سے جھانک کر کہا۔ دل تو کر رہا تھا ہاتھ میں پکڑا بیلن کھڑکی کے سامنے بیٹھے اپنی نالائق اولاد کے سر پر دیں ماریں۔

” میں نے کہا نا موبائل سائلنٹ پر تھا۔ آپ کی کال کا پتا نہیں چلا اور آپ نے منگوا تو لیا پاپا سے سودا۔” جنید جھنجھلا اُٹھا۔

” ویسے دن بھر اس موئے موبائل سے چمٹا رہتا ہے تب تجھے بڑا پتا ہوتا ہے۔ کس کا فون، کس کا میسج لیکن گھر سے جب کوئی فون کرے تو تیرے اس موبائل کو موت پڑ جاتی ہے۔” کھا جانے والی نظروں سے جنید کو گھورتے ہوئے روٹی اُٹھا کر اس کے سامنے لاکر رکھی۔ ان دونوں ماں بیٹے سے بے نیاز وہ تینوں سامنے کھانا دیکھ کر فوراً ٹوٹ پڑے تھے۔

” اللّٰه کرے تم کمینوں کو ہضم نہ ہو۔ میری بد دعا لگ جائے۔” جھگڑالو عورتوں کی طرح انہیں کوستا وہ دانت پیس کر بولا۔ جبکہ یوسف نے منہ کی طرف جاتا ہاتھ روک کر اسے گھورا اور ہاتھ میں پکڑا نوالہ اس کے منہ میں ٹھوس دیا۔

” دیکھ رہی ہیں آنٹی کھانے بھی نہیں دے رہا۔” نوید نے شکایت لگانے والے انداز میں کہا۔

ریحانہ بیگم غصّے سے جنید کو گھورتی فاروق میاں کو کھانا دینے چلی گئیں۔ ان کے جاتے ہی سب کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ سوائے جنید کے جس کا سارا دھیان یوسف پر تھا۔

” یوسی آخر تجھے ہو کیا گیا ہے؟ “

” کیا مطلب؟ ” کھانے سے ہاتھ روک کر یوسف نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

” کل تو مس جسمین کو بائیک پر لے کر کہاں گیا تھا؟ ” جنید کے سوال پر جہاں نوید اور حذیفہ نے چونک کر اسے دیکھا وہیں یوسف کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔

” واقعی یوسف؟ ” دونوں نے بے یقینی سے پوچھا۔

” میں انہیں گھر چھوڑنے گیا تھا لانگ ڈرائیو پر نہیں لے کر گیا۔” ناگواری سے کہتا وہ واپس پلیٹ پر جھک گیا۔ البتہ وہ تینوں ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر رہ گئے۔

” وہ عام سی شکل و صورت کی، ایسا بھی کیا ہے مس جسمین میں کہ تو نے اپنی عقل ہی بیچ کھائی؟ ” جنید کی بات پر اس نے نظریں اُٹھا کر تینوں کو سنجیدہ نظروں سے دیکھا پھر ٹھنڈے ٹھار لہجے میں گویا ہوا۔

” تمہارے پاس وہ نگاہ نہیں جس سے میں اُنہیں دیکھتا ہوں میرے لیے وہ دنیا کی حسین ترین لڑکی ہیں۔”

کھانے سے ہاتھ کھینچتا وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ تینوں حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔ جو کبھی یونی میں لڑکیوں کے کسی کام کی بھی تعریف نہیں کرتا تھا۔ آج وہ قابلِ قبول سی صورت والی لڑکی کو حسین کہہ رہا تھا۔

یوسف اُٹھ کر باہر چلا گیا جب کچھ دیر بعد ریحانہ بیگم ہاتھ میں ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوئیں۔

” یوسف کہاں گیا؟ “

” وہ امی اُسے کچھ کام تھا۔” جنید فوراً بولا۔

” کام تھا یا تم نے کچھ کہا ہے؟ “

ریحانہ بیگم کی بات پر تینوں خاموش ہی رہے۔ وہ ایک نظر تینوں کے جھکے سر پر ڈالتیں کمرے کے ساتھ ہی بنے کچن میں چلی گئیں۔

۔*********۔

رات کے پہر وہ غصّے سے کھولتے ہوئے اپنے کمرے میں ادھر سے اُدھر ٹہل رہی تھی۔ یونی سے آنے کے بعد سے اسے صرف یوسف کی کال کا انتظار تھا تاکہ اُسے کھری کھری سنا سکے۔

پر نہ تو اُس نے کال کری اور نہ ہی شاید کوئی ارادہ رکھتا تھا۔

” تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں یوسف !! بہت تم نے تماشا دیکھا دیا اب مجھے یونی کی انتظامیہ سے بات کرنی پڑے گی۔”

خود سے بڑبڑاتی وہ بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی۔ پاس پڑا موبائل اُٹھا کر دیکھا جو خاموش پڑا تھا۔

” بس اب کل صبح دیکھنا تم میں کیا کرتی ہوں۔”

سوچتے ہوئے موبائل سائڈ پر رکھ کر وہ سونے لیٹ چکی تھی۔ پر کون جانے آنے والا کل زندگی میں کیا رنگ لانے والا تھا۔ کون جانے۔۔۔

بسا لینا کسی کو دِل میں ، دِل ہی کا کلیجہ ہے

پہاڑوں کو تو بس آتا ہے جل کر طور ہو جانا

۔*********۔

صبح ہوتے ہی جسمین یونیورسٹی کیلئے تیار ہو کر نکل چکی تھی۔ ڈرائیور کو جلدی چلنے کی ہدایت دیتی وہ گاڑی سے باہر دیکھنے لگی۔ آج اس نے یوسف کو سنانے کی اور انتظامیہ کو بتانے کی ٹھان لی تھی۔ چاہے جو بھی ہو جائے اب یوسف کو مزید آگے نہیں بڑھنے دے گی۔ وہ ان ہی سوچوں میں گم تھی کہ تبھی ڈرائیور کی آواز پر چونکی۔

” بی بی جی آپ کی یونی آگئی۔”

” جی ٹھیک ہے۔”

اپنا بیگ اُٹھاتی وہ گاڑی سے باہر نکل گئی۔ پارکنگ ایریا سے گزر کر وہ ابھی کوریڈور کی طرف جانے ہی لگی تھی کہ اپنی بائیک پر بیٹھا یوسف یونی کہ اندر داخل ہوا۔ بائیک کی آواز پر جسمین نے مڑ کر پیچھے دیکھا جہاں یوسف بائیک سے اُتر کر ادھر ہی آ رہا تھا۔

” کیا ہوا ادھر کیوں کھڑی ہیں؟ ” عین جسمین کے سامنے رکتے ہوئے گویا ہوا۔

” آپ نے میرا نمبر کیوں لیا تھا؟ ” دانت پیستے ہوئے پوچھا۔

” اوو !! ” ہونٹوں کو گول کر کے وہ زرا آگے کو جھکا۔

” آپ میری کال کا انتظار کر رہی تھیں؟ ” سوال تھا یا میزائل جسمین کو آگ لگا گیا۔

” اننف !! بہت ہوگیا مسٹر یوسف حیدر کافی دنوں سے آپ کی بدتمیزی برداشت کر رہی ہوں۔ لیکن اب میں آپ کی شکایت انتظامیہ سے کروں گی۔” غصّے سے کہتی وہ جانے لگی تھی کہ تبھی یوسف نے دوپٹے کا پلوں پکڑ کر روکا۔

سرخ رنگ کے شلوار قمیض پر سیاہ چادر لیے وہ قابلِ قبول سی لڑکی، جو کل تک اسے دنیا کی حسین ترین لڑکی لگتی تھی۔ اس وقت اسے زہر لگ رہی تھی۔

” کیا کہیں گی انتظامیہ سے؟ ” اب کے یوسف نے غصّے سے پوچھا۔ پر اس بار جسمین ڈری نہیں تھی۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کر جواب دیا۔

” یہی کہ تم مجھے ہراس کر رہے ہو۔”

” جھوٹ !! جھوٹ ہے یہ آپ جانتی ہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ کیا میری موجودگی سے آپ کو کچھ غلط محسوس ہوا؟ کبھی آپ پر غلط نگاہ ڈالی؟ نہیں آپ بھی جانتی ہیں میں نے کبھی ایسا نہیں کیا اور کسی پر یوں تہمت لگانا کتنا بڑا گناہ ہے جانتی ہیں نا آپ۔”

شانوں سے تھام کر اپنے قریب کرتا وہ غرایا۔ اس اچانک کے ردِعمل سے جسمین کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے ہی اٹک کر رہ گیا۔

” اب کیوں خاموش ہوگئیں؟ بولتی کیوں نہیں کچھ؟ ” یوسف نے اسے جھنجوڑا۔

” تم بس مجھ سے دور رہو میں کسی کو کچھ نہیں کہوں گی۔” خود کو چھڑواتی وہ دھیرے سے بولی۔

” کیوں دور رہوں؟ کیا آپ نہیں جانتی میں کیا چاہتا ہوں؟ کیا سوچتا ہوں؟ ” یوسف نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا۔

” دیکھو یوسف چھوڑو کوئی دیکھ لے گا۔” اس کی بات کو نظر انداز کرتی جسمین ارد گرد دیکھنے لگی۔

” ٹھیک ہے آپ چاہتی ہیں آپ سے دور رہوں تو ٹھیک ہے۔ میں ایک بار سیٹل ہو جاؤں جاب لگ جائے پھر سیدھا گھر آؤں گا آپ کا ہاتھ مانگنے۔”

اپنی بات کہہ کر وہ پیچھے ہٹا گویا اُسے جانے کا راستہ دے رہا ہو پر جسمین وہیں کھڑی ساکت نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ کیا کہہ گیا تھا۔

” تم۔۔۔ تم ہوش میں ہو؟ ” وہ چیخی۔

” آہستہ بولیں میں نہیں چاہتا کوئی باتیں بنائے۔” یوسف نے ٹوکا۔

” کیوں؟ کیوں آہستہ بولوں؟ تم جانتے بھی ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟ ” جسمین بےبسی سے بولی۔

وہ کیا سوچ کر آئی تھی اور کیا ہو رہا تھا۔ اسے لگا تھا اس کی دھمکی پر یوسف پیچھے ہٹ جائے گا پر وہ تو سامنے ڈٹ کر کھڑا تھا۔

“میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔” یوسف نے جتاتی نظروں سے اسے دیکھا۔

” دیکھو تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔ ” جسمین نے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے اسے سمجھانا چاہا۔

“میں اُن بےغیرت مردوں میں سے نہیں جو اپنی محبت کو کسی اور کیلئے چھوڑ دوں۔ آپ کو میری زندگی میں ہی آنا ہے۔”

اگر جسمین کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس اظہارِ محبت پر خوشی سے جھوم اُٹھتی۔ آخر یونی کی کون سی ایسی لڑکی تھی جو اس حسین وجمیل مرد کے منہ سے اظہارِ محبت نہ سننا چاتی تھی؟ پر مقابل جسمین تھی جو خوف سے لرز رہی تھی۔

” یوسف تم۔۔۔”

” بس مجھے کچھ نہیں سننا آخر ہے ہی کیا میرے پاس ایک بیمار ” باپ ” اور ایک ” آپ “۔۔۔ اس لیے چھوڑنے کی بات مت کرے گا۔”

جسمین کی بات کاٹ کر کہتا، وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا نکل گیا۔ جبکہ وہ وہیں ساکت کھڑی اسے جاتے دیکھ رہی تھی۔

“عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے

پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے”

(اکبرالہ آبادی)

۔*********۔

دن تیزی سے گزرتے جا رہے تھے۔ یونی میں ایگزامز کی تیاری زوروشور سے جاری تھی۔ اکثر اسٹوڈنٹس کتابوں میں سر دیئے کبھی لائبریری، کلاس حتیٰ کہ یونی کے گراؤنڈ میں بھی پڑھتے ہوئے پائے جاتے۔ ایسے میں وہ چاروں بھی ہر موج مستی کو سائڈ پر رکھ کر پوری طرح سے پڑھائی میں مشغول ہو چکے تھے۔

اُس دن کے بعد سے یوسف نے جسمین کے سامنے سے گزرنے سے بھی گریز کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ طے کر چکا تھا۔ اب جب تک وہ کسی قابل نہیں ہوجاتا تب تک جسمین کے پاس سے بھی گزر کر نہیں جائے گا۔

دوسری طرف جسمین تھی جو یوسف کے اس گریز پر شکر ادا کرتے نہیں تھکتی تھی۔ دل میں اکثر یہ خیال بھی آتا تھا کہ یونیورسٹی چھوڑ چھاڑ کر گھر پر ہی بیٹھ جائے تاکہ یوسف کے دماغ سے جسمین کا خیال بھی نکل جائے پر اُس سرپھرے سے کوئی اُمید نہیں تھی۔ کیا پتا غصّے میں اس کے گھر ہی پہنچ جائے۔

ان ہی باتوں کو سوچتے ہوئے اس نے یونیورسٹی چھوڑنے کے خیال کو ہی ترک کر دیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ یوسف وقتی کشش کا شکار جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوجائے گی۔ پر کون جانے یہ وقتی کشش کس قدر شدت اختیار کر جائے گی۔۔۔

۔*********۔

وہ کمرے میں بیٹھا یونی جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ آج اس کا تیسرا پیپر تھا۔ جس کیلئے وہ جلدی جلدی تیار ہوکر اپنا بیگ اُٹھاتے ہوئے حیدر صاحب کے کمرے میں چلا آیا۔ آنکھیں بند کرے وہ بیڈ پر لیٹے تھے۔

بڑھتی عمر اور مسلسل طبیعت خراب کے باعث بہت کمزور ہو چکے تھے۔ جس کی وجہ سے یوسف کی پریشانی دن بدن بڑھتی جارہی تھی۔ اکثر وہ چیک اپ کے لیے ڈاکٹر کے پاس بھی لے جاتا۔ جن کا ہر بار یہ ہی کہنا ہوتا کہ حیدر صاحب بالکل ٹھیک ہیں یہ کمزوری ان کی بڑھتی عمر اور اٹیک کے باعث ہے۔ جس کا علاج صرف احتیاط ہے۔

” ابو !! “

یوسف نے دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی۔

” ابو میں یونی جا رہا ہوں۔” وہ پھر بولا مگر حیدر صاحب ویسے ہی لیٹے رہے۔ یوسف ایک دم پریشان ہوکر آگے بڑھا۔ وہ تو ہلکی سی آواز پر بھی چونک کر اُٹھ جاتے تھے اور آج اس کے آواز دینے پر بھی آنکھیں نہیں کھول رہے تھے۔

” ابو اُٹھ جائیں ابو۔”

پاس پہنچ کر یوسف نے کندھے سے پکڑ کر ہلایا کہ تبھی حیدر صاحب کی گرد بےجان ہوتی دائیں جانب ڈھلک گئی۔ یوسف فوراً پیچھے ہٹا۔ حیدر صاحب پر نظریں جمائے وہ بے یقینی سے دیکھ رہا تھا۔ ساکت وجود کے ساتھ۔

” ابو !! “

لب دھیرے سے ہلے کہ یکدم جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔ رفتا رفتا ڈھنڈا پڑتا وجود، اس سے کھڑے رہنا مشکل ہوگیا۔ خوف سے حیدر صاحب کو دیکھتا وہ دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتے ہوئے آگے بڑھا۔

” ابو اُٹھیں ابو۔” اس نے پھر پکارا مگر۔۔۔

بے جان پڑے وجود میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔ یوسف وہیں ان کے بیڈ کے سرہانے گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گیا۔

” ابو اُٹھ جائیں نا۔ دیکھیں میرا پیپر ہے آج۔”

معصوم بچوں کی طرح کہتے ہوئے اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک بار پھر حیدر صاحب کو ہلایا۔

” ابو ابو اُٹھیں۔ اُٹھتے کیوں نہیں؟ میں اکیلا کیا کروں گا۔ اُٹھیں۔۔۔ اُٹھیں ابو۔”

حیدر صاحب کے بے جان وجود کو جھنجوڑتا وہ چھ فٹ کا مرد بلک بلک کر رو رہا تھا۔ گھر کا درو دیوار اس کی سسکیوں سے گونج رہا تھا۔ پر اب وہاں ایسا کوئی نہیں تھا جو کسی چھوٹے بچے کی طرح اسے اپنی آغوش میں لے کر چپ کرواتا۔ یہ غم اسے تنہا ہی اُٹھانا تھا اور شاید ساری زندگی اُٹھانا تھا۔

” ابوووو !! “

۔*********۔

کلاس میں کھڑی وہ بار بار گھڑی میں وقت دیکھ رہی تھی۔ پیپر شروع ہوئے پندرہ منٹ گزر چکے تھے۔ کلاس روم میں سب ہی اسٹوڈنٹ موجود تھے سوائے یوسف کے جو اب تک وہاں پہنچا نہیں تھا۔

“حد ہے لاپرواہی کی۔ پیپر شروع ہوئے پندرہ منٹ سے اوپر ہوگئے اور وہ جناب اب تک نہیں آئے۔”

جسمین بڑبڑائی۔ نگاہیں بار بار دروازے کی طرف اُٹھتی پھر خود ہی مایوسی سے جھک جاتیں۔

عجیب بےچینی ہو رہی تھی۔ یوسف اپنی پڑھائی کو لے کر اتنا غیر زمہ دار تو ہر گز نہیں تھا۔ بے وجہ تو وہ کبھی چھٹی نہیں کرتا تھا پھر آج کیوں؟ وہ ان ہی سوچوں میں گم تھی جب نوید کی آواز پر چونک اُٹھی۔

” مس جسمین ابھی تک یوسف نہیں آیا۔ ایک کال کر لوں؟ ” نوید نے اجازت چاہی۔ پریشانی اس کے چہرے سے ہی عیاں ہو رہی تھی۔

” ٹھیک ہے کلاس کے باہر جائیں۔”

پیپر کے بیچ سے اُٹھ کر جانے کی اجازت تو نہ تھی پر پھر بھی جسمین نے دے دی۔ اس کے کہتے ہی نوید اپنی جگہ سے اُٹھ کر باہر نکل گیا۔ موبائل کان سے لگائے وہ پریشانی سے اپنی پیشانی مسل رہا تھا۔

” فون اُٹھاؤ یوسی۔”

بیل مسلسل بج رہی تھی پر دوسری طرف سے شاید نہ اُٹھانے کی قسم کھا رکھی تھی۔

” ڈیم اٹ !! “

اس نے ایک بار پھر ملایا۔ بیل جاتی رہی مگر اس بار بھی کسی نے اُٹھایا نہیں تھا۔ اب اسے صحیح معنوں میں فکر ہونے لگی۔ عجیب عجیب سے خیالات ذہن میں آرہے تھے۔ جنہیں جھٹکتا وہ مسلسل رابطے کی کوشش کر رہا تھا۔

” راشد کو فون کرتا ہوں۔”

کانپتے ہاتھوں سے راشد کا نمبر ملاتا اُس کے فون اُٹھانے کا انتظار کرنے لگا۔ دوسری ہی بیل پر کال اُٹھالی گئی۔

“السلام عليكم نوید بھائی !! ” اسپیکر سے راشد کی آواز اُبھری۔

” راشد !! راشد تم ابھی کہاں ہو؟ ” بے چینی سے پوچھا۔

” گھر پر ہوں۔ کیا ہوا؟ سب ٹھیک ہے؟ ” نوید کی پریشانی بھانپتے ہوئے راشد سنجیدگی سے بولا۔

” نہیں تم ابھی کہ ابھی یوسف کہ گھر جاؤ اور دیکھ کے بتاؤ سب ٹھیک ہے نا۔”

” ٹھیک ہے میں جاتا ہوں۔”

راشد کے کہنے پر نوید وہیں کھڑا بےچینی سے انتظار کرنے لگا۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ وہ کبھی گھڑی کو دیکھتا تو کبھی کلاس روم کے دروازے کو۔

” نوید بھائی !! ” اسپیکر سے راشد کا بھیگا لہجہ اُبھرا۔ جس نے نوید کے پیروں تلے سے زمین ہی کھینچ لی۔

۔*********۔

” ایسی کیا بات ہوگئی جو یوسف ابھی تک نہیں آیا؟ “

جنید نے زرا سا جھک کر آگے بیٹھے حذیفہ سے کہا مگر جسمین کی سخت گھوری نے اس کی بولتی بند کر دی۔

” مسٹر جنید فاروق !! اب آپ کلاس سے باہر ہونگے۔”

“سوری مس !! “

جنید فوراً اپنے پیپر پر جھک گیا۔ اسے گھور کر جسمین نے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے نوید اندر آرہا تھا۔

” مسٹر نوید !! جلدی اپنی سیٹ پر بیٹھیں۔”

جسمین نے اس کے فق چہرے سے نظریں چراتے ہوئے کہا۔ کچھ غلط ہونے کے احساس نے شدت سے سر اُٹھایا تھا۔ نوید فوراً اپنی سیٹ کی طرف بڑھا۔ سیٹ پر سے پیپر شیٹ اُٹھاتا وہ جسمین کے پاس آیا۔

” یہ لیں مس۔”

” کیا مطلب؟ ” جسمین نے حیرت سے اپنے سامنے موجود خالی شیٹ کو دیکھا۔

“مجھ۔۔۔ مجھے جانا ہے مس یوسف۔۔۔ یوسف کے فادر کی ڈیتھ ہوگئی۔” اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتا وہ بمشکل بولا۔ اس کی بات پر پیچھے بیٹھے جنید اور حذیفہ بھی ایک دم اُٹھ کھڑے ہوئے۔

کلاس میں ایک دم سناٹا چھا گیا تھا۔ سب ہاتھ روکے بے یقینی سے نوید کو دیکھ رہے تھے۔ نوید فوراً کلاس سے باہر نکل گیا۔ اس کے جاتے ہی جنید اور حذیفہ بھی جسمین کی طرف بڑھے اور اپنی اپنی شیٹ تھما کر وہاں سے نکلتے چلے گئے۔ جسمین چاہ کر بھی انہیں روک نہیں سکی۔ یہ خبر سننے کے بعد اس کی اپنی حالت بھی عجیب ہونے لگی تھی۔

۔*********۔

” یوسف بھائی سنبھالیں خود کو۔ ایسے تو مت روئیں۔”

راشد خود بھی رو رہا تھا ساتھ ہی یوسف کو سنبھالنے کی کوشش بھی کر رہا تھا جس کا رونا تھم ہی نہیں رہا تھا۔ آخر تھمتا بھی کیسے یہ وقت تو ہوتا ہی ایسا ہے کہ میت کو دیکھ کر دشمن کے بھی آنسو نکل آتے ہیں۔ پھر وہ تو اس کا باپ تھا۔

” بیٹا صبر کرو۔ ہم سب نے ہی ایک دن جانا ہے یہی تو دنیا کا قانون ہے۔” راشد کے ابو نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

محلے کے اور بھی لوگ وہاں جمع ہوتے جا رہے تھے۔ کچھ لوگ میت کو غسل کے لیے لے جا چکے تھے۔ تدفین کا وقت عشاء کی نماز کے بعد کا تھا۔ جان پہچان والوں نے باہر قناتیں لگا کر قرآن خوانی شروع کروا دی تھی۔

” یوسف۔۔۔ یوسف !! “

رش کو چیرتے ہوئے وہ تینوں گھر میں داخل ہوئے سامنے ہی یوسف دیوار سے لگا بیٹھا بے آواز آنسو بہا رہا تھا۔ راشد بھی اس کے پاس ہی موجود تھا۔

وہ تینوں تیزی سے ان کی جانب بڑھے۔ یوسف جو خود پر ضبط کرنے کی کوشش کرتا بے آواز رو رہا تھا۔ ان تینوں کو دیکھتے ہی خود پر ضبط کھو بیٹھا۔ ایک دوسرے سے لپٹ کر وہ دھاڑے مار مار کر رو دیئے۔ فضاء میں چاروں کے رونے کی آوازیں گونج رہی تھی۔ ہر آنکھ ان کو روتا دیکھ کر خود بھی نم ہوچکی تھی۔

” موت کی بانہوں میں سو جاتے ہیں

اچھے لوگ بہت جلد کھو جاتے ہیں “

۔*********۔

وہ تھوڑی دیر پہلے ہی ہسپتال سے واپس لوٹا تھا اور سب کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں چلا آیا۔ ابھی وہ بیڈ پر بیٹھا سامنے لگی ایل ای ڈی پر کوئی پروگرام دیکھ رہا تھا جب جسمین ہاتھ میں چائے کا کپ لیے کمرے میں آئی۔

” بھائی چائے !! “

” ہاں لے آؤ۔” وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔ جسمین نے آگے بڑھ کر اسے کپ تھما دیا۔

” کیا ہوا؟ کچھ پریشان لگ رہی ہو۔” بلاج نے اس کے پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” نہیں تو آپ بتائیں کیسا رہا آج کا دن؟ “

جب سے یوسف کے ابو کی خبر سنی تھی تب سے ہی وہ یوسف کے بارے ميں سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی اور اب یہ ہی پریشانی اس کے چہرے سے بھی واضح ہونے لگی تھی۔ اس لیے جسمین نے باتوں کا رخ بلاج کی طرف موڑ دیا۔

” سب ٹھیک ہے بس یاسمین۔۔۔”

” کیا ہوا یاسمین کو؟ ” بلاج کے بات ادھوری چھوڑنے پر وہ پوچھ بیٹھی۔

” وہ چاہتی ہے میں بابا سائیں سے بات کروں۔” نظریں اسکرین پر جمائے اس نے سرسری سے انداز میں کہا۔

” ہاں تو کر لیں اس میں کونسی بڑی بات ہے۔” وہ کہتے ہوئے اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔ بلاج نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

” یہ تم کہہ رہی ہو؟ اچھے سے پتا ہے ابھی دلاور اور خاور بھائی بھی ہیں۔”

” وہ تو پتا نہیں کب شادی کرینگے۔ بابا سائیں نے بھی کہا مگر وہ سنتے ہی نہیں۔ اب کیا اُن کی وجہ سے آپ بیٹھے رہیں گے؟ “

جسمین کے لہجے میں نہ چاہتے ہوئے بھی جھنجھلاہٹ در آئی۔ دلاور اور خاور کی وجہ سے بلاج اپنی زندگی کی خوشیاں بھی حاصل نہیں کر پا رہا تھا۔ جبکہ دلاور اور خاور۔۔۔ جب حرام منہ لگ جائے تو حلال میں کہاں سکون ملتا ہے۔ اُن دونوں کا بھی یہی حال تھا۔ جس کے باعث وہ ہمیشہ شادی سے انکار کردیتے تھے۔ بھلا ایک کے پابند ہو کر کیسے رہ سکتے تھے۔

” تو کیا کروں؟ اچھا نہیں لگتا نا۔ اُن دونوں سے پہلے میں شادی کر لوں۔ لوگ کیا کہیں گے بڑے بھائیوں کے ہوتے ہوئے چھوٹے نے کر لی۔” چائے کا کپ اسے واپس تھماتے ہوئے بلاج بولا۔

” اب لوگ ایسی باتوں پر دھیان نہیں دیتے۔ یہ تو نصیب کی بات ہے۔ جس کی جب شادی ہو جائے۔ آپ بابا سائیں سے بات کریں۔ ویسے بھی انہیں منانے میں بھی کافی وقت لگ جائے گا۔”

بلاج کو مشہورہ دے کر وہ چائے کا کپ اُٹھاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔ جبکہ ایل ای ڈی کی اسکرین پر نظریں جمائے وہ سوچ میں غرق ہو چکا تھا۔ جہانگیر ملک کا راضی ہو جانا بھی آسان نہیں تھا۔ وہ بھی تب جب لڑکی عام سے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو۔

۔*********۔

تھوڑی دیر پہلے ہی وہ سب قبرستان سے واپس لوٹے تھے۔ ایک ایک کر کے سارے جان پہچان والے اور آس پڑوس کے لوگ اس سے مل کر جاتے جا رہے تھے۔ وہ خاموشی سے چار پائی پر بیٹھا ان کی باتوں اور دلاسوں پر اثبات میں سر ہلا رہا تھا۔ اب کہنے کو کچھ بچا ہی کیا تھا۔ قریب ہی بچھے تخت پر وہ تینوں خاموش بیٹھے ویران نظروں سے سب دیکھ رہے تھے۔ کسی کے پاس ایسے کوئی الفاظ نہ تھے جو یوسف کے درد کو ختم کر سکتے۔

” اپنا خیال رکھنا بیٹا کچھ بھی چاہیئے ہو تو راشد کو بلا لینا۔” راشد کے ابو نے کہتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ وہ بس اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔

اُن کے جانے کے بعد وہ تینوں تخت سے اُٹھ کر اس کے پاس چلے آئے۔

” یوسف !! “

وہ یونہی خاموش بیٹھا رہا۔ رونے کے باعث آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ یوں تو اس کی سیاہ خوبصورت آنکھوں میں قدرتی طور پر گلابی ڈوریں کھینچی تھیں۔ مگر اب رونے کی وجہ سے سرخ انگارا ہو رہی تھیں۔

” صبر کر ہم ہیں نا تیرے پاس۔” نوید اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ اس سے زیادہ اور کہہ بھی کیا سکتے تھے۔

” میں۔۔۔ میں اب کیا کروں؟ سب کچھ سب کچھ ختم ہو گیا۔ کچھ نہیں بچا می۔۔۔ میرے پاس۔”

سانس پھولنے کے باعث وہ اٹک اٹک کر بولا رہا تھا۔ شدتِ جذبات میں اس کا سانس ایسے ہی پھولنے لگتا تھا جس کی وجہ سے بولنے میں دقت ہوتی تھی۔

” تم۔۔۔ تم لوگ بتاؤ میں کیا کروں مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا یہ درد میں۔۔۔ میں ایسا کیا کروں کہ وہ واپس آجائیں یا میں اُن کے پاس چلا۔۔۔”

” یوسف !! ” وہ تینوں ایک ساتھ چلائے اور فوراً یوسف سے لپٹ گئے۔

” صبر کروں اب وہ واپس نہیں آسکتے نہ ہی تم اُن کے پاس جاؤ گے جب تک اللّٰه کا بلاوا نہیں آجاتا۔” حذیفہ نے اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا۔

” پر میں۔۔۔ میں اکیلے کیسے۔۔۔”

” اکیلے نہیں ہو تم ہم تینوں ہیں تمہارے پاس۔ سمجھے؟” جنید اس کی بات کاٹتا ہوا بولا کہ تبھی کمرے میں موجود یوسف کے موبائل کی ٹون بجنے کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔

” میں لے کر آتا ہوں۔” نوید اُٹھ کر کمرے میں چلا گیا جبکہ وہ دونوں بیٹھے اسے چپ کروانے کی کوشش کرنے لگے۔

۔*********۔

بیڈ پر لیٹی وہ بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی۔ دل تھا کہ کسی طرح بھی سکون میں نہیں آ رہا تھا۔ اسے رہ رہ کر یوسف کا خیال آ رہا تھا۔ بار بار اُس کے الفاظ کانوں میں گونج رہے تھے۔

” آخر ہے ہی کیا میرے پاس ایک بیمار باپ اور ایک آپ۔” پریشان ہوتی وہ اُٹھ بیٹھی۔

” کیا اور کوئی نہیں اُس کے گھر میں۔ اس وقت وہ کیا کر رہا ہوگا۔” سوچتے ہوئے اس نے سائڈ ٹیبل پر سے اپنا موبائل اُٹھایا۔

” کیا کال کروں؟ نہیں یہ ٹھیک نہیں۔”

خود سے بڑبڑاتے ہوئے اس نے انباکس کھولا جہاں یوسف کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ ابھی تک اس نے یوسف کا نمبر سیو نہیں کیا تھا اور نہ ہی سیو کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

” تعزیت ہی تو کرنی ہے ایک بار فون کر لینے میں کیا ہرج ہے۔” گہرا سانس لے کر آخر کار اس نے کال ملا ہی دی۔ بیل جاری تھی پر دوسری طرف سے کوئی اُٹھا نہیں رہا تھا۔ دفعتاً اس نے کال کاٹ کر موبائل سائڈ پر رکھ دیا۔

“یونیورسٹی میں مل کر ہی تعزیت کر لوں گی۔ ہاں یہ ٹھیک ہے۔”

سوچتے ہوئے وہ واپس سونے کیلئے لیٹ گئی۔ کچھ دیر بعد ہی وہ گہری نیند سو چکی تھی۔

۔*********۔

حیدر صاحب کے کمرے میں داخل ہو کر وہ چاروں جانب نظر دوڑا رہا تھا۔ ٹون مسلسل بج رہی تھی۔ پر فون کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ تھوڑا آگے بڑھا کہ تبھی اسے بیڈ کے قریب فرش پر پڑا موبائل بجتا ہوا نظر آیا۔ اس سے پہلے وہ آگے بڑھ کر موبائل اُٹھاتا کال کٹ گئی۔

” یوسف بھی نا۔”

بڑبڑاتے ہوئے اس نے فرش سے موبائل اُٹھا کر اون کیا۔ سامنے ہی مس جسمین کا نام جگمگا اُٹھا۔

” یہ !! ” بے یقینی سے موبائل کو گھورتا وہ کئی بار اس نام کو دھورا چکا تھا۔

” یار !! یوسی یہ کیا کر رہا ہے۔”

اس نے پریشانی سے سوچا۔ حذیفہ پہلے ہی جسمین کے گھروالوں کے بارے میں ان دونوں کو بتا چکا تھا۔ بہن کی کلاس فیلو ہونے کے باعث وہ جسمین کے بارے میں اچھے سے جانتا تھا۔

” شاید دوبارہ کال کریں۔”

نوید وہیں رک کر جسمین کی کال کا انتظار کرنے لگا۔ مگر پانچ منٹ گزر جانے کے بعد بھی کال نہ آئی تو موبائل وہیں بیڈ پر رکھ کر وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔

” کیا ہوا کس کی کال تھی؟ ” جنید نے اسے دیکھتے ہی پوچھا۔

نوید نے ایک نظر یوسف کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔ جب بھی تینوں میں سے کسی نے جسمین کا ذکر کیا تب تب یوسف چڑ جاتا تھا اور اب وہ پہلے ہی بہت دکھی تھا مزید اس کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے جھوٹ بول گیا۔

“موبائل کمپنی والوں کا تھا۔”

” تو اتنا ٹائم کیوں لگا دیا اندر؟ “

” بکواس بند کرو۔ میں کھانے کا انتظام کرتا ہوں۔ یوسف نے ویسے بھی پورا دن کچھ نہیں کھایا۔” جنید کے سوال پر چڑ کر کہتا بات ہی بدل گیا۔

۔*********۔

صبح کی روشنی کے پھیلتے ہی وہ تیار ہو کر یونیورسٹی کیلئے روانہ ہو چکی تھی۔ سارا وقت یونی میں پیپر لینے کے بعد اب وہ سکون سے سانس لیتی اسٹاف روم میں بیٹھی تھی کہ ایک بار پھر اسے یوسف کا خیال ستانے لگا۔

آج یوسف کا پیپر نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ چاروں یونی نہیں آئے تھے اور کون جانے اب آتے بھی کہ نہیں۔

” کیا ایک بار فون کر لوں۔ آخر تعزیت ہی تو کرنی ہے۔” اس نے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

” نہیں ٹھیک نہیں لگتا۔”

جہاں دل اُسے کال کرنے پر اُکسا رہا تھا وہ دماغ اسے باز رہنے پر مجبور کر رہا تھا۔

” کال کر ہی لیتی ہوں نہ جانے وہ کب تک یونی نہ آئے۔”

خود سے بڑبڑاتے ہوئے اس نے انباکس کھولا ساتھ ہی یوسف کے نمبر پر کال ملا دی۔ بالآخر دل اور دماغ کی جنگ میں جیت دل ہی ہوئی تھی۔

” فون اُٹھاؤ یوسف !! “

موبائل کان سے لگائے وہ زیرِ لب بولی کہ تبھی کال ریسیو ہوئی ساتھ ہی اسپیکر میں سے مردانہ گھمبیر آواز ابھری۔

” بےچین دل کو کیوں قرار نہیں آتا

اُن کی آواز سنے بنا اب آرام نہیں آتا “

Episode 12

” یہ دونوں کہاں جا کر مر گئے اب تک آئے کیوں نہیں؟ ” نوید کچن میں کھڑا برتن دھو رہا تھا۔ جب یوسف کو کمرے سے باہر آتا دیکھ جھنجھلا کر بولا۔

رات وہ تینوں یوسف کے گھر پر ہی رک گئے تھے۔ ساری رات جاگنے کے بعد تھوڑی دیر کیلئے ہی نوید کی آنکھ لگی تھی کہ اُٹھا تو وہ دونوں ہی غائب تھے اور اب تک واپس نہیں لوٹے تھے۔

” یار بتایا تو ہے۔ وہ دونوں آتے ہی ہوں گے جنید کو گھر سے فون آیا تھا اور حذیفہ اپنی امی اور بھائی کو گھر چھوڑنے گیا ہے۔” چاول سے بھرا برتن چولہے پر رکھ کر وہ مصروف سے انداز میں بولا۔

حذیفہ کی امی اور چھوٹا بھائی آج صبح ہی یوسف سے ملنے آئے تھے۔ جس کے بعد حذیفہ انہیں بائیک پر چھوڑنے چلا گیا تھا تاکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے دھکے نہ کھانے پڑیں۔

” حذیفہ کی تو سمجھ میں آتا ہے پر یہ جنید یہ کونسے جھنڈے گاڑنے گیا ہے جو ابھی تک نہیں لوٹا؟ ” اب وہ سارے دھولے برتن کو کپڑے سے صاف کر کے ریک میں رکھ رہا تھا۔

” وہ شاید آنٹی کو اپنے ساتھ لارہا ہو کہہ رہا تھا وہ آنا چاہ رہی ہیں۔”

یوسف نے چاولوں میں چمچہ چلاتے ہوئے کہا۔ وہ دوپہر کے کھانے کیلئے چاول گرم کر رہا تھا۔ اس کے بعد انہیں کل تیجے کی تیاری بھی کرنی تھی۔

صبح سے لوگوں کا آنا جانا لگا تھا جس کے باعث نوید ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کر پایا تھا اور یوسف اس کا تو دل ہی ہر چیز سے اُچاٹ ہو چکا تھا۔

” ٹھیک ہے اور اسے میں گرم کر لوں گا تو جا کر آرام کر ساری رات جاگتا رہا ہے۔” چمچہ یوسف کے ہاتھ سے لیتے ہوئے نوید نے اسے کچن سے باہر نکال دیا۔

یوسف خاموشی سے حیدر صاحب کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ آرام کیا کرنا تھا۔ اسے تو بس تنہائی چاہیئے تھی۔ وہ تنہائی جو اب ساری زندگی کیلئے اس کی ہمسفر بن چکی تھی۔

” کیوں مجھے اکیلا چھوڑ دیا ابو اب میں کیا کروں گا۔” سوچتا ہوا وہ بیڈ پر لیٹ گیا کہ تبھی کل رات سے بیڈ پر پڑا موبائل بج اُٹھا۔

موبائل اُٹھا کر دیکھا تو اسکرین پر جسمین کا نام چمک رہا تھا۔ بے یقینی سے دیکھتے ہوئے یوسف نے فوراً کال ریسیو کی۔ گویا یوں کہ کہیں جسمین کال ہی نہ کاٹ دے۔

” ہیلو !! “

۔*********۔

اسپیکر میں سے اُبھرتی یوسف کی آواز پر وہ ایک دم سن ہوچکی تھی۔ سارے الفاظ زبان پر آکر دم توڑ چکے۔ دو سیکنڈز پہلے وہ اس سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی پر دو سیکنڈز بعد کہنے کو جیسے کچھ تھا ہی نہیں۔

” ہیلو !! “

ایک بار پھر یوسف کی آواز ابھری جو اسے ہوش کی دنیا میں واپس لے آئی۔

” السلام عليكم !! ” جسمین نے مدہم سی آواز میں سلام کیا۔

” وعليكم السلام !! کیسی ہیں؟ “

یوسف کے پوچھنے پر جسمین پھر سے خاموش ہو گئی۔ کیسا بندہ تھا حال احوال اسے پوچھنا چاہیئے تھا اور پوچھ وہ رہا تھا۔

” ٹھیک ہوں آپ کے ابو کے بارے میں پتا چلا تھا۔ سن کر افسوس ہوا۔” اب وہ کیا یوسف سے حال احوال پوچھتی۔ اپنے عزیزو کو کھونے کے بعد انسان کیسا ہو سکتا ہے۔ اس لیے سیدھا تعزیت کرنے لگی۔

” جی !! ” اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔ چند لمحے ان کے درمیان ایسے ہی گزرے جب جسمین نے ہی سلسلہ کلام جوڑا۔

” اکیلے ہو یا کوئی ساتھ ہے؟ ” سوال پوچھتے ہوئے وہ خود بھی جھجھک رہی تھی مگر کل رات سے مچلتا سوال بالآخر زبان پر آ ہی گیا تھا۔

” نوید ساتھ ہے جنید اور حذیفہ تھوڑی دیر پہلے اپنے گھر گئے ہیں۔ ” یوسف حیران ہوتا ہوا بولا۔ آج وہ جتنا حیران ہوتا اتنا کم تھا۔ بھلا وہ کب اتنی لمبی بات چیت کرتی تھی۔

” کوئی رشتے دار وغیرہ نہیں ہے؟ “

” ابو کے ایک بھائی تھے اُن کا بھی انتقال ابو کی شادی سے پہلے ہی ہو گیا تھا اور امی ایک لوتی اولاد تھیں نانا کی اس لیے کوئی رشتے دار نہیں۔” وہ بتا کر خاموش ہو گیا۔ ماں باپ کے ذکر نے ایک بار پھر غم سے دوچار کر دیا تھا۔

” اور نانی دادی وغیرہ؟ ” ایک اور سوال۔

” نہیں ان سب کا انتقال بھی میرے بچپن میں ہو گیا تھا۔”

یوسف کی تنہائی کا سوچ کر اب کے جسمین کو حقیقتاً دکھ ہوا۔ کتنا اکیلا رہ گیا تھا وہ۔

” اچھا اب میں فون رکھتی ہوں۔ اپنا خیال رکھیے گا مسٹر یوسف۔” کہنے کے ساتھ ہی جسمین نے کال کاٹ دی اور اُٹھ کر اسٹاف روم سے باہر نکل آئی۔

دوسری طرف یوسف بیڈ پر بیٹھا موبائل کو گھورے جا رہا تھا جیسے یقین کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ کیا واقعی ابھی اس نے جسمین سے بات کری ہے۔

جبکہ کمرے کے باہر کھڑا نوید جو یوسف کی ساری باتیں سن چکا تھا۔ اب دل ہی دل میں صرف اور صرف اس کی خوشیوں کی دعائیں کر رہا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا اب کوئی طوفان اس کے جان سے عزیز دوست کی زندگی میں آئے پر کون جانے آنے والا وقت کن کن طوفانوں کو ان سب کی زندگی میں لانے والا ہے۔

۔*********۔

غم ہو یا خوشی کچھ بھی دائمی نہیں رہتا۔ وقت کی لہروں میں سب کچھ بہتا چلا جاتا ہے۔ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ پر اپنا ایک الگ مقام بنا جاتے ہیں جسے کوئی اور حاصل نہیں کرسکتا۔ ان کے جانے سے جو خلا ہماری زندگی میں شامل ہو جاتا ہے وہ کسی کے آنے جانے سے بھی بھر نہیں پاتا۔

حیدر صاحب کے جانے سے جو خلا یوسف کی زندگی میں شامل ہو گیا تھا اس کا کوئی نعم البدل نہیں تھا اور نہ ہی کبھی ہونا تھا۔ بس وقت گزرنے کے ساتھ اسے اپنے حالات سے سمجھوتہ کرنا تھا۔ اُن کے بغیر رہنے کا سمجھوتا۔۔۔

” یوسف گھر پر اکیلے رہ کر کیا کرے گا۔ آج پیپر ہے چل یونی چل۔”

نوید نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا جسے جھٹکے سے اس نے چھڑا لیا۔ وہ تینوں کافی دیر سے یوسف کے سر پر کھڑے اسے منانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جو نہ جانے کی ضد پکڑ کر بیٹھا تھا۔

حیدر صاحب کو گئے چار دن گزر چکے تھے اور ان دنوں میں وہ ایک بار بھی گھر سے باہر نہیں نکلا تھا۔ آنے جانے والوں سے مل کر وہ اپنا زیادہ تر وقت حیدر صاحب کے کمرے میں ہی گزارتا تھا۔ اُن کی چیزوں کو چھو کر بے آواز روتا رہتا تھا۔ جس کے باعث وہ تینوں اب بالکل بھی اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔

” میں نے کہا نا تم لوگ جاؤ۔ میرا دل نہیں ہے۔” صحن میں بیچھی چار پائی پر بیٹھا وہ آسمان میں نظر آتے غیر مرئی نقطے پر نگاہیں جمائے بولا۔

” یوسف ضد نہیں کر کچھ ہمارے بارے ميں بھی سوچ۔” جنید نے اسے سمجھانا چاہا۔ جس پر وہ مزید چڑ گیا۔

” تو تم لوگ جاؤ۔ کس نے روکا ہے۔”

” دیکھ یوسف بہت ہوگیا۔ بہت تو نے من مانی کر لی اب اُٹھ ورنہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں جائے گا۔”

حذیفہ کی دھمکی پر اس نے گلہ آمیز نظروں سے اسے دیکھا۔ پھر بےبسی سے اُٹھ کر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ کندھے پر بیگ لٹکائے وہ کمرے سے باہر آیا۔ اسے دیکھتے ہی وہ تینوں مسکرا دیئے۔ بالآخر حذیفہ کی دھمکی کام کر گئی تھی۔

۔*********۔

” بلاج پلیز کچھ کرو۔ میرے گھر والے میرا رشتہ دیکھ رہے ہیں۔ وہ میری شادی کسی سے بھی کر دینگے۔”

کیفے ٹیریا میں بلاج کے سامنے بیٹھی وہ بےبسی سے کہہ رہی تھی۔ آنسوں تھے کہ پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر آنے کو بیتاب تھے۔

” تمہیں کہا ہے نا کچھ نہیں ہوگا تم انہیں میرے بارے میں بتا دو میں جلد ہی اپنے گھر والوں کو تمہارے گھر لے کر آجاؤ گا۔” ٹیبل پر موجود یاسمین کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر وہ تسلی دیتے ہوئے بولا۔

” یوں رویا مت کرا کرو۔ روتی ہو تو مجھے لگتا ہے کہ میں دنیا کا سب سے کمزور انسان ہوں۔ جس کے ہوتے ہوئے بھی تمہاری آنکھوں میں آنسوں آجاتے ہیں۔”

بلاج کے کہنے پر وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔ تبھی بلاج نے ہاتھ بڑھا کر اس کی نم پلکوں کو چھوا۔

” میں بس ڈر جاتی ہوں۔” بھیگی آواز میں کہتی وہ معصوم سی یاسمین بلاج کو اور بھی پیاری لگی تھی۔

” میں ہوں نا پھر کیوں ڈرتی ہو۔ بس اللّٰه سے دعا کیا کرو کے وہ ہمیں ہمارے ارادوں میں کامیاب کر دے۔”

” کرتی ہوں۔ پر تم بھی اپنے گھر والوں سے جلدی بات کرو۔” اب کے یاسمین اسے گھورتی ہوئی بولی۔ اس کے یوں تیزی سے بدلتے مزاج پر بلاج مسکرا دیا۔

وہ بہت غیر متوقع مزاج کی مالک تھی پل بھر میں ہی اس کا مزاج بدل جاتا تھا اور یہی بات بلاج کو بڑی شدت سے اپنی طرف کھینچتی تھی۔

” اچھا اب اُٹھو ڈیوٹی ٹائم شروع ہونے والا ہے۔”

بلاج کہتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا اور یاسمین کا ہاتھ تھام کر کیفے ٹیریا سے باہر نکل گیا۔

” ہاتھ دیا تھا اس نے اپنا میرے ہاتھ میں

پھر کیوں قسمت نے چھین لیا ایک ہی وار میں

وہ تو کہتا تھا بس ایک میرا ہے وہ

پر ایک میرا ہی نہیں ہوا دیارِ یار میں “

۔*********۔

” اکاؤنٹس کے پیپر میں تو مجھے سو میں سے سو ملیں گے دیکھنا۔” جنید نے کلاس سے باہر نکل کر جوش سے کہا۔ جسے نوید نے اگلے ہی لمحے ٹھنڈا کر دیا۔

” ہاں بس فرق اتنا ہوگا دو زیرو سے پہلے ایک غائب ہو گا۔”

” شکل اچھی نہ ہو تو بات اچھی کر لینی چاہیئے۔”

جنید منہ بناتا ہوا بولا۔ جس پر وہ تینوں مسکرا دیئے۔ ابھی وہ کینٹین کی طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ ان کے ڈیپارٹمنٹ کا ایک لڑکا ان کے پاس آیا۔

” آپ چاروں کو ایڈمنسٹریٹر کے روم میں بلایا ہے۔”

” ہمیں؟ ” وہ چاروں ایک ساتھ بولے۔

” جی !! “

وہ لڑکا کہہ کر جیسے آیا تھا ویسے ہی نکل گیا۔ جبکہ وہ چاروں حیرت میں ڈوبے ایڈمنسٹریٹر ڈیپارٹ کی جانب بڑھے۔

” سر ہم اندر آجائیں؟ “

ایڈمنسٹریٹر روم کے دروازے پر کھڑے وہ چاروں اجازت طلب نظروں سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ رہے تھے۔ وہ وہاں اکیلے نہیں تھے۔ بلکہ بڑی سی ٹیبل کے گرد ان کے بائیں جانب سر وقار اور جسمین کے ساتھ ساتھ تین اور ڈیپارٹمنٹ کے ٹیچر بھی موجود تھے۔

” یس !! کم ان۔” سر دانیال نے اجازت دی۔

وہ چاروں چلتے ہوئے آگے آئے اور ان کے سامنے ادب سے با آواز بلند سلام کرکے سر جھکا کر کھڑے ہو گئے۔

” مسٹر یوسف آپ کے فادر کی ڈیتھ کا سن کر افسوس ہوا۔” شائستہ لہجے میں وہ یوسف سے مخاطب ہوئے۔

” جی سر !! ” سر جھکائے ہی وہ دھیرے سے بولا۔

” اور آپ تینوں۔۔۔ مس جسمین نے بتایا آپ کی گہری دوستی کے بارے ميں کیسے پیپر کے بیچ سے اُٹھ کر آپ یونی سے چلے گئے تھے۔” اب کے ان کا رخ اُن تینوں کی طرف تھا۔ جو سمجھ گئے تھے۔ ” آج تو شامت پکی۔”

” سر وہ۔۔۔”

” جب ہم بات کر رہے ہوں تو بیچ میں نہیں بولا کریں۔ انڈرسٹینڈ؟ ” نوید کی بات کاٹتے ہوئے انہوں نے ٹوکا۔

” جی !! ” جھکا سر مزید جھک گیا۔

” دوستی ہونا اچھی بات ہے لیکن اس کیلئے اپنا مستقبل برباد کرنا کیا ٹھیک ہے؟ ” سر دانیال نے سوالیہ نظروں سے ان تینوں کو دیکھا۔ وہ سر جھکائے خاموش کھڑے رہے۔

” اب آپ لوگ بول سکتے ہیں۔”

ان کی بات پر وہاں بیٹھے ٹیچرز کے لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ رینگ گئی۔ جبکہ بیچارے اسٹوڈنٹس اس وقت بس چلو بھر پانی کی خواہش کر رہے تھے ڈوب مرنے کیلئے۔

” بتائیں کیا دوستی کے پیچھے یوں مستقبل کو برباد کرنا ٹھیک ہے؟ اگر آپ کی اس حرکت پر یونیورسٹی سے نکال دیں تو؟ ” سر دانیال نے پھر پوچھا۔

” سر !! ڈگری تو ہمیں کوئی بھی یونی دیے دے گی۔ مگر یوسف جیسا دوست قسمت سے ملا کرتے ہیں۔ اگر یوسف کیلئے ہمیں یونی بھی چھوڑنی پڑی تو وہ بھی چھوڑ دینگے۔” نوید پراعتماد لہجے میں بولا۔

” جی سر !! ویسے بھی بحیثیت مسلمان ہمیں اپنے آج کی فکر کرنی چاہیئے کل کی نہیں اور آج میں سب سے اہم کام یوسف کی مدد کرنا تھا۔ اس کے ساتھ کھڑے ہونا تھا۔” اب کے حذیفہ بھی ہمت کرتا ہوا بولا۔

وہاں موجود تمام افراد دلچسپی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ جبکہ ساتھ کھڑے یوسف کی آنکھوں میں ان کی دوستی کو دیکھتے ہوئے نمی اُترنے لگی۔ آج حقیقتاً اسے اپنی قسمت پر رشک آ رہا تھا کہ اللّٰه نے اسے دوستی جیسے قیمتی رشتوں سے مالا مال کر رکھا تھا۔

” اور آپ کیا کہیں گے مسٹر جنید؟ ” سر دانیال نے دلچسپی سے اس کی طرف دیکھا۔

” ہماری دوستی کو لفظوں کی ضرورت نہیں سر !! اس بات کا چھوٹا سا عملی نمونہ آپ دیکھ چکے ہیں۔ لیکن اب آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو۔۔۔ یہ تو صرف پیپر تھا اگر کسی موڑ پر ہمیں ایک دوسرے کیلئے جان کی بازی بھی لگانی پڑی تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔” جنید ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جس پر وہ دھیرے سے مسکرا دیئے۔

حذیفہ اور نوید نے تو پھر بھی نظریں جھکا کر بات کی تھی پر اپنی بات کا یقین دلانے کیلئے جنید نے نظریں اُٹھا کر جواب دیا تھا۔

” آئی ایم ایمپریسڈ !! کیا دوستی ہے۔” کہتے ہوئے انہوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ ان چاروں کو سمجھ نہ آیا۔ یہ طنز تھا یا وہ واقعی متاثر ہوئے ہیں۔

” آج سے پہلے کبھی یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوا لیکن مس جسمین اور سر وقار کے کہنے پر اور باقی انتظامیہ کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ۔۔۔”

وہ رکے اور ایک نظر ان کے جھکے سروں کو دیکھا۔ وہ سب سانس روکے کھڑے تھے۔ نہ جانے آگے کیا بُری خبر سنانے والے ہوں۔

” آپ چاروں کو ایک اور موقع دیا جائے گا اور جن دو پیپرز کو آپ نے اٹیمپٹ نہیں کیا وہ دوبارہ لیے جائیں گے۔”

” تھینکیو۔۔۔ تھینکیو سر !! “

وہ چاروں ایک دم خوشی سے کھل اُٹھے۔ وہاں بیٹھے سب ٹیچرز انہیں دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔

” آپ کو خاص طور پر سر وقار اور مس جسمین کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔ آپ لوگ اس یونی کے جینئس اسٹوڈنٹس ہیں اس لیے ان کی سفارش پر ہی آپ لوگوں کو دوسرا موقع دیا گیا ہے۔”

سر دانیال کی بات پر یوسف نے جسمین کی طرف دیکھا جو خاموش بیٹھی انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔ یونی آنے کے بعد سے وہ اب اسے دیکھ رہا تھا۔ ورنہ سارا وقت تو سر ساجد کی کلاس میں پیپر دینے میں ہی گزر گیا تھا۔

” تھینکیو سر وقار۔۔۔ تھینکیو مس جسمین !! “

چاروں ایک ساتھ بولے جس پر مس جسمین اور سر وقار نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ان کا شکریہ قبول کیا۔

” اب آپ لوگ جا سکتے ہیں۔ اگر کچھ پیپرز کے متعلق پوچھنا ہو تو اپنے ٹیچرز سے پوچھ لیجئے گا۔”

” جی سر !! “

دمکتے چہروں کے ساتھ مسکرا کر کہتے وہ سب فوراً وہاں سے نکل گئے۔ ان کے جاتے ہی وہاں بیٹھے ٹیچرز بھی اپنے اپنے کاموں کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔

۔*********۔

” کیا ضرورت تھی ایسے سر کے سامنے ڈائلاگ مارنے کی جان کی بازی لگا دینگے وغیرہ وغیرہ۔” ایڈمنسٹریٹر ڈیپارٹمنٹ سے نکل کر اب وہ کینٹین کی جانب بڑھ رہے تھے۔ جب یوسف جنید سے گویا ہوا۔

” اچھا تو کیا غلط کہا۔ جب بھی تو نے کسی سے پنگا لیا ہے ہم ہی تیرے ساتھ کھڑے تھے اور ایک دفعہ یاد ہے جب تو نے اُس موٹے جمشید سے پنگا لیا تھا۔ کیا بھاری ہاتھ تھا اُس موٹے کا میرا جبڑا ہی ہلا دیا تھا۔”

اپنے جبڑے پر ہاتھ رکھ کر جنید نے جھرجھری لی۔ شدت سے اسے وہ دن یاد آیا تھا۔ جب یوسف جنید کے محلے میں جمشید نامی آدمی سے اُلجھ گیا تھا۔

” ہاں تو تیرے ساتھ تو ہونا ہی یہی چاہیئے تھا۔ میں تو کہتا ہوں وہ موٹا جمشید دو اور تجھے لگاتا۔” یوسف نے اسے مزید چڑھایا۔

” دیکھ بیٹا میرا بھی وقت آئے گا۔ لے تو اب کسی جمشید سے پنگا میں بالکل تجھے بچانے نہیں آؤں گا۔”

” پہلے کونسا تو بچانے آیا تھا؟ الٹا میں نے ہی تجھے بچایا تھا۔”

” اچھا بس کردو تم دونوں شروع ہی ہو جاتے ہو۔” یونہی نوک جھونک میں وہ کینٹین تک پہنچ گئے تھے جب نوید نے انہیں ٹوکا۔

” ویسے یوسف مس جسمین سے سفارش کا تو نے تو نہیں کہا؟ ” حذیفہ جو کب سے اس سوچ میں ڈوبا تھا۔ کینٹین کے باہر ہی رکتے ہوئے یوسف سے پوچھ بیٹھا۔

” دماغ خراب ہے۔ سفارش کی بات کرتا نا تو انتظامیہ سے مجھے ہی یونی سے نکالنے کی سفارش کر دیتیں۔” یوسف بھڑک کر بولا۔

” آپس میں لڑنے کے بجائے ایسا کرو مس جسمین سے ہی پوچھ لو۔”

نوید ایک ہاتھ سے کوریڈور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ جہاں سے جسمین ہاتھ میں فائلز پکڑے سر وقار کے ساتھ باتیں کرتی ہوئی آ رہی تھی۔ یوسف فوراً ان دونوں کی طرف بڑھا۔

” ابے او احمق !! کہاں جا رہا ہے رک۔”

یوسف کو جاتا دیکھ وہ پیچھے سے چلائے پر وہ ان سنی کرتا آگے بڑھ گیا۔ ناچار انہیں بھی اس کے پیچھے جانا پڑا۔

” السلام عليكم !! “

دونوں کو مشترکہ سلام کرتے ہوئے اس نے ایک نظر جسمین کو دیکھا پھر سر وقار کی طرف متوجہ ہو گیا۔

” برخوردار کوئی کام تھا؟ “

سر وقار نے سوالیہ نظروں سے یوسف کو دیکھا۔ اس کے پیچھے ہی وہ تینوں بھی آ کھڑے ہوئے تھے۔ جب سر وقار کے پوچھنے پر جنید فوراً بولا۔

” سر ہم آپ دونوں کو پرسنلی مل کر تھینکس کہنا چاہتے تھے۔ آپ نے ہمارے لیے اتنا کچھ کیا۔ ہم سب آپ دونوں کے دل سے شکر گزار ہیں۔ اس لیے ہم سب آپ کو شکریہ کہنے چلے آئے۔” اس بات پر سروقار نے بڑی شان سے گردن اکڑائی۔

” بالکل شکر گزار ہونا بھی چاہیئے۔ کیونکہ آپ لوگوں کا پچھلا ریکارڈ دیکھتے ہوئے مس جسمین نے مجھ سے کہا تو میں نے ہامی بھر لی۔ ورنہ اس سمسٹر میں تو آپ پکا فیل ہو چکے تھے۔”

سر وقار کے کہنے پر سب کی نظریں جسمین کی طرف اُٹھیں جو چہرہ نیچے جھکائے اپنے پیر کے انگوٹھے کو گھور رہی تھی۔

” اچھا مس جسمین میں چلتا ہوں اور تم۔۔۔” جسمین سے کہتے ہوئے وہ ایک دم یوسف کی طرف مڑے۔ وہ جو ٹک ٹکی باندھے جسمین کو دیکھ رہا تھا سر وقار کے مخاطب کرنے پر گڑبڑا اُٹھا۔

” جی۔۔۔ جی سر !! “

” ساری بات ایک طرف لیکن تم اب بھی مشکوک ہو۔ سمجھے؟ ” وہ انگلی اُٹھا کر بولے۔ یوسف ان کی بات کا مطلب سمجھ کر سر جھکا گیا۔ یعنی سر وقار ابھی تک بھولے نہیں تھے۔

” جی !! ” وہ محض اتنا ہی کہہ سکا۔

البتہ سر وقار اسے گھوری سے نوازتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ ان کے جاتے ہی وہ تینوں بھی وہاں سے کھسک لیے۔ اب کوریڈور میں صرف جسمین اور یوسف ہی ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔

” کچھ کہنا ہے مسٹر یوسف؟ ” جسمین نے ارد گرد دیکھتے ہوئے پوچھا۔ وہاں موجود ہر اسٹوڈنٹ اپنے آپ میں مگن تھا کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ وہ تھوڑی پُرسکون ہوئی۔

” مجھے شکریہ کہنا تھا۔” جسمین پر نظریں جمائے وہ دھیرے سے بولا۔

” کتنی دفعہ شکریہ کرین۔۔۔”

” آپ نے اُس دن کال کی تھی اُس کیلئے شکریہ۔” نرمی سے جسمین کی بات کاٹتے ہوئے اس نے شکریہ ادا کیا۔ جس پر وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔

” شکریہ کی ضرورت نہیں یہ تو میرا فرض تھا۔ آپ کے فادر کا سنا تھا تو۔۔۔”

ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔ جبکہ باپ کا ذکر آتے ہی یوسف کی آنکھوں میں نمی اُترنے لگی۔ اس کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے جسمین نے چہرہ اس کی طرف موڑا تو چونک اُٹھی۔

نم آنکھیں لیے وہ خود پر ضبط کر رہا تھا۔ صبح سے اس کے ڈیپارٹمنٹ کے کئی ٹیچرز اور اسٹوڈنٹس حیدر صاحب کی تعزیت کیلئے اس کے پاس آ چکے تھے۔ اپنے آنسوؤں پر بندھ باندھتا وہ سب سے ملا تھا پر اب اپنے سامنے جسمین کو دیکھ کر وہ کمزور پڑ رہا تھا۔ خود پہ چڑھایا خول آہستہ آہستہ سرک رہا تھا۔ جیسے کسی اپنے کے ہونے کے احساس نے اسے مجبور کر دیا ہو کہ اپنے دل کا غبار نکال کر اس کے سامنے رکھ دے۔

” یوسف !! “

جسمین اس کی آنکھوں میں چمکتے آنسوؤں کو دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی۔ یوسف دھیرے سے مسکرا دیا۔ نم آنکھیں، ہونٹوں پہ تبسم وہ اس وقت کے سحر میں کھو سی گئی کہ اچانک پیچھے سے ایک اسٹوڈنٹ تیزی سے آگے بڑھتا بے دھیانی میں جسمین سے ٹکرایا۔

” آآاہ !! ” ہاتھ سے فائلز چھوٹ کر نیچے گر گئیں۔

” دیکھ کر نہیں چل سکتے۔” یوسف غصّے سے کہتا اُس لڑکے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ جسمین نے اس کا بازو تھام کر روکا۔

” کوئی بات نہیں غلطی سے ہوگیا ہوگا۔”

” سوری مس میں نے دیکھا نہیں تھا۔” وہ لڑکا سہما ہوا بولا۔

” دیکھا نہیں۔ آنکھیں گھر چھوڑ کر آیا ہے؟ ” یوسف پھر اپنا بازو چھڑا کر آگے بڑھنے لگا کہ جسمین نے فوراً اس لڑکے کو منظر سے ہٹایا۔

” بیٹا آپ جاؤ۔”

اس کے کہتے ہی وہ لڑکا شکر مناتا بوتل کے جن کی طرح وہاں سے غائب ہو گیا۔ جبکہ اس کو جاتا دیکھ یوسف سر جھٹک کر نیچے پڑی فائلز اُٹھانے لگا۔

” بیٹا سیرئیسلی؟ ” فائلز اُٹھا کر جسمین کو پکڑاتے ہوئے وہ بھنویں اچکا کر بولا۔

” ہاں تو اسٹوڈنٹ ہے وہ میرا اب ہر کوئی تمہاری طرح غنڈا نہیں ہوتا۔ سدھرنا مت تم۔” ایک بار پھر سارے لحاظ بالائے طاق رکھ کر وہ آپ سے تم پر اُتر آئی۔

” تم !! آپ مجھے ” تم” ہی بولا کریں۔ آپ کے منہ سے یہ زیادہ اچھا لگتا ہے۔” جسمین کے غصّے کو خاطر میں لائے بغیر وہ سرشاری سے مسکراتا ہوا بولا۔

” دفع ہو جاؤ۔” غصّے سے پیر پٹختی، اس کے ہاتھ سے فائلز جھپٹ کر وہاں سے نکلتی چلی گئی۔ جبکہ یوسف آسمان کی طرف دیکھتا وہیں کھڑے ہو کر ان بیتے لمحوں کو محسوس کرنے لگا۔

“عشق کا تو پتا نہیں پر۔۔۔

جو تم سے ہے وہ کسی اور سے نہیں۔”

۔*********۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو لاؤنج میں ہی فائزہ بیگم ملازموں کے سر پر کھڑی انہیں ہدایت دے رہی تھی۔ بلاج مسکرا کر دیکھتا ان کے پاس ہی چلا آیا۔

” السلام عليكم !! “

” وعليكم السلام !! آج جلدی آگئے۔” وہ اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے گویا ہوئیں۔

” جی بس ڈیوٹی ٹائم ختم ہوگیا تھا تو گھر آگیا۔” تھکے تھکے سے انداز میں کہتا وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔

” اچھا کیا۔ تم فریش ہو جاؤ میں تب تک کھانا لگواتی ہوں۔” بلاج سے کہتی وہ پاس کھڑی شبانہ کی طرف مڑیں۔

” جاؤ شبانہ بلاج کیلئے کھانے کا انتظام کرو۔”

” جی سردارنی جی !! ” تابعداری سے کہتی وہ فوراً وہاں سے نکل گئی۔ اس کے جاتے ہی بلاج سیدھا ہوکر بیٹھا۔

” امی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔”

” ہاں بولو کیا بات ہے؟ “

” امی میں چاہتا ہوں آپ یاسمین کے گھر میرا رشتہ لے کر جائیں۔” وہ سنجیدگی سے فائزہ بیگم کو دیکھتے ہوئے بولا۔

” کیا !! پر تمہارے بابا سائیں، تم نے اُن سے بات کی؟ ” فائزہ بیگم ایک دم پریشان ہو اُٹھیں۔

” نہیں پر کر لوں گا آج یا کل میں اُس کے بعد آپ کو وقت نکال کر یاسمین کے گھر جانا ہے۔” بلاج آرام سے بولا۔

” ٹھیک ہے لیکن تم پہلے بابا سائیں سے بات کرو۔ اُنہیں اعتراض ہو سکتا ہے اس رشتے سے۔” انہوں نے اسے سمجھانا چاہا۔

” اُن کے اعتراض کی مجھے پرواہ نہیں۔ اگر وہ نہیں مانے تو پھر بھی یہ شادی ہوکر رہے گی۔”

اپنی بات کہہ کر وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ صوفے پر بیٹھی فائزہ بیگم کا سکون پل بھر میں غارت کر گیا تھا۔

۔*********۔

اپنے کمرے سے نکل کر وہ سیڑھیاں اُترتی نیچے آ ہی رہی تھی جب اس کی نظر کچن میں جاتی شبانہ پر پڑی۔

” شبانہ خالہ میرے لیے چائے بنادیں پلیز بہت سر میں درد ہو رہا ہے۔”

” جی بی بی !! بس ابھی لائی۔” جسمین کو دیکھ کر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔

” اچھا امی کے کمرے میں ہی لے کر آجائے گا میں وہیں جا رہی ہوں۔”

” جی ٹھیک ہے بی بی جی !! ” اس کا حکم سنتے ہی وہ فوراً کچن میں گھس گئی۔ جبکہ جسمین فائزہ بیگم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

” امی میں آجاؤ؟ ” دروازے پر دستک دیتے ہوئے اس نے اجازت طلب کی۔

” ہاں آجاؤ بیٹا۔” وہ جو بیڈ پر لیٹی آرام کر رہی تھیں جسمین کی آواز پر اُٹھتے ہوئے بولیں۔

” کیا بات ہے امی؟ جب سے یونی سے آئی ہوں آپ کو پریشان دیکھ رہی ہوں۔ سب ٹھیک ہے نا؟ ” بیڈ پر بیٹھتے ہی اس نے سوالیہ نظروں سے فائزہ بیگم کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” کیا ٹھیک ہے۔ ناجانے یہ بلاج کب سدھرے گا۔ ہر وہ کام کرتا ہے۔ جو تمہارے بابا سائیں کو پسند نہیں۔” وہ پریشانی سے بولیں۔

” کیوں کیا ہوا؟ اب کیا کر دیا بھائی نے؟ “

” کرنا کیا ہے۔ کہہ رہا ہے بابا سائیں نہیں مانے تو تب بھی یاسمین سے شادی کرے گا۔ مجھے تو ڈر ہے کہیں کچھ غلط نہ ہوجائے۔ باپ بیٹے کی ضد بحث میں۔” ان کا خدشات سے لبریز لہجہ جسمین کو بھی پریشان کر گیا۔

” آپ فکر نہیں کریں۔ بلکہ اللّٰه سے دعا کریں سب ٹھیک ہو گا انشاء اللّٰه۔”

” ہاں !! اللّٰه کرے ایسا ہی ہو۔”

فائزہ بیگم گہرا سانس لیتے ہوئے بولیں۔ باپ اور بیٹے کے بیچ پیس کر جو رہ گئی تھیں۔ ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر۔۔۔

۔*********۔

” یوسی تو واقعی مس جسمین سے شادی کرے گا؟ “

رات کے اندھیرے میں وہ چھت پر چار پائی بچھائے لیٹے، آسمان پر نظر آتے چاند کو تک رہے تھے۔ جب نوید نے چہرہ موڑ کر یوسف سے پوچھا۔ اس وقت وہ یوسف کے گھر پر موجود تھا جبکہ حذیفہ اور جنید تھوڑی دیر پہلے ہی اپنے اپنے گھر جا چکے تھے۔

” ظاہر سی بات ہے۔”

یوسف نے کہتے ہوئے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور دھیمی آواز میں گانا لگا کر موبائل سائڈ پر رکھ دیا۔

” یوسف یہ اتنا آسان نہیں۔” نوید نے اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا۔

” جانتا ہوں۔ مجھے بھی آسانیاں پسند نہیں۔” یوسف اس کی طرف چہرہ موڑ کر مسکراتا ہوا بولا ساتھ ہی نوید کے ہونٹوں کو بھی مسکراہٹ نے چھو لیا۔

” ویسے گانا بڑا اچھا لگایا ہے۔ کیا مس جسمین کی یاد آ رہی ہے؟ ” فضاء میں پھیلے گانے کے بول سنتا، نوید شرارت سے بولا۔

” شٹ اپ !! ” مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے یوسف نے مصنوعی گھوری سے اسے نوازا۔

” چل چل یہ شٹ اپ کسی اور کو بول میں تیری مسکراہٹ دیکھ چکا ہوں۔” وہ ہنسا پر یوسف نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔

” اچھا ویسے ایک بات تو بتا؟ ” یوسف کی طرف کروٹ لیتے ہوئے اس نے پوچھا۔

” نہیں۔”

نوید کے فضول سوال سے بچنے کیلئے اس نے صاف انکار کیا۔ لیکن وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا۔ اس کے انکار کو کسی بھی خاطر میں لائے بغیر پوچھ بیٹھا۔

” پہلی دفعہ کب پسند آئیں؟ “

یوسف نے اسے گھورا جس پر اپنے دانتوں کی نمائش کرتا وہ پھر بولا۔

” بتا بھی دے ہم سے کیا شرمانا۔”

” اُن کے یونی میں پہلے دن سے ہی جب وہ مجھے ڈانٹ رہی تھیں۔ کلاس میں ہنگامہ کرنے پر۔” یوسف واپس اپنا چہرہ موڑ کر آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔

” اوووو !! ” نوید نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا۔

” اب میں تیرا منہ توڑ دوں گا کوئی فضول سوال کیا تو۔” جھنجھلا کر کہتا وہ چار پائی پر سے اُٹھا اور موبائل میں لگا گانا بند کرتے ہوئے نیچے کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ بیچارا نوید اسے جاتا دیکھ کر پیچھے سے چلاتا ہی رہ گیا۔

” ابے رک جا میں بھی آتا ہوں۔”

پر وہاں پرواہ کسے تھی؟ یوسف میاں تو یہ جا وہ جا۔۔۔

۔*********۔

گزرے دنوں کے مقابلے میں آج موسم قدرِ خوشگوار تھا۔ صبح سے آسمان پر بادلوں نے ڈیرہ جمایا ہوا تھا۔ یوں تو کراچی کا موسم زیادہ تر گرم ہی رہتا ہے۔ مگر آج صبح سے چھائے بادلوں نے ماحول میں خنکی سی پیدا کر دی تھی۔ ایسے میں وہ چاروں ہنستے مسکراتے کلاس سے نکل کر پارکنگ ایریا کی جانب بڑھ رہے تھے۔ آج ان کا آخری پیپر تھا یا یوں کہا جائے بیچارا وہ پیپر تھا جسے یہ خود چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔۔۔

” ابے یار یہ یونی کی چھٹیاں کینسل نہیں ہو سکتیں؟ ورنہ میری اماں تو بازار سے سودا منگا منگا کر میری جوتی کے ساتھ ساتھ پاؤں بھی گھسوا دینگی۔” جنید جھرجھری لیتا ہوا بولا۔

” ایک کام کر راستے میں کھڑے ہو کر کسی سے پنگا لے لے۔ پھر میں پولیس کو بلا لوں گا تاکہ وہ تجھے پکڑ کر تھانے میں بند کر دیں۔ اس طرح تو گھر کے کام سے بھی بچ جائے گا اور تیری چھٹیاں بھی آرام سے گزر جائیں گی۔” حذیفہ نے اس کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا۔

” میرے پاس اس سے بھی اچھا آئیڈیا ہے۔ یہاں سے ہم سیدھا نفسیاتی ہسپتال جاتے ہیں اور تم دونوں کو وہاں چھوڑ کر میں اور یوسف گھر چلے جائیں گے۔ کیوں یوسی؟ ” نوید نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ یوسف کے سامنے کیا۔ اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا یوسف ہنس دیا۔

” بالکل!! “

” تو تو چپ ہی کر۔ نفسیاتی ہسپتال کی ضرورت تو تجھے پڑے گی جب مس جسمین کے بھائی تیری عقل ٹھکانے لگائیں گے۔” حذیفہ چڑ کر بولا۔

” میری عقل ٹھکانے لگانے والے ابھی پیدا نہیں ہوئے۔”

کہتے ہوئے یوسف ارد گرد دیکھنے لگا۔ نظریں جسمین کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ جو صبح سے ایک بار بھی اسے نظر نہیں آئی تھی اور آج تو اس کا آخری پیپر تھا پھر تو چھٹیوں کے بعد ہی اُس کا دیدار نصیب ہونا تھا۔

” ادھر اُدھر کیا دیکھ رہا ہے سامنے دیکھ گاڑی میں بیٹھ کر جا رہی ہیں۔” یوسف جو ادھر اُدھر دیکھنے میں لگا تھا۔ جنید کی بات پر چونک کر سامنے دیکھا۔ جہاں وہ کار میں بیٹھی یونی سے باہر نکل رہی تھیں۔

” شٹ !! ” وہ دل ہی دل میں کراہ کر رہ گیا۔

” ہاں تو کیا کہہ رہا تھا یوسف؟ تو تیری عقل ٹھکانے لگانے والے ابھی پیدا نہیں ہوئے۔” حذیفہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے چوٹ کی انداز واضح طور پر مذاق اڑانے والا تھا۔

” اب لگ گئی عقل ٹھکانے؟ “

” تیری تو رک سالے۔”

دانت پیستا یوسف اس کے پیچھے بھاگا۔ جس پہ پارکنگ ایریا میں چوہے بلی کی دوڑ لگ گئی۔ جبکہ ان دونوں کو دیکھتے نوید اور جنید کے قہقہے فضاء میں گونج اُٹھے تھے۔

” انتظار اتنا تھا پر بات نہ ہونے پائی

تم ملے بھی تو ملاقات نہ ہونے پائی “

۔*********۔

” بابا سائیں مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔”

جہانگیر ملک اس وقت بیٹھک میں موجود تھے۔ ان کے دائیں جانب بچھے تخت پر دلاور اور بائیں جانب بچھے تخت پر خاور بیٹھا تھا۔ وہ تینوں اپنے سامنے زمین پر بیٹھے لوگوں کے مسائل سن رہے تھے۔ جب بلاج ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

کافی دنوں سے وہ ہسپتال میں ہی مصروف تھا جس کے باعث جہانگیر ملک سے بات کرنے کا موقع ہی نہیں مل پایا۔ آج اسے کچھ فرصت ملی تھی تو سیدھا اپنے اور یاسمین کے بارے ميں بات کرنے چلا آیا۔

” ابھی جاؤ تم سب۔”

جہانگیر ملک نے انہیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ بیٹھے سب ہی لوگ ان کے سامنے سر جھکاتے فوراً وہاں سے نکلتے چلے گئے۔

” بولو کیا بات ہے۔” چہرے پر سنجیدگی لیے اپنے مخصوص اکھڑ لہجے میں پوچھا۔

” میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔” بنا کوئی تمہید باندھے بلاج صاف لفظوں میں بولا۔ جس پہ دلاور اور خاور کے چہروں پر طنزیہ مسکراہٹ در آئی۔

” واہ !! چھوٹے سرکار اب بڑے ہو گئے۔” خاور نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا۔

” میں آپ سے بات نہیں کر رہا تو بہتر ہے خاموش رہیں۔” سخت نظروں سے خاور کو گھورتا وہ واپس جہانگیر ملک کی جانب مڑا جو حیرت سے اس کے انداز کو دیکھ رہے تھے۔

” بابا سائیں یاسمین اچھی لڑکی ہے۔ میرے ساتھ ہسپتال میں کام کرتی ہے۔ اچھے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ مجھے اُمید ہے آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔”

” دماغ خراب ہے تمہارا؟ ہم تمہاری شادی کسی خاندانی لڑکی سے کرینگے۔ وہ لڑکی نہ جانے خاندانی ہے بھی یا نہیں۔” وہ ایک دم بھڑک اٹھے۔ بلاج ہمیشہ سے ضدی تھا پر آج وہ ایک لڑکی کے پیچھے یوں باغی بھی ہو جائے گا انہوں نے سوچا نہیں تھا۔

” کہا نہ شریف خاندانی لڑکی ہے۔ بس ملکوں میں سے نہیں ہے۔” وہ ٹہرے ہوئے لہجے میں بولا۔

” بابا سائیں اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ اب ملک خاندان میں ایک عام سی لڑکی بہو بن کر آئے گی۔” دلاور نے جہانگیر ملک کے غصّے کو مزید ہوا دینی چاہی۔

” ذات پات میں کچھ نہیں رکھا۔ وہ خاندانی ہے عزت دار ہے۔ مجھے امید ہے آپ ایک بار میری بات پر نظرثانی کرینگے۔ باقی آپ نہیں بھی مانے تو تب بھی بیوی وہ میری ہی بنے گی۔” اپنی کہہ کر بلاج وہاں سے تیزی سے نکل گیا۔ جبکہ وہاں بیٹھے جہانگیر ملک کا غصّے سے بُرا حال تھا۔

” ہنہہ !! دیکھ لیا بابا سائیں یہ آپ کی دی ہوئی ڈھیل کا نتیجہ ہے۔” دلاور ہنکار بھرتا بولا۔

” بالکل پہلے ہی اس کی لگام کس لیتے تو آج یوں سامنے نہ کھڑا ہوتا۔” خاور بھی اس کی تائید کرنے لگا۔

” میں تو کہتا ہوں۔ اُس لڑکی کو ہسپتال سے ہی اُٹھا لیتے ہیں۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری کچھ دنوں میں خود ہی بھول جائے گا۔” دلاور نے مشورہ دیا۔

” نہیں !! ہم اس معاملے کو خود دیکھ لینگے۔ ہم نہیں چاہتے وہ ہم سے بدگمان ہو کچھ ایسا کرنا پڑے گا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔” پُرسوچ انداز میں کہتے وہ کسی فیصلے پر پہنچ چکے تھے۔

۔*********۔

آج یونیورسٹی آف ہوئے پورے چار دن ہو چکے تھے۔ ایسے میں بیڈ پر لیٹا ارد گرد سے بے نیاز وہ کانوں میں ہینڈ فری لگائے پاؤں مسلسل ہلا رہا تھا۔ دفعتاً دروازہ کھول کر وہ اندر آئی۔

” حذیفہ !! حذیفہ اُٹھو تمہارے دوست آئے ہیں۔” اس کے کان سے ہینڈ فری کھینچ کر وہ چلاتے ہوئے بولی۔

” اوہو !! تو چیخ کیوں رہی ہیں؟ ” وہ جھنجھلایا۔

” تم سن جو نہیں رہے۔” کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے حذیفہ کو گھورا اور مڑ کر واپس دروازے کی طرف بڑھی۔

” مہوش آپی کچھ کھانے کے لیے لادو میرے اور میرے دوستوں کیلئے۔” حذیفہ پیچھے سے اونچی آواز میں بولا۔

کمرے سے باہر نکلی مہوش نے رک کر اسے خونخوار نظروں سے گھورا۔ تھوڑی دیر پہلے ہی وہ سسرال سے میکے آئی تھی۔ ابھی سفر کی تھکن اُتری نہیں تھی کہ یہاں فرمائشیں شروع ہوگئیں۔

” امی سے بول دو اب میں نئی نویلی دلہن کام کرتی اچھی نہیں لگتی۔” اس نے آنکھیں مٹکائیں۔

” ارے رہنے دو !! چار مہینے کی دلہن وہ بھی نئی نویلی جا کر کام کرو شاباش۔ امی بھی تھکی ہوئی ہیں۔” کہتے ہوئے مہوش کو سائڈ پر کرتا وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔ جبکہ پیچھے وہ دانت پیس کر اس کو کوستی کمرے کے بجائے کچن کی جانب بڑھ گئی۔

” امی آپ کیا کر رہی ہیں؟ “

ابھی کچن میں پہنچی ہی تھی کہ سامنے ہی نسرین بیگم کام میں لگی نظر آئیں۔

” حذیفہ کے دوستوں کیلئے چائے بنا رہی ہوں۔”

” رہنے دیں میں کرتی ہوں۔ آپ کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں جائیں آرام کریں۔” اس نے نسرین بیگم کے ہاتھ سے برتن لے کر ایک طرف رکھا اور انہیں شانوں سے تھام کر کچن سے باہر لے آئی۔

” جائیں آرام کریں۔”

” تم بھی نا۔” نسرین بیگم مسکراتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔

ان کے جاتے ہی وہ جلدی سے ہاتھ چلاتی چائے اور اسنیکس ٹرے میں سجا کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھی۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ سامنے ہی چاروں صوفے پر بیٹھے باتوں میں مشغول تھے۔

” اب باقی باتیں بعد میں پہلے کچھ کھا پی لو سب۔” مہوش نے اندر داخل ہو کر مسکراتے ہوئے کہا۔

” ارے واہ !! آپی یہ ہوئی نہ کچھ بات۔” جنید فوراً کھڑا ہوا اور اس کے ہاتھ سے ٹرے تھام لی۔

” تم آ رہے تھے تو ” ردا ” کو بھی اپنے ساتھ لے آتے۔ کیسی ہے وہ؟ “

اس نے جنید کی چھوٹی بہن کے بارے میں پوچھا۔ ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے وہ چاروں دوست ہی ایک دوسرے کے گھر کا حصّہ بن چکے تھے۔ جس کے باعث باقی بھائی بہنوں میں بھی اچھی جان پہچان ہو گئی تھی۔

” وہ بالکل ٹھیک ہے۔ مجھے نہیں پتا تھا آپ آئی ہوئی ہیں ورنہ لے آتا۔” کہتے ہوئے جنید نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور خود واپس صوفے پر بیٹھ گیا۔

” چلو ٹھیک ہے۔” وہ کہہ کر جانے ہی لگی تھی جب اس کی نظر حذیفہ پر پڑی جو کب سے اسے مخفی سے اشارے کر کے یوسف کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مہوش اس کا اشارہ سمجھ کر مسکرائی ساتھ ہی یوسف کو دیکھا جو چائے پینے میں مصروف تھا۔

” یوسف !! “

“جی آپی؟ ” یوسف فوراً متوجہ ہوا۔

” جسمین کیسی ہے؟ ” مہوش کے پوچھنے پر ایک دم ان تینوں نے بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو روکا جبکہ یوسف خونخوار نظروں سے حذیفہ کو گھورنے لگا۔

” ٹھیک ہوں گی۔ مجھے کیا پتا جیسے میری ٹیچر ہیں ویسے ہی حذیفہ کی بھی ہیں اس نے بتایا نہیں آپ کو؟ ” وہ واپس مہوش کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

” ہاں حذیفہ نے بتایا تھا سب بتا دیا تھا۔” اس نے معنی خیز لہجے میں کہا اور ایک بار پھر یوسف نے خونخوار نظر حذیفہ پر ڈالی۔

” ویسے پتا ہے کلاس میں جسمین بہت خاموش رہتی تھی میرے اور کچھ ایک دو اور لڑکیوں کے علاوہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ اب بھی وہ اتنی ہی خاموش رہتی ہے یا اب بولنے لگی ہے۔” یوسف کا موڈ بگڑتا دیکھ مہوش اب ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔

” اب بھی کم بولتی ہیں بس فرق اتنا ہے جب منہ کھولتی ہیں زہر اگلنے لگتی ہیں۔”

جنید نے کہتے ہوئے ہاتھ سے سانپ کی طرح اشارہ کیا۔ جس پر یوسف کے علاوہ سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔

” بکواس بند کرو۔” یوسف ناگواری سے بولا۔

” اچھا ویسے تم لوگ جانتے ہو وہ سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ جسمین اور اُس کا بھائی بلاج ہی بس زرا نرم مزاج ہیں ورنہ باقی تو وہ سب سخت طبیعت کے مالک ہیں۔” اب کے مہوش سنجیدگی سے ان سب کو دیکھتے ہوئے بولی انداز وارن کرنے والا تھا۔ جیسے کہنا چاہتی ہو (کچھ غلط نہ کرنا ورنہ بہت کچھ غلط ہو جائے گا)

” آپ جو سمجھانا چاہ رہی ہیں میں سمجھ گیا آپی آپ فکر نہیں کریں۔ میں کچھ غلط نہیں کروں گا۔” یوسف مسکراتا ہوا بولا۔ وہ مہوش کی بات میں چھپا مطلب اچھے سے سمجھ گیا تھا۔

” ہمم !! چلو تم لوگ باتیں کرو میں چلتی ہوں۔” مہوش کہہ کر دروازے کی طرف بڑھی۔ یوسف پُر سوچ نگاہوں سے اسے جاتے دیکھ رہا تھا۔ جب کندھے پر ہاتھ رکھ کر نوید نے اسے ہلایا۔

” کیا سوچ رہا ہے؟ “

” نہیں کچھ نہیں۔ تم بتاؤ کیا بول رہے تھے۔”

یوسف نے بات بدلی جس کے بعد ایک بار پھر وہ سب اپنی باتوں میں مشغول ہوگئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *