Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq (Episode 14,15)

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

” بھائی آپ نے انہیں کیوں بلا لیا؟ آپ کو پتا تو ہے دلاور بھائی اور خاور بھائی کو یہ بات پسند نہیں آئے گی۔”

انگنت شکنیں ماتھے پر سجائے اس نے بلاج کو دیکھا جو سنجیدگی سے سامنے دیکھتے ہوئے کار ڈرائیو کر رہا تھا۔

” اُنہیں میں نے بلایا ہے اور تمہارے اسٹوڈنٹ ہیں کوئی کچھ نہیں بولے گا۔ اٹس ناٹ آ بگ ڈیل !! ” وہ سکون سے بولا۔

جسمین اسے دیکھتی رہ گئی۔ کہاں تو اسے یوسف کے ساتھ گھر آنا پسند نہیں آیا تھا اور اب وہ خود ہی اسے گھر پر بلا رہا تھا۔ کیوں؟

” بھائی پھر بھی مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔”

” تم فکر نہیں کرو۔ اگر کچھ مسئلہ ہوا بھی تو میں دیکھ لوں گا۔ تم بس آرام سے کل کی تیاری کرو۔” جسمین پر نظر ڈالتا وہ مسکرا کر بولا۔

اس کے چہرے پر سجی مسکراہٹ کو دیکھ کر جسمین بھی مسکرا دی اور دل ہی دل میں اس کی ابدی خوشیوں کی دعا کرنے لگی۔ آخر ایک یہ ہی تو تھا جو اس کا ہمدرد تھا۔

۔*********۔

یونیورسٹی سے سیدھا وہ چاروں یوسف کے گھر آگئے تھے اور اب نوید اور حذیفہ صحن میں بچھے تخت پر بیٹھے یوسف کو غصّے سے گھور رہے تھے۔

بلاج سے ہامی بھرنے کے بعد سے نوید اور حذیفہ کا دماغ کھول رہا تھا۔ کہ کیوں یوسف نے ہامی بھری جبکہ مہوش نے بتایا بھی تھا۔ جسمین کے گھر والے کتنے سخت مزاج کے مالک ہیں۔ لیکن نہ جانے یوسف کیا سوچ کر بیٹھا تھا کہ خود بھوکے شیروں کے پنجرے میں جا کر انہیں دعوت دے رہا تھا۔

” کیا ضرورت تھی تجھے ہاں کرنے کی منع کر رہا تھا نا میں۔” اس کے سر پر کھڑا حذیفہ غرایا۔

” تمہیں نہیں جانا مت جاؤ میں ضرور جاؤں گا۔” وہ پرسکون سا بولا۔

حذیفہ اور نوید حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ جبکہ ساتھ بچھی چار پائی پر لیٹا جنید ساری سچویشن کو انجوائے کر رہا تھا۔

” او بھائی !! جب وہ خود دعوت دے کر گئے ہیں تو کون کافر ہوگا جو مفت میں ملی نعمت سے انکار کرے۔” مزے سے پاؤں ہلاتے ہوئے جنید نے ان دونوں سے کہا جو اب اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

” تو اپنا منہ بند رکھ اور تم کوئی ضرورت نہیں اکیلے جانے کی۔ اب بول دیا ہے تو سب جائیں گے۔ تیرا کیا بھروسہ مس جسمین کو وہاں دیکھ کر تو پھر اپنی عاشقی جھاڑنے بیٹھ جائے اور ان کے بھائی تجھے موت کے گھاٹ اتار دیں۔”

جنید کو چپ کراتا وہ یوسف سے بولا ساتھ ہی اسے گھوری سے نوازتے ہوئے تخت سے اُٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گیا۔

” تمہیں اور بھی کچھ کہنا ہے؟ ” یوسف نے حذیفہ کی طرف دیکھا جو اب بھی اس کے سر پر کھڑا تھا۔

” نہیں آپ کو بھلا کون کچھ کہہ سکتا ہے۔ آخر کرنی تو اپنی ہی ہے۔” منہ بنا کر کہتا وہ جنید کے برابر میں جا کر لیٹ گیا۔

یوسف نے مسکرا کر اسے دیکھا پھر خود بھی اُٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گیا۔ اب بیچارے نوید کی کسی نے تو مدد کروانی تھی۔

۔*********۔

کمرے میں لیٹی وہ خالی خالی نگاہوں سے چھت کو گھور رہی تھی آج کا سارا دن یونہی سوچوں میں گم رہ کر گزر چکا تھا اور اب بھی نیند تھی کہ مہربان ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ تنگ آ کر اس نے بائیں جانب کروٹ بدلی جب دفعتاً سائڈ ٹیبل پر رکھا اس کا موبائل بج اُٹھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اُٹھاتے ہوئے اسکرین کو دیکھا جہاں بلاج کا نام جگمگا رہا تھا۔ یاسمین نے فوراً کال ریسیو کی۔

” ہیلو !! “

اسپیکر سے ابھرتی گھمبیر آواز اسے رونے پر مجبور کر گئی۔ وہ صبح سے اس گھٹن زدہ احساسات سے چھٹکارا چاہ رہی تھی جو نہ آنسوؤں کے زریعے باہر نکل رہے تھے نہ کم ہو رہے تھے۔

” یاسمین !! “

ایک بار پھر اسپیکر سے آواز ابھری ساتھ ہی یاسمین نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹا۔

” ہیلو !! یاسمین جواب دو؟ “

اب کے جھنجھلاتے ہوئے پکارا گیا۔ یاسمین نے فوراً خود پر قابو پایا اور آنسو صاف کرتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں گویا ہوئی۔

” ہاں !! ہاں بولو کیا ہوا۔”

” تم رو رہی ہو؟ ” آواز میں موجود گیلا پن محسوس کرتے ہوئے بلاج نے فوراً پوچھا۔ بھلا اس سے بھی کچھ چھپا سکتی تھی وہ؟ جو اس کی روح تک میں اُتر گیا تھا۔

” نہیں میں بس۔۔۔”

” بہانے نہیں وجہ بتاؤ۔ کیا ہوا ہے؟ ” یاسمین کی بات کاٹتے ہوئے ڈپٹ کر پوچھا۔

” مجھے۔۔۔ مجھے نہیں پتا کیا ہو رہا ہے۔ بس بہت ڈر لگ رہا ہے۔ جیسے سب ختم ہو جائے گا۔ میں تمہیں کھو دوں گی۔ پلیز تم مجھ سے نکاح کر لو۔ میں اگر مر بھی گئی تو کم از کم تمہارے نام سے تو مروں گی۔”

ایک ہی سانس میں کہتی وہ ایک بار پھر سے رونا شروع ہو گئی۔ جبکہ اس کی بات پر بلاج ایک لمحے کیلئے ساکت رہ گیا۔

” کیا بکواس کر رہی ہو۔ کل ہماری منگنی ہے اور آج تم یہ فضول باتوں کو سوچ کر رو رہی ہو۔” وہ چلایا۔ یاسمین کی بات نے اسے اندر تک ہلا کر رکھ دیا تھا۔

” میں کوئی بکواس نہیں کر رہی۔ تم نہیں جانتے میری کیا حالت ہے۔ تم بس یہ بتاؤ مجھ سے کل نکاح کر رہے ہو یا نہیں؟ ” آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے دو ٹوک لہجے میں پوچھا۔

” ٹھیک ہے رونا بند کرو۔ نکاح چاہتی ہونا فائن۔ کل ہماری منگنی نہیں اب نکاح ہوگا۔ لیکن آئندہ یہ بکواس مت کرنا۔”

درشت لہجے میں کہتا وہ یاسمین کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔

کیا تھا وہ؟ جو اپنے بابا سائیں کے سامنے نہیں جھکتا تھا اس کے آنسوؤں سے ہار جاتا تھا۔ ہر بات مان جاتا تھا۔ اس لمحے اسے حقیقتاً اپنی قسمت پر رشک ہوا تھا۔ وہ اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرتی اتنا کم تھا کہ بلاج جیسے شخص کو اس کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا۔

” وعدہ کرو۔” اس نے یقین دہانی چاہی۔

” تمہیں مجھ سے بھی وعدہ لینے کی ضرورت ہے؟ ” سوالیہ انداز میں خفگی ظاہر کی۔ یاسمین پھر مسکرادی۔

” نہیں !! “

” چلو پھر اب سکون سے سو جاؤ اور جب میں فون کروں تب اپنے گھر پر نکاح کا بتانا۔ ٹھیک ہے؟ “

” ٹھیک ہے بائے۔”

مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے فون رکھ دیا۔ ساری بےچینی پل میں ہوا ہوئی تھی۔ اب بےشک کچھ بھی ہو جائے کم از کم یہ اطمینان تو رہے گا کہ ملک بلاج صرف یاسمین عباسی کا ہے یہاں بھی اور وہاں بھی۔۔۔

بچھڑ گئے اس جہاں میں تو کیا

اُس جہاں میں تو بچھڑنے کی روایت نہیں ہے

یہ جسم نہ ہوا میرا تو کیا

یہ محبت تو کسی اور کی عنایت نہیں ہے

۔*********۔

صبح ہوتے ہی حویلی میں ہل چل مچ چکی تھی۔ برسوں بعد اس گھر میں پھر سے رونق لگی تھی۔ فائزہ بیگم کی تو خوشی کا ٹھکانہ ہی نہیں رہا تھا۔ جہاں سب ملازمین کو ہدایت دیتی کچن میں پکوان تیار کروا رہی تھیں۔ وہیں خاور لاؤنج کو دلہن کی طرح سجانے میں لگا تھا۔ ہر ایک وہاں رات میں ہونے والی تقریب کی تیاریوں میں لگا تھا۔ بلاج نے سارا انتظام اپنی حویلی میں ہی رکھا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ یاسمین اور اُس کے گھر والوں کو ان کی وجہ سے کسی پریشانی کا سامنا ہو۔ ابھی بھی وہ اوپر کھڑا سارے انتظامات دیکھ رہا تھا۔ جب شبانہ نے آکر اسے جہانگیر ملک کا پیغام دیا۔

” چھوٹے سرکار مہمان جا چکے ہیں اب آپ بڑے سرکار سے مل سکتے ہیں وہ بیٹھک میں موجود ہیں۔” وہ سر جھکائے بولی۔

” ٹھیک ہے آپ امی کو بتا دے گا میں بابا سائیں کے پاس گیا ہوں۔”

بلاج کہتا ہوا فوراً سیڑھیاں اُتر کر لاؤنج سے گزرتے ہوئے حویلی سے باہر نکل گیا۔ لان پار کرتے ہوئے سامنے بنی مہمانوں کی بیٹھک میں پہنچا جہاں جہانگیر ملک دلاور کے ساتھ بیٹھے سگار سلگا رہے تھے۔

” بابا سائیں !! “

” آؤ بلاج شبانہ بتا رہی تھی تمہیں ہم سے کوئی بات کرنی ہے۔” وہ اسے سامنے رکھے چھوٹے سے تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے گویا ہوئے۔

” جی بابا سائیں۔ بات تو کل ہی کرنا چاہتا تھا لیکن رات کافی ہوگئی تھی۔ اس لیے مناسب نہیں لگا۔” ایک نظر دلاور پر ڈال کر اس نے جہانگیر ملک کو دیکھا جو کھوجتی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔

” ایسی بھی کیا بات ہوگئی؟ آج تمہاری منگنی ہے کہیں ارادہ تو نہیں بدل لیا؟ ” طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے دلاور نے پوچھا ساتھ ہی سگار کا کش لیتے ہوئے دھواں ہوا کے سپرد کر دیا۔

” ارادہ تو بدل لیا لیکن یاسمین کو چھوڑنے کا نہیں بلکہ مضبوط رشتے میں باندھے کا۔ آج منگنی نہیں میرا اور یاسمین کا نکاح ہوگا۔” وہ پرسکون انداز میں بولا جبکہ سامنے تخت پر بیٹھے جہانگیر ملک اس کی بات پر یک دم بھڑک اٹھے۔

” دماغ خراب ہے تمہارا۔ سارے مہمانوں کو منگنی کی دعوت دے چکے ہیں۔ کیا جواب دیں گے ہم کہ کیوں آخری وقت میں فیصلہ بدل دیا۔ سب مہمان طرح طرح کی باتیں بنائیں گے۔ کچھ احساس بھی ہے تمہیں؟ “

غصّے سے بلاج کو گھورتے ہوئے بولے۔ بس نہیں چل رہا تھا اُس فساد کی جڑ کو ہی اُکھاڑ کر پھینک دیں۔ جس کی وجہ سے ان کا بیٹا اتنا باغی ہو گیا ہے۔

” بابا سائیں مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے کون کیا کہہ گا، کیا سوچے گا۔ میں بس آپ کی اجازت لینے آیا ہوں۔” بلاج اب بھی اسی طرح پرسکون سا بولا جبکہ گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے دلاور بڑی دلچسپی سے اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔

” جب تم طے کر ہی چکے ہو تو ہماری اجازت کی کیا ضرورت؟ ویسے بھی جب اُس لڑکی کو بہو بنانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو تمہارے اس فیصلے کو بھی قبول کرنا ہی پڑے گا۔” جہانگیر ملک نے اپنی ناگواری کو دباتے ہوئے کہا۔

دلاور نے بھنویں اچکا کر حیرت سے انہیں دیکھا جو چھوٹے بیٹے کے آگے ہتھیار ڈالے جا رہے تھے۔ اُس کے ہر فیصلے پر سر جھکاتے جا رہے تھے۔

” مطلب میں آپ کی طرف سے ہاں سمجھوں؟ ” امید بھری نظروں سے جہانگیر ملک کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

” اب یہ کڑوا گھونٹ بھی پینا پڑے گا۔ جاؤ جا کر کہہ دو اُس لڑکی کے ماں باپ سے۔ ” ہاتھ سے جانے کا اشارہ کرتے گویا انہوں نے بات ہی ختم کر دی۔

بلاج آگے بڑھا اور ان کے ہاتھ پر بوسہ دیتا بیٹھک سے باہر نکل گیا جبکہ اس کے جاتے ہی ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے دلاور جہانگیر ملک کو دیکھتے ہوئے بولا۔

” واہ !! کبھی ہمارے ساتھ اتنی رعایت نہیں کی۔ اس کی ہر ناجائز بات پر سر جھکاتے جا رہے ہیں۔”

” تم جو آج یوں عیاشیاں کرتے پھر رہے ہو یہ ہماری ہی ڈھیل کا نتیجہ ہے اور جہاں تک رہی بلاج کی بات تو تم اچھے سے جانتے ہو ہم یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔ ہم اُسے خود سے بدگمان نہیں کرنا چاہتے۔”

ہنکار بھر کر کہتے وہ اسے بھی ہاتھ سے جانے کا اشارہ کر چکے تھے۔ جس پر وہ خباثت سے مسکراتا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا۔

۔*********۔

” لیکن فائزہ بہن یوں اچانک نکاح؟ مطلب ایسی کیا بات ہوگئی کہ آپ نے یوں منگنی کی جگہ نکاح رکھ لیا؟ ” اسپیکر سے ابھرتی پریشان کن آواز نے کمرے میں چھائی خاموشی کو توڑا۔

اس وقت بلاج فائزہ بیگم کے کمرے میں ان کے سامنے موجود تھا۔ جو کمرے کے وسط میں کھڑی قمر بیگم سے فون پر بات کرتیں اس نئی تبدیلی کا بتا رہی تھیں۔ قریب ہی بیڈ پر بیٹھی جسمین بےتاثر چہرے سے ان کی باتیں سن رہی تھی۔ کوئی دلچسپی نہیں تھی یہ جاننے میں کہ کیوں منگنی کی جگہ اب نکاح ہو رہا ہے۔ یہ مروں کا فیصلہ تھا۔ جس پر ہمیشہ کی طرح فائزہ بیگم اور جسمین نے سر جھکا دیا تھا۔

” یہ ان کے بابا سائیں کا فیصلہ ہے۔ لیکن آپ پریشان نہ ہوں۔ جیسا چل رہا تھا سب ویسا ہی رہے گا۔ بس منگنی کی جگہ اب نکاح ہوگا۔” ان کی پریشانی بھانپ کر فائزہ بیگم سمجھاتے ہوئے بولیں۔

” پر اب ہم مہمانوں کو کیا بولیں گے سب کو منگنی کا کہہ چکے ہیں۔”

قمر بیگم کی بات پر اب کے فائزہ بیگم بھی خاموش ہو گئیں۔ ان کے تو خود سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اس بدلاؤ کی وجہ۔

” لائیں امی مجھے دیں۔ میں بات کرتا ہوں۔”

انہیں خاموش دیکھ کر بلاج نے ان کے ہاتھ سے موبائل لیا ساتھ ہی کان سے لگاتا قمر بیگم کو سلام کرتے ہوئے بولا۔

” آپ فکر نہیں کریں آنٹی۔ جو بھی سوال کرے تو کہہ دے گا۔ ہم نے آخری وقت پر فیصلہ بدل دیا۔ اس طرح کوئی آپ کو کچھ نہیں کہے گا۔ باقی میں خود دیکھ لوں گا۔”

” لیکن بیٹا پھر بھی۔۔۔”

” آنٹی بس اب آپ یہاں آنے کی تیاری کریں باقی رہی مہمانوں کی بات تو وہ تب ہی دیکھ لینگے۔”

بلاج نرمی سے ان کی بات کاٹتا ہوا بولا۔ اب انہیں کیا بتاتا یہ خود ان کی بیٹی کا ہی فیصلہ ہے۔ جو نہ جانے کونسے وہم پال کر بیٹھ گئی ہے۔

” ٹھیک ہے بیٹا۔ جیسے آپ لوگوں کو بہتر لگے۔” دھیمے لہجے میں کہتی وہ فون بند کر چکی تھیں۔

بلاج نے موبائل جیب میں رکھ کر فائزہ بیگم کو دیکھا جو خاموش کھڑی سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔

” آپ کو کچھ کہنا ہے؟ “

” یہ یقیناً تمہارا فیصلہ ہے بابا سائیں کا نہیں۔ ہیں نا؟ ” اسے دیکھتے ہوئے وہ یقین سے بولیں۔ آخر بیٹے کی رگ رگ سے واقف تھیں۔

” بالکل !! کوئی شک نہیں اس میں۔” ڈھٹائی سے اعتراف کرتا وہ کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ فائزہ بیگم اور جسمین ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔

“نئی بات نہیں ہے۔” مسکرا کر کہتے ہوئے جسمین نے کندھے اچکا دیئے۔

۔*********۔

ملک خاندان کی حویلی کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ رات کی تاریخی میں خوبصورت لان کو گولڈن لائٹس اور بھی حسین اور دلکش بنا رہی تھی۔ چاروں اطراف میں پھیلی گلاب کی خوشبو وہاں موجود مہمانوں کو سکون بخش رہی تھی۔ بلاج اور خاور نے تیاری میں کوئی کمی نہ چھوڑی تھی۔ ایک کے بعد ایک مہمان آتے جا رہے تھے۔ بیرونی دروازے کے آگے دلاور اور خاور مہمانوں کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ جبکہ اپنے کمرے کی کھڑکی پر کھڑی جسمین بیرونی دروازے سے داخل ہوتے مہمانوں کو دیکھتے ہوئے اُن چاروں کے نہ آنے کی دعا مانگ رہی تھی جب اچانک دلاور اور خاور بھی اسے اندر آتے دکھائی دیئے۔ شاید سارے مہمان آچکے تھے۔ جس کے باعث وہ دونوں اندر چلے آئے تھے۔ اس نے شکر کا سانس لیا جو اگلے ہی لمحے گلے میں اٹک گیا۔

” یہ !! “

بیرونی دروازے سے داخل ہوتے حذیفہ اور جنید اس کی پریشانی کو بڑھا گئے تھے۔ اُن کے پیچھے ہی نوید اور یوسف بھی داخل ہوئے۔ یوں تو سب نے ہی ایک جیسے لباس زیب تن کیے تھے۔ مگر سفید شلوار قمیض کے اوپر بلیک واسکٹ پہنے وہ وہاں موجود سب مہمانوں میں نمایاں لگ رہا تھا۔ ایک پل کو ساری پریشانی بھلائے جسمین اسے دیکھتی رہ گئی۔ جب بھی اسے یوسف کا خیال آتا تھا تو وہ اکثر یہی سوچا کرتی تھی کہ آخر ایسا کیا ہے اس میں جو یوسف جیسا حسین مرد اس کا دیوانہ بنا پھر رہا ہے؟ کچھ بھی تو نہیں۔۔۔

بے شک اس کی رنگت گوری تھی۔ صورت بھی قابلِ قبول تھی کہ کوئی بھی مرد اسے انکار نہیں کرتا مگر اُن مردوں میں یوسف حیدر بھی شامل ہو سکتا ہے یہ اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔

” تم آگئے۔”

وہ دھیرے سے بڑبڑائی۔ جبکہ نیچے کھڑے یوسف نے خود پر جمی کسی کی نظروں کو محسوس کرتے جونہی چہرہ اُٹھا کر اوپر دیکھا، اس کی نگاہیں پلٹنا بھول گئیں۔

گالڈن کڑھائی کے ساتھ میرون کلر کی فراک میں ملبوس، بالوں کا خوبصورت سا جوڑا بنائے، وہ ہلکے ہلکے میک اپ میں بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ نفاست سے کیے گئے میک اپ نے اس کے عام سے نقوش میں جان ڈال دی تھی۔ کہ اس وقت نیچے کھڑا یوسف حیدر واقعی یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ آیا کہ کیا وہ اتنی ہی حسین تھی یا آج اسے لگ رہی ہے۔

” ابے یوسف !! ” نوید نے اسے شانے سے تھام کر ہلایا۔

” کیا ہے۔” وہ جھنجھلایا۔

” کیا کر رہا ہے مروائے گا کیا چل۔” بازو سے اسے کھینچتے ہوئے وہ چاروں قریب ہی موجود خالی ٹیبل کی جانب بڑھ گئے۔ جبکہ اوپر کھڑی جسمین نے کھڑکی کا پردہ برابر کیا اور مڑ کر کمرے سے نکلتی بلاج کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ جہاں یاسمین اور لبابہ کے ساتھ فائزہ بیگم اور قمر بیگم بھی موجود تھیں جبکہ تمام مرد حضرات لان میں بلاج اور مولوی صاحب کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھے نکاح نامہ بھرنے میں مشغول تھے۔

” تم کہاں تھیں۔ کب سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔” فائزہ بیگم اسے دیکھتے ہی گویا ہوئیں۔

” بس اپنے کمرے سے آ رہی ہوں۔ آپ کو کچھ کام تھا؟ “

” ہاں !! جاؤ جا کر دیکھو ظفر بھائی (یاسمین کے ابو) نکاح کیلئے اندر تو نہیں آرہے۔”

جسمین سے کہتی وہ یاسمین کی جانب مڑی جو سنہرے کامدار جوڑے میں دلہن بنی کسی آسمان سے اُتری حور سے کم نہیں لگ رہی تھی۔

” لیں انکل اور خاور بھائی خود ہی آگئے۔”

اس سے پہلے جسمین کمرے سے باہر جاتی جب داؤد کے ساتھ ظفر عباسی اور خاور ملک خود ہی دستک دیتے کمرے میں چلے آئے۔ فائزہ بیگم نے انہیں دیکھتے ہی فوراً یاسمین کے چہرے پر گھونگھٹ کیا۔

ظفر صاحب آگے بڑھ کر یاسمین کے برابر ہی بیڈ پر بیٹھے اور نکاح کی اجازت لیتے ہوئے نکاح نامے پر دستخط کروانے لگے۔ لبابہ اور قمر بیگم نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ پاس کھڑے داؤد کی آنکھیں بھی بہن کو دیکھ کر نم ہونے لگی تھیں۔

ظفر صاحب نے دستخط کروا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا پھر اُٹھ کر دلاور اور داؤد کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکل گئے۔ ان کے جاتے ہی یاسمین اپنی امی اور بہن سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ رونے لگی۔

” امی آپ یاسمین بھابھی کو دیکھیں میں زرا باہر جا کر مہمانوں کو دیکھتی ہوں۔”

جسمین کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی اور سیڑھیاں اُتر کر لاؤنج سے ہوتی باہر لان میں چلی آئی جہاں اب بلاج سے نکاح کی اجازت لی جا رہی تھی۔

جسمین نے قریب ہی موجود پلر کی آڑ لی اور مسکراتے ہوئے اپنے جان سے پیارے بھائی کو دیکھنے لگی۔ جو سنہری شیروانی زیب تن کیے کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔

وہ یوں ہی مسکراتے ہوئے اس خوبصورت منظر کو دیکھتی رہی جب اچانک عقب سے آتی گھمبیر آواز پر چونکی۔

” ہمارا وقت کب آئے گا۔ جب ایسے ہی دستخط کر کے میں آپ کو اپنی دسترس میں لے لوں گا۔”

” اکثر اوقات حسین خوابوں کی تعبیر بہت بھیانک ہوا کرتی ہے مسٹر یوسف حیدر !! روک لو یہیں خود کو۔۔۔” پیچھے مڑ کر جسمین نے اس کی سیاہ آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔

” یہیں رکنے کیلئے آگے نہیں بڑھا تھا۔ ویسے بھی شادی تو بہانا ہے۔ وہ حق حاصل کرنے کے لیے جس میں میں آپ کو سرد گرم ہواؤں سے بچا کر رکھ سکوں، آپ کا خیال رکھ سکوں کہ تنکا بھی آپ کو نہ چبھ سکے۔ میری نظروں کے سامنے ہوں تاکہ یہ سکون ہو کہ آپ ٹھیک ہیں، خوش ہیں۔”

جسمین کی آنکھوں میں جھانک کر کہتا وہ اپنے ایک ایک لفظ پر یقین کرنے پہ اسے مجبور کر رہا تھا۔ وہ بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھے گئی۔

” اور؟ “

اس کے سحر میں جکڑتے ہوئے جسمین نے بےاختیار پوچھا۔ یوسف کا خاموش ہونا اسے اچھا نہیں لگا تھا۔ چاہے جانے کا احساس رفتا رفتا وجود میں سرایت کر رہا تھا۔ وہ چاہ کر بھی خود کو اس کی سوچوں سے باہر نہیں نکال پا رہی تھی۔

” اور آپ کی راہ سے ہر وہ پتھر ہٹا سکوں جو آپ کو تکلیف پہنچائے، ہر اس طوفان کے سامنے کھڑا ہو سکوں جو آپ تک آنا چاہے۔ اپنے کندھے پر سر رکھ کر آپ کا ہر آنسو اپنی پوروں پر سمیٹنا چاہتا ہوں۔ خوش رکھنا چاہتا ہوں، خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔ بس اتنا حق چاہتا ہوں۔”

جسمین کے چہرے پر آتی آواره لٹوں کو کان کے پیچھے کرتا وہ ایک ایک لفظ اس کی روح تک اُتار رہا تھا۔ جبکہ وہ بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھتی رہی۔ جیسے ابھی پلکیں جھپکیں اور سب غائب۔۔۔

” بہت مشکل ہے یوسف۔ اتنا مشکل کے ناممکن لگنے لگے۔” یوسف کو دیکھتے ہوئے اس نے دھیرے سے کہا۔

لان میں لگی جگمگاتی روشنیاں یوسف کی سیاہ آنکھوں میں پڑتیں انہیں اور بھی سحر انگیز بنا رہی تھیں۔ جنہیں یک ٹک دیکھتی جسمین بالکل فراموش کر چکی تھی۔ وہ اس وقت کہاں ہے، ارد گرد کیا ہو رہا ہے، کون دیکھ رہا ہے، کیا کر رہا ہے۔۔۔ یاد تھا تو بس سامنے کھڑا یہ شخص جو اس سے بےپناہ محبت کرتا تھا۔

” مشکل ہے ناممکن نہیں۔ مجھے بس آپ کا ساتھ چاہیئے باقی میں سب سنبھال لوں گا۔”

یوسف کی بات پر وہ چونک کر اس پُرفسوں لمحے کے اثر سے نکلتی دو قدم پیچھے ہٹی۔ ابھی وہ جانے کیلئے مڑی ہی تھی کہ دائیں جانب سے آتی خاور کی آواز پر اندر تک کانپ اٹھی۔

۔*********۔

” ابے یہ یوسف کہاں غائب ہو گیا۔ مجھے معلوم تھا یہ ایسا ہی کچھ کرے گا یہاں آکر۔” نوید لان میں ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے دانت پیس کر بولا۔

” ضرور مس جسمین کے پاس گیا ہوگا۔ فون کال کے بہانے بیوقوف بنا گیا۔”

حذیفہ نے ہنس کر کہتے ہوئے برابر میں بیٹھے جنید کو دیکھا جو گردن ہلا ہلا کر گنگناتا ساتھ دونوں ہاتھوں سے ٹیبل بھی بجا رہا تھا۔

” کھانے کے انتظار میں تو ہمارا کیوں دماغ کھا رہا ہے۔” اس کے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے حذیفہ نے اسے گھورا۔

” تم دونوں اس وقت سکون سے بیٹھ جاؤ۔ ایک تو اُس یوسف نے دماغ گھما رکھا ہے۔ اوپر سے تم بھی شروع ہو جاؤ۔”

غصّے سے انہیں گھور کر کہتا وہ پھر لان میں نظر دوڑانے لگا۔ پر یوسف میاں تو انہیں بیوقوف بنا کر ایسے غائب ہوئے تھے کہ واپس آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔

” تم دونوں ادھر بیٹھو میں زرا یوسف کو دیکھ کر آتا ہوں۔”

” کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یوسف آتا ہی ہوگا تو پریشان نہ ہو۔” اس کو کھڑے ہوتے دیکھ جنید نے فوراً ٹوکا۔

” کیسے پریشان نہ ہوں۔ خود موت کے منہ میں چل کر آگئے ہیں۔” نوید جھجھلایا۔

یہاں موجود لوگوں کو دیکھ کر ہی اسے عجیب سی وحشت ہو رہی تھی۔ ان کی دنیا میں اور جسمین کی دنیا میں فرق اسے واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔ جس کے بعد وہ طے کر چکا تھا۔ اب تو کسی بھی قیمت پر وہ یوسف کو مس جسمین کی طرف بڑھنے نہیں دے گا۔

” اچھا تھوڑی دیر تک رک کر انتظار کر لے پھر یوسف نہ آیا تو چلے جانا ڈھونے۔”

اس کا ہاتھ پکڑ کر حذیفہ نے واپس اسے کرسی پر بٹھایا۔ جس پر وہ زیرِ لب بڑبڑاتا بیٹھ تو گیا مگر نظر اب بھی یوسف کی تلاش میں ارد گرد گھوم رہی تھیں۔

۔*********۔

” کیا ہو رہا ہے یہاں؟ “

ماتھے پر بل ڈالے خاور تیز تیز قدم بڑھاتا ان کے پاس پہنچا۔ اس کی کرخت بھری آواز سن کر ہی جسمین کا چہرہ فق ہو گیا تھا جبکہ یوسف چہرے پر سنجیدگی لیے خاور کو دیکھ رہا تھا۔

” بھائی !! ” وہ زیرِ لب بولی۔ جسے پاس کھڑے یوسف نے بآسانی سن لیا۔

” کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہے ہو؟ ” سخت نگاہ جسمین پر ڈال کر وہ یوسف سے گویا ہوا۔

” میں مس جسمین کا اسٹوڈنٹ ہوں اور ہمیں بلاج بھائی نے یہاں بلایا ہے۔” یوسف نے اس ہی طرح سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

” اسٹوڈنٹ؟ ” اب کے خاور نے سوالیہ نظریں جسمین پر جمائیں۔ جو فوراً اثبات میں سر ہلا گئی تھی۔

” اگر اسٹوڈنٹ ہے بھی تو یہاں کیا کر رہا ہے۔ جا کر باقی مہمانوں کے ساتھ کیوں نہیں بیٹھتا اور یہ بلاج۔۔۔ بلاج نے کیوں بلایا؟ وہ کیسے جانتا ہے اسے؟ “

سخت لہجے میں کہتے ہوئے ایک بار پھر اس نے اپنا رخ یوسف کی طرف کرلیا۔ جو خود پر ضبط کرتا، اس کے نہ ختم ہونے والے سوالوں کو سن رہا تھا۔

” وہ بھائی۔۔۔”

” ارے یوسف !! اچھا ہوا تم آ گئے۔”

اس سے پہلے جسمین خاور کو بلاج اور یوسف کی ملاقات کا بتاتی، بلاج خود ہی وہاں چلا آیا۔ اسے دیکھتے ہی جسمین نے سکھ کا سانس لیا۔

” آپ نے بلایا تھا بلاج بھائی کیسے نہ آتے۔” مصافحہ کرتے ہوئے یوسف نے مسکرا کر کہا۔ خاور ناگواری سے انہیں دیکھنے لگا۔

” اسے تم نے بلا یا ہے؟ “

” ہاں صرف اسے نہیں اس کے دوستوں کو بھی۔” خاور کے سوال پر بلاج نے لہجے میں زرا سی سختی لاتے ہوئے کہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کوئی تماشا ہو اور ماحول بگڑ جائے۔

” سنبھال کر رکھو اپنے مہمانوں کو۔” طنزیہ لہجے میں کہتا خاور وہاں نکلتا چلا گیا مگر جانے سے پہلے ایک کڑی نظر یوسف پر ڈالنا نہیں بھولا تھا۔

” ویسے بلاج بھائی آپ نے تو کہا تھا منگنی ہے۔ لیکن آپ کا تو نکاح ہوا ہے۔ میں ابھی یہی مس جسمین سے پوچھ رہا تھا کہ ُآپ کے بھائی آگئے اور۔۔۔” دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔

یوسف کے جھوٹ پر جسمین نے چونک کر اسے دیکھا جس کے چہرے پر جھوٹ بول کر بھی شرمندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔

” ہاں پہلے منگنی ہی ہو رہی تھی پھر آخری وقت میں فیصلہ بدل دیا۔ سوچا بعد میں بھی تو نکاح کرنا ہی ہے تو پھر منگنی جیسے فضول جھمیلوں میں کیوں پڑنا اور بس پھر کر لیا نکاح۔” بلاج ہنستے ہوئے بولا۔ اس کی بات پر یوسف بھی مسکرا دیا۔

” اچھا فیصلہ کیا آپ نے نکاح مبارک ہو۔”

یوسف نے کہتے ہوئے ایک نظر جسمین پر ڈالی۔ جو خاموشی سے کھڑی ارد گرد دیکھ رہی تھی۔ مگر اندر سے خاور کا خوف بھی اسے کھائے جا رہا تھا۔

” بہت شکریہ !! اچھا جسمین میں زرا اندر جاتا ہوں جب تک تم یہاں مہمانوں کو سنبھال لو۔” یوسف کا شکریہ ادا کر کے وہ جسمین سے مخاطب ہوا۔

” جی بھائی !! ” جسمین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

بلاج مسکرا کر یوسف کا کندھا تھپکتے ہوئے آگے بڑھ گیا اور ایک بار پھر یوسف نے اپنا سارا دھیان جسمین کی طرف مرکوز کر دیا۔

” ڈرنے کی ضرورت نہیں آپ پر کبھی کوئی بات نہیں آنے دوں گا میں۔”

” جھوٹ بول کر۔” جسمین اس کے تھوڑی دیر پہلے بولے گئے جھوٹ پر طنز کرتے ہوئے بولی۔

“جھوٹ نہیں بولا۔ میں واقعی آپ سے نکاح کی وجہ پوچھنے والا تھا مگر باقی باتوں میں بھول گیا۔” یوسف مسکرایا۔

جبکہ اس کی بات پر جسمین گھوری سے نوازتی آگے بڑھ گئی۔ لیکن عقب سے آتی گنگنانے کی آواز سن کر مسکرائی ضرور تھی۔

” آپ کے شہر میں ہم لے کے وفا آئے ہیں

مفلسی میں بھی امیری کی ادا لائے ہیں

مفلسی میں بھی امیری کی ادا لائے ہیں “

سرشاری سے گنگناتا وہ خود بھی اپنے قدم ٹیبل کی جانب بڑھا چکا تھا۔

۔*********۔

وہ کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی بیڈ پر یاسمین بیٹھی نظر آئی ساتھ لبابہ بھی تھی۔ جو بلاج کو دیکھتے ہی شرارت سے مسکراتی وہاں سے اُٹھ کر فوراً کمرے سے باہر نکل گئی۔ جبکہ اسے دیکھتے ہی یاسمین مسکراتی ہوئی بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

” آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ ” اپنی بے ساختہ امڈ آنے والی شرم پر قابو پاتی وہ لہجے کو ہموار رکھتے ہوئے گویا ہوئی۔

” ہممم !! آپ؟ ” بلاج نے بھنویں اچکا کر اسے دیکھا۔ وہ دھیرے دھیرے اس کی جانب قدم بڑھا رہا تھا۔ یاسمین نے گڑبڑا کر نظریں پھیر لیں۔

” ہاں تو نکاح ہوگیا نا۔ تو اب تو آپ ہی بولوں گی۔ عزت دینی چاہیے نا شوہر کو۔ وہ الگ بات ہے تم اس لائق نہیں۔” آخر میں شرارت سے کہتی وہ پھر سے اپنی جون میں لوٹ چکی تھی۔

” اچھا رکو ابھی بتاتا ہوں۔” کہنے کے ساتھ ہی بلاج نے اسے بازو سے تھام کر ایک جھٹکے سے خود سے قریب کرتے ہوئے اس کی بولتی ہی بند کر دی۔

” کوئی آجائے گا۔” وہ منمنائی۔

” کوئی نہیں آرہا سب مہمانوں کے ساتھ مصروف ہیں۔ ویسے بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔”

بلاج نے نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اپنے سامنے کیا ساتھ ہی اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں تھام لیا۔ جبکہ اس کی محبت لٹاتی نظروں سے گھبرا کر یاسمین نے نظریں جھکا لیں۔ چہرہ شرم سے سرخ پڑنے لگا تھا۔

” کل کیوں رو رہی تھیں؟ آخر چل کیا رہا ہے تمہارے دماغ میں مجھے بتاؤ۔”

دھیمے لہجے میں سوال کیا جو پھر سے یاسمین کے چہرے پر اداسی لے آیا۔ نکاح کی خوشی میں وہ اس بات کو بھول ہی بیٹھی تھی یا شاید اب سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی۔

” مجھے بس ڈر لگ رہا تھا کہ میں آپ کو کھو دوں گی اس لیے۔” بلاج کے چہرے کو ہاتھ سے چھوتی وہ خود کو یقین دلانے لگی، نگاہوں کی پیاس بجھانے لگی۔

” یاررر !! مانا کہ میرے بابا سائیں اور بڑے بھائی جلاد ٹائپ دیکھتے ہیں لیکن ہیں نہیں۔ تم بلاوجہ ہی پریشان ہو رہی تھیں۔ دیکھو ہوگیا ہمارا نکاح۔ مجھ پر سارے حقوق رکھتے ہوئے اب تم میرے سامنے کھڑی ہو۔” محبت سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔

یاسمین جو بڑے آرام سے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی ایک بار پھر شرم وحیا کے رنگ چہرے پر لیے دھیرے سے نظریں جھکا گئی۔ چہرہ تپ اُٹھا تھا۔ بلاج کی قربت سے لرزتی پلکوں کو اُٹھانے کی کوشش میں وہ ناکام ہو رہی تھی۔

بلاج نے مسکراتے ہوئے اس کی پلکوں کو اپنی پوروں سے چھوا اور آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے اپنے سینے سے لگا چکا تھا۔

” ویلکم ٹو مائے لائف مسز یاسمین بلاج !! “

کان میں سرگوشی کی جس پر یاسمین نے پُرسکون ہوتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔

” مجھے اچھا لگتا ہے تیرا نام اپنے نام کے ساتھ

جیسے صبح جُڑی ہو کسی حسین شام کے ساتھ “

۔*********۔

” یوسف تو آخر سمجھتا کیوں نہیں ہے بات کو؟ ” نوید کمرے میں داخل ہوتے ہوئے غصّے سے بولا۔

تھوڑی دیر پہلے ہی چاروں ملکوں کی حویلی سے واپس لوٹے تھے۔ جس کے بعد جنید اور حذیفہ تو اپنے گھر کیلئے روانہ ہوگئے تھے مگر نوید نے یہیں رک کر یوسف سے بات کرنے سوچا تھا۔ جس کے بعد اب وہ یوسف کے کمرے میں کھڑا غصّے سے اسے دیکھ رہا تھا جو کچھ سننے کیلئے تیار ہی نہیں تھا۔

” کیا سمجھوں تیری بات ہاں؟ کہا نا میں جسمین کو نہیں چھوڑوں گا بس بات ختم۔” چلا کر کہتا وہ واسکٹ اُتار کر بیڈ پر پھینک چکا تھا۔

” تو نے کیا اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں؟ تو نے دیکھا نہیں زمین آسمان کا فرق ہے مس جسمین کی اور ہماری دنیا میں۔ جانتے بوجھتے تو موت کے منہ میں جا رہا ہے۔”

نوید نے کہتے ہوئے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔ بس نہیں چل رہا تھا یوسف کے سر پہ کچھ دے مارے تاکہ اس کی عقل تو ٹھکانے آئے۔

” موت برحق ہے۔ کسی سے ڈرتا نہیں میں۔” یوسف بھی دوبدو بولا ساتھ ہی آگے بڑھ کر الماری سے پہنے کیلئے ٹی شرٹ اور ٹراؤزر نکالنے لگا۔

” موت برحق ہے۔ لیکن جانتے بوجھتے موت کے منہ میں جانا بیوقوف ہے اور میں تجھے یہ بیوقوفی نہیں کرنے دوں گا۔”

نوید نے اس کی پُشت کو گھورتے ہوئے کہا۔ جو اب کمرے میں لگے پردے کے پیچھے جا کر کپڑے بدلنے لگا تھا۔

” تو اگر میرا ساتھ نہیں دے سکتا تو تو یہاں سے جا سکتا ہے۔ مجھے تیری نصیحت کی بھی ضرورت نہیں۔” ہاتھ میں شلوار قمیض تھامے یوسف پردے کے پیچھے سے نکل کر عین اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ جو بے یقینی سے اسے دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہا تھا۔

” یعنی مس جسمین تیرے لیے اتنی اہم ہوگئی ہیں کہ اُن کے پیچھے مجھے جانے کو بول رہا ہے۔”

“میں تجھے تیری باتوں کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ ہر بات میں مس جسمین کو بیچ میں نہیں لا۔”

ناگواری سے کہتا ہوا ایک بار پھر وہ الماری کی طرف بڑھا اور ہاتھ میں پکڑا سوٹ تہہ کر کے الماری میں رکھ دیا۔

” بیچ میں تو تو لے ہی آیا ہے یوسف وہ بھی ہمارے بیچ میں۔” نفی میں سر ہلا کر کہتا وہ جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ رک کر یوسف کو دیکھا۔

” جا رہا ہوں۔ اب تب ہی ملوں گا جب ہمارے بیچ سے مس جسمین چلی جائیں گی۔”

کہنے کے ساتھ ہی نوید سیدھا وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ یوسف گرنے کے سے انداز میں بیڈ پر بیٹھتا بالوں کو مٹھی میں جکڑ چکا تھا۔

” یہ عشقِ محبت کی روایت بھی عجیب ہے صاحب

پایا نہیں ہے جس کو اُسے کھونا بھی نہیں چاہتے “

۔*********۔

صبح ہوتے ہی حویلی میں ایک اور مسئلہ کھڑا ہو چکا تھا۔ خاور جو کل رات سے یوسف کو لے کر مشکوک ہو رہا تھا۔ اپنے تمام شکوک وشبہات لیے جہانگیر ملک کے کمرے میں جا پہنچا۔ جس کے بعد دلاور اور بلاج کو بھی وہیں بلا لیا گیا تھا اور اب جہانگیر ملک اپنے سامنے صوفے پر بیٹھے بلاج سے غضبناک لہجے میں باز پرس کرنے میں لگے تھے۔ جسکے جواب وہ بڑے سکون سے دے رہا تھا۔

” میری یوسف سے ملاقات ہسپتال میں ہوئی تھی جب وہ اپنے ابو کو لے کر آیا تھا۔ تب سے میں اُسے جانتا ہوں بعد میں پتا چلا وہ جسمین کا اسٹوڈنٹ ہے۔ جس کے باعث یوسف سے اچھی بات چیت ہوگئی تھی۔ اس لیے میں نے بلا لیا اُسے نکاح پر اس میں برائی کیا ہے۔” سکون سے بتاتے ہوئے اس نے جہانگیر ملک کو دیکھا جو پیشانی پر انگنت شکنیں لیے اسے گھور رہے تھے۔

” تمہارا مہمان تھا تو تم تک رہتا۔ جسمین سے باتیں کیوں کر رہا تھا؟ “

بائیں جانب صوفے پر بیٹھے دلاور نے ناگواری سے کہا۔ جس پر بلاج کا دل چاہا اپنا سر دیوار میں دے مارے۔ وہ کب سے ایک ہی بات دھرا رہا تھا۔ جسے وہ سمجھنے کیلئے تیار ہی نہیں تھے۔

” کہا تو ہے جسمین کا اسٹوڈنٹ ہے۔ وہ یہاں مجھے اور جسمین کو ہی جانتا تھا تو ظاہر سی بات ہے ہم دونوں سے ہی ملے گا۔”

” اتنا بڑا اسٹوڈنٹ؟ ” خاور نے آگ کو مزید بھڑکایا۔

” وہ چھوٹا ہے جسمین سے۔ پر آپ اپنی سوچ کو تھوڑا بڑا کر لیں۔” ناگواری سے کہتے ہوئے اس نے خاور کی طرف سے رخ پھیر لیا۔

” کتنا چھوٹا دو تین سال؟ جسمین سے تو بڑا ہی لگ رہا تھا بابا سائیں وہ۔” بلاج کی بات پر خاور نے جہانگیر ملک کی معلومات میں مزید اضافہ کیا۔

” بابا سائیں ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ لوگ سمجھ رہے ہیں۔ بےفکر رہیں اب وہ ادھر کبھی نہیں آئے گا۔”

بلاج نے بات بگڑتے دیکھ بات ہی سمیٹ لی۔ ویسے بھی جس مقصد کیلئے اس نے یوسف کو بلایا تھا وہ پورا ہو گیا تھا۔ اس لیے وہ اب نہیں چاہتا تھا کوئی نیا مسئلہ کھڑا ہو۔

” آئندہ اس حویلی میں کوئی باہر کا آدمی نہیں آنا چاہیئے۔ یہ پہلی غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں۔ لیکن اب اگر ایسا ہوا تو ہر ایک اپنے انجام کا خود ذمہ دار ہوگا۔”

جہانگیر ملک نے غصّہ ضبط کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا۔ برادری سے باہر کی لڑکی کو بہو تو بنا لائے تھے مگر کسی بھی قیمت پر وہ گھر کی بیٹی کو غیر برادری کی بہو نہیں بنے دینگے۔

” آپ فکر نہیں کریں ایسا ہی ہوگا۔ لیکن اب اس بارے میں جسمین سے کوئی بات نہیں کرے گا۔”

بلاج کہتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا اور سیدھا جہانگیر ملک کے کمرے سے نکل کر ہسپتال کیلئے روانہ ہوگیا جبکہ کمرے میں بیٹھے اُن تینوں کا غصّے سے بُرا حال تھا۔

” اب دیکھے گا جس طرح اس نے اُس کم ذات لڑکی کو ہمارے گھر کی بہو بنا دیا ایسے ہی جسمین کو کسی کم ذات مرد کے ساتھ بیاہ دے گا اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائے گے۔” دلاور ہنکار بھر کر کہتا سگار کا کش لینے لگا۔

” ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔ اُس سے پہلے ہی میں جسمین کا رشتہ کسی اپنی برادری کے مرد سے کر دوں گا اور اس بار بلاج بھی کچھ نہیں کہہ سکے گا۔” جہانگیر ملک کی بات پر دلاور طنزیہ انداز میں مسکرایا۔

” لیکن رشتہ آئے گا کہاں سے اب تو وہ دلدار خان بھی ہمارا دشمن بنا بیٹھا ہے۔”

خاور نے پیشانی پر بل ڈالے پوچھا۔ اسے یوسف کی شخصیت نے ہی کئی وسوسوں میں ڈال دیا تھا۔ جس طرح بے خوف انداز میں یوسف نے اسے جواب دیا تھا یہ باور کرانے کیلئے کافی تھا کہ وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں۔ گو کہ اسے یقین تو نہیں تھا کہ یوسف اور جسمین کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ لیکن اپنے شک کو بھی یقین میں بدلنے نہیں دینا چاہتا تھا۔

” اس کی فکر نہیں کرو ہم جلد ہی اس کا انتظام کر لینگے فی الحال اپنی پارٹی پر توجہ دو۔ دلدار خان لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکانے میں لگا ہے۔ کچھ ایسا کرو کے سب خودبخود ہماری طرف لوٹ آئیں۔”

سگار کے کش لیتے ہوئے جہانگیر ملک متفکر سے بولے شیراز کے رشتے سے انکار کے بعد دلدار خان نے لوگوں کو بھڑکا کر اپنی جانب متوجہ کرنا شروع کر دیا تھا جو جہانگیر ملک کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوا تھا۔

” ٹھیک ہے بابا سائیں اس کا بھی کام ہوجائے گا آپ پریشان نہ ہوں۔”

دلاور سگار کا دھواں ہوا کے سپرد کرتا صوفے پر سے اُٹھا اور خاور کو ساتھ آنے کا کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ جبکہ جہانگیر ملک پُر سوچ انداز میں غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے کسی فیصلے پر پہنچ چکے تھے۔ بس اب عمل کرنا باقی تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *