Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

بیل مسلسل بجے جا رہی تھی۔ وہ حیدر صاحب کو دلیا کھلا کر کمرے سے باہر نکلا اور بیرونی دروازے کی طرف آیا۔ جس کے پار کھڑا شخص شاید کچھ زیادہ ہی جلدی میں تھا۔
" او بھائی صبر کر لیا کرو بندہ چل کر آتا ہے اُڑ کر نہیں۔"
اس نے بلند آواز میں کہتے ہوئے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے اُن تینوں کو کھڑے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
" کیا دروازے پر ہی کھڑا رکھے گا یا اندر بھی آنے دے گا۔"
نوید کی بات پر وہ فوراً دروازے سے ہٹ کر ایک سائڈ پر ہوا۔
" تم لوگ اچانک کیسے؟ "
" کیسے کیا مطلب؟ انکل کی طبیعت خراب ہے اُن سے ملنے آئے ہیں۔" اب کے حذیفہ بولا۔
" تمہیں کیسے پتا ابو کی طبیعت خراب ہے؟ " یوسف نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔ اس نے تو کسی کو بتایا ہی نہیں تھا پھر انہیں کیسے خبر ملی۔
" ظاہر سی بات ہے۔ بغیر کسی وجہ کے تم چھٹی نہیں کرتے اور آج تو اسائمنٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اور تم آج ہی غائب ہوگئے۔" نوید نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
" ہاں پہلے تو لگا تم بیمار ہوگے۔ لیکن اب جب تم صحیح سلامت کھڑے ہو تو۔۔۔"
" تو تم سمجھ گئے ابو کی طبیعت خراب ہے۔" جنید کی بات کاٹ کر یوسف فوراً بولا۔
" ہاں اور اگر تمہاری انویسٹیگیشن ختم ہو گئی تو اب ہم انکل سے مل لیں۔"
" ہاں کیوں نہیں آؤ۔" حذیفہ کی بات پر وہ انہیں ساتھ لیے اندر کی جانب بڑھ گیا۔
" السلام علیکم انکل !! "
" وعلیکم السلام !! آؤ آؤ میرے شہزادوں بڑے دنوں بعد چکر لگانا ہوا۔" حیدر صاحب پیار سے انہیں دیکھتے گویا ہوئے۔
" طبیعت بھی تو بڑے دنوں بعد خراب ہوتی ہے نا آپ کی۔"
زبان میں اُٹھتی کھجلی کے باعث جنید ایک دم بولا پڑا۔ جس پر نوید اور حذیفہ کو تو کھانسی اُٹھ آئی۔ جبکہ یوسف نے گھور کر اسے دیکھا ساتھ دائیں ہاتھ کا مکا بنا کر اس کی کمر پر جڑ دیا۔ البتہ حیدر صاحب اس کی بات پر ہنس دیئے تھے۔
" یعنی تم لوگوں سے ملاقات کیلئے مجھے روز بیمار ہونا پڑے گا۔"
" ارے نہیں انکل !! ہماری عمر بھی آپ کو لگ جائے میں تو مذاق کر رہا تھا۔" جنید نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے عقیدت سے ان کے ہاتھ تھام لیے۔
حذیفہ اور نوید بھی ان کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئے تھے۔ انہیں باتیں کرتا دیکھ یوسف مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل کر ان کے کھانے پینے کا انتظام کرنے باہر چلا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *