Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq (Episode 02)

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

فٹبال گراؤنڈ میں چلتے ہوئے وہ لڑکوں کو کھیلتے کودتے دیکھ رہی تھی فری پیریڈ کی وجہ سے وہ ادھر چلی آئی تھی۔ جہاں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ذہن کو سکون عطا کر رہے تھے۔ گلابی شلوار قمیض میں سر پر دوپٹہ لیے اس نے بھوری کام دار چادر کو مضبوطی سے اپنے گرد لپیٹ کر قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ پیچھے سے اُڑتی بال سیدھا اس کی کمر پر آ لگی۔

” اففف !! “

غصّہ ضبط کرتے ہوئے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ جہاں سر پر ہاتھ رکھے زبان دانتوں میں دبائے یوسی دی گریٹ کھڑا تھا۔ ساتھ ہی وہ تینوں سفید چہرہ لیے کبھی اسے تو کبھی جسمین کو دیکھ رہے تھے۔

” سوری مس جسمین غلطی سے ہوگیا۔” نوید جلدی سے بولا۔

جسمین نے جھک کر بال اُٹھائی اور کچھ بھی کہے بغیر ان کی طرف اُچھال کر واپس مڑ گئی مگر جانے سے پہلے ایک نظر یوسف کو دیکھنا نہیں بھولی تھی۔ جو معافی مانگنے کے بجائے ڈھیٹ بنا کھڑا تھا۔

“بدتمیز !! ” وہ بڑبڑاتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔

” بچ گئے یار ورنہ مجھے تو لگا تھا آج واقعی سر کے آفس لے جائیں گی۔” حذیفہ نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔

” مجھے تو لگ رہا ہے یہ پرسوں والے اسائمنٹ میں ہم سے بدلہ نکالنے والی ہیں۔” جنید جسمین کی پُشت کو گھورتے ہوئے بولا۔

” یار بس بہت ہوگیا۔ اب ایک لفظ مس جسمین کے خلاف نہیں۔” نوید نے جنید کو گھورا اور یوسف کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ ایک بار پھر اپنے کھیل میں مشغول ہو چکا تھا۔

” تمہیں سوری کرنی چاہیے تھی یوسی۔” نوید نے بال کو ٹانگوں سے روکتے ہوئے کہا۔

” تم نے بول تو دیا ایک ہی بات ہے۔” وہ سرسری لہجے میں بولا۔

” ہاں پر۔۔۔” نوید بول ہی رہا تھا کہ یوسف نے اس کی بات کاٹ دی۔

” یار میں نے جان بوجھ کر نہیں مارا اور اب بس فٹبال پر دھیان دو مس جسمین چلی گئیں۔” اس نے جھنجھلاتے ہوئے بال کو ہٹ کیا جو اب کے سیدھا اُڑتا ہوا سر وقار کے سر پر جا لگا۔ وہ غصّے سے چلاتے ہوئے پیچھے مڑے۔

” یوسفففف !! “

اور بس ہواؤں میں گونجتی ان کی آواز کے ساتھ ہی وہ چاروں کسی بوتل کے جن کی طرح وہاں سے غائب ہو چکے تھے۔

۔*********۔

” امی بہت دور ہو رہا ہے ٹھیک سے بام لگائیں۔” وہ بیڈ پر لیٹی کراہتے ہوئے بمشکل بولی۔

” آخر کیسے لگ گئی بال؟ ” فائزہ بیگم نے اس کی کمر پر موجود سرخ نشان کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” کہا تو ہے۔ بچے کھیل رہے تھے۔ لگ گئی آکے بال تو اب کیا پکڑ کر مارتی اُنہیں۔” اس نے منہ بسور کر جواب دیا ساتھ ہی دل ہی دل میں یوسف کیلئے کوسنے بھی جاری تھے۔

” اچھا یہ دوائی لگا دی ہے آرام کرو کل یونی نہیں جانا ٹھیک ہے۔”

” جی ” وہ کراہتے ہوئے سیدھے ہو کر لیٹ گئی۔ فائزہ بیگم نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا جہاں تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔ وہ دوائی اُٹھا کر بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئیں۔

” دودھ بھجوا رہی ہوں پی لینا۔” وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔ جبکہ جسمین نے بڑبڑاتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں۔

” بیڑا غرق ہو یوسف !! “

۔*********۔

” تمہاری پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟ “

حیدر صاحب نے کھانا کھاتے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھا جس پر تھکن سوار تھی۔ وہ ابھی کوچنگ سینٹر سے بچوں کو پڑھا کر آیا تھا اور آتے ہی کھانا گرم کر کے تخت پر ہی کھانے بیٹھ گیا تھا۔

” اچھی جا رہی ہے۔” اس نے مختصر سا جواب دیا۔

” اور کوچنگ؟ “

” وہ بھی۔ بس جلدی ماسٹر ہوجائے جاب ملتے ہی سینٹر چھوڑ دوں گا۔ پھر ایک ملازم بھی رکھ لوں گا جو گھر کے کام کر دیا کرے۔” اس نے مسکرا کر کہا جبکہ حیدر صاحب کو اس کے پیچھے چھپی اداسی اچھے سے محسوس ہوگئی۔

” ماں کو مس کر رہے ہو؟ ” ایک اور سوال جو اس کی مسکراہٹ کو چھین گیا۔

” نہیں۔۔ مطلب ہاں۔۔۔ مطلب اُنہیں بھولا کون ہے۔ وہ تو یاد بن کر ہمیشہ مجھے اپنے پاس محسوس ہوتی ہیں۔” وہ افسردگی سے بولا۔

” تبھی کہتا ہوں شادی کر لو تاکہ تمہارا دل بہل جائے۔”

” ابو پلیز !! یہ باتیں نہ کریں اور ویسے بھی کون ہمیں اپنی لڑکی دے گا۔ آپ کی تنخواہ میری یونی کی فیس بھرنے میں چلی جاتی ہے اور جو کچھ میں کما کر لاتا ہوں اس سے گھر کا خرچہ ہی پورا ہو جائے وہ ہی بہت ہے۔ ایسے میں کسے پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ وہ ہمیں اپنی بیٹی دے۔” وہ ٹھیک ٹھاک چڑ چکا تھا اس موضوع سے۔

” آنے والی اپنا نصیب خود لے کر آتی ہے۔”

” اب ایسا کوئی نہیں سوچتا ابا۔ آج کل لوگوں کا بینک بیلنس نہ بھرا ہو تب تک کوئی بیٹی نہیں دیتا اور اب بس کریں جب تک میں کچھ بن نہیں جاتا مجھ سے اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرے گا۔” وہ کہہ کر کھانے کے برتن اُٹھاتا کچن کی طرف بڑھ گیا۔

حیدر صاحب وہیں تخت پر بیٹھے اس کی پشت کو دیکھتے رہے۔ وہ اپنی زندگی میں ہی اس کا ہنستا بستا گھر بار دیکھنا چاہتے تھے۔ مگر اس خواہش پر وہ ہمیشہ ہی چڑ جاتا تھا۔

۔*********۔

فائزہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں تو وہ ابھی بھی سو رہی تھی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر کھڑکیوں پر پڑے پردے ہٹا دیئے۔ جس کے باعث چھن سے آتی سورج کی روشنی سیدھا اس کے چہرے پر پڑنے لگی۔ دھوپ کی تپش کے باعث جسمین نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ اس نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔

” اُٹھ جاؤ ایک بجنے والا ہے۔” فائزہ بیگم اسے دیکھتے ہوئے بولیں۔

” کیااااا !! آپ نے مجھے اُٹھایا کیوں نہیں؟ مجھے یونیورسٹی جانا تھا۔” جسمین تیزی سے اُٹھ بیٹھی۔

” کل تمہاری کمر میں درد تھا اس لیے میں نے نہیں اُٹھایا۔ جب تک آرام نہیں کروگی تو ٹھیک کیسے ہوگا۔” فائزہ بیگم کی بات پر جسمین خاموش ہوگئی پر پھر کچھ خیال آنے پر پوچھا۔

” بابا سائیں اور بھائی کہاں ہیں؟ “

” دلاور اور خاور بابا سائیں کے ساتھ جلسے کیلئے گئے ہیں اور بلاج ہسپتال میں کوئی ایمرجنسی کیس تھا تو وہ ہسپتال چلا گیا۔”

” اچھا ٹھیک ہے۔” وہ کہتی ہوئی بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔

” آپ ناشتہ تیار کروا دیں میں تیار ہو کر آتی ہوں۔”

” ٹھیک ہے۔”

فائزہ بیگم اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر چلی گئیں۔ جسمین نے بھی آگے بڑھ کر الماری سے کپڑے نکالے اور باتھ روم کی جانب بڑھ گئی۔

۔*********۔

” یار آج مس جسمین کیوں نہیں آئیں؟ “

وہ چاروں اس وقت پارکنگ میں موجود تھے جب جنید نے یاد آنے پر پوچھا۔

” تجھے کیا؟ ہوسکتا ہے بیمار ہوں یا کوئی کام ہو۔” یوسف فوراً بولا۔

” ابے !! کہیں تیری فٹبال نے اپنا کام تو نہیں دکھا دیا۔ جو آج وہ یوں غائب ہوگئیں۔” حذیفہ نے کل کے واقعے کو سوچ کر ہنستے ہوئے کہا۔

اس کی بات پر سب کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی تھی۔ (جانے سے پہلے وہ ایک نظر) سوچتے ہی یوسف کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔

” اور اسائمنٹ کا کیا بنا؟ سیمسٹر اسٹارٹ ہونے والے ہیں اور اس اسائمنٹ کے نمبر بھی اُس میں شامل ہوں گے۔” نوید سنجیدہ ہو کر بولا۔

” ہاں ہاں معلوم ہے۔ سر جمال نے بتا دیا تھا۔”

” لیکن اب تو مس جسمین لیں گی نا۔”

یوسف کی بات پر حذیفہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” ظاہر سی بات ہے۔ اب وہ ہیں تو وہ ہی لیں گی۔”

” اچھا چلو اب کل ملیں گے۔” یوسف کہتا ہوا بائیک پر بیٹھا ساتھ ہی بائیک اسٹارٹ کردی۔ نوید بھی ان دونوں سے مل کر یوسف کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ چند ہی لمحوں میں وہ سب اپنی اپنی منزلوں کی طرف گامزن ہو چکے تھے۔

۔*********۔

” بھائی یہ لیں چائے۔”

وہ بلاج کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔ سامنے ہی بلاج ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا اپنی گھڑی اُتار رہا تھا تھوڑی دیر پہلے ہی وہ ہسپتال سے واپس آیا تھا اور اب جہانگیر ملک کے کہنے پر وہ بھی جلسے میں شامل ہونے جا رہا تھا۔

یوں تو جہانگیر ملک کی خواہش تھی کہ ان کے تینوں بیٹے سیاست میں شامل ہوتے۔ مگر بلاج شاید ان کے ہر اصول اور خواہش کو توڑنے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ سیاست میں شامل ہونے کے بجائے اس نے ڈاکٹر کی فیلڈ کا انتخاب کیا تھا۔ حالانکہ یہ بات جہانگیر ملک کی طبیعت پر گراں گزری تھی۔ مگر اولاد کی محبت میں وہ یہ بھی برداشت کر گئے تھے۔

” آج تم یونی نہیں گئیں؟ ” بلاج نے اس کی طرف مڑتے ہوئے سوال کیا۔

” نہیں بھائی بس تھوڑی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔”

” ہاں امی بتا رہی تھیں۔ ویسے آج جمال کا فون آیا تھا مجھے بتا رہا تھا سب ٹیچرز یونی میں تمہاری بہت تعریف کر رہے ہیں۔” وہ مسکرا کر بولا۔ جسمین بھی دھیرے سے مسکرا دی۔

سر جمال اور بلاج بچپن کے دوست تھے۔ یوں تو سر جمال کی فیملی یو کے میں رہتی تھی پر وہ یہاں پاکستان میں ہی ہوتے تھے۔ کچھ ذاتی کام کی وجہ سے انہیں یو کے جانا پڑ گیا تھا جس کی وجہ سے سر جمال نے بلاج کو راضی کر کے اپنی جگہ جسمین کو یونیورسٹی میں بھیج دیا تھا۔ کہ جب تک اُن کی واپسی نہیں ہوتی وہ ان کی جگہ پڑھائے گی۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ کیونکہ جسمین اس یونیورسٹی کی ٹاپ کی اسٹوڈنٹ رہ چکی تھی۔ اس لیے آنکھیں بند کر کے اسے اپنی یونیورسٹی میں خوش آمدید کہا گیا تھا۔

” اچھا آپ یہ چائے پکڑیں میں زرا امی کی مدد کردوں۔” وہ کپ اسے پکڑا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ جبکہ بلاج پُر سوچ نظروں سے اسے جاتے دیکھتا رہا۔

” کیا بابا سائیں نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے؟ “

۔*********۔

رات بھر اسائمنٹ بنانے کے بعد بھی صبح اس کی آنکھ وقت پر کھل چکی تھی۔ نہا دھو کر فارغ ہوا تو اپنے اور حیدر صاحب کیلئے ناشتہ تیار کرنے کچھ میں چلا آیا۔

” حیرت ہے ابو ابھی تک نہیں اُٹھے۔”

وہ سوچتا ہوا ہاتھوں کو تیزی سے حرکت دینے لگا۔ چائے چڑھا کر وہ حیدر صاحب کے کمرے کی طرف بڑھا۔ عادت کے بر خلاف آج حیدر صاحب کافی دیر تک سو رہے تھے۔ ورنہ اس کے اُٹھنے سے پہلے ہی وہ ناشتہ تیار کر چکے ہوتے تھے۔

” ابو ابو اُٹھ جائیں۔”

یوسف اُنہیں آواز دیتا کچن سے نکل کر کمرے کی طرف بڑھا۔ ابھی کمرے کا دروازہ کھولا ہی تھا کے سامنے کا منظر دیکھ کر یکدم چلا اُٹھا۔

” ابو !! “

وہ تیزی سے آگے بڑھا اور فرش پر منہ کے بل گرے حیدر صاحب کو سیدھا کرکے ان کے گال تھپتھپانے لگا۔

” ابو۔۔۔ ابو آنکھیں کھولیں۔ کیا ہو گیا آپ کو؟ “

گھبراہٹ کے مارے اس کے اپنے ہاتھ پیر پھولنے لگے تھے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہونے لگی تھی۔

” کیا کروں؟ کیا کر۔۔۔ ہاں راشد۔۔۔راشد کو بلاتا ہوں۔” وہ تیزی سے اُٹھا اور پڑوس میں موجود رحم صاحب کے بیٹے کو بلانے چلا گیا۔

۔*********۔

کلاس اوف ہوچکی تھی وہ کلاس سے باہر نکل کر اسٹاف روم کی طرف بڑھ گئی۔ اسکے پیچھے ہی نوید سب اسٹوڈنٹس کے اسائمنٹ لے خاموشی سے چل رہا تھا۔ پریشانی اس کے چہرے پر واضح طور پر محسوس کی جاسکتی تھی۔

” یہ ادھر رکھ دیں۔” وہ ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی اور ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا جو الجھا الجھا لگ رہا تھا۔

” از ایوری تھنگ اوکے نوید ؟ “

” جی مس بس وہ آج اسائمنٹ جمع کروانا تھا نا لیکن یوسف نہیں آیا حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہوا مگر پتا نہیں آج کیا ہوا وہ فون بھی اٹینڈ نہیں کر رہا۔” نوید کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا مگر بولی کچھ نہیں۔

” میں جاؤں مس؟ ” جسمین کو خاموش دیکھ کر اس نے پوچھا۔

” ہاں جائیں۔” وہ فوراً بولی۔

نوید بھی سیدھا اسٹاف روم سے باہر نکل گیا۔ آج آخری تاریخ تھی اسائمنٹ جمع کروانے کی اور یوسف کا کچھ پتا ہی نہیں تھا۔

” کہاں ہو تم یوسی؟ “

فون کان سے لگائے وہ کینٹین کی جانب بڑھ گیا جہاں جنید اور حذیفہ اس کا انتظار کر رہے تھے۔

۔*********۔

” بہت بہت شکریہ راشد تم نے میری اتنی مدد کی ورنہ میں تو بہت پریشان ہو گیا تھا کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کیا کروں۔” یوسف اس کے گلے لگتے ہوئے بولا۔

تھوڑی دیر پہلے ہی وہ ہسپتال سے واپس آئے تھے۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا بلڈ پریشر لو ہونے کے باعث وہ بے ہوش ہو گئے تھے۔ کچھ کمزوری بھی حیدر صاحب کے اندر بڑھتی جا رہی تھی۔

” اب آپ پریشان نہ ہوں اور کوئی بھی بات ہو تو میرے نمبر پر کال کر دے گا میں آجاؤں گا۔” راشد نے اس سے الگ ہوتے ہوئے کہا۔

” ایک بار پھر بہت شکریہ یار۔”

” ایسے نہیں بولیں یوسف بھائی۔ آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔ آخر پڑوسی ایک دوسرے کی مدد کیلئے ہی ہوتے ہیں۔”وہ مسکرا کر بولا اس کی بات پر یوسف بھی دھیرے سے مسکرا دیا۔

” اچھا اب چلتا ہوں۔ انکل کا خیال رکھے گا بائے۔” راشد کہتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔ اس کے جاتے ہی یوسف کمرے میں آیا جہاں حیدر صاحب بیڈ پر لیٹے آرام کر رہے تھے۔

” آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔” یوسف ان کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھتا ہوا گویا ہوا۔

” میں بھی ڈر گیا تھا۔ اتنی جلدی مرنا نہیں چاہتا جب تک اپنی آنکھوں سے تمہارا ہنستا بستا گھر نہ دیکھ لوں۔” وہ نحیف سی آواز میں بولے۔

” ابو پلیز !! ایسی باتیں نہیں کریں کچھ نہیں ہوا آپ کو۔ ان شاءاللہ آگے بھی ٹھیک رہیں گے اور اپنے پوتا پوتی کو بھی دیکھ لیں گے۔” وہ لہجے میں شرارت لیے کہنے لگا۔ جس پر حیدر صاحب مسکرا دیئے۔

” ان شاءاللہ !! جلدی یہ دن اللّٰہ میری زندگی میں لائے۔”

” آجائے گا۔ لیکن ابھی آپ آرام کریں میں آپ کیلئے کچھ لائٹ سا بنا کر لاتا ہوں۔” وہ کہتا ہوا اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

حیدر صاحب اس کی پُشت کو دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں اس کے اچھے نصیب کی دعا کرنے لگے۔ اس بات سے انجان کے آنے والا وقت ان کے بیٹے کی زندگی میں کیا طوفان لانے والا ہے۔

۔*********۔

بیل مسلسل بجے جا رہی تھی۔ وہ حیدر صاحب کو دلیا کھلا کر کمرے سے باہر نکلا اور بیرونی دروازے کی طرف آیا۔ جس کے پار کھڑا شخص شاید کچھ زیادہ ہی جلدی میں تھا۔

” او بھائی صبر کر لیا کرو بندہ چل کر آتا ہے اُڑ کر نہیں۔”

اس نے بلند آواز میں کہتے ہوئے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے اُن تینوں کو کھڑے دیکھ کر حیران رہ گیا۔

” کیا دروازے پر ہی کھڑا رکھے گا یا اندر بھی آنے دے گا۔”

نوید کی بات پر وہ فوراً دروازے سے ہٹ کر ایک سائڈ پر ہوا۔

” تم لوگ اچانک کیسے؟ “

” کیسے کیا مطلب؟ انکل کی طبیعت خراب ہے اُن سے ملنے آئے ہیں۔” اب کے حذیفہ بولا۔

” تمہیں کیسے پتا ابو کی طبیعت خراب ہے؟ ” یوسف نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔ اس نے تو کسی کو بتایا ہی نہیں تھا پھر انہیں کیسے خبر ملی۔

” ظاہر سی بات ہے۔ بغیر کسی وجہ کے تم چھٹی نہیں کرتے اور آج تو اسائمنٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اور تم آج ہی غائب ہوگئے۔” نوید نے مسکراتے ہوئے بتایا۔

” ہاں پہلے تو لگا تم بیمار ہوگے۔ لیکن اب جب تم صحیح سلامت کھڑے ہو تو۔۔۔”

” تو تم سمجھ گئے ابو کی طبیعت خراب ہے۔” جنید کی بات کاٹ کر یوسف فوراً بولا۔

” ہاں اور اگر تمہاری انویسٹیگیشن ختم ہو گئی تو اب ہم انکل سے مل لیں۔”

” ہاں کیوں نہیں آؤ۔” حذیفہ کی بات پر وہ انہیں ساتھ لیے اندر کی جانب بڑھ گیا۔

” السلام علیکم انکل !! “

” وعلیکم السلام !! آؤ آؤ میرے شہزادوں بڑے دنوں بعد چکر لگانا ہوا۔” حیدر صاحب پیار سے انہیں دیکھتے گویا ہوئے۔

” طبیعت بھی تو بڑے دنوں بعد خراب ہوتی ہے نا آپ کی۔”

زبان میں اُٹھتی کھجلی کے باعث جنید ایک دم بولا پڑا۔ جس پر نوید اور حذیفہ کو تو کھانسی اُٹھ آئی۔ جبکہ یوسف نے گھور کر اسے دیکھا ساتھ دائیں ہاتھ کا مکا بنا کر اس کی کمر پر جڑ دیا۔ البتہ حیدر صاحب اس کی بات پر ہنس دیئے تھے۔

” یعنی تم لوگوں سے ملاقات کیلئے مجھے روز بیمار ہونا پڑے گا۔”

” ارے نہیں انکل !! ہماری عمر بھی آپ کو لگ جائے میں تو مذاق کر رہا تھا۔” جنید نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے عقیدت سے ان کے ہاتھ تھام لیے۔

حذیفہ اور نوید بھی ان کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئے تھے۔ انہیں باتیں کرتا دیکھ یوسف مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل کر ان کے کھانے پینے کا انتظام کرنے باہر چلا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *