Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq (Episode 22)

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

” بلاج۔۔۔ بلاج بھائی آپ۔۔۔ آپ یہاں ؟ “

آٹھ سال بعد وہ اپنے سامنے اس شخص کو دیکھ رہا تھا۔ جسمین سے جڑا شخص۔۔۔ یوسف نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ بلاج بےجان ہوتے وجود کے ساتھ اس کے سامنے ہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

” کیا۔۔۔ کیا وہ بھی آئی ہیں؟ وہ تو مزار پر جایا کرتی تھیں۔ کیا آج بھی یہاں آئی ہیں؟ دیکھیں میں آٹھ سال سے یہاں بیٹھا اُن کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ۔۔۔ آپ خاموش کیوں ہیں بتائیں؟ ” بچوں جیسی معصومیت چہرے پر سجائے وہ بلاج کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بلاج نے نفی میں سر ہلا دیا۔

” اوہ !! نہیں آئیں۔ ابھی بھی نہیں آئیں۔”

سر کھجاتا یوسف نفی میں سر ہلاتے ہوئے دھیرے سے بڑبڑایا۔ کیا دیوانوں جیسی حالت تھی۔ بلاج کو سمجھ نہ آیا کیا بولے اس سے، کیا پوچھے اس سے۔

” اُن۔۔۔ اُن کی شادی ہوگئی تھی نا۔ بچے۔۔۔ بچے ہونگے۔ اب تو بڑے۔۔۔ بڑے ہوچکے ہوں گے۔” یوسف مسکرایا اور بلاج کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

” کیا انہوں نے اپنے کسی بیٹے کا نام میرے نام پر رکھا؟ کیا۔۔۔ کیا یوسف حیدر اُنہیں یاد ہے؟ کیا ماضی کی کتاب میں اب بھی یوسف حیدر کا نام درج ہے یا اُن صفحوں کو اپنی زندگی کی کتاب سے پھاڑ پھینکا؟ “

کیا بیتابی تھی اس کے لہجے میں۔ کیا آس تھی نظروں میں جیسے زندہ رہنے کی اُمید مانگ رہا ہو۔

بلاج کے سامنے بیٹھا یہ شخص کیا تھا؟ وہ سمجھ نہ سکا۔ محبت تو اس نے بھی یاسمین سے کی تھی پر اُس کے جانے کے بعد وہ آگے بڑھ گیا تھا۔ حورین کا شوہر بن گیا تھا پر۔۔۔ پر سامنے بیٹھا یہ شخص کیا تھا؟ جس نے اپنی زندگی کے آٹھ سال ایک لڑکی کیلئے برباد کر دیئے تھے۔ محبت تو بلاج نے بھی کی تھی، محبت تو یوسف نے بھی کی تھی پر۔۔۔ پر شاید “یاسمین عباسی” ، “جسمین ملک” کی طرح خوش قسمت نہیں تھی کہ ایک مرد اُس کیلئے اپنی زندگی کو یوں برباد کرتا۔ یہ شرف تو بس جسمین کو حاصل ہوا تھا کہ آٹھ سال بعد بھی وہ کسی کے دل میں دھڑکن بن کر دھڑکتی تھی۔

“یوسف تم۔۔۔ تم نے یہ کیا حال۔۔۔ “

دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔ اس شخص کے آگے اپنا آپ بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔ یاسمین سے وعدے اس نے کیے تھے۔ جنہیں وہ نبھا نہیں سکا اور یوسف۔۔۔

یوسف نے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ وہ تو التجائیں کرتا رہا تھا۔ جسے جسمین نے بیدردی سے دھتکار دیا تھا۔ پھر ایسا کیوں تھا کہ آج بھی وہ اس ہی در پر پڑا تھا۔ جبکہ لاکھ وعدوں کے بعد بھی بلاج آگے بڑھ گیا تھا۔

” آپ۔۔۔ آپ مجھے بتائیں۔ جسمین کا شوہر اُن کا۔۔۔ اُن کا خیال تو رکھتا ہے نا؟ اُس سے بولے گا خیال رکھا کرے کیونکہ یہ حق اُسے ملا ہے۔”

بلاج کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے یوسف نے پھر پوچھا۔ جبکہ اس کی بات پر بلاج نفی میں سر ہلاتا اُٹھ کھڑا ہوا۔ کم از کم اس کے پاس تو یوسف کے سوالوں کے جواب نہیں تھے اور نہ ہی اتنی ہمت تھی کہ مزید اس شخص کے سامنے بیٹھ سکے۔

” کہاں۔۔۔ کہاں جارہے ہیں رکیں۔۔۔ رکیں تو۔۔۔”

یوسف بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ مگر بلاج مسلسل نفی میں سر ہلاتا اُلٹے قدموں پیچھے ہٹتا جا رہا تھا کہ اچانک مڑا اور تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ جبکہ یوسف وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا۔

” وہ نہ ملیں تو کیا ہوا

یہ عشق ہے ہوس نہیں۔۔۔

میں اُنھیں کا تھا اُنھیں کا ہوں

وہ میرے نہیں تو نہ سہی۔۔۔”

۔*********۔

لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی کرن عالمگیر کوئی میگزین دیکھ رہی تھیں کہ تبھی ہاتھ میں سوٹ کیس پکڑے ماڈرن سی ” رجا ” سیڑھیاں اُترتی دکھائی دی۔

” اتنی صبح کہاں جا رہی ہو بیٹا؟ “

کرن عالمگیر نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ جس کی دو ہفتے پہلے ہی سمیر سے پسند کی شادی ہوئی تھی۔

” اپنے گھر؟ ” مختصر سا جواب دیتی وہ ان کے پاس آ کر رکی۔

” کیا مطلب ابھی ایک ہفتے پہلے تو تم رک کر آئی ہو۔” کرن عالمگیر نے ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھا۔

” میں رہنے نہیں بلکہ ہمیشہ کیلئے اپنے گھر جا رہی ہوں۔” وہ دانت پیس کر کہتی آگے بڑھنے لگی کہ یکدم کرن عالمگیر نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا۔

” یہ کیا کہہ رہی ہو آخر ہوا کیا ہے؟ “

” ہوا کیا ہے !! یہ آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں ہوا کیا ہے؟ ارے آپ کا بیٹا ایک نامرد ہے نامرد۔۔۔ اور آپ کہہ رہی ہیں ہوا کیا ہے۔” رجا بےباکی سے چلاتے ہوئے بولی۔

” اے لڑکی یہ کیا بکواس کر رہی ہو ہوش میں تو ہو۔” سارے لحاظ بالائے طاق رکھ کر اب وہ بھی کاٹ دار لہجے میں بولیں۔ کام کرتے سارے ملازمین جو ان کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔

” یہ بکواس نہیں حقیقت ہے۔ اس وجہ سے ہی آپ کی پہلی بہو طلاق لے کر گئی ہوگی اور اب میں بھی جا رہی ہوں۔” غصّے سے پھنکارتی وہ تیزی سے سوٹ کیس گھسیٹتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئی۔

” تم سب کیا تماشا دیکھ رہے ہو کام کرو۔” ملازمین پر چلاتے ہوئے کرن عالمگیر سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگیں کہ تبھی نائٹ گاؤن میں ملبوس سمیر بیتابی سے بھاگتا ہوا نیچے آیا۔

” امی رجا۔۔۔”

” چلی گئی وہ تمہارے منہ پر کالک مل کے۔” اس کی بات کاٹ کر کہتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔

” نہیں وہ ایسے کیسے جاسکتی ابھی تو میرے ساتھ سو رہی تھی۔” سمیر نے بڑبڑاتے ہوئے پاس موجود گلدان فرش پر دے مارا پھر واپس تیزی سے اوپر کی جانب بڑھا۔

” کیا کر رہے ہو رکو۔۔۔ رکو سمیر۔۔۔” کرن عالمگیر بھی اس کے پیچھے بھاگیں۔

” امی وہ ایسے کیسے جا سکتی ہے وہ تو مجھ سے پیار کرتی ہے۔ میں اُسے لے کر آؤں گا امی۔” سمیر کمرے میں آکر الماری سے کپڑے نکالنے لگا۔ عجیب دیوانوں جیسی حالت تھی۔

کرن عالمگیر وہیں دروازے پر کھڑی ہو کر اسے دیکھنے لگیں کہ اچانک ان کی آنکھوں میں جسمین کا روتا ہوا چہرہ آیا۔ ماضی میں کہی سمیر کی باتیں ان کے کانوں میں گوجنے لگیں۔

” جاؤ اپنے بھائی کے پاس۔ تمہاری اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ویسے بھی تمہارے اُس باپ اور دوسرے بھائیوں کی وجہ سے برداشت کر رہا تھا۔ پر اب مزید یہ ناٹک کرنے کی ضرورت نہیں۔”

” میں آپ کی بیوی ہوں کہیں نہیں جا رہی اور میرا نہیں تو اپنی بہن کا خیال کریں اُس گھر میں آپ کی بہن بھی رہتی ہے۔” جسمین کی ڈری ہوئی آواز سنائی دی۔

” نہ جانے وہ کونسا دن آئے گا جب میرے بیٹے کو اولاد ہوگی۔ مجھے سمیر کی دوسری شادی کرا دینی چاہیئے۔ یہ عورت تو کبھی اسے بچہ نہیں دے سکے گی۔” کبھی کے کہے اپنے الفاظ یاد آئے۔

“میں سمیر عالمگیر اپنے پورے ہوش و حواس میں جسمین ملک کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔”

وہ بےاختیار اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر سسک اُٹھیں۔ ماضی کی ساری باتیں دماغ میں گھومنے لگی تھیں۔ ایک جسمین تھی جو پانچ سال تک ان کے بیٹے کو صبر سے برداشت کرتی رہی۔ ایک شکوہ تک زبان پر نہیں آنے دیا تھا اور ایک رجا تھی۔ محبت کی دعوے دار جو چند دن بھی سمیر کو برداشت نہ کرسکی بلکہ سارے ملازمین کے سامنے اسے بے آبرو کر گئی۔

” دیکھ لو سمیر تمہیں جسمین کی آہ لگ گئی۔ جس طرح تم نے اُسے زلیل و رسوا کیا تھا۔ آج تم بھی ویسے ہی زلیل و رسوا ہو گئے۔” انہوں نے سمیر کو دیکھتے ہوئے سوچا۔ جو اب کپڑے بدل کر گاڑی کی چابی اُٹھا رہا تھا۔

” کہاں جا رہے ہو؟ “

” رجا کو لینے۔” کہتے ہوئے وہ آگے بڑھنے لگا کہ کرن عالمگیر نے اسے بازوؤں سے تھام لیا۔

” دماغ درست ہے تمہارا۔ کیوں تماشا بنانے پر تلے ہو۔ جانے دو اُسے ابھی تو گھر کے ملازموں کے سامنے یہ بات کھلی ہے پھر پوری دنیا کو پتا چل جائے گا۔ لوگ تھوکیں گے ہم پہ۔”

وہ اسے جھنجھوڑنے لگیں مگر وہ تو جیسے سن ہی نہیں رہا تھا۔ اپنے بازوؤں کو ان کی گرفت سے نکالتا آگے بڑھنے لگا کہ اچانک سر چکرایا اور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتا نیچے فرش پر جا گرا۔

” سمیر !! “

۔*********۔

گاڑی سیدھا مین گیٹ کے سامنے جا رکی تھی۔ چوکیدار نے گاڑی کو پہچانتے ہوئے فوراً دروازہ کھولا۔ جس پر اکمل گاڑی آگے بڑھاتا پورچ میں لے آیا۔

” چھوٹے سرکار گھر آ گیا۔”

اس نے بلاج کو پکارا جو سوچوں میں گم ساکت بیٹھا تھا۔ وہ اس سارے وقت میں ماؤف ہوتے ذہن کے ساتھ کس طرح اکمل کو گھر کا ایڈریس سمجھاتا آیا تھا یہ بس وہی جانتا تھا۔

” اچھا تم سامان اُٹھا کر اندر لے آؤ۔ میں سکینہ بی سے کہہ کر تمہارے گیسٹ روم میں رہنے کا انتظام کرواتا ہوں۔” بلاج کہہ کر گاڑی سے نکلتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔ وہ اس وقت صرف تنہائی چاہتا تھا۔

” سکینہ بی اکمل کیلئے گیسٹ روم کی صفائی کروا دیں۔ اب سے وہ ادھر ہی رہے گا اور ہاں کوئی بھی مجھے تنگ نہ کرے میں ابھی اکیلے رہنا چاہتا ہوں۔”

وہ کچن میں کام کرتیں سکینہ بی سے کہتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ساتھ ہی زور دار آواز کے ساتھ کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔

اُدھر جسمین جو اپنے کمرے میں لیٹی تھی۔ باہر سے آتی شور کی آواز سن کر فوراً کمرے سے باہر نکل آئی۔

” سکینہ بی کیا ہوا؟ یہ گیسٹ روم کیوں صاف کروا رہی ہیں؟ “

” وہ بی بی جی چھوٹے سرکار کے ساتھ کوئی مہمان آیا ہے۔ اُن کیلئے ہی یہ کمرہ تیار ہو رہا ہے۔” سکینہ بی نے تفصیل بتائی۔

” بھائی آگئے۔” جسمین نے چہرہ موڑ کر بلاج کے کمرے کی طرف دیکھا جس کا دروازہ بند تھا۔

” جی بی بی پر انہوں نے کہا ہے کوئی تنگ نہ کرے ابھی وہ اکیلے رہنا چاہتے ہیں۔”

” اکیلے۔۔۔”

جسمین نے ایک بار پھر دروازے کی طرف دیکھا اور پھر خود بھی کچھ سوچ کر واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

۔*********۔

” پریشان لگ رہے ہو، کیا بات ہے؟ “

وہ ڈرائنگ روم میں موجود صوفے پر بیٹھتے ہوئے گویا ہوا۔ سامنے ہی جنید بیٹھا ہوا تھا خاموش سا۔

” کوئی بات نہیں۔” جنید نے گہرا سانس لیتے ہوئے منہ پر ہاتھ پھیرا۔

” اچھا بتا فریال بھابھی اور دونوں بچے کیسے ہیں؟ ” حذیفہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر بات بدل دی۔

” سب ٹھیک ہیں۔ بس میں ٹھیک نہیں ہوں۔” وہ تھکے تھکے سے انداز میں کہہ اُٹھا۔ اس کی پریشانی حذیفہ اچھے سے سمجھ رہا تھا۔ پر کچھ بھی کرنے سے قاصر تھا۔

” جانتا ہوں جو تیرے دل و دماغ میں چل رہا ہے، میں سب سمجھ رہا ہوں۔ میری حالت بھی تجھ سے الگ نہیں ہے۔” حذیفہ اسے دیکھتے ہوئے بولا کہ تبھی ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھامے مسکان (حذیفہ کی بیوی) اندر چلی آئی۔

” السلام عليكم بھابھی !! “

” وعليكم السلام جنید بھائی !! آپ فریال اور بچوں کو ساتھ نہیں لائے؟ ” وہ ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے گویا ہوئی۔

” نہیں بھابھی سیدھا آفس سے آیا ہوں، اس لیے انہیں ساتھ نہیں لایا۔”

” اچھا چلیں ٹھیک ہے مگر اگلی بار ساتھ لے کر آئے گا۔”

” جی ضرور۔” جنید مسکرا کر بولا، جس پر مسکان سر ہلاتی واپس باہر چلی گئی۔

اُس کے جاتے ہی ڈرائنگ روم میں خاموشی چھا گئی تھی۔ حذیفہ نے چائے کا کپ اٹھا کر جنید کی طرف بڑھایا جسے اس نے تھام کر واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔

” اب میری امید دم توڑنے لگی ہے حذیفہ، کوئی تسلی، کوئی دلاسا اب کام نہیں آ رہا۔ میں کیا کروں؟ ” جنید کی بات پر حذیفہ اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ کچھ ایسا ہی حال اس کا بھی تھا۔

” نوید بھی شاید اس بات کو قبول کر چکا ہے۔ وہ اس بات کا اقرار نہیں کرتا۔ لیکن اب وہ یوسف کو ڈھونڈنے کے بجائے جسمین کے پیچھے پڑ گیا ہے۔” پیشانی کو مسلتے ہوئے جنید نے بےبسی سے کہا۔

” ہاں !! اب وہ انتقام کی آگ میں جل رہا ہے۔ شاید یوسف کے ملنے کی امید اب اس نے بھی چھوڑ دی ہے۔” حذیفہ دھیرے سے بولا۔ دونوں ہی نوید کے رویے کو نوٹ کر رہے تھے۔ مگر چاہتے ہوئے بھی اُسے روک نہیں سکتے تھے۔

” کیا۔۔۔ کیا واقعی یوسف اب اس دنیا میں نہیں رہا؟ کیا اب ہم کبھی اُس سے نہیں مل پائیں گے؟ “

ایک آس نظروں میں لیے اس نے حذیفہ کو دیکھا جیسے اپنے لفظوں کی نفی چاہتا ہو۔ پر سامنے بیٹھے شخص کے پاس بھی کوئی امید، کوئی دلاسا نہیں تھا جو اسے تھما سکے۔ وہ خاموش رہا اور ایک بار پھر چائے کا کپ اُٹھا کر جنید کی طرف بڑھا دیا۔ جسے اب کی بار پھر اُس نے تھام لیا مگر اب اب کی بار واپس ٹیبل پر نہیں رکھا تھا۔

۔*********۔

” میں اس کی محبت سے اک دن بھی مکر جاتا

کچھ اور نہیں ہوتا اس دل سے اتر جاتا

جس شام گرفتاری قسمت میں مری آئی

اس شام کی لذت سے میں اور بکھر جاتا

خوشبو کے تعاقب نے زنجیر کیا مجھ کو

ورنہ تو یہاں سے میں چپ چاپ گزر جاتا

آواز سماعت تک پہنچی ہی نہیں شاید

وہ ورنہ تسلی کو کچھ دیر ٹھہر جاتا

ذہنوں کے مراسم تھے اک ساتھ بھی ہو جاتے

اک راہ اگر کوئی دیوار میں کر جاتا

تاثیر نہیں رہتی الفاظ کی بندش میں

میں سچ جو نہیں کہتا لہجے کا اثر جاتا

اب تیرے بچھڑنے سے یہ بات کھلی مجھ پر

تو جان اگر ہوتا میں جاں سے گزر جاتا

دل ہم نے عظیمؔ اپنا آسیب زدہ رکھا

جو خواب جنم لیتا وہ خوف سے مر جاتا

(طاہر عظیم)

رات کی تاریکی میں ہوا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی۔ ایسے میں وہ ریلنگ پر ہاتھ ٹکائے بالکنی میں کھڑا تھا۔ بے تاثر چہرے سے غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے وہ سوچوں میں گم تھا کہ ایک تیز ہوا کا جھونکا اس کے چہرے کو چھو کر گزر گیا۔ ماتھے پر پڑے بال ہوا کے زور سے بے ترتیب ہوئے تھے جس کے ساتھ ہی ایک مانوس سا لمس اس کو پیشانی پر محسوس ہوا۔ آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو فریب کی گرفت میں آنے دیا۔ تخیل کو حقیقت بننے دیا۔ کوئی دھیرے سے اس کے بال ہٹا رہا تھا۔

” پریشان ہو؟ ” وہ پوچھ رہی تھی۔

” ہاں!! “

” کیوں؟ “

” کیا تمہیں نہیں پتا؟ ” اس نے چہرہ موڑ کر اس کی جانب دیکھا۔

” وہ ماضی کا بہترین فیصلہ تھا۔ یہ سب ایسے ہی ہونا تھا۔” اُس نے پریشانی سے نکالنا چاہا۔

” میں نے تمہارے ساتھ بھی ناانصافی کی یاسمین۔” بلاج نے اس کے چہرے پر نظریں جمائے کہا۔

یوسف سے ملنے کے بعد اس کے ملال میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔

” میں نے تمہیں زندگی سے نکال دیا۔”

” پہلے ہی نکل چکی تھی۔”

” میرے دل میں اب بھی ہو۔”

” ہمیشہ رہوں گی۔”

” کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟ “

“بالکل بھی نہیں۔”

وہ مسکرائی، بلاج کو اس کی مسکراہٹ بھلی لگی۔

” بلاج بھائی !! “

عقب سے آتی جسمین کی آواز پر وہ چونکا، تخیل مٹا وہ اکیلا کھڑا تھا۔ خالی الذہنی سے اس نے جسمین کی طرف دیکھا پھر گہرا سانس لے کر واپس چہرہ موڑتے ہوئے سامنے موجود روشنی سے جگمگاتے گھروں پر نظریں جما دیں۔

” آپ جب سے آئے ہیں ایک بار بھی بھابھی کے بارے میں نہیں پوچھا۔” جسمین نے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ اس کی طرف بڑھایا۔ جسے اس نے فوراً تھام لیا۔

” اس نے میسج کر کے بتا دیا تھا وہ گھر جا رہی ہے۔”

” یہ نہیں بتایا کیوں جا رہی ہیں؟ “

جسمین نے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ جس کے چہرے پر حد درجہ سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ وہ کچھ پریشان ہوئی۔

” نہیں۔”

” آپ نے پوچھا نہیں؟ “

” نہیں !! میں نے جاننا ضروری نہیں سمجھا۔” وہ ہنوز سامنے دیکھتے ہوئے بولا۔ جسمین اسے دیکھتی رہ گئی۔

” سمیر کی بیوی اُسے چھوڑ کر چلی گئی۔ کرن آنٹی بہت رو رہی تھیں۔ اس لیے حورین بھابھی اُن کے پاس چلی گئیں۔”

جسمین رجا کے گھر چھوڑ کر جانے کی وجہ نہیں جانتی تھی پر جتنا جانتی تھی اس کی تفصیل بلاج کو بتا دی۔ حالانکہ اُس نے پوچھا نہیں تھا پر بلاج کی خاموشی جسمین کو چبھنے لگی تھی وہ چاہتی تھی بلاج کوئی بات کرے، اس لیے سمیر کا ہی ذکر چھیڑ دیا۔

” ہنہہ !! دیر سے ہی سہی وہ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔” بلاج نے تلخی سے سوچا مگر بولا کچھ نہیں۔

” آپ پریشان لگ رہے ہیں کوئی بات ہے؟ “

” مجھے حورین سے شادی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔” اس کی زبان سے ایک دم پھسلا جسمین چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

” یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ “

” ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ اُس سے شادی کر کے میں نے منافقت کی ہے۔ دل میں کوئی “اور” زندگی میں کوئی “اور” بلکہ شاید ماضی میں کیا گیا میرا ہر فیصلہ غلط تھا۔” اس نے کھوئے کھوئے سے انداز میں کہا۔

” ماضی میں کیا گیا ہر فیصلہ، وقت کا بہترین فیصلہ تھا۔” جسمین بھی اب سامنے دیکھنے لگی تھی۔ کیا کچھ یاد نہیں آ گیا تھا۔

” نہیں اگر بہترین فیصلہ ہوتا تو آج پچھتا نہیں رہا ہوتا۔” بلاج نے اس کی بات کی نفی کی۔

” ہم کبھی “آنے” یا “جانے” والوں کو روک نہیں سکتے۔ یہ تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔”

” میں آج بھی صرف یاسمین سے محبت کرتا ہوں۔”

” وہ بیوی تھی آپ کی۔” جسمین نے سر ہلا دیا۔

” وہ محبت ہے میری۔” بلاج نے ترمیم کی۔

” حورین ایک اچھی لڑکی ہے مگر میں اُس سے محبت نہیں کر سکا۔”

” اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ دل پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا اور نہ ہی نکاح نامے پہ کہیں محبت کا خانہ ہوتا ہے۔ تبھی تو اللّٰه نے بیوی کو شوہر کی اطاعت اور شوہر کو حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔” وہ کہہ کر خاموش ہو گئی۔

بلاج نے بھی پھر کوئی بات نہیں کی تو جسمین نے ایک بار پھر چہرہ اس جانب موڑا، بلاج کے ہاتھ میں موجود کپ میں اب چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ اس نے کپ واپس لے لیا، وہ ابھی مڑ کر جانے ہی لگی تھی کہ بالکنی کے دروازے پر حورین کو کھڑا پاکر اس کے اُٹھتے قدم وہیں تھم گئے۔

” حورین بھابھی !! ” وہ بڑبڑائی۔

بلاج اس کی بڑبڑاہٹ کو سنتے ہوئے خود بھی پیچھے مڑا اور ایک پل کیلئے ٹھٹھک سا گیا۔

” کیا اس نے سب سن لیا؟ ” اس نے سوچا۔

جسمین سر جھکائے حورین کے سائڈ سے گزر کر بالکنی سے کمرے میں آئی اور حدید کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ پیچھے اب بس وہ دونوں رہ گئے تھے۔

” تم کب آئی؟ “

” جب آپ اپنی پہلی بیوی کو یاد کر رہے تھے یا یوں کہوں کہ مجھ سے شادی پر پچھتا رہے تھے۔”

حورین کے طنز پر اس نے آنکھیں گھمائیں، تو اس نے سن لیا تھا۔ بلاج کچھ بھی کہے بغیر کمرے میں آگیا کہ تبھی اسے اپنے پیچھے حورین کی آواز سنائی دی۔

” اتنا بڑا دھوکہ !! آپ شادی شدہ تھے۔”

” کوئی دھوکہ نہیں دیا۔ تمہارے گھر والے میری پہلی شادی کے بارے میں سب جانتے تھے۔” وہ ایک دم مڑ کر ناگواری سے بولا۔

پہلے ہی یوسف کی وجہ سے اس کا ذہن الجھا ہوا تھا اور اب یہاں ایک نئی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ ان آٹھ سالوں میں اس نے اپنا دل ہمیشہ جسمین کے سامنے کھولا تھا۔ کبھی اس کی اور حورین کی “یاسمین” کے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ وہ تو یہ ہی سمجھا تھا کہ شجاع عالمگیر نے اسے یاسمین اور بلاج کی شادی کے بارے میں سب بتا دیا ہوگا۔ مگر وہ اس سب سے انجان بھی ہوسکتی ہے یہ کبھی اس نے نہیں سوچا تھا۔

” اب کہاں ہے وہ؟ ” حورین نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” فکر نہیں کرو، وہ اب اس دنیا میں نہیں۔ تم سے تمہارا حق کوئی نہیں چھنے گا۔” بلاج کہہ کر جانے لگا کہ وہ پھر بولی۔

” اور محبت ؟ “

اس ایک سوال پر بلاج کے قدم تھم سے گئے۔ ساری ناگواری کہیں دور جا سوئی تھی۔ اب وہ ترس بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

” حق تو دے دیا پر محبت نہیں دے سکے۔۔۔ صحیح کہا نا؟ “

” میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ بیوی ہو تم میری۔”

بلاج نے کہتے ہوئے نظریں چرائیں اور یوں اس کا نظریں چرانا حورین نے بڑی شدت سے محسوس کیا تھا۔ یقیناً اس کا دل رکھنے کیلئے وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

” نہیں !! نہیں ہے آپ کو مجھ سے محبت۔ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہا کرتیں ملک بلاج۔ میں صرف آپ کی بیوی ہوں محبت نہیں۔ مجھ سے تو صرف حسنِ سلوک کیا ہے آپ نے جسے میں بیوقوف محبت سمجھتی رہی۔ محبت تو اُس یاسمین سے کی تھی۔”

وہ چلاتے ہوئے بولی۔ آنسو تواتر آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ بلاج تاسف سے اسے دیکھے گیا۔ آخر کہتا بھی کیا؟ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی وہ۔۔۔

بےشک مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے۔ مگر دل اُس کے پاس بھی ایک ہی ہوتا ہے۔ جسے بلاج ملک دس سال پہلے یاسمین عباسی کو دے چکا تھا۔ وہ مر ضرور گئی تھی۔ لیکن آج بھی محبت بن کر وہ بلاج ملک کے دل میں زندہ تھی کہ حورین عالمگیر کی موجودگی بھی اسے بلاج ملک کے دل سے نکال نہیں پائی تھی۔۔۔

کیونکہ بعض لوگوں کیلئے ہمارے دل میں ہمیشہ ایک جیسا مقام رہتا ہے۔ فاصلے یا غیر موجودگی سے نہ وہ مقام ختم ہوتا ہے۔ نہ کوئی اور اس مقام تک پہنچ پاتا ہے۔ البتہ بعض لوگ ہمارے آس پاس ہی موجود ہوتے ہیں لیکن کسی احساس و اپنائیت سے خالی جذبہ لیے بس رسمِ دنیا نبھانے کیلئے۔۔۔

” میں فی الحال خود بہت پریشان ہوں۔ اس لیے بہتر ہے ہم بعد میں بات کریں۔” بلاج کہہ کر فوراً کمرے سے باہر نکل گیا۔ اپنے پیچھے اس نے حورین کے چلانے کی آواز صاف سنی تھی۔

۔*********۔

” عمر کچی ہو ، ذہن بوڑھا ہو

اس جوانی کا دکھ سمجھتے

جس میں رانی نہیں ہے راجہ کی

اس کہانی کا دکھ سمجھتے ہو “

رات بھر بے ہوشی کے عالم میں رہنے کے بعد اس کی آنکھ تقریباً صبح چھ بجے کے قریب کھلی تھی۔ کمرے میں پھیلی بلب کی روشنی آنکھوں میں چبھنے لگی تھی۔ اس نے واپس آنکھیں بند کر لیں۔ اسے قریب سے ہی ناصر اور حکیم صاحب کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ چند سیکنڈز یونہی لیٹے رہنے کے بعد اس نے پھر آنکھیں کھولیں، لیٹے لیٹے ہی نگاہیں گھما کر خالی الذہنی سے پورے کمرے کو دیکھا۔

کل بلاج سے ملاقات کے بعد وہ سارا دن بےسکون رہا تھا۔ آٹھ سال اس نے اُس عورت کو نہیں دیکھا تھا۔ دل میں اب بھی کہیں ایک آس تھی کہ شاید وہ اس کا انتظار کر رہی ہو۔ مگر کل بلاج کو دیکھنے کے بعد اس کی وہ آس بھی ختم ہوگئی تھی۔ اُس نے کچھ کہا نہیں تھا پر اس کے زخموں کو ایک بار پھر ادھیڑ گیا تھا۔ وہ ایک بار پھر وہیں جا کھڑا ہوا تھا جہاں آٹھ سال پہلے تھا۔ اس کی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔ حکیم صاحب نے اسے کچھ دوائیاں بھی دی تھیں۔ مگر سر میں اُٹھتی درد کی لہر رات تک شدت اختیار کر گئی تھی۔ اسے میگرین کا اٹیک ہوا تھا۔ جس کے بعد وہ بےہوش ہو گیا تھا۔۔۔

” اب طبیعت کیسی ہے؟ “

یوسف کو جاگتے دیکھ کر کرسی پر بیٹھے حکیم صاحب نے پوچھا۔ ناصر کسی کام سے باہر چلا گیا تھا۔

” پانی۔۔۔ پانی۔”

” لو پانی پی لو۔”

پاس موجود مٹکے سے پانی نکال کر یوسف کو سر سے تھوڑا اوپر کو اُٹھایا اور گلاس اس کے منہ سے لگا دیا۔

” اب بہتر محسوس کر رہے ہو؟ ” گلاس واپس رکھتے ہوئے پوچھا۔

” جی !! ” وہ پھر لیٹ گیا۔

کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔ حکیم صاحب سامنے کرسی پر بیٹھے اسے دیکھتے رہے پھر چند لمحوں بعد ہی اس خاموشی کو توڑتے ہوئے گویا ہوئے۔

” کب تک اس طرح زندگی گزارتے رہو گے؟ آٹھ سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے کسی کو بھولنے کیلئے، مگر تم آج بھی وہیں کھڑے ہو۔”

” میں نے اُنہیں کبھی بھولنے کی کوشش نہیں کی۔” یوسف دھیرے سے کہتا اُٹھ بیٹھا۔

” تم اپنی زندگی برباد کر رہے ہو۔ واپس لوٹ کیوں نہیں جاتے؟ “

” کچھ برباد نہیں کر رہا میں اور اب واپس کیسے لوٹ جاؤں؟ وہاں کچھ نہیں بچا میرے لیے۔” اس نے نظریں جھکائے کہا۔

” کسی ایک کے چلے جانے سے زندگی ختم نہیں ہوجاتی۔ زندگی جینا سیکھو۔” انہوں نے سمجھانا چاہا۔

” زندگی جینے کیلئے ” خواہشات ” کا ہونا ضروری ہے اور زندگی گزارنے کیلئے ایک ” آس” کا۔۔۔ اور اب دونوں ہی میرے پاس نہیں۔” وہ بولا تو آواز بھرا گئی۔

” مایوسی کفر ہے میرے بچے۔ اللّٰه کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے۔” اب کے یوسف خاموش ہو گیا کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ اسے خاموش دیکھ کر وہ مزید کہنے لگے۔

” جس عورت کے پیچھے تم اپنی زندگی برباد کر رہے ہو، وہ کبھی تمہاری تھی ہی نہیں۔ اس لیے بہتر ہے تم شادی کر لو، گھر بار کے ہوجاؤ گے تو اس فریب سے بھی نکل آؤ گے۔ جس میں اتنے سالوں سے جی رہے ہو۔”

یوسف اب بھی خاموش رہا۔ حکیم صاحب اس کیلئے معتبر تھے۔ وہ ان سے بحث نہیں کرسکتا تھا۔ وہ کافی دیر اس کے بولنے کا انتظار کرتے رہے۔ مگر یوسف کچھ نہ بولا تو وہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔

” تمہارے لیے ناشتہ بھیجتا ہوں۔ اُٹھ کر منہ ہاتھ دھو لو۔”

وہ کہہ کر دروازے کی جانب بڑھے۔ یوسف وہیں بیٹھا انہیں جاتے دیکھتا رہا۔ یہ پہلی دفعہ نہیں تھا کہ انہوں نے شادی کی بات کی تھی۔ ان آٹھ سالوں میں وہ کئی بار اس سے یہ بات کہہ چکے تھے مگر اس معاملے میں وہ خود کو بےبس پاتا تھا۔

” کاش میں اپنا دل چیر کر دیکھا سکتا تو شاید یہ باتیں آپ کبھی نہ کہتے۔” وہ بڑبڑایا۔

۔*********۔

جسمین کچن میں کھڑی فائزہ بیگم کیلئے ناشتہ بنا رہی تھی۔ جب ایک ہاتھ میں سوٹ کیس اور دوسرے ہاتھ میں حدید کا ہاتھ پکڑے حورین نیچے آئی۔

” کہاں جا رہی ہیں بھابھی !! ” اسے دیکھتے ہوئے جسمین کچن سے باہر نکل آئی۔

” جا رہی ہوں گھر چھوڑ کر، جس گھر میں میری کوئی حیثیت نہیں مجھے وہاں نہیں رہنا۔” وہ غصّہ ضبط کرتے ہوئے بولی۔

” یہ کیا کہہ رہی ہیں؟ بھائی نے کچھ کہا ہے؟ “

” کچھ کہا ہے؟ واہ بی بی ایسے بن رہی ہو جیسے تمہیں تو کچھ پتا ہی نہیں۔ کیا کہہ رہی تھی کل۔ محبت ضروری نہیں صرف حسن سلوک کافی ہے۔” وہ غصّے سے چلائی۔

” اپنا گھر تو بسا نہیں سکی اور میرے شوہر کو بھی مجھ سے بدظن کرنے کوشش کرتی رہی۔ تم جیسی عورتیں ہوتی ہیں جو کسی کے دل میں نہیں اُتر پاتیں۔۔۔”

” حورین !! “

بلاج کی دھاڑ پر حورین کی چلتی زبان کو بریک لگ گیا۔ جسمین جو خود پر ضبط کرتی اس کی باتیں سن رہی تھی فوراً پلٹ کر کچن میں چلی گئی۔ یہ اب دونوں میاں بیوی کا معاملہ تھا۔ اسے بیچ میں نہیں آنا چاہیئے تھا۔

” آئندہ اگر میری بہن کو کچھ بولا تو اچھا نہیں ہوگا اور جا رہی ہو تو جاؤ۔ لیکن حدید کہیں نہیں جائے گا۔” بلاج نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا۔

طبیعت خراب ہونے کے باعث وہ ہسپتال جانے کے بجائے واپس گھر لوٹ آیا تھا۔ مگر گھر پہنچتے ہی سامنے کے منظر نے اس کا دماغ گھما دیا تھا۔

” ہاں!! اب تو مجھے جانے کیلئے کہیں گے۔ آخر اپنی بہن کا بدلہ جو لینا ہے۔” وہ طنزیہ انداز میں بولی۔

” میں اللّٰه کے انصاف پر یقین رکھتا ہوں۔ اگر اپنی بہن کا ہی بدلہ لینا ہوتا تو اُسی دن گھر سے باہر نکال دیتا جب تمہارے بھائی نے میری بہن کو طلاق دی تھی۔” وہ بھی اسی کے لہجے میں بولا۔

” خیر اپنی مرضی سے جا رہی ہو۔ سوچ سمجھ کر جانا میں لینے نہیں آؤں گا۔”

دوٹوک انداز میں کہتا، حدید کا ہاتھ تھامے وہ وہاں رکا نہیں تھا۔ حورین نے بےبسی سے سوٹ کیس کو اُٹھا کر دور پھینکا۔ وہ جو یہ سوچ رہی تھی کہ اس طرح بلاج اس سے معافی مانگے گا اسے منائے گا، سب بیکار گیا تھا۔ وہ اُلٹا اسے دھمکا گیا تھا۔

۔*********۔

” سکینہ بی یہ برتن چھوڑیں، کچھ کپڑے تھے دھلائی کیلئے آپ وہ جا کر دیکھیں۔” حورین کچن میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔

” ٹھیک ہے بیگم صاحبہ۔” سکینہ بی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کچن سے نکل گئیں۔

ان کے جاتے ہی حورین چلتی ہوئی ڈائننگ ٹیبل کے پاس آئی جہاں جسمین بیٹھی ٹماٹر کاٹ رہی تھی۔ مصروف رہنے کیلئے وہ اکثر سکینہ بی کی مدد کر دیا کرتی تھی۔

حورین خاموشی سے اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتے رہنے کے بعد وہ گویا ہوئی۔

” کیا بہت خوبصورت تھی؟ “

” کون؟ ” جسمین چونکی۔

” بلاج کی پہلی بیوی؟ “

اس کے سوال پر جسمین نے گہرا سانس لیا۔ وہ اب اس عورت کو کیسے سمجھائے جو مرد کے دل میں اُترنے کا راز بس حسن کو ہی سمجھ بیٹھی تھی۔

” نہیں وہ آپ جتنی خوبصورت نہیں تھیں۔” حورین کے چہرے پر نظریں جمائے کہا۔ وہ بے یقینی سے جسمین کو دیکھنے لگی۔

” پھر۔۔۔ پھر وہ کیوں اُس سے اتنی محبت کرتا ہے کہ مرنے کے ” بعد بھی اُسے نہیں بھولا؟ ” وہ پوچھ رہی تھی۔

” بھولے وہ اس لیے نہیں کیونکہ “محبت” کرتے ہیں اور رہا سوال محبت کیونکہ کرتے ہیں؟ تو۔۔۔ ” جسمین رکی، حورین نے بےچینی سے پہلو بدلا۔

” اس سوال کا جواب تو شاید خود محبت کرنے والے کے پاس بھی نہیں ہوگا۔”

کہتے ہوئے ایک تلخ مسکراہٹ اس کے لبوں کو چھو گئی۔ پہلے وہ خود بھی ہمیشہ یہی سوچتی تھی کہ یوسف اس سے کیوں اتنی محبت کرتا ہے۔ وہ اُس جیسی خوبصورت تو نہیں۔۔۔

” مطلب؟ میں سمجھی نہیں۔ ” حورین الجھی۔

” مطلب یہ کہ شاید بات ساری “نصیب” کی ہوتی ہے۔ اس لیے ازل سے لوگ لڑکی کے نصیب سے ڈرتے آئے ہیں۔”

” تمہارا مطلب میرا نصیب اچھا نہیں؟ ” جسمین کی بات پہ حورین کے ماتھے پر انگنت بل پڑے تھے۔

” میرا مطلب یہ ہرگز نہیں۔ بس اتنا سمجھ لیں سب کو ” سب کچھ ” نہیں ملتا، جیسے یاسمین بھابھی “محبت” کے معاملے میں نصیب والی تھیں۔ ویسے ہی آپ “خوبصورتی” کے معاملے میں نصیب والی ہیں۔ اللّٰه نے بڑی فرصت سے آپ کو بنایا ہے۔ آپ بھی فرصت سے اس رب کو وقت دیا کریں اور لاحاصل کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیں۔”

ٹہرے ہوئے لہجے میں کہتی جسمین اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ٹماٹر کٹ چکے تھے۔ وہ کیبنٹ کی جانب بڑھ گئی۔

حورین خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جو کٹے ہوئے ٹماٹروں پر پلیٹ ڈھکنے کے بعد سنک کے سامنے کھڑی ہاتھ دھو رہی تھی۔

” کیا تمہارے پاس یاسمین کی کوئی تصویر ہے؟ ” حورین نے دھیرے سے پوچھا۔

جسمین جو ہاتھ دھو کر اب کچن سے باہر نکل رہی تھی۔ یکدم رکی، زرا کا زرا چہرہ موڑ کر حورین کو دیکھا۔ جو سر جھکائے اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی۔

” اسٹور روم میں جو الماری ہے، اُس کی ڈرار میں نکاح کا البم موجود ہے۔”

وہ کہہ کر فوراً وہاں سے نکل گئی۔ جبکہ حورین وہیں بیٹھی جسمین کی باتوں پر غور کرنے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *