Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq (Episode 13)

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

کھڑکی کے سامنے کھڑی وہ افق پر نظر آتے ماہتاب کو دیکھ رہی تھی۔ پر نہ جانے کیوں سوچوں کے تانے بانے یوسف سے جڑ رہے تھے جسے دیکھے بنا چار دن گزر چکے تھے۔

” کیوں میں تم کو سوچ رہی ہوں جبکہ اچھے سے جانتی ہوں یہ بات ناممکن ہے۔” وہ خود سے بڑبڑائی۔

” لیکن اگر بابا سائیں یاسمین کیلئے مان گئے تو۔۔۔ اُف یہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔” سر جھٹکتی وہ کھڑکی کے سامنے سے ہٹ کر بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی کہ دفعتاً اس کا موبائل بج اُٹھا۔

” اب یہ اتنی رات کو کسے سکون نہیں۔” جھنجھلاتے ہوئے اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھا فون اُٹھایا۔ دیکھا تو انجان نمبر سے کال تھی۔ اُکتا کر موبائل واپس سائڈ پر رکھ دیا۔

” ایک تو ان مجنوں کو کوئی اور کام نہیں کوئی بھی انجان نمبر ملا کر فون گھما دینگے۔”

وہ بڑبڑاتے ہوئے ابھی لیٹنے ہی لگی تھی جب موبائل پر مخصوص میسج کی ٹون بجی۔

” اب کیا ہے؟ ” اس نے پھر ہاتھ بڑھا کر موبائل اُٹھایا۔ اُس ہی نمبر سے میسج تھا۔ ابھی میسج کھولا ہی تھا کہ اس کا خون کھول اُٹھا۔

” کال ریسیو کریں مس (وقفہ) جسمین۔”

” یوسف !! ” غصّے سے موبائل کو گھورتی ابھی وہ سائلنٹ پر لگانے ہی لگی تھی کہ ایک بار پھر اسی نمبر سے کال آنے لگی۔

ایک خیال آیا کہ کال کاٹ کر موبائل سائلنٹ پر لگا دے مگر پھر دل کے کسی کونے نے بغاوت کر دی اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے فون اُٹھا ہی لیا۔

” ہیلو !! “

اسپیکر سے بھاری گھمبیر مردانہ آواز اُبھری جو ایک پل کیلئے جسمین کی دھڑکنیں بے ترتیب کر گئی۔

” کیوں کال کی ہے؟ ” خود پر قابو پاتی وہ لہجے کو سخت بناتے ہوئے بولی۔

” نہ سلام نہ دعا بندہ اتنے دن بعد بات کر رہا ہے، اگلا حال چال ہی پوچھ لیتا ہے۔” دوسری طرف سے شرارت بھری آواز ابھری۔

” کوئی کام کی بات کرنی ہے تو کرو ورنہ مجھے یہ سب پسند نہیں۔” اس نے ٹوکا۔

” پسند تو مجھے بھی نہیں پر وہ کیا ہے نہ کافی دنوں سے آواز نہیں سنی تو سوچا کال کر لوں۔ میں مس کر رہا تھا آپ کو۔” گھمبیر آواز میں کہتا وہ جسمین کو چپ لگا گیا۔

دونوں طرف خاموشی چھا چکی تھی۔ جسے کچھ لمحے بعد ہی یوسف کی آواز نے ہی توڑا۔

” جھوٹ ہی بول دیں۔ آپ نے بھی یاد کیا؟ “

” مسٹر یوسف حیدر ہوش کے ناخن لیں۔ آپ سے عمر میں بڑی ہوں اور سب سے اہم بات ٹیچر ہوں۔” جسمین نے واپس اپنی جون میں لوٹتے ہوئے اسے لتاڑا۔

” عاشق کبھی عمر ، مقام ، امیری ، غریبی ، خوبصورتی ، بدصورتی نہیں دیکھا کرتا۔ مجھے آپ سے عشق ہے اس حقیقت کو آپ بدل نہیں سکتیں۔” ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہی جانے والی بات اس خاموش کمرے میں گونجتی محسوس ہو رہی تھی۔ یوسف کے لفظوں نے جسم میں لرزش سی پیدا کر دی تھی۔ جسمین نے موبائل پر گرفت مضبوط کی۔

” پر میں تم سے محبت نہیں کرتی۔” اس نے آواز میں سختی لانی چاہی پر ناکام رہی۔

” نہ کریں میں اپنے رب سے دعا میں آپ کو مانگ لوں گا۔” کہنے کے ساتھ ہی کال کاٹ دی جبکہ جسمین معاؤف ہوتے دماغ کے ساتھ موبائل کان سے لگائے ویسے ہی بیٹھی تھی کہ اچانک موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر بیڈ پر جا گرا ساتھ ہی بے جان ہوتا ہاتھ بھی نیچے ڈھلک گیا۔ ارد گرد بس ایک ہی آواز گونجتی محسوس ہو رہی تھی۔ گھمبیر آواز ، تصورِ عشق کی آواز۔۔۔

” ریزہ ریزہ ہونا۔۔۔ بنتا ہے میرا

اترا ہے میرے دل پہ تصورِ عشق تیرا “

۔*********۔

موبائل ہاتھ میں لیے چھت پر کھڑا وہ آسمان پر کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ جسمین سے بات کرنے کے بعد سوچ کے تمام زاویے صرف ایک نقطے پر ہی آکر الجھ رہے تھے۔

کیا کبھی جسمین کو اس سے محبت ہوگی؟ کیا اس کی محبت اُس کے دل تک راستہ بنا لے گی؟ کیا اس سفر کی کوئی منزل ہوگی یا اس سفر میں اسے بھٹکتے رہ جانا ہے؟

” آپ کو میری زندگی میں آنا ہوگا جسمین !! میں آپ کو آپ سے نہیں اپنے رب سے مانگوں گا۔” وہ سرگوشی میں بولا۔

جبکے بدلوں میں چھپا چاند اس کی سرگوشی پر مسکراتا ہوا بادلوں سے نکل کر آب و تاب سے چمک اُٹھا۔ دور کہیں چلتی موسیقی کی گونج فضاء میں پھیلتی اس کے دل کا حال سنانے لگی۔ اندھیری رات میں خنکتی ہوائیں جھوم جھوم کر ترنم کو چھیڑتی محبت کے گیت گانے لگیں۔ ہاں مُحب کیلئے محبت کے گیت۔۔۔

کیونکہ محبت ایک ایسا شجر ہے جس کی جڑیں ایک بار اپنی جگہ بنا لیں تو مضبوطی سے پھیلتی چلی جاتی ہیں۔ پھر اس درخت کو کاٹ کر پھینک بھی دیا جائے تو بھی جڑیں اپنی جگہ نہیں چھوڑتیں۔ محبت بھی دل کی سر زمین پر ایک بار پنجے گاڑ دیے تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ پھر چاہے محبوب مر بھی جائے اُس کی محبت اپنی جگہ نہیں چھوڑتی۔

یوسف کے دل میں بھی جسمین کی محبت کی جڑیں پھیل چکی تھیں جو رفتا رفتا اس کے دل کو جکڑتی چلے جا رہی تھیں۔ وہ چاہ کر بھی اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا تھا اور وہ کرنا چاہتا بھی نہیں تھا۔

وہ جو حسن میں اپنی مثال آپ تھا ایک معمولی سی صورت والی کے عشق میں گرفتار تھا۔

بھلا محبت نے کبھی حسن کو دیکھا ہے؟ کبھی خوبصورتی کی چاہ کی ہے؟ کبھی دولت کی طلب رکھی ہے؟ کبھی عمر کی سمجھداری مانگی ہے؟ کبھی جسموں کی ہوس کی ہے؟ اس نے کب بھلا سودا کیا ہے؟ یہ تو ازل سے۔۔ ہاں ازل سے اندھی ہوتی ہے۔ یہ بے غرض ہوتی ہے۔ تبھی تو اکڑی گردنیں جھکا کر۔ انا کو مٹا کر۔ فقیر کو بادشاہ بنا کر تو کبھی بادشاہ کو گھٹنوں پر لا کر محبت کا مطلب سمجھاتی ہے۔ اسے امر بناتی ہے۔ تاحیات بناتی ہے۔

” یوں بھی ہوتا ہے کہ یکدم کوئی اچھا لگ جائے

بات کچھ بھی نہ ہو اور دل میں تماشا لگ جائے “

(ظفر اقبال)

۔*********۔

” چھوٹے سرکار آپ کو بڑے سرکار نے لان میں بلایا ہے۔”

بلاج ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہسپتال جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ جب ملازم نے آکر اسے جہانگیر ملک کا پیغام دیا۔

” ٹھیک ہے جاؤ میں آتا ہوں۔”

” جی چھوٹے سرکار۔” وہ اثبات میں سر ہلاتا کمرے سے باہر نکل گیا۔

” ضرور یاسمین والے معاملے پر بات کرنی ہوگی۔”

سوچتے ہوئے بلاج نے ایک نظر خود کو آئینے میں دیکھا پھر ڈریسنگ ٹیبل سے اپنی گھڑی اُٹھا کر کلائی پر باندھتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ قدم تیزی سے لان کی جانب بڑھ رہے تھے۔ وہ حویلی کے اندرونی دروازے کو عبور کرتے ہوئے لان میں پہنچا جہاں جہانگیر ملک کرسی پر بیٹھے ہاتھ میں اخبار لیے پڑھنے میں مشغول تھے۔

” آپ نے بلایا بابا سائیں؟ ” بلاج نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” ہاں تم سے کل والے معاملے پر بات کرنی ہے۔”

بلاج کی طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے سامنے رکھی کرسی کی طرف اشارہ کیا اور ہاتھ میں پکڑا اخبار تہہ کرکے درمیان میں موجود ٹیبل پر رکھ دیا۔

” یوں تو وہ لڑکی کہیں سے بھی ہمارے خاندان کی بہو بنے لائق نہیں پر ہم مجبور ہیں۔ جہاں تمہاری ہر ضد کے آگے سر جھکایا ہے وہاں ایک اور سہی۔” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے بولے جبکہ ان کی بات پر ایک دم بلاج کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔

” سچ بابا سائیں آپ اس رشتے کیلئے راضی ہیں؟ “

” ہاں !! کہہ دو اُس لڑکی سے ایک دو دن میں فائزہ بیگم اس کے رشتے کیلئے آئینگی۔ تیار رہیں وہ لوگ۔”

جہانگیر ملک نے اپنی ناگواری کو دباتے ہوئے کہا۔ دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کر تو لیا تھا پر ایک عام سے گھرانے کی لڑکی کو بہو بنانا انتہائی مشکل تھا۔

” شکریہ بابا سائیں۔” آنکھوں میں چمک لیے اس نے جہانگیر ملک کا ہاتھ تھام کر بوسہ لیا۔

” اب جاؤ ہمیں بھی کچھ کام سے شہر جانا ہے۔” وہ اپنا ہاتھ پیچھے کھینچتے ہوئے بولے۔

بلاج مسکراتا ہوا اثبات میں سر ہلا کر فوراً وہاں سے نکل گیا اب اسے جلد از جلد یہ خوش خبری یاسمین کو جو سنانی تھی۔

۔*********۔

یونیورسٹی کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی ایک بار پھر زندگی معمول کے مطابق چل پڑی تھی۔ یہ ان کا آخری سمسٹر تھا جس کے بعد سب اسٹوڈنٹس نے اپنی اپنی منزل کی طرف بڑھ جانا تھا۔ اس لیے سب نے پہلے سے زیادہ دل لگا کر پڑھائی شروع کر دی تھی۔ جن میں سب سے آگے یوسف حیدر تھا جسے صرف اپنا کیریئر ہی نہیں بنانا تھا بلکہ ایک قابل انسان بن کر جسمین کو بھی اپنی زندگی میں لانا تھا۔ جو اب اس کی اولین ترجیح بن چکی تھی۔۔۔

” یوسف جلدی چل کلاس کیلئے دیر ہوگئی تو سر ساجد نے پھر کلاس میں بیٹھنے ہی نہیں دینا۔”

نوید تیزی سے کلاس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔ جبکہ وائٹ کلر کی ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ میں ملبوس یوسف صاحب آنکھوں پر چشمہ لگائے، بڑی فرصت سے نظریں ادھر اُدھر گھماتے جسمین کو ڈھونڈتے ہوئے چل رہے تھے۔

” تیرے پیروں میں زنگ لگ گیا ہے جو اتنی سست روی سے چل رہا ہے۔ ایک تو صبح ہی صبح بائیک نے دماغ گھما دیا اوپر سے اب تو بھی شروع ہو جا۔” نوید نے پیچھے مڑ کر غصّے سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔ پہلے ہی راستے میں بائیک خراب ہو جانے کی وجہ سے وہ تپا ہوا تھا اور اب یوسف کی حرکتیں۔۔۔

” تو کلاس میں جا میں آ رہا ہوں۔”

یہ کہہ کر وہ مڑ کے جانے ہی لگا تھا جب نوید نے تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے کی طرف کھینچا۔

” نہیں چل کلاس میں۔ اپنی یہ عاشقی کسی اور وقت کیلئے رکھ۔”

” ابے چھوڑ جانے دے۔ بس دیکھ کر آتا ہوں۔” یوسف خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتا ہوا بولا۔ جبکہ نوید اسے کھینچتا ہوا کلاس کی طرف لے جا رہا تھا۔

” بعد میں دیکھنا ورنہ سر ساجد ہمیں دیکھ لینگے۔”

نوید نے کہتے ہوئے کلاس کے سامنے پہنچ کر پیچھے سے یوسف کو دونوں بازوؤں سے پکڑا اور کلاس کے اندر کو دھکا دے دیا جہاں سے باہر آتی جسمین یوسف سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔ جس کے بعد ایک بار پھر نوید کی جگہ بیچارا یوسف اس کا نشانہ بن گیا۔

” کیا بدتمیزی ہے یہ مسٹر یوسف؟ ” غصّے سے گھورتے ہوئے وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی۔ جبکہ کلاس میں بیٹھے حذیفہ اور جنید حیرت سے یوسف کو دیکھ رہے تھے۔ جو آج نہ جانے کیا سوچ کر آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگا آیا تھا۔

” یہ ڈبل بیٹری کب سے ہوگیا؟ ” جنید نے زرا سا جھک کر اپنے آگے بیٹھے حذیفہ سے پوچھا۔

” جب سے اس کے اوپر کا چیمبر خالی ہوگیا۔”

حذیفہ اس کی طرف دیکھ کر مذاق اُڑاتے ہوئے بولا پھر واپس چہرہ دروازے کی طرف موڑ لیا جہاں جسمین کھڑی یوسف کو سنانے میں لگی تھی۔

” ماشاء اللّٰه !! چشمہ لگا کر بھی آنکھیں گھر چھوڑ آئے ہیں۔” وہ طنز کرتے ہوئے بولی۔

یوسف نے ایک نظر کلاس میں بیٹھے سب اسٹوڈنٹس پر ڈالی جو مسکراہٹ دبائے انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔

” سوری مس (وقفہ) جسمین !! “

آنکھوں پر لگایا چشمہ درست کرتا وہ شرارت سے جسمین کو دیکھتے ہوئے بولا۔ جبکہ اس لفظ توڑ توڑ کر بولنے پر وہ بھنا کر رہ گئی۔

” ہٹیں سامنے سے۔”

غصّے سے اس کی چشمے کے پیچھے چھپی خوبصورت آنکھوں کو گھورتے ہوئے کہا۔ یوسف مسکراتا ہوا سائڈ پر ہوگیا تبھی وہ تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔

” پڑ گئی ٹھنڈ ؟ یہ تو تیری آنکھوں کے ساتھ ساتھ دماغ کو بھی ٹھنڈا کر گئیں۔”

پیچھے کھڑے نوید نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اس کے کان میں گھس کر کہا۔ جس پر یوسف اسے گھوری سے نوازتا اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔

۔*********۔

گھر کے لان میں لگی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھی وہ اداسی کی مورت بنی خالی خالی نظروں سے سامنے موجود درخت کو دیکھ رہی تھی۔ سب گھر والے اس وقت کل کی منگنی کیلئے تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ یوں تو ساری تیاریاں لگ بھگ مکمل ہو چکی تھیں مگر کچھ چند چیزیں تھیں جو آخری وقت کیلئے چھوڑ رکھی تھیں اور اب وہی سب مکمل کرنے تمام گھر والے باہر گئے ہوئے تھے سوائے یاسمین کے جو اپنی منگنی پر خوش ہونے کے بجائے اداس بیٹھی سوچوں میں گم تھی۔

کچھ دن پہلے ہی فائزہ بیگم اور جسمین اس کے گھر رشتہ لے کر آئی تھیں۔ جسے اس کے گھر والوں نے بھی خوشدلی سے قبول کر لیا۔ بھلا بلاج جیسے قابل انسان کو انکار کرنے کی حماقت کون کر سکتا تھا۔ سب کچھ اچھے سے چل رہا تھا۔ رشتہ پکا ہو چکا تھا اور کل منگنی کی تقریب رکھی گئی تھی مگر نہ جانے کیوں ایک عجیب سی بے سکونی تھی جو اسے گھیرے ہوئے تھی۔ حالانکہ اسے تو خوش ہونا چاہیئے تھا۔ بالآخر من چاہا ہمسفر مل رہا تھا جو اس کی محبت تھا۔ لیکن ان وسوسوں اور اندیشوں کا کیا کرتی جو ایک پل بھی چین نہیں لینے دے رہے تھے۔

رات رات بھر ڈھولکی، خوشیوں کے شادیانے بجاتے چہکتے چہرے، ہنسی ٹھٹھا کرتی بچوں کی ٹولی بھی اس کے گرد پھیلے سناٹے کو کم نہیں کر پا رہی تھی۔ کچھ وقت پہلے سب کچھ بہت قریب تھا اور اب سب کچھ دور جاتا لگ رہا تھا۔ مانوں ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہو۔ کہیں پیچھے چھوٹتا جا رہا ہو۔ سب دسترس سے نکل کر دور جا رہا ہو اور وہ تنہا کھڑی ویران آنکھوں سے سب ہوتا دیکھ رہی ہو۔ یوں کہ ابھی پلکیں جھپکی اور سب ختم۔۔۔ بس تاریک ، تنہائی ، موت کا سا سناٹا اور وہ۔۔۔

” آپی یہاں کیا کر رہی ہیں؟ “

قریب سے آتی آواز پر اس نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں قمر بیگم اور لبابہ (چھوٹی بہن) کھڑی سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔

” آپ لوگ آگئے۔ ابو اور داؤد (چھوٹا بھائی) کہاں ہیں؟ ” پلٹ کر سوال کیا یا شاید ان کا سوال سنا ہی نہیں تھا۔

” تمہارے ابو اور داؤد کو کچھ کام یاد آگیا تھا۔ وہی کرنے گئے ہیں۔ تم یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو؟ ” قمر بیگم نے اس کے بجھے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے پھر پوچھا۔

پچھلے دو دن سے وہ یوں کھوئی کھوئی سی رہنے لگی تھی۔ سب کے ساتھ ہو کر بھی یوں محسوس ہوتا جیسے وہ ان کے درمیان ہے ہی نہیں۔ کوئی کچھ کہہ دیتا تو ہوں ہاں سے زیادہ جواب نہ دیتی۔ گھنٹوں گھنٹوں خاموش بیٹھی رہتی یا عبادت میں مشغول ہو جاتی۔

” کچھ نہیں امی۔ وہ بس کوئی کام نہیں تھا تو یہاں بیٹھ کر آپ کا انتظار کرنے لگی۔ آپ بتائیں خرید لیا سارا سامان اب تو کچھ نہیں رہ گیا؟ ” دھیرے سے کہتے ہوئے اس نے بات ہی بدل دی۔

” ہاں !! سب آ گیا۔ بس اللّٰه خیریت سے یہ دن دیکھنا نصیب کرے۔”

” آمین !! ” دونوں بہنیں ہم آواز بولیں۔

” چلو اب یہاں بیٹھ کر کیا باتیں کر رہی ہو جاؤ جا کر یہ سامان رکھو۔” قمر بیگم لبابہ کو ڈپٹتے ہوئے بولیں اور خود یاسمین کے پاس آکر کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔

” یاسمین مجھے معلوم ہے تم اتنی اداس کیوں ہو۔ یہ وقت ہوتا ہی ایسا ہے۔ جہاں نئے رشتے کے بنے کی خوشی ہونٹوں پر مسکراہٹ بن کے سجی ہوتی ہے۔ وہیں پرانے رشتوں کو چھوڑ کر جانے کا دکھ آنکھوں میں آنسو بن کر جھلکتا رہتا ہے۔” وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر پیار بھرے لہجے میں بولیں۔ یاسمین دھیرے سے مسکرا دی۔

” کل تمہاری منگنی ہے خوش رہو یوں اداس رہو گی تو سب سوچیں گے ہم تمہارے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں۔”

” امی آپ لوگوں کو چھوڑ کر جانے کا دل نہیں کر رہا۔” قمر بیگم کے گلے میں بانہیں ڈال کر وہ ان کے ساتھ ہی لگ کر بیٹھ گئی۔ اب انہیں کیا بتاتی وہ کیوں اداس ہے جبکہ اسے خود اپنی اداسی کا سبب معلوم نہیں تھا۔

” یہ ہی دنیا کا رواج ہے بیٹا۔ ہر لڑکی کو ایک دن ماں باپ کا گھر چھوڑ کر اپنے شوہر کے گھر جانا ہوتا ہے اور پھر بلاج بھی تو کتنا اچھا ہے مجھے یقین ہے وہ تمہیں اتنا خوش رکھے گا کہ ہماری یاد بھی تمہیں نہیں آئے گی۔” وہ پیار سے یاسمین کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں۔ بیٹی کی جدائی کا سوچ کر خود کی بھی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں۔

” ایسے نہیں بولیں دیکھے گا میں بلاج سے کہہ کر روز آپ سب سے ملنے آیا کروں گی۔” ان سے الگ ہوتی وہ خفگی سے بولی۔

قمر بیگم مسکرائیں ساتھ ہی یاسمین کے سر پر بوسہ دیتی اس کی ابدی خوشیوں کیلئے دعا کرنے لگیں۔ پر کون جانے آنے والا وقت اپنے ساتھ کیا لے کر آتا ہے۔ یاسمین کے دامن میں خوشیاں یا ان کی جھولی میں غم۔۔۔

۔*********۔

” تیری ان خوبصورت آنکھوں کو کس کی نظر لگ گئی جو یہ چشمہ لگانا پڑ گیا۔”

کلاس سے نکل کر وہ چاروں کینٹین کی طرف جا رہے تھے جب حذیفہ مسکراہٹ دباتے ہوئے گویا ہوا۔

” میری آنکھوں کو کسی کی نظر نہیں لگی لیکن تیری یہ خوبصورت مسکراہٹ بند نہ ہوئی تو اسے میری نظر ضرور لگ جائے گی۔” یوسف نے گھورتے ہوئے کہا ساتھ ہی آنکھوں پر لگا چشمہ اُتار کر ٹی شرٹ کے کالر میں لگا لیا۔

” جچ رہا ہے لڑکے اُتار کیوں دیا؟ ” اس کے چشمہ اُتارنے پر جنید فوراً بولا۔

” تاکہ لوگوں کو پتا چل جائے میری آنکھیں ٹھیک ہیں ابھی اندھا نہیں ہوا میں۔” وہ چڑ کر بولا ساتھ ہی ایک نگاہ ہاتھ میں پکڑے نوٹس پر ڈالتا، کینٹین میں جانے کے بجائے آگے بڑھ گیا۔

” اوے !! کہاں جا رہا ہے کینٹین تو یہ رہی؟ ” وہ تینوں پیچھے سے چلائے جبکہ وہ سنی ان سنی کرتا ہاتھ میں نوٹس تھامے آگے بڑھے جا رہا تھا۔

” کوئی حال نہیں۔”

نوید تاسف سے اس کی پشت کو دیکھ کر بڑبڑایا پھر مڑ کر ان دونوں کے ساتھ ہی کینٹین میں چلا گیا۔ جبکہ دوسری طرف یوسف تیزی سے قدم بڑھاتا اسٹاف روم کے سامنے جا کھڑا ہوا ساتھ ہی دروازے پر دستک دے کر اجازت طلب کی۔

” یس کم ان !! “

اجازت ملتے ہی وہ دھیرے سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ سامنے ہی کرسی پر بیٹھی نیلے آسمانی رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس، سر پر ہم رنگ دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھی۔ ہمیشہ کی طرح بلیک چادر اس کے کندھوں کے گرد لپیٹی ہوئی تھی۔ وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھا۔ صد شکر تھا اس وقت اسٹاف روم میں اور کوئی نہیں تھا۔

” مس (وقفہ) جسمین !! ” اس نے دھیرے سے پکارا۔

ٹیبل پر اپنے سامنے کتاب کھول کر بیٹھی جسمین اس کی پکار پر جی جان سے تپ اُٹھی۔ کچھ تھوڑی دیر پہلے والی ناراضگی کا بھی اثر تھا۔

” آپ ایک کام کیوں نہیں کرتے مسٹر یوسف !! میرے نام کے ساتھ مس لگانے جیسا تکلف چھوڑ دیں۔ پھر بولنے میں دشواری نہیں ہوگی۔” بنا اس کی طرف دیکھے وہ دانت پیستے ہوئے بولی۔

آج یوسف کا یوں کلاس میں سب کے سامنے لفظوں کو توڑ کر بولنا اس کے غصّے کو مزید بھڑکا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھتی فوراً وہاں سے نکل گئی تھی اور اب پھر وہ سر پر کھڑا اسے غصّہ دلا رہا تھا۔

” جیسی آپ کی خواہش (وقفہ) جسمین۔” کہتے ہوئے یوسف نے مسکراہٹ دبائی۔

جسمین نے سخت نگاہوں سے اسے گھورا پھر واپس چہرہ نیچے جھکا لیا۔ اس سرپھرے مجنوں کو کچھ بھی کہنا ہی دیوار سے سر پھوڑنے کے مترادف تھا۔

” کچھ پوائنٹس کلیئر نہیں ہو رہے سمجھا دیں۔” یوسف نے جسمین کے سامنے پڑی کتاب کو دیکھتے ہوئے اب کے سنجیدگی سے کہا۔

” ابھی میں کچھ مصروف ہوں۔ پرسوں پوچھ لیجئے گا۔” بنا اس کی طرف دیکھے وہ مصروف سے انداز میں بولی۔

” پرسوں؟ کل کیوں نہیں؟ “

” کل میں نہیں آؤں گی۔”

” کیوں؟ “

یوسف کے اس ” کیوں” پر جسمین نے نگاہ اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ جو بڑی فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ایک خیال آیا کہ کہہ دے ” تمہیں وجہ بتانا ضروری نہیں” لیکن اس طرح وہ لمبی بحث لے کر بیٹھ جاتا۔ دوسرا خیال کے وجہ بتا دے۔ مگر کیا گارنٹی تھی وہ بات کو طول نہ دیتا؟

” بلاج بھائی کی منگنی ہے۔”

گہرا سانس لے کر جسمین نے وجہ بتانا ہی بہتر سمجھا۔ یوسف نے نگاہیں واپس ٹیبل پر موجود کتاب پر جمائیں اور مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا۔

” مجھے بلائیں گی منگنی میں؟ “

” نہیں۔” فٹ سے جواب آیا۔

” بہت ہی بے مروت ہیں۔” یوسف نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا۔

” تمہارے معاملے میں؟ ہاں ہوں۔” وہ مسکرائی ساتھ ہی یوسف کو ٹھیک ٹھاک تپا گئی۔

” آپ نا۔۔۔”

ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ پیچھے سے دروازہ کھول کر مس مریم داخل ہوئیں۔

” اوکے مس باقی میں بعد میں سمجھ لوں گا اب چلتا ہوں۔” چبا چبا کر بولتا وہ نوٹس تھامے مڑا اور مس مریم کی طرف مسکراہٹ اچھال کر سلام کرتا اسٹاف روم سے باہر نکل گیا۔ البتہ کرسی پر بیٹھی جسمین کے دل میں یوسف کو تپا کر اب ٹھنڈک پڑ چکی تھی۔

۔*********۔

گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا وہ سامنے موجود یونیورسٹی کو دیکھ رہا تھا۔ جہاں سے اسٹوڈنٹس ایک دوسرے سے باتیں کرتے، ہنستے، مسکراتے باہر آتے دکھائی دے رہے تھے۔ اس نے ایک نظر ہاتھ پر بندھی گھڑی پر ڈالی پھر نظریں واپس سامنے دروازے کی طرف مرکوز کر دیں۔ چند سیکنڈز ہی گزرے تھے جب اسے سامنے بائیک پر بیٹھا یوسف باہر آتا دکھائی دیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک لڑکا بھی موجود تھا۔ جو ساتھ چلتی دوسری بائیک پر بیٹھے لڑکوں سے باتیں کر رہا تھا۔

” السلام عليكم سر !! ” یوسف نے بلاج کے قریب آکر بائیک روکتے ہوئے سلام کیا اس کی تقلید کرتے حذیفہ اور جنید نے بھی بائیک روک دی۔

” وعليكم السلام !! اینڈ ڈونٹ کال می سر۔۔۔ بلاج بھائی کہہ سکتے ہو۔” ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے، بلاج مصافحہ کرتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی ایک نظر اُن تینوں پر ڈالی۔ اس کے دیکھتے ہی وہ تینوں بھی فوراً بائیک سے اُتر کر دست بوسی کیلئے آگے بڑھے۔

” اور آپ کے ابو کی طبیعت کیسی ہے یوسف؟ “

ان تینوں سے سلام دعا کے بعد بلاج واپس یوسف کی طرف متوجہ ہوا۔ جس کے چہرے سے باپ کے ذکر نے مسکراہٹ چھین چلی تھی۔

” اُن کا انتقال ہو گیا بلاج بھائی۔” وہ دھیرے سے بولا۔

” اوہ !! اللّٰه ان کی مغفرت فرمائے۔” بلاج نے اس کے کندھے پر تھپکی دی۔ یوسف کے چہرے پر چھائے حزین کو دیکھ کر اسے حقیقتاً دکھ ہوا تھا۔

” آمین !! ” یوسف کے ساتھ ساتھ پیچھے کھڑے وہ تینوں بھی ہم آواز بولے۔

” آپ یقیناً مس جسمین کو لینے آئے ہیں۔” ماحول میں چھائے حزین کو کم کرنے کیلئے یوسف بات بدل گیا۔

” ہاں وہ۔۔۔ لو آگئی۔”

بلاج بول ہی رہا تھا جب اس کی نظر سامنے سے آتی جسمین پر پڑی۔ وہ مسکرایا۔ اس کی نظروں کے تعاقب میں ان چاروں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ وہ ان کے پاس ہی آ رہی تھی۔

” بھائی آپ؟ “

ان چاروں کو اگنور کرکے وہ بلاج کے پاس آکر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔

” ہاں میں۔ آج ہسپتال سے جلدی نکل گیا تھا تو سوچا تمہیں بھی ساتھ لیتے چلوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” اوہ یاد آیا بلاج بھائی !! مبارک ہو مس جسمین بتا رہی تھیں کل آپ کی منگنی ہے۔”

یوسف جو جسمین پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔ یاد آنے پر مسکراتا ہوا بولا۔

اس کی بات پر جسمین کا چہرہ یک دم فق ہوا۔ زرا کی زرا نظر پھیر کر اسے دیکھا۔ جس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔ جبکہ پیچھے کھڑے وہ تینوں حیرت سے کبھی یوسف کو تو کبھی جسمین اور بلاج کو دیکھ رہے تھے۔

” تھینکس !! ویسے آپ سب بھی آؤ نا کل منگنی میں۔”

بلاج کے کہنے پر اب کے جسمین نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ تو سمجھ رہی تھی بلاج اس پر غصّہ کرے گا کہ کیوں گھر کی بات کسی غیر کو بتائی پر یہاں تو وہ خود ہی انہیں گھر آنے کی دعوت دے رہا تھا۔

” کیوں نہیں بلاج بھائی ہم ضرور آئیں گے۔” مسکراتی نظروں سے جسمین کو دیکھتا وہ بلاج سے بولا۔

” نہیں !! میرا مطلب ہم کیسے آ سکتے ہیں؟ ہمیں تو آپ کا گھر بھی نہیں پتا۔” نوید جو انکار کیلئے کوئی جواز ڈھونڈ ہی رہا تھا۔ یوسف کے ہاں کہتے ہی فوراً بول اُٹھا۔

” ہاں اور تو اور ہم وہاں کسی کو جانتے بھی نہیں ہیں۔ تو اچھا نہیں لگتا۔” حذیفہ نے بھی اس کی بات کی تائید کی۔

” یوسف نے دیکھا ہے ہمارا گھر جب وہ جسمین کو گھر چھوڑنے آیا تھا اور پھر میں اور مس جسمین تو ہیں آپ کو کمپنی دینے کیلئے۔” بلاج نے مسکرا کر کہتے ہوئے ان کا انکار رد کر دیا۔ جسمین اسے دیکھتی رہ گئی۔

(آخر کیا ضرورت ہے انہیں بلانے کی؟) کہا نہیں تھا بس سوچ کر رہ گئی۔

” آپ اتنا اصرار کر رہے ہیں تو ہم ضرور آئیں گے۔ کیوں یوسف؟ ” کب سے خاموش کھڑا جنید بھی بالآخر بول اُٹھا۔ بھلا مفت کی دعوتیں بھی کوئی چھوڑتا ہے۔

” ہاں بلاج بھائی !! ” یوسف نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے یقین دہانی کروائی ساتھ ہی ایک نظر جسمین کو دیکھا جو بےچینی سے کھڑی ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹخا رہی تھی۔

” یہ ہوئی نا بات۔ چلو اب ہم چلتے ہیں اور آنا ضرور میں انتظار کروں گا۔”

ایک بار پھر سب سے مصافحہ کرکے اس نے جسمین کیلئے کار کا دروازہ کولا اور اسے بٹھا کر خود بھی ڈرائیونگ سیٹ کو سنبھالتے ہوئے کار اسٹارٹ کرتا آگے بڑھا لے گیا۔ ان کے جاتے ہی وہ چاروں بھی بائیک اسٹارٹ کرکے گھر کیلئے روانہ ہو چکے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *