Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 10)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 10)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
بلاج اپریشن تھیڑ سے نکل کر سیدھا اپنے ہسپتال کے روم میں آیا۔ ایمرجنسی کیس کی وجہ سے اسے ہسپتال آنا پڑ گیا تھا۔ لیکن ہسپتال آنے سے پہلے ہی اس نے شبانہ کو ہدایت کر دی تھی کہ یونیورسٹی سے جسمین کو وقت پر لینے پہنچا جائے۔
ابھی وہ تھوڑا آرام کرنے کی غرض سے اپنے روم میں موجود چیئر پر بیٹھا ہی تھا کہ سامنے موجود ٹیبل کی دراز سے اسے موبائل ٹون کی ہلکی سی آواز محسوس ہوئی۔ بلاج نے ہاتھ بڑھا کر دراز کھولی اور اپنا فون نکال کر دیکھنے لگا۔ موبائل بج بج کر بند ہو چکا تھا۔ تقریباً بیس کے قریب گھر سے مسڈ کالز آئی ہوئی تھیں۔ اس نے پریشان ہوتے ہوئے کال ملائی۔ پہلی ہی بیل پر دوسری جانب سے اُٹھا لی گئی تھی۔
” ہیلو !! ” اسپیکر میں سے شبانہ کی آواز ابھری۔
” شبانہ خالہ میں بلاج بات کر رہا ہوں۔ گھر سے فون کر رہے تھے۔” اس نے فون کرنے کی وجہ بتائی۔
” جی چھوٹے سرکار !! وہ سلیمان کو تو خاور سرکار نے بلا لیا تھا اب جسمین بی بی کو لینے جانے والا کوئی نہیں اور اُن کی یونی کی بھی چھوٹی ہوئے کافی دیر ہوگئی ہے۔” شبانہ پریشانی سے بولی۔
” واٹ !! میں نے کہا بھی تھا اُسے وقت پر لینے جائیں سلیمان کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔” وہ غصّے سے چلایا۔
” چھوٹے سرکار وہ۔۔۔”
” بس میں خود لے آؤ گا۔ حد ہوتی ہے غیر زمہ داری کی۔” اس کی بات کاٹ کر کہتا وہ موبائل رکھ کر گاڑی کی چابی اُٹھاتا ہسپتال سے باہر نکل گیا۔
پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی۔ اپنی تھکن بھلائے اب وہ جلد از جلد یونیورسٹی پہنچنا چاہتا تھا جہاں اس کی جان سے عزیز بہن کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی۔
۔*********۔
” تم۔۔۔ تم نے کہا تھا اب غصّہ نہیں کرو گے۔ لیکن نہیں اپنی فطرت سے باز تھوڑی آؤ گے۔ بدمعاشوں کی طرح اُنہیں پیٹنے میں لگے تھے۔”
آپ جناب بالائے طاق رکھ کر بائیک پر بیٹھی وہ مسلسل یوسف کو سنانے میں لگی تھی جو جسمین کی جھڑکیوں کو مزے سے سنتا اس کے غصّے کو مزید بھڑکا رہا تھا۔
” وہ تو جیسے شرافت دیکھا رہے تھے۔” زرا سا چہرہ موڑ کر وہ بولا۔ جسمین نے گھور کر اسے دیکھا۔
” میں تمہاری بات کر رہی ہوں۔”
” ہاں !! آپ کو میری ہی بات کرنی چاہیئے اور کسی کی کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔” یوسف نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔
” سدھر جاؤ ورنہ اس بار سمسٹر میں فیل کردوں گی۔” جسمین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایسا کیا کرے کے اس سرپھرے انسان کی عقل ٹھکانے آجا۔
” اچھا چھوڑیں بتائیں آگے سے دائیں یا بائیں؟ ” اس کی دھمکی کو نظرانداز کرتے ہوئے یوسف نے راستہ پوچھا۔
” دائیں اُس کے بعد ایک گلی چھوڑ کر بائیں ہاتھ پر گاڑی روک دینا۔” اب کے آرام سے جواب دیا۔
یوسف اثبات میں سر ہلاتا گاڑی کو اس کے بتائے راستے پر لے گیا تھوڑی دیر بعد ہی وہ اس علاقے میں پہنچ کر بائیک روک چکا تھا۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے مکانات موجود تھے۔ یوسف حیرت سے ان مکانات کو دیکھنے لگا۔ جسمین کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ وہ ایسے گھروں سے ہوسکتی ہے۔
” آپ یہاں رہتی ہیں؟ یہ علاقہ تو کسی گاؤں سے کم نہیں لگتا۔” یوسف نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا جو بائیک سے اُتر کر اپنی چادر ٹھیک سے اوڑھنے میں لگی تھی۔
” یہاں تک لانے کیلئے شکریہ۔”
اس کے سوال کو نظر انداز کرتی وہ شکریہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔ یوسف وہیں بائیک پر بیٹھا ماتھے پر بل ڈالے اسے جاتے دیکھتا رہا۔ وہ تیزی سے چلتی سیدھا سڑک کے کنارے پر پہنچ کر دائیں جانب مڑ گئی۔
یوسف ایک لمحے کیلئے وہیں کھڑا سوچتا رہا جسمین کے پیچھے جائے یا یہیں سے مڑ جائے۔ جانے نہ جانے کی تکرار میں اس نے بائیک اسٹارٹ کی اور فوراً اس سمت بڑھ گیا جہاں جسمین گئی تھی۔
” یہ یہاں۔۔۔”
وہاں پہنچ کر اس نے بائیک روکی اور سامنے موجود اس حویلی کو دیکھا۔ جو وہاں موجود تمام عمارتوں میں سب سے بلند و بالا اور خوبصورت تھی۔
” یہ یہاں رہتی ہیں۔”
دروازے پر کھڑے چوکیدار سے باتیں کرتی جسمین کو دیکھ کر وہ حیرت سے بڑبڑایا ساتھ ہی بائیک اسٹارٹ کرکے تیزی سے آگے بڑھ گیا۔
جسمین جو رشید میاں سے سلام دعا کرکے اندر جانے ہی لگی تھی اپنے پیچھے سے آتی بائیک کی آواز پر اس نے چونک کر پیچھے دیکھا جہاں سے یوسف گزر کر جا چکا تھا۔ وہ اندر تک کھول کر رہ گئی۔
” یہیں روک لو خود کو یوسف !! “
جسمین غصّے سے زیرِ لب بڑبڑائی۔ وہ یہ کیسے سوچ سکتی تھی کہ یوسف یہاں تک آتا اور اس کا گھر نہ دیکھتا۔
۔*********۔
فائزہ بیگم سے ملنے کے بعد وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلی آئی تھی۔ بیڈ پر لیٹی وہ ابھی یوسف کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی کہ دروازہ کھول کر بلاج تیزی سے اندر آیا۔
” کیا ہوا بھائی؟ ” اُٹھ کر بیٹھتی وہ اپنا دوپٹہ درست کرنے لگی۔
” تمہیں لینے یونیورسٹی گیا تھا۔ اتنی دیر سے وہاں کھڑے ہو کر تمہیں تلاش کرتا رہا اگر آگئی تھیں تو مجھے تو فون کر کے بتا دیتیں۔” جسمین کو دیکھ کر پرسکون ہوتا وہ اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔
” تھوڑی دیر پہلے ہی ائی ہوں۔ آتے ہی امی کے پاس چلی گئی تھی تو اُن سے باتوں میں بالکل دماغ سے نکل گیا کہ آپ کو بتادوں سوری۔” وہ شرمندہ سی ہو کر وضاحت کرنے لگی۔
” اچھا چلو کوئی بات نہیں لیکن آئی کیسے ہو؟ “
بلاج کے سوال پر وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔ آیا کہ سچ بتائے یا نہیں۔
” وہ بھائی۔۔۔!! “
” کیا ہوا ٹیکسی لی تھی؟ ” بلاج نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“وہ بھائی مجھے یوسف چھوڑ کر گیا ہے۔” ڈرتے ڈرتے وہ سچ بول گئی۔ کچھ بھی چھپا کر وہ بلاج کا اعتبار نہیں کھونا چاہتی تھی۔
” جسمین ٹیکسی سے آجاتیں۔” بلاج ایک دم سنجیدہ ہوا اب اس کے چہرے پر فکر مندی کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی۔ جسمین اسے دیکھتی رہے گئی۔
” میں ٹیکسی سے ہی آ رہی تھی پر یوسف نے کہا غیر پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے اسٹوڈنٹ پر کر لوں۔” وہ نظریں جھکائے بولی۔ اب اسے اپنے فیصلے پر افسوس ہو رہا تھا کہ کیوں وہ یوسف کے ساتھ آئی۔
” جسمین جب تم ٹیکسی سے آؤ گی تو کسی میں اتنی ہمت نہیں ہو گی کہ تم پر باتیں بنائے۔ لیکن جب تم یوں کسی کے ساتھ بائیک پر آؤ گی بھلے وہ تمہارا اسٹوڈنٹ ہی کیوں نا ہو۔ لوگوں کو موقع مل جائے گا تم پر طرح طرح کی باتیں بنانے کا۔ مجھے تم پر اعتبار ہے لیکن کسی کو باتیں بنانے کا موقع ملے یہ میں نہیں چاہتا۔” بلاج کی بات پر اب کے اس نے نظروں کے ساتھ ساتھ سر بھی شرم سے جھکا دیا۔
” میں آگے سے خیال رکھوں گی بھائی۔” وہ محض اتنا ہی بول سکی۔
” چلو تم آرام کرو میں بھی اپنے کمرے میں جاتا ہوں۔” جسمین کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتا، بلاج اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
اس کے جاتے ہی بیڈ پر بیٹھی جسمین کا ضبط جواب دے گیا تھا۔ گھٹنوں میں سر دیئے وہ خود کو آنسو بہانے سے روک نہ سکی۔
۔*********۔
” یوسف یہ دوائی ختم ہوگئی ہے لے آنا۔” سیاہ آسمان تلے وہ دونوں صحن میں بچھی چار پائی پر بیٹھے تھے۔ جب حیدر صاحب نے یوسف کو مخاطب کیا۔ جو ان کے برابر میں لیٹا غائب دماغی سے آسمان کو تک رہا تھا۔
” یوسف تم سے کہہ رہا ہوں۔” جواب نہ پاہ کر انہوں نے پھر پکارا۔
” یوسف !! “
” جی۔۔۔ جی ابو آپ نے کچھ کہا؟ ” اس نے چونک کر حیدر صاحب کو دیکھا۔
” ہاں یہ دوائی ختم ہو گئی لے آنا۔” حیدر صاحب بغور اسے دیکھتے ہوئے بولے۔
” جی کل لے آؤ گا۔” اثبات میں سر ہلاتا وہ واپس اپنی سابقہ حالت میں لیٹ گیا۔
” کیا بات ہے یوسف کچھ پریشان ہو؟ ” حیدر صاحب کے سوال پر اس نے چہرہ موڑ کر انہیں دیکھا جو زرا سی دیر میں ہی اس کی پریشانی کو بھانپ گئے تھے۔
” ابو جو نصیب میں نہیں اُسے زہن سے کیسے نکالوں؟ “
اس نے کہتے ہوئے چہرہ موڑ کر واپس آسمان کی طرف دیکھا۔ اوپر موجود تاروں کو تکتا وہ ان میں کسی کے عکس کو تلاش کر رہا تھا۔
” تمہیں کیسے پتا نصیب میں نہیں؟ کیا تم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی؟ ” حیدر صاحب نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ جبکہ یوسف اب کے اُٹھ کر بیٹھتا پوری طرح سے ان کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔
” میں کوشش کیسے کروں جبکہ مجھے پتہ ہے وہ چیز میرے نصیب میں نہیں۔”
” کوشش کرنے کے بجائے یہ سوچ لینا کے نصیب میں نہیں یہ تو بیوقوفی ہے۔” یوسف کی بات پر وہ مسکرا کر بولے۔ وہ الجھ کر حیدر صاحب کو دیکھنے لگا۔
” مطلب؟ “
” جو بن مانگے مل جائے وہ نصیب اور جو لاکھ کوششوں کے بعد بھی نہ ملے تو وہ بھی ہمارا نصیب مگر کوشش کرنے سے پہلے یہ مان لینا کہ نصیب میں نہیں تو یہ سرا سر بیوقوفی ہے۔” حیدر صاحب نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
” مطلب میں کوشش کروں؟ “
” ہاں !! کیوں کہ کچھ لوگ نصیب کے معاملے میں بہت خوش قسمت ہوتے ہیں۔ بن مانگے سب مل جاتا ہے اور کچھ لوگوں کے نصیب میں محنت کرکے حاصل کرنا لکھا ہوتا ہے۔ مگر ملتا سب کو ہے۔ اگر حاصل کرنے کی نیت ہو تو۔” اب کے وہ جتا کر بولے۔
وہ یہ تو نہیں جانتے تھے کہ ان کا بیٹا کس چیز کی خواہش دل میں لیے بیٹھا ہے مگر وہ یہ ضرور جانتے تھے وہ خواہش کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔ آخر اپنی اولاد کے بارے میں ماں باپ سے بہتر کون جان سکتا ہے۔
” اور اگر محنت کر کے بھی نصیب میں حاصل کرنا نہ لکھا ہو؟ ” کہتے ہوئے اس نے اپنا سر حیدر صاحب کے گھٹنے پر رکھ دیا۔
” اللّٰه کا فرمان ہے کہ میں تمہارا گمان ہوں۔ مجھ سے جیسا گمان رکھو گے تمہارے ساتھ ویسا ہی معاملہ پیش آئے گا اس لیے اُس اللّٰه سے نا امید اور مایوس ہونا چھوڑ دو تمہارے راستے خود بخود سیدھے ہوتے چلے جائیں گے۔ کیونکہ اُس کے گھر میں دیر ہے پر اندھیر نہیں۔ سمجھے؟ ” یوسف کے سر پر ہاتھ پھیرتے انہوں نے پوچھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“جی !! میں کوشش کروں گا ابو۔”
کہتے ہوئے یوسف نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ جبکہ حیدر صاحب اس کے چہرے پر نظریں جمائے اس کی ہر جائز خواہش کے پورا ہونے کی دعا کرنے لگے۔
۔*********۔
صبح سے ایک کے بعد ایک کلاس لیتی وہ کافی تھک چکی تھی۔ کچھ ذہنی طور پر بھی تھکن سوار تھی جس کے باعث جسمین اپنے اندر چڑچڑا پن محسوس کر رہی تھی۔ ایسے میں وہ لیکچر دے کر کلاس روم سے باہر نکلی تو سامنے ہی یوسف کو کھڑا پایا۔ وہ شاید ابھی اپنی کلاس لے کر ہی آیا تھا۔ نیوی بلو شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ پہنے وہ ہمیشہ کی طرح اپنے سادہ سے حلیے میں بھی ماحول پر چھایا ہوا تھا۔ ایک نظر اس پر ڈال کر نظریں پھیرتی وہ آگے بڑھ گئی۔ کل جو خول زرا سا چٹخا تھا۔ آج وہ پھر پوری مضبوطی سے اس پر چڑھ چکا تھا۔
یوسف حیرت سے اسے جاتے دیکھنے لگا۔ وہ تو سمجھا تھا ان کے بیچ کھڑی سرد مہری کی دیوار گر چکی ہے مگر۔۔۔ وہ تو اپنی جگہ ہی قائم تھی۔
” یہ ایسے نہیں مانیں گی۔” خود سے بڑبڑاتا یوسف فوراً اس کے پیچھے لپکا۔
تیزی سے قدم بڑھاتی وہ لائبریری کی طرف جا رہی تھی جب پیچھے سے آتی آواز پر ایک دم رکی۔
” مس (وقفہ) جسمین !! “
” کیا ہے؟ ” وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں کہتی پیچھے مڑی۔
” وہ موبائل میں بیلنس ختم ہو گیا۔”
” تو؟ “
” تو آپ کا موبائل مل سکتا ہے؟ ایک کال کرنی ہے۔” معصومیت سے پوچھا گیا۔
” یہ لو۔”
اس نے ہاتھ میں پکڑا موبائل یوسف کی طرف بڑھا دیا۔ جس نے موبائل لیتے ہی تیزی سے نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا تھا۔ موبائل کان سے لگاتے ہی آس پاس سے موبائل ٹون بجنے کی آواز آنے لگی۔
” او ہو !! یہ تو میری جیب میں ہی ہے۔”
یوسف نے کہتے ہوئے موبائل جیب سے نکالا جس پر ابھی بھی جسمین کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
” یہ لیں ہو گیا کام۔ بس مسڈ کال ہی دینی تھی۔”
اس نے واپس موبائل جسمین کو پکڑایا اور مڑ کر تیزی سے نکلتا چلا گیا۔ جبکہ جسمین ناسمجھی سے اس کی پشت کو گھور رہی تھی کہ تبھی چونک کر اپنے موبائل کی طرف دیکھا۔ جہاں اجنبی نمبر سے میسج جگمگا رہا تھا۔
” سیو مائے نمبر مس (وقفہ) جسمین !! “
” یوسف کے بچے۔”
غصّے سے کھولتی پیر پٹخ کر لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔ دل ہی دل میں یوسف کے لیے کوسنے بھی جاری تھے۔ جو بیوقوف بنا کر اس کا نمبر لے اُڑا تھا۔
