Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 07)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 07)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
آج صبح سے موسم ابر آلود ہو رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے ماحول کو خوشگوار بنا رکھا تھا۔ ایسے میں وہ ہاتھوں میں فائلز پکڑے، جامنی رنگ کے سادہ شلوار قمیض کے ساتھ دوپٹہ سر پر لیے، سیاہ کام دار چادر کو اپنے گرد لپیٹے سوچوں میں گم چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی یونی کے پارکنگ ایریا سے نکل کر اندر کی جانب بڑھ رہی تھی۔
پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا اس دوران یوسف یونیورسٹی نہیں آیا تھا۔ اُس کی غیر حاضری کی وجہ نوید نے جسمین کو پہلے دن ہی بتا دی تھی۔ یہ سوچ کر کہ کہیں یوسف کے یونی آنے کے بعد مس جسمین اُسے پھر پنیش نہ کردیں۔
ادھر جسمین جسے بلاج کے منہ سے یوسف کا نام سن کر شبہ ہوا تھا نوید کی بات پر یقین میں بدل گیا تھا۔ لیکن فرق کیا پڑنا تھا؟ یہاں تو ہر بات بےمعنیٰ تھی۔
یونہی سوچوں میں گم نظریں نیچے جھکائے وہ کوریڈور میں چلتی اسٹاف روم کی جانب جا رہی تھی جب کسی نسوانی آواز پر ٹھٹھک کر رکی۔ نظریں اُٹھا کر دیکھا تو سامنے ہی زرا فاصلے پر ایک لڑکی کھڑی اپنے سامنے کھڑے لڑکے سے باتیں کر رہی تھی۔ دیکھنے سے ہی وہ کسی امیر گھرانے کی معلوم ہو رہی تھی مگر سامنے کھڑا لڑکا۔۔۔ جسمین نہ چاہتے ہوئے بھی وہیں رک گئی۔
” تمہیں کس بات کا غرور ہے آخر؟ یونی کا ہر لڑکا مجھ سے بات کرنے کیلئے مرتا ہے اور تم تم مجھے ٹھکرا رہے ہو۔ آخر تمہارے پاس ہے ہی کیا یوسف؟ ” وہ غصّے سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ غرائی۔ آواز اتنی اونچی تھی کہ چند قدموں کے فاصلے پر کھڑی جسمین تک باآسانی پہنچ گئی۔
” صحیح کہا محترمہ انوشے صاحبہ !! میرے پاس کچھ نہیں پھر کیوں آپ میرے پیچھے پڑی ہیں؟ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ اپنی خوبصورتی، اپنے روپے پیسے سے آپ دنیا کی ہر چیز حاصل کر سکتی ہیں۔”
سارے لحاظ بالائے طاق رکھ کر، ارد گرد سے بے نیاز وہ دونوں ایک دوسرے سے لڑنے میں لگے تھے۔ ایک قید کرنے کیلئے لڑ رہا تھا تو دوسرا اس قید سے رہائی کیلئے لڑ رہا تھا۔ جسمین حیرت سے انہیں دیکھتی رہی۔
” میں تم سے محبت کرتی ہوں۔” وہ تقریباً چلائی۔
” نہ نہ آپ مجھ سے محبت نہیں کرتیں۔ بس ضد ہے حاصل کرنے کی۔ لیکن میں ان مردوں میں سے نہیں جو روپے پیسے کے لالچ میں کسی سے بھی کھیل جائیں۔ مجھ سے دور رہیں آپ ایک اچھی لڑکی ہیں اور ایک لڑکی ہونے کے ناطے باعثِ احترام بھی۔ اس لیے میں آپ سے کوئی بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا۔” ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے وہ اپنے غصّے پر ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
” تم میری محبت کو ضد کہہ رہے ہو۔” انوشے نے اس کا گریبان پکڑنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی یوسف نے اس کے ہاتھوں کو جھٹک دیا۔
” اچھا تو یہ ضد نہیں۔ پھر چلیں ابھی ہم دونوں جا کر نکاح کر لیتے ہیں اور مجھے اُمید ہے کہ آپ کی یہ محبت ساری زندگی میری اس غریبی کے ساتھ باخوشی سمجھوتہ کر لے گی۔” یوسف نے چیلنج کرتی نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑیں۔
” کیا مطلب ہے تمہارا؟ ” وہ ایک دم گڑبڑا کر اسے دیکھنے لگی۔
” کیا مطلب کیا؟ محبت میں نکاح نہ ہو تو سب بیکار ہے اور مجھے یہ بھی اُمید ہے کہ آپ کے گھر والے اتنے آزاد خیال تو ہونگے کہ ہمارے نکاح کو قبول کر لیں۔”
یوسف نے اس کے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ اس وقت وائٹ ٹی شرٹ اور بلیک ٹائٹس میں ملبوس تھی۔ انوشے اس کا مطلب سمجھتے ہی بھڑک اُٹھی۔
” تم اب میرے کپڑوں پر انگلی اُٹھا رہے ہو۔”
” نہیں میں آپ لوگوں کی آزاد خیالی بتا رہا ہوں۔” وہ دو بدو بولا۔
” دیکھو میں تم سے ابھی نکاح نہیں کرسکتی۔۔۔”
” بس !! میں کوئی آپ کے چند دن کی عیاشی کا سامان نہیں ہوں۔ ایسی محبت پر سو بار لعنت جس میں نکاح نہ ہو۔”
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا اپنی بات کہہ کر جانے کیلئے مڑا ہی تھا کہ پیچھے کھڑی جسمین کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رکا۔
اس کی ایک جھلک نے تپتے صحرا میں شبنم کے قطروں کا کام کیا تھا۔ وہ کھلے دل سے مسکرایا اور عین اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
” آپ کے ابو کی طبیعت کیسی ہے؟ ” جسمین سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔ البتہ یوسف کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔
” ٹھیک ہے !! اب سب ٹھیک ہے مس (وقفہ) جسمین۔”
یوسف نے کہتے ہوئے ایک نظر اس کے فائلز پکڑے ہاتھوں پر ڈالی دوسری اس کے سنجیدہ چہرے پر۔
” لائیں میں لے کر چلتا ہوں۔”
کچھ بھی کہنے کا موقع دیئے بغیر وہ اس کے ہاتھ سے فائلز لے کر اسٹاف روم کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ وہ کھڑی یہ سوچ رہی تھی کہ۔۔۔ آیا یہ نام کا اثر ہے یا تربیت کا؟ کہ آج تک کوئی زلیخہ یوسف کو تسخیر نہ کر پائی۔
” کون کہتا ہے کہ مرد کسی عورت کو “نہ” نہیں کہہ سکتا
مرد اگر کردار والا ہو تو کوئی اسے “عام” نہیں کہہ سکتا “
۔*********۔
” سارا پیسہ تو انکل کے علاج میں لگ گیا اب تو سمسٹر کی فیس ادا کیسے کرے گا؟ “
کلاس کے بعد وہ چاروں لائبریری میں بیٹے اسائنمنٹ پر کام کر رہے تھے جب جنید نے یاد آنے پر پوچھا۔
” کر لوں گا کچھ ابو کی طبیعت سے بڑھ کر نہیں تھے وہ پیسے۔” کتابوں میں سر دیئے وہ سرگوشی نما آواز میں بولا۔
” میرے پاس کچھ سیونگز رکھی ہیں۔” نوید نے اس کے کان میں گھس کر بتایا۔
” نہیں میں دیکھ لوں گا۔ اس کی ضرورت نہیں۔” یوسف نے فوراً انکار کیا۔ لاکھ چاروں میں گہری دوستی سہی پر وہ اپنی خوداری پر کہاں حرف آنے دیتا۔
” لیکن یوسف۔۔۔”
” مس جسمین آئی ہیں۔”
ابھی نوید بول ہی رہا تھا جب حذیفہ کی بات پر دونوں نے سر اُٹھا کر لائبریری کے دروازے کی طرف دیکھا۔
ہاتھ میں پیپر پکڑے وہ اپنے ساتھ کھڑے اسٹوڈنٹ سے دھیرے سے کچھ بول رہی تھی۔ جس پر وہ لڑکا سر ہلاتا کتابوں کی جانب بڑھا۔
نوید نے چہرہ موڑ کر یوسف کو دیکھا۔ جس کا ہاتھ بےاختیار اپنے بالوں کی طرف گیا تھا۔ نوید کے زہن میں ایک دم جنید کی بات گھوم گئی۔
” ہٹلر کی نانی کو دیکھتے ہی اپنے بال ایسے سنوارنے لگ جاتا ہے جیسے وہ سیدھا یوسف کے پاس آکر اُس کی وجاہت کے قصیدے پڑھیں گی۔”
نوید نے زرا کا زرا چہرہ موڑ کر اپنے سامنے بیٹھے جنید کو دیکھا جس کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں (Told you) والے تاثرات تھے۔
نوید نے چہرہ چھت کی طرف کیا اور نفی میں سر ہلاتا واپس کتابوں میں جھک گیا۔
” اس کا کچھ نہیں ہو سکتا !! “
۔*********۔
بلاج گاڑی سے ٹیک لگائے پندرہ منٹ سے یونیورسٹی کے سامنے کھڑا جسمین کا انتظار کر رہا تھا۔ آج وہ گھر پر ہی موجود تھا اس لیے خود ہی جسمین کو لینے چلا آیا تھا۔
” کہاں رہے گئی۔”
ابھی گھڑی پر نظر ڈال کر اس نے جسمین کو کال کرنے کے لیے موبائل جیب سے نکالا ہی تھا کہ سامنے سے جسمین آتی دکھائی دی۔ اس نے موبائل واپس جیب میں رکھ لیا۔
” السلام عليكم !! “
” وعلیکم السلام!! کتنی دیر لگا دی کب سے کھڑا انتظار کر رہا ہوں۔” سلام کا جواب دیتے ہی وہ فوراً بولا۔
” سوری بس کام سمیٹتے سمیٹتے دیر ہوگئی۔” مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس نے وضاحت پیش کی۔
” اچھا چلو چلیں۔ راستے میں تمہیں آئسکریم بھی کھلاتے ہیں۔”
بلاج نے کہتے ہوئے جسمین کیلئے ابھی گاڑی کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ پیچھے سے کسی نے پکارا۔
” مس جسمین !! “
۔*********۔
یوسف جو اسائنمنٹ مکمل کرنے کے بعد لائبریری سے نکل کر پارکنگ ایریا کی طرف آرہا تھا۔ یونی کے گیٹ کے باہر کھڑی جسمین کو دیکھا جو کسی مرد کے ساتھ کھڑی مسکرا کر بات کر رہی تھی۔ وہ ایک منٹ کو اس کی مسکراہٹ میں کھو سا گیا۔ پہلی دفعہ وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس کی معصوم مسکراہٹ، اس وقت یوسف کو دنیا کا یہ حسین ترین منظر لگا تھا۔ وہ ابھی اسی منظر میں کھویا تھا کہ زہن میں ایک دم کچھ کلک ہوا۔
وہ کسی مرد کے ساتھ کھڑی تھی اور وہ مرد اُس کیلئے گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا۔ یوسف تیزی سے ان کی جانب بڑھا۔ کچھ چھین جانے کا ڈر، خوف، غصّہ، بےچینی بیک وقت وہ کئی کیفیت کا شکار ہوا تھا۔
” مس جسمین !! “
آواز پر دونوں نے مڑ کر یوسف کی طرف دیکھا جو بلیک پینٹ اور ریڈ چیک والی شرٹ میں ملبوس چہرے پر سنجیدگی لیے کھڑا تھا۔
” مسٹر یوسف رائٹ؟ ” بلاج اسے دیکھتے ہی پہچان گیا بھلا یہ چہرہ بھی کوئی بھول سکتا تھا۔
” جی بھائی یہ میرے اسٹوڈنٹ ہیں یوسف حیدر۔” جسمین جو یوسف کے پکارنے پر گھبرا گئی تھی فوراً بولی۔ کہیں بلاج یوسف کو لے کر مشکوک نہ ہوجائے۔
اُدھر جسمین کے منہ سے بلاج کیلئے بھائی لفظ سن کر یوسف کے دل کی دنیا میں قوس و قزح کے رنگ کھل اُٹھے تھے۔ وہ فوراً بلاج سے مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا۔
” السلام عليكم ڈاکٹر بلاج !! “
” وعليكم السلام !! کیسی ہے اب آپ کے ابو کی طبیعت؟ ” بلاج نے مسکرا کر پوچھا۔
” جی بہتر میں لے کر آؤں گا انہیں چیک اپ کیلئے۔” جواباً یوسف بھی مسکرایا۔
” کیوں نہیں ضرور لے کر آنا اب اُنہیں کافی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔”
” جی۔” یوسف نے اثبات میں سر ہلایا۔
” ویسے آپ کو کچھ کام تھا اپنی مس جسمین سے؟ ” بلاج پوچھ رہا تھا۔ جبکہ یوسف کا زہن تو ” اپنی ” لفظ پر ہی اٹک کے رہ گیا تھا۔ وہ بے اختیار ہو کر جسمین کو دیکھنے لگا۔ جس پر جسمین مزید گڑبڑا گئی۔
” مسٹر یوسف؟ “
وہ چونکا اور خود کو کمپوز کرتے ہوئے بلاج کی طرف دیکھا۔
” جی اسائنمنٹ کے متعلق کچھ پوچھنا تھا پر اب میں کل پوچھ لوں گا۔” اپنی عادت کے برخلاف جا کر اس نے جھوٹ بولا۔
” چلیں ٹھیک ہے اب ہم بھی چلتے ہیں ویسے ہی دیر ہو گئی ہے۔ چلیں جسمین؟ “
یوسف سے کہتا وہ جسمین کی طرف متوجہ ہوا۔ جو اثبات میں سر ہلاتی فوراً گاڑی میں بیٹھ گئی۔
” اچھا یوسف چلتا ہوں۔”
بلاج نے ایک بار پھر یوسف سے مصافحہ کیا اور خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر آکر گاڑی اسٹارٹ کرتا آگے بڑھا لے گیا۔
یوسف وہیں کھڑا گاڑی کو دور جاتے دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی۔
” کیا ہوگیا ہے مجھے؟ “
۔*********۔
” تم نے پہلے نہیں بتایا تم یوسف کو جانتی ہو؟ ” بلاج گاڑی ڈرائیو کرتے پوچھ رہا تھا۔
جسمین ایک دم چوکنا ہوئی۔ وہ ایسا کچھ نہیں ہونے دینا چاہتی تھی جس کی وجہ سے اس کے بھائی کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔
” بھائی جب آپ نے بتایا تھا تو تب مجھے پتا نہیں تھا آپ کس یوسف کی بات کر رہے ہیں۔ اُس کے بعد یوسف بھی ایک ہفتے تک یونیورسٹی نہیں آیا تھا تو مجھے تب معلوم ہوا کہ یہ وہی یوسف ہے۔” اس نے وضاحت پیش کی۔
” اچھا پھر بعد میں تو بتانا چاہیئے تھا۔”
” وہ بھائی یونی میں سمسٹر شروع ہو رہے ہیں تو مصروفیات کی وجہ سے بالکل میرے دماغ سے نکل گیا۔”
” اچھا چلو کوئی بات نہیں۔ ویسے کافی اچھا لڑکا ہے۔” بلاج روڈ پر نظریں جمائے مسکرا کر بولا۔
” جی۔” وہ محض اتنا ہی کہہ سکی۔
زندگی عجیب ہوتی جا رہی تھی جتنا وہ کوشش کرتی یوسف سے دور رہنے کی وہ اتنا ہی اس سے جڑتا جا رہا تھا اور اب تو بلاج سے بھی اس کا سامنا ہوگیا تھا۔
” یااللّٰہ بس میری وجہ سے میرے بھائی کا سر مت جھکنے دینا۔” دل ہی دل میں اپنے رب سے مخاطب ہوتی وہ شیشے کے اُس پار دیکھنے لگی۔ ایک تھکن تھی جو اس پر نہ جانے کب سوار ہو گئی تھی۔
