Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 17)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 17)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
جسمین خاموش کھڑی فائزہ بیگم کو دیکھ رہی تھی۔ جو واپس آنے کے بعد بیڈ پر بیٹھیں کب سے آنسو بہا رہی تھیں۔ بےشک بیٹے نے اپنے منہ سے دکھ کا اظہار نہ کیا ہو لیکن وہ ماں تھیں کیسے اس کے دل کا حال نہ جان پاتیں۔
” امی مت روئیں طبیعت خراب ہو جائے گی۔”
” کیسے نہ روں گھر میں خوشیاں آئیں نہیں کہ پہلے ہی انہیں نظر لگ گئی۔” وہ بےبسی سے بولیں۔
” اللّٰه کی یہی مرضی تھی امی انسان اللّٰه کے فیصلے کے آگے بےبس ہے۔” جسمین ان کے پاس جا بیٹھی اور اپنے ہاتھ سے ان کے آنسو صاف کرنے لگی۔
” جانتی ہوں لیکن۔۔۔”
کہتے ہوئے وہ پھر رو پڑیں۔ بیٹے کو تکلیف میں دیکھ کر ان کا اپنا دل بھر آتا۔ وہ چاہ کر بھی اس کی تکلیف دور نہیں کرسکتی تھیں۔ کتنا بےبس ہو جاتا ہے انسان زندگی کے ہاتھوں سب کچھ آنکھوں کے سامنے چھن جاتا ہے اور انسان بس کھڑا اپنے لٹنے کا تماشا دیکھتا رہتا ہے۔
” بس امی خاموش ہو جائیں یہ وقت بھی گزر جائے گا۔” اپنے ساتھ فائزہ بیگم کو لگاتے ہوئے جسمین نے تسلی دینی چاہی۔ لیکن خود اپنی آنکھوں کو بھیگنے سے نہ روک سکی تھی۔
۔**********۔
دو ماہ بعد۔۔۔
کمرے میں جلتی مدہم روشنی میں وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے بالوں کو سلجھانے میں لگی تھی۔ سوچوں کے تانے بانے اس ایک شخص سے جڑے تھے۔ جو کم ہی وقت میں اسے بہت عزیز ہو گیا تھا۔ اُس کے جذبات سے انکاری یہ دل کب بغاوت کر کے اس کے ساتھ جا ملا پتا ہی نہ چلا کہ ہر اصول اور رسم ورواج کو جانے کے بعد بھی وہ آنکھیں بند کیے اُس شخص کی طرف کھینچتی چلی گئی اور اب رگ رگ میں اُس شخص کی محبت اس خوشبو کی طرح بس چکی تھی جو پھول کے مرجھا جانے کے بعد بھی ساتھ نہیں چھوڑتی۔ کوئی اسے چاہتا تھا بلکہ نہیں کوئی اس عشق کرتا تھا۔ جس کا تصور ہی اس کی زندگی کو مہکانے کیلئے کافی تھا۔
” اف !! کیا ہو گیا ہے مجھے۔”
جسمین نے اپنے سر پر ہاتھ مارا اور ایک بار پھر بالوں کو سلجھانے لگی۔ لبوں پر ایک خوبصورت تبسم رقص کرتا نویلی محبت کی نوید سنا رہا تھا۔
وہ یونہی سوچوں میں گم بیٹھی آئینے میں اپنے عکس کو دیکھنے لگی کہ دفعتاً ٹیبل پر رکھا اس کا موبائل بج اُٹھا۔ ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے موبائل اُٹھا کر اپنے سامنے کیا۔ اسکرین پر جگمگاتا نمبر اس کیلئے اب انجان نہیں تھا لیکن پھر بھی سیو نہیں تھا۔
” ہیلو !! ” کال ریسیو کرتے ہی اسپیکر سے بھاری مردانہ آواز ابھری۔
” تم !! تمہیں میں نے منع کیا تھا نا کال نہیں کرنا۔” جسمین نے لہجے کو سخت بنایا۔
” آپ نے بلاج بھائی سے بات کی؟ ” اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے یوسف نے اپنا سوال پوچھا۔
” دماغ خراب ہے تمہارا میں کیسے اُن سے ابھی ہمارے بارے میں بات کر سکتی ہوں وہ کیا سوچیں گے۔” وہ تپ اُٹھی۔
” ہماری شادی کے بارے ميں سوچیں گے اور کیا سوچیں گے۔” دوسری جانب سے سکون سے کہا گیا۔
” دیکھو تمہارے ایگزامز شروع ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد تمہارا ماسٹرز مکمل ہو جائے گا۔ بہتر ہے تب تک صرف اپنی پڑھائی پر دھیان دو۔” جسمین نے اسے سمجھانا چاہا۔
” یہ ہی تو میں کہنا چاہتا ہوں۔ ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میں فوراً ہی آپ کو اپنی زندگی میں لانا چاہتا ہوں۔ اس لیے بلاج بھائی سے بات کریں۔” یوسف نے سمجھنا تو خاک تھا البتہ ڈھٹائی سے بولا۔
” ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی ضرورت نہیں۔”
” ہتھیلی کے بجائے پتیلی میں جما لیتا ہوں پر آپ بات کریں۔”
اب کے یوسف کی بات پر جسمین کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ وہ اُٹھی اور موبائل کان سے لگائے کھڑکی کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
” مسٹر یوسف حیدر کیا کوئی کسی کیلئے اتنا بھی پاگل ہو سکتا ہے؟ “
” اب مجھے ” کوئی” اور ” کسی” کا تو نہیں پتا پر یوسف حیدر ” جسمین ملک ” کیلئے ہو سکتا ہے۔”
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا جسمین کا دل دھڑکا گیا تھا۔ اس نے موبائل پر گرفت مضبوط کی ہتھیلیاں بھیگنے لگی تھیں۔
” اچھا بس یہ فلمیں دیکھنا بند کرو اور پڑھائی پر توجہ دو بائے۔” اس نے کہتے ہوئے فوراً کال کاٹ دی جبکہ دوسری طرف بیچارا یوسف سنے سنے ہی کرتا رہ گیا تھا۔
۔*********۔
صبح ہوتے ہی جسمین یونی کیلئے اور بلاج ہسپتال کیلئے نکل چکا تھا۔ دوسری طرف خاور اور دلاور اس وقت جلسے کی تیاری کرنے کیلئے روانہ ہو رہے تھے۔ جبکہ جہانگیر ملک اپنے کمرے میں بیٹھے اخبار پڑھنے میں مصروف تھے۔ جب فائزہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔
” فائزہ آج شام کچھ مہمان آ رہے ہیں۔ ان کی خاطر تواضع میں کوئی کمی نہ رہے۔” اخبار کا صفحہ پلٹتے ہوئے انہوں نے اس نئی خبر سے آگاہ کیا۔
” کون؟ کون آ رہے ہیں؟ ” فائزہ بیگم نے ہاتھ میں موجود چائے کا کپ انہیں تھماتے ہوئے پوچھا۔
” ہیں کچھ خاص مہمان۔ اب جائیں جا کر تیاری کریں ان کے آنے کی۔”
یہ کہہ کر وہ ایک بار پھر اخبار پڑھنے میں مشغول ہو گئے جبکہ فائزہ بیگم مرجھائے ہوئے چہرے کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آئیں۔
یہ حسرت ہی دل میں رہ گئی تھی کہ کبھی ان کا شوہر اپنے کسی فیصلے میں انہیں شامل کرتا۔ وہ تو صرف گھر میں موجود اُس سامان کی طرح تھیں جو ضرورت پڑنے پر ہی یاد آتا تھا۔
۔*********۔
” اس بار ایگزامز کے بعد ہم چاروں مری چلیں گے کیا خیال ہے؟ ” کینٹین میں بیٹھے وہ چاروں آپس میں باتوں میں مصروف تھے جب جنید نے اپنا پلان بتایا۔
” اچھا آئیڈیا ہے۔ کیوں نوید، یوسی؟ ” حذیفہ نے بھی اس کی تائید کرتے ہوئے ان دونوں سے پوچھا۔ جو برگر سے انصاف کرنے میں لگے تھے۔
” چار نہیں پانچ؟ “
یوسف کے کہنے کی دیر تھی کہ برگر کھاتے نوید کو یکدم پھندا لگا۔ اچھے سے جانتا جو تھا اس پانچویں شخص کو۔
” پانچ؟ پانچواں کون؟ “
جنید اور حذیفہ نے بھنویں اچکائے یوسف کو دیکھا۔ جو سکون سے کھانے میں لگا تھا۔ اسی سکون کے ساتھ جواب بھی دے دیا۔
” جسمین۔”
” ہاں !! وہ کیوں جائیں گی ہمارے ساتھ؟ ” دونوں کی آنکھیں اُبل کر باہر آنے کو تیار تھیں جبکہ نوید نے فوراً پانی کا گلاس اُٹھا کر منہ کو لگا۔ گلے میں اٹکتا نوالہ اس کی جان بھی لے سکتا تھا یہ شاید یوسف کی بات۔
” کیا مطلب کیوں؟ ظاہر ہے شادی کے بعد میں اپنی بیوی کو ہر جگہ اپنے ساتھ ہی لے کر جاؤ گا۔”
” ہیں؟ تو شادی کر رہا ہے؟ “
” اور ہمیں بتایا بھی نہیں۔”
جنید اور حذیفہ کا صدمہ خاصا گہرا تھا۔ البتہ نوید نفی میں سر ہلاتے ہوئے بڑبڑایا۔
” بلی کو خواب میں چھچڑے نظر آ رہے ہیں۔”
” اب تو بتا دیا نا اور مجھے کوئی چھچڑے نظر نہیں آ رہے۔” ان دونوں کو جواب دے کر آخر میں نوید سے کہتا وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی بڑبڑاہٹ جو سن لی تھی پھر جواب دینا تو فرض بن گیا تھا۔
” اب کہاں جا رہا ہے؟ “
نوید نے اسے جاتے دیکھ پیچھے سے آواز لگائی جسے یوسف ان سنا کرتا کینٹین سے باہر نکل گیا۔
” کیا واقعی شادی کر لے گا؟ ” جنید نے حیرت سے پوچھا۔ حذیفہ اور نوید ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ کر رہ گئے۔ جواب کسی کے پاس نہ تھا سوائے قسمت کے۔
۔*********۔
گاڑیاں تیز رفتار سے دوڑتی ہوئی اس عظیم الشان حویلی کے سامنے جا رکی تھیں۔ دروازے پر کھڑے رشید میاں نے آگے گاڑی میں بیٹھے شخص کو پہچانتے ہوئے فوراً دروازہ کھولا۔ ڈرائیور گاڑی آگے بڑھاتا اندر پورچ میں لے آیا۔
گاڑی رکی ساتھ ہی ایک ادھیڑ عمر مرد دروازہ کھول کر باہر نکلا اس کے ساتھ ہی ایک ادھیڑ عمر عورت بھی گاڑی سے نکل کر پیچھے رکی گاڑی کی طرف دیکھنے لگی جس میں سے وہ دوشیزہ نکل کر ان کی طرف آ رہی تھی۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس، گلے میں لال رنگ کا دوپٹہ لیے، اپنے لمبے گھنے بالوں کو کمر پر پھیلائے، وہ دور دیس سے آئی کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔
” حورین بیٹا جلدی آؤ۔” شجاع عالمگیر نے بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ مسکراتی ہوئی ان کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
” آگئی پاپا۔”
” چلو دیر ہو رہی ہے۔”
شجاع عالمگیر دونوں کو اپنے ہمراہ لیے اندرونی دروازے کی طرف بڑھے جب دروازے سے باہر نکلتا بلاج ان دونوں میاں بیوی کو سلام کرتا، ساتھ کھڑی لڑکی پر ایک بھی نظر ڈالے بغیر آگے بڑھ گیا۔ البتہ پیچھے کھڑی حورین عالمگیر نے ایک بار اسے مڑ کر دیکھا ضرور تھا۔
” آؤ شجاع عالمگیر آؤ تمہارا ہی انتظار تھا۔” لاؤنج میں بیٹھے جہانگیر ملک اور فائزہ ملک انہیں دیکھتے ہی خوشدلی سے مسکراتے ہوئے ان کے پاس چلے آئے۔
” اور کیسے ہیں ملک صاحب؟ ” شجاع عالمگیر نے بغل گیر ہوتے ہوئے پوچھا۔ مسز شجاع اور حورین فائزہ بیگم سے مل رہی تھیں۔
” بس اللّٰه کا شکر ہے۔ آؤ اندر چلیں آئیں نا بھابھی۔” ان تینوں کو اپنے ہمراہ لیے وہ ڈرائنگ روم میں چلے گئے۔ جبکہ فائزہ بیگم نے کچن کا رخ کیا اور شبانہ کو ہدایت دینے کے بعد خود جسمین کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
۔*********۔
کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی وہ کانوں میں ٹاپس پہن رہی تھی۔ اس نے ایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالی۔ گہرے نیلے رنگ کا شلوار قمیض جس پر ہلکا سا کام تھا۔ اس پر بےحد جچ رہا تھا۔
” پتہ نہیں کونسے مہمان ہیں۔” جسمین بڑبڑائی کہ تبھی فائزہ بیگم کمرے میں چلی آئیں۔
” تیار ہو؟ “
” جی امی۔”
” آجاؤ پھر مہمان آگئے ہیں؟ ” وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولیں۔
” جی چلیں۔”
جسمین کہتے ہوئے ان کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکل کر سیڑھیاں اُترتی نیچے ڈرائنگ روم میں چلی آئی جہاں سب بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔ جسمین سب کو مشترکہ سلام کرتی فائزہ بیگم کے ساتھ صوفے پر جا بیٹھی۔
” بیٹا ادھر آؤ نا ہمارے پاس بیٹھو۔”
مسز شجاع مسکرا کر اپنے اور حورین کے درمیان اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔ جسمین نے الجھ کر فائزہ بیگم کی طرف دیکھا جو خود بھی خاصی الجھی نظر آ رہی تھیں۔
” جاؤ جسمین۔” جہانگیر ملک کے کہنے پر وہ سر جھکائے اپنی جگہ سے اُٹھی اور ان دونوں ماں بیٹی کے درمیان جا بیٹھی۔
” اور بیٹا آج کل کیا کر رہی ہو؟ “
” جی آنٹی یونیورسٹی میں ٹیچر ہوں پر اب ایگزامز کے بعد چھوڑ دوں گی۔” وہ دھیرے سے بولی۔ ذہن میں چھن سے یوسف کی بات یاد آئی تھی۔
” اس بار ایگزامز کے بعد آپ یونیورسٹی چھوڑ دیں گی۔ میں نہیں چاہتا میرے ہوتے ہوئے میری بیوی یوں چند پیسوں کیلئے خود کو تھکاتی پھرے۔” جسمین نے چہرہ نیچے جھکا لیا۔ ساتھ ہی ہونٹوں پر در آنے والی مسکراہٹ دبائی۔
” یہ تو اچھی بات ہے بیٹا ویسے بھی “سمیر” کو یہ عورتوں کا نوکری کرنا پسند نہیں۔” مسز شجاع کی بات پر جسمین کی مسکراہٹ یکدم سمٹ گئی۔ فائزہ بیگم بھی فوراً سیدھی ہو کر بیٹھی تھیں۔
” آہ !! جسمین بیٹا جاؤ جا کر کچن میں شبانہ کو دیکھو۔” فائزہ بیگم نے اسے منظر سے ہٹانا چاہا۔ جسمین فوراً اثبات میں سر ہلاتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
” میں بھی چلتی ہوں جسمین۔” حورین کہتی ہوئی اُٹھی اور اس کے ساتھ ہی ڈرائنگ روم سے باہر نکل آئی۔ کچن میں آکر جسمین نے اپنا سر پر جمایا دوپٹہ درست کیا اسے اب گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔
” جسمین ایک بات پوچھوں؟ ” حورین نے کچن میں نظر دوڑاتے ہوئے کہا جہاں شبانہ کے ساتھ سارے ملازم کام میں لگے تھے۔
” جی بولیں۔” اس نے اجازت دی۔
” وہ جب میں اندر آ رہی تھی تو کوئی آدمی باہر جا رہا تھا وہ کون تھا؟ ” کہتے ہوئے حورین کی نظروں میں بلاج کا سایا سا لہرایا۔
” آدمی؟ ” اس نے سوالیہ نظروں سے حورین کو دیکھا۔
” ہاں وہ بلیک پینٹ شرٹ میں تھا۔”
” اوہ !! وہ بلاج بھائی تھے کسی کام کی وجہ سے آئے تھے واپس ہسپتال چلے گئے۔” جسمین نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
” ہسپتال کیوں؟ “
” وہ ڈاکٹر ہیں نا اس لیے ہسپتال گئے ہیں۔” وہ مسکرا کر کہتی شبانہ کی جانب بڑھ گئی۔ جبکہ حورین وہیں کھڑی سوچوں میں گم دھیرے سے بڑبڑائی تھی۔
” ڈاکٹر بلاج اتنا غرور !! “
۔*********۔
یوسف تھوڑی دیر پہلے ہی کوچنگ سینٹر سے واپس لوٹا تھا اور اب کمرے میں بیڈ پر لیٹا خالی خالی نظروں سے چھت کو تک رہا تھا۔ حیدر صاحب کے جانے کے بعد ان چار دیواروں میں اب وہ اکیلا ہی رہ گیا تھا۔ اس لیے زیادہ تر وقت وہ باہر ہی گزارتا تھا تاکہ تنہائی کا احساس نہ ہو۔ لیکن جب کبھی وہ گھر پر ہوتا اور تنہائی کا احساس ستانے لگ جاتا تو جسمین کو ہی کال کر لیتا تھا۔ یوں تو جسمین نے منع کیا تھا پر اس تنہائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ جسمین کی ناراضگی بھی مول لے لیتا تھا۔
” یا اللّٰه !! ایک ایک کر کے میرے ماں باپ میری زندگی سے چلے گئے۔ جبکہ ان کے سوا میرا سگا کوئی نہ تھا پر اب میرے دوستوں اور جسمین کے سوا میرا کوئی نہیں۔ آپ تو جانتے ہیں میں جسمین سے کتنی محبت کرتا ہوں۔ میرے اللّٰه پلیز اب مجھ سے جسمین کو دور نہیں کیجئے گا۔”
وہ بیڈ پر سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ دل نہ جانے کیوں اداس ہو رہا تھا۔ عجیب سی بے چینی تھی جس کا علاج بس ایک ہی تھا۔ اپنے رب کے آگے سجدہ ریز ہونا۔
وہ صحن میں لگے واش بیسن کی طرف آیا اور وضو بنانے لگا۔ دور کہیں فضاؤں میں گونجتی عشاء کی اذان کی آواز اب قریبی مسجدوں سے سنائی دینے لگی تھی۔
یوسف وضو بنا کر گھر سے باہر نکلا اور دروازے کو تالا لگاتا مسجد کی جانب روانہ ہو گیا۔ ایک گلی چھوڑ کر ہی اگلی گلی میں محلے کی سب سے بڑی جامع مسجد تعمیر تھی۔ وہ پہلی صف میں جا کھڑا ہوا۔ باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد وہ دعا میں ہاتھ اُٹھائے اپنے رب سے محو گفتگو ہوا۔
” میں نے ہمیشہ اپنی زندگی میں ہر چیز کو محنت سے حاصل کیا۔ مجھے زندگی میں سہولیات میسر نہیں تھیں۔ انہیں حاصل کرنے کیلئے بھاگنا پڑا ہے۔ بہت بھاگنا پڑا ہے۔ لیکن میں نے کبھی آپ سے شکایت نہیں کی میرے اللّٰه۔۔۔ جو بھی ملا، جیسے بھی ملا میں راضی رہا، راضی ہوں پر جسمین کو مجھ سے نہ چھینا۔ وہ چلی جائے گی تو کوئی کوشش، کوئی جدوجہد اُسے واپس نہیں لاسکے گی اور نہ ہی کوئی اور اس کی کمی کو پورا کر پائے گا۔ شاید اس دنیا میں ہر چیز کا نعم البدل ہو پر محبت کا نعم البدل کوئی نہیں۔۔۔ رشتہ ہر ایک سے جڑ جاتا ہے لیکن محبت ہر ایک سے نہیں ہوتی۔ میں اُس سے محبت کرتا ہوں اور آپ سے اُس کو مانگتا ہوں۔۔۔ بے شک آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں جو مجھے اُس سے دور کر سکے اور نہ مجھے اُس سے ملا سکے۔۔۔”
یونہی بیٹھا وہ کافی دیر تک اپنے رب سے فریاد کرتا رہا اُس سے مانگتا رہا۔ جس کے خزانوں میں کمی نہیں۔ وہ نواز دے تو اُس کی رحمت اور نہ دے دو تو مصلحت۔۔۔
دعا مانگ کر یوسف اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہاں موجود نمازی مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ سب کے ساتھ وہ بھی مسجد سے باہر نکلتا گھر کی جانب بڑھ گیا۔ اپنے رب سے ہم کلام ہونے کے بعد وہ اب قدرِ پرسکون تھا۔
” وہ دلوں کو یوں بھی نکھار دیتا ہے
ایک خدا ہی تو ہے جو سب سنوار دیتا ہے “
۔*********۔
” امی میں آجاؤں؟ “
دروازے پر کھڑے بلاج نے دستک دیتے ہوئے پوچھا۔ فائزہ بیگم نے تھکے ہوئے انداز میں اسے دیکھا اور ہاتھ میں پکڑی کتاب اور آنکھوں پر لگا چشمہ اُتار کر سائڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
” کیا ہوا آپ اتنی تھکی ہوئی کیوں ہیں؟ ” بلاج آگے بڑھا اور ان کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
” کچھ نہیں ہوا کیا ہونا ہے۔ آج کچھ مہمان آئے تھے۔ شاید تمہارے بابا سائیں نے جسمین کو دیکھنے کیلئے بلایا تھا۔” فائزہ بیگم کی بات پر بلاج نے چونک کر انہیں دیکھا جو بجھے ہوئے چہرے سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ ذہن کے پردے پر فوراً شجاع عالمگیر اور اس کی بیوی کا چہرہ گھوم گیا تھا۔
” شاید مطلب؟ “
” تمہارے بابا سائیں نے بتایا تو نہیں وہ لوگ کیوں آئے تھے اور نہ اُنہوں نے کچھ کہا پر اُن کے انداز سے تو ایسا ہی لگ رہا تھا جیسے جسمین کو دیکھنے آئے ہیں۔” فائزہ بیگم نے وضاحت دی۔
” اچھا تو ٹھیک ہے نا جسمین کی شادی کرنی تو ہے ہی۔” بلاج نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ وہ اب یہ تو جان گیا تھا۔ جہانگیر ملک نے کرنا وہی ہے جو وہ چاہتے ہیں پھر چاہے اس کیلئے کسی کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑے۔
” ہاں پر میں نے چاہا تھا۔ کوئی اچھا سا لڑکا اپنی بیٹی کیلئے خود ڈھونڈوں پر تمہارے باپ نے تو یہ حق بھی مجھے نہیں دیا۔” فائزہ بیگم اپنی نم ہوتی آنکھوں کو بہنے سے روکنے کیلئے پلکیں جھپکانے لگیں۔
” بابا سائیں نے کبھی کسی کی چلنے دی ہے جو اب کسی کو موقع دینگے۔ خیر آپ فکر مت کریں۔ میں بات کروں گا بابا سائیں سے۔” بلاج ان کا ہاتھ تھپتھپا کر انہیں تسلی دیتا، اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کے چہرے پر گہری سوچ کی پرچھائیاں تھیں۔
۔*********۔
ساری رات بےچینی سے سوتی جاگتی کیفیت میں گزارنے کے بعد صبح ہوتے ہی وہ یونیورسٹی پہنچ چکی تھی اور اب سبز رنگ کے شلوار قمیض میں سر پر دوپٹہ اوڑھے اپنے آفس میں بیٹھی وہ پھر کل آئے مہمانوں کے بارے ميں سوچ رہی تھی۔ مسز شجاع کا رویہ اور ان کی باتوں نے سکون سے سونے تک نہیں دیا تھا۔ اگر وہ واقعی اسے اپنے بیٹے کیلئے پسند کر گئیں تو۔۔۔ تو وہ کیا کرے گی اور یوسف اس کا کیا ہوگا۔
” میں تو اب اپنے لیے بھی ہر نماز میں دعا کرنے لگا ہوں کہ آپ کا ساتھ ساری زندگی کیلئے ملے ورنہ میں تو مر ہی جاؤں گا۔”
یوسف کی کہی بات کانوں میں گونجنے لگی۔ وہ ایک دم چیئر پر سیدھی ہو بیٹھی۔
” نہیں مجھے بلاج بھائی سے بات کرلینی چاہیے۔” وہ بڑبڑائی کہ تبھی دروازہ کھول کر یوسف اندر آیا۔ دستک دے کر اجازت لینے جیسا تکلف اس نے بہت پہلے ہی چھوڑ دیا تھا۔
” کیسی ہیں؟ ” وہ اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ درمیان میں ٹیبل حائل تھی۔
” ٹھیک ہوں۔” جسمین نے اس کی مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ایک خیال سا ذہن میں آیا تھا۔ (کیا وہ اسے بتا دے)
” لگ تو نہیں رہیں۔ کوئی پریشانی ہے؟ “
” ہاں !! سب سے بڑی پریشانی تو تم ہو۔”
وہ جو فکر مند ہو رہا تھا۔ جسمین کے جواب پر گھور کر اسے دیکھنے لگا۔
” مجال ہے جو کبھی محبت کا جواب محبت سے دے دیں۔”
” محبت کا جواب محبت سے دینا محرم کا حق ہوتا ہے نامحرم کا نہیں۔” جسمین نے اس کی طبیعت صاف کی۔ پر وہ بھی یوسف تھا کہاں باز آتا۔
” تبھی تو کہہ رہا ہوں بلاج بھائی سے بات کریں۔ مجھے محرم بنا لیں۔ پھر دیکھے گا آپ کے ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا نہیں ہونے دوں گا۔” اس کی بات پر جسمین اپنی مسکراہٹ دباتی چیئر سے اُٹھ کر اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
” وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محبت ماند پڑ جاتی ہے یوسف۔” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
” محبت کبھی ماند نہیں پڑتی جسمین یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور نکھرتی جاتی ہے۔ مضبوط سے مضبوط ہو جاتی ہے۔ بشرط یہ کہ واقعی محبت ہو۔” یوسف نے بھی اسی سنجیدگی سے جواب دیا۔ اس کی آخری بات پر جسمین ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
” کیا مطلب؟ “
” مطلب یہ کہ لوگ “کشش” کا شکار ہو کر سمجھتے ہیں محبت ہوگئی اور پھر اپنی جلد بازی میں شادی کرلیتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصے بعد ہی یہ کشش ماند پڑ جاتی ہے اور طلاق کی صورت میں محبت کو بد نام کر جاتی ہے۔ ہم انسان دراصل اپنے جذبات کو سمجھ نہیں پاتے اور کشش یا پسندیدگی کا شکار ہو کر سمجھتے ہیں محبت ہوگئی۔” یوسف نے ہنستے ہوئے سر جھٹکا جیسے لوگوں کی سوچ کا مذاق اُڑا رہا ہو۔
” اور تم۔۔۔ تمہیں پتا ہے۔ تمہیں مجھ سے کیا ہے؟ کشش، پسند یا محبت؟ ” جسمین نے بےتاثر چہرے سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
اس کے سوال پر یوسف ہاتھ سینے پر باندھے اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ جسمین نے فوراً نظریں جھکا لیں۔ ان خوبصورت سیاہ آنکھوں کی کشش اسے یونہی نظریں جھکانے پر مجبور کر دیتی تھیں۔
” میں کوئی ٹین ایجر نہیں ہوں جسمین جو ” کشش” کا شکار ہوتا۔ بہت کم عمری میں زندگی کی سختیاں جھیلنے کے بعد میں ایک مچیور انسان بنا ہوں۔ پر پھر بھی پہلے پہل ملاقات میں مجھے یہی لگا تھا یہ محض ” پسندیدگی” ہے۔ آپ بس مجھے اچھی لگنے لگی ہیں۔ کتنا اکورڈ تھا اپنی ٹیچر کیلئے ایسا بھی سوچنا۔” یوسف سر جھٹک کر مسکرایا جیسے اب اپنا ہی مذاق اُڑا رہا ہو۔
” اس لیے میں نے خود کو آپ سے دور ہی رکھنا مناسب سمجھا پر۔۔۔ آپ کو یاد ہے جب فٹبال گراؤنڈ میں آپ کو بال آکر لگی تھی۔” سوالیہ نظروں سے جسمین کو دیکھا جس نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا۔
” آپ نے میری طرف دیکھا تھا کہ شاید میں آپ سے “سوری” کروں گا۔ مگر اس وقت میں خود سے اتنا الجھا ہوا تھا کہ میں نے آپ کو نظر انداز کرنا ہی بہتر جانا۔ لیکن آپ کو چوٹ پہنچانے کے بعد مجھے خود بھی کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ مگر تابوت میں آخری کیل تب ٹھوکی جب اسٹاف روم میں آپ کو تکلیف پہنچائی۔ تب میں نے جان لیا آپ کو تکلیف میں دیکھ کر میں خود کبھی سکون سے نہیں رہ پاؤں گا۔” اس نے گہرا سانس لے کر جسمین کی طرف دیکھا اور دھیرے سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ جسمین نے جھجھکتے ہوئے ہاتھ پیچھے کھینچنے کی کوشش کی مگر یوسف کی گرفت مضبوط تھی۔
” محبت چاہے اللّٰه سے ہو یا اُس کے بندے سے اپنا آپ مارنا پڑتا ہے۔ کیونکہ وہ شخص کبھی کسی سے محبت نہیں کرسکتا جو خود سے محبت کرتا ہو اور میں آپ سے محبت کرتا ہوں جسمین۔” یوسف نے کہتے ہوئے ایک نازک سا بریسلٹ اپنی پینٹ کی جیب سے نکالا اور جسمین کی کلائی میں ڈال کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
جسمین حالتِ مبہوت میں یوسف کو دیکھتے ہوئے اس اظہار کو سن رہی تھی مگر اگلے ہی لمحے اپنے ہاتھ میں موجود بریسلٹ کو دیکھ کر سن ہی رہ گئی۔
” کیسا لگا آپ کو؟ مجھے معلوم ہے یہ بہت قیمتی نہیں ہے پر۔۔۔”
” یہ بہت قیمتی ہے یوسف !! کیونکہ یہ محبت سے دیا گیا تحفہ ہے اور محبت سے دیئے گئے تحائف کی قیمت نہیں دیکھی جاتی۔ وہ اپنے آپ میں نایاب ہوتے ہیں۔” جسمین اس کی بات کاٹ کر بولی۔ یوسف مسکرا دیا۔
” میں ساری زندگی اسے سنبھال کر رکھوں گی۔”
” میں ساری زندگی ایسے تحائف دیتا رہوں گا۔”
یوسف کی بات پر اب کے جسمین دھیرے سے مسکرائی اور اپنے ہاتھ میں موجود چھوٹے چھوٹے نگوں سے سجے گولڈن بریسلٹ کو دیکھنے لگی جو اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔
۔********۔
” بابا سائیں شجاع عالمگیر کے گھر والوں کو ہماری جسمین پسند آگئی ہے۔ میں تو کہتا ہوں رشتہ پکا کر دیں۔” صوفے پر بیٹھا خاور جہانگیر ملک کو دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔
” ہمیں بلاج کو بھی بتانا ہوگا۔ ورنہ وہ معلوم ہونے پر ہنگامہ کرے گا۔” بیڈ پر نیم دراز جہانگیر ملک نے ہنکار بھرتے ہوئے کہا۔
” آپ کو جو کرنا ہے ابھی کریں بابا سائیں کیونکہ بلاج اگر اُس لڑکی کے غم سے سنبھل گیا، اپنے حالات سے سمجھوتہ کر لیا تو ایک بار پھر وہ ہمارے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے گا اور۔۔۔”
ابھی دلاور کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ بلاج کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
” یاسمین کا غم ضرور ہے لیکن ابھی اتنا بھی کمزور نہیں ہوا کہ اپنی بہن کی حفاظت نہ کر سکوں۔” دلاور کو دیکھتے ہوئے وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں جتا کر بولا۔
” آپ کو مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں بابا سائیں۔ میں جان گیا ہوں کہ آپ نے وہی کرنا ہے جو آپ چاہتے ہیں پھر چاہے اُس کیلئے کسی کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑے۔” اب کے اس کا رخ جہانگیر ملک کی طرف تھا جو اس کی بات سنتے ہی سیدھے ہو بیٹھے۔
” کیا بکواس ہے یہ؟ تم ہماری باتیں سن رہے تھے؟ “
” مجھے کیا ضرورت آپ کی باتیں سننے کی آپ سے بات کرنے آ رہا تھا تو کانوں میں خودبخود پڑ گئی۔ خیر آپ کو جو کرنا ہے کریں میں نہیں روکوں گا۔ جسمین کی شادی کرانی ہے کریں پر۔۔۔” بلاج نے رک کر ایک نظر ان تینوں پر ڈالی۔
” پر میری ایک شرط ہے۔”
” کیسی شرط؟ “
جہانگیر ملک نے بھنویں بھینچ کر اسے دیکھا مگر اگلے ہی لمحے اس کے منہ سے ادا ہوتے لفظوں نے وہاں بیٹھے ہر شخص کو ساکت کر دیا تھا۔
” اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔”
بلاج کے جاتے ہی جہانگیر ملک ان دونوں کو دیکھ کر بڑبڑائے تھے۔
۔*********۔
ڈائننگ ٹیبل پر موجود وہ سب خاموشی سے بیٹھے ڈنر میں مصروف تھے جب شجاع عالمگیر نے بیوی کو مخاطب کیا۔
” کرن بیگم آج جہانگیر ملک کا فون آیا تھا۔”
” اچھا تو کیا کہہ رہے تھے؟ آپ نے بتا دیا نا ہمیں جسمین پسند ہے۔” کرن عالمگیر نے کہتے ہوئے ایک نظر بیٹے کو دیکھا جس کے چہرے پر فوراً ناگواری اُتر آئی تھی۔
” مام پلیز میں۔۔۔”
” سمیر تم سے کسی نے کہا نہیں ہے کہ بیچ میں بولو۔” شجاع عالمگیر نے اس کی بات کاٹ کر سخت لہجے میں ٹوکا۔
” وہ اچھی لڑکی ہے سمیر ایک بار اُس سے مل لو تمہیں پسند آئے گی۔” کرن عالمگیر اسے سمجھاتے ہوئے بولیں۔
” اور پسند نہ بھی آئے تو یاد رکھنا شادی تمہاری جسمین سے ہی ہوگی۔ جہانگیر ملک کے ساتھ میں اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا۔ دیکھنا یہ رشتہ ہوجانے کے بعد اگلی بار چناؤ ميں جہانگیر ملک کے بجائے تم وزیر کی کرسی پر بیٹھو گے۔” شجاع عالمگیر کی بات پر وہ سر جھٹکتا واپس کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔ پاس بیٹھی حورین نے مسکراتے ہوئے اس کے جھکے سر کو دیکھا۔
” کم آن !! اتنی بری بھی نہیں۔”
” تم چپ کرو۔”
سمیر نے گھور کر اسے دیکھا جس پر وہ مسکراہٹ دباتی شجاع عالمگیر کی طرف متوجہ ہو گئی۔
” جہانگیر ملک کو میں نے ہاں کہہ دی پر۔۔” شجاع عالمگیر نے رک کر ایک نظر ان تینوں کو دیکھا۔ جو انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔
” پر وہ چاہتا ہے کہ سمیر کے ساتھ ساتھ حورین کا رشتہ بھی اُس کے بیٹے بلاج سے کر دیا جائے۔” شجاع ملک نے دھماکہ کیا۔
” کیا یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ “
کرن عالمگیر نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ جبکہ اب کی بار سمیر ہونٹوں پر چڑانے والی مسکراہٹ سجائے حورین کو دیکھ رہا تھا۔ جو خود بھی بے یقینی سے کبھی ماں کو تو کبھی باپ کو دیکھ رہی تھی۔
” ہاں اُس نے کہا ہے جسمین کا رشتہ اسی صورت میں سمیر سے کرے گا جب ہم حورین کا رشتہ بلاج سے کرینگے۔” وہ سنجیدگی سے بولے۔
” تو آپ نے کیا جواب دیا؟ “
” دینا کیا تھا کہہ دیا ہمیں کوئی اعتراض نہیں آخر کو حورین کی شادی بھی تو کرنی ہے۔”
وہ سنجیدگی سے کہتے واپس کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ کرن عالمگیر خاموشی سے انہیں دیکھتی رہیں پھر خود بھی اپنی پلیٹ پر جھک گئیں۔ جب مردوں میں فیصلہ ہو چکا تھا تو عورتوں کو بولنے کا کیا حق۔
” اب خاموش کیوں ہو؟ مسکراؤ۔” سمیر طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے دھیرے سے بولا۔ حورین نے اسے غصّے سے گھورا پھر اپنا چہرہ نیچے جھکا لیا۔ اب اس کے ہونٹوں پر واضح طور پر مسکراہٹ تھی۔
” تو تم بھی عام مردوں میں سے نکلے۔”
۔*********۔
جسمین کمرے میں موجود کھڑکی کے سامنے کھڑی اپنے ہاتھ میں پہنے گولڈن بریسلٹ کو دیکھ رہی تھی جب اس کے کمرے میں آکر شبانہ نے جہانگیر ملک کا پیغام دیا۔
” جسمین بی بی آپ کو بڑے سرکار باہر بلا رہے ہیں؟ “
” باہر لاؤنج میں؟ “
“جی۔”
” ٹھیک ہے آپ چلیں میں آتی ہوں۔” جسمین کے کہتے ہی شبانہ اثبات میں سر ہلاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔ جسمین نے بیڈ پر پڑا اپنا دوپٹہ اُٹھا کر سر پر لیا اور کمرے سے باہر نکل کر سیڑھیاں اُترتی لاؤنج میں آگئی جہاں سب ہی موجود تھے۔
” بابا سائیں آپ نے بلایا۔” وہ سر جھکا کر صوفے پر بیٹھے جہانگیر ملک کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
” ہاں !! ہمیں آپ سب کو کچھ بتانا تھا۔” وہ سب کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔
” ایسی کیا بات ہے کہ آپ نے سب کو یوں بلا لیا۔”
فائزہ بیگم نے کہتے ہوئے دلاور اور خاور کو دیکھا جو صوفے پر سکون سے بیٹھے سب سن رہے تھے۔ فائزہ بیگم کو زرا دیر نہ لگی یہ سمجھنے میں کے وہ دونوں پہلے سے ہر بات سے واقف ہیں۔
” ہم نے شجاع عالمگیر کے بیٹے سمیر کے ساتھ جسمین کا رشتہ پکا کر دیا ہے اور یہی نہیں حورین کا ہاتھ بھی ہم نے بلاج کیلئے مانگ لیا۔”
جہانگیر ملک کی بات جسمین اور فائزہ بیگم پر کسی بجلی کی طرح گری تھی۔ ایک کو شوہر سے گلہ تھا تو دوسری بے یقینی سے باپ کو دیکھ رہی تھی۔ جسمین نے اسی بے یقینی سے بلاج کی طرف دیکھا جو سنجیدہ چہرے کے ساتھ اس کے بائیں جانب کھڑا تھا۔
” ہمیں اُمید ہے فائزہ بیگم آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا اب جائے اور کل سے ان کی شادی کی تیاری شروع کر دے گا ہم جلد از جلد اپنے فرض سے سبکدوش ہو جانا چاہتے ہیں۔”
جہانگیر ملک کی بات پر فائزہ بیگم فوراً اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔ جب فیصلہ ہو چکا تھا تو ان کا وہاں کیا کام۔ پر واپس سیڑھیوں کی جانب بڑھتی جسمین نے ایک آس بھری نگاہ بلاج پر ڈالی تھی کہ شاید وہ کچھ کہے گا کوئی اعتراض اُٹھائے گا پر۔۔۔ وہ خاموش تھا۔ سنجیدہ، خاموش۔۔
