Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 23)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 23)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
اس وقت تک مزار پر ایک دنیا آباد ہوچکی تھی۔ ادھر سے اُدھر چلتے لوگوں میں کوئی چادر چڑھا رہا تھا، تو کوئی منتوں کے دھاگے باندھ رہا تھا۔ کہیں غریبوں میں کھانا تقسیم ہو رہا تھا، تو کہیں دیوں کو جلا رہا تھا۔ ایسے میں وہ جبوترے کے کونے میں ان سب سے بےنیاز بیٹھا آسمان کو تک رہا تھا۔ جہاں باقی دنوں کی نسبت آج موسم ابر آلود تھا۔
” آج پورے آٹھ سال، چار مہینے اور دس دن ہوگئے۔ مگر آج بھی میں وہیں کھڑا ہوں۔ اُسی دن، اُسی جگہ جہاں مجھے اپنا آپ کھائی میں گرتا محسوس ہوا تھا۔”
اس نے آنکھیں بند کرلیں جس کے ساتھ ہی سارا منظر آنکھوں میں ایک بار پھر گھوم گیا۔ اس نے آنکھیں کھول دیں۔
” انسان ساری زندگی “چاہ” کے پیچھے بھاگتا ہے۔ خود کو حاصل اور لاحاصل کے درمیان بےسکون رکھتا ہے۔ لیکن تقدیر کے ہاتھوں جو آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ وہ لاحاصل ہوتی ہے۔” اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے اپنے اندر کے اضطراب کو کم کرنا چاہا۔
” آٹھ سال پہلے “حاصل” کی چاہ نے مجھے آج “لاحاصل” تک پہنچا دیا۔”
سوچتے ہوئے آنکھوں میں نمی اُترنے لگی۔ ان آٹھ سالوں میں ایک بار بھی اس کی زبان پر کبھی شکوہ نہیں آیا تھا۔ لیکن آج اس کا دل بےچین ہوتا شکوہ کر رہا تھا۔
یوں تو زبان پر اب بھی کوئی شکوہ نہیں تھا کہ اُس پر اس کا اختیار تھا۔ مگر آنکھ سے بہتا ہوا آنسو اور دل سے اُٹھتی آہ پر کیسے قابو پاتا، وہ تو بےاختیار تھا۔
چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے منظر کو دھندلا کرتے پانی کو صاف کیا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔ ابھی چند قدم آگے کی جانب بڑھائے ہی تھے کہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اپنی جگہ ساکت ہو گیا۔
۔*********۔
اسٹور روم کے دروازے کو دھکیلتی وہ اندر داخل ہوئی۔ پورا کمرہ تاریکی میں ڈوبہ ہوا تھا۔ دروازہ بند کر کے اس نے دیوار کی سائڈ پر نصب سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لائٹ جلائی۔ پورا کمرہ روشنی سے جگمگا اٹھا۔
چاروں طرف دھول مٹی سے اٹا پرانا سامان بکھرا پڑا تھا۔ وہیں دائیں جانب دیوار سے لگی وہ الماری بھی موجود تھی۔ حورین چلتی ہوئی اس الماری کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ ہاتھ بڑھا کر الماری کے دروازوں کو کھولا۔ سامنے ہی ایک ڈرار موجود تھی۔ بس ہاتھ بھر کا فاصلہ تھا اور اسی ہاتھ کی ذرا سی جنبش سے اُس راز کو آج آزاد ہوجانا تھا۔
ایک انجان سا احساس اور عجیب سی کیفیت اس پہ طاری ہوئی تھی۔ ساری الجھنوں کو جھٹکتے ہوئے اس نے دایاں ہاتھ ڈرار کی طرف بڑھایا۔ وہ جانتی تھی کہ ابھی کا ہی کوئی اگلا پل اس کو اُس چہرے سے آگاہی دے جائے گا۔ وہ چہرہ جو آٹھ سال گزرنے جانے کے بعد بھی اس کے شوہر کے دل کا مکین تھا۔
حورین کے دونوں ہاتھوں نے میکانکی انداز میں ڈرار کو چھوا۔ ڈرار کھلی سامنے ہی سرخ مخمل میں لپٹی البم موجود تھی۔
ویسے تو اسٹور روم میں ہر چیز دھول مٹی سے اٹی ہوئی تھی، ماسوائے اس البم کے جس پر زرہ برابر بھی دھول موجود نہ تھی۔ یوں جیسے روز اس کو کھولا جاتا ہو، صاف کیا جاتا ہو۔۔۔
ہاتھ میں البم اُٹھائے اس نے کھولا۔ سامنے ہی ایک بڑی سی تصویر موجود تھی۔ جس میں سنہرے کامدار جوڑے میں ملبوس دلہن بنی لڑکی یقیناً یاسمین تھی۔ حورین غور سے اسے دیکھنے لگی۔ کتابی چہرہ، صاف رنگت، گلابی لب، ستواں ناک اور ڈارک براؤن عام سی آنکھیں۔ عام سے نین نقوش میں بھی وہ لڑکی خوبصورت لگ رہی تھی۔
” بلاشبہ تم خوبصورت ہو مگر اتنی بھی نہیں کہ حورین عالمگیر کا مقابلہ کر سکو۔”
وہ بڑبڑاتے ہوئے دوسری تصویر دیکھنے لگی۔ جس میں بلاج اور یاسمین ساتھ کھڑے مسکرا رہے تھے۔ اس کی نظریں وہیں ٹھہر گئیں۔ کیا جاندار مسکراہٹ تھی بلاج کے چہرے پر، مانو یوں کے ساری کائنات اس کے ہاتھوں میں تھما دی ہو۔
ان آٹھ سالوں میں کبھی اس نے بلاج کو اس طرح مسکراتے نہیں دیکھا تھا۔ جس طرح وہ تصویر میں مسکرا رہا تھا۔ یقیناً یہ یاسمین کے ساتھ کا ثمر تھا۔ خواہشوں کو پا لینے کی سرشاری تھی۔ جو اُس کی مسکراہٹ سے جھلک رہی تھی۔
” کیا واقعی تمہیں اس سے اتنی محبت ہے کہ اس کے بعد ہر خوشی کو خود پر حرام کر لیا۔”
اسے اپنا وجود انگاروں پر جلتا محسوس ہوا تھا۔ اس نے واپس البم ڈرار میں رکھی اور الماری کو بند کر کے سیدھا کمرے سے باہر نکل گئی۔
” جسے اپنے حسن پہ تھا ناز بڑا
آج اُسی کی ذات ہے غم زدہ
جس کے قہقہوں سے گونجتا تھا آشیاں
کیوں وہی گلاب ہے اشک زدہ “
۔*********۔
” میں اندر آجاؤں؟ “
دروازے پر کھڑا بلاج اس سے اجازت مانگ رہا تھا۔ جسمین اسے دیکھ کر مسکرا دی۔
” آجائیں بھائی۔”
” کیا کر رہی تھیں؟ ” وہ اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
” کچھ خاص نہیں بس فارغ تو ہوتی ہوں اس لیے یہ کتاب پڑھ رہی تھی۔ خیر !! آپ بتائیں کہاں چلے گئے تھے؟ ” کتاب سائڈ پر رکھتے ہوئے جسمین نے پوچھا۔ حورین سے جھگڑے کے بعد وہ تب کا گھر سے نکلا اب رات میں آیا تھا۔
” بس کچھ ضروری کام یاد آگیا تھا۔” بلاج کہہ کر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔
” کیا ہوا کوئی بات ہے؟ ” جسمین کو اس کا انداز کچھ عجیب لگا۔
” مجھے بتاؤ اگر میں کوئی فیصلہ کروں تو تم انکار تو نہیں کرو گی؟ ” اس نے تمہید باندھی۔
” کبھی انکار کیا ہے؟ ” پلٹ کر سوال کیا۔
” نہیں پر اب کچھ بھی تمہاری مرضی کے بغیر نہیں کرنا چاہتا۔”
بلاج نے کہتے ہوئے گہرا سانس لیا۔ شاید یہ احساسِ ندامت ساری زندگی اس کا پیچھا نہیں چھوڑنے والا تھا۔
” کیا بات ہے؟ ” جسمین نے اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” تم شادی کر لو جسمین۔”
بلاج کی بات پر وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔ جس بھیانک خواب میں پانچ سال گزارے کے بعد وہ جاگی تھی، اب اُسے دوبارہ دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔
” پر بھائی کیوں؟ ” وہ بمشکل بولی۔
” کیونکہ میں نہیں چاہتا کوئی میری بہن کو یہ طعنہ دے کہ وہ اپنا گھر نہیں بسا سکی۔”
بلاج کو حورین کی باتیں اب تک چبھ رہی تھیں۔ اس لیے اُس نے کوئی اچھا لڑکا دیکھ کر جسمین کی شادی کرانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
” دیکھو جسمین !! اگر تم یہ سوچ رہی ہو میں تمہیں اس گھر سے نکالنا چاہ رہا ہوں تو ایسا نہیں ہے۔ یہ گھر تمہارا ہے، تمہارے نام ہے۔ شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ یہیں رہنا۔” اسے خاموش دیکھ کر بلاج کے ذہن میں پہلا خیال یہی آیا تھا۔ سو اس نے کہہ دیا۔
” ایسا کچھ نہیں ہے بھائی۔” جسمین دھیرے سے بولی۔
” پھر سمیر کی وجہ سے؟ تو اُس نے بھی دوسری شادی کر لی اور دیکھو اُس نے جو کیا آج اُس کا انجام بھگت رہا ہے۔ پھر ہر مرد سمیر کی طرح نہیں ہوتا۔” بلاج نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔
” ٹھیک ہے بھائی !! جو آپ کو بہتر لگے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” سر جھکائے وہ رضامند ہوئی۔
” تھنکیو گڑیا !! میرا مان رکھنے کیلئے۔”
بلاج مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ جبکہ پیچھے بیٹھی جسمین کے زخم نئے سرے سے تازہ ہوئے تھے۔
۔*********۔
ہاتھوں میں لوشن لگاتے ہوئے اس نے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے سے بلاج کو دیکھا جو حدید کو اپنے سینے پر لٹا کر اُس کے ساتھ کارٹون دیکھ رہا تھا۔ گھر واپس آنے کے بعد اس نے ایک بار بھی حورین کو مخاطب نہیں کیا تھا۔ بلاج اس سے ناراض تھا اور اس کی ناراضگی کو وہ اچھے سے سمجھ بھی گئی تھی۔
” سمیر کی اور رجا کی علیحدگی ہو رہی ہے۔”
بلاج کو آئینے میں دیکھتے ہوئے اس نے زرا بلند آواز میں کہا تاکہ بیڈ پر بیٹھے بلاج تک باآسانی پہنچ جائے۔
” ظاہر ہے یہ تو ہونا ہی تھا۔ تمہارے بھائی نے بھی میری بہن کے ساتھ کچھ کم غلط نہیں کیا تھا۔” ٹی وی پر نظریں جمائے وہ روکھے لہجے میں بولا۔
” ایسے تو نہیں بولیں۔” وہ تڑپ اُٹھی۔
مانا کہ بھائی نے غلط کیا تھا۔ مگر وہ بہن تھی، بھائی کیلئے ایسی باتیں کہاں برداشت کر سکتی تھی۔
” بُرا لگا نا۔ مجھے بھی ایسے ہی بُرا لگتا ہے جب تم کچھ میری بہن کو کہتی ہو۔” کہتے ہوئے بلاج نے اس کی طرف دیکھا۔ حورین شرم سے سر جھکا گئی۔
” سوری !! “
” دیکھو حورین !! تم میری بیوی ہو۔ میں تم سے بھی پیار کرتا ہوں۔ لیکن بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو۔ میری وجہ سے وہ تمہیں کچھ نہیں کہتی، اس کا مطلب یہ نہیں تم اُسے باتیں سنا جاؤ۔”
حورین کے جھکے سر کو دیکھ کر اب کے بلاج نے نرم لہجہ اپنایا۔ وہ اسے جھکا نہیں چاہتا تھا۔ بس غلطی کا احساس دلانا چاہتا تھا۔ جو اُسے ہو بھی گیا تھا۔
” میں جسمین سے معافی مانگ لوں گی۔” وہ ہنوز سر جھکائے بولی۔
” اس کی ضرورت نہیں، بس آئندہ احتیاط کرنا۔”
اب کے حورین نے سر اُٹھا کر آئینے میں سے بلاج کو دیکھا جو واپس ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا تھا ساتھ ہی حدید سے کچھ کہہ بھی رہا تھا۔
” پیار !! ” اسے نے چند سیکنڈ پہلے کہے بلاج کے لفظوں کو سوچا۔
” رشتوں میں پیار، اپنائیت تو فطری بات ہے۔ لیکن محبت یا عشق جو کچھ بھی تھا وہ آپ کو اب بھی یاسمین سے ہے مجھ سے نہیں۔”
سوچتے ہوئے اس نے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر نگاہ جمائی کہ تبھی اسے جسمین کے کہے الفاظ یاد آئے۔
” سب کو ” سب کچھ ” نہیں ملتا، جیسے یاسمین بھابھی “محبت” کے معاملے میں نصیب والی تھیں۔ ویسے ہی آپ “خوبصورتی” کے معاملے میں نصیب والی ہیں۔”
” خوبصورت !! ” اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
” اللّٰه نے بڑی فرصت سے آپ کو بنایا ہے۔ آپ بھی فرصت سے اس رب کو وقت دیا کریں۔”
” فرصت سے وقت۔۔۔” وہ بڑبڑائی۔ جسمین کی باتوں کو سوچتے ہوئے ایک بار پھر اس کی نظر بلاج پر پڑی۔
” اور لاحاصل کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیں۔”
” لاحاصل !! ” یکدم اس کے منہ سے نکلا۔ دسترس میں یہ شخص ہو کر بھی اس سے کتنا دور تھا۔ یہ اسے کل رات پتا چلا تھا۔
” تم نے ٹھیک کہا تھا جسمین !! غرور صرف اللّٰه کی ذات کو جچتا ہے۔ اُس کے بندوں کو نہیں۔ میں جو یہ سوچتی تھی کہ بلاج نے مجھے پہلی نظر میں ہی پسند کر لیا تھا، اس لیے میرا رشتہ بھجوایا۔۔۔
مگر نہیں یہ تھی میری اوقات جو مجھ سے پوشیدہ تھی۔ یہ محبت کا نہیں مجبوری کا رشتہ ہے۔ جو یہ انسان نبھاتا آرہا ہے۔” اس نے دکھ سے سوچتے ہوئے آنکھیں میچ لیں۔
۔*********۔
صبح کا نرم سا اجالا سبزہ زار میں اتر چکا تھا۔ آسمان پہ سفید بادلوں کے ٹکڑے چلتے نظر آ رہے تھے۔ ہوا میں خنکی تھی اور فضاء میں پھولوں کی مہک چاروں سوں پھیل چکی تھی۔ ایسے میں وہ تینوں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ فیملی پارک میں موجود تھے۔ اتوار کے باعث وہ سب ایک ساتھ گھومنے نکل آئے تھے۔
” فریال بچے دیکھو آگے جا رہے ہیں انہیں پکڑو۔” جنید نے اپنے چار سالہ جڑواں بچوں کو دیکھتے ہوئے بیوی سے کہا۔ جو صوبیہ اور مسکان سے باتوں میں مصروف تھی۔
” تم نے کیا پاؤں میں مہندی لگا رکھی ہے جا کر پکڑو۔” وہ اس کے کان میں گھس کر گھورتے ہوئے بولی۔ آواز اتنی اونچی تھی کہ پاس بیٹھی مسکان اور صوبیہ کیلئے اپنی مسکراہٹ دبانا مشکل ہوگیا۔
” موٹی بیٹھے بیٹھے پھٹ جائے گی۔” جنید اسے گھور کر کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
” یار تم لوگ باتیں کرو، میں حنان اور ہما کو لے کر آیا۔”
” نہیں رک ہم بھی تیرے ساتھ چلتے ہیں۔ ایک چکر لگا آتے ہیں۔” حذیفہ اور نوید بھی اس کے ساتھ ہی اُٹھ گئے۔
” صوبیہ اسے پکڑو ہم ابھی آئے۔” نوید نے دو سالہ تانیہ کو صوبیہ کی گود میں دیا اور ان دونوں کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔
” کزنز میں شادی کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے۔ شوہر کو کچھ بھی کہہ لو بیچارا صبر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔” مسکان فریال کو آنکھ مارتے ہوئے شرارت سے بولی۔
فریال جنید کی چچا زاد تھی۔ جبکہ مسکان کی حذیفہ سے شادی رشتہ کرانے والی کے توسط سے ہوئی تھی۔ دونوں کی شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے۔ اس دوران اللّٰه نے جنید کو دو جڑواں بیٹا، بیٹی سے نوازا تھا۔ مگر حذیفہ کی ابھی کوئی اولاد نہیں تھی۔
” اور مسکان تم بتاؤ حذیفہ بھائی کیسے ہیں؟ ” صوبیہ نے بھی شرارت سے پوچھا۔
” بہت اچھے !! شادی کو پانچ سال ہوگئے۔ مگر ایک بار بھی انہوں نے احساس نہیں ہونے دیا کہ انہیں بچوں کی خواہش ہے۔ جبکہ گھر میں سب جانتے ہیں حذیفہ کو بچے کتنے پسند ہیں۔” مسکان نے کہتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کی۔
” کوئی بات نہیں یار !! اللّٰه کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ دیکھنا اللّٰه تعالیٰ جلد ہی تمہیں بھی ماں کے عہدے پر فائز کر دیں گے۔”
” آمین !! ” صوبیہ کی بات پر وہ دونوں ایک ساتھ بولیں۔
” ویسے محترمہ آپ کا تو تیسرا آنے والا ہے۔ لگتا ہے حذیفہ سے زیادہ تو جنید بھائی کو بچے پسند ہیں۔”
ماحول میں چھائی اداسی کو ختم کرنے کیلئے مسکان نے باتوں کا رخ واپس فریال کی طرف موڑا۔ جو ایک بار پھر تخلیق کے مرحلے سے گزر رہی تھی۔
” ایسا بھی کچھ نہیں ہے۔” وہ منہ بنا کر بولی، ساتھ ہی چہرہ موڑ کر اُن تینوں کو دیکھا جو حنان اور ہما کے ساتھ کھیل رہے تھے۔
” جنید آج کل بہت اداس رہنے لگا ہے۔” اب کے وہ سنجیدہ تھی۔
” اور نوید مصروف۔” صوبیہ نے کہتے ہوئے گہرا سانس لیا۔ جانتی جو تھی، آخر میاں کہاں مصروف ہو سکتا ہے۔
” یقیناً یوسف بھائی کی وجہ سے ہونگے۔ حذیفہ کا بھی یہی حال ہے۔ ویسے میں اُن کے بارے ميں زیادہ تو نہیں جانتی پر ہمیشہ یہی دعا کرتی رہتی ہوں وہ جہاں بھی ہیں لوٹ آئیں۔” مسکان بولی، جس پر اُن دونوں نے دل سے آمین کہا تھا۔
۔*********۔
لان میں لگی کرسیوں پر بیٹھے وہ تینوں باتوں میں مصروف تھے ساتھ ہی ویل چیئر پر فائزہ بیگم بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہیں تھوڑے فاصلے پر حدید اپنی سالگرہ میں ملنے والے کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔ جو اسے دو دن پہلے ملے تھے۔ موسم خوشگوار ہونے کے باعث وہ سب لان میں آ کر چائے پینے لگے تھے۔
” جسمین میں سوچ رہی تھی۔ کہیں رشتہ لگنے سے پہلے تم ایک بار اُس بابا کے پاس ہو آؤ۔ میں نے تمہیں بتایا تھا نا، اُس کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔”
حورین نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا جو حدید کو کھیلتے دیکھ مسکرا رہی تھی۔
” اس کی کیا ضرورت ہے بھابھی جو نصیب میں لکھا ہے وہ تو ہونا ہی ہے۔” اس نے ٹالنا چاہا۔ آج پورے ایک ہفتے بعد پھر دوبارہ اس کی شادی کے متعلق کوئی ذکر چھیڑا تھا۔
” میڈم دعائیں نصیب بدل دیتی ہیں اور میں کونسا کہہ رہی ہوں تم درگاہ پر جا کر چادر چڑھاؤ۔ بس بابا سے اپنے لیے دعا کروا لینا۔ کیوں بلاج، ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟ “
جسمین سے کہتے ہوئے آخر میں اس نے بلاج کو گھسیٹا جو ان دونوں کی باتوں سے بےنیاز بنا بیٹھا چائے پی رہا تھا۔
” کوئی حرج نہیں ہے جانے میں، باقی تمہاری مرضی۔” بلاج نے کندھے اچکا کر کہا پھر واپس چائے کی طرف متوجہ ہو گیا۔
” ان کو چھوڑو میں کہہ رہی ہوں نا تمہیں جانا چاہیئے۔ کیا پتا اُن کی دعا سے کوئی اچھا رشتہ مل جائے۔” حورین نے ایک بار پھر اسے قائل کرنا چاہا۔
” ویسے ایک رشتہ ہے میرے دوست کا، مجھے مناسب بھی لگ رہا ہے۔ سوچ رہا ہوں وہیں جسمین کا رشتہ کر دوں۔ لڑکا بھی اچھا پڑھا لکھا ہے۔” بلاج نے سنجیدگی سے کہا۔
جسمین نے چونک کر اسے دیکھا پھر واپس نظریں جھکا لیں۔ جب شادی کی اجازت دے ہی دی تھی تو اب اعتراض کیسا۔
” اچھا کون ہے وہ؟ ” حورین نے فوراً اشتیاق سے پوچھا۔
” ہے ایک تم نہیں جانتی۔”
” پھر تو تمہیں ضرور جانا چاہیئے جسمین۔ جا کر اپنے لیے دعا کروانا تاکہ یہ رشتہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔” حورین کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی تھی۔ جسمین نے گہرا سانس لیا۔
” ٹھیک ہے۔ آپ کہتی ہیں تو میں چلی جاؤں گی۔”
جسمین کے راضی ہوجانے پر بلاج نے نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ اسے روکنا چاہتا تھا لیکن پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
” تم ایسا کرنا اکمل کے ساتھ کل ہی چلی جانا۔”
” کل؟ کل نہیں، کل تو حدید کے اسکول میں پیرنٹس میٹنگ ہے۔” حورین جو اس چکر میں تھی کہ جسمین کے بہانے خود بھی بابا سے مل آئے گی۔ اب اسے اپنے پلان پر پانی پھرتا ہوا دکھائی دیا۔
” ہاں کل حدید کے اسکول میں پیرنٹس میٹنگ ہے۔ اس لیے میں نے کہا ہے اکمل کے ساتھ جانے کو۔” بلاج نے جتایا۔
” مگر۔۔۔”
” مگر وگر کچھ نہیں۔ جو کام جتنی جلدی ہوجائے اتنا اچھا ہے۔”
بلاج دوٹوک لہجے میں کہتا ہوا اُٹھا اور فائزہ بیگم کو لے کر اندر چلا گیا۔ جبکہ پیچھے بیٹھی حورین دل مسوس کر رہ گئی۔
۔*********۔
صحن کے بیچوں بیچ کھڑا وہ خالی خالی نظروں سے ان درو دیوار کو دیکھ رہا تھا۔ جہاں کبھی اس نے اپنے عزیز از جان دوست کے ساتھ زندگی کی حسین یادیں گزاری تھیں۔
” یوسف !! “
اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے ان دونوں کو دیکھا جو راشد کے ساتھ مل کر سامان ادھر سے اُدھر کر رہے تھے۔ پارک سے واپسی پر کچھ دیر آرام کرنے اور ادھر اُدھر کے کام نبٹا لینے کے بعد وہ تینوں سیدھا یوسف کے گھر آگئے تھے اور اب دو گھنٹے سے اس گھر کی صفائی کرنے میں مصروف تھے۔ ان آٹھ سالوں میں ایک بار بھی ان لوگوں نے اس گھر کی درو دیوار کا رنگ پھیکا پڑنے نہیں دیا تھا اور نہ کسی گرد کو یہاں موجود ساز وسامان کو چھونے دیا تھا۔
” نوید ادھر آکر مدد کر۔”
حذیفہ نے الماری کو کھسکاتے ہوئے آواز لگائی۔ صفائی ہوچکی تھی اب وہ سامان کو اُس کی جگہ پہنچا رہے تھے۔ نوید اس کی مدد کیلئے آگے بڑھا۔
” جلدی کرو یار رات ہونے لگی ہے۔ گھر دیر سے پہنچا تو فریال کا بڑا سا منہ بن جائے گا۔” جنید خود منہ بنا کر بولا جس پر وہ تینوں ہنس پڑے۔
” تیرے ساتھ ہونا بھی یہی چاہیئے۔”
” تو تو منہ بند ہی رکھ، تیرا حال بھی مجھ سے کچھ کم نہیں۔ کیونکہ صوبیہ بھابھی بھی فریال کی طرح ہی جلاد ہیں۔” نوید کی بات پر جنید نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا۔
” بھائی آپ تینوں منہ ہاتھ دھو لیں تب تک میں کھانے پینے کیلئے کچھ لاتا ہوں۔” سامان کو اُس کی جگہ پہنچانے کے بعد راشد کمر سیدھی کرتے ہوئے بولا۔
” ہاں یار جلدی لے آ تب تک میں اپنی کمر سیدھی کر لوں۔” جنید کہتا ہوا تخت پر جا لیٹا جبکہ نوید واش بیسن اور حذیفہ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
” نیستی کھسک آگے۔” نوید منہ ہاتھ دھو کر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا۔
” تو ایک ہفتے سے کہاں مصروف ہے؟ ” جنید نے اسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” جسمین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مصروف تھا۔”
اس نے سکون سے جواب دیا۔ جبکہ تخت پر لیٹا جنید اور واش روم سے آتا حذیفہ دونوں حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔
” تو پھر کچھ پتا چلا؟ ” حذیفہ نے اس کے سامنے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
” ہاں !! “
” کیا پتا چلا؟ “
” سب کچھ !! “
چہرے پر مسکراہٹ سجائے نوید نے ان دونوں کو دیکھا جو بے یقینی سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس کی مسکراہٹ انہیں کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں لگی۔
” دیکھ نوید !! تیری بیوی ہے، بچی ہے کچھ بھی غلط کرنے سے پہلے اُن کے بارے میں سوچ لینا۔” حذیفہ نے سمجھانا چاہا۔
” اور بھلے اب ان کا سیاست سے تعلق ختم ہو گیا مگر وہ ابھی بھی اثر و رسوخ والے ہیں۔ اگر جسمین کو کچھ ہوا تو بلاج ہمیں چھوڑے گا نہیں۔” جنید نے بھی حذیفہ کا ساتھ دیتے ہوئے کہا۔
” میں ڈرتا نہیں ہوں کسی سے، اس بات کو دماغ میں بٹھا لو۔” نوید کا ٹھنڈا ٹھار لہجہ ایک پل کیلئے دونوں کو خاموش کر گیا۔
” دیکھ نوید اللّٰه بہتر انصاف کرنے والا ہے۔ انتقام کی آگ میں جلنا چھوڑ دے۔ ایسا نہ ہو تو کسی کے ساتھ زیادتی کر جائے۔” حذیفہ نے ایک اور کوشش کی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ نوید پر اس کا اثر ہونے والا نہیں۔
” فی الحال جا کر دروازہ کھولو راشد آیا ہوگا کھانا لے کر۔” بیل کی آواز پر نوید نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔ حذیفہ اسے گھور کر دروازے کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ جنید تخت سے اُٹھتا اب خود بھی ہاتھ منہ دھونے لگا تھا۔
۔*********۔
اگلے دن بلاج تیار ہو کر ناشتے کے بعد حورین اور حدید کو ساتھ لیے اسکول کیلئے روانہ ہو گیا تھا۔ جبکہ پیچھے جسمین فائزہ بیگم کو کھانا کھلانے کے بعد اب خود درگاہ پر جانے کیلئے تیاری کر رہی تھی۔ بلاج نے جاتے ہوئے اسے ہدایت دی تھی کہ جلدی لوٹ آئے، زیادہ ٹائم لگانے کی ضرورت نہیں۔ جسمین تو ویسے ہی جانا نہیں چاہتی تھی اس لیے فوراً اُس کی بات مان گئی تھی۔
” اف !! بھابھی نے کہاں پھنسا دیا۔” کمرے میں آتے ہوئے وہ بڑبڑائی اور الماری سے کپڑے نکال کر باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ چند لمحوں بعد وہ واپس آئی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنانے لگی۔
” ایک اور بار شادی پھر وہی سب۔۔۔ میں کچھ بھی کرلوں لیکن کبھی خوش نہیں رہ پاؤں گی۔” بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹتے ہوئے اس نے سوچا۔
” دل دکھانا کتنا بڑا گناہ ہے۔ اس کا احساس صحیح معنوں ميں اب ہوا ہے۔ کیا کیا تھا میں نے؟ ایک شادی ہی تو کی تھی۔ اُس کی اجازت تو اللّٰه نے ہی دی ہے مگر۔۔۔ جہاں ہمارے جائز عمل میں کسی کی تکلیف شامل ہو جائے وہ کام کبھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔”
بال باندھ کر اس نے ایک نظر خود کو آئینے میں دیکھا پھر بیڈ پر پڑا دوپٹہ اُٹھا کر سر پر اچھے سے اوڑھنے کے بعد اپنا موبائل اُٹھاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔
” سکینہ بی میں جلدی واپس آ جاؤں گی تب تک آپ امی کا خیال رکھے گا۔” جسمین لاؤنج میں آ کر سکینہ بی سے بولی۔
” فکر نہیں کریں بی بی۔ ابھی تھوڑی دیر میں بختاور بھی آجائے گی وہ سنبھال لے گی بڑی سردارنی کو۔” انہوں نے تسلی دی۔ جس پر جسمین اثبات میں سر ہلاتی باہر نکل گئی جہاں اکمل کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔
۔*********۔
” کیا ہوا یوسف؟ پریشان لگ رہے ہو۔”
حکیم صاحب اس کو کمرے میں ٹہلتے دیکھ کر گویا ہوئے۔ جو بھورے رنگ کا شلوار قمیض زیب تن کیے ادھر سے اُدھر چکر کاٹ رہا تھا۔
” نہیں پریشان تو نہیں ہوں بس تھوڑی سی گھبراہٹ ہے۔”
” ایک کام کرو کمرے سے باہر نکل کر ٹہل لگاؤ، قدرتی ہوا میں سانس لو گے تو شاید گھبراہٹ ختم ہو جائے۔” وہ سنجیدگی سے بولے اور کمرے میں رکھی جڑی بوٹیوں کو چیک کرنے لگے۔
” اس بار ناصر کیا سامان اُٹھا لایا۔” وہ بڑبڑائے، شاید اچھی نہیں تھیں۔
” کچھ کہا آپ نے؟ ” یوسف نے مڑ کر انہیں دیکھا۔
” نہیں کچھ نہیں تم جاؤ پانی وانی پیو۔ اگر پھر بھی گھبراہٹ کم نہ ہوئی تو کوئی انتظام کرتے ہیں۔”
” جی ٹھیک ہے۔” حکیم صاحب کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
ناجانے کیوں صبح سے عجیب سی کیفیت طاری ہو رہی تھی۔ جسے وہ خود کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔ حکیم صاحب کو تو کہہ دیا تھا کہ گھبراہٹ ہے مگر وہ خود سمجھنے سے قاصر تھا۔
” کیا ہو رہا ہے مجھے۔۔۔”
کچھ دیر ٹہلتے رہنے کے بعد جب کچھ حاصل نہ ہوا تو وہ چبوترے پر جا کر بیٹھ گیا اور نگاہ کیاریوں میں لگے پھولوں پر جما دی۔ ابھی اسے چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اچانک نظر بھٹک کر سامنے سے آتے شخص پر پڑی۔ جو بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
۔*********۔
” تسکین دل کی خاطر
تم بچھڑتے وقت مسکراتے رہو
او جانے والے دور جاتے ہوئے
پلٹ پلٹ کے نظر ملاتے رہو
دل غلطی کر بیٹھا ہے
غلطی کر بیٹھا ہے دل۔۔۔”
سفید شلوار قمیض میں ملبوس سر پر لال رنگ کا دوپٹہ اوڑھے وہ ایک بار پھر اس درگاہ کے سامنے کھڑی تھی جس کی فضاؤں میں گونجتی کلام کی آواز وہاں موجود لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ رہی تھی۔
جسمین دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی مزار کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ مگر آج کسی دھاگہ، دیا یا چادر کیلئے وہ یہاں موجود نہیں تھی۔ آج اسے بس دعا کی ضرورت تھی۔ وہ دعا جو اس کی آٹھ سالوں کی بےسکونی کو ختم کر سکے، وہ دعا جو اسے پچھتاوے سے نجات دلا سکے، وہ دعا جو اسے معافی دلا سکے۔۔۔
(دل غلطی کر بیٹھا تو بول کفارہ کیا ہوگا
میرے دل کی دل سے توبہ، دل سے توبہ میرے دل کی)
سیڑھیاں چڑھ کر اس نے نظریں چاروں اطراف میں دوڑائیں۔ سب کچھ ویسا ہی تھا، جیسا پہلے تھا۔ دیا جلاتے، منتوں کے دھاگے باندھتے، چادر چڑھاتے اور وہی کلام پڑھتے لوگ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ پھر یہ کیسا احساس تھا جو اسے الجھا رہا تھا؟
ساری سوچوں کو جھٹکتے ہوئے اس نے اپنے قدم آگے کی جانب بڑھا دیئے۔ جہاں وہ ایک بار پہلے بھی حورین کے ساتھ جا چکی تھی۔ ہر اُٹھتے قدم کے ساتھ اس کے اندر کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ دل تھا کہ یہیں سے واپس لوٹ جائے اب ان سب چیزوں پر اس کا عقیدہ نہیں رہا تھا۔ پر ناچاہتے ہوئے بھی وہ آگے بڑھتی جارہی تھی کہ اچانک ہوا میں اُٹھتے قدم وہیں منجمد ہو گئے، دھڑکن رکنے لگی، سانس تھم سی گئی اور آنکھیں وہیں ساکت رہ گئیں۔۔۔
(دل کی توبہ ہے دل اب پیار دوبارہ نہ ہوگا
تو بول کفارہ، کفارہ بول کفارہ، تو بول کفارہ،
کفارہ بول او یارا، او یارا بول کفارہ کیا ہوگا)
سامنے ہی وہ بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ کچھ اُس کا بھی حال ایسا ہی تھا۔ بے یقینی سی بے یقینی تھی اور اسی بے یقینی کو یقین میں بدلنے کیلئے وہ آہستہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ گرم ہوا کے جھونکے ان کے پاس سے گزرتے ہر منظر کو ساکت کر گئے تھے۔ وقت تھم سا گیا تھا۔ گویا یوں کہ اب یہی رک جاؤ، اب کہیں نہ جاؤ۔۔۔
” مسٹر یوسف حیدر کیا کوئی کسی کیلئے اتنا بھی پاگل ہو سکتا ہے؟ “
” اب مجھے ” کوئی” اور ” کسی” کا تو نہیں پتا پر یوسف حیدر ” جسمین ملک ” کیلئے ہو سکتا ہے۔”
ماضی میں پوچھے جانے والا سوال اور اُس کا جواب آج حقیقت کی عملی تصویر بنا سامنے کھڑا تھا۔ ماضی حال بن کر دونوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔۔۔
(جگنو… جگنو کر کے ، تیرے ملن کے دیپ جلاے ہیں
ہم نے جگنو جگنو کر کے ، تیرے ملن کے دیپ جلاے ہیں)
” عاشق کبھی عمر ، مقام ، امیری ، غریبی ، خوبصورتی ، بدصورتی نہیں دیکھا کرتا۔ مجھے آپ سے عشق ہے اس حقیقت کو آپ بدل نہیں سکتیں۔” گزرے لمحوں کو یاد کرتا، وہ ایک ایک قدم بڑھاتا اس کی جانب بڑھنے لگا۔ کبھی دور نہ ہونے کیلئے۔۔۔
(اکھیوں میں موتی بھر بھر کے
تیرے حجر میں ہاتھ اٹھائیں ہیں)
” اکثر اوقات حسین خوابوں کی تعبیر بہت بھیانک ہوا کرتی ہے مسٹر یوسف حیدر !! روک لو یہیں خود کو۔۔۔” کانوں میں گونجتی آوازیں اور پیروں میں پڑی ظالم سماج کی زنجیروں کو توڑتی وہ بھی لمحہ بہ لمحہ فاصلہ کم کرنے لگی۔ کبھی دور نہ جانے کیلئے۔۔۔
(تیرے نام کے حرف کی تسبیح کو سانسوں کے گلے کا ہار کیا دنیا بھولی اور صرف تجھے، ہاں صرف تجھے ہی پیار کیا
تم جیت گئے ہم ہارے۔۔۔ ہم ہارے اور تم جیتے)
” پر میں تم سے محبت نہیں کرتی۔”
” نہ کریں میں اپنے رب سے دعا میں آپ کو مانگ لوں گا۔” گزری یادوں کی دھند کو صاف کرتا اور پلکوں کو جھپک کر آنکھوں میں اُبھرتی نمی کو دور دھکیلتا، وہ اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کا یقین کرنے لگا۔۔۔
(تم جیت گئے ہم ہارے۔۔۔ ہم ہارے اور تم جیتے
تم جیتے ہو لیکن ہم سا کوئی ہارا نہ ہوگا)
قدم تھمے تھے۔ وہ عین اس کے مقابل کھڑی تھی۔ بنا پلکیں جھپکائے، بغیر کچھ بولے وہ بس اسے دیکھے جا رہی تھی کہ تبھی چہرے پر آتیں سیاہ زلفیں دیدارِ یار میں رکاوٹ بننے لگیں۔ جنہیں یوسف نے ہاتھ بڑھا کر کان کے پیچھے کر دیا۔ یوں کے اب درمیان میں کوئی نہ آئے۔۔۔
” یو۔۔۔ یوسف !! “
لب ہلے اور اگلے ہی لمحے وہ اپنے پورے قد کے ساتھ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکی اس سے معافی مانگ رہی تھی۔ ارد گرد کی پرواہ کیے بغیر۔۔۔
(میرے دل کی دل سے توبہ، دل سے توبہ میرے دل کی
دل کی توبہ ہے دل اب پیار دوبارہ نہ ہوگا
تو بول کفارہ، کفارہ بول کفارہ، تو بول کفارہ،
کفارہ بول او یارا، او یارا بول کفارہ کیا ہوگا)
بنا کچھ کہے اس نے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اُٹھایا۔ لوگ حیرت سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ وہ ان کی نظروں کی پرواہ کیے بغیر اس کا ہاتھ تھامے تیزی سے چبوترے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
(ہمیں تھی غرض تم سے اور تمہیں بے غرض ہونا تھا۔
تمہیں ہی لادوا ہو کر ہمارا مرض ہونا تھا۔
چلو ہم فرض کرتے ہیں کہ تم سے پیار کرتے ہیں
مگر اس پیار کو بھی کیا ہمی پہ فرض ہونا تھا)
وہ کسی بے جان گڑیا کی طرح اس کے ساتھ کھینچی چلی جا رہی تھی۔ نظروں میں اب بھی بے یقینی تھی۔ اس نے ایک نظر یوسف کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھا پھر یوسف کی پشت کو۔۔۔
(دھڑکن دھڑکن دھڑکے۔۔۔ دھڑکے۔۔۔!!!
ہم نے دھڑکن دھڑکن کر کے، دل تیرے دل سے جوڑ لیا
آنکھوں نے آنکھیں پڑھ پڑھ کے، تجھے وِرد بنا کے یاد کیا)
چبوترے کے ایک طرف لاکر یوسف نے ہاتھ چھوڑ دیا ساتھ ہی جسمین کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتی کونے پر جا بیٹھی۔ نظریں تھیں کہ اس کے چہرے سے ہٹنے کو انکاری تھیں۔ اب تک اسے لگتا تھا کہ یوسف سے ملاقات اب بس ایک خواب رہ گیا ہے پر وہ خواب آج حقیقت بن کر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ مگر کس حال میں۔۔۔
” یہ کیا حال بنا لیا تم نے؟ “
طویل خاموشی کے بعد وہ بولی، ساتھ بیٹھا یوسف دھیرے سے مسکرا دیا۔
” یہ تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیئے۔ کیا حال بنا لیا آپ نے؟ ” وہ اس کے مرجھائے ہوئے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
” تمہاری بددعا لگ گئی۔”
” میں نے کبھی بددعا دی ہی نہیں۔”
” مگر دل تو دُکھا تھا نا تمہارا۔”
بھرائی ہوئی آواز، یوسف نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے رونے سے باز رکھا۔۔۔
(تجھے پیار کیا تو تو ہی بتا، ہم نے کیا کوئی جرم کیا
اور جرم کیا ہے تو بھی بتا، یہ جرم کہ جرم کی کیا ہے سزا)
” تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اپنی زندگی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو تم؟ ” کہتے ہوئے بالآخر وہ سسک پڑی۔
یوسف خاموشی سے اسے دیکھتا رہا نقصان تو اس کا ہوا تھا، مگر بھگت وہ رہی تھی۔ بظاہر تو وہ بدلا تھا، مگر ٹوٹ وہ گئی تھی۔
” کچھ نہیں کیا میں نے اپنی زندگی کے ساتھ ” کچھ” کیا ہی تو نہیں۔ کیونکہ مجبور آپ تھیں دنیا کی خاطر میں نہیں۔۔۔”
(تمہیں ہم سے بڑھ کر دنیا، دنیا تمہیں ہم سے بڑھ کر
تمہیں ہم سے بڑھ کر دنیا، دنیا تمہیں ہم سے بڑھ کر
ہم کو تم سے بڑھ کر کوئی جان سے پیار نہ ہوگا)
جسمین نے بھیگی نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا جو پُرسکون سا بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر چھایا سکون اسے مزید بے سکون کر گیا۔ اس شخص کو تکلیف پہنچا کر اس نے اپنی دنیا ہی نہیں بلکہ آخرت بھی خراب کر لی تھی۔ ایک بار پھر جسمین نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔۔
(میرے دل کی دل سے توبہ، دل سے توبہ میرے دل کی
دل کی توبہ ہے دل اب پیار دوبارہ نہ ہوگا )
” معاف کر دو یا جو چاہے سزا دے دو۔” بھیگی آنکھیں، جڑے ہاتھ، وہ اس کے ساتھ بیٹھی اپنے لیے کسی فیصلے کی منتظر تھی۔
(تو بول کفارہ، کفارہ بول کفارہ، تو بول کفارہ،
کفارہ بول او یارا، او یارا بول کفارہ کیا ہوگا)
یوسف نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے آہستہ سے اس کے جڑے ہاتھوں کو الگ کیا۔
” کوئی سزا نہیں اور معاف۔۔۔ معاف تو پہلے ہی کر دیا تھا۔” یوسف مسکرایا۔ جبکہ جسمین کی برداشت یہاں آ کر جواب دے گئی۔
وہ مسلسل بہتی آنکھوں سے اسے دیکھتی اُٹھ کھڑی ہوئی اور ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتی وہاں سے بھاگتی چلی گئی۔ یوسف نے بےبسی سے اسے جاتے دیکھا مگر روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔
” اُف یہ محبت !! “
اگر محبت کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو نہ یہ کہانیاں لکھی جاتیں، نہ افسانے بنتے، نہ انسان یہ درد کہتا، لکھتا۔۔۔
جب بھی ان دیوانوں کو لگتا کہ آگے کی راہ ہموار ہے تو ایک آندھی چلی آتی کہیں سے اور پھر وہی ڈر، اب کیا ہوگا آگے۔۔۔
