Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 18)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 18)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
” مجھے اپنی بہن کی خوشیوں کی ضمانت چاہیئے۔” وہ جہانگیر ملک کے سامنے کھڑا سنجیدگی سے بول رہا تھا۔
” یہ کیسی شرط ہے؟ “
جہانگیر ملک نے کرخت لہجے میں پوچھا۔ بھلا بیٹیوں کے نصیب کی ضمانت بھی کسی کو ملی ہے؟ یہ تو قسمت کی بات ہے۔ آنگن میں پھول گریں یا پتھر۔۔۔
” یہ ہی شرط ہے مجھے اپنی بہن کی خوشیوں کی ضمانت چاہیئے اور۔۔۔” وہ رکا، چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ کتنا مشکل تھا یہ کہنا۔
” اور اس کیلئے آپ شجاع عالمگیر سے ان کی بیٹی کا ہاتھ میرے لیے مانگیں گے۔”
” کیا دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا۔”
بلاج کی بات پر ان تینوں کو جھٹکا لگا تھا۔ کہاں تو وہ یاسمین کے بعد کسی سے بات تک نہیں کرنا چاہتا تھا اور اب شادی کی بات کر رہا تھا۔
” یہ ہی میری شرط ہے بابا سائیں۔ اگر اُن لوگوں نے میری بہن کو وہاں خوش رکھا تو اُن کی بیٹی بھی یہاں خوش رہے گی۔ انکار کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ میں یاسمین کے قاتلوں کو بھولا نہیں ہوں۔” وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بہت کچھ جتاتا وہاں سے چلا گیا اور اس کے ساتھ ہی ذہن کے پردے پر سب کچھ دھندلا گیا۔
بلاج نے آنکھیں کھول دیں۔ کمرے میں جلتی مدہم روشنی میں وہ کھڑکی کے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھا تھا۔ جب عقب سے آتی آواز پر وہ چونک کر اپنی سوچوں سے باہر آیا۔ چہرہ موڑ کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں جسمین کھڑی تھی۔
” بلاج بھائی۔”
” آ جاؤ بچہ۔” جسمین کو دیکھ کر وہ دھیرے سے مسکرایا۔
” بھائی مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔” وہ انگلیاں مروڑتی اس کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
” کیا بات ہے؟ بولو۔ ” بلاج نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” بھائی مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔” نظریں جھکائے، انگلیاں مروڑتی وہ تیزی سے بول گئی۔ بلاج یونہی سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا۔ اسے حیرت نہیں ہوئی تھی نہ ہی وہ اس انکار پر الجھا تھا۔
” وجہ؟ ” اسی سنجیدگی سے پوچھا۔
” میں۔۔۔ میں بھائی وہ۔۔۔” اس کے سمجھ نہ آیا۔ کیسے بولے، کیسے بتائے کہ وہ سمیر سے نہیں یوسف سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ اُس سے محبت کرتی ہے۔
” بولو جسمین۔ میں وہ کیا؟ “
” بھائی میں۔۔۔” وہ پھر رکی پر اب کی بار بلاج نے اس کی مشکل آسان کر دی۔
” کسی کو پسند کرتی ہو؟ “
بلاج کی بات پر جسمین نے حیرت سے چہرہ اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ نہ غصّہ تھا، نہ نرمی بس سنجیدگی تھی۔ جسمین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
” کون ہے؟ “
” بھائی وہ۔۔۔”
” یوسف کو پسند کرتی ہو؟ ” ایک بار پھر جسمین کے بولنے سے پہلے ہی بلاج نے اندازہ لگایا۔ وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔ دونوں کے درمیان خاموشی حائل ہو چکی تھی۔
” میری بات کا جواب نہیں دیا جسمین؟ ” بلاج کی آواز نے اس خاموشی کو توڑا۔
” بھائی وہ۔۔۔”
” ہاں یا نہ؟ ” سنجیدگی ہنوز قائم رہی۔
” جی۔”
اور بالآخر وہ اعتراف کر گئی۔ بلاج خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر چیئر سے اُٹھ کر اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
” جاؤ جا کر سو جاؤ۔ کل یونی بھی جانا ہے۔” بلاج نے اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
” بھائی پر آپ بابا سائیں سے۔۔۔”
جسمین کو اب اس کا رویہ پریشان کرنے لگا۔ وہ کوئی ردِعمل کیوں نہیں دے رہا تھا؟ نہ ڈانٹا، نہ تسلی دی، نہ کچھ اور۔۔۔
” جاؤ جسمین۔”
” پر بھائی آپ۔۔۔”
اس کے الفاظ ابھی ادا بھی نہ ہوئے تھے کہ بلاج کا ہاتھ اُٹھا اور جسمین کے گال پر نشان چھوڑ گیا۔ تھپڑ کی گونج کے ساتھ ہی کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ گال پر ہاتھ رکھے جسمین بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔ جس بھائی نے کبھی ڈانٹا تک نہ تھا آج اس نے ہاتھ اُٹھا لیا تھا۔
” اس لیے تم پر بھروسہ کیا تھا؟ اس لیے بھیجا تھا تمہیں یونیورسٹی؟ کہ تم میرا ہی بھروسہ توڑ دو۔” وہ غرایا۔
” اپنے دماغ سے یوسف کا خیال نکال دو۔ تمہاری شادی وہیں ہوگی جہاں بابا سائیں چاہتے ہیں اور اب جاؤ یہاں سے۔” سخت لہجے میں کہتا وہ اپنا چہرہ موڑ گیا۔
جسمین الٹے قدموں سے پیچھے ہٹی اور مڑ کر دروازے کی جانب بڑھ گئی مگر کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے وہ رکی تھی۔
” مجھے لگا تھا آپ مجھے سمجھیں گے۔ لیکن میں غلط تھی۔ محبت کے دعوے کرنے والا جو یاسمین بھابھی کے مرنے کے دو ماہ بعد ہی دوسری شادی کیلئے تیار ہو، وہ میری محبت کو کیا سمجھے گا۔”
” جسمین !! ” بلاج دھاڑا لیکن وہ سنے بغیر فوراً کمرے سے باہر نکل گئی۔
۔*********۔
” آہوں سے سوزِ عشق مٹایا نہ جائے گا
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا “
(امیر مینائی)
کمرے میں آکر وہ سیدھا بیڈ پر جا گری۔ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ بلاج اس کی پہلی اور آخری اُمید تھا اور اب اُس نے ہی ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
خوابوں میں بنایا آشیانہ چکنا چور ہو چکا تھا۔ یوسف کے ساتھ زندگی گزارنے کے سب خواب اب بس خواب ہی رہنے تھے۔ سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ سب کچھ۔۔۔
” اب میں کیا کروں؟ ” وہ بڑبڑائی۔
” اپنے دماغ سے یوسف کا خیال نکال دو۔ تمہاری شادی وہیں ہوگی جہاں بابا سائیں چاہتے ہیں۔” اسے بلاج کی آواز سنائی دی۔
” میں تو اب اپنے لیے بھی ہر نماز میں دعا کرنے لگا ہوں کہ آپ کا ساتھ ساری زندگی کیلئے ملے ورنہ میں تو مر ہی جاؤں گا۔” یوسف کا محبت سے بھرا لہجہ۔۔۔ جسمین نے اپنے ہاتھوں کو کانوں پر رکھ لیا۔
” مجھے معاف کر دینا یوسف !! اب میں کچھ نہیں کر پاؤں گی۔ میری آخری اُمید بھی دم توڑ گئی۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا کچھ بھی نہیں۔ ہم کبھی ایک نہیں ہوسکیں گے۔ تمہارا اور میرا ساتھ بس یہیں تک کا تھا۔ مجھے معاف کر دینا یوسف۔”
تصور میں یوسف سے مخاطب ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ بند کمرے میں اس کی سسکیاں گونجنے لگی تھیں۔
۔*********۔
” مجھے معاف کر دینا گڑیا۔ تم غلط نہیں پر پھر بھی میں نے تم پر ہاتھ اُٹھایا۔” اس نے اپنا ہاتھ چہرے کے سامنے کیا جو کچھ دیر پہلے جسمین پر اُٹھا تھا۔
” میں اگر ایسا نہ کرتا تو یاسمین کی طرح ایک اور معصوم اس دنیا سے چلا جاتا۔ جو میں ہر گز نہیں چاہتا۔” چیئر پر بیٹھے اس نے بڑبڑاتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں۔ جیسے خود کو پُرسکون کرنا چاہتا ہو۔
” افسوس ہم ایسے معاشرے کا حصّہ ہیں جہاں خواہشوں ، رشتوں اور محبتوں کا گلا گھونٹ کر انا، وقار اور روایتوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ ہم جیسے لوگوں کو اس دنیا میں صرف سانس لینے کی اجازت ہے۔ خواب و خواہشات پالنے کی نہیں۔۔۔” سوچتے ہوئے اس نے آنکھیں کھول دیں۔
پلکوں کی جھالر اُٹھتے ہی اُس محبوب ہستی کا چہرہ سامنے آیا تھا جو خاموش کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” یاسمین !! کیا تمہیں بھی یہی لگتا ہے؟ کیا میرا فیصلہ غلط ہے؟ “
اسنے بےبسی سے پوچھا کہ شاید وہ تو کہہ گی وہ ٹھیک کر رہا ہے۔ یہ وقت کا بہترین فیصلہ ہے پر۔۔۔ وہ خاموش تھی۔ خاموش ہی رہی۔
” تم کچھ بولتی کیوں نہیں؟ کیا جسمین کی طرح تم بھی مجھ سے ناراض ہو؟ ” اس نے پھر آس بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا پر وہ یونہی خاموش کھڑی رہی۔
ٹھنڈی ہوا کا تیز جھونکا کھڑی پر ڈلے پردے کو اُڑاتا ہوا ان کے درمیان لے آیا۔ بلاج نے فوراً چیئر سے اُٹھ کر پردہ ہٹایا۔
پردہ ہٹا، تخیل مٹا اور کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ ایک بار پھر وہ اکیلا کھڑا تھا۔ بنا کسی ہمدر اور سہارے کے وہ اس سفر میں بیچ و بیچ کھڑا تھا۔
۔*********۔
” کچھ غم یہ زندگی دیتی ہے
کچھ غموں سے زندگی ہوتی ہے
کچھ لوگ سو جاتے ہیں
کسی کی آنکھیں نیند جگاتی ہے
کچھ راتیں روشن کرتے ہیں
کچھ کی صبح اُجڑ جاتی ہے
کچھ لب سب کہتے ہیں
کوئی آنکھ حال سُناتی ہے
کچھ غم بھی مُسکراتے ہیں
کوئی خوشی بھی رُلاتی ہے
کچھ آنکھوں میں ڈوبا جاتا ہے
کوئی اشکوں میں ڈوباتی ہے “
(مانی گوندل)
غموں کی شام بھی صُبحِ بہاراں نہ بنی، ہجر کی تڑپ کو اپنے جوبن پر لیے وہ دل کے آنگن میں یوں اُتری کہ ہر منظر کو ویراں کر گئی۔
وہ خالی خالی نگاہوں سے ارد گرد دیکھتی تیزی سے کوریڈور میں آگے بڑھ رہی تھی۔ جب اس کی نظر فٹبال کھیلتے یوسف اور اس کے دوستوں پر پڑی۔
یوسف اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ لیکن وہ مسکرا بھی نہ سکی اور آگے بڑھ گئی۔
” تم لوگ کھیلو میں ابھی آیا۔”
یوسف فٹبال ان تینوں کی طرف اچھال کر بھاگتا ہوا جسمین کے پیچھے آیا جو یوں چل رہی تھی جیسے اس کی آمد سے بے خبر ہو۔
” جسمین !! “
اف !! یہ پکار۔۔۔ جسمین نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس شخص کا سامنا کرنے کی ہمت اب اس میں نہیں تھی۔
” کیا ہوا ؟ میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہیں؟ ناراض ہیں؟ “
ایک سانس میں سارے سوال کرتا وہ یکدم سائڈ سے گزر کر عین اس کے مقابل جا کھڑا ہوا۔ جسمین نے بروقت اپنے قدم روکے۔ عین ممکن تھا وہ اس کے سینے سے جا ٹکراتی۔
” کیا بدتمیزی ہے یہ مسٹر یوسف۔۔۔ ” وہ دبی دبی سی آواز میں چلائی ساتھ ہی ایک نظر آس پاس سے گزرتے اسٹوڈنٹس پر ڈالی۔
” سوری !! پر آپ ایسے کیوں بات کر رہی ہیں؟ ” یوسف کو اس کا لہجہ کھٹکا۔ جو پھر وہی بیگانگی لیے ہوئے تھا۔
” کچھ نہیں ہوا تماشا نہ بناؤ میرا سب اسٹوڈنٹس ادھر ہی دیکھ رہے ہیں۔” سرد لہجے میں کہتی وہ اس کے سائڈ سے گزر کر آگے بڑھ گئی۔ یوسف نے بھی اپنے قدم اس کے پیچھے بڑھائے۔
” جسمین کوئی غلطی ہوگئی مجھ سے؟ کیا ہوا ہے ایسے کیوں برتاؤ کر رہی ہیں؟ اچھا سوری مجھے معاف کر دیں میں نے کچھ کہا ہے تو۔”
عجیب بےبسی میں ڈوبی آواز جسمین کے قدم وہیں رک گئے۔ مڑ کر پیچھے دیکھا۔ وہ دو قدم کے فاصلے پر کھڑا اس سے اپنی نا کردہ غلطی کی معافی مانگ رہا تھا۔
” آفس میں آؤ۔”
وہ کہہ کر تیزی سے آفس کی جانب گئی۔ یوسف بھی اس کی تقلید کرتا چلنے لگا۔ آفس میں آکر اس نے ہاتھ میں پکڑی فائلز ٹیبل پر رکھیں اور گہرا سانس لے کر خود کو پُرسکون کرتی پیچھے مڑی۔ وہ قریب ہی کھڑا تھا۔
” اب بتائیں گی کیا ہوا ہے؟ یا مجھے پریشان کر کے کوئی خاص سکون ملتا ہے آپ کو؟ ” وہ اب خفگی سے پوچھ رہا تھا۔
” دیکھو یوسف باہر سب ہوتے ہیں۔ یوں تم ہر وقت میرے آگے پیچھے گھومتے رہو گے اور بار بار آفس کے تو کبھی اسٹاف روم کے چکر لگاؤ گے تو لوگ مجھ پر باتیں بنائیں گے۔” وہ سمجھاتے ہوئے بولی۔
” کسی نے کچھ کہا ہے آپ کو؟ ” یوسف کے ماتھے پر بل یوں پڑے کہ جیسے ابھی جا کر بولنے والے کا منہ توڑ آئے گا۔
” کسی نے کچھ نہیں کہا۔ لیکن تم میری بات سنو۔” جسمین نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ یوسف فوراً سیدھا ہو گیا۔ کسی اچھے بچے کی طرح۔
” تمہارے ایگزامز شروع ہونے والے ہیں۔ اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔ اب تم مجھ سے تب تک نہیں ملوگے جب تک تمہارے ہاتھ میں ڈگری کے ساتھ ساتھ ایک اچھی جاب نہ ہو۔”
جسمین کی بات پر یوسف کو جھٹکا لگا۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔ جیسے یہ سب مذاق ہو اور ابھی وہ ہنسنا شروع کر دے۔
” یہ کیا کہہ رہی ہیں؟ کچھ اور مانگ لیں میں منع نہیں کروں گا مگر یہ نہیں۔” یوسف نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے صاف انکار کیا۔
اس کی بچوں جیسی ادا پر جسمین نے اپنے لب بھینچ لیے۔ اس وقت اسے خود پر شدید غصّہ آیا تھا۔ کتنے معصوم انسان کا دل دکھانے جا رہی تھی وہ۔۔۔
معصوم !! ہاں دنیا کیلئے نہ سہی لیکن اس کیلئے وہ معصوم ہی تھا۔ بچوں جیسا معصوم۔۔۔
” یوسف میں نے کہا نا۔ میں نہیں چاہتی میری وجہ سے تمہارا مستقبل برباد ہو۔ اس لیے اب صرف پڑھائی پر دھیان دو۔”
عام سی بات میں درد بھرے راز کو پوشیدہ کیے وہ کہہ گئی۔ یہ سوچتے ہوئے جو آج ان لفظوں میں چھپے مطلب کو نہیں سمجھا سکا، وہ کل سمجھ جائے گا۔
” لیکن میں دے رہا ہوں اپنی پڑھائی پر توجہ آپ اُس کی فکر۔۔۔”
” یوسف میں نے کہا نا۔ تم میری بات مانتے کیوں نہیں۔” یوسف کی بات کاٹ کر وہ تیز لہجے میں بولی۔ یوسف نے اپنے لب بھینچ لیے۔
” ٹھیک ہے پر وعدہ کریں۔۔۔” یوسف نے اپنی ہتھیلی جسمین کے سامنے پھیلائی۔
” کیسا وعدہ؟ ” جسمین نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ جانتی جو تھی اب ہر وعدہ، ہر دعویٰ مستقبل میں جھوٹا ثابت ہونے والا تھا۔
” وعدہ کریں تب تک میرا انتظار کریں گی۔”
صرف ایک وعدہ جسمین کے وجود میں لرزش سی پیدا کر گیا۔
” کریں وعدہ۔”
یوسف پھر بولا اور اس بار نہ چاہتے ہوئے بھی جسمین نے اپنا لرزتا ہوا ہاتھ اس کی مضبوط ہتھیلی پر رکھ دیا۔
” وہ امید ہی کیا جس کی ہو انتہا
وہ وعدہ ہی نہیں جو وفا ہو گیا
بھولا جو میں نے یہ عہدِ وفا
پھر غم کا فسانہ اور جدا جدا “
۔*********۔
حویلی میں شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ جسے دیکھ دیکھ کر جسمین اندر ہی اندر گھٹنے لگی تھی۔ وقت بھی پر لگا کر یوں گزرنے لگا جیسے خود بھی ان کی جدائی کے انتظار میں ہو۔
دوسری طرف یوسف بھی سنجیدگی سے پڑھائی میں مشغول ہو چکا تھا۔ اسے بس اب اس وقت کے گزر جانے کا انتظار تھا تاکہ جلد از جلد جسمین سے مل سکے یوں تو یونیورسٹی میں وہ اسے دیکھ ہی لیتا تھا۔ لیکن جسمین کا اُترا چہرہ اسے پریشان کر دیتا تھا۔ جس پر وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ آخر کو جسمین سے وعدہ جو کر رکھا تھا۔۔۔
” ترستی آنکھیں، اداس چہرہ، نحیف لہجہ، بغیر تیرے
بکھری زلفیں، لباس اجڑا، وجود خستہ، بغیر تیرے
عمیق جنگل، گھپ اندھیرا، ﮈوبی سانسیں، ضعیف دھڑکن
برہنہ پاؤں، بے نام منزل، نشاں نہ رستہ، بغیر تیرے
خاموش بلبل، سرد پت جھڑ، بے رنگ موسم، ویران گلشن
نہ پھول خوشبو، ہوا نہ بادل نہ کوئی نغمہ، بغیر تیرے
امید مدھم، مزاج برہم، مایوس جیون، بے آس ہر دم
نہ کوئی خواہش نہ کوئی حسرت، نہ ہے تمنا، بغیر تیرے
کالی صبحیں، سرخ راتیں، وقت ساکن، اداس شامیں
ہزار صدیوں کے ہے برابر، ہر ایک لمحہ، بغیر تیرے
تعویز الٹے، ادھوری منت، وظیفے، جادو ناکام سارے
نہ استخارہ ہی کام آیا، نہ کوئی دھاگہ، بغیر تیرے
عجیب قسمت، نصیب الجھا، غلط لکیریں میرا مقدر
ہاں گردشوں میں یہ آگیا ہے میرا ستارہ، بغیر تیرے
ہجر کامل، فراق حاوی، جدائی یکسر، طویل دوری
خواب قربت، وصال حسرت، رضا ہے تنہا، بغیر تیرے”
ادھر یونیورسٹی میں ایگزامز شروع ہوئے۔ وہیں جسمین کے ہاتھ میں سمیر عالمگیر کے نام کی رنگ پہنا دی گئی۔ جو اس کیلئے کسی عذاب سے کم نہ تھی پر اب وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔ جہاں رتجگوں میں وہ پل پل کی اذیت سے گزرتی وہیں یوسف کے شب و روز کتابوں میں گزرتے لمحہ با لمحہ سرکنے لگے۔ وقت یوں تیزی سے گزرا کہ کسی کیلئے موت کی فریاد تو کسی کیلئے ملن کی آس بن گیا۔۔۔
اور پھر یوں ہوا کہ بالآخر وہ دن بھی آ گیا۔۔۔
وہ ایک ایسا دن جب اعزاز یافتہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ جب دل چاہتا ہے اور آگے بڑھا جائے تاکہ ساری دنیا کو فتح کر لیا جائے۔ تب بلندیاں چھوٹی لگتی ہیں اور حوصلے جوان۔ یونی کا سفر ختم ہونے جا رہا ہے اور زندگی نئے امتحانات لیے آگے بھی کھڑی ہے، سخت مقابلے اور نا ختم ہونے والی دوڑ کے ساتھ۔۔۔
بلیک گاؤن پہنے سر پر بلیک کیپ لگائے مسکراتے چہرے کے ساتھ گولڈ میڈل گلے میں ڈالے وہ اسٹیج پر کھڑا تھنکیو اسپیچ کر رہا تھا۔ سامنے ہی کرسی پر وہ بیٹی آنکھوں میں ویرانی لیے اسے دیکھ رہی تھی کہ تبھی وہ کرسی سے اُٹھی اور چہرہ نیچے جھکائے ہال سے باہر نکل گئی۔
اُدھر اسٹیج پر کھڑے یوسف کی نظروں نے اس کا تب تک پیچھا کیا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی۔ اسپیچ ختم ہوئی، تالیوں کا شور اُٹھا اس کے ساتھ ہی وہ اسٹیج سے اُتر کر پاس آتے لوگوں سے عجلت میں ملتا ہوا خود بھی ہال سے باہر نکل گیا۔ تیز تیز قدم بڑھاتا وہ پارکنگ ایریا کی طرف چلا آیا جہاں وہ کار میں پچھلی نشست پر بیٹھی جاتی دکھائی دی تھی۔
” وعدہ کرو تو وعدہ وفا کرو۔
ہوئی غلطی جو ہم سے تو گلہ کرو
یوں بات بے بات پھیر لیتے ہو رخ تم
جان ہی لینی ہے تو فقط ایک بار کہو “
۔*********۔
” جسمین یہ سوٹ پہن کر دیکھ لو بیٹا کہیں درزی نے ٹائٹ نہ کر دیا ہو ویسے ہی دن کم رہ گئے ہیں۔ پرسوں تم مایوں بیٹھ جاؤ گی۔ اس لیے آج یا کل تک سارے کام نمٹا لو۔”
فائزہ بیگم ہاتھ میں کام دار سوٹ پکڑے کمرے میں آکر بولیں۔ بیڈ پر لیٹی جسمین نے بےتاثر چہرے سے انہیں دیکھا پھر رخ موڑ کر واپس سامنے دیوار کی جانب دیکھنے لگی۔ جہاں لگی ایل ای ڈی پر کوئی فلم چل رہی تھی۔
” ٹھیک ہی ہوگا امی ایک طرف رکھ دیں۔” نظریں اسکرین پر جمائے کہا۔
” یہ کیا بات ہوئی تم کسی چیز میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہیں؟ ٹھیک ہے سب بہت جلدی میں ہو رہا ہے۔ لیکن اس میں اتنا اداس ہونے والی کیا بات ہے؟ “
فائزہ بیگم نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ جسمین کی اداسی کا سبب وہ شادی کو ہی سمجھیں تھیں کہ یہ وقت ہوتا ہی ایسا ہے۔ اپنے خونی رشتوں سے بچھڑنے کا خیال ہی ہر لڑکی کو یوں ہی اداس کر دیتا ہے۔
” اب میں آپ کو کیا بتاؤ امی۔ جب دل کی دنیا ہی ویران ہو جائے تو باہر کی دنیا میں بھی کوئی کشش، کوئی دلچسپی باقی نہیں رہتی۔” اس نے سوچا پر بولی کچھ نہیں۔
” چلو اب اُٹھو جلدی سے اسے پہن کر دیکھو۔ تب تک میں باہر جا کر تیاری دیکھ لوں اتنے کام پڑے ہیں ابھی۔” وہ کہتے ہوئے اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔
ان کے جاتے ہی جسمین نے نم آنکھوں سے اس سرخ رنگ کے جوڑے کو ہاتھوں میں لے کر اپنے سامنے کیا۔ آنکھوں سے نکلتے آنسو گالوں پہ بہہ کر سیدھا جوڑے پر جا گرے۔
” دل کرتا ہے کہ تمہارے ساتھ کہیں دور بھاگ جاؤں یوسف۔ جہاں صرف ہم دونوں ہوں۔ کوئی دکھ نہ ہو، کوئی ظالم سماج نہ ہو۔ جو ہمیں جدا کر سکے۔ لیکن میں ایسا نہیں کرسکتی کیونکہ دل دکھانا تو گناہ ہے نا۔ تو یوں دوسروں کا دل دکھا کر ہم خود خوش کیسے رہے سکتے ہیں اور پھر وہ تو میرے بھائی، میرے ماں باپ ہیں۔ میرے محرم، میرے اپنے۔ میں اُن کا دل کیسے دکھا سکتی ہوں۔”
تصور میں یوسف کو مخاطب کیے اس نے بےبسی سے آنکھیں موند لیں۔ مگر اس لمحے وہ یہ بھول گئی کہ دل چاہے اپنوں کا ہو یا غیروں کا، محرم کا ہو یا نامحرم کا ” دل ” دل ہوتا ہے۔
اور اسے توڑ کر، تکلیف پہنچا کر انسان اپنی خوشیوں کی توقع کیسے کر سکتا ہے۔
۔*********۔
اس وقت وہ وہاں موجود انٹرویو کیلئے آئی لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کی نگاہوں کا بھی مرکز بنا بیٹھا بےچینی سے سامنے دروازے سے باہر آتے امیدواروں کو دیکھتے ہوئے اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔
جس کے بعد زندگی سے ہر بےچینی، ہر پریشانی کا خاتمہ ہو کر زندگی نے سہل ہو جانا تھا۔ ابو کا خواب پورا ہو جانا تھا۔ ساتھ ہی جسمین سے کیا وعدہ بھی۔۔۔
کیا کچھ نہیں سوچ لیا تھا اس نے اس سمے۔ جاب ملتے ہی اسے جسمین کو بتانا تھا۔ اس کا رشتہ مانگ کر اسے اپنی زندگی میں بھی لانا تھا۔ گھر بسانا تھا۔ اپنی فیملی کو بڑھانا تھا۔ کتنا خوبصورت لگ رہا تھا سب ایک حسین خواب کی طرح۔۔۔ وہ سوچنے لگا کہ تبھی ریسپشنسٹ کی آواز پر چونکا۔
” مسڑ یوسف حیدر !! “
اس نے سوالیہ نظروں سے مخاطب کرنے والی کو دیکھا۔
” جائیے اندر اب آپ کی باری ہے انٹرویو کی۔” ریسپشن پہ موجود لڑکی نے ایک بھر پور نگاہ اس وجیہہ شخص پہ ڈالتے ہوئے اسے آگاہ کیا۔
یوسف اُٹھا اور دروازے کے پاس پہنچ کر دستک دیتے ہوئے اس نے اجازت طلب کی۔ اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوا۔
یہ روم بھی پورے آفس کی طرح شاندار تھا۔ سامنے شیشے کی میز کے پار تین لوگ کرسیوں پر براجمان تھے۔ ان میں سے دو نے سر اٹھا کر آنے والی کو ستائش بھری نظروں سے دیکھا۔ مگر یوسف کیلئے یہ نیا نہیں تھا۔ وہ اپنی ظاہری خوبصورتی سے بخوبی واقف جو تھا۔
” تشریف رکھیے مسٹر یوسف۔”
اپنی فائل ان کے سامنے رکھتا، یوسف آرام سے کرسی پر بیٹھا جس کے ساتھ ہی سوالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ آرام سے ان کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا جیسے انٹرویو دینا اس کے روز کا معمول ہو۔ یوسف کے سادہ سے حلیے میں بھی اس کی پُرکشش شخصیت کے ساتھ ساتھ حاضر جوابی اور کانفیڈنس سے وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہے سکے۔
” مسٹر یوسف ہم امید کرتے ہیں آپ کے ساتھ ہمارا یہ سفر اچھا گزرے گا۔ آپ جاتے ہوئے ریسپشن سے اپنا اپائنٹمنٹ لیٹر لیتے جائیے گا اور کل صبح ٹائم پہ آفس پہنچ جائے گا۔” ان میں سے ایک مسکرا کر بولا۔ باقی دو بھی اس کی تائید کرتے ہوئے مسکرائے۔
” تھنکیو سر میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔”
یوسف نے سرشاری سے کہا اور دل سے اس رب کے آگے سجدہ ریز ہوا۔ جیت کے اس نشے نے میں بھی وہ بھولا نہیں تھا کہ یہ سب تو بس اُس رب کی کرم نوازی ہے۔ ورنہ انسان کی اتنی اوقات کہاں۔
یوسف ان سے مصافحہ کرتے ہوئے انٹرویو روم سے باہر نکل آیا۔ اس کے چہرے پر بکھرے خوشی کے رنگ دیکھتے ہی وہاں بیٹھے امیدوار سمجھ چکے تھے۔ کہ اس جاب کا حقدار اپنا حق حاصل کر چکا ہے۔ اب ان کیلئے یہاں کچھ نہیں۔ باقی کی کسر اندر انٹرویو روم سے آنے والے پیغام نے پوری کردی تھی۔ وہ مایوس ہوئے تھے۔ جبکہ ان سب سے بےخبر وہ سرشاری سے قدم اُٹھاتا آفس سے باہر نکل آیا تھا۔ چہرے پر دل موہ لینے والی مسکراہٹ تھی۔ اس نے ایک آخری نظر آفس کی بلڈنگ پر ڈالی اور پھر اپنی بائیک پر بیٹھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ اب اسے جلد از جلد یہ خوشی کی خبر جسمین کو جو سنانی تھی۔
۔*********۔
صبح سے حویلی میں ہل چل مچی ہوئی تھی۔ ہر کوئی ادھر سے اُدھر دوڑتا تیاریوں میں مصروف تھا۔ ایسے میں فائزہ بیگم گھر کے اندر کے سارے انتظامات دیکھنے میں لگی تھیں۔ آج ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں نمی۔ ان کے بچے اب اپنے گھر کے ہونے جا رہے تھے۔ بس کچھ ہی دن تھے۔ جس کے بعد ان کی بیٹی نے پرائی ہو کر اپنے پیا سنگ چلے جانا تھا۔ یہ سوچ آتے ہی ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگتی۔ جبکہ بلاج کی زندگی میں ایک بار پھر خوشیوں کا سوچ کر ان کے ہونٹوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ بکھر جاتی اور پھر وہ دل ہی دل میں ان دونوں کی ابدی خوشیوں کیلئے دعا کرنے لگ جاتیں۔
” شبانہ یہ ٹوکرے کہاں لے جا رہی ہو؟ انہیں کچن میں رکھو۔” فائزہ بیگم شبانہ کو ہدایت دیتے ہوئے بولیں۔
” جی سردارنی جی۔”
وہ فوراً اثبات میں سر ہلاتی کچن کی جانب بڑھ گئی۔ جبکہ فائزہ بیگم اب لاؤنج میں صفائی کرتے دوسرے ملازم کو ہدایت دینے لگی تھیں کہ تبھی ان کی نظر سیڑھیوں سے نیچے آتے بلاج پر پڑی۔
” ارے بلاج بیٹا تم کہاں جا رہے ہو؟ ” ان کی آواز پر بلاج نے بےتاثر چہرے سے انہیں دیکھا۔
” ہسپتال۔” ایک لفظی جواب دیا۔
” کیا پر کیوں؟ آج تو گھر میں تقریب ہے۔ تمہیں آج گھر پر ہی ہونا چاہیئے۔”
وہ پریشانی سے بولیں۔ پل بھر پہلے والی خوشی کہیں گم ہو گئی تھی۔ اس سمے وہ جان گئی تھیں کہ ان کا بیٹا کس دل سے یہ شادی کر رہا ہے۔
” تقریب رات میں ہے ابھی نہیں۔ مجھے ویسے بھی اس سے زیادہ ضروری کام ہیں۔” خشک لہجے میں کہتا وہ فوراً وہاں سے باہر نکل گیا۔
فائزہ بیگم وہیں کھڑی دل مسوس کر رہ گئی تھیں۔ اس بات سے یکسر انجان کے ان کی بیٹی بھی اب اس ہی درد سے گزرنے والی ہے۔
۔*********۔
” آج رات سی ویو کی طرف نکلتے ہیں وہیں ریسٹورنٹ میں ڈنر کرینگے۔ ٹھیک ہے نا یوسی؟ ” جنید نے کہتے ہوئے آخر میں یوسف سے تائید چاہی۔ جس پر اس نے شانے اچکاتے ہوئے نیم رضامندی دی تھی۔
انٹرویو کے بعد یوسف سیدھا گھر کی جانب بڑھ رہا تھا۔ جب راستے میں آتی نوید کی کال پر اس کے پاس چلا آیا۔ حذیفہ اور جنید تو پہلے سے ہی موجود تھے اور اب وہ چاروں نوید کے کمرے مل بیٹھے جاب ملنے کی خوشی میں رات باہر کھانے کا پلان بنا رہے تھے۔
” تو بس اپنی جگاڑ لگانے میں رہا کر۔” حذیفہ نے کہتے ہوئے اس کمر پر ایک دھموکا جڑ دیا۔
” کمینے !! “
وہ کمر سہلاتا ہوا بمشکل بولا۔ جبکہ انہیں دیکھ کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے نوید مسکرایا ساتھ ہی چہرہ موڑ کر یوسف کو دیکھ جو خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
” کیا ہوا یوسی پریشان ہو کسی بات پر؟ ” اس نے دھیرے سے پوچھا۔
” کچھ نہیں بس جسمین فون نہیں اُٹھا رہیں۔ تجھے بتایا تھا نا انہوں نے کہا تھا ڈگری اور جاب کے بعد بات کرنا۔” یوسف نے وجہ بتائی۔
نوید خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔ جسمین کی شرط پر بہت سے خیالات نے اسکے ذہن میں سر اُٹھایا تھا۔ جنہیں وہ جھٹک کر بس یوسف کی خوشیوں کی دعا کرنے لگتا۔ لیکن اب یوسف کی بات پر اسے شک ہوا۔ کہیں وہ خیالات سچ ثابت ہو گئے تو یوسف کا کیا ہوگا؟
” تم ایسے ہی پریشان ہو رہے ہو یوسف۔ ہو سکتا ہے کہیں مصروف ہوں اس لیے بات نہیں کر پاہ رہی ہوں۔” نوید نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے کہا۔
” ہاں پر ایسا بھی کیا کام کے بندہ ایک میسج بھی نہ کرسکے۔” یوسف نے منہ بنایا۔
” ہوتا ہے ایسا پریشان نہ ہو۔ جب انہوں نے وعدہ کیا ہے تو پھر فکر کیسی اور اب اپنا موڈ ٹھیک کر آج تو خوشی کا دن ہے۔” وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
اس کی باتوں سے یوسف کے دل کو کچھ سکون ملا۔ جسمین کا وہ وعدہ یاد آیا۔ جب اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے اُس نے یقین دلایا تھا۔
یہی سب سوچتے ہوئے وہ تھوڑا مطمئن ہوا اور اب پورے دل سے ان تینوں کے ساتھ مل کر رات کا پلان ترتیب دینے لگا۔
۔*********۔
وہ کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑی باہر روشنیوں سے سجے اس لان کو دیکھ رہی تھی۔ جہاں مایوں کی رسم کا سارا انتظام ہو چکا تھا۔ کچھ ہی دیر میں مہمانوں نے بھی آجانا تھا۔ جس کے بعد رسموں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا۔ اس نے بجھے دل سے کھڑکی پر پردہ ڈالا اور وہاں سے ہٹ کر بیڈ پر آ بیٹھی۔ ہاتھ بڑھا کر اپنا موبائل اُٹھایا۔ جس پر صبح سے یوسف کی کئی کالز اور انگنت میسجز آچکے تھے۔ چند میں وہ اسے اپنی جاب کے مل جانے کی خوشخبری دے رہا تھا۔ تو کچھ میں وہ کال نہ اُٹھانے پر ناراضگی جتا رہا تھا۔ پر زیادہ تر میسجز میں فکرمندی اور پریشانی ہی جھلک رہی تھی۔ جس میں وہ اس کی طبیعت اور گھر کے مسائل کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
” کہیں آپ بیمار تو نہیں؟ “
” کہیں کوئی پریشانی تو نہیں؟ “
” کچھ ہوا ہے گھر میں مجھے بتائیں؟ “
“میں آپ کو مس کر رہا ہوں۔”
” میں پریشان ہو رہا ہوں۔ “
” آپ کال کیوں نہیں اُٹھا رہی؟ مجھے فکر ہو رہی ہے۔”
ایسے کہیں میسجز سے اس کا انباکس بھر چکا تھا۔ جن میں سے ایک کا بھی اس نے جواب نہیں دیا تھا۔ انہیں پڑھتے ہوئے وہ بس آنسو بہائے جا رہی تھی اور اب اس کے سوا کر بھی کیا سکتی تھی۔
” جسمین بیٹا تیار ہو گئیں؟ ” فائزہ بیگم نے کمرے میں آتے ہوئے پوچھا۔
“جی امی تیار ہوں۔” جسمین موبائل سائڈ پر رکھ کر اپنی آنکھیں صاف کرتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
” ماشاء اللّٰه !! ” فائزہ بیگم اسے دیکھتے ہوئے بولیں۔ جو پیلے رنگ کے مایوں کے جوڑے میں ملبوس اپنی تمام تر سادگی میں بھی پیاری لگ رہی تھی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوم لیا۔
” اللّٰه نظرِ بد سے بچائے۔” فائزہ بیگم نے دعا دی یہ جانے بغیر کہ نظر تو پہلے ہی لگ چکی تھی ” اپنوں ” کی۔
” چلو تمہارے سسرال والے آ چکے ہیں۔ میں باہر سے لڑکیوں کو بھیجتی ہوں اُن کے ساتھ تم باہر آجانا۔”
وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ جبکہ جسمین ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ وہیں کھڑی رہی۔ اس کے بعد کمرے میں کون آیا، کون اسے باہر لے کر گیا، کس نے اسٹیج پر بٹھایا اور کون کون آکر رسم ادا کرتا گیا۔ اسے کچھ خبر نہ تھی۔ یاد تھا تو بس یہ کہ یوسف حیدر کو اپنی زندگی سے نکال کر وہ کہیں بہت دور جا رہی ہے۔ ایسی جگہ کہ اب واپسی کبھی ممکن نہیں۔۔۔
” کیسے چھوڑ دوں تجھ سے محبت کرنا
تو قسمت میں نہ سہی پر دل میں تو ہے “
۔*********۔
وہ کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھولتا ہوا اندر داخل ہوا۔ پورا کمرہ تاریکی میں ڈوبہ ہوا تھا۔ کوئی ایسی ڈئیم لائٹ یا نائٹ بلب روشن نہیں تھا جو اس کمرے میں پھیلی تاریکی کو ختم کر سکے۔ اوپر سے اے سی کی ٹھنڈک نے بھی پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ مانوں یوں کے کسی نے اس کمرے کو مردہ خانہ بنا لیا ہو۔
وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا بیڈ کی جانب آیا جہاں وہ پیلے جوڑے میں بیڈ پر لیٹی محو خواب تھی۔ وہ جھک کر اُس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ آنکھیں یکدم نم ہوئی تھیں۔
” مجھے معاف کردو جسمین۔ میں نے تمہاری خوشیاں چھین لیں۔ پر کسی کی جان جانے سے بہتر یہی تھا کہ تم سے تمہاری خوشیوں کو دور کر دیا جائے۔”
بلاج شفقت سے اسے دیکھتے ہوئے سوچنے لگا۔ آج پورا دن وہ اس کے سامنے نہ آ سکا۔ اتنی ہمت ہی نہیں تھی۔ بس دور سے ہی اس اداسی کی مورت بنی اپنی بہن کو دیکھ لیتا جس نے ایک یوسف کے بعد ہر خوشی خود پر حرام کر لی تھی۔
” میری دعا ہے اللّٰه سے سمیر تمہیں اتنا خوش رکھے کہ تم یوسف کو بھول جاؤ۔ اُس کا خیال بھی کبھی تمہارے ذہن میں نہ بھٹکے۔”
دل ہی دل میں اسے دعا دیتا وہ سیدھا ہوا کہ تبھی اس کی نظر سائڈ ٹیبل پر رکھے جسمین کے موبائل پر پڑی جس کی فرنٹ لائٹ بلنک کر رہی تھی۔ بلاج نے موبائل اُٹھا کر آن کیا تو سامنے اسکرین پر انجان نمبر سے کئی میسجز جگمگانے لگے۔
وہ ایک ایک کر کے پڑھتا گیا۔ اس دوران اسے یہ معلوم ہوگیا تھا کہ ان میسجز کا جواب نہیں دیا گیا۔
بلاج نے ایک نظر سوئی ہوئی جسمین پر ڈالی پھر اپنی جیب سے موبائل نکال کر نمبر نوٹ کیا اور جسمین کا موبائل واپس اسی جگہ رکھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ مگر اس لمحے اس کی روشن آنکھوں میں گہری سوچ کے سائے واضح تھے۔
