Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 08)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 08)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
رات کے سائے پر پھیلائے چاروں سوں پھیل چکے تھے۔ ایسے میں وہ حیدر صاحب کے کمرے میں بیٹھا انہیں دوائیں دے رہا تھا۔ دفعتاً بیرونی دروازے پر لگی بیل بج اُٹھی۔
حیدر صاحب کو آرام کرنے کی ہدایت دیتا وہ کمرے سے باہر نکل کر دروازے کی جانب بڑھا۔
” اس وقت کون آگیا۔”
جھنجھلا کر کہتا ابھی اس نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ سامنے دانت نکالے وہ تینوں کھڑے نظر آئے۔
” کیوں آئے ہو؟ “
” بے مروت انسان !! کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی لحاظ ہوتا ہے۔ تو نے تو سب بیچ کھایا۔ ہمیں اندر بلانے کے بجائے پوچھ رہا ہے کیوں آئے۔” نوید نے اسے شرم دلانی چاہی جو بدقسمتی سے یوسف کو چھو کر بھی نہیں گزری۔
” ابو سو رہے ہیں آرام سے بولو۔”
یہ تو اچھی بات ہے۔ چل پھر شامی چاچا کے ہوٹل پر چل کر بات کرتے ہیں۔” کہتے ہی جنید نے اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کھینچ لیا۔
” کیا مسئلہ ہے؟ دروازہ تو بند کرنے دو۔”
یوسف نے جھنجھلاتے ہوئے ہاتھ چھڑوایا اور مڑ کر دروازہ بند کرنے لگا۔ کنڈی لگا کر وہ چاروں دو گلی چھوڑ کر شامی چاچا کے ڈھابا نما ہوٹل کی طرف بڑھ گئے۔
رات ہونے کے باوجود بھی یہاں دن کا سا سماں تھا۔ کھلے آسمان تلے لکڑی کی ٹیبلز پر موجود افراد کھانے کے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں بھی مصروف تھے۔ یہاں ہمیشہ مرد حضرات ہی موجود ہوتے تھے۔ البتہ عورتیں اکثر کھانا خرید کر لے جایا کرتی تھیں مگر یہاں بیٹھ کر نہیں کھاتی تھیں۔
” یہ ٹیبل خالی ہے ادھر آجاؤ۔”
حذیفہ نے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کیا ساتھ ہی آگے بڑھ کر کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا۔ اس کی تقلید کرتے وہ تینوں بھی اس ٹیبل کے پاس جا کر کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
” چھوٹے !! ” نوید نے چہرہ موڑ کر وہاں موجود کام کرتے لڑکے کو آواز دی پھر ان کی طرف متوجہ ہوا۔
کیا منگوائیں؟ “
” تم لوگوں کو جو کھانا ہے کھاؤ لیکن میں بتا رہا ہوں ایک پھوٹی کوڑی نہیں دوں گا بل خود دینا۔” یوسف نے پہلے ہی ہری جھنڈی دکھائی۔
” ہاں مر مت۔ ہم تینوں دے دیں گے۔”
نوید نے اسے جھڑکا۔ تبھی وہ لڑکا کندھے پر رومال لٹکائے ان کی ٹیبل پر آیا۔
” چار بریانی کی پلیٹ، دو نہاری کی پلیٹ ساتھ میں ریتا سلاد اس کے بعد چائے لے آنا اب جاؤ۔”
کسی کو بھی بولنے کا موقع دیئے بغیر جنید نے فوراً آرڈر دیا ساتھ ہی اُسے چلتا کر دیا۔
” گھور تو ایسے رہے ہو جیسے بریانی نہیں مجھے کھانے کا ارادہ ہو۔” تینوں کی نظریں خود پر جمی دیکھ وہ مزاق اڑانے والے انداز میں کہتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ جبکہ نوید اور حذیفہ اب کے یوسف کی طرف گھوم گئے۔
” کیا ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ ” دونوں کی نظریں خود پر دیکھ کر اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
” تم بتاؤ آج کل کیا کر رہے ہو؟ ” وہ تینوں اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ یوسف کے ماتھے پر بل پڑنے لگے۔
“کیا کہہ رہے ہو؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ صاف صاف بولو کیا بات ہے۔”
“ٹھیک ہے صاف صاف بتاؤ۔ مس جسمین کو پسند کرتے ہو؟ ” جنید کے کہنے پر وہ چونک کر باری باری تینوں کو دیکھنے لگا۔ گلے میں گلٹی سی اُبھر کر معدوم ہوگئی۔
” یہ کیا بکواس ہے؟ “
” یہی تو پوچھ رہے ہیں یہ کیا بکواس ہے۔ تم کیا کرتے پھر رہے ہو؟ ” نوید اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھورتے ہوئے بولا۔
” دیکھ یوسی مان لے کچھ ایسا ہے تو۔” حذیفہ نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہمت بڑھانی چاہی۔ یوسف نے خاموشی سے سر نیچے جھکا لیا۔
اتنے میں وہ لڑکا ان کا آرڈر لیے ٹیبل کے طرف چلا آیا۔ اس دوران سب خاموشی سے بیٹھے ارد گرد دیکھنے لگے۔ کھانا ٹیبل پر سجا کر وہ لڑکا گیا ہی تھا کہ نوید آگے کو جھکا اور یوسف کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے گویا ہوا۔
” یوسی وہ ٹیچر ہیں۔ خود کو یہیں روک لو۔”
” کیا روک لوں ہاں؟ کیا روک لوں؟ ” وہ ایک دم بھڑک اُٹھا دور جانے کا خیال ہی اتنا سوہان روح تھا کہ جو اقرار وہ تنہائی میں نہ کر سکا ان تینوں کے سامنے کر رہا تھا۔
” کچھ بھی میرے بس میں نہیں ہے سب خود بخود ہوتا جا رہا ہے۔ میں چاہ کر بھی خود کو روک نہیں پارہ جب تک اُن کی ایک جھلک نہ دیکھ لوں میرے بےچین دل کو آرام نہیں آتا۔ اُن کے منہ سے نکلی باتوں کو خود بخود اپنانے لگا ہوں۔ خود کو اُن کے مطابق ڈھالنے لگا ہوں۔ مجھ میں کچھ بھی تو میرا نہیں رہا جسے میں روک لوں۔” بے بسی سے کہتے اس نے سر ہاتھوں میں تھام لیا۔
وہ تینوں شاکڈ کی سی کیفیت میں اسے دیکھ رہے تھے۔ یہ وہ یوسف تو نہیں تھا۔ جو لڑکیوں کی پرچھائی سے بھی دور بھاگتا تھا۔
” یوسف !! تم پہلے تو ایسے نہیں تھے۔” حذیفہ کو اب بھی یقین نہ آیا۔
” پہلے وہ بھی تو نہیں تھیں۔”
اس کی بات پر حذیفہ خاموش ہوگیا تھا۔ تب جنید نے پوچھا۔
” اب آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ ویسے ہمارے اور اُن کے اسٹیٹس میں بہت فرق ہے۔”
” پتا نہیں میں ابھی خود بھی کچھ نہیں جانتا۔” اس نے سر اُٹھا کر ان تینوں کو دیکھا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
” یہ سب تم کھا لینا میں چلتا ہوں ابو گھر پر اکیلے ہیں۔” کچھ بھی کہنے کا موقع دیئے بغیر وہ فوراً وہاں سے نکل گیا۔ جبکہ وہ تینوں ایک دوسرے کو دیکھتے اپنی اپنی سوچوں میں گم ہو چکے تھے۔
۔*********۔
” یوسی وہ ٹیچر ہیں۔ خود کو یہیں روک لو۔” نوید کا اسے روکنا اس کے آگے بڑھتے قدموں کو بھاری کر رہا تھا۔
” یوسف !! تم پہلے تو ایسے نہیں تھے۔” حذیفہ کی بے یقینی میں ڈوبی آواز اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔
” اب آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ ویسے ہمارے اور اُن کے اسٹیٹس میں بہت فرق ہے۔” جنید کا سوال اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کر رہا تھا۔
وہ سن ہوتے دماغ کے ساتھ واپس گھر لوٹا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا آیا۔ چاروں طرف بس اندھیرا دکھائی دے رہا تھا۔ ایسا ہی اندھیرا اسے اپنی آنے والی زندگی میں بھی نظر آتا دکھائی دیا۔
” کیوں اللّٰه کیوں؟ “
یوسف چلتا ہوا آگے آیا اور بیڈ کے پاس ہی زمین پر بیٹھ گیا۔
” کیا یہ اتنا ہی ناممکن ہے؟ کیا میں اس قابل نہیں کہ اُن کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ کیا میں اس لائق نہیں؟ “
کمرے کی کھڑکی سے اندر آتی مدہم سی چاند کی روشنی سیدھا اس چہرے پر پڑ رہی تھی۔ تب ہی ایک آنسو اس کی آنکھ سے نکل کر گال پر بہہ گیا۔
” اگر وہ میرے نصیب میں نہیں، اگر یہ اتنا ہی ناممکن ہے، تو پھر یہ محبت کیوں؟ نئی زندگی کا تصور کیوں؟ یہ تصورِ عشق کیوں؟ اللّٰه آخر کیوں؟ “
آنکھیں سختی سے میچ کر سر اپنے گھٹنوں سے ٹکا دیا۔ آخر تھا ہی کیا اس کے پاس کہ کچھ کھونے کی طاقت رکھتا۔ ایک بیمار باپ، تین دوست اور یکطرفہ محبت۔
۔*********۔
نوید گھر میں داخل ہوا تو پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا کہ تبھی بائیں ہاتھ پر بنے کمرے کی لائٹ جلتی نظر آئی۔ اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کرکے وہ بائیں ہاتھ پر بنے کمرے کی جانب مڑ گیا۔ ابھی دروازے پر ہاتھ ہی رکھا تھا کہ وہ کھلتا چلا گیا۔ نوید اندر بڑھا کہ سامنے ہی بیڈ پر وہ دشمن جاں بیٹھی نظر آئی۔ ڈھیلے ڈھالے کپڑوں پہنے، آنکھوں پر چشمہ لگائے وہ کوئی کتاب پڑھنے میں مشغول تھی۔
” تم پھر آگئیں؟ “
آواز کانوں میں پڑتے ہی صوبیہ نے سر اُٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا ساتھ ہی دھیرے سے مسکرائی۔
” مجھے اچھے سے معلوم ہے کہ مجھے اس گھر میں دیکھتے ہی آپ کے دل میں لڈو پھوٹنے لگتے ہیں۔” وہ بیڈ سے اُٹھی اور چلتی ہوئی عین اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
” اس لیے یہ اٹیٹیوڈ کسی اور کو دکھانا۔”
“صوبیہ میں ابھی مذاق کے موڈ میں نہیں۔” نوید جو پہلے ہی یوسف کی وجہ سے پریشان تھا۔ اس کی بات پر مزید چڑ گیا۔
” کیا ہوا ہے آپ کو؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ ” صوبیہ نے ایک دم پریشان ہو کر اس کا ماتھا چھوا۔
” بخار تو نہیں ہے پھر کیا ہوا ہے؟ ” اپنے لیے اس کی اتنی فکر دیکھ کر نوید ایک دم ڈھیلا پڑا اور جا کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ صوبیہ بھی اس کے ساتھ ہی بیڈ پر جا بیٹھی۔
” کیا ہوا ہے کچھ بتائیں گے بھی؟ “
” یوسف !! “
” ہاں !! یوسف بھائی کیا ہوا اُنہیں؟ ٹھیک تو ہیں؟ ” وہ الجھی۔
” دماغ خراب ہو گیا ہے اُس کا۔” نوید تھکے ہوئے انداز میں بولا۔
” کیوں کیا ہوا؟ کیا بات ہے مجھے بتائیں ہوسکتا ہے میں کوئی مدد کر دوں۔”
” جناب کو محبت ہوگی۔ بتاؤ اب تم اس میں کیا مدد کرسکتی ہو؟ ” نوید نے چہرہ موڑ کر اس کی طرف دیکھا جبکہ صوبیہ تو اس کی بات سن کر ہی خوشی سے چہک اُٹھی۔
” ارے تو اس میں اتنا منہ لٹکانے والی کیا بات ہے۔ آپ تو ایسے اداس ہو رہے ہیں جیسے آپ کی گرل فرینڈ آپ کو ریجکٹ کر کے کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی ہو۔” وہ ہنستے ہوئے بولی انداز صاف مذاق اُڑانے والا تھا۔
” تم سے تو بات ہی کرنا بیکار ہے۔” نوید مزید تپ اُٹھا۔
” اچھا سوری !! ویسے یہ تو اچھی بات ہے نا۔ آنٹی کے بعد ویسے بھی اُن کے گھر کو کسی عورت کی ضرورت ہے اور انکل اور یوسف بھائی کب تک اکیلے زندگی گزاریں گے۔” اب کہ صوبیہ سمجھاتے ہوئے بولی۔
” مسئلہ یہ نہیں ہے۔”
” پھر؟ “
” صوبیہ اُسے یونی میں ٹیچر سے محبت ہوگئی ہے۔”
” کیا؟ ” وہ اچھل کر بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ دونوں ہاتھ بے اختیار منہ پر رکھ لیے۔
” دل لگی کرنے کیلئے اُنہیں ٹیچر ہی ملی تھیں۔” وہ اب بھی شاکڈ تھی۔
“وہ دل لگی کرنے والا انسان نہیں۔ وہ بہت زیادہ مس جسمین کے معاملے میں سیریس ہے۔” نوید نے کہتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا یوسف کو کیسے روکے۔
” پھر بھی ٹیچر کے ساتھ۔” صوبیہ کہتے کہتے رکی۔
” وہ ہم سب سے ایک دو سال ہی بڑی ہوں گی۔ پچھلے سال ہی پڑھائی مکمل کی ہے۔ سر جمال کی اسٹوڈنٹ تھیں۔ اس لیے سر نے اپنی جگہ بلا لیا۔” اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے نوید نے تفصیل بتائی۔
” اوہ !! پھر کیا پرابلم ہے؟ “
” پرابلم یہ ہے کہ وہ ٹیچر ہیں اور پھر اُن کے اور ہمارے اسٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں نہیں چاہتا یوسف کا دل ٹوٹے۔” اس نے اب اصل وجہ بتائی۔ جسے سمجھتے ہوئے صوبیہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
” دیکھیں نوید !! جو دکھ قسمت میں ہوں وہ تو آنے ہی ہیں کوئی روک نہیں سکتا سوائے اللّٰه کی ذات کے۔ ہو سکتا ہے یہ محبت نہیں بلکہ آزمائش ہو؟ “
” آزمائش؟ ” نوید نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔ صوبیہ واپس اس کے برابر آ بیٹھی۔
” اللّٰه تعالیٰ آزماتے ہیں انسانوں کی محبت دل میں ڈال کر پھر اُن کے چہرے دکھا کر۔۔۔ پھر پوچھتے ہیں کہ کون ہے تیرا میرے سوا؟
اور پھر اُس وقت ہر انسان کی محبت دل سے نکل کر وہاں صرف اللّٰه کی محبت رہ جاتی ہے۔ اس لیے آپ پریشان نہ ہوں۔ اللّٰه انسان کی ہمت سے زیادہ اُسے نہیں آزماتا۔” نوید اس کی بات پر یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ مسکرا دی۔
” اور اگر یہ آزمائش نہیں ہوئی تو؟ “
” تو پھر جس نے دل میں محبت ڈالی ہے۔ وہ ملا بھی دے گا۔ بس دعا کریں۔ کیونکہ انسان دل کے معاملے میں بےبس ہوتا ہے۔ دعا کے علاوہ ہم کچھ اور کر بھی نہیں سکتے۔” اس نے کہتے ہوئے انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ کیا۔
نوید نے ایک نظر اوپر کی طرف دیکھا پھر اس کی انگلی کو۔ ہاتھ بڑھا کر دھیرے سے اس کی انگلی تھام لی۔
” لگتا ہے اب خالہ سے بات کرنی پڑے گی؟ “
“خالہ سے بات کمرے سے جانے کے بعد کرے گا۔ جائیں۔” مسکرا کر کہتی وہ اُٹھی ساتھ ہی نوید کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ سے اُٹھایا۔
” شرم کرو ہونے والے شوہر کو کمرے سے نکال رہی ہو۔” نوید ہنستے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔
” شرم میں شادی کے بعد کروں گی فی الحال میں بےشرم ہی ٹھیک ہوں۔” کمرے سے نکال کر وہ اس کے منہ پر دروازہ بند کر چکی تھی۔ جبکہ نوید مسکرا کر بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ صوبیہ سے بات کرنے کے بعد وہ اب خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔
۔*********۔
صبح کے آغاز کے ساتھ ہی یونیورسٹی میں ہلچل مچ چکی تھی۔ ایسے میں اکاؤنٹس کی کلاس میں بیٹھے وہ سب ابھی Assets اور liabilities کے درمیان میں پھنسی اپنی کشتیوں کو نکالنے کی کوشش ہی کر رہے تھے کہ سر ساجد کا پیریڈ آف ہوگیا۔ اگلا پیریڈ فری تھا۔ اس لیے وہ چاروں کلاس سے باہر نکل آئے۔
” چلو فٹبال گراؤنڈ چلتے ہیں۔”
” ہاں ٹھیک ہے۔” حذیفہ کے کہنے پر وہ تینوں ہامی بھرتے فٹبال گراؤنڈ کی طرف بڑھ گئے۔
دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتا یوسف ان تینوں کے پیچھے چل رہا تھا کہ تبھی اس کی نظر کوریڈور میں کھڑی جسمین پر پڑی۔ سیاہ شلوار قمیض پر ہم رنگ دوپٹہ لیے، بھوری کام دار چادر کو اپنے گرد لپیٹے، باوقار سی مس جسمین تمام اسٹوڈنٹس کے درمیان بھی الگ ہی نمایاں ہو رہی تھیں۔
ابھی وہ اپنے سامنے موجود اسٹوڈنٹس کو کچھ سمجھا ہی رہی تھی جب خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرکے چہرہ بائیں جانب موڑا۔
یوسف نے فوراً منہ پھیر لیا ساتھ ہی تیز تیز قدم بڑھاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ جبکہ اس کا منہ پھیرنا جسمین کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوا تھا۔ وہ حیرت سے اسے جاتے دیکھنے لگی۔ یوسف تو کبھی کلاس میں بھی اس پر سے نظریں نہیں ہٹاتا تھا اور آج یوں منہ پھیر جانا۔
” خیر !! اچھا ہی ہے۔”
اس نے سوچتے ہوئے سر جھٹکا اور واپس اسٹوڈنٹس کی طرف متوجہ ہوگئی۔ مگر دل کے کسی کونے میں کچھ ٹوٹا ضرور تھا۔
۔*********۔
” جہانگیر ملک تم ہمارے بیٹے کو انکار کر رہے ہو؟ “
بیٹھک میں موجود وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے تھے جب دلدار خان نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا۔
” دیکھو دلدار خان !! اب معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں تمہارے بیٹے کے کرتوتوں سے بلاج واقف ہے۔ اب ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتے۔”
جہانگیر ملک نے معاملہ ٹھنڈا رکھنے کیلئے سادہ سے لہجے میں جواب دیا۔ مگر شاید دلدار خان لڑنے کی نیت سے ہی آئے تھے کہ فوراً بھڑک اٹھے۔
” کیا مطلب ہے تمہارا کرتوتوں سے؟ یہ کوئی اتنی بڑی بات بھی نہیں۔ کیا اپنے دونوں بڑے بیٹوں کی عیاشیوں سے واقف نہیں تم؟ “
” تم اب اپنی حد سے آگے بڑھ رہے ہو دلدار خان۔” وہ بھی جواباً دھاڑے۔
” واہ جہانگیر ملک واہ !! اپنے بیٹوں کی بات آئی تو تمہیں حد یاد آگئی۔ میری ایک بات یاد رکھنا۔ میں اتنی آسانی سے بھولوں گا نہیں۔ اپنی بے عزتی کا بدلہ لے کر رہوں گا۔”
دلدار خان پھنکار کر کہتے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر وہ وہاں سے نکلتے چلے گئے۔
” ہنہہ !! دیکھ لوں گا میں بھی۔ کچی گولیاں تو میں نے بھی نہیں کھیلیں۔”
زیرلب گالی دیتے بڑبڑائے اور اُٹھ کر باہر حویلی کی جانب بڑھ گئے۔ آنکھوں میں سوچ کے سائے لہرا رہے تھے۔
