Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 04)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 04)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
تیز رفتاری کے سارے ریکارڈ توڑتا ہوا آج یوسف وقت سے پہلے ہی یونیورسٹی پہنچ چکا تھا۔ پارکنگ ایریا میں بائیک کھڑی کر کے وہ وہیں کھڑا انتظار کرنے لگا۔ جب ایک بلیک مرسیڈیز عین اس کے سامنے آ رکی۔ ڈرائیور نے گاڑی سے نکل کر فوراً پچھلی نشست کا دروازہ کھولا۔ جہاں سے وہ بھورے رنگ کی فراک کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ میں ملبوس، بلیک شال اپنے گرد لپیٹے باوقار سی گاڑی سے باہر نکلی۔
یوسف جو یک ٹک گاڑی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جسمین کے باہر نکلتے ہی نظریں نیچے جھکا لیں۔ تاکہ دل میں چھپا چور آنکھوں سے عیاں نہ ہوجائے۔
جسمین نے ایک نگاہ نظریں جھکائے یوسف پر ڈالی اور اسے نظر انداز کرتی آگے بڑھ گئی۔
” کیا کھڑا گھور رہا ہے؟ نکل۔” ڈرائیور کی نظر خود پر دیکھ کر یوسف آنکھیں دکھاتا ہوا بولا۔ جس پر ڈرائیور مزید سخت گھوری سے نوازتا واپس گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا۔ اس کے جاتے ہی یوسف نے اسٹاف روم کی طرف دوڑ لگا دی۔
اسٹاف روم کے دروازے کے سامنے پہنچ کر اس نے جھجکتے ہوئے دروازہ کھولا سامنے ہی جسمین اپنے سامنے کھڑے لڑکے کو لسٹ دیتی ہوئی نظر آئی۔
” یہ لسٹ جا کر نوٹس بورڈ پر لگا دیں۔”
” یس مس۔”
وہ تابعداری سے کہتا فوراً وہاں سے نکل گیا۔ اس کے جاتے ہی یوسف چلتا ہوا جسمین کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ جو مکمل طور پر اسے نظر انداز کیے کام کرنے میں لگی تھی۔
” میں۔۔۔ وہ میں اُس دن کے رویے کیلئے معافی مانگنے آیا ہوں۔” وہ جھجکتے ہوئے گویا ہوا۔
” میں کوئی امیر باپ کی اولاد نہیں ہوں۔ اس لئے جب آپ نے۔۔۔”
” مسٹر یوسف حیدر آپ جا سکتے ہیں۔ میں اس وقت مصروف ہوں۔” جسمین اس کی بات کاٹ کر مصروف سے انداز میں بولی۔
یوسف نے اپنے لب بھینچ لیے۔ غصّے کی ایک شدید لہر اس کے جسم میں دوڑی تھی۔ ایک بار پھر وہ اسے سنے بغیر جانے کو کہہ رہی تھی۔ جسمین آج بھی وہی تھی مگر یوسف اب وہ یوسف نہیں تھا۔
” ایم سوری !! میں اُس دن کیلئے شرمندہ ہوں۔”
جسمین نے حیران کن نظروں سے اسے دیکھا۔ یہ وہی یوسف تھا۔ جس نے کلاس میں بدتمیزی کرنے بعد معافی مانگنا تک ضروری نہیں سمجھا تھا۔ یہ وہی یوسف تھا۔ جو فٹبال گراؤنڈ میں بال مارنے کے بعد شرمندہ تک نہیں ہوا تھا۔ لیکن آج اس کے سامنے نظریں جھکائے شرمندہ کھڑا معافی مانگ رہا تھا۔ دل میں آیا کہ معاف کر دے۔ غربت تو قتلِ عام تک کروا دیتی ہے۔ مگر۔۔۔ مگر وہ دن ذہن کے پردے پر آتے ہی دل میں اُٹھتی رحم دلی دم توڑ گئی۔
” آپ جا سکتے ہیں مسٹر سید یوسف حیدر !! ” جسمین روکھے لہجے میں بولی ساتھ ہی ایک ہاتھ سے دروازے کی طرف اشارہ کر دیا۔
یوسف نے نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا کیا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں میں، ملال ، شکوہ ، شرمندگی اور۔۔۔ اور کچھ ایسا کہ جسمین اپنی جگہ ساکت رہ گئی۔
یوسف خاموشی سے دروازے کی جانب بڑھ گیا جب پیچھے سے اسے جسمین کی آواز سنائی دی۔
” اپنے نام کے ساتھ سید لگاتے ہیں نا مسٹر یوسف تو اس نام کا ہی لحاظ کر لیں۔ آئندہ غصّے میں بھی کسی لڑکی پر ہاتھ نہیں اُٹھائے گا۔ اپنے غصّے پر قابو پانا سیکھیں۔”
” صرف نام کا نہیں اب تو بہت سی چیزوں کا لحاظ رکھنا ہے مس۔۔۔ جسمین۔” آخر میں اس کے نام پر زور دیتے وہ مڑے بغیر بولا اور سیدھا اسٹاف روم سے باہر نکل گیا۔
جبکہ وہ وہیں ساکت کھڑی بند دروازے کو دیکھ رہ گئی۔
” یہ سب کیا تھا؟ “
۔*********۔
وہ باہر نکل کر تیزی سے کلاس کی جانب بڑھ رہا تھا جب نوٹس بورڈ کے سامنے اسے اسٹوڈنٹس کا جھنڈ نظر آیا۔ وہیں وہ تینوں بھی ساکت کھڑے آنکھیں پھاڑے بورڈ کی جانب دیکھ رہے تھے۔ وہ چلتا ہوا ان کے پاس آ گیا۔
” کیا ہو رہا ہے؟ “
” ابے تو یہاں کیسے؟ ” حذیفہ اور جنید نے اسے دیکھ کر حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔ البتہ نوید نے چہرہ دوسری جانب موڑ لیا۔
” کیا مطلب یہاں کیسے؟ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں یہاں پڑھتا ہوں۔” یوسف ماتھے پر بل ڈال کر بولا۔
” واہ !! یہ آج ہو کیا رہا ہے۔ سورج مشرق سے ہی نکلا ہے نا۔” حذیفہ نے کہتے ہوئے اس کے گلے میں ہاتھ ڈالا جبکہ یوسف ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
” کیا مطلب؟ میں سمجھا نہیں۔”
” بھئی یہ دیکھ لسٹ میں سب سے پہلے تیرا نام ہے۔ مس جسمین نے تجھے فیل نہیں کیا۔” حذیفہ نے بورڈ کی طرف اشارہ کیا۔
” اور تو اور آج تو بھی یونی آ گیا ورنہ اتنے دنوں سے شکل تک نہیں دکھا رہا تھا۔”
اب کے جنید بولا۔ جسے یوسف نے سنا ہی نہیں اس کی نظریں تو بورڈ پر تھیں جہاں سب سے پہلا نام یوسف حیدر کا تھا۔ شرمندگی میں کچھ مزید اضافہ ہوا۔ ضمیر نے تھوڑا اور ملامت کیا۔ یوسف ہاتھوں کی مٹھی سختی سے بھینچ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ وہ دونوں اسے پیچھے سے آوازیں ہی دیتے رہ گئے۔ البتہ نوید مسکرا دیا تھا۔ یوسف کی حالت کو اچھے سے جو سمجھ گیا تھا۔
۔*********۔
کلاس لینے کے بعد جسمین نے ڈرائیور کو کال کر کے واپس بلا لیا تھا۔ یوسف کی باتوں سے اس کو بے چینی ہو رہی تھی اور اُس کی آنکھیں۔۔۔
جسمین کوئی بچی نہیں تھی جو مرد کی نظر کو نہ پہچان پاتی۔ یوسف کی آنکھوں میں سر اُٹھاتے جزبوں کو دیکھ چکی تھی پر پھر بھی نہ جانے کیوں جھٹلانے میں لگی تھی۔
” یہ سب میرا وہم بھی ہو سکتا ہے۔ میں اُس سے عمر میں بڑی ہوں بھلے ایک دو سال سہی پر بڑی تو ہوں اور پھر سب سے بڑھ کر ٹیچر ہوں اُس کی پھر وہ کیوں سوچے گا ایسا؟ ہاں شاید مجھے ہی کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔” گاڑی کے شیشے کے پار دیکھتی وہ سوچوں میں گم تھی کہ تبھی ڈرائیور کی آواز پر چونکی۔
” جسمین بی بی گھر آ گیا۔ آپ یہیں اُتر جائیں۔ مجھے ملک سائیں نے بلایا ہے۔” وہ گاڑی بیرونی دروازے کے سامنے روکتے ہوئے گویا ہوا۔
” اچھا ٹھیک ہے۔”
جسمین نے کہتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اُتر کر آگے کی طرف بڑھ گئی۔ جہاں دروازے پر کھڑے رشید میاں پہلے سے اس کے لیے دروازہ کھولے کھڑے تھے۔
۔*********۔
” بابا سائیں آپ نے بلاج کو درمیان میں کیوں گھسیٹا؟ آپ بس ایک حکم کرتے اور جسمین خاموشی سے شیراز سے شادی کیلئے تیار ہو جاتی۔” دلاور اور خاور اس وقت جہانگیر ملک کے ساتھ بیٹھک میں موجود تھے جب دلاور غصّے سے گویا ہوا۔
” اگر میں اُسے درمیان میں نہیں لاتا تو وہ یہ خبر سنتے ہی کوئی نہ کوئی ہنگامہ کھڑا کر دیتا۔ اس لیے پہلے رشتے کی بات بلاج سے کی۔ پتا تو ہے جسمین کے معاملے میں کتنا جزباتی ہے وہ۔” جہانگیر ملک نے حقے سے کش لیتے ہوئے کہا۔
” جسمین ہماری بھی بہن ہے۔ ہم اُس کا بُرا نہیں چاہتے۔” دلاور ناگواری سے بولا اور کسی حد تک سچ بھی تھا۔ محبت تو دلاور اور خاور کو بھی جسمین سے تھی پر ان کی سخت مزاجی اور سوچ کبھی اس بات کو ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔
” دلاور بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ مگر بابا سائیں کی شے ملنے پر ہی بلاج اتنا سر پر چڑھا ہے۔” خاور نے کہتے ہوئے سامنے صوفے پر بیٹھے جہانگیر ملک کو دیکھا جو سوچوں میں گم دکھائی دے رہے تھے۔
” اب تم لوگ پھر سے مت شروع ہو جاؤ۔ ویسے بھی آخری فیصلہ ہمارا ہی ہوگا۔” جہانگیر ملک دوٹوک لہجے میں کہہ کر وہاں سے چلے گئے۔ جبکہ وہ دونوں وہیں بیٹھے پارٹی کے متعلق باتوں میں مصروف ہو چکے تھے۔
۔*********۔
نوید گھر میں داخل ہوا تو سامنے ہی نورین بیگم صوفے پر بیٹھی نظر آئیں۔ جو پوری توجہ کے ساتھ ٹی وی پر ترکش ڈرامہ دیکھنے میں مگن تھیں۔
” السلام علیکم !! “
” وعلیکم السلام !! “
نورین بیگم کے بجائے جواب کچن کے دروازے سے باہر آتی صوبیہ نے دیا۔
” یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟ ” نوید نے صوفے پر جگہ سنبھالتے ہوئے ماں سے پوچھا۔ جو ابھی بھی ٹی وی دیکھنے میں مگن تھیں۔
” کیا مطلب ہے میں یہاں کیا کر رہی ہوں۔ یہ میری خالہ کا گھر ہے جب چاہے آسکتی ہوں۔” ہاتھ میں پکڑی چائے کی ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ منہ بنا کر بولی۔
” یہ صرف خالہ کا گھر نہیں تمہارا ہونے والا سسرال بھی ہے۔ اب شادی سے پہلے ہر وقت منہ اُٹھا کر ادھر نہیں آجائے کرو۔” نوید کی بات صوبیہ کے سر پر لگی تلوں پر بجھی۔
” دیکھ رہی ہیں خالہ انہیں۔”
” او ہو !! لڑوں نہیں اور صوبیہ جاؤ جا کر اس کیلئے کھانا گرم کرو۔” نورین بیگم کے کہتے ہی نوید نے جلا دینے والی مسکراہٹ اس کی طرف اُچھالی جس پر وہ منہ بنا کر اُٹھی اور کچن کی جانب بڑھ گئی۔
” چلی گئی وہ تم بھی جاؤ اور ہاتھ منہ دھو کر کھانے کیلئے آجاؤ۔” وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولیں۔ جس پر وہ شرمندہ ہوتا ” جی اچھا ” کہہ کر کمرے کی طرف چل دیا جبکہ ایک بار پھر نورین بیگم پورے انہماک کے ساتھ ٹی وی دیکھنے میں مگن ہو چکی تھیں۔
۔*********۔
چار پائی بچھائے وہ چھت پر لیٹا بظاہر آسمان پر نظر آتے تاروں کو دیکھ رہا تھا۔ مگر سوچوں کے تانے بانے کہیں اور جوڑے تھے۔
” جسمین نے مجھے پاس کر دیا۔ پر کیسے؟ کیا وہ مجھ سے ناراض نہیں؟ پر آج تو اُن کا رویہ بتا رہا تھا کہ وہ سخت خفا ہیں۔” دائیں پاؤں کو ہلاتا وہ آج کے رویہ پر غور کرنے لگا۔ پہلے دن سے اب تک جسمین کی ہر ایک ایک بات کو ذہن میں دوہراتے ہوئے یوسف دھیرے سے مسکرا دیا۔
” تو میڈم صرف دھمکیاں دیتی ہیں ان پر عمل نہیں کرتیں۔ اچھی بات ہے۔ جلد ہی آپ کی ناراضگی بھی دور کر دینگے۔”
مسکرا کر سوچتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس بات سے بےخبر کل کا دن اس کیلئے کس قدر شرمندگی کا باعث بنے والا ہے۔
۔*********۔
پوری کلاس میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ ایک دوسرے کو دھکیلتے وہ سیٹوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔ جب تیزی سے چلتے ہوئے وہ کلاس کے اندر داخل ہوئی۔
” سیٹ ڈاؤن کلاس !! ” رعب دار آواز کے ساتھ ہی کلاس میں سناٹا چھا گیا تھا۔
سب خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھے اسے دیکھ رہے تھے۔ ایک نظر سب پر ڈال کر وہ ڈائس پر جا کھڑی ہوئی جب ایک مردانہ آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
” مے آئے کم ان؟ “
ہمیشہ کی طرح اپنے سادہ مگر پُرکشش حلیے میں دروازے پر کھڑا یوسف کلاس میں آنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔
” آپ لیٹ ہیں مسٹر یوسف۔” جسمیں سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی۔
” مس جسمین وہ۔۔۔”
” کلاس سے باہر کھڑے رہیں تاکہ سب کو پتا چلے وقت کی پابندی نہ کرنے کا انجام کیا ہے۔”
جسمین کی بات پر سب اسٹوڈنٹس دروازے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے۔ پہلی دفعہ تھا کسی ٹیچر نے یوں یوسف کو باہر کھڑے رکھا تھا۔
خود پر سب کی نظریں محسوس کرتا اس نے چہرہ نیچے جھکا لیا۔ بُرا تو بہت لگا تھا پر ضبط کر گیا۔ باقی کا پیریڈ بھی یوں ہی باہر کھڑے اٹینڈ کیا۔
کلاس ختم ہوئی تو جسمین ایک نظر اس پر ڈال کر اسٹاف روم کی جانب بڑھی جب یوسف نے بھی اپنے قدم اس کے پیچھے بڑھا دیئے۔
” اچھا طریقہ ہے بدلہ لینے کا۔”
” سوری؟ ” وہ پیچھے مڑی ساتھ ہی الجھن بھری نظروں سے یوسف کو دیکھا جو اس کے ساتھ ہی رک گیا تھا اور اب مسکراہٹ چہرے پر سجائے آتے جاتے اسٹوڈنٹس کو دیکھ رہا تھا۔
” اسٹاف روم والی بات کا اچھے سے بدلہ لیا ہے آج آپ نے۔” اب کے یوسف نے اس کی طرف دیکھ کر جواب دیا جس پر جسمین کی بھنویں بھینچ گئیں۔
” وہ بدلہ نہیں پنشمنٹ تھی۔” وہ جتا کر بولی۔
” چلیں اب آپ بدلے کو پنشمنٹ کا نام دے دیں ہمیں وہ بھی منظور ہے۔” یوسف مسکرایا۔ جبکہ جسمین ٹھٹھک کر اسے دیکھنے لگی۔
” آج غصّہ نہیں آرہا؟ ” یوسف کی آنکھوں میں اُبھرتے جزبے کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
” آیا تھا بہت آیا تھا پر۔۔۔” وہ رکا اور سر نیچے جھکا لیا۔ جسمین کو سمجھ نہ آیا وہ زمین کو دیکھ رہا ہے یا اپنی مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
” پر؟ ” جسمین نے مزید بولنے پر اکسایا۔
” پر کسی نے کہا تھا غصّے پر قابو پانا سکھو۔ بس وہ ہی کر رہا ہوں۔” یوسف نے جیسے ہی سر اُٹھا کر کہا۔ جسمین فوراً نظریں جھکا گئی۔ مزید اس کی آنکھوں میں دیکھنا برداشت سے باہر تھا۔
مزید کچھ بھی بولے وہ مڑ کر تیزی سے نکل گئی۔ جبکہ یوسف وہیں کھڑا مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگی۔
” کیا ایسے کیا دیکھ رہا ہے نکل آگے۔” پاس سے گزرتے لڑکے کے سر پر چپت لگاتا اسے گھورتے ہوئے کینٹین کی جانب بڑھ گیا۔
” مجھے نکلنے کا بول کر خود ہی نکل گیا۔”
