Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq (Episode 06)

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

” یار یہ مس جسمین بیچارے یوسف کے ہاتھ دھو کر پیچھے کیوں پڑ گئی ہیں؟ “

جنید اور حذیفہ اس وقت نوید کے گھر موجود تھے۔ جب جنید شان سے صوفے پر بیٹھتا ٹی وی کا ریموٹ سنبھالتے ہوئے بولا۔

” اب ایسا بھی نہیں ہے۔ لیکچر کے دوران یوسف کے چلانے کی وجہ سے مس جسمین نے اُسے باہر نکالا تھا۔” نوید نے جسمین کی سائڈ لیتے ہوئے کہا۔

” اور یوسف چلایا کس کی وجہ سے تھا؟ ” حذیفہ اور جنید دونوں نے اسے گھور کر دیکھا۔

” ہاں تو مجھے کیا معلوم تھا وہ لیکچر سننے میں اتنا مگن ہے کہ میرے بلانے پر چلا اُٹھے گا۔”

جو کچھ سیکنڈز پہلے جسمین کی حمایت میں بول رہا تھا اب اپنا دفاع کرنے لگا۔

” وہ لیکچر سننے میں مگن نہیں تھا۔ وہ لیکچر دینے والی میں مگن تھا۔”

جنید کی بات حذیفہ اور نوید نے چونک کر اسے دیکھا۔ جبکہ جنید نے ٹانگیں پھیلا کر سامنے ٹیبل پر رکھیں اور مزید صوفے پر پھیل کر بیٹھ گیا۔

” کیا مطلب ہے تیرا؟ ” دائیں طرف بیٹھے حذیفہ نے جنید کا گریبان پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی جانب کیا۔

” تم دونوں نے شاید نوٹ نہیں کیا پر میں نے کئیں مرتبہ دیکھا ہے۔”

” کیا؟ ” دونوں اشتیاق سے ایک ساتھ بولے۔

” ہٹلر کی نانی (جسمین) کو دیکھتے ہی اپنے بال ایسے سنوارنے لگ جاتا ہے جیسے وہ سیدھا یوسف کے پاس آکر اُس کی وجاہت کے قصیدے پڑھیں گی۔” اس نے کہتے ہوئے یوسف کی طرح اپنے بال پیچھے کیے۔

” اُن کا نام سنتے ہی ایک مسکراہٹ چہرے پر آ جاتی ہے جسے وہ فوراً چھپا جاتا ہے تاکہ کوئی دیکھ نہ لے پر میری زیرک نگاہوں نے سب دیکھ لیا۔”

” بکواس مت کر۔”

اس کی ناٹنکی پر حذیفہ نے بدمزہ ہوتے ہوئے اس کا گریبان چھوڑا۔ جب کے نوید کا دل کر رہا تھا ایک مکا مار کر اس کا جبڑا توڑ دے۔

” بکواس نہیں ہے یہ نوٹ کر لینا آج کل اُس کی حرکتیں ایسے ہی مشکوک ہو گئی ہیں۔”

” کس کی حرکتیں مشکوک ہو گئیں؟ “

پیچھے سے آتی آواز پر تینوں نے چہرہ موڑ کر دیکھا جہاں نورین بیگم ہاتھ میں چائے کی ٹرے لیے کھڑی تھیں ساتھ سینڈوچ بھی موجود تھے۔

” کچھ نہیں امی بکواس کر رہا ہے۔” نوید صوفے سے اُٹھا اور آگے بڑھ کر نورین بیگم کے ہاتھ سے ٹرے تھام لی۔

” بکواس !! میں بکواس نہیں کر رہا جلد ہی سب کو پتا چل جائے گا یوسف میاں کتنے پانی میں ہیں اور۔۔۔”

وہ بول ہی رہا تھا جب حذیفہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر منہ بند کر دیا۔ نورین بیگم بھنویں اچکائے دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔

” یہ کیا بول رہا ہے؟ “

” آہ !! آج اس نے ضرورت سے زیادہ پڑھ لیا نا تو ہضم نہیں ہو رہا اس لیے بکواس کر رہا ہے۔ آپ جائیں جاکر کام کریں۔” نوید نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور انہیں شانوں سے تھام کر باہر لے گیا تاکہ جنید کوئی اور بکواس ان کے سامنے نہ کر دے۔ ان کے جاتے ہی صوفے پر مکوں اور تھپڑوں کی جنگ چھڑ چکی تھی۔ جس میں جیت حذیفہ کی ہی ہوئی تھی۔

” سالہ !! “

۔*********۔

کمرے میں بیڈ پر لیٹا وہ غصّے سے کھول رہا تھا۔ کس طرح خود پر قابو پا کر وہ اسٹاف روم سے نکلا تھا۔ یہ بس یوسف ہی جانتا تھا۔

” جتنا میں اپنے غصّے پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہوں اتنا ہی مجھے آزما رہی ہیں۔” وہ بڑبڑاتا ہوا بیڈ سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

” ایک تو یہ گھر کے کام پتا نہیں عورتیں کیسے کر لیتی ہیں۔”

خود سے کہتا ابھی وہ کچن کی طرف بڑھا ہی تھا کہ حیدر صاحب کے کمرے سے آوازیں آنے لگیں۔ وہ تیزی سے ان کے کمرے کی جانب بڑھا۔

” ابو !! ابو کیا ہوا ہے؟ سنبھالیں خود کو۔”

یوسف تیزی سے حیدر صاحب کی طرف بڑھا جو سینے پر ہاتھ رکھے بمشکل الماری کا سہارا لیے کھڑے تھے۔ تکلیف کے اثار چہرے پر واضح طور پر محسوس کیے جاسکتے تھے۔

” آپ ادھر بیٹھیں میں راشد کو بلاتا ہوں۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہم ہسپتال چلتے ہیں۔” حیدر صاحب کو بیڈ پر بیٹھاتا وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔

حیدر صاحب نم آنکھوں سے اسے جاتے دیکھنے لگے وقت کے ساتھ ساتھ یوسف کیلئے ان کی فکر بڑھتی جارہی تھی۔ سب سے زیادہ فکر انہیں یوسف کی تنہائی کی تھی۔ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اس کا ہنستا بستا گھر دیکھنا چاہتے تھے۔ تاکہ اس بات کا یقین ہو کہ ان کے بعد ان کا بیٹا تنہا نہیں رہے گا کوئی ہوگا جو اس کے دکھ درد میں شامل ہو گا۔ اس کی خوشیوں کا شریک ہو گا۔ پر وہ نہیں جانتے تھے آنے والے وقت میں تنہائی کا ایک طویل عرصہ ان کے بیٹے کا مقدر بنے والا ہے۔

۔*********۔

” سالے ہمیں بتا نہیں سکتا تھا انکل کی طبیعت خراب ہے؟ اگر میں تجھے فون نہیں کرتا تو اب بھی ہمیں پتا نہیں چلتا۔” نوید غصّے سے یوسف کا گریبان تھامے غرایا۔

تھوڑی دیر پہلے ہی نوید نے یوسف کو کال کری تھی جس پر یوسف نے روتے ہوئے حیدر صاحب کی طبیعت سے لے کر ہسپتال آنے تک کی ساری بات اس کے گوش گزار کردی تھی۔ جسے سنتے ہی وہ تینوں دوڑے چلے آئے تھے۔

” مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کیا کروں ڈاکٹر کا کہنا ہے ابو کو میجر اٹیک ہوا ہے اور اور۔۔۔”

مزید کچھ کہنا مشکل ہو گیا وہ روتے ہوئے سیدھا نوید کے گلے سے لگ گیا۔ پیچھے کھڑے جنید اور حذیفہ کی آنکھیں بھی نم ہوگئی تھیں۔

” اکیلے لایا ہے انکل کو؟ ” حذیفہ نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔

” نہیں راشد تھا ساتھ ابھی کسی کام سے اپنے گھر گیا ہے۔” یوسف کہتے ہوئے نوید سے الگ ہوا اور بہتی آنکھوں سے آپریشن تھیٹر کے بند دروازے کو دیکھنے لگا۔

” فکر نہیں کر انکل بالکل ٹھیک ہو جائیں گے تو بس دعا کر، چل ہم دونوں چل کر نماز پڑھتے ہیں۔ جنید اور حذیفہ ہیں انکل کے پاس چل۔”

” ہاں یوسی تو جا ہم دونوں ہیں یہاں پر جیسے ہی کوئی خبر ملے گی فوراً تجھے فون کردیں گے۔” جنید بھی نوید کی ہاں میں ہاں ملاتا بولا۔

” چل میرے ساتھ۔”

نوید اُسے زبردستی کھینچتے ہوئے ہسپتال سے باہر لے گیا۔ یوسف کو یوں روتا دیکھنا ان تینوں کی برداشت سے باہر تھا اب بس یہ ایک ہی طریقہ تھا جس سے یوسف کو سنبھالا جا سکتا تھا۔

بے شک اُس رب کے آگے جھکنے میں ہی سکون ہے۔ جس کے آگے جھک کر انسان ہارتا نہیں بلکہ جیت جاتا ہے۔

۔*********۔

جہانگیر ملک اس وقت غصّے سے بھپرے بیٹھک میں موجود تھے۔ سامنے ہی کرسیوں پر دلاور اور خاور بیٹھے تھے۔ تھوڑی دیر پہلے ہی وہ تینوں زمینوں پر سے واپس لوٹے تھے۔ اس دوران ہی جہانگیر ملک نے بلاج اور شیراز کے خلاف سارے ثبوتوں کا بتا دیا تھا۔ جس کے بعد خاور اور دلاور کا غصّہ بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

” یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ مرد کے شادی سے پہلے ایسے تعلقات عام بات ہے ایک بار جسمین کی شادی شیراز سے ہوجاتی تو وہ سب چھوڑ دیتا بابا سائیں۔ آپ کو اس معاملے میں بلاج کو بیچ میں نہیں لانا چاہیئے تھا بلکہ فیصلہ سنانا چاہیئے تھا۔” دلاور غصّے سے بھپرا گویا ہوا۔

” ہمیں کیا معلوم تھا وہ یوں اُس شیراز کا اعمال نامہ ہمارے منہ پر دے مارے گا۔” غصّے سے کہتے وہ سگار سے کشش لینے لگے۔

” اس سے ہماری پارٹی کو کتنا نقصان پہنچے گا۔ دلدار خان لوگوں کو بھڑکا کر اپنی پارٹی کے حق میں استعمال کرے گا اور ہم بس ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔” خاور جہانگیر ملک کے غصّے کو اور ہوا دیتے ہوئے بولا۔

” ہم ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے۔ دلدار خان کو خود پر کبھی حاوی نہیں ہونے دیں گے۔” وہ غرائے۔

دلاور نے ایک نظر خاور کو دیکھا اور گلا کھنگار کر آگے کو جھکا۔

” میں تو کہتا ہوں بابا سائیں۔ آپ کو بلاج کی سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ جسمین کا رشتہ شیراز سے طے کر ہی دیں۔”

” یہ کیا بولا رہے ہیں دلاور بھائی ہوش میں ہیں؟ ” خاور حیرت سے اسے دیکھنے لگا جبکہ جہانگیر ملک بھڑک اٹھے۔

” ہاں!! دماغ درست ہے تمہارا؟ بلاج کو معلوم ہوا تو گھر میں طوفان کھڑا کر دے گا۔ یہ اب ناممکن بات ہے۔ جسمین کی شادی اب کبھی دلدار خان کے بیٹے سے نہیں ہوسکتی۔”

” پر بابا سائیں۔۔۔”

” بس جاؤ اب یہاں سے ہم کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتے ہیں۔” دلاور کی بات کاٹتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ مزید اس موضوع پر بحث بیکار تھی۔

وہ اچھے سے جانتے تھے۔ جسمین کے معاملے میں بلاج کسی بھی حد تک گزر جانے والا انسان تھا۔ اُس کی دنیا ماں بہن کے گرد ہی گھومتی تھی۔ جن کیلئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔

۔*********۔

بلاج آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا تو سامنے ہی دو لڑکے بےچینی سے آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے نظر آئے۔ ان میں وہ لڑکا نہیں تھا۔ جو مریض کو یہاں لے کر آیا تھا۔

بلاج ان پر ایک نظر ڈالتا آگے بڑھنے لگا تھا کہ تبھی ان میں سے ایک لڑکا اس کے پاس آیا۔

” ڈاکٹر اب کیسے ہیں حیدر انکل؟ ” جنید نے بیتابی سے پوچھا۔

” آپ کون اور وہ کہاں ہیں جو پیشنٹ کے ساتھ آئے تھے؟ ” پلٹ کر سوال کیا گیا۔

” جی وہ۔۔۔”

جنید بول ہی رہا تھا جب تیزی سے یوسف بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا پیچھے ہی نوید بھی تھا۔

” ڈاکٹر کیسے ہیں میرے ابو وہ ٹھیک تو ہیں نا بولیں کچھ ہوا تو نہیں؟ “

کس قدر بیتابی سے وہ پوچھ رہا تھا۔ بلاج کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔

” ینگ مین !! آپ کے فادر بالکل ٹھیک ہیں۔ بس طبیعت دوبارہ نہ بگڑے اس لیے احتیاط کرنی پڑے گی۔”

” مبارک ہو یوسف !! ” تینوں خوشی سے یوسف سے لپٹ چکے تھے۔

بلاج مسکرا کر انہیں دیکھنے لگا۔ ایک خواہش دل میں جاگی تھی۔ جس کا ممکن ہونا ناممکن تھا۔

” ڈاکٹر میں ابو سے مل سکتا ہوں؟ “

یوسف واپس بلاج کی طرف متوجہ ہوا۔ جس پر بلاج بھی اپنی سوچوں سے باہر نکل آیا۔

” نہیں ابھی نہیں پیشنٹ کو میجر اٹیک پڑا تھا اس لیے ابھی اُنہیں ” آئی سی یو ” میں انڈر آبزرویشن رکھیں گے اُس کے بعد وارڈ میں شفٹ کر دینگے۔”

یوسف کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیشہ ورانہ انداز میں کہتا بلاج وہاں سے فوراً چلا گیا جبکہ یوسف اور باقی تینوں ایک بار پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونے چل دیئے تھے۔

۔*********۔

رات کے کھانے کے بعد فائزہ بیگم جسمین کے ساتھ کمرے میں چلی آئی تھیں اور اب دونوں بیڈ پر بیٹھیں باتوں میں مصروف تھیں جب بلاج بھی ان کے پاس چلا آیا۔

” May i come in? Two most beautiful ladies in the world !! “

” آجاؤ بیٹا۔” فائزہ بیگم اسے دیکھ کر مسکرا دیں۔

” اور کیا باتیں ہو رہی ہیں میرے بغیر؟ ” وہ مسکرا کر پوچھتا ان کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔

” میں جسمین کو شیراز کے رشتے کا بتا رہی تھی۔” فائزہ بیگم اب کے سنجیدہ انداز میں بولیں۔

” امی آپ سے کہا تھا نا اسے نہ بتائیں۔” وہ بھی ایک دم سنجیدہ ہوگیا۔

” کوئی بات نہیں بھائی ویسے بھی اللّٰه کا شکر ہے آپ کو سب سچائی پہلے ہی معلوم ہوگی۔” جسمین نے مسکرا کر کہتے ہوئے اس شانے پر سر رکھ دیا۔

” ویسے پتا ہے امی آج ہسپتال میں میں نے ایک لڑکے کو دیکھا اپنے والد کو لے کر آیا تھا۔ آج تک میں نے اتنا خوبصورت مرد نہیں دیکھا۔ اُسے دیکھتے ہی میرے دل میں خواہش جاگی کے اپنی جسمین کیلئے بھی ایسا ہی کوئی لڑکا مل جائے۔”

وہ اپنے کندھے سے لگی جسمین کے سر پر ہاتھ پھیرتا فائزہ بیگم سے مخاطب ہوا۔ انداز سے صاف ظاہر تھا وہ جسمین کو تنگ کرنے کیلئے کہہ رہا ہے۔

جسمین نے سر اُٹھا کر خفگی سے بلاج کو دیکھا اور بیڈ سے فوراً اُٹھ گئی۔

” مجھے نیند آرہی ہے۔” وہ مڑی جب فائزہ بیگم کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔

” ویسے کیا نام تھا لڑکے کا؟ ” وہ اپنی مسکراہٹ دبائے پوچھ رہی تھیں۔

” یوسف نام تھا۔”

کمرے سے باہر جاتی جسمین کے قدم اس نام پر ایک دم سست ہوئے۔ نظروں کے سامنے ایک سایہ سا لہرایا کہ تبھی بلاج کی اگلی بات اسے سوچوں کی دنیا سے باہر لے آئی۔

” پر آپ تو جانتی ہیں نا۔ بابا سائیں کبھی جسمین کی شادی برادری سے باہر نہیں کرینگے۔ اس لیے یہ خواہش بس دل میں ہی رہ گئی۔”

بلاج مزید کچھ کہہ رہا تھا۔ مگر جسمین سر جھٹکتی تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ وہ اچھے سے اپنے گھر کی رسم و رواج اور طور طریقوں کو جانتی تھی۔ جن کی خلاف ورزی کرنے کا انجام موت کے سوا کچھ نہ تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *