Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tasawur e Ishq (Episode 24)

Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi

دروازہ کھول کر وہ کمرے میں داخل ہوا تو پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ بلاج نے ہاتھ بڑھا کر دیوار کے سائڈ پر نصب سوئچ بورڈ کے زریعے لائٹ جلائی۔ پورا کمرہ روشنی سے جگمگا اٹھا۔

” بھائی!! “

جسمین جو بیڈ پر لیٹی خالی خالی نظروں سے چھت کو گھور رہی تھی۔ لائٹ آن ہو جانے پر چہرہ موڑ کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی جہاں بلاج کھڑا تھا، وہ اُٹھ بیٹھی۔

” کیا ہوا؟ حورین بتا رہی ہے تم جب سے آئی ہو کمرے میں بند ہو۔ امی کے پاس بھی نہیں گئیں۔ ” بلاج اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا۔

درگاہ سے واپسی کے بعد وہ اپنے کمرے میں ہی بند ہو کر رہ گئی تھی۔ اس دوران حورین نے کئی بار اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر وجہ جاننے کی کوشش کی تھی مگر وہ تو جیسے نہ کھولنے کی قسم کھا بیٹھی تھی۔ کمرے میں بند ہوئے اسے دوپہر سے رات ہونے کو آئی تھی۔ اس لیے صورتحال سے تنگ آ کر حورین نے بلاج کو فون ملا دیا تھا۔ جو سب سنتے ہی ہسپتال سے بھاگا بھاگا سیدھا گھر چلا آیا تھا اور اب جسمین کے سامنے بیٹھا تھا۔

” کچھ نہیں بھائی بس سر میں درد تھا تو دوائی لے کر سو گئی تھی۔” اس نے جھوٹ کا سہارا لیا۔

وہ جو یہ سوچتی تھی یوسف سے ملنے لینے کے بعد، اُس سے معافی مانگ لینے کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تو ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ بے سکونی ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی تھی۔ یوسف کا اس جگہ ہونا ہی اسے انگاروں پر دھکیل گیا تھا۔ وہ وہاں سے کیسے واپس لوٹی تھی، کب گھر آئی، اسے کچھ ہوش نہ تھا۔ اسے ذہنی یکسوئی کی ضرورت تھی۔ دل پہ چھائی بےچینی اور ذہن پہ چھائے اضطراب سے نمٹنا تھا اور اس کیلئے اس نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا۔

” میں تمہیں دوپہر میں فون بھی کر رہا تھا تم نے اُٹھایا نہیں پھر اکمل کو کال کی تو اُس نے بتایا تم بابا سے ملنے گئی ہو اور اپنا موبائل گاڑی میں ہی بھول گئی ہو۔” بلاج اس کے تاثرات کو بغور دیکھتے ہوئے بولا۔ جس کا بابا کے ذکر پر چہرے کا رنگ فق ہوگیا تھا۔

” سوری !! وہ بعد میں موبائل چیک نہیں کیا تھا تو آپ کی کال کا پتا ہی نہیں چلا۔ اس لیے کال بیک بھی نہیں کر سکی۔” وہ مدہم سی آواز میں معذرت کرنے لگی۔

” خیر !! تم کھانا کھا لو پھر آرام کر لینا۔ حورین بتا رہی ہے دوپہر سے تم نے کچھ نہیں کھایا، یوں خالی پیٹ دوائی لینا ٹھیک نہیں۔”

” جی بھائی میں بس تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔” اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ بلاج مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتا، کمرے سے باہر نکل گیا۔

۔*********۔

رات کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ ایسے میں وہ کمرے کے دروازے پر کھڑا، افق پر نظریں جمائے اُس چہرے کو سوچ رہا تھا۔ جسے آج ساڑھے آٹھ سال بعد اس نے دیکھا تھا۔ وہ جو یہ چاہتا تھا کہ جسمین ایک بار اسے یہاں دیکھ لے اور جان لے کہ اُس کے بعد وہ کس حال میں ہے۔ تو اس کی خواہش کو آج پورا کر دیا گیا تھا۔ اسے جسمین سے ملا دیا گیا تھا۔ اسے یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ اُس رب کی بارگاہ میں دیر ہے اندھیرے نہیں۔

” تو بالآخر ساڑھے آٹھ سال بعد میری دعاؤں کو سن لیا گیا۔”

اس کا دل اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوا۔ دیر سے ہی سہی پر اس کی دعا کو قبول کر لیا گیا تھا۔

” آہ جسمین !! کتنی باتیں تھیں کرنے کو مگر لفظوں نے ساتھ نہ دیا۔” سوچتے ہوئے وہ مسکرایا۔

آخری ملاقات کی طرح وہ آج بھی جسمین سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا۔ ڈھیر ساری باتیں کرنا چاہتا تھا۔ اپنے بارے میں بتانا چاہتا تھا۔ مگر اس بار بھی سارے الفاظ، ساری باتیں زبان تک آتے ہی دم توڑ گئی تھیں۔ اُسے سامنے دیکھتے ہی اس کا ذہن کسی سلیٹ کی طرح صاف ہو گیا تھا۔

” میرے اللّٰه !! بہت نوازا ہے آپ نے مجھے اگر میری عبادت کے برابر ملتا تو شاید کچھ نہ ملتا۔”

اس کی آنکھیں یکدم نم ہوئی تھیں۔ وہ مڑ کر کمرے میں آ گیا اور وضو بنا کر شکرانے کے نفل ادا کرنے لگا۔ آج اس کا دل پُرسکون ہوگیا تھا۔

” سجدہ فرش پر… کہ عرش ہلا گیا

سر جھکانے کی اک ادا نے کیا خوب کمال کیا “

۔*********۔

فجر کی اذان کے وقت حسبِ عادت بلاج کی آنکھ کھلی تو پورا کمرہ روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ اس نے بےاختیار آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔ کمرے میں جلتی تیز روشنی آنکھوں میں چبھنے لگی تھی۔

” حورین بھی نا، ساری لائٹس رات کو کھلی چھوڑ دیں۔” وہ بڑبڑاتے ہوئے اُٹھ بیٹھا کہ تبھی اس کی نظر سامنے نماز پڑھتی حورین پر پڑی۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔

” اف اللّٰه !! یہ معجزہ کسے ہوا۔” ایک نرم سی مسکراہٹ بلاج کے ہونٹوں کو چھو گئی۔

اس نے رمضان کے علاوہ کبھی حورین کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔ کئی بار تو بلاج نے ٹوکا بھی تھا کہ وہ نماز پڑھا کرے پر مجال ہے جو کبھی حورین پر اثر ہو جاتا۔ مگر آج اسے یوں نماز ادا کرتے دیکھ اسے اچھا لگا تھا۔

” چلو دیر سے سہی عقل تو آئی۔ اب اللّٰه اس پر قائم رہنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔” دل سے دعا کرتا وہ خود بھی اُٹھ کر باتھ روم میں چلا گیا۔

ادھر حورین نے سلام پھیر کر دعا میں ہاتھ اُٹھائے تو بےاختیار آنکھوں سے آنسو جھلک پڑے۔ اتنے دنوں سے جسمین کی باتوں میں الجھے رہنے کے بعد بالآخر وہ آج اس مقام پر پہنچ ہی گئی تھی کہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ سکے، اس کی عبادت کر سکے، اُسے فرصت سے وقت دے سکے، جو ہمیشہ اسے نوازتا آیا ہے۔

” گر مانگا میں نے جب بھی تجھ سے ” جہاں” مانگا

حسرتوں کی “خاطر” میں نے کیا کیا نہیں مانگا

نہیں مانگا تو ایک ” تجھے” تجھ سے نہیں مانگا

جو دل پر پڑی ٹھوکر تو میں نے صرف ” خدا ” مانگا “

۔*********۔

سنہری صبح ملک ہاوس کے سر سبز لان میں پھیل چکی تھی۔ ایسے میں وہ اداسی کی مورت بنی خالی خالی نظروں سے لان میں کھلتے پھولوں کو دیکھ رہی تھی۔ کہ ماضی کی یاد ہوا کے جھونکے کے ساتھ اس کو چھو کر گزر گئی۔

” میں تو اب اپنے لیے بھی ہر نماز میں دعا کرنے لگا ہوں کہ آپ کا ساتھ ساری زندگی کیلئے ملے ورنہ میں تو مر ہی جاؤں گا۔” اس کے کانوں میں یوسف کی آواز گونجی تھی۔

” تم واقعی مر گئے یوسف۔ تم نے اپنا آپ مار دیا۔ کیوں کیا تم نے ایسا؟ ” اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے پشت کرسی سے ٹکا دی۔ دھوپ کی تمازت سے اس کی صاف رنگت میں شفق کی سرخی گھولنے لگی تھی۔

” کاش۔۔۔ کاش تم اپنے ساتھ یہ نہ کرتے یا پھر مجھے معاف کرنے کے بجائے سزا سنا دیتے تو شاید میں اتنی بے سکون تو نہ ہوتی۔” اس نے آنکھیں کھول دیں جو نم پانی سے بھرنے لگی تھیں۔

” تم نے معاف کر دیا لیکن میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی۔ تمہاری اس حالت کی ذمہ دار میں ہوں صرف اور صرف میں۔”

آنسو رخساروں پہ بہہ کر اب ٹھوڑی تک آگئے تھے اس نے ہاتھ اُٹھا کر بیدردی سے انہیں صاف کر دیا۔ ناچاہتے ہوئے بھی وہ یوسف کی اس حالت کی ذمہ دار بن چکی تھی۔ جو اس کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ وہ تو اُس کا بھلا چاہتی تھی پر انجانے میں خود ہی بُرا کر بیٹھی تھی۔

” کیوں کی تم نے مجھ سے اتنی محبت؟ اس قابل تو نہ تھی میں۔”

تلخ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر اس نے سوچا اور اُٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔ اس کے پچھتاووں میں ایک اور پچھتاوے کا اضافہ ہو چکا تھا۔

” ہزاروں عیب تھے مجھ میں، مجھے معلوم تھا یہ بھی

مگر ایک شخص تھا ناداں، مجھے انمول کر گیا “

۔*********۔

” تم کل بابا سے ملی تھیں؟ “

حورین نے جسمین کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ دونوں اس وقت فائزہ بیگم کے کمرے میں، ان کے کپڑے تبدیل کروا رہی تھیں۔

“ہاں !! ” وہ بےتاثر چہرے سے بولی۔

” کیا کہا تھا تم نے بابا سے؟ کل تو تمہاری طبیعت کی وجہ سے پوچھ ہی نہیں سکی۔” اس نے تجسس سے پوچھا۔

” بس اپنے گناہوں کیلئے معافی کی دعا کروائی تھی۔ اگر وہ معاف ہوجاتے تو مجھے سکون آجاتا مگر شاید میں نے اللّٰه کو کچھ زیادہ ہی ناراض کر دیا۔” وہ افسردہ ہوئی جبکہ حورین چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

” کیا کیا ہے تم نے ایسا جو تمہیں لگتا ہے معافی نہیں ملی؟ ” کپڑے بدل کر اب وہ کمرے کو سمیٹنے لگی تھیں۔

” دل دُکھایا ہے۔”

” کس کا؟ “

” محبت کرنے والوں کا۔” انداز ہنوز بے تاثر تھا۔

” کیا الجھی الجھی باتیں کرنے لگی ہو؟ بلاج کو تم نے کچھ کہا ہے؟ ” اب حورین محبت کرنے والوں میں بس ایک بلاج سے ہی واقف تھی اس لیے اُسی کا نام لے لیا۔

” نہیں۔ “

” پھر امی؟ ” پوچھتے ہوئے ایک نظر فائزہ بیگم کو دیکھا جو ساڑھے تین سال سے بستر سے لگیں تھیں۔

” نہیں۔ “

” اف !! پھر کس کی بات کر رہی ہو؟ یقیناً اپنے مرحوم باپ بھائیوں کے بارے میں تو کر نہیں رہی ہوگی۔” اب وہ جھنجھلائی۔ جسمین اکثر اسے ایسے ہی زچ کر دیتی تھی۔

” اچھا چلو بتاؤ اور کیا دعا کروائی؟ میں بھی تمہارے ساتھ چلتی اگر حدید کے اسکول میں پیرنٹس میٹنگ نہ ہوتی تو۔”

حورین کے کہنے پر جسمین نے دل میں شکر ہی کیا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں گئی۔ ورنہ ابھی موضوع کچھ یوں ہوتا۔۔۔یوسف کون ہے، کب سے جانتی ہو، کیا تعلق ہے، وغیرہ وغیرہ۔

” کیا ہوا خاموش کیوں ہوگئی؟ بتاؤ اپنے رشتے کیلئے دعا کروائی؟ “

” نہیں۔”

” کیوں تمہیں دعا کروانی چاہیئے تھی تاکہ اللّٰه رشتے میں آسانیاں پیدا کرے۔” اس نے تاسف سے جسمین کو دیکھا جو فائزہ بیگم کے پرانے کپڑے اُٹھا کر باتھ روم کی طرف بڑھ رہی تھی۔

” جب گناہوں کی معافی مل جائے گی تو آسانیاں بھی اپنے آپ پیدا ہوجائے گی۔”

وہ کہہ کر باتھ روم میں چلی گئی ساتھ ہی اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ صاف اشارہ تھا کہ اب مزید بات نہیں کرنی۔

” عجیب لڑکی ہے، آدم بیزار !! “

حورین بڑبڑائی پھر سر جھٹک کر کمرے سے باہر نکل گئی۔

۔*********۔

دن بھر آفس میں گزارنے کے بعد وہ گھر لوٹا تو سامنے ہی لاؤنج میں صوبیہ اور نورین بیگم بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔

” السلام علیکم !! ” دونوں نے اسے دیکھتے ہی سلام کیا۔

” وعليكم السلام !! اتنا بھی ہوش نہیں ہے کہ میں دروازے کی بیل بجا رہا ہوں تو کوئی آکے دروازہ ہی کھول دے۔” وہ غصّے سے دونوں کو گھورتے ہوئے بولا۔

” اندر آ گئے نہ تو غصّہ کس بات کا۔” صوبیہ لاپرواہی سے کہہ کر واپس ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگئی۔

” اف خدا !! “

نوید ان دونوں ساس بہو کو دیکھتا رہ گیا جو اس قدر ٹی وی میں مگن تھیں کہ پانی تک پوچھنے کا خیال نہیں آیا تھا۔

” صوبیہ پانی لے کر فوراً کمرے میں آؤ ورنہ قسم ہے کل سے ٹی وی اس گھر میں نظر نہیں آئے گا۔” غصّے سے کہتا وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ اس کا ارادہ کچھ دیر آرام کرنے کا تھا۔ ابھی کمرے میں آکر وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہاتھ سے گھڑی اُتار رہا تھا جب اس کی نظر ٹیبل پر رکھے لفافے پر گئی جس پہ اس کا نام لکھا ہوا تھا۔

” یہ کس نے بھیجا ہے۔” بڑبڑاتے ہوئے اس نے ٹیبل پر سے لفافہ اُٹھا کر کھولا۔

” نوید اقبال !!

آخری ملاقات، تاروں سے سجی رات، سمندر کی لہریں، ہم اور تم، کچھ یاد آیا؟ “

اندر موجود کاغذ پر لکھی تحریر پڑھ کر وہ ایک پل کیلئے ساکت رہ گیا۔ آخری ملاقات !! وہ کیسے بھول سکتا تھا۔ اس نے کاغذ کو الٹ پلٹ کر دیکھا، اس تحریر کے علاوہ وہاں اور کچھ نہیں تھا۔

” صوبیہ۔۔۔ صوبیہ !! ” وہ چلایا۔

” آگئی بھئی یہ لیں پانی۔” پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑے وہ اس کے سامنے آئی۔

” یہ کس نے بھیجا ہے؟ ” نوید نے لفافہ اس کے سامنے کیا۔

” ایک لڑکا آیا تھا اُس نے دیا ہے۔”

” کچھ کہا تھا اُس نے؟ ” اس نے بےتابی سے پوچھا۔

” کچھ کہا۔۔۔” اس نے ذہن پر زور ڈالا۔

” ہاں کہا تھا۔۔۔ آٹھ بجے۔”

” آٹھ بجے؟ کچھ اور نہیں کہا؟ ” وہ حیران ہوا۔

” نہیں بس آٹھ بجے کا کہہ کر وہ فوراً چلا گیا۔ اس لیے میں کچھ اور پوچھ ہی نہیں سکی۔”

صوبیہ کی بات پر نوید نے دیوار پر موجود گھڑی میں وقت دیکھا جہاں سات بجنے میں پندرہ منٹ تھے۔

” او شٹ !! ” وہ جیب سے موبائل نکال کر کان سے لگاتا کمرے سے نکلتا چلا گیا۔

” اب آپ کہاں جا رہے ہیں؟ پانی تو پیتے جائیں۔” وہ پیچھے سے چلائی مگر وہ سنی ان سنی کرتا گھر سے ہی باہر چلا گیا۔

۔*********۔

وہ لکڑی کے ٹیلے سے ٹیک لگائے کھڑا اپنی خوبصورت سیاہ آنکھوں سے اس فسوں خیز منظر کو دیکھ رہا تھا جہاں تاروں سے سجی رات میں اُٹھتی سمندر کی بھپری ہوئی لہریں کنارے پر آتیں اور واپس پلٹ جاتیں۔ ٹھنڈی ہوا کہ جھونکے لہروں سے یوں ٹکراتے کے مدھر ساز بن کر ماحول پر چھا جاتے۔ نرم ریت کی اُٹھتی خوشبو نتھنوں سے یوں ٹکراتی کہ بوجھل طبیعت پر کوئی روح پھونک جاتی۔۔۔

وہ وہاں یونہی کھڑا اس حسین منظر کے سحر میں جکڑا رہا کہ چند لمحوں بعد ہی کسی کی مانوس آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔

نگاہیں گھما کر بائیں جانب دیکھا کہ خوبصورت سیاہ آنکھوں میں چمک اُتر آئی۔ سامنے ہی ماضی کی حسین یادیں حقیقت کا روپ لیے کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔

” فَبِأَيِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُكَذِّبَانِ “

(تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے)

لمحہ بے خودی بنتا اس کی زبان سے ادا ہوا تھا۔

۔*********۔

گھر سے نکل کر اس نے حذیفہ اور جنید کو کانفرنس کال ملائی تھی۔ جس کے ذریعے اسے معلوم ہوگیا تھا کہ ایسا ہی خط اُن دونوں کو بھی ملا ہے۔ کال پر جنید اور حذیفہ کو سیدھا “سی ویو” پہچنے کا کہہ کر وہ خود بھی اپنی بائیک پر سوار ہوگیا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ تینوں اس مقام پر پہنچ گئے تھے جہاں آخری بار ان چاروں نے یوسف کو جاب ملنے کی خوشی میں حسین وقت گزارا تھا۔

” کہاں ہوسکتا ہے وہ؟ “

جنید نے بےتابی سے نظریں گھماتے ہوئے وہاں موجود لوگوں میں اُس شخص کو تلاش کرنا چاہا جو ساڑھے آٹھ سال پہلے ان سے بچھڑ گیا تھا۔

” کہیں کسی نے مذاق تو نہیں کیا؟ ” حذیفہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔

” مذاق کون کرسکتا ہے؟ یہ وہی ہے میرا دل کہہ رہا ہے یہ یوسف ہی ہے۔” نوید نے کہتے ہوئے اپنے قدم آگے کی جانب بڑھا دیئے۔ ان کے ہر ہر انداز سے بےچینی جھلک رہی تھی۔

” یوسف !! ” وہ چلائے۔

آس پاس موجود لوگ مڑ مڑ کر انہیں دیکھنے لگے۔ مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔ وہ یونہی اُسے پکارتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ جب لکڑی کے ٹیلے سے ٹیک لگائے کھڑا یوسف چہرہ موڑ کر انہیں دیکھنے لگا۔

” فَبِأَيِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُكَذِّبَانِ “

جسمین کے بعد ان تینوں کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھ کر بےاختیار اس کے منہ سے یہ آیت ادا ہوئی تھی۔ وہ اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرتا کم تھا۔ اس کے دوست اسے بھولے نہیں تھے بلکہ آج بھی اس کی ایک پکار پر بھاگے چلے آئے تھے۔

” یوسف !! “

اس کے نام کی صدا پھر فضاء میں گونجی۔

یوسف اپنی آنکھوں میں خوشیوں کا ایک جہاں آباد کیے دھیرے دھیرے ان کی طرف بڑھنے لگا۔

” اتنی شدت سے پکارو گے تو فرشتے بھی آسمان سے اُتر کر زمین پر آجائیں پھر یوسف حیدر کیسے نہیں آتا۔” مسکراتے ہوئے کہتا وہ ان کے سامنے جا کھڑا ہوا مگر درمیان میں اب بھی فاصلہ موجود تھا۔

” یوسف !! “

اس نام کے ساتھ ہی لہروں کا شور رکا تھا، ہوا تھم سی گئی اور سب ساکت رہ گیا۔ وہ آنکھوں میں بے یقینی لیے اسے دیکھے گئے جو آج بھی ویسا ہی تھا جیسا ساڑھے آٹھ سال پہلے تھا۔

بلو جینز اور وائٹ شرٹ میں ملبوس وہ دراز قد و قامت کا مالک شخص اپنی تمام تر وجاہت لیے ان کے سامنے کھڑا تھا۔

” تم زندہ ہو۔۔۔”

نوید آنکھوں میں دکھ، خوشی، بے یقینی جیسے کئی تاثرات بیک وقت لیے اس کی طرف بڑھا۔ جبکہ وہ دونوں ابھی بھی شاک اور بے یقینی کے عالم میں وہیں کھڑے تھے۔

” نوید !! “

یوسف مسکراتا ہوا خود بھی اس کی طرف بڑھنے لگا مگر یہ کیا۔۔۔ قریب پہنچتے ہی نوید کی آنکھوں کے تاثرات یکدم بدلے دکھ، خوشی، شاک، بےیقینی کی جگہ صرف “غصّے” نے لے لی۔

” نوید میں۔۔۔”

الفاظ ابھی ادا بھی نہ ہوئے کہ اگلے ہی لمحے یوسف حیدر منہ کے بل نرم ریت پر جا گرے تھے اور اس کے ساتھ ہی نوید کے پیچھے کھڑے جنید اور حذیفہ فوراً ہوش میں آئے تھے۔

” یوسف !! “

” سالے تیری تو۔۔۔”

نوید نے دونوں ہاتھوں سے اس کا گریبان پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا اور ساتھ ہی اس پر لاتوں، گھونسوں کی برسات شروع کر دی، جس میں اب حذیفہ اور جنید بھی شامل تھے۔

” کمینوں مجھے لگا تھا تم مجھے دیکھ کر خوش ہو گے مگر تم تو مجھے مار رہے ہو۔” یوسف نے لڑکھڑاتے ہوئے کہا۔

نچلا ہونٹ پھٹ چکا تھا۔ آنکھ کے پاس نیل پڑے تھے جس کے باعث دائیں گال سوجنے لگا تھا۔ اس کا یہ حال کبھی نہ ہوتا اگر سامنے کوئی دشمن کھڑا ہوتا۔ مگر مقابل کوئی دشمن نہیں اس کے اپنے عزیز از جان دوست تھے۔ جن پر وہ ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا تھا۔

” شکر کر تجھے اس سمندر میں نہیں ڈبویا ورنہ دل تو کر رہا اسی پانی میں ڈوبا ڈوبا کر مار دیں۔” نوید کہتے ہوئے ایک بار پھر اس کی طرف بڑھا لیکن اس بار حذیفہ نے اسے روک لیا۔

” یوسف تم کہاں تھے یار؟ “

حذیفہ کہتے ہوئے اچانک اس کے گلے لگ کر رونے لگا تھا۔ اسے دیکھتے ہی جنید کی آنکھیں بھی پانیوں سے بھر گئیں۔ وہ بھی آگے بڑھ کر یوسف کے گلے سے لگ گیا۔

” آہ !! “

یوسف نے کراہ کر ان دونوں کو دیکھا جو اس کے گلے سے لگے آنسو بہا رہے تھے۔

” واہ !! مار مجھے پڑی ہے اور رو تم دونوں رہے ہو۔” اس نے ماحول میں چھائی اداسی کو ختم کرنے کیلئے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔ جس پر حذیفہ اور جنید ہنستے ہوئے اس سے الگ ہوئے۔

” چلو اب ذرا محبوبہ کو منا لوں۔” یوسف آنکھ مار کر کہتا ہوا نوید کی طرف بڑھا جو منہ پھیر کر کھڑا تھا۔ کچھ بھی کہے بغیر یوسف سیدھا اس کے گلے سے لگ گیا۔

نوید نے خود کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کی مگر یوسف کی پکڑ مضبوط تھی۔ اس نے تھک ہار کر اس کے گرد بازوں پھیلا دیئے، ساتھ ہی آنسو کو بہنے دیا۔

” تو کہاں چلا گیا تھا یوسی؟ ہم نے تجھے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔”

یوسف کچھ نہ بولا۔ بس اس کے گلے سے لگ کر خود بھی آنسو بہاتا رہا۔ جبکہ انہیں دیکھ کر حذیفہ اور جنید کی آنکھیں ایک بار پھر نم ہوئی تھیں۔ وہ دونوں بھی آگے بڑھ کر ان کے گلے سے لگ گئے۔

۔*********۔

بائیک کو تیزی سے دوڑاتے ہوئے وہ اس گلی میں آ رکے تھے۔ جہاں اس نے بچپن سے لے کر جوانی تک کا سفر طے کیا تھا۔ یوسف حیرت سے گلی میں چاروں طرف نگاہیں گھماتا نوید کی بائیک سے اُترا۔ اس عرصے میں بھی یہاں سب ویسا ہی تھا، کچھ نہیں بدلا تھا سوائے گھروں پر ہوئے رنگ و روغن کے۔

” سب ویسا ہی ہے۔” وہ بڑبڑاتے ہوئے اپنے گھر کے دروازے کی طرف بڑھا جہاں سے اُٹھتی پینٹ کی مہک تازہ تازہ ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔

” تالا لگا ہے۔”

اس نے پیچھے مڑ کر ان تینوں کو دیکھا۔ نوید آگے بڑھا اور اپنی بائیک کی چابیوں کے ساتھ موجود تالے کی چابی نکال کر دروازے پر لگا تالا کھولنے لگا۔

” چلو آجاؤ۔”

دروازہ کھول کر وہ چاروں اندر داخل ہوئے کہ تبھی ماضی کی یادوں نے یوسف کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

” یوسف بیٹا بھاگو نہیں گر جاؤ گے۔”

“بیٹا بارش ہو رہی ہے اندر آؤ۔”

” سارے کپڑے گندے کر لیے آنے دو تمہارے ابو کو شکایت کروں گی۔”

ماں باپ کی آوازیں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر لائٹ جلا دی اور ایک ایک چیز کو دیکھنے لگا۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ گھر ایک عرصے سے خالی پڑا تھا۔ درودیوار پر کھلتا ہوا رنگ، سازوسامان پر موجود چمک بتا رہی تھی کتنی حفاظت سے انہیں رکھا گیا ہے۔

” یہ سب تم لوگوں نے۔۔۔”

وہ ان تینوں کی طرف مڑا جو خاموش کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔ یوسف کی کیفیت سے وہ بخوبی واقف تھے۔

” تیرا اور تیرے سے جوڑی چیزوں کا خیال ہم نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا۔” جواب جنید کی طرف سے آیا۔

” میں راشد کو فون کر دیتا ہوں۔ وہ دوائی وغیرہ لے آئے گا تاکہ تیرے زخموں پر لگا سکیں۔”

نوید نے کہتے ہوئے موبائل جیب سے نکالا اور ایک طرف ہوکر کال کرنے لگا۔ جبکہ حذیفہ کھانا برتنوں میں نکالنے کیلئے کچن کی طرف بڑھ گیا۔ جو وہ راستے سے ساتھ لے آئے تھے۔

” لاؤ میں مدد کرواتا ہوں۔” نوید کال کر کے کچن میں چلا آیا۔

” دیکھ لو نوید اگر تم جسمین کو نقصان پہنچا دیتے تو آج خود کو معاف نہیں کر پاتے۔” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد حذیفہ اسے دیکھتے ہوئے بولا۔ سالن برتن میں نکالتے ہوئے نوید کے ہاتھ ایک پل کیلئے تھمے تھے۔

” اس لیے میں تمہیں سمجھاتا تھا کہ اللّٰه بہتر انصاف کرنے والا ہے۔ تم انتقام کی آگ میں نہ جلو کہیں تم سے زیادتی نہ ہوجائے۔ کیونکہ انسان کسی دوسرے کے ساتھ تو کیا خود اپنے ساتھ بھی انصاف نہیں کرسکتا۔”

حذیفہ کی بات پر اس نے گہرا سانس لیا اور برتن ایک طرف رکھ کر اسے دیکھتے ہوئے بولا۔

” تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ اللّٰه نے مجھے زیادتی کرنے سے بچا لیا۔ ورنہ شاید پھر میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاتا۔” اس کی بات پر حذیفہ دھیرے سے مسکرا دیا۔

” خیر !! چلو اب جلدی کرو لگتا ہے راشد بھی آگیا۔”

حذیفہ اس کا کندھا تھپک کر ٹرے اُٹھاتا کچن سے باہر نکل گیا۔ صحن میں ہی وہ تینوں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔

” اب کیسا لگ رہا ہے؟ ” جنید نے یوسف کے سر پر دوائی لگاتے ہوئے پوچھا۔

یوسف نے نظریں ترچھی کیے اسے دیکھا۔ دل میں خواہش اُٹھی کوئی ڈنڈا اُٹھا کر اس کے سر پر دے مارے اور پوچھے اب کیسا لگ رہا ہے۔ مگر دل میں اُٹھتی خواہش کو دبا کر بس اتنا ہی بولا۔

” اب ٹھیک ہے۔”

” چلو اچھا ہے۔” جنید نے ٹیوب بند کر کے واپس راشد کو پکڑائی۔

” یوسف بھائی آپ اتنے سالوں سے کہاں رہ رہے تھے؟ ” راشد نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

کھانا تخت پر لگاتے حذیفہ اور نوید نے بھی رک کر اسے دیکھا تھا۔

” یار پھر کسی دن بتاؤ گا آج میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔” یوسف نے ٹالنا چاہ، فی الحال وہ یہ وقت گزرے ماضی پر بات کر کے برباد نہیں کرنا چاہتا تھا۔

” چلو آجاؤ سب کھانا کھا لو۔”

نوید اس کی کیفیت کو بخوبی سمجھ رہا تھا اس لیے سب کو کھانے کی طرف متوجہ کر لیا اور اب وہ سب خوشگوار ماحول میں ایک ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔

۔*********۔

ہوا کی دوش پر سوار ہو کر یہ ایک ماہ اتنی تیزی سے گزرا کے پتا ہی نہ چلا۔ اس ایک ماہ میں اس نے پھر سے خود کو اس ماحول میں ڈھالنے کی بھرپور کوشش کی تھی جس میں وہ کامیاب بھی ہوگیا تھا۔ یوں تو اس کی واپسی پر محلے داروں نے کہیں سوالات اُٹھائے تھے کہ وہ اتنا عرصہ کہاں تھا؟، کہاں رہے رہا تھا؟، اگر زندہ تھا تو واپس کیوں نہیں آیا؟

مگر ان سب کے سوالات کا جواب اس نے بس یہ کہہ کر دیا تھا کہ وہ “دوسرے شہر چلا گیا تھا نوکری کے باعث” اس سے زیادہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا اور نہ ہی اس سے زیادہ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا واپسی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ واپس آنے کے بعد اسے ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اسے پرواہ نہیں تھی۔ کیونکہ وہ جن کیلئے واپس آیا تھا وہ اسے دیکھ کر خوش تھے اور یہی اس کیلئے کافی تھا۔

اس نے نوید، جنید اور حذیفہ کو بھی یہی بتایا تھا کہ جسمین کی شادی کی خبر سے دلبرداشتہ ہو کر وہ دوسرے شہر چلا گیا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اصل وجہ جان کر وہ تینوں جسمین کیلئے اپنے دل میں نفرت پالیں۔ ویسے بھی وہاں رہنے کا فیصلہ یوسف کا اپنا تھا۔ اس میں جسمین کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اس لیے اس نے چھپانا ہی بہتر سمجھا تھا۔

تاہم یوسف ان تینوں کے گھر والوں سے بھی ملا تھا اور اس سب میں سب سے اچھی بات یہ تھی کہ کسی نے بھی اس کی گمشدگی کو لے کر کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ وہ سب یوسف سے ایسے ملے تھے جیسے یہ ساڑھے آٹھ سال کا عرصہ ان کے درمیان آیا نہ ہو۔ ان تینوں کے ہنستے بستے گھر دیکھ کر اسے خوشی ہوئی تھی اور دل میں ایک کسک بھی اُٹھی تھی کہ ان کی خوشیوں میں شامل نہ ہوسکا۔ مگر وہ پھر بھی خوش تھا۔ دیر سے ہی سہی وہ ایک بار پھر ان سب کے درمیان موجود تھا۔

یوسف نے اس دوران نوکری کی تلاش بھی شروع کر دی تھی۔ اب جب یہاں رہنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا تو کمانے کا زریعے بھی تو تلاش کرنا تھا۔ اس نے کئی جگہ نوکری کے لیے انٹرویو دیا تھا اور خوش قسمتی سے ان میں سے ایک کمپنی میں اسے جاب مل بھی گئی تھی۔ یوں تو تجربہ نہ ہونے کے باعث وہ جاب اس کی قابلیت کے مطابق نہ تھی۔ لیکن کچھ ” ہونا ” کچھ ” نہ ہونے” سے بہتر تھا۔ ویسے بھی ترقی کی سیڑھیاں چڑھنے کیلئے قدم ہمیشہ پہلی سیڑھی پر ہی رکھنا پڑتا ہے۔ یوسف نے بھی پہلا قدم رکھ دیا تھا۔ جہاں سے اب اسے آگے بڑھتے ہی جانا تھا۔

” تو بالآخر ایک لمبی مسافت کے بعد میں اس مقام تک پہنچ گیا۔”

چھت پر چارپائی بچھائے وہ آسمان کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا اور اُس دن کو سوچنے لگا جب وہ درگاہ سے واپس اپنی دنیا میں لوٹنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔

” تو تم نے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔”

کمرے میں داخل ہو کر حکیم صاحب اسے دیکھتے ہوئے بولے۔ جو چھوٹے بال اور بنا داڑھی کے، وائٹ شرٹ اور بلو جینز میں ملبوس وہی پہلے والا یوسف لگ رہا تھا جب وہ زخمی حالت میں ان کے پاس لایا گیا تھا۔

“جی !! فیصلہ مشکل تھا۔ لیکن اب میں اپنے دوستوں سے ملنا چاہتا ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں ایک بار یہاں سے چلا گیا تو شاید واپس کبھی لوٹ نہیں پاؤں گا۔” یوسف نے مسکراتے ہوئے کہا۔

وہ جانتا تھا ایک بار یہاں سے نکل گیا تو واپسی ناممکن ہے۔ اس لیے اس نے اپنے کپڑے وغیرہ بھی یہاں موجود غریبوں میں تقسیم کر دیئے تھے۔ یوسف یہاں خالی ہاتھ آیا تھا اور یہاں سے جانا بھی خالی ہاتھ ہی چاہتا تھا۔

” لیکن آپ فکر نہیں کریں میں آپ سے ملنے آتا رہو گا۔ آپ کا یہ بیٹا کبھی آپ کو بھولے گا نہیں۔”

یوسف ان کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے بولا، جس پر حکیم صاحب مسکرا دیئے۔

وہ یوسف سے بیٹوں کی طرح محبت کرتے تھے۔ اس لیے جہاں وہ اس کے فیصلے پر خوش تھے وہیں اس کی جدائی نے غمگین بھی کر دیا تھا۔

” اللّٰه تمہیں ہر راہ میں کامیاب کرے میرے بچے۔”

انہوں نے دل سے دعا دی۔ جس کے بعد وہ وہاں سے نکل کر واپسی کے سفر پر چل پڑا اور اس کے ساتھ ہی ایک ہوا کا جھونکا اسے ماضی سے حال میں لے آیا۔

” میں کبھی آپ لوگوں کو نہیں بھول سکتا۔ آپ ہی تو وہ وجہ ہیں جس نے مجھے گمراہ نہیں ہونے دیا بلکہ اس آزمائش پر پورا اترنے میں ہر قدم پہ میرا ساتھ دیا۔”

سوچتے ہوئے اس نے پرسکون انداز میں آنکھیں بند کر لیں اور رات کی تاریکی میں ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرنے لگا۔

وہ اب پُرسکون تھا کیونکہ عشقِ مجازی میں ناکامی کے بعد وہ گمراہی کی طرف نہیں گیا تھا بلکہ آزمائش پہ پورا اُترنے کیلئے اس نے مزید اللّٰه سے گہرا تعلق جوڑ لیا تھا اور یہی اس کی کامیابی کی نشانی تھی۔

۔*********۔

وہ عشاء کی نماز ادا کر کے ابھی فارغ ہی ہوئی تھی کہ بلاج دروازے پر دستک دیتا اندر داخل ہوا۔

” آج بہت دیر سے پڑھی تم نے نماز۔”

” جی بس امی کے کمرے میں تھی تو ٹائم کا پتا نہیں چلا۔” وہ جائے نماز ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی۔

” آپ بتائیں کوئی کام تھا؟ “

” ہاں !! دراصل میرے دوست کے گھر والے کل تمہیں دیکھنے آنا چاہتے ہیں۔ اس لیے کل ذرا اچھے سے تیاری کر لینا۔”

بلاج مسکراتے ہوئے بولا جبکہ وہ مسکرا بھی نہ سکی۔ اس ایک ماہ میں بس یوسف کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ اس رشتے والی بات کو یکسر فراموش کر چکی تھی۔

” کیا ہوا تم خاموش کیوں ہوگئیں؟ ” بلاج نے اسے خاموش دیکھ کر پوچھا۔

” نہیں وہ یوں اچانک، مطلب اتنی جلدی۔۔۔” جسمین کو سمجھ نہیں آیا کیا بولے۔

” جلدی کہاں ہے۔ وہ تو پہلے ہی آنا چاہ رہے تھے مگر بس کسی وجہ سے آ نہیں سکے۔ پر کل وہ ضرور آئیں گے۔ تم اُن کیلئے کھانے میں کچھ اچھا بنا لینا۔”

” جی۔”

بلاج کے چہرے سے جھلکتی خوشی کو دیکھ کر وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔ ایک بار پھر اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اس رشتے سے انکار کر سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *