Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Episode 19)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Episode 19)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
پوری رات دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد بھی صبح ہوتے ہی وہ آفس کیلئے تیار ہو کر گھر سے نکل گیا تھا۔ آج اس کا پہلا دن تھا اور وہ لیٹ نہیں ہونا چاہتا تھا۔ سارے راستے تیز رفتاری سے بائیک چلاتے ہوئے وہ آفس پہنچ چکا تھا اور اب مینجر سے ہدایت ملنے کے بعد پوری توجہ سے اپنے کام میں مصروف تھا کہ دفعتاً اس کا موبائل بج اُٹھا۔ ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ جسمین ہوگی۔ مگر جب موبائل اُٹھا کر دیکھا تو ایک انجان نمبر اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔ اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ کال کاٹ کر موبائل واپس ٹیبل پر رکھنے ہی لگا تھا کہ وہ پھر بج اُٹھا اور اس بار نہ چاہتے ہوئے بھی یوسف نے کال ریسیو کر لی۔
” ہیلو !! “
” یوسف حیدر !! ” اس کی آواز سنتے ہی اسپیکر سے مردانہ بھاری آواز اُبھری۔
” جی کون؟ ” ماتھے پر بل ڈالے پوچھا۔ آواز جانی پہچانی لگی تھی۔ مگر کس کی؟
” یوسف میں بلاج بول رہا ہوں۔ کیا ہم آج مل سکتے ہیں؟ ” بلاج کی بات پر وہ ایک لمحے کیلئے خاموش ہو گیا۔ وہ اس سے کیوں ملنا چاہتا تھا؟ کیا جسمین نے اس سے بات کر لی؟
” جی بھائی، بتائیں کہاں آنا ہے؟ ” سارے سوالوں کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے پوچھا۔
بلاج نے اسے جگہ اور وقت بتا کر کال کاٹ دی۔ جبکہ یوسف موبائل ہاتھ میں پکڑے یہ سوچ رہا تھا کہ آیا جسمین کو فون کر کے اس بارے میں بتائے؟ مگر کیسے؟ وہ تو کال ہی نہیں اُٹھا رہی۔
ساری سوچوں کو جھٹکتے ہوئے وہ ایک بار پھر کام کی طرف متوجہ ہو گیا۔ فی الحال یہ وقت اس بارے میں سوچنے کا نہیں تھا۔
” اب کہ سنتے نہیں ہو بات مگر
پھر کہو گے کہ کوئی کہتا تھا
موم کی طرح وہ پگھل سا گیا
وہ جو پتھر کی طرح لگتا تھا
کوئی آہٹ تو دی ہوگی تم نے
ہم کو کیوں یہ گماں لگتا تھا “
۔*********۔
رات کا سرمئی آنچل کائنات پر چھا چکا تھا۔ وہیں ڈھابہ نما ریسٹورنٹ میں وہ اس وقت ایک دوسرے کے مقابل بیٹھے دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔ ایک جسمین کے بارے میں بتانا چاہتا تھا تو دوسرا جسمین کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا۔ مگر مناسب الفاظ دونوں میں سے کسی کے پاس نہ تھے۔ یوں کہ زبان پر قفل لگ گیا ہو۔
” یوسف تمہیں یاد ہے میں نے تمہیں اپنے نکاح میں بلایا تھا؟ ” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بلاج گویا ہوا۔
یوسف نے کچھ الجھ کر اسے دیکھا۔ وہ ایسے کیوں پوچھ رہا تھا۔ بات اتنی پرانی تو نہ تھی کہ کوئی بھی بھول جائے۔
” ہاں !! پر آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ “
” تم جانتے ہو میں نے تمہیں وہاں کیوں بلایا تھا؟ ” یوسف کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور سوال کیا۔
” کیوں بلایا تھا؟ ” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔ بلاج کا اندازہ اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہا تھا۔
” یوسف میں ایک مرد ہوں اور اپنی عورتوں پر اُٹھنے والی دوسرے مرد کی نظر کو اچھے سے پہنچان سکتا ہوں۔ تمہاری نظروں میں بھی اپنی بہن کیلئے محبت بہت پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔” بلاج جتاتا ہوا بولا۔ یوسف جو اس کی طرف دیکھ رہا تھا فوراً نظریں جھکا گیا۔
” میں چاہتا تھا تم میرے گھر آ کر ہمارے ماحول اور طور طریقوں کے بارے میں جان جاؤ تاکہ اپنے آگے بڑھتے قدموں کو وہیں روک لو۔ لیکن تم۔۔۔ تم نہیں رکے۔”
بلاج رکا، یوسف نے اپنی جھکی نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا اور اس لمحے بلاج نے جان لیا۔ وہ شرمندہ ہرگز نہیں تھا۔ بھلا محبت پر بھی کوئی شرمندہ ہوتا ہے؟ اگر ہوتا ہے۔۔۔ تو پھر جا کر پوچھو اُس عاشق سے جس کیلئے یہ زندگی کا حاصل، ایک اعزاز ہوتا ہے۔ ذات کو کامل یا خالی کرنے دینے والا راز ہوتا ہے۔ یہ تو دیوانوں کی دنیا میں معتبر کر دینے والا وہ احساس ہوتا ہے۔
” آپ مدعے پر آئیں۔ اب کیا چاہتے ہیں مجھ سے؟ ” یوسف خشک لہجے میں بولا۔
بلاج کے انداز سے ہی وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ یہاں ان کا ساتھ دینے نہیں آیا۔ یہ جنگ بس جسمین اور یوسف نے ہی لڑنی ہے مگر۔۔۔ اگلے لمحے ادا ہونے والے بلاج کے الفاظ نے اس کی ہستی کو ہلا کر رکھ دیا۔ یوسف بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا اور وہ کہہ رہا تھا۔۔۔
” کل جسمین اور میرا نکاح ہے یوسف۔ امید کرتا ہوں اب تم اُسے تنگ نہیں کرو گے۔ اپنے قدم یہیں روک لو اور پلٹ جاؤ کیونکہ اب یہاں تمہیں کچھ نہیں ملنے والا۔” بلاج دھیرے سے بولا۔
وہ یوسف کی کیفیت سے بخوبی واقف جو تھا۔ اپنے محبوب کو کھو دینے کا دکھ کتنا اذیت ناک ہوتا ہے، بھلا اس سے بہتر کون جان سکتا تھا۔
” آپ۔۔۔ آپ جھوٹ بول رہے ہیں بولیں۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ وہ میرا انتظار کریں گی۔” یوسف چلایا۔
بلاج نے لب بھینچ کر آس پاس دیکھا۔ کافی لوگ اس کے چلانے پر متوجہ ہوئے تھے۔
“چلاؤ مت۔” وہ غرایا پھر خود کو پُرسکون کرتا ہوا بولا۔
” دیکھو یوسف میں جانتا ہوں تم بہت محبت کرتے ہو۔ لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ تم جسمین کو بھول جاؤ اور زندگی میں آگے بڑھو۔ پوری زندگی تمہارے سامنے پڑی ہے۔ سمجھ رہے ہو نا تم؟ “
اس نے سوالیہ نظروں سے یوسف کو دیکھا۔ جس کی سیاہ آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا۔ کچھ بھی کہے بغیر وہ جبڑے بھینچے اُٹھا اور ایک ٹھوکر کرسی کو مارتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ بلاج وہیں بیٹھا بےبسی سے اسے جاتے دیکھتا رہا۔ وہ چاہ کر بھی ان کیلئے کچھ کر نہیں سکتا تھا۔
” مجھے معاف کر دینا یوسف !! تم سے بہتر میری گڑیا کیلئے کوئی نہ تھا۔ پر کچھ کہانیاں بنتی ہی نامکمل رہنے کیلئے ہیں۔” وہ زیرِ لب بڑبڑایا پھر خود بھی اُٹھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
۔*********۔
” شیشۂ دل پہ ایسی چوٹ پڑی
ایک لمحے میں ریزہ ریزہ تھا
رت جو بدلی تو یہ بھی دیکھ لیا
پتہ پتہ زمیں پہ بکھرا تھا
اس کے کوچے کے ہو لیے ورنہ
راستہ ہر طرف کو نکلتا تھا “
کمرے میں چکر کاٹتا وہ مسلسل جسمین کو کال ملا رہا تھا۔ مگر وہ تھی کہ کال اُٹھانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ یوسف نے غصّے سے موبائل دیوار پر دے مارا۔ جسمین کی کہی ساری باتیں اسے اب سمجھ میں آ رہی تھیں۔ کیوں وہ اسے ملنے سے، بات کرنے سے منع کر رہی تھی۔ کیوں وہ چاہتی تھی کہ یوسف اب صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دے اور کیوں وہ اب اس کی کال نہیں اُٹھا رہی تھی۔ اسکے میسجز کا جواب نہیں دے رہی تھی کیوں؟ کیونکہ وہ تو اپنا راستہ بہت پہلے ہی بدل چکی تھی۔ یوسف کو کہیں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئی تھی لیکن۔۔۔ لیکن وہ وعدہ۔۔۔
” تو وہ وعدہ بھی جھوٹا تھا جسمین !! کیوں کیوں کیا آپ نے ایسا؟ کس بات کا بدلہ لیا مجھ سے؟ ” وہ چلایا۔
” ہاں !! شاید اسٹاف روم کی بات کا بدلا نکالا ہے نا آپ نے۔ اگر سزا ہی دینی تھی تو کوئی اور طریقہ اپناتیں مگر۔۔۔ مگر یہ تو نہ کرتیں۔ کیوں کھیل گئیں میرے دل کے ساتھ کیوں؟ ” سر تھامے وہ وہیں زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ سوچ سوچ کے دماغ تھا کہ ابھی پھٹ جائے گا۔
” ایسے نہیں۔۔۔ آپ کو میرے ہر سوال کا جواب دینا ہوگا جسمین۔ اتنی آسانی سے آپ کو اپنی زندگی سے نہیں جانے دوں گا۔ کبھی نہیں۔۔۔”
تصور میں جسمین کو مخاطب کیے وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ سیاہ آنکھیں شدید غصّے کے باعث سرخ ہو رہیں تھیں۔ اب اسے بس کل کا انتظار تھا تاکہ جسمین سے اپنے ہر ایک سوال کا جواب طلب کرسکے۔ اُس سے پوچھے کہ کیا اتنا آسان ہے کسی کا دل، امیدیں، وعدہ اور سب سے بڑھ کر اعتبار توڑنا۔۔۔
پر وہ یہ نہیں جانتا تھا۔ جب تقدیر کوئی فیصلہ کرلے تو انسان کے عہد، وعدے، ارادے سب بےمعنی رہ جاتے ہیں۔ کہیں قصے ادھورے رہ جاتے ہیں تو کچھ کہانیاں مکمل ہو جاتی ہیں۔ زندگی کی اس کتاب میں دیکھو۔۔۔ تقدیر کیا رنگ لاتی ہے۔
۔*********۔
جہاں سرمئی آنچل سرکا وہیں سنہری کرنوں کا جال آسمان پر پھیلتا ہوا کائنات کو منور کر گیا۔ ایسے میں ایک بار پھر ملکوں کی حویلی میں رونق لگ چکی تھی۔ یہی عالم شجاع عالمگیر کی حویلی کا بھی تھا۔
جہاں ایک طرف خوابوں کو سجائے اپنے پیا سنگ جانے کو بیتابی تھی وہیں دوسری طرف خوابوں کا گلا گھونٹ کر اب زمین میں اُتر جانے کی خواہش تھی۔
دونوں طرف نکاح کی تیاریاں زوروشور سے کی جارہی تھیں۔ یوں تو شجاع عالمگیر کا کہنا تھا کہ نکاح کی تقریب ان کی حویلی میں رکھی جائے مگر بلاج کے انکار پر جہانگیر ملک نے نکاح کی تقریب اپنی حویلی میں ہی رکھ لی تھی۔ جس پر شجاع عالمگیر نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ آخر وٹے سٹے کا ایک یہی تو فائدہ ہے اور نقصان بھی۔
” کیا میں اندر آجاؤں؟ “
سیاہ شیروانی میں ملبوس وہ دروازے پر کھڑا اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔
” آپ اندر آچکے ہیں بلاج بھائی۔”
جسمین جو عروسی جوڑے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی آئینے میں اپنے عکس کو دیکھ رہی تھی۔ خشک لہجے میں بولی۔ بلاج چلتا ہوا اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔
” ناراض ہو مجھ سے؟ ” اس کے بےتاثر چہرے پر نظریں جمائے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
آج سے پہلے اس نے جسمین کی ہر بات، ہر خواہش، ہر خوشی کو پورا کیا تھا پر آج وہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اسے نہیں دے پایا تھا۔ وہ اسے یوسف نہیں دے پایا تھا۔
” میں ناراض نہیں ہوں۔” اب کے وہ بھی دھیمے لہجے میں بولی۔
” تو پھر میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہیں؟ ” ایک اور سوال۔
جسمین نے بےتاثر نظروں سے اسے دیکھا۔ کوئی جذبہ، کوئی خوشی، کوئی دکھ تو ان آنکھوں میں نہیں تھا سوائے ویرانی کے۔
” میں ناراض نہیں ہوں۔ یہی میری تقدیر ہے۔ جسے میں قبول کرچکی ہوں آپ پریشان نہ ہوں۔”
کہتے ہوئے ایک بار پھر اس نے چہرہ موڑ لیا۔ آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے ناجانے کیا تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
” میں نے یہ سب تمہارے لیے کیا ہے جسمین۔ ایک وقت آئے گا جب تمہیں احساس ہوجائے گا۔”
بلاج اس کے سرخ دوپٹے سے ڈھکے سر کو دیکھتے ہوئے بولا۔ مگر اس بار وہ خاموش رہی جیسے اب نہ بولنے کی قسم کھا لی ہو۔
” تمہیں لگتا ہے میں نے یاسمین سے محبت نہیں کی اس لیے تمہاری محبت کو بھی نہیں سمجھ سکا۔ پر یقین مانوں جسمین !! جس درد سے تم گزر رہی ہو میں بھی اسی درد سے گزر رہا ہوں۔ دل میں ” کسی” کو رکھ کر زندگی میں “کسی اور” کو لانا آسان نہیں ہوتا۔”
اب کے اس نے کہا نہیں تھا بس سوچا تھا اور وہ اس کی سوچ سے بےخبر سر جھکائے بیٹھی اپنے ہاتھ میں گولڈن بریسلٹ کو دیکھ رہی تھی۔
بلاج نے دھیرے سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر تیزی سے کمرے سے نکلتا چلا گیا۔ دروازہ بند ہوا ساتھ ہی کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ چند لمحے وہ یونہی سر جھکائے اس بریسلٹ کو دیکھتی رہی کہ تبھی پیچھے سے کانچ ٹوٹنے کی آواز آئی۔
جسمین نے چونک کر سر اُٹھایا اور نظریں وہیں ٹھہر گئیں۔ لب ساکت ہوئے تھے اور دھڑکن وہیں تھم گئی۔
وہ بے یقینی سے آئینے میں نظر آتے اس عکس کو دیکھ رہی تھی۔ وہ عکس جو اس کی پرچھائی بن گیا تھا، دل کی دھڑکن کہ جینے کیلئے سانسیں بن گیا تھا، راتوں کا تڑپا دینے والا خواب بن گیا تھا۔ وہ عکس ایک یوسف کا عکس۔۔۔
” یوسف !! “
لب ہلے، وہ پیچھے مڑی۔ جہاں وہ کھڑکی کے پاس کھڑا دونوں ہاتھ سینے پر باندھے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ عروسی جوڑے میں سجا سنوارا یہ وجود اس کیلئے نہیں کسی اور کیلئے تھا۔ یوسف نے سختی سے اپنے لب بھینچ لیے۔
” تم یہاں کیسے آئے؟ کسی نے آتے ہوئے تو نہیں دیکھا؟ ” جسمین متفکر سی ہو کر یوسف کی طرف بڑھنے لگی مگر اس سے پہلے ہی وہ عین اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
” میں تم سے پوچھ رہی ہوں کچھ؟ یہاں کیوں آئے؟ ” وہ یکدم تلخ ہوئی۔ وہی بیگانگی لیا انداز یوسف لب سیئے اسے دیکھتا رہا۔
” دیکھو یوسف جاؤ یہاں سے آج میرا نکاح ہے۔ تمہیں یہاں کسی نے دیکھ لیا تو مسئلہ ہو جائے گا۔”
” تو آپ شادی کر رہی ہیں گڈ۔” وہ اس کی بات نظر انداز کیے بولا۔ لہجہ طنزیہ نہیں تھا پر جسمین کو یہ طنز ہی لگا۔
” دیکھو یوسف مجھے معاف کردو۔ پلیز یہاں سے چلے جاؤ میں میں۔۔۔” مزید کچھ کہنے کی سکت نہ رہی تھی۔ جسمین نے یکدم اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔ آنسو تواتر آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔
یوسف جو اس کے سامنے کھڑا اس سے باز پرس کرنا چاہتا تھا، لڑنا چاہتا تھا، جھگڑنا چاہتا تھا، اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ آخر کیوں وہ بے وفائی کر گئی؟ وعدہ کیا پر وعدہ وفا نہ کیا۔ کیوں وہ بیچ راہ میں ہاتھ چھڑا گئی کیوں؟
پر اس کے جڑے ہاتھ اور بہتے آنسو کو دیکھ کر سارے الفاظ دم توڑ گئے تھے۔
وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا جسمین کے قریب ہوا تھا۔ اتنا قریب کہ لرز کر پلکوں کی جھالر گری اور یوسف کے رخسار کو چھو گئی۔
” الوداع !! “
جسمین کے کان میں سرگوشی کرتا گویا پگھلا ہوا سیسہ انڈیل رہا تھا۔ جسمین نے بمشکل پلکیں اُٹھا کر اسے دیکھا جو الٹے قدم پیچھے ہٹتا اس سے دور جا رہا تھا کہ تبھی وہ مڑا اور جس طرح اندر آیا تھا اسی طرح کھڑکی سے باہر نکل گیا۔
جسمین وہیں کھڑی بے جان ہوتے وجود کے ساتھ اس کھلی کھڑکی کو دیکھ رہی تھی کہ ایک تیز ہوا کا جھونکا اندر آیا۔ جو اس کے محسوسات کو جگاتا یہ باور کرا گیا۔۔۔
یوسف حیدر !! اکیلا نہیں گیا تھا۔ اس کا دل، روح، خوشیاں سب ساتھ لے گیا تھا۔
” یوسف !! “
ہاتھ آگے بڑھا کر اس نے روکنا چاہا مگر کب جب وہ جا چکا تھا۔ ہمیشہ کیلئے اس کی زندگی سے دور۔۔۔
” یوسف مت جاؤ۔۔۔”
وہ وہیں فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔ اپنی حالت کی پرواہ کیے بغیر وہ آنسو بہا رہی تھی۔ کمرے کے درودیوار اس کی سسکیوں سے گونجنے لگے تھے پر۔۔۔ وہ ایک آواز جس کو اسکی سسکیاں بھی دبا نہیں پائی تھیں۔ ہاں !! وہ آواز، وہ لہجہ، وہ لفظ۔۔۔
” الوداع !! “
۔*********۔
کھڑکی کے زریعے کمرے سے نکلتا وہ پائپ کے سہارے نیچے اتر آیا تھا۔ اس نے آس پاس دیکھا قریب ہی بائیں جانب دو آدمی بندوق لیے کھڑے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ دبے قدموں سے چلتا ہوا پلر کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔
” اب کیا کروں؟ کیسے نکلوں؟ “
وہ ابھی یہ ہی سوچ رہا تھا کہ ان کی نظروں میں آئے بغیر یہاں سے کیسے نکلے کہ تبھی اسے سامنے سے بلاج آتا دکھائی دیا۔ ان دونوں آدمیوں کو کچھ کہتا وہ انہیں اپنے ساتھ لیے آگے بڑھ گیا۔
یوسف نے آس پاس دیکھا فی الحال اس طرف اور کوئی نہیں تھا۔ اس نے شکر ادا کیا ساتھ ہی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ فوراً آگے بڑھتا پیچھے کے دروازے سے باہر نکل گیا۔
یہ جانے بغیر۔۔۔ کہ اوپری کمرے کی کھڑکی سے دو آنکھیں اس منظر کو بغور دیکھ رہی تھیں۔
۔*********۔
انسان جو مرضی کر لے تقدیر کے آگے بالآخر بےبس ہو ہی جاتا ہے۔ تقدیر جب چاہے جسے چاہے آپ کی زندگی میں لے ہی آتی ہے اور جس سے چاہے جدا کر دیتی ہے کہ انسان لاکھ چاہنے کے باوجود بھی تقدیر کے آگے مجبور ہو جاتا ہے۔ وہ انسان جو ہواؤں کو تسخیر کر چکا ہے۔ سمندروں کو کھنگال چکا ہے۔ لیکن تقدیر سے جیتنے کی کوئی ٹیکنالوجی اب تک ایجاد نہیں کر سکا۔۔۔
یوسف بھی اپنی تقریر سے ہار چکا تھا۔ اس کے آگے بےبس ہوتا ہار مان چکا تھا۔ سب ختم ہو چکا تھا۔ اس کے آگے بڑھتے قدموں کے ساتھ کہیں سب بہت پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ وہ ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ چلتا کس راستے پر نکل آیا تھا اسے کچھ خبر نہیں تھی۔ وہ پیدل چل رہا تھا۔ صبح بائیک خراب ہونے کے باعث وہ جسمین سے ملنے ٹیکسی میں چلا آیا تھا۔ لیکن اب الجھتے ذہن کے ساتھ اسے یہ خیال بھی نہ رہا تھا کہ ٹیکسی ہی کر لے۔
” دیکھو یوسف جاؤ یہاں سے آج میرا نکاح ہے۔ تمہیں یہاں کسی نے دیکھ لیا تو مسئلہ ہو جائے گا۔” اسے جسمین کی آواز سنائی دی۔
اس نے آسمان کی طرف سر اُٹھا کر دیکھا۔ ڈوبتے سورج کے ساتھ اس کے اندر بھی اداسی اترنے لگی۔ آسمان کی طرح دل بھی ویران ہو رہا تھا۔ وہاں سے نکلے کتنا وقت گزر چکا تھا۔ اسے اندازہ نہ ہوا۔ وہ یونہی غائب دماغی سے چلتا رہا کہ اچانک فضاء میں گونجتی گولی کی آواز پر اس کے قدم ایک دم تھمے تھے۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں خاور اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا جیپ سے اُتر کر اس کے پاس آ رہا تھا۔ پیچھے کھڑے اس کے آدمی ہاتھوں میں ہتھیار اُٹھائے ہوئے تھے۔ تو بالآخر وہ وقت بھی آ گیا تھا۔۔۔
(وہ ہال میں گھونگھٹ لیے حورین کے ساتھ بیٹھی تھی۔ پردے کے اُس پار نکاح خواں سمیر اور بلاج کے ساتھ بیٹھے نکاح پڑھانا شروع کر رہے تھے۔)
” تیرے پیچھے اتنی دور تک آنا پڑا وہ بھی اپنی بہن کا نکاح چھوڑ کر خیر کوئی نہیں۔ اس کی قیمت تو ادا کر ہی لوں گا۔” اس نے خباثت سے مسکراتے ہوئے کہا۔ یوسف نے بےتاثر چہرے سے اسے دیکھا۔ اس کی چھٹی حس اب بیدار ہوتی خطرے کا احساس دلا رہی تھی۔
(جسمین ملک ولد جہانگیر ملک آپ کو سمیر عالمگیر ولد شجاع عالمگیر کے نکاح میں حق مہر پچاس لاکھ سکہ رائج الوقت دیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو ” قبول” ہے؟ انہوں نے پوچھتے ہوئے گویا اس کی موت کا فرمان سنایا تھا۔)
” مجھے تو پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ضرور کوئی نہ کوئی چکر ہے۔ جبھی تو اتنی دیدہ دلیری سے میرے ہی گھر پر کھڑے ہو کر میری ہی بہن سے محبت کی پتنگے لڑا رہا تھا۔” کہنے کے ساتھ ہی اس نے گھونسا یوسف کے منہ پر دے مارا۔ یوسف لڑکھڑایا مگر اگلے ہی لمحے سنبھل کر وہ بھی میدان میں اُتر آیا تھا۔
( بار بار نظروں کے سامنے یوسف کا چہرہ آ رہا تھا۔ اس نے سر اُٹھا کر دیکھا۔ سب کے چہروں پر خوشی تھی۔ مسکراہٹ تھی۔ ڈب ڈبائی آنکھوں سے وہاں موجود مہمانوں کو دیکھتے ہوئے وہ مدہم لہجے میں بولی ” قبول ہے۔” )
خاور اور یوسف کو لڑتا دیکھ اس کے آدمی بھی یوسف پر جھپٹ پڑے۔ وہ بہادری سے سب کا مقابلہ کر رہا تھا کہ تبھی ان میں سے ایک نے پیچھے سے اس کے سر وار کیا وہ زمین پر جا گرا تھا۔
( “جسمین ملک ولد جہانگیر ملک آپ کو سمیر عالمگیر ولد شجاع عالمگیر کے نکاح میں حق مہر پچاس لاکھ سکہ رائج الوقت دیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو ” قبول” ہے؟ ” ایک بار پھر پوچھا۔)
خاور نے اسے گریبان سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔ مٹی سے اٹا ہوا چہرہ، منہ سے نکلتا خون، یوسف دھندلائی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔ خاور نے اب کہ اس کے پیٹ میں لات دے ماری وہ پیٹھ کے بل جا گرا۔
” مارو اسے ایک ایک ہڈی توڑ دو سالے کی زندہ نہیں بچنا چاہیئے۔” کہتا ہوا وہ پیچھے ہٹا تھا۔
( اس نے فائزہ بیگم کو دیکھا پھر بلاج کی طرف جو آنکھوں سے اشارہ کرتا اسے جواب دینے پر مجبور کر رہا تھا۔ وہ سر جھکا کر دھیرے سے بول گئی۔ ” قبول ہے۔” )
وہ بیدردی سے اسے مار رہے تھے۔ ایک یوسف کا ان سب سے مقابلہ کرنا نہ ممکن سی بات تھی۔ وہ نڈھال ہوتا اپنے ہاتھ پیر چھوڑ چکا تھا۔ ساتھ جینے کی تمنا بھی۔
” بس کرو اور اسے اُٹھا کر آگے کھائی میں پھینک دو کسی کو اس کی لاش بھی نہیں ملنی چاہیئے۔” خاور کی بات پر وہ حکم بجا لاتے یوسف کو اُٹھا کر آگے بڑھے تھے۔
( ” کیا آپ کو قبول ہے؟ ” جسمین کے ہاتھ پیر پھولنے لگے۔ بس آخری بار اور اجازت چاہی تھی۔ جس کے ملتے ہی اس کے تمام جملہ حقوق سامنے بیٹھے شخص کے نام ہوجانے تھے۔ )
وہ اسے اُٹھائے کھائی کے سامنے لے آئے تھے۔ یوسف نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا۔ موت کتنے قریب آن کھڑی تھی۔ ایک مدہم مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چھوگی۔۔۔ جیسے کہنا چاہتی ہو اب جینے کی تمنا بھی کسے تھی۔
( ” قبول ہے۔” )
اور یہاں اسی مقام پر ہاں!! اسی مقام پر یوسف حیدر نے آنکھیں بند کرتے ہوئے خود کو کھائی میں جاتا محسوس کیا تھا۔ سانس رکی تھی، وقت تھما تھا اور یوسف حیدر کا باب زندگی کی کتاب سے ختم ہوتا ہمیشہ کیلئے ماضی بن چکا تھا۔۔۔ وہ جا چکا تھا ہمیشہ کیلئے، جسمین کی زندگی سے کہیں دور اور شاید اس دنیا سے بھی بہت دور۔۔۔
۔*********۔
” آپ غیروں کی بات کرتے ہیں
ہم نے اپنے بھی آزمائے ہیں
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں
ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
کسی کا کیا جو قدموں میں جبین بندگی رکھ دی
ہماری چیز تھی ہم نے جہاں جانی وہاں رکھ دی
جو دل مانگا تو وہ بولے کہ ٹھہرو یاد کرنے دو
ذرا سی چیز تھی ہم نے خدا جانے کہاں رکھ دی
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے۔۔۔ “
فضاء میں پھیلی کلام کی آواز کو خاموشی سے سنتا وہ اپنے سامنے آگ میں لپٹی لکڑیوں کو سلگتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ گہری ہوتی رات کے ساتھ ہوا میں شامل خنکی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس نے ہاتھ جلتی لکڑیوں کے قریب لے جا کر انہیں گرمائش دینی چاہی۔
” پھر کیا ہوا؟ “
کاشف نے اس کے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ساتھ بیٹھا علی بھی تجسس سے اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگا تھا۔
” پھر۔۔۔ ” اس نے زیرِ لب دھرایا۔
” کیا جسمین کی شادی واقعی ہوگئی تھی؟ ” کاشف نے بھنویں اچکا کر پوچھا۔
” ہوگئی ہوگی۔” سامنے بیٹھا شخص دھیرے سے مسکرایا۔
” اور یوسف کے دوست، کیا انہوں نے اُسے نہیں ڈھونڈا؟ ” اب کے سوال علی کی طرف سے تھا۔
” شاید کوشش کی ہو۔” کہتے ہوئے وہ اب اپنے گرد اونی چادر کو ٹھیک کرنے لگا تھا۔
” اور۔۔۔ اور کھائی میں گرنے کے بعد یوسف کا کیا ہوا؟ “
” کھائی میں گرنے کے بعد۔۔۔”
سامنے سلگتی لکڑیوں پر نظریں جمائے، وہ دھیرے سے بڑبڑایا تھا۔ ساتھ ہی ایک بار پھر ماضی کی کھڑکیاں کھولتے ہوئے اس نے یادوں کو اندر آنے کی اجازت دی تھی۔
۔*********۔
” ابا یہ تم کس راستے پر لے آیا۔” سترہ سالہ نواز اپنے باپ کو دیکھتے ہوئے بولا۔ جو ٹھیلے کو دھکا دیتا اس پتھریلے راستے پر آگے بڑھ رہا تھا۔
” تو چپ کر اور خاموشی سے دھکا لگوا۔ ہمیں جلدی یہ جڑی بوٹیاں حکیم صاحب کے پاس پہنچانی ہیں۔” وہ اسے ڈانٹتے ہوئے بولے۔
وہ منہ بناتا ٹھیلے کو دھکا لگانے لگا اونچے نیچے پتھریلے راستے کے باعث ٹھیلے کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔
” کیا کر رہا ہے رک کیوں گیا دھکا لگا؟ ” وہ نواز کو دیکھ کر جھنجھلا کر بولے جو رک کر نہ جانے کیا دیکھ رہا تھا۔
” ابا وہ دیکھو؟ وہ کون ہے؟ ” اس نے ہاتھ سے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔
” کہاں؟ کون؟ “
” ارے وہ پتھر کے پاس شاید آدمی ہے۔ لگتا ہے اوپر سے گر گیا۔”
” کیا چل چل کے دیکھ تو سہی کون ہے زندہ بھی ہے یا نہیں۔” ٹھیلے کو ایک طرف کھڑا کر کے وہ بھاگتے ہوئے اس آدمی کے پاس آئے جو بڑے سے پتھر کے قریب منہ کے بل گرا ہوا تھا۔ سر سے نکلتا خون آس پاس کی مٹی کو بھی سرخ کر چکا تھا۔
” یہ کیا؟ یہ ادھر کہاں سے آیا؟ ” وہ حیرت سے اس خون میں لت پت وجود کو دیکھتے ہوئے بولے۔
” شاید اوپر سے گر گیا ابا۔”
” یا پھر کسی نے مار کر پھینک دیا۔” وہ دھیرے سے بڑبڑائے۔
” کیا کہا؟ ” نواز نے بھنویں اچکا کر پوچھا۔
” کچھ نہیں۔۔۔ دیکھ یہ سانس لے رہا ہے۔ تو ایک کام کر اس کو اُٹھوا کر ٹھیلے پر ڈلوا۔ رات ہونے لگی ہے اسے یہاں چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔” وہ آسمان پر چھاتے سرمئی بادلوں کو دیکھتے ہوئے بولے۔
” چل اس کے پاؤں پکڑ ہمیں جلد از جلد وہاں پہنچنا ہے؟ ” نواز کو حکم دیتے ہوئے انہوں نے زمین پر پڑے شخص کا بازوؤں سے پکڑ کر اُٹھایا۔ نواز نے بھی اسے ٹانگوں سے پکڑ لیا تھا۔ بمشکل اسے اُٹھائے وہ ٹھیلے تک آئے اور اُس پر لٹا کر تیزی سے ٹھیلے کو دھکیلتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔
” اب اگر یہ مر گیا تو؟ ” نواز نے اس شخص کو دیکھتے ہوئے کہا۔
” پہلے حکیم صاحب تک پہنچ جائیں پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔” کہتے ہوئے انہوں نے قدموں کی رفتار تیز کر دی۔
ٹھیلے کو دھکیلتے ہوئے دونوں تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے کہ تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ اپنی منزل پر جا کر رکے۔
” اے ناصر لالہ !! تم سامان لے آئے جو حکیم صاحب نے منگوایا تھا؟ ” انہیں دیکھتے ہی درگاہ کی سیڑھیوں پر کھڑا شخص بھاگ کر ان کی طرف آیا تھا۔
“ہاں ندیم !! حکیم صاحب کدھر ہیں؟ “
” اوپر درگاہ پر ہی ہیں۔ کیوں کیا ہوا؟ “
” وہ یہ آدمی کافی زخمی ہے ابھی سانس چل رہی ہے۔ چل اسے حکیم صاحب کے پاس لے کر چل۔” ناصر ٹھیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ندیم آگے بڑھا اور ٹھیلے پر لیٹے شخص کو دیکھتے ہی بوکھلا اٹھا۔
” ابے کس کو اُٹھا لایا۔ یہ پولیس کیس ہے۔ پولیس کو فون کر۔”
” اے پاگل ہے کیا؟ جب تک پولیس آئے گی یہ مر جائے گا۔ یہاں تو کوئی ہسپتال بھی نہیں۔ چل اُٹھانے میں مدد کر حکم صاحب کو دکھاتے ہیں وہ بتائیں گے کیا کرنا ہے۔”
ناصر نے اسے ڈپٹا جسکی وجہ سے مجبوراً وہ بھی اس کی مدد کرتا، اس شخص کو اُٹھائے سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا۔
” نواز سامان اُٹھا کر اوپر لے آنا۔”
ناصر سیڑھیاں چڑھتا چلاتے ہوئے بولا۔ جس پر نواز اثبات میں سر ہلاتا فوراً ٹھیلے پر سے سامان اُتارنے لگا تھا۔
۔*********۔
” حکیم صاحب یہ بچ جائے گا؟ “
ناصر نے حکیم صاحب کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ جو پیالے میں پانی لیے کپڑا گیلا کرتے اپنے سامنے لیٹے شخص کے زخم صاف کر رہے تھے۔
” زخم گہرے ہیں پر زندگی اور موت اللّٰه کے ہاتھ میں ہے۔” وہ سنجیدگی سے بولے۔
” آپ کو نہیں لگتا ہمیں پولیس کو فون کرنا چاہیئے؟ ” ندیم کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی تھی۔
” پولیس نے آکے کیا کر لینا ہے۔ یہ تو بیہوش پڑا ہے۔ پولیس آ کر ہمارا ہی دماغ کھائے گی۔” ناصر چڑ کر بولا۔
درحقیقت وہ خود کو ان سب جھمیلوں سے دور رکھنا چاہتا تھا۔ جتنا کر چکا تھا۔ وہ کافی تھا۔
” ہاں پر اسے ہسپتال۔۔۔”
” ہسپتال کیلئے شہر جانا پڑے گا۔ تجھے حکیم صاحب کی صلاحیتوں پر کوئی شک ہے جو ہسپتال ہسپتال کرے جا رہا ہے۔ حکیم صاحب اسے دیکھ رہے ہیں نا۔ تو منہ بند کر۔” وہ ندیم کی بات کاٹتا اب کے سخت لہجے میں بولا۔
” تم دونوں اب کمرے سے باہر جاؤ۔ میں نے اس کے زخموں پر مرہم لگا دیا ہے۔ صبح دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔” ان دونوں سے کہہ کر وہ پاس رکھے برتن سے پانی نکال کر ہاتھ دھونے لگے۔
” لیکن اس کا کیا ہوگا رات کو طبیعت خراب ہو گئی تو؟ “
” تم لوگ جاؤ میں ہوں اس کے پاس دیکھتا رہوں گا۔” انہوں نے تسلی دی۔
وہ دونوں اثبات میں سر ہلاتے فوراً اس چھوٹے سے کمرے سے باہر نکل گئے۔ جبکہ حکیم صاحب وہیں بیٹھے اس اجنبی شخص پر آیتیں پڑھ کر دم کرنے لگے تھے۔
۔*********۔
کمرے کی کھڑکی سے چھن کر آتی سورج کی کرنے سیدھا اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ جس کی تپش محسوس کرتے ہوئے اس کی پلکوں کی جھالر لرز اُٹھی۔ اس نے بھاری ہوتے سر کے ساتھ بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا تو خود کو انجان جگہ پر پایا تھا۔
چھوٹا سا کمرا جس میں لکڑی کا پرانا دروازہ لگا ہوا تھا۔ وہیں دائیں جانب ایک کونے میں پانی کا مٹکا بھی موجود تھا۔ پاس ہی لکڑی کی ٹیبل موجود تھی۔ جس پر جائے نماز اور تسبیح رکھی ہوئی تھی۔
کمرے میں یونہی نظر دوڑاتے ہوئے اس نے اُٹھنے کی کوشش کرنی چاہی پر جسم میں دوڑتی درد کی ایک شدید لہر نے اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔
” لیٹے رہو بیٹا۔” حکیم صاحب دروازے سے اندر آتے ہوئے مسکرا کر بولے۔
” تمہارے سر پر شدید چوٹ لگی ہے۔ کمر میں بھی گہرا زخم ہے اور بائیں ٹانگ کی ہڈی بھی ٹوٹ چکی ہے۔ باقی چھوٹے چھوٹے زخم بھی تمہارے جسم پر موجود ہیں۔ اس لیے بس آرام کرو۔”
وہ اس کے پاس آ کر کرسی پر بیٹھ گئے۔ ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑا مرہم اس کے بازو پر لگانے لگے۔ اس نے بغور ان کا جائزہ لیا۔ وہ اس وقت سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔ سفید داڑھی سے سجے نورانی چہرے پر نرم سی مسکراہٹ تھی۔
” میں کہاں ہوں اور یہاں کیسے آیا؟ ” نحیف سی آواز میں پوچھا۔
” تم درگاہ پر ہو۔ پانچ دن پہلے ناصر تمہیں یہاں لے کر آیا تھا۔”
” پانچ دن؟ “
” ہاں !! تم شدید زخمی تھے۔ سوتی جاگتی کیفیت میں پانچ دن گزارنے کے بعد تم اب مکمل طور پر ہوش میں آئے ہو۔” وہ مسکرا کر بولے۔
” اچھا کچھ اپنے بارے میں بتاؤ نام کیا ہے تمہارا؟ “
” میرا نام؟ ” اس نے دھیرے سے دھرایا۔
” ہاں !! کیا ہے تمہارا نام؟ “
” یوسف !! “
