Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 8
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 8
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
صبح 6 بجے کا وقت تھا۔۔سورج کی ہلکی ہلکی کرن نے ہر طرف اجلا کر دیا تھا ۔۔
وہ سویمنگ پول میں بڑی تندہی سے تیراکی کر رہا تھا ۔۔۔
اس کے پاس ہی بلیک پینٹ اوپر ٹی شرٹ اس پے بلیک ویسٹ کوٹ پہنے ایک بازوں میں ٹاول ڈالے جبکہ دوسرے ہاتھ میں ٹرے میں جوس کا گلاس رکھے اس کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
بالآخر اس کا انتظار ختم ہوا ۔۔۔ جان نے سویمنگ پول سے نکل کر اس سے ٹاول لے کر پہلے خود کو خشک کیا پھر جوس کا گلاس پکڑ کر سویمنگ پول کے پاس پڑی لکڑی کی چیئر پر بیٹھ کر پینے لگا ۔۔ اس کی نیلی آنکھیں اس وقت جیسے کسی گہری سوچ میں تھیں۔۔
اس کی نظر پول میں پرتی سورج کی کرنوں پر تھی ۔۔
اسنے جوس کا گلاس ختم کر کے ملازم کو جانے کا اشارہ کیا اور خود وہیں بیٹھا رہا ۔۔تھوری دیر بعد وہی لڑکا اس کا موبائل لے کر دوبارہ اس کے پاس آیا ۔ جو بج رہا تھا ۔
اس کے موبائل پکڑتے ہی وہ لڑکا وہاں سے چلا گیا۔
جان نے پروفائل پر دیکھا جہاں روزی کالنگ آرہا تھا اس نے کوفت سے آنکھیں گھومائی اور کال پک کر کے کان سے لگائی
” ہائے تم کہاں ہو ؟”
روزی ایک امیر بزنس مین کی اولاد تھی ۔جان اور روزی کا افیئر بھی چلا تھا لیکن جلد ہی جان اپنی طبیعت کے باعث بےزار ہوگیا تھا ۔ وہ لوگ پہلی بار اسی بار میں ملے تھے جہاں کل رات انہوں نے رات گزاری تھی۔
“کام کی بات کرو ۔کیوں فون کیا ہے ؟” وہ اپنے ازالہ سرد لہجے میں بولا ۔
اس کے اس طرح بولنے پر روزی کو انسلٹ فیل ہوئی لیکن وہ نظزاداز کر کے دوبارہ اپنائیت بھرے لہجے میں گویا ہوئی ۔
” میں بریک فاسٹ میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔”
اس کی باتں کوفت سے سنتا جان اس کی یہ بات سن کر تمسخر آمیز انداز میں مسکراتے ہوئے گویا ہوا ۔
” کس نے کہا ہے انتظار کرو “
ایک پل کو تو اسے سمجھ نہیں آیا کیا بولے ۔۔۔ پھر تھوری دیر بعد وہ زرہ سمبھل کر بولی
” کل رات ۔۔ مجھے لگا سب ٹھیک ہو گیا ہے “
” تمہیں لگا تو میں کیا کروں ” وہ ہلکے سے کندے اچکاتے ہوئے بولا ۔
” تو تم نے مجھے یوز کیا تھا ” دوسری طرف وہ غصے سے چیختے ہوئے بولی ۔
اسکے اس طرح چیخ کر بولنے پر جان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
” میں نے۔۔۔۔۔ تم نے بولا تھا تم خود آئی تھی ۔۔ جو بھی ہوا تھا اس میں تمہاری بھی مرضی شامل تھی ” سخت لہجے میں بولتے ہوئے مزید اس کی سنے بغیر اس نے کال بند کر کے اس کا نمبر بلیک لسٹ پر ڈال دیا۔۔۔
اور تنفر سے سر جھٹکتے ہوئے اس کو خود پر بھی غصہ آیا کہ کیوں وہ کل اتنا بے خود ہوگیا تھا ۔۔
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کو اپنے پیچے کسی کی موجودگی کا احساسِ ہوا ۔۔
اس سے پہلے کہ پہچے موجود شخص اس کو دھکا دیتا وہ فوراً سے پہلے ایک طرف ہوگیا۔۔
پیچھے موجود شخص اس کے لیے تیار نہیں تھا اس لیے جان کی بجائے وہ خود لہرتا ہوا
” شرررررب ” کی آواز کے ساتھ پول میں گرا ۔۔۔۔
جان نے مسکراتی نظروں سے اس کی جانب دیکھا جو بھیگا بلا بنا غصے سے اسی کو گھور رہا تھا ۔۔۔
” کوئی نہیں کبھی تو ہاتھ آؤ گے “
ڈیریک پول سے نکل کر اپنے تیاری کو دکھ سے دیکھا جس پر پانی پھیر چکا تھا ۔
” تب کی تب دیکھی جانے گی ” جان نے مکھی آڑانے والے انداز سے کہا۔
” میری ساری تیاری اور میرا پیارا ڈریس برباد ہوگیا “
ڈیریک کوتو اپنی تیاری ضایع ہونے کا دکھ نہیں جا رہا تھا ۔۔
اتنے محنت سے جل سے سیٹ کیے بل اس وقت گھوسلا بن چکے تھے ۔۔ ریڈ موٹی سی ٹی شرٹ نیچے وائیٹ پینٹ پہنے وہ اپنی ڈیلی روٹئین سے ہٹ کر پیارا لگ رہا تھا ۔
” تم نے کیا لڑکیوں کی طرح تیاری کا رونا شروع کر دیا ہے “
جان نے ناگواری سے اس کا یہ ماتم کرتا انداز دیکھا ۔۔اور اندر کی جانب بڑھتے ہوئے بولا
” تم تو رہنے ہی دو رف ہولیے میں بھی لڑکیاں تمہارے پیچھے پاگل ہو جاتی ہیں محنت تو ہم جیسے کو کرنا پرتی ہے “
ڈیریک منہ بسورتا اس کے پیچھے آتے ہوئے بولا ۔۔
وہ بڑے سے ہال نما لاونج سے ہوتے ہوۓ اس کے روم پہنچے ۔
” اور تم یہ بھی تو دیکھوں میں تو صرف لڑکیوں کو اپنی پرسنیلٹی کی وجہ سے پاگل کرتا ہو ں مگر تم تو لڑکیاں تو لڑکیاں ہر کسی کو سچ مچ میں پاگل کر دیتے ہو ۔۔ اس لیے اب یہ ڈرامہ بند کرو”
جان کی بات سن کر ڈیریک کی سبز آنکھیں شرارت سے چمکی ۔۔۔ اور وہ دوبارہ اپنی پرانی لے میں آیا۔۔
” تم سے بہتر مجھے کون جان سکتا ہے “
ڈیریک جان کو سائیڈ پر کرتے ہوئے بولا جو کبڈ سے اپنے کپڑے نکال رہا تھا ۔۔۔۔
اس کے اس طرح کرنے پر جان نے اسے گھورا مگر دوسری طرف تو یوں تھا کہ پرواہ ہی نہیں گھورتے رہو۔۔۔۔۔
” جیمز۔۔۔۔ جیمز”
“اسے کیوں بلا رہے ہو وہ ناشتہ ریڈی کروا رہا ہے “
ڈیریک اسی طرح الماری میں سر گھساۓ سنجیدگی سے اس کو ٹوکتے ہوئے بولا۔۔
اور ناشتہ اگر ڈیریک نے کرنا تھا تو پھر واقعی جیمز بچارے کو ڈسٹرپ نہیں کرنا چاہیئے تھا ۔
اس لیے جان اس کو گھوری سے نوازتا ہوا اپنے کپڑے لے کر باتھ روم گھس گیا ۔۔۔
اس کے جاتے ہی ڈیرئیک نے اس کے سارے کپڑے ایک ایک کر کے نکال کر اپنے ساتھ لگا کر چیک کرتے ہوئے لاپرواہی سے ادھر اُدھر پھکنے شروع کر دیے تھے ۔۔۔
بلآخر کمرے کا ستیاس کرنے کے بعد اس کو ایک شرٹ پسند آئی تھی ۔۔۔
بچارا جمیز جو ناشتہ ریڈی ہونے کا بتانے آیا تھا کمرے کا یہ حال دیکھ کر پرشان ہوگیا ۔۔
اسی وقت جان بھی باتھ روم سے نکلا لیکن کمرے کی حالت دیکھ کر اسے ذرہ بھی حیرانگی نہیں ہوئی اسے ڈیریک سے ایسے ہی کسی کام کی امید تھی ۔۔
اس لیے اسے کچھ کہے بغیر وہ دروازے کے پاس پہنچا ۔۔۔۔۔ اور پھر رک کر اس کی جانب مڑتے ہوئے بولا۔
” میرے پاس تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے “
ڈیریک جو جان کے پہلے تو کچھ کہے بغیر خاموشی سے دروازے کی جانب چلتا دیکھ کر حیران ہو رہا تھا اس کی بات سن کر تیزی سے اس کی جانب آیا۔۔
” کیا سرپرائز ؟؟”
” 3 منٹ ہے کمرا صاف چاہیے مجھے ۔۔ پھر میں تمہیں سرپرائز کا بتاؤ گا ۔۔۔۔۔ اور ہاں پچھلی بار کی طرح کی صفائی نہ ہو ۔۔”
جاتے جاتے اسے وارن کرنا نہیں بھولا۔
اور پھر واقعی تین منٹ سے پہلے ہی وہ کمرہ سمیٹ کر ڈائینگ ٹیبل پر تھا ۔۔ جس کی تصدیق جمیز بھی کروا چکا تھا ۔۔
” اب بتاؤ !!”
وہ بے صبری سے بولا ۔۔۔
” ایک نئی موڈل اسٹائن کی ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔””
ایک نئی ماڈل مین ایک نیا شکار ۔۔۔ جان کی بات سن کر اس نے فوراَ حساب کتاب کیا ۔۔۔۔
اور اس کے چہرے اور سبز آنکھوں میں شرارتی چمک میں آزافہ ہوا۔
” کون ہے ؟؟ ” اس نے بے تابی سے پوچھا ۔۔
” لائیو دیکھنا چاہوں گے؟؟؟ “
“ابھی دیکھنا ہے ” ڈیریک چھوٹے بچوں کی طرح چیئر سے اچھلتے ہوئے خوشی سے بولا ۔۔
” تھورا ویٹ کرو ۔۔۔”
” تھورا کتنا ” بےتابی سے پوچھا گیا ۔۔۔
“کچھ دن “
” ہمممممم۔۔ ” اور یہ سارا اس کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔
” چلو اب ناشتہ شروع کرو۔۔۔۔ “جان اس کا اترا ہوا منہ دیکھ کر اپنی مسکراہٹ ہونٹوں تلے روکتے ہوئے سنجیدگی سے اس کو سامنے بھری پڑی ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کھانے کا کہا۔۔۔اس کی آنکھوں میں اس وقت ایک مسرور معنی خیز سی چمک تھی ۔ جس پر ڈیریک ناشتہ کرنے کی وجہ سے غور نہیں کر سکا ورنہ ضرور چونکتا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارک میں اس وقت اکثر ہی لوگ واک کے لیے آۓ ہوئے تھے ۔۔
کوئی ایکسرسائز کر رہا تھا تو کوئی جاگنگ ۔۔ اور کچھ اپنے بچوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے ۔۔
حور بھی بلیک کلر کے سٹولر سے حجاب کیے ساتھ بلیک رنگ کوٹ پہنے ادھر اُدھر چکر کاٹتی گیٹ پر نظر رکھے ایما کا انتظار کر رہی تھی ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ ایما سے پہلے پارک میں پہنچ کر اس کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
اس نے گیٹ سے نظر ہٹا کر موبائل کی طرف دیکھا کہ کوئی میسج تو نہیں آیا ایما کا مگر موبائل بھی خاموش ۔۔ اس نے ایک بار پھر سے گیٹ پر نظر ٹکا دی اس بار اسے مایوسی نہیں ہوئی ایما آگئی تھی ۔۔۔
حور نے ناراضگی کے اظہار کے طور پر منہ دوسری طرف کر لیا۔۔
اس کا یہ انداز دیکھ کر ایما جو اسابیلا کا سہارا لے کر دھیمے قدموں سے اس کی جانب بھر رہی تھی ہنس دی ۔۔۔ کیونکہ اسے پتا تھا کہ اس کی دوست ناراضگی اور غصہ کرنے کے معاملے میں بالکل کوری ہے ۔۔
” حورر ” ایما اس کے پاس پہنچ کر اسے بولایا۔
دوسری طرف حور نے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی اس کی جانب دیکھا ۔
” یار دیکھو یہ غلط بات ہے نہ مجھے کل چوٹ آئی تھی پھر بھی میں یہاں آئی اور۔۔۔۔۔ “
اس کے بات مکمل کرنے سے پہلے ہی حور فوراً اس کی طرف موڑ کر دیکھا جو اسابیلا کے سہارے کھڑی تھی ۔۔۔
” کیا ہوا ؟؟. کہاں لگی چوٹ ؟؟ ” حور اس سے بازوں سے پکڑتے ہوئے بے چینی سے اوپر سے نیچے اس کا جائزہ لیتے ہوئے بولی اور پھر اس کے بتانے سے پہلے ہی حور کی نظر اس کے پاؤں پر پر چکی تھے ۔۔
” یہاں بیٹھو ” حور نے پاس پڑے بینچ پر اسے بیٹھایا ۔
” ڈیئر تم اس کا خیال رکھو میں آتی ہوں ” ایما کو اس کے حوالے کرتے ہوئے اسابیلا اپنے کسی جاننے والی کی طرف بڑھ گئی۔۔
” تم مجھے بتا نہیں سکتی تھی “
حور اس کے پیٹی والے پاؤں کو تکلیف سے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
” اچھا سوری نہ میں بس تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔”
ایما حور کا ہاتھ پکڑ کر اس کا رخ اپنی جانب موڑتے ہوئے اپنائیت سے بولی ۔۔۔
” میں پریشان تھوری ہوتی ۔۔۔ میں تو تمہارے لیے دعا کرنی تھی ۔۔ کہ آللہ تمہاری مشکلات آسان کر دے “
حور کی یہ بات سن کر ذیما اس کا ہاتھ چھوڑ کر نظریں اپنے ہاتھوں کی لکیروں پر جما دی اور بڑے سنجیدہ لہجے میں بولی۔۔
” کیا اس طرح دعا کرنے سے سب ٹھیک ہو جاتا ہے ۔۔۔ کیا تمہارا اللّٰہ میری تکلیف بھی کم کر سکتا ہے ؟؟”
ایما کا سؤال حور کو سمجھ آ گیا تھا ۔۔
” دیکھوں ایما ہم سب کیا تم کیا میں کوئی مسلمان یا کوئی اور مذہب کا اگر سچے دل سے اس سے مانگو تو وہ کبھی مایوس نہیں کرتا …. “
حور اس کے دونوں ہاتھ دربار سے پکڑتے ہوئے بولی ۔۔۔ اسے اتنا اندازہ ہو گیا تھا ضرور کل کچھ بڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے ایما کو چوٹ آئی تھی ۔۔ لیکن وہ چاہتی کہ ایما خود بتائیے
” مگر کیوں ۔۔ جب ہم اس کی عبادت نہیں کرتے ۔۔اس کے رولز فلو نہیں کرتے ۔۔ پھر بھی ؟؟؟ ‘”
ایما نے اپنے اندر مچلتے سوال کو جو وہ کافی عرصے دباۓ بیٹھی آج زبان دے دی ۔۔۔
” ایک بات بتاؤ ؟؟” حور سامنے اسابیلا کی جناب دیکتھے ہوئے بولی جو اپنی ہم عورت سے ہنستے ہوئے بات کر رہی تھی ۔۔۔
” پوچھو .” ایما بھی اس کے نظروں کے تعاقب میں اسابیلا کو دیکھتے بولی ۔۔
” تم اپنی موم سے بتمیزی کرو ۔۔ ان سے ناراض ہو بات نہ کرتی ہو مگر جب ہی کوئی مشکل آتی ہے تو سب سے پہلے تمہیں کس کا خیال آتا ہے؟ یا تمہں چوٹ لگے تو منہ سے بے ساختہ کس کا نام نکلتا ہے “” اپنے بات کے بدلے اسے حور کی یہ بات کوئی عجیب لگی لیکن پھر بھی اس نے جواب دیا۔۔
” موم”.
حور دیھرے سے مسکرائی اس وقت ایما کو اس کے چہرے پر عجیب سے روشنی نکلتی محسوس ہوئی تھی ۔۔
” اسی طرح ہمارا جو اللّٰہ ہے نا وہ بھی ہم سب سے 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے ۔۔ اس لیے وہ ہمشہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے ۔جس طرح ماں اپنی اولاد کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتی اس طرح وہ بھی اپنے بندوں کو مشکل میں ڈالتا ہے تاکہ اس کا بندہ اسے یاد رکھے ۔۔۔ اس کی یاد سے غافل نا ہو لیکن ہر مشکل اللّٰہ کی طرف سے نہیں آتی کچھ لوگ خود اپنے لیے مشکل کھڑی کرتے ہیں ۔۔۔”
اس نے آسان لفظوں میں ایما کی پرشانی دور کرنا چاہی۔۔۔۔۔
ایما اس کی بات سن کر گہری سوچ میں گم ہوگی ۔۔۔
” بپ بپ بپ ” حور نے موبائل سکرین پر دیکھا تو امی کی کال تھی جس سے اس نے فوراً آٹینڈ کر کے کان کے ساتھ لگا لیا ۔۔۔۔
موبائل کی بیل سن کر ایما بھی اپنی سوچ سے نکل کر اس کی جانب متوجہ ہوئی جس کا رنگ کال سن کر زرد سا ہو گیا تھا ۔۔۔
” جی ٹھیک ہے “
” اوکے ۔۔ اللّٰہ حافظ “
حور کال بند کر کے اس کی جانب مڑی ۔۔
” اوکے ایما میں چلتی ہوں اب ….” ایما کو اس کے اتنی جلدی جانے کی تک سمجھ نہیں آئی ۔۔۔
” مگر اتنی جلدی ۔۔”
” ہممم۔ اچھا تم اپنا خیال رکھنا ..” حور کھڑی ہوتی ہوئی بولی ۔۔
” ابھی تو میں نے تم سے سہی سے باتیں بھی نہیں کی ” ایما منہ بسورے ہوئے بولی ۔۔۔
“کال پر کر لینا یا تم میری طرف “
حور کا دھیان موبائل کی طرف ہی تھا جہاں میسج آیا ہوا تھا ۔۔۔ جس کو پڑھ کر اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی ۔۔
” اوکے ۔۔بائے “
ایما کو وہ بےچین سی لگی تھی ۔۔۔
” ہممم۔۔ اللّٰہ حافظ “
حور جلدی سے گیٹ سے باہر نکل گئی جبکہ ایما کو اس کا انداز بہت عجیب سا لگا تھا۔۔۔۔
