Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 6
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 6
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
کچھ ٹونے کی آواز سے اس کی آنکھ کھولی۔۔اس نے آس پاس کا جائیزہ لیا ہر چیز اپنی جگہ سلامت پڑی ہوئی تھی ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ ان آوازوں کو اپنا وہم سمجھ کر دوبارہ سو جاتی ۔۔
“”ٹھاٹھاہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔””
کی آواز أئی جیسے کوئی بھاری چیز کسی نے پوری قوت سے زمین پر پھینکی ہو۔۔
یہ آواز اسابیلا کے کمرے سے آ رہی تھی ۔۔۔گھبرا کر وہ صوفے سے جھٹکے سے اٹھی کہ اس طرح اٹھنے سے اس کے پاؤں میں درد کی شدید لہر اٹھی ۔۔۔ لیکن وہ پھر بھی درد کو ضبط کرتے ہوئے اسابیلا کے کمرے کی طرف بڑھی اس وقت ایما کو بس اپنے ماں کی فکر ہو رہی تھی ۔۔۔
وہ دیوار کے سہارے چلتے ہوئے کمرے میں پہنچی ۔۔ جلدی میں وہ جوتا پہنا بھی بھول گئی۔۔۔
اسابیلا کے کمرے کا دروازہ آدکھلا تھا ۔۔۔ جسے پوار کھول کر وہ اندر داخل ہوئی ۔۔۔
اندر کمرے کا منظر یوں تھا جیسے کوئی طوفان آیا ہو ۔۔ بیڈ کی چادر زمین پر گری ہوئی تھی ۔۔۔۔کپڑے سارے الماری سے باہر ابلے ہوئے تھے۔۔۔ چھوٹے سارے ڈیکوریشن پیس اور فریم بھی زمین پر گرے ہوئے تھے اور کچھ جو بہت نازک تھے وہ ٹوٹے ہوئے تھے ۔۔۔
اسابیلا بیڈ کے ایک طرف کھڑی خوفزدہ نظروں سے سامنے دیکھ رہی تھی جہاں پیٹر اب دراز کھول کھول کر اس میں سے چیزیں نکال رہا تھا۔۔۔
ایما کو پتا تھا کہ وہ کیا ڈھونڈ رہا ہے ۔۔۔
” پیٹر یہ کیا ہے ؟؟ ” ایما چیخنے کے انداز سے بولی ۔۔
اس کی آواز سن کر پیٹر نے اپنا چہرہ اس کی جانب کی ۔۔
ایما تو اس کا چہرا اور حالت دیکھ کر سکتے میں ہی چلی گئی تھی۔۔۔
آنکھیں لال انگار اور ان کے نیچے پڑے ہلکے ، زرد رنگت ، اور اس کی صحت بھی نا ہونے کے برابر تھی ۔ اس کی جینز اور شرٹ بھی جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی ۔اس کو دیکھ کر جو پہلا خیال دماغ میں آتا تو وہ بھکاری کا تھا
ایما پیٹر کی جانب ہی دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر ایما کو دیکھ کر ڈر کے سائے لہرائے تھے۔۔
” مج۔۔۔ھ۔۔ے پیس۔۔۔پیسے چاہیئے” وہ اٹک اٹک کر بول رہا تھا ۔۔ جیسے اسے بولے عرصہ ہو گیا ہو ۔
” کیا کرنے ہیں پیسے ؟؟ ” ایما آہستہ سے اس کی جانب بڑھتے ہوئے نرمی سے بولی ۔۔
” ت۔۔۔۔تم م ۔۔جھے ۔۔۔ ماررر۔۔وو ۔گی ” اس کو اپنے جانب بڑھتا دیکھ کر وہ بچوں کی طرح ڈرتے ہوےئے بولا وہ اس کو پچھلی بار کا حوالہ دے رہا تھا جب ایما نے اس کے سر پر گلدان سے وار کیا تھا ۔۔۔
” نہیں مارو گی پکا “” ایما اس کو پیار سے پچکارتے ہوئے بولی ۔۔اس کا سارہ دھیان پیٹر کی طرف تھا جس کی وجہ سے وہ نیچے گرے کانچ کے ٹکڑے کو نہیں دیکھ پائی اور اگلے ہی پل وہ کانچ کا ٹکڑا اس کے موچ والے پاؤں میں کھب گیا ۔۔
” آہ” تکلیف اتنی تھی کہ وہ وہی پاؤں پکڑ کر بیٹھ گئی ۔۔
اس دوران اسابیلا حرکت میں آئی اور جلدی سے ایما کے پاس پہنچ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔
جبکہ پیٹر کسی بت کی طرح کھڑا پوری آنکھیں کھولیں ایما کے پاؤں سے نکلتا خون دیکھ رہا تھا ۔۔
” پیٹر۔۔” ایما کی آواز سن کر پیٹر نے اس کی جانب دیکھا اور ایما نے عرصے بعد اس کی آنکھوں میں وہی تکلیف دیکھی جو اکثر ایما کو چوٹ لگنے پر پیٹر کی آنکھوں میں نظر آتی تھی۔۔
” پلیز یہ سب چھوڑ دو ۔۔۔۔۔ مجھ سے تمہاری یہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔۔۔ پلیز میرا بھائی مجھے واپس کر دو ..” وہ پر نم لہجے میں بولی ۔۔آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر اس کا چہرا بھگو رہے تھے۔۔
“ایماااااا”
پیٹر جو اس کی جانب بڑھنے ہی لگا تھا کہ کسی مرد کے اندر داخل ہونے پر وہ وہیں اسی کمرے کی کھڑکی سے کھود کر نکل گیا ۔۔اس دوران ایک آنسو چپکے سے اس کی آنکھ سے نکلا تھا۔۔
“ایما ” وہ شخص جو پر جوش سا ہو کر اندر داخل ہوا تھا۔
” حان ہم یہاں ہے ” سب سے پہلے اسابیلا کو ہوش آیا اس نے ایک نظر ایما کو دیکھا جو بس کھڑکی کو دیکھی جا رہی تھی جہاں سے پیٹر کود کر گیا تھا ۔۔
حان اسابیلا کی آواز سن کر اس کے کمرے میں آ گیا لیکن اندر کا منظر دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا تھا
” ایما تم ٹھیک ہو ” وہ ایما کے پاس پنجوں کے بل بیٹھ کر بولا۔
” حان اس کے پاؤں سے خون نکل رہا ہے ” اسابیلا گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی ۔۔اگر وہ نہ بھی بولتی تو بھی حنان کی نظر اس کے پاؤں کی جانب پر چکی تھی ۔۔
اس کی یہ حالت دیکھ کر حنان نے ضبط کرنے کے لیے اپنی مٹھی بھینچ لی ۔
” ایما ” حنان نے اس کے سر سے اس کا چہرہ اپنی جانب موڑہ۔
ایما دومنٹ تک تو اس کو ایسے دیکھتی رہی جیسے پہچانے کی کوشش کر رہی ہو ۔
اس کے اس طرح دیکھنے پر حنان کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکا۔۔
” حا۔۔ن۔۔۔۔۔پیٹ۔۔ر “اس کو پہچان کر وہ آنسو بھری آنکھوں سے کھڑکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔
حنان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ جو اسابیلا کے سہارے ہی تقریباً تھی بلکل ڈھیلی ہوکر اسابیلا کے ناتواں بازوں میں گر گئی۔۔
” ایما ۔۔۔۔۔۔۔” اسابیلا اور حنان دنوں نے گھبرا کر ایک ساتھ اس کا نام پکارا
مگر ایما کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور لیپ ٹاپ پر مصروف تھی جبکہ اس کے ساتھ والے صوفے پر علی بیٹھا سیب اور امرود سے بھرپور انصاف کرتے ہوئے ساتھ میں موبائل پر گیم بھی کھیل رہا تھا ۔
یہ وہ پھل تھے جو رخسار بیگم نے خاص طور پر حور کے لیے کاٹے تھے ۔۔۔
” علی۔۔۔۔۔۔ ” علی جو مزے سے سیب کی آخری رسومات اپنی منہ میں ڈال چکا تھا ۔ رخسار بیگم کی غصے سے بھر پور آواز سن کر سپرنگ کی طرح سیدھا ہوا۔۔
” ج۔۔جی امی ” علی اپنی دل کی دھڑکن کو نورمل کرتے ہوئے بولا ۔۔ہوتا ہے نا ایسے جب امی غصہ سے بولیں تو دل 170 کی رفتار سے دوڑنے لگتا ہے اس وقت علی بھی اسی دور سے گزر رہا تھا۔
” یہ سیب اور امرد حور کے تھے ” وہ خونخوار نظروں سے اس کو دیکھ کر دانت پیستے ہوئے بولی۔۔
” اچھا امی ۔۔ ویسے یہ کوئی نئی کمپنی کھولی ہے ؟؟ پہلے تو اس کا نام نہیں سنا تھا . مطلب حور کے امرود اور سیب ۔۔۔کافی اچھا نام ہے “”
اس کو سارا پتا تھا کہ رخسار بیگم کس بارے میں بات کر رہی ہیں لیکن مجال ہو جو وہ سیدھا جواب دے ۔ جب تک اگلے کو غصہ نہ دیلا کر اس کا بی پی ہائی نا ہو جائے تب تک یہ پاکستانی لڑکوں کی بیماری ہے کہ اگلے کو ذچ کر کے رکھے گے ۔۔ چاہیے وہ جہاں بھی چلے جائیں رہے گے وہی ۔۔۔
“نالائیک اولاد ۔۔۔۔ بے شرم ۔۔ پتا نہیں کس پر چلا گیا ہے۔” رخسار بیگم کی بات پہ علی نے فرضی کالر جھاڑے ۔۔ جیسے رخسار بیگم نے کوئی بہت بڑا خطاب دیا ہو اسے ۔۔۔۔
” امی نانا تو کہتے ہیں کہ شکل باپ پر اور مزاج بلکل ماں پر گیا ہے “
علی تو بول کر ریلکس ہو کے دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔ لیکن فلائنگ چپل نے دوبارہ اسے صوفے پر سے چلانگ لگا کر دوڑنے پر مجبور کر دیا۔۔
” رک بے غیرتا ۔۔۔ تینو تے میں ہلے دسدی یاں ۔۔۔۔کھلویا بندرا۔۔۔۔ “
علی جو اب ادھر اُدھر دور کر رخسار بیگم کا نشانہ خراب کر رہا تھا ۔۔۔ رخسار کی بات سن کر اس کی زبان پر پھر سے کھبلی ہوئی ۔۔۔
” امی مجھے آپ گل دسدی بس ۔۔۔ مطلب اولی 10 روپیس کی بات اتنی سستی “
وہ ان کے نشانے سے بچتے ہوئے بولا ۔
اب رخسار بیگم کی دونوں جوتیاں اس کو مارنے کے چکر میں دور گری ہوئی تھیں ۔۔
علی نے بھی سکون کا سانس لیا کہ “شکر ہے امی کی گولیاں تو ختم ہوئیں “” یہ بات اس نے دل میں بولی تھی لیکن زبان سے بھی نکل گئی ۔۔۔
اس نے زبان دانتوں تلے دبائی اور ڈرتے ڈرتے رخسار بیگم کی طرف دیکھا جو کہ اسی کو دیکھ رہی تھیں لیکن علی کا تراہ تو تب نکلا جب رخسار بیگم نے سلمان صاحب کی جوتی پکری جو ان کے لیے تھوری دیر پہلے حور نے نکالی تھی۔۔۔
” امی یہ نہیں یہ بہت زور سے لگتی ہے ” علی ڈرتے ہوئے پیچھے کی جانب قدم آٹھاتے ہوئے منمایا ۔۔
رخسار کچھ نہیں بولیں بس ہاتھ اونچا کیا اور نشانہ لے کر پھنک دیا ۔۔ علی جو دروازے کے پاس ہی تھا فوراً نیچے جھک گیا اور جوتا اندر داخل ہوتے سلمان صاحب کے سر پر لگا ۔۔
انہوں نے چونک کر پہلے نیچے جکھے علی کی جانب دیکھا پھر اپنی بیگم کی طرف جو جوتا ان کو لگتا دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ چکی تھیں ۔ پھر ان کی نظر اپنی لاڈلی حور کی طرف گئی ۔ جو مسکراتے ہوئے یہ سب دیکھ رہی تھی لیکن ان کو پتا تھا کہ یہ مسکراہٹ اس کے آنکھوں کا ساتھ نہیں دیتی
ان کو معاملہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ضرور رخسار بیگم کو تنگ کرتے لیکن آج ان کے ساتھ موجود شخص کی وجہ سے پہلے ہی اپسٹ تھے ۔۔۔
” اندر آجاؤ “
انہوں نے اپنے پیچھے موجود شخص کو آنے کے لیے راستہ دیا۔۔
اندر آتے شخص کو دیکھ کر پورا لانج میں موت کی سی خاموشی ہو گئی سب اپنی جگہ سٹل تھے ۔۔سوائے سلیمان صاحب کے۔۔
سب سے پہلے حور کو ہوش آیا اور وہ لیپ ٹاپ کو یہیں صوفے پر پھنک کر اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گئی ۔۔۔
اس کے جاتے ہی گویا سب ہوش میں آئے۔۔
سلمان صاحب تو اسے لے کر سٹڈی میں لے گئے جب کہ رخسار بیگم حور کی جانب چل دی۔۔
علی نے افسوس سے یہ سب دیکھا اس کو پتا تھا کہ اس کی بہن اندر رو رہی ہوگی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر کیا ہوا ہے اسے”
حنان جو ہسپتال کے بینچ پر اپنا سر دنوں ہاتوں میں گراۓ تھا کہ ڈاکٹر کے باہر نکلتے ہی بے تابی سے اس کی جانب بڑھا ۔۔۔
” وہ بلکل ٹھیک ہیں ۔۔۔بسں ٹینشن اور بی پی لو ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئیں ہیں ۔۔”
ڈاکٹر اس کا کندھا تھپکاتے ہوئے بولے۔
” اور اس کا پاؤں ؟؟؟؟ ” حنان کے دماغ میں ایما کا خون سے بھرا پاؤں گھوما ۔۔
” اس کی بھی ہم نے ڈریسنگ کر دی ہے۔ ۔ کانچ زیادہ اندر نہیں گیا تھا ۔۔ “
ڈاکٹر کی بات سن کر اس کی پریشانی کم ہوئی لیکن ختم نہیں بار بار اس کے دماغ کی سکرین پر ایما کا زرد چہرہ گھوم رہا تھا ۔۔بھلا وہ کہاں دیکھ سکتا تھا اس کو زرہ بھی تکلیف میں ۔۔
ڈاکٹر اس کو ضروری ہدایات دے کر چلا گیا ۔۔۔تو حنان بھی اس کمرے کی جانب بڑھا جہاں ایما تھی اسابیلا پہلے ہی وہاں جا چکی تھیں۔۔۔
” کیا کہہ رہے تھے ڈاکٹر”
اسابیلا نے اس کو اندر داخل ہوتا دیکھ کر جلدی سے پوچھا
حنان نے بھی ڈاکٹر کی جو ساری بات تھی ان کو بتا دی ۔۔۔
” تو کب تک یہ ہوش میں آئے گی ۔” اسابیلا ایما کے بے ہوش وجود کی جانب دیکھتے ہوۓ بولیں۔۔
” بس ابھی آ جائے گی ۔۔۔ میں زرہ دوائی وغیرہ لے آؤ۔”
حنان ان کو تسلی دیتا ہوا بولا ۔۔۔
اسابیلا تشکر سے اس کی جانب دیکھا جو بلیک جیکٹ اور بلیک ہی پینٹ پہنے وجہہ لگ رہا تھا ۔۔
حنان اسابیلا اور ایما کو سہارا دیتے ہوئے باہر لائے ۔۔جب حنان نے دیکھا کہ ایما کو اس میں بھی تکلیف ہو رہی ہے تو اس نے نرس سے کہہ کر اس۔ کے لیے وہیل چیئر منگوائی اور بڑی احتیاط سے اس کو چئیر پر بیٹھایا جیسے وہ کوئی کانچ کی گڑیا ہو ۔۔۔
کسی اور نے بھی یہ منظر اپنی لال انگار آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔
حنان نے اس کے اور اسابیلا کے بیٹھنے کے بعد گاڑی کا رخ ایما کے من پسند رسٹورانٹ کی جانب موڑ دیا ۔۔
جہاں کچھ ایسے ہونے والا تھا جسے دیکھ کر ایما کی اداسی ایک دم فٹ ہونی والی تھی
