Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 26
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 26
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
جان اسے لے کر جعفر صاحب والے گھر آیا تھا ۔۔۔ وہ جو شازیہ بیگم کے ساتھ دوسرے ملک گئے تھے انہوں نے ایک دو دن تک آجانا ہے اسے پتا تھا ۔۔ مگر وہ خوش تھا ۔۔ آجکل بہت ایما کو نہیں پتا تھا کہ وجہ کیا ۔۔ مگر وہ غصہ کم کرتا تھا ۔۔
مگر اب وہ اسے سمجھنے لگی تھی ۔۔۔ وہ واقعی ہی باہر سے سخت لیکن اندر سے بہت نرم تھا ۔۔ اس کا خیال رکھتا تھا بنا ظاہر کیا ۔۔۔ آج تک اس نے اس کے ساتھ زبردستی کی کوشش نہیں کی ۔۔ ہاں ڈراتا ضرور تھا لیکن کرتا نہیں تھا ۔۔۔
اب رات کا وقت ہوگیا تھا جبکہ وہ یہاں صبح کے وقت آۓ تھے یہ گھر بھی بہت بڑا تھا ۔۔
اس نے بیڈ سے اپنے لیے ایک سرہانہ پکڑا اس کا ارادہ باہر ٹی لاونج میں لٹینے کا تھا کہ اسی وقت جان ٹراؤزر پہننے باتھروم سے نکلا ایما نے اس سے کسرتی جسم سے نظریں چرائی ….
ایما کے ہاتھ سرہانہ پکڑا دیکھ کر اس نے آبرو اٹھا کر اسے دیکھا جو اسے دیکھتے ہی جلدی سے دروازے کی جانب بڑھی لیکن اس کے دروازے تک پہچنے سے پہلے ہی اس کی کلائی جان کے ہاتھ میں تھی جسے اس نے جھٹکے سے کھچنتے ہوے وہ اسے خود سے قریب کیا ۔۔ ایما نے بروقت اس کے برہنہ سینے پر ہاتھ رکھ کر فاصلہ بنایا ۔۔جبکہ کے جان نے اس کی کمر کے گرد اپنے بازؤں باندھ کر اس کی نکلنے نے ساری راہیں بند کر دی ۔۔
ایما کا دل زور سے ڈھرکا ۔۔۔ اسے جان کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے ۔۔
” کہاں کے ارادے ہیں مسسز ۔۔۔ ؟؟” اس کے بال جو جوڑے سے نکل کر گالوں پر جھول رہے تھے بڑی توجہ سے انہیں کان کے پیچھے کرتے ہوے اس نے اسے دیکھا جو اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
ایما تو اس کے مسسز کی کہنے پر بےہوش ہونے کو تھی ۔۔ کہاں بلکل ہی اسے وہ نظر انداز کرتا تھا اور کہاں اب مسسز ۔۔۔ یہ دماغ میں بجتی گھنٹی غلط نہیں تھی ۔۔
چھوڑیں ۔۔۔ مجھے ” ایما نے جب دیکھا کہ اس کی گرفت سے نکلنا اس کی بس کی بات نہیں تو آخر میں اس نے تنک کر کہا
” چھوڑنا ہی ہوتا ۔۔۔ تو اپنے نام ہی کیوں کرتا ۔۔۔ ” گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوے اس نے سنجیدہ انداز میں کہا تو وہ اس سے نظریں چرا گی۔۔ پل کے لیے اس نے ایک بازؤں اس کی کمر سے ہٹا ایما جس نے یہ سہی سے سکون کا سانس لیا بھی نہیں تھا کہ اب وہ آزاد ہے جان کی اگلے حرکت سے وہ سانس پھر سے سینے میں اٹک گیا کیونکہ دوسرے بازوں کی مدد وہ اس کو گود میں اٹھا کر بیڈ پر لٹا چکا تھا اور اب اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا معنی خیز نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ اس کی گرم سانس وہ اس کے گالوں پر پر رہی تھی ۔۔ اس کے گال تپ اٹھے تھے اس گہری نظریں اس پر مقصود اس کی قربت ایما کے ہوش اڑا رہی تھی ۔۔ ۔۔
” پھر تم نے بتایا نہیں ۔۔ کہاں جا رہی تھی ۔۔۔؟؟” انگلی سے اس کے ماتھے سے ہونٹ تک لائن بناتے اس نے پھر پوچھا تھا ۔۔ اس کی اس حرکت پر ایما نے آنکھیں زور سے بند کر لی تھی ۔۔ نازک سے لب اور جسم کانپ اٹھے تھے ۔۔ بھلا کہاں کبھی کسی مرد کی اتنی قربت اس نے دیکھی تھی ۔۔۔
اس کی قربت ہمشہ ایما کے لیے امتحان بنتی تھی ۔۔۔ ہمشہ کی طرح اس بار بھی جان کی اتنی نزدیکی پر اس کے حواسوں نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا ۔۔
” وہ میں باہر لاونج میں جا رہی تھی ۔۔۔ ” ایما کو اتنی تو پتا تھا کہ وہ جب تک جواب نہیں دے گی وہ اسی طرح کرتا رہے گا ۔۔۔ اس لیے اسی طرح آنکھیں بند کر کے اس نے ہلکی آواز میں جواب دیا ۔۔۔
” کیوں ۔۔۔ ؟ ” ایک سوال اب وہ اس کی گردن کی شہہ رگ کو انگلی سے ٹریس کر رہا تھا ۔۔ نظریں اس کی اب بھی اسی پر تھی ۔۔ ایما نے سانس روک لی تھی ۔آواز ویسی ہی گلے سے نکلنے سے انکاری تھی اس زور سے بیڈ شیٹ کو مٹھی میں جکڑا ۔۔۔
” وہ ۔۔ میں یہاں نہیں سونا ۔۔۔ ” آخری بڑی مشکل سے آواز نکلنے میں وہ کامیاب ہوئی تھی ۔۔
” کیوں ..؟ ” اس نے اس کی گھنی پلکوں پر ہلکے سے پھونک مار ۔۔۔ جس سے وہ جو پہلے ہی لرز رہی تھی مزید لرلز اٹھی ۔۔
” آپ پیچھے ہو جاۓ میں تب آپ کو جواب دے سکتی ہو ۔۔۔ ” ایما نے ہمت کر کے آخر سے پیچھے کی طرف دیکھلا ۔۔۔ اس کی ناکام کوشش پر وہ ہلکا سا مسکرایا تھا اس کی مسکراہٹ ٹیس کرنے والے تھے ۔۔ بجاے پیچھے ہونے کے مزید اس پر جھک گیا ۔۔
” مسسز ۔۔ جب بات کر رہے ہوتے ہیں نا ۔۔ تو انکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں ۔۔ چلو اب آنکھیں کھولوں اور میرے سوال کا جواب دو ۔۔۔ ” ایما نہ جواب دیا نہ آنکھیں کھولیں ۔۔۔
” میں تین تک گینوں گا اس کے بعد میں اپنے طریقے سے کھلؤاں گا ۔۔۔ “
” ایک ۔۔۔ ” ایما نے آنکھیں اور زور سے بند کر لی ۔۔ اس کی اس حرکت پر جان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔۔
” دو ۔۔۔ ” اس نے اس کے کان کے بلکل قریب اپنے ہونٹ کیے اتنے کہ اس کے لب اس کی کان کی لو سے مس ہوئے ۔۔ ایک سنسنی سی کے جم سے دوڑی تھی ۔۔
” اور یہ ۔۔ ” اس کے تین بولنے سے پہلے ہی ایما نے جلدی سے آنکھیں کھولی بھوری آنکھیں نیلی آنکھیں سے ٹکرائی ۔۔ نہ جانے کیسا جادو تھا نیلی آنکھیوں میں کہ بھوری آنکھیں خود کو اس کی قید سے آزاد نہ کر پائی ۔۔
ایما کو اپنے دل کی دھڑکن کسی انجانے سی لے پر دھڑکتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔
” اب بتاؤ ۔۔ کیوں نہیں سونا یہاں ۔۔۔ ” اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجا کر جان نے اسے ہوش دیلا جو یک ٹک اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔۔
” میں آپ کے ساتھ نہیں سو سکتی ۔۔۔” ایما کی بات پر جان نے مصنوعی تیور چھڑا کر غصے سے اسے دیکھ
” کیا مطلب اس بات کا ۔۔۔ ” ایما تو اس کا غصہ دیکھ کر گھبرا گی ۔۔۔
” وہ میرا مطلب تھا کہ میں سوتے ہوے بہت ٹاںگیں مارتی ہو ۔۔ اس وجہ سے کہہ رہی تھی ۔۔ ” اس کی گھبرائی شکل دیکھ کر جان کو مزہ آرہا تھا ۔۔۔
” تمہیں یہی سونا ہے ۔۔۔ بس ” اس کے اوپر سے ہٹ کر وہ سائڈ پر لیٹتے ہوے سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔ ویسے تو اس کا اور ایما کا کمرہ وہاں پینٹ ہاؤس میں الگ تھا لیکن یہاں وہ تماشا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔
ایما نے بھی مزید بحث سے گریز کیا اس کے لیے یہی بہت تھا کہ وہ پیچھے ہوگیا تھا اس کے پیچھے ہوتے ہی ایما کے وہ حواس جو اس کی قربت میں اکثر گم ہو جاتے تھے وہ بھی کام کرنے لگے ۔
اپنے اور کے درمیان کشن سے بانڈری بنانی لگی لیکن جان نے اس سے بھی منع کر دیا ۔۔۔
” عجیب مصیبت ہے۔۔۔۔ ” ایما اس کی پشت کو گھورتے ہوئے منہ میں بربرائی ۔۔۔ کسی خیال کے آنے سے اس کی بھوری آنکھوں میں شرات چمک کوندی ۔۔۔
اس نے تھوری دیر جان کے گہری نیند میں جانے کا انتظار کیا ۔۔۔ وہ اس کی جانب پشت کیے سو رہا تھا ۔۔۔
جب اسے اطمینان ہوگیا کہ وہ گہری نیند سو چکا ہے تو اس نے بھی آنکھیں بند کر کے سونے کی اداکارہ کی اور زور سے اپنی ٹانگ اس کی کمر پر ماری ۔۔۔
اس کے ٹانگ مارنے کی وجہ سے وہ جو تھک کر آج جلدی سو گیا تھا اس نےمڑ کر اسے دیکھا لیکن اسے بھی سوتے دیکھ کر اس نے اس کی ٹانگ اپنے سے پیچھے کی اور دوبارہ اپنی پشت اس کی جانب کر کے سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔ ابھی وہ بامشکل نیند میں گیا تھا کہ ایما نے پھر ٹانگ ماری ۔۔۔ جان نے تنگ آکر جان نے اپنا رخ ہی اس کی طرف کر لیا ۔۔۔ جو سوتے ہوے اس پر حملے کی جا رہی تھی ۔۔
اب کہ اس نے سونے کی اداکاری کی کہ پتا کر سکے کے وہ جان کر کرہی ہے یا واقعی میں نیند میں ہے ۔۔۔ تھوری دیر ہی گزری ہوگی کہ یہ آیا ایما کی طرف سے ہاتھ اس کے گال پر ۔۔۔
ایما کو ہنسی آئی جس پر اس نے بری مشکلوں سے قابو کیا تھا ۔۔ لیکن پھر بھی ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر اپنی جھلک دیکھا گی تھی جسے جان دیکھ چکا تھا اسے یہ جاننے میں دیر نہ لگی کہ وہ جان کر کر رہی ہے ۔۔۔
جان تھورا سا آگیا ہوا اور اس کو مکمل اپنے گھیرے میں لیا ۔۔
ایما نے اس افتاد پر گھبرا کر آنکھیں کھولی ۔۔۔
” ارے مسسز سو جاؤ ۔۔۔ میں تو بس آنے لیے حفاظتی اقدام کر رہا تھا ۔۔ ” ایما نے اسے گھورا ۔۔۔ جواب میں جان نے بھی گھورا ۔۔ اس نے خود کو اس سے کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کی ۔۔۔لیکن جان کی گرفت اس کی ہر کوشش پر اور مضبوط ہوتی گی ۔۔
آخر تھک منہ بسورتے ہوے وہ تھک کر اسی کے بازوں میں سو گی ۔۔۔۔۔
__________________________
وہ آہل کے ساتھ مال آئی تھی ۔۔ ان لوگوں نے کافی شاپنگ کر لی تھی ۔۔ جس سے حور تو کافی تھک گی ۔۔۔آہل دیان کو لے کر آسکریم لینے گیا تھا ۔۔ جبکہ حور وہنی وینٹگ آریہ میں بیٹھ کر موبائیل یوز کرتے ہوۓ ان کا انتظار کر رہی تھی
” حورین ۔۔۔ ” اپنی نام کی پکار سن کر اس نے چونک کر سر اٹھا اور نیلے رنگ پینٹ اور رف سی شرٹ میں اپنے سامنے کھڑے فہد کو دیکھ کر گھبرا کر کھری ہوئی ۔۔۔
” میں زیادہ وقت نہیں لوں گا ۔۔ بس ایک بار میری بات سن لیں ۔۔۔” اس نے وہاں سے جاتے حور کو روکا تھا ۔۔ حور نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔ جس کی آنکھوں آج جھکی ہوئی تھی ان میں پہلے والی شیطانیت نہیں تھی ۔۔ آنکھوں کے نیچے ہلکے ۔۔ اور شو نہ کرنے کی وجہ سے وہ بڑی ہوکر دھاڑی بن چکی تھی ۔۔۔ وہ کہنی سے بھی پہلے والا فہد نہیں تھا ۔۔
اس نے روکنا مناسب نہ سمجھا اور پھر جانے کو قدم بڑھائے لیکن اس کی اگلی حرکت۔پر وہ بوکھلا ہی تو گی ۔۔ وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل ہاتھ جوڑ کر بیٹھا تھا ۔۔ اور آنکھوں سے آنسو سے نکل رہے تھے ۔۔۔” آپ یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔ ” فہد کی اس حرکت کی وجہ سے آس کے لوگ ان کی طرف متوجہ ہو رہے تھے ۔۔ اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر وہ پریشان ہو گی ۔۔
” تمہیں اللہ کا واسطہ بس ایک بار ۔۔ ایک بار مجھے معاف کر دو ۔۔۔ “
” آپ پلیز یہاں سے اٹھے ۔۔ لوگ متوجہ ہو رہے ہیں۔ ۔۔۔ ” حور نے اسے کھڑے ہونے کا کہا ۔۔ جس پر وہ ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔۔
” آپ بیٹھے میں پہلے آہل سے بات کر لو ۔۔۔ ” اس نے اسے بارو کروایا کہ وہ اکیلی نہیں ہے ۔۔۔ تھورا سا آگے جاکر حورین نے آہل کو کال ملائی اور سارہ معاملہ اس بتایا ۔۔۔
جبکہ فہد نے بڑی حسرت سے اس کی پشت کو دیکھا تھا ۔۔ اور اپنی آنکھوں کی پیاس بجھانے لگا ۔۔۔
” تم وہنی روکو ۔۔ میں ابھی آیا ۔۔ “اس کے بولنے کے انداز سے ہی پتا لگ رہا تھا کہ جیسے بہت تیز چل رہا ہے ۔۔ حور نے وہنی کھڑے ہو کر پہلے آہل کے آنے کا انتظار کیا ۔۔ وہ اکیلے اس کے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
بامشکل پانچ منٹ ہی گزرے ہونگے کے اسے سامنے سے آہل آتا نظر آیا جس کی گود میں دیان تھا ۔۔ اور ہاتھ میں شاپر ۔۔ اور جلدی سے حور کے پاس آیا ۔
” تم ٹھیک ہو ۔۔۔ کچھ کہا تو نہیں اس نے تمہیں ۔۔ ” وہ پریشانی سے اس کو دیکھتے ہوے گویا ہوا ۔۔ اس کی نظریں بےچینی سے اس کا ایک ایک نقش دیکھ رہی تھی جیسے اس کے بالکل ٹھیک ہونے کا اطمینان کر رہی ہوں ۔۔ یہ تو اسے ہی پتا تھا کہ۔جب حور نے اسے فون کر کے فہد کے بار میں بتایا تو وہ کس طرح دوڑتے ہوے آیا تھا ۔۔۔
” نہیں ۔۔۔ وہ صرف بات کرنا چاہتا ہے ۔۔۔ ” حور کی بات پر آہل نے اس طرف دیکھا جہاں حور نے اشارہ کیا تھا ۔۔ حور کو سہی دیکھ کر ویسی بھی اس کی بے چینی ختم ہوگی تھی ۔۔
وہ حور کا ہاتھ تھام کر اس کے پاس آیا ۔۔۔
” کیا کہنا ہے ۔۔۔ ؟؟؟” وہ سرد لہجے وہ شعلہ نگلتی آنکھوں سے اس کی جناب دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔
” معافی چاہئے ۔۔۔ ” مجرم کی طرح سر جھکائے وہ بولا تھا ۔۔
” کس چیز کی ۔۔ ” آہل نے چانچتی نظروں سے اسے دیکھا آیا وہ سچ بول رہا ہے کہ جھوٹ ۔۔۔لیکن اسے کہنی سے بھی اس کے انداز میں جھوٹ محسوس نہیں ہوا ۔۔۔
“” وہ جو مہندی والے دن ہوا تھا اس میں حور کا کوئی قصور نہیں تھا وہ تو ۔۔۔ ” آہل نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید بولنے سے روکا ۔۔
” پہلی اور سب سے اہم بات ۔۔ حور نہیں بھابھی ۔۔ دوسری بات مجھے حور پر پورا بھروسہ ہے۔۔۔ ” اس نے جیسے بات ہی ختم کردی ۔۔
فہد کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے ۔۔۔ دوسرے طرف حور کے لیے آہل کے یہ الفاظ کسی آبِ حیات سے کم نا تھا ۔۔۔
” حور ۔۔۔ بھابی ۔۔۔ کیا آپ مجھے معاف کر سکتی ہے ۔۔۔ میرے اندر آگ جلی ہے جو آپ کی معافی سے شاید کم ہو جاے ۔۔۔ “
حور نے آہل کی جانب دیکھا کہ کیا کہے ۔۔۔ آہل نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔
” میں آپ کو معاف کردوں گی ۔۔ لیکن ” اس کی لیکن پر جہاں فہد بےچین ہوا وہنی آہل نے بھی چونک کر اس کی جناب دیکھا ۔۔۔
” لیکن ۔۔ آپ کو آہل کے ساتھ داجی سے بھی معافی مانگنی ہوگی ۔۔ ” آہل نے حیران ہوکر اسے دیکھا ۔۔۔ اور فہد وہ چپ کر کے بیٹھا رہا ۔۔۔
” اگر میں یہ کرو دوں ۔۔ تو معافی مل جاے گی ۔۔۔ ” وہ دنوں کھڑے ہوے تو فہد بھی کھڑا ان کے ساتھ کھڑا ہوا ۔۔۔
” جی ۔۔۔ چلیں اب آہل ۔۔۔ ” حور آہل کے بازوں پر ہاتھ رکھ کر اس کو چلنے کا جس پر آہل نے سر ہلا کر اپنے بازؤں پر رکھے اس کے ہاتھ کو پکڑا اور مال سے نکل گیا ۔۔۔۔
فہد نے ان کو جاتے دیکھا ۔۔۔
اس کی آنکھیں بڑی بےتابی سے حور کی پشت کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
قسمت نے بھی اس پر سہی ستم کیا اس پر ۔۔ اس کے سارے کیے کی اسے اسی سزا ایک ہی جھکٹے میں اسے دی تھی جس نے اب ساری عمر اس کے سینے میں پھانس کی طرح پھسے رہنا تھا ۔۔۔
اسے عشق کی ماڑ پڑی تھی ۔۔۔
حور کے عشق کی ۔۔
وہ بھی لا حاصل اور یک طرفہ ۔۔۔
جس کی نہ کوئی منزل تھی ۔۔ نہ کو نشان
______________________________
ٹیبل پر پڑا موبائیل بج رہا تھا ۔۔ لیکن کمرے میں کوئی نہ تھا ۔۔ کمرہ پورا وائیٹ کلر کا تھا ۔۔ جس میں پنک فنچر بھلا لگ رہا تھا ۔۔ کمرے کے ساتھ مسلک بالکونی اور یہاں سے نظر آتے سمندر کا منظر بہت روح کو سکون کر دینے والا تھا ۔۔ بالکونی میں بیٹھنے کے لیے لکڑی کی عمدہ کرسیاں اور ٹیبل پڑی تھی اور پاس پودے جس میں مختلف قسم کے پھول کھلے ہوے تھے ۔۔
موبائیل بج بج کر اب خاموش ہوکر پھر سے بج رہا تھا ۔۔ کہ تبھی باتھ روم کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک لڑکی پنک باتھ گاؤن اور سر پر تولایا باندھے باہر نکلی ۔۔۔
اور آگے ہوکر موبائیل پکڑا پھر اچھنبے سے سکرین پر آتے نمبر کو ۔۔۔ جو کافی وقت کے بعد آرہا تھا ۔۔ کہنی نہ کہنی اس کے دل میں خوف جاگا تھا جو کہ ہر بار جاگتا تھا لیکن اب کافی کمی ہوگی تھی ۔۔۔
اس نے خود کو کمپوز کرتے ہوے کال اٹینڈ کی ۔۔۔
” ڈی کا آڈر ہے ۔۔ آج کام تمام کرنا ۔۔ ” دوسرے طرف سے اسے پھر سے آڈر سنا کر کال بند ہوچکی تھی ۔۔ جو ہمشہ سے ہوتا آرہا تھا ۔۔ اس لیے کاندھے اچکاتے ہوے بالوں کو تولیے سے آزاد کیا اور ڈراۓ کرنے لگی ۔۔۔ بال خشک کر کے اس ڈریس پہنا پھر ڈریسنگ ٹیبل کے میرر میں دیکھتے ہوئے لینس لگاے۔۔ جس سے اس کی آنکھوں کا اصل رنگ چھپ گیا تھا ۔۔۔
گلابی نازک لبوں پر اس نے لپ گلوز لگایا اور اسے مکس کیا پھر آنکھوں پر مسکارا اور لائینر لگا کر خود پر طائرانہ نگاہ ڈال کر باہر آئی اور بیگ کندھے پر ڈالتے ہوے وہ باہر نکل گی ۔۔
اسے اپنا کام مکمل کرنا تھا ۔۔۔
لیکن اسے نہیں پتا تھا ۔۔ آج کتنا بڑا انکشاف ہونے والا تھا اس پر ۔۔
___________________________
وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھے کتاب پڑھ رہے تھے جب فہد ان کے کمرے میں آیا ۔۔۔
وہ پہلے کی نسبت بہت کمزور ہوگیا تھا ۔۔۔ آنکھوں کے نیچے ہلکے ۔۔۔ اسے کے رات جگے کا بتا رہے تھے ۔۔ وہ آہستہ آہستہ چل کر اس نے قدموں کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔۔۔ داجی نے کتاب بند کر کے گود میں رکھی اور عینک اتار کر اسے دیکھا جو سر جھکائے بیٹھا تھا
” فہد بیٹا ۔۔ طعبت ٹھیک ہے آپ کی ۔۔۔۔ ” داجی فکر مندی سے پوچھا ۔۔ ان کے لیے سب بچے بہت پیاری تھے لیکن ایک ہوتا ہے نہ لاڈلا وہ ان کا آہل ہی تھا ۔۔۔
” داجی ۔۔۔ ” فہد نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے ۔۔۔ سر اب بھی اس کا جھکا ہوا تھا ۔۔۔
” ارے ۔۔ یہ کیا کرے ہو ۔۔۔ ” داجی نے اس کے بندھے ہوئے ہاتھ پکڑ کر نیچے کیے ۔۔ وہ اب کی بار واقعی فکر مند ہوگے تھے ۔۔
” داجی ۔۔ مجھے معاف کردے ۔۔۔ میں نے آپ کی تربیت کی لاج نہیں رکھی ۔۔۔ ” اب کی بار وہ بولا تھا تو اس کی آواز گیلی تھی ۔۔ اس کی بات پر ان کا دل ناخوشگوار انداز میں ڈھرکا اور فوراً اس کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہوے ۔۔۔۔ آنکھوں میں یکدم ان کی سختی آگی تھی ۔۔
” کیا کیا ہے ۔۔۔۔ ” انہوں نے سرد لہجے میں استفادہ کیا ۔۔۔۔
فہد تو پل کو چپ ہوا ۔۔۔ پھر بڑی ہمت کر کے بولا۔۔۔ اسے معافی چاہی تھی ۔۔ اب یہ واحد ذریعہ تھا دل پر لگے آگ کو بجھانے کا ۔۔۔
” میں نے پوچھا کیا کیا ۔۔” اب کی بار وہ اونچی آواز میں بولی تھے ۔۔ ان کی آواز اتنی اونچی تھی کہ باہر لاونج میں بیٹھے سب لوگ اندر آگے ۔۔۔۔
” بہتان لگایا ۔۔۔ میں نے ۔۔ ” وہ اتنی ہلکی آواز میں تھا کہ اسے خود بھی آواز نہیں آئی ۔۔
” اونچا بولو۔۔۔۔۔” داجی کی ۔۔ باقی سب بھی اب بیڈ کے پاس کھڑے داجی کے سخت تیور دیکھ کر گھبرا گئے ۔۔
“بہتان لگایا ہے میں نے ۔۔سن لیا سب نے ۔۔۔ بہتان لگایا ہے میں نے۔۔۔۔۔ ” بیڈ پر سے اٹھ کر وہ چیخا تھا ۔۔۔ سب کو سانپ سونگھ گیے تھے ۔۔۔
” پتا ہے میں نے کس پر بہتان لگایا ۔۔۔ ہاہاہا ۔۔۔ آپ کو کہاں پتا ہوگا ۔۔۔ ” کبھی روتے اور ہستے وہ خود سے ہی بولتا اس وقت حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
” ارے آپ کے چہچتے آہل پر ۔۔۔ جسے آپ نے ہمشہ ہر جگہ ہم سے زیادہ پیار کیا اور توجہ دی ۔۔۔ اس چیز نے مجھے اسے اس سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔ طواف کے کوٹھے پر اسے لے کر جانے والا میں تھا ۔۔۔ اور پھر اس کی تصویریں بھیجنے والا بھی میں تھا ۔۔ میں نے سن لیا تھا جب آہل اپنی پسند سے شادی کا آپ کو بتایا تھا ۔۔ تو وہ میں ہی تھا ۔۔ جس نے فون کروایا تھا اس لڑکی سے ۔۔۔ جبکہ وہ لڑکی تو جانتی بھی نہیں تھی وہ کس کے بارے میں آپ کو بتا رہی ہے ۔۔۔ وہ عورت تو بیوہ تھا ۔۔ آہل کی دوست کی بیوہ جس کا آکسیڈنٹ میں انتقال ہوا تھا اور وہ بچہ بھی اہل کے دوست کا بیٹا ہے ۔۔ اس دن بھی میں نے ملازمہ سے کہہ کر اسے وہاں بلوایا تھا ۔۔۔ اور جب آپ وہاں گیے آپ کو وہی نظر آیا جو میں نے آپ کو دیکھایا تھا ۔۔۔ اور آپ کی باتوں کی وجہ سے وہ عورت داجی مر گی تھی ۔۔دیان کو بھی ڈاکٹرز نے بہت مشکل سے بچایا تھا ۔۔۔۔ ” وہ بولنے پر آیا تو ہر راز سے پردہ اٹھاتا گیا ۔۔۔۔
قدموں سے زمیں سڑکنا کسے کہتے تھے یہ انہیں آج پتا لگا تھا ۔۔۔
بلال صاحب وہ واحد بندے تھے کمرے میں جن کے لیے یہ انکشاف حیران کن نہیں تھا ۔۔۔
ورنہ باقی تو ہلنے کے قابل نہیں رہے تھے ۔۔ اور عافیہ بی بی جو ہر آۓ گئے کے سامنے آہل کی برائیاں کرتی تھی سچ جاننے کے بعد وہ تو ہلنے کے قابل نہیں رہی تھی ۔۔ کتنا غرور تھا انہیں اپنے پوتے پر غرور نہیں تکبر کہنا زیادہ بہتر ہوگا۔ ۔۔
فہد کی امی اس کے پاس آئی ” چٹاخ ۔۔۔ چٹاخ ۔۔۔ ” انہوں نے دو تھپڑ پر ایک ساتھ اس کے گال پر لگاۓ ۔۔۔ جس کو اس نے بغیر کسی مزمت کے کھایا تھا ۔۔۔ مزمت کرتا بھی کیوں وہ تھا ہی اسی لائیک ۔۔۔۔
” آج مجھے افسوس ہو رہا ہے ۔۔ تم میری اولاد ہو ۔۔۔۔ ” پہلی بار تھا کے اس نے تڑپ کر انہیں دیکھا تھا ۔۔۔ اس نے ہمشہ اپنی ماں کی بات کو نظرانداز کیا تھا ۔۔ اس کی دادی جو تو ہر جگہ اسے سپورٹ کرنے کو لیکن اسے اپنی ماں سے محبت بھی بہت تھی ۔۔۔
داجی تو یوں بیٹھے تھے جیسے ان کے جسم میں جان نہیں ۔۔۔۔
” ارے ۔۔ ارے کیا کر رہی ہو ۔۔۔ نظر نہیں آرہی بچے کی حالت ۔۔مجھے پتا ہے ۔۔۔ میرا پوتا ایسا نہیں کر سکتا ۔۔ اسے ضرور اس آہل نے مجبور کیا ہونا ہے ۔۔۔ ” عافیہ بیگم آگے بڑھتی جلدی سے فہد کی امی کو ایک طرف کرتی ہوۓ اس کے دفاع میں بولی تھی ۔۔۔ جس پر فہد کی امی سلگ کر رہ گی ۔۔۔
” بس کر دے ۔۔۔ یہ سب آپ کی ڈھیل کا نتیجہ ہے ۔۔۔ اور اگر آہل نے کرنا ہی ہوتا تو تین سال پہلے یہ کر چکا ہوتا ۔۔۔ ” وہ جو اتنے عرصے سے برداشت کررہی تھی آج بول پڑی ۔۔۔ اس سے پہلے عافیہ بی بی پھر کچھ بولتی داجی کی دھاڑ پر وہ خاموش ہوگی ۔۔۔
” نکل جاؤ ۔۔۔ سب نکل جاؤ میرے کمرے سے ۔۔۔۔ ” فہد تو کمرے سے کیا گھر سے ہی نکل گیا ۔۔اس میں ہمت نہیں تھی سب سے نظریں ملانے کی۔۔۔
باقی سب بھی گھبرا کر چلے گیے لیکن بلال صاحب وہنی کھڑے رہے ۔۔۔
داجی تھک سر ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گیے ۔۔۔ آج میں سہی معنی خود کو بوڑھا محسوس کر رہی تھے ۔۔۔
” تمہیں سب پتا تھا نا ….”
” جی ۔۔۔۔ ” انہوں نے مؤدب انداز میں جواب دیا ۔۔۔
” مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔ ؟؟؟” انہوں نے انہیں دیکھا جو شکوہ کرتی نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔
” آپ بتانے ہی کب دیا ۔۔۔۔ ” اور وہ چپ ہو گیے سہی تو کہہ رہے تھے انہوں نے بتانے ہی کب دیا ۔۔۔
آج انہیں آہل کا وہ بےخوف انداز یاد آرہا تھا ۔۔۔ جو اس کے باکردار ہونے کی گواہی تھا ۔۔۔۔
آج انہیں اپنی ہر زیادتی یاد آ رہی تھی ۔۔ وہ کیا کر چکے تھے ۔۔ انہوں نے خود اپنے آپ کو
تنہا کیا تھا ۔۔۔۔۔
__________________________
ایما گھر نہیں تھی ۔۔ وہ دو دن ہوگے تھے صبح ہی صبح ہی ڈاکٹر ابرہیم کے گھر چلی جاتی تھی ۔۔۔ جان نے اسے نہیں روکا ۔۔۔ لیکن وہ ہر علم رکھتا تھا کہ کس وقت وہ کہاں ہے ۔۔ آج اس کا ارادہ آفس جانے کا نہیں تھا ۔۔ اسے پتا تھا آج جعفر صاحب اور شازیہ بیگم واپس آ رہے تھے۔۔۔ اور ان کے لیے اس نے سرپرائز تیار کیا ہوا تھا ۔۔
وہ لاننج میں صوفے پر بیٹھا سیرگیٹ پی رہا تھا ۔۔ سامنے ٹی وی بھی پڑا ہوا تھا لیکن اس کی توجہ اس وقت باہر گاڑی روکنے کی آوز پر تھی ۔۔ ایک پراسرار مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی ۔۔۔ نیلی آنکھیں سرد مہری سی ۔۔۔
اس نے موبائیل پر کسی کو میسج کیا ۔۔ پھر سر کے پیچھے ہاتھ باندھ کر ان کے اندر آنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔ اسے پتا تھا اس کی یہاں رہنے کی خبر انہیں آگ لگا گی ہوگی لیکن وہ تو یہاں دھماکے کرنے آیا تھا ۔۔۔ تو ان کی یہ آگ اس دھماکے کے گیا کیا شہ تھی ۔۔۔
” تم یہاں کیا کر رہا ہو ۔۔۔۔ ” انہیں اندر آنے سے پہلے ہی ملازم جان اور ایما کا یہاں آنے کا بتا چکے تھے۔ ۔۔
” میرا گھر ہے ۔۔۔ میری مرضی جو مرضی کروں۔ ۔۔۔ ” اسی طرح بیٹھے ہوے اس نے پرسکون انداز میں جواب دیا ۔۔ وہی انداز جو اس کا خاصا تھا ۔۔ اور اگلے کو آگ لگا دیتا تھا
” یہ میرا گھر۔۔۔۔ ” ان کی اس بات پر وہ ہستے ہوے تالیاں بجا کر کھڑا ہوا ۔۔۔
” وہی گھر جو دھوکے سے اپنے نام کروایا تھا ۔۔۔ ” اس نے طنزیہ انداز میں انہیں دیکھا جن کے چہرے کے رنگ اس کی بات سن کر اڑ چکے تھے۔ ۔۔
” جعفر صاحب آپ بھی ۔۔۔ آرام سے بات کریں ۔۔ ” شازیہ بیگم نے حالات کو اپنے قابو میں کرنا چاہا ان کا خیال تھا کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ ان کی بات مان لے گا لیکن یہ ان کی سب سے بڑی غلطی فہمی تھی ۔۔۔
” اوہ مسسز جعفر ۔۔۔ اب مزید نہیں نہیں چلے گا یہ ڈرامہ ۔۔ اس لیے آپ اپنی اصلیت پر آ سکتی ۔۔۔ ” آنکھوں میں سرد مہری لیے وہ ان کی بولتی بند کر گیا تھا ۔۔
” تمیز سے بات کرو ۔۔ ماں ہیں وہ تمہاری ۔۔۔۔ ” وہ غصے سے بولے ۔۔ شازیہ بیگم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جو کہ صرف ایک ڈرامہ تھا ۔۔۔ ” وہ کیا جفعر صاحب ۔۔ میری ماں ہی صرف میری ماں ہے ۔۔ کسی اور کو میں اجازت نہیں دوں گا کہ وہ ان کی جگہ لے ۔۔۔ ” پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے وہ بلکل ان کے سامنے کھڑا ان کی آنکھوں میں اپنی نیلی سرد آنکھیں ڈال کر بول رہا تھا ۔۔
” باپ ہو میں تمہارا ۔۔۔ تمیز سے بات کرو ۔۔۔ ورنہ مجھے دیر نہیں لگے گی تمہیں سڑک پر پہنچانے کی ۔۔۔ ” ہاتھ سے چٹکی بجاتے ہوے وہ بڑے غرور سے بولے تھے ۔۔۔
” یہ تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ پراپرٹی آپ کے نام نہیں ۔۔ آپ نے دھوکے سے کی کے ہے ۔۔۔ ” وہ بنا غصے کیے بڑے پرسکون اور ٹھنڈے انداز میں بول رہا تھا ۔۔۔
” جو بھی ہے اب میرا ہے سب ۔۔ تم کچھ بھی کر لو یہ ثابت نہیں کر پاو گیے ۔۔ کہ یہ میں دھوکے سے کی ہے اپنے نام ۔۔۔۔ ” ان کی بات پر پراسرار مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی ۔۔۔
اس نے ان کی جانب ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو یہ بات ہے ۔۔۔
” آپ کا ٹائم اب ختم ۔۔۔ مسٹر جعفر ۔۔۔۔۔” یہ کہہ کر وہ باہر نکلا اور جب واپس اندر آیا تو وہ اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ ویل چیئر پر ایک نہایت ہی کمزور وجود تھا جیسے دیکھ کر ان کے سانس روک گیا ۔۔۔ وہ تو اسکا قصہ ختم کر چکے تھے تو پھر یہ کیسے ۔۔ انکو سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔
“ایوا۔۔۔ ” بڑی دقت سے یہ الفاظ جفعر صاحب کے منہ سے نکلے تھے ۔۔
” جی یہ ہے ایوا ۔۔ جیسے آپ نے طلاق دے دی تھی اور جسے مارنے کی کوئی کسر آپ نے اور آپ کی بیوی نے نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔ مجھے صرف ان کے صحت مند ہونے کا انتظار تھا ۔۔ تو اب جب یہ بہت ہیں تو آپ کے خلاف بیان بھی لکھا دیا ہے سو زرہ جیل کی ہوا کھائیں کیونکہ آپ لوگوں کی کلمپن پہلے ہی میں کر چکا ہو ۔۔وہ لوگ اب باہر آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ ” اس کی بات پر عائشہ بیگم نے مڑ کر دیکھا جہاں گلاس وال سے باہر لان میں کھڑی پولیس کھڑی تھی ۔۔ انہوں نے حراساں نظروں سے جفعر صاحب کو دیکھا ۔۔۔۔جن کی حالت بھی کم وبیش ان کے جیسی ہی تھی ۔۔۔
“ایوا ہمیں معاف کر دو ۔۔۔ ” خود بچانے کے لیے وہ گھٹنوں کے بل ان کے سامنے بیٹھے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہے تھے ان کی ساری ٹھاٹھ جاگ کی طرح بیٹھ گی تھی ۔۔۔
ایوا نے کچھ نہیں کہا وہ بس جان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ویسے بھی آج ان کے دل میں جعفر صاحب کے لیے کچھ نہیں تھا۔۔۔
” دیکھو میں ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا بس میں شازیہ کی باتوں میں آگیا تھا ۔۔۔ “انہوں نے سارا الزام اپنے سر سے اتار کر شازیہ بیگم کے سر پر کر دیا ۔۔ جس سے ان کو پتگیں ہی لگ گی تھی وہ لمبے لمبے ڈنگ بھرتی ان کی جانب آئی
” ایوا کو راستے سے ہٹا کر اس کی ساری جائیداد اپنے نام کرنے کا ارادہ تمہارا تھا ۔۔۔ ” وہ ان کے سر پر کھڑی ہو کر دھاڑی تھی ۔۔۔ ان کی آنکھیں لہو رنگ ہو گی تھی ۔۔
جان اپنی ماں کے پاس کھڑا پرسکون انداز میں سینے سے ہاتھ باندھے تماشہ دیکھ رہا تھا ۔۔
” اچھا اور جان کو پاگل کھانے بھجوا کر اس کے حصے کی پراپرٹی اپنے نام کرنے آئیڈیا تمہارا ۔۔۔ ” وہ دنوں ایک دوسرے پر الزام لگا رہے تھے ۔۔
پولس بھی اندر آگی تھی ۔۔۔ لیکن ان کی لڑائی ابھی بھی جاری تھی ۔۔۔ پولس نے ان کو زبردستی پکڑا کہ بے قابو ہوتے شازیہ بیگم نے پولس کے اہلکار کی بیلٹ سے گن نکال کر ایک ساتھ دو فائیر جعفر صاحب پر کی ۔۔ گولیاں چلانے کے بعد وہ بے یقینی سے ان کا گرتا وجود دیکھ رہی تھی پولس انہیں جلدی سے وین میں ڈالا اور جعفر صاحب کو ایمبولنس میں ۔۔
جان نے نفرت سے ان کو دیکھا ۔۔ اسے نہ اپنی باپ سے کوئی مطلب تھا نہ شازیہ بیگم سے ۔۔
” ماما آپ آرام کریں ۔۔ میں آپ کی بہو کو لے کر آتا ہو ۔۔ نرس یہی ہیں آپ کے پاس ۔۔۔ ” جان کی چیئر کو پکڑ کر کمرے کی طرف چل پڑا وہ ایسے پرسکون تھا کہ تھوری دیر پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔ لیکن ایوا وہ سخت گھبرائی ہوئی تھی ۔۔ اس لیے جان نے ان کو انجکشن لگاوا تاکہ وہ زیادہ نہ سوچیں اور باہر آیا جہاں ڈاکٹر عبد العلیم پہلے سے اس کا انتظار کر رہے تھے ان کا چہرہ دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ وہ ان سے ناراض ہے ۔۔۔۔
” ان کی حالت کسی ہے ۔۔۔۔” انہوں نے پریشانی سے پوچھا یہ اور بات اس کی جانب دیکھا نہیں ۔۔۔
” بیوی آپ کی ہے ۔۔ آپ خود دیکھ لیں ۔۔۔ ” اس نے کندھے آچکا کر بےنازی سے کہا ۔۔۔
” میںنے منع کیا تمہں انہیں یہاں لانے سے ۔۔۔۔ ” انہوں نے ٹھنڈی سانس لے کر کچھ بےبسی اس شخص کو دیکھا جو انتہا کا ضدی تھا ۔۔۔
” چلیں آپ آئندہ بھی منع کر لینا ۔۔۔۔میں کچھ نہیں کہوں گا ” اس نے مسکراہٹ کو ہونٹوں تلے روکتے ہوے منہ دروازے کی جانب کیا ۔۔۔
” اتنا عرصہ ماں سے تم اسیے ناراض رہے کہ وہ کلمپن نہیں کر رہی ۔۔ اب جب مان گی تھی تو یہاں نہیں لانا چاہئے تھا ۔۔۔ ” انہوں تساسف سے اسے دیکھا ۔۔۔
” اچھا بس میں چلا ۔۔۔ آپ زرہ اپنی بیوی سے مل لیں ۔۔۔میں اپنی کو لے کر آتا ہوں ” ان کی بات کو سرے سے نظرانداز کرتا وہ چابی انگلی پر گھماتے ہوے باہر نکل گیا۔۔۔۔ پیچھے وہ صبر کے کہ رہ گئے ۔۔
