Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 7
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 7
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
بارش کی وجہ سے موسم مزید ٹھنڈا ہوگیا تھا ۔۔۔۔ شام کا وقت تھا لیکن ابھی بھی وقفے وقفے سے بارش برس رہی تھی جس کی وجہ سے یوں لگ رہا تھا کہ رات ہو گئی ہے ۔۔۔
سردی میں اتنی شدت ہوگئی تھی کہ سانس بھانپ کی صورت میں منہ سے نکل رہی تھی ۔۔ لوگ چھتری پکڑے جلدی جلدی اپنی منزل کی طرف رواں تھے۔۔۔۔
ایسے میں بیلک شوز اور بلیک ہی ڈنر سوٹ پہنے وہ گاڑی سے نکل کر ہاتھوں میں لال رنگ کے گلاب پکڑے رسٹورانٹ میں داخل ہوا۔۔۔
باہر کے مقابلے اندر کا ماحول گرم اور خوابناک تھا ۔۔۔ ہر ٹیبل پر کینڈل سٹینڈ رکھا ہوا تھا ۔۔
اس نے ایک طائرانہ نگاہ پورے رسٹورانٹ میں دوڑائی اور مطلوبہ شخص پر نظر پڑتے ہی اس نے اپنے پہلے سے درست بالوں کو پھر سے سہی کیا ۔۔۔اور اس کی جانب بڑھا ۔۔
” ہے بیوٹیفل” اس نے گھنگرلے بالوں والی لڑکی کے کان کے پاس جھک کر رومانی انداز میں کہا ۔۔۔
” اوہ ڈیریک ۔۔۔ ” اولیویا اس کے گلے ملتی وئی پرجوش انداز میں بولی۔
ڈیریک نے گلدستہ اس کی جانب بڑھایا ۔۔ جس کو اس نے نزاکت سے پکڑا۔۔۔
” تھینکس “
وہ ہولے سے مسکراتے ہوئے بولی جس سے اس کے گال میں گھڑا نمایا ہوا
ڈیریک نے اس کا بھرپور جائزہ لیا ۔۔ کالے رنگ کی پینٹ اور اس پر کالے رنگ کا کوٹ پہنے ہوئے تھی جس کا گلا حد سے زیادہ گہرا تھا۔۔ لال رنگ کی لپسٹک اور سلیکے سے میک آپ کیے بلاشبہ وہ ہوش اُڑانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی اور اپنے اس حسن سے اچھی طرح واقف بھی ۔۔۔
اس کے بیٹھنے کے بعد اس نے خود کرسی سنبھالی۔۔
” لوکنگ ہاٹ “
” سیم لائیک یو “
وہ بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس ڈیریک کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
اس کی بات سن کر ڈیریک نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔۔
اس وقت اس کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی شیطان صفت لڑکا ہے جو لوگوں کا جینا حرام کر دیتا ہے ۔۔۔۔
” ویٹر ” ڈیریک نے پاس سے گزرتی ویٹر کو بلایا ۔
ایک بیس سال کی ویٹر جو ان کے پاس ہی کھڑی تھی فوراً وہاں آئی۔۔
ڈیریک نے کھانے کا آڈر لکھوایا اور دوبارہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
اولیویا نے محسوس کیا کہ وہ بار بار اس کے بالوں کی جانب دیکھ رہا ہے۔۔۔ اس کے بال لگ بھی اتنے اچھے رہے تھے اب اتنے پیسے لگوا کر بھی بال اچھے نہ لگے ۔۔۔
تھوری دیر ان دنوں کے درمیان خاموشی رہی ۔۔۔ جسے ڈیریک نے توڑا ۔۔
” تم نے وہ مووی دیکھی ہے lighting theif ؟؟”
اولیویا جو تعریفی جملے کی امید سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی اس کی بات سن کر بدمزہ ہوگئی ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ ” اس نے منہ ٹیرا کر کے جواب دیا۔
” اس میں ایک لڑکی تھی ۔۔۔ ” اولیویا سمجھی کہ وہ اب اس کی تعریف کرے گا ۔۔۔ اس لیے دوبارہ دلچسپی سے اس کی جانب دیکھا ۔۔۔لیکن اس اگلی بات سن کر اس کی ساری خوش فہمی ہوا ہوگئی
” جس کے سر میں بالوں کی جگہ سانپ تھے ۔۔””
اس کے کچھ اور بولے بغیر ہی اولیویا کو سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ وہ اس کے بالوں کو سانپ سے ملا رہا ہے ۔۔ غصے سے اس کا برا حال ہو گیا
۔۔آج تک اس نے صرف تعریف ہی سنی تھی یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کسی نے اسے اس طرح کہا غصے آنا تو بنتا ہے نا پھر ۔۔۔
دوسری طرف ڈیریک نے ثابت کر دیا کہ اس کا ہر کام ہمیشہ الٹا ہی ہوگا بےشک اس نے تعریف کی تھی لیکن جس انداز میں کی تھی اسے صرف وہ خود ہی سمجھ سکتا ہے ۔۔۔
اولیویا اشتعال میں کھڑی ہوئی اور گلاس میں موجود ساری ڈرنک اس پر گرادی ۔۔
ڈیریک جو اس کے اس طرح کھڑے ہونے پر پریشان ہوگیا تھا کہ اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی اولیویا وائن اس پر گرا چکی تھی۔۔
اس کے گلاس خالی کرتے ہی وہ ویٹر جس کو سختی سے آڈر تھا کہ کسی بھی کلائنٹ کا گلاس خالی نہ ہو اس نے جلدی سے پھر گلاس بھر دیا جیسے اولیویا نے پھر سے ڈیریک پر گرا دیا ۔۔۔
اب صورتحال یہ تھی کہ ویٹر گلاس بھری جا رہی تھی اور وہ گڑائی جا رہی تھی۔۔۔ دوسرے ٹیبل پر موجود لوگ بھی ان کی جانب متوجہ ہو چکے تھے کچھ تو ویڈیو بنانے لگ گئے تھے
۔
ڈیرئیک سپاٹ چہرے کے اور آنکھیوں سے ان دونوں کی جانب دیکھ رہا تھا ۔ اولیویا کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کس بلا کو اپنے پیچھے لگا چکی تھی۔
” میم یو وانٹ مور ڈرنک ” اسنے جب ایک پوری بوتل ڈیریک پر خالی کردی تو وئیٹر نے اس سے پوچھا ۔۔۔
” تم جیسا انسان میرے ساتھ ڈیٹ ڈیزرو ہی نہیں کرتا ” اولیویا نے ویٹر کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے ۔۔تمسخر آمیز انداز میں اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی
ڈیریک کچھ نہیں بولا ۔ بس ایک خاموش مگر گہری نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے رسٹورانٹ سے باہر نکل گیا ۔۔
الیویا بل پے کر کے باہر نکلی ۔۔ جہاں ہلکی ہلکی بارش ابھی بھی ہو رہی تھی ۔۔ وہ اپنی کار کے پاس جانے لگی تھی کہ اسی وقت بلیک کلر کی اکسپینسو گاڑی اتنی تیز رفتار سے اس کے پاس سے گزی کے بارش کا پانی جو نیچے جمع ہوا وا تھا وہ سارا اس پر گر گیا ۔۔۔
وہ شاکڈ سی کھڑی رہ گئی
اسی پل وہ بیلک گاڑی دوبارہ اس کے پاس آکر روکی اندر موجود شخصیت کو دیکھ کر اولیویا کو ہوش آیا ۔۔
” ڈرنک کیسی لگی ” ڈیریک اس کی حالت انجوائے کرتے ہوئے بولا۔۔
“ہسننا بند کرو یو فول ” الیویا کو اس کی ہنسی زہر لگ رہی تھی ۔
اس کی بات سن کر ڈیریک نے تابعدار بچوں کی طرح اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی یہ اور بات ہے کہ زچ کرنے والی مسکراہٹ اب بھی اس کے چہرے پر موجود تھی ۔۔
الیویا چڑ کر اسے اسکے حال پر چھوڑتے ہوۓ دوبارہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھی تھی کہ جا کر اپنی حالت درست کرے کہ ایک بار پھر وہ گاڑی اس پر پانی گراتے ہوۓ وہاں سے گزری۔۔۔۔۔
الیویا کا دل کیا کے وہ اونچی اونچی سلواتے سنائیں اسے لیکن اپنی حالت کی وجہ سے وہ پہلے ہی سب کا سامنا کر رہی تھی۔۔
” تمہیں اس کا حساب دینا ہوگا ” وہ خود سے بولتی ہوئی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسابیلا اور حنان پریشان نظروں سے ایما کی طرف دیکھ رہے تھے جس کی ہنسی رک ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔
حنان جو اسے اس کے من پسند ہوٹل میں لے کر آیا تھا کہ کچھ کھاۓ تاکہ اس کا موڈ سہی ہو ۔۔ مگر ایما ویسے ہی اداس بیٹھی رہی تھی لیکن جب اس لڑکی نے لڑکے پر وائن پھینکی تب سے ایما ہنسی جا رہی تھی جبکہ حنان کو اس لڑکے پر افسوس ہو رہا تھا ۔۔
اب وہ لوگ واپس جا رہے تھے ۔
” ایما تم کیوں اس بےچارے پر ہنسی جا رہی ہو ۔۔۔۔ ” حنان کے بچارا کہنے کی دیر تھی ایما کے ماتھے پر بلوں کا جال بن گیا ۔
“یہ جسے تم بچارا کہہ رہے ہونا اس کی وجہ سے ہی میرے پاؤں میں موچ آئی تھی اور۔۔۔۔۔۔۔۔” پھر ایما نےاس کو سارا کچھ بتایا۔
“اچھا.. ” حنان جوس کا گلاس منہ سے لگاتے ہوئے بس اتنا بولا یہ اور بات ہے کہ اس نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا تھی ۔۔۔ لیکن پھر بھی ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آگئی تھی۔۔۔
” تمہیں ہنسی آ رہی ہے ” ایما نے ناراض نظروں سے اس کی جانب دیکھا ۔۔
” نوپ ” اس کی بات سن کر حنان فوراً سیدھا ہوا۔۔مگر اب کیا ہو سکتا تھا وہ تو اس کی ہنسی دیکھ چکی تھی ۔۔۔
ایما نے ناراض ہو کر اپنا چہرہ پورا ریسٹورینٹ کے شیشیے کی جانب موڑ لیا۔۔۔
اس کے اس طرح کرنے سے حنان کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آئی اس سے پہلے کہ وہ ایما کو مناتا اس کا فون بجنے لگا۔۔۔
اس نے جیب سے موبائیل نکالا جہاں۔۔” موم کالنگ آ رہا تھا ” اس نے ایک نظر ایما کو دیکھا اور موبائل کان سے لگا ۔لیا ۔۔
” ہانی ڈئیر کہاں ہو ” شازیہ بیگم لاڈ سے بولیں ۔۔
” مام میں ایما کے ساتھ ہوں ۔۔۔۔ “
حنان کا ایما کے ساتھ ہونا ان کو ناگوار گزرا لیکن انہوں نے ظاہر نہیں کیا ۔۔۔
” آپ نے آج ہمارے ساتھ ڈنر پر جانا تھا “
” اوہ سوری موم میں بس ایما کو گھر ڈراپ کر کے ابھی آتا ہوں”
” تم رہنے دو وہ خود چلی جائے گی ” اب کی بار انہوں نے اپنی ناگواری چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔
ان کی بات سن کر حنان کو بھی دھک ہوا ۔
” موم میں آ رہا ہوں ” اتنا کہہ کر اس نے مزید ان کی بات سنے بغیر فون بند کردیا ۔۔
اور اٹھ کہڑا ہوا ایما سمجھی نہیں ہوا کیا ہے وہ کچھ پوچھتی اس سے پہلے حنان نے ویٹر کو اشارہ کیا بل پے کیا اور ایما کو انکھوں سے چلنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
ایما کچھ بولے بیغیر اٹھ گئے اور حنان کی پیروی کی ۔۔۔
اس نے گاڑی ایما کے گھر کے آگے روکی ۔۔اور جلدی سے گاڑی سے نکل کر اس کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر اس کو سہارا دینا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی وہ دورازہ کھول کر باہر نکل چکی تھی۔۔اور اب اسابیلا کا سہارا لے کر چل رہی تھی ۔۔
” ایما ” حنان نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
ایما نے اس کی جانب دیکھا مگر بولی کچھ نہیں۔۔
” ناراض ہو “
” تم جاؤ حان “
اور حان کو اندازہ ہوگیا کہ وہ ناراض ہے
” جب تک تم یہ نہیں کہہ دیتی کہ تم نہیں ناراض ہو میں نہیں جاؤ نگا ” حنان سینے پر بازوں باندھ کر وہیں گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا ۔۔۔
ایما نے چڑ کر اس کی جانب دیکھا ۔۔ اسے پتا تھا کہ وہ بھی ضد کا پکا تھا ۔۔
” نہیں ناراض اب خوش “
” ہاں خوش “
“چلو اب جاؤ “
ایما اسے اپنے جانب بڑھتا دیکھ کر بولی ۔۔
“پہلے تمہیں اندر تک تو چھوڑ آؤ “
“نہیں تم جاؤ موم میرے ساتھ ہیں “
ایما کی بات سن کروہ وہیں رک گیا اسے اندازہ ہوگیا تھا اب ایما اس کی نہیں سنے گی اس لیے وہ گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلا گیا اس کے جانے کے بعد ایما نے بھی شکر کا سانس لیا۔۔۔اقر اسابیلا کے سہارے گھر کے اندر داخل ہوئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اونچی آواز میں گانے لگے ہوئے تھے۔ ۔۔ لڑکے لڑکیاں شراب کے نشے میں ڈانس فلور پر ڈانس کر رہے تھے لیکن ان لڑکیوں میں سے زیادہ تر کا دھیان بار کے اس کونے کی طرف تھا جہاں وہ مغرور بادشاہ ایک ہاتھ سے سگریٹ اور دوسرے میں شراب پکڑے اپنی ہی دنیا میں گم تھا ۔۔۔
اس وقت اس کے بال بکھرے ہوئے تھے شرٹ کے بٹن بھی کھلے ہوئے تھے کوٹ اس کا گاڑی میں پڑا تھا اس بے ترتیب حلیے میں بھی وہ لڑکیوں کو پاگل کر رہا تھا ۔۔۔۔
اس کی نیلی آنکھوں میں اب لال ڈورے پر رہے تھے ۔۔
وہ بے تاثر نظروں سے سامنے ناچتے لڑکوں اور لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا ۔کہ تبھی ایک لڑکی لال چھوٹا سا ٹاپ پہنے اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کے ساتھ سے گلاس لے کر خود اس میں سے ڈرنک کرنے لگی ۔
جان بے تاثر نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ لڑکی بےباکی سے اس کے گال پر بوسا دیا جان نے اسے نہیں روکا ۔۔ جیسے اس کو حوصلہ ہوا ۔۔۔ اور اب وہ بلکل جان کے ساتھ جڑ کر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔
جان ایک نظر اپنے ساتھ جڑ کر بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا ۔۔۔ اور اگلے ہی پل اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے اس نے لڑکی کو بھی ساتھ کھڑا کیا اور نیچے موجود بار کے کمروں کی جانب چل پڑا اس لڑکی نے بھی کوئی مزمت نہیں کی بلکل اس کے برعکس اس کے چہرے پر جان کے اس طرح کرنے سے چمک آئی تھی ۔۔۔
رات قطرہ قطرہ کر کے گزرنے لگی
