465.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah Phala Ishq Episode 14

Raah Phala Ishq by Zoha Qadir

جان کے جانے کے بعد وہ بھی ٹیکسی کروا کر خود ہی گھر آ گئی ۔۔۔

اس کا ارادہ ازیبلا کے ساتھ تھورا وقت گزرنے کا تھا لیکن وہ سو چکی تھی۔۔۔

اس وقت وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر ٹانگیں لٹکاکر لیٹی ہوئی تھی اور جان کے آج کے رویے پر غور کر رہی تھی ۔۔

جان کی شخصیت اسے شروع سے ہی الجھی اور پراسرار سی لگتی تھی ۔۔ لیکن آج جو کچھ ہوا ۔۔ مطلب جان کا اس کو شاپنگ پر لے کر جانا ۔۔ پھر اس کا ہاتھ پکڑنا ۔۔ اور جو بات اسے زیادہ تنگ کر رہی تھی وہ ان نیلی آنکھوں کی چمک تھی ۔۔۔

کچھ سوچ کر اس نے موبائیل پکڑا اور گوگل آن کر کے ابھی اس نے جان ہی لکھا تھا کہ رزلٹ شو ہونے لگا۔۔۔

اس کے انٹرویوز ۔ اس پر جو کالم لکھے ہوئے تھے وہ سب پڑھے ۔۔۔

جہان جعفر تھا ۔۔۔جنہوں نے بہت جلد ہی اپنی ذہانت کی بنا پر برنس کی دنیا میں اپنا ایک نام اور مقام بنا لیا ۔۔۔

وہ لڑکیوں میں لیڈیز کیلر کے نام سے مشہور ہیں۔۔۔۔ جس کی نیلی سمندر جیسی آنکھیں کسی کو بھی ڈھبونے کا فن اچھی طرح جانتی ہیں۔۔۔۔

جن کے کافی مشہور ماڈل کے ساتھ ریلیشن بھی چلے مگر کوئی بھی ایک مہینے سے زیادہ آگے نہیں چل سکا ۔۔۔

اس طرح کی کافی باتیں اس میں لکھی تھیں ۔۔ یہ پڑھ کر ایما کو اپنا دل خراب ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

” کہیں سر مجھ سے فلرٹ کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہے ؟؟” اس نے موبائل سینے پر رکھ کر خود سے پوچھا ۔۔

“” نہیں میں یہ نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔ میں سر کو خود سے کھیلنے نہیں دوں گی ” خودی سے باتیں کرتے ہوئے کب اس کی آنکھں لگی اسی پتا نہیں چلا۔۔

اور وہ یونہی آدھی بیڈ پر اور ٹانگیں بیڈ سے نیچے لٹکاۓ سوگئی ۔۔۔۔

کمرے کی لائٹ اور کھڑکی کھولی ہوئی تھی ۔۔ جس سے سرد ہوائیں اندر آ کر اس کے جسم سے ٹکرا رہی تھیں ۔۔۔

کوئی کھڑکی سے اس کے کمرے میں داخل ہوا ۔۔ اس نے منہ پر رومال باندھا ہوا تھا۔۔

سب سے پہلے اس نے لائٹ آف کی ۔۔ لائٹ آف ہوتے ہی اب صرف کمرے میں چاند کی ہلکی سی روشنی تھی جس میں وہ شخص سایہ ہی لگ رہا تھا ۔۔۔

اس نے پھر ایما کو سیدھا کر کے بیڈ پر لٹایا ۔۔

وہ یہ کام اطمینان سے کر رہا تھا کیونکہ اسے پتا تھا کہ ایما کی نیند بہت پکی ہے ۔۔

اس کو سیدھی کر کے اس نے اس پر بلیکنٹ دیا ۔۔

” میرا وعدہ ہے ۔۔۔ میں ۔۔ میں جلد ہی واپس آؤ گا ۔۔ پھر سب پہلے جیسا ہوگا”وہ اس سے سرگوشی کے انداز سے بول رہا تھا ۔یوں لگ رہا تھا کہ بولنے میں بھی اس کو تکلیف ہو رہی تھی

وہ شخص حسرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

اس نے ایک آخری نظر ایما پر ڈالی اور اس کے ماتھے پر بوسا دیتا ہوا کھڑکی سے ہی واپس چلا گیا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دروازہ کھول کر اندر آیا ۔۔ جان کے پینٹ ہاؤس کا ایک کارڈ اس کے پاس بھی تھا ۔۔۔

اس کا سانس بڑی طرح پھولا ہوا تھا ۔۔۔

” سر اچھا ہوا آپ آگئے ۔۔۔” جیمز جو اسی کے انتظار میں ادھر سے آدھر چکر لگا رہا تھا اس کو آتا دیکھ کر اس نے شکر کا سانس لیا ۔۔۔

” کیا ہوا۔۔۔؟؟ دروازہ کھولا ۔۔ کہ نہیں ۔۔ کوئی آواز ۔۔۔ کوئی جواب اندر سے آیا ۔۔؟؟ ” ڈیرئیک نے پریشانی میں کئی سوال ایک ساتھ پوچھ لیے ۔۔۔

” سر جب یہاں تھے تو ایک ساتھ کافی وائین پی لی ۔۔ پھر پتا نہیں کیا ہوا انہیں کہ انہوں نے ہاتھ میں پکڑا گلاس زمین پر پھینکا پھر جو جو ان کے ہاتھ آتا گیا پھینکتے گے ۔۔۔یہ سب کرنے کے بعد انہوں نے اپنے روم کا روخ کیا اور دروازہ بند کر دیا ۔۔ آپ کو تو پتا ہے کہ ان کا روم ساؤنڈ پروف ہے ۔۔ میں نے دو تین بار نوک کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔ ” جیمز کی باتوں کے دوران ڈیرئیک آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔۔ جو واقعی کافی ابتر حالت میں تھا ۔۔ جگہ جگہ کانچ کے ٹکڑے گرے ہوئے تھے ۔۔ صوفے پر پڑے کشن زمین پر تھے ۔۔ LED کی سکرین بھی ٹوٹی ہوئی تھی ۔۔۔ شیشے کی میز بھی ۔۔ غرض یہ پینٹ ہاؤس کباڑ خانے کا منظر پیش کر رہا تھا ۔۔۔

ڈیرئیک جیمز کو صفائی کرنے کا کہہ کر اس کے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔۔

” بڈی ۔۔” اس نے دروازے پر نوک کیا ۔۔ کوئی جواب نہیں آیا اندر سے ۔۔

” بڈی ۔۔ اوپن دی ڈور ..” اس نے جیسے التجاء کی ۔۔ اب کی بار بھی کوئی جواب نہ پا کر ڈیرئیک کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکا ۔۔۔

” بڈی۔۔ تم دروازہ کھول رہے ہو ۔۔ کہ میں جاکر ان سب لوگوں کو مار دوں گا جو تمہاری تکلیف کا باعث ہیں ۔۔ پھر میں خود کو بھی ختم کر لوں گا ۔۔۔” اسے اپنی آواز بیگی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔ بس دل میں ایک ہی خیال تھا کہ جان ٹھیک ہو ۔۔۔

بار بار اس کی نظروں کے سامنے کچھ ایسا منظر ہی چل رہا تھا ۔۔

اب کی بار اس کی دھمکی کام کر گئی ۔اور اندر کچھ ہلچل ہوئی ۔۔

دروازے کھلنے پر ان نے شکر کا سانس لیا ۔۔ اور اس طرف دیکھا جہاں جان دروازے میں کھڑا تھا ۔۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔ آنکھیں پوری لال تھیں ۔۔۔ شرٹ کے اوپر والے بٹن ٹوٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔

ڈیرئیک دومنٹ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔۔۔ پھر کچھ بولے بغیر ایک زور کا گھونسہ اس کے جبڑے پر مارا ۔۔

جان اپنی جگہ لر ہی لڑکھڑیا مگر ہلا نہیں نہ ہی کچھ بولا بس سرخ آنکھوں سے اس کی جانب دیکھے گیا ۔۔۔ جو خود بھی غصے سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔

اس نے ایک اور بار اس کو گھونسہ مارنا چاہا مگر جان نے اس کا بازوں پکڑ کر اسے کے وار کو اپنے منہ سے پہچنے سے پہلے ہی روک لیا۔۔۔

ڈیرئیک نے دوسرے ہاتھ سے اس کے پیٹ پر حملہ کیا ۔۔ جان پیچھے کو گرتا اگر دیوار کا سہارا نا لیتا ۔۔۔۔

وہ دونوں کچھ بھی بولے بغیر ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھے ۔۔۔۔

جیمز اپنے کام میں مگن رہا اس نے ان کو روکنے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔ اسے پہلے ہی اندازہ تھا کہ کچھ ایسا ہی ہوگا ۔۔۔

کافی دیر لڑنے کے بعد اب وہ دنوں کارپٹ پر لیٹے لمبے لمبے سانس لے رہے تھے ۔۔۔

جان کا ہونٹ زخمی تھا ۔ آنکھ بھی ہلکی ہلکی پرپل ہو رہی تھی ۔۔

ڈیرئیک کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔

” جان ۔۔۔ آج جو یہ حرکت ہوئی ہے نا اگر دوبارہ ہوئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا …” ڈیرئیک اسی طرح کارپٹ پر لیٹ کر لمبے سانس لیتے ہوئے بولا ۔۔۔جان نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا بس دانت پیستے چھت کو گھوری گیا ۔۔۔

ڈیرئیک دانت پیس کر رہ گیا ۔۔۔

” ٹھیک ہے بیٹا مجھے بھی تیری زبان کھلوانی آتی ہے ” ڈیرئیک دل ہی دل میں جان سے مخاطب تھا ۔۔

” مجھے مارنے کی سپاری دی گئی ہے ۔۔ ” ڈیرئیک کی بات سن کر جان جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھا اور اس کی طرف مڑا ۔۔۔

” کیا مطلب ۔۔۔ ؟؟ کیا ہوا تھا ؟؟” اس کے ماتھے پر شکنوں کا جال پھیل چکا تھا ۔۔۔

” پہلے تم میرے بات کا جواب دو .۔یہ سب کیا ہے ؟”

” کیا؟؟ ” جان نے انجان بنے کی اداکاری کی جیسے اسے نہیں پتا تھا کہ ڈیرئیک کس بارے میں بات کر رہا ۔۔

” یہ توڑ پھوڑ …؟ یہ کمرے میں بند ہونا ؟؟؟ ۔ اتنی وائن ۔۔؟؟ جتنا مجھے تمہارا پتا ہے تو یہ سب تب ہی ہوتا ہے جب تمہارے اندر کا جنونی بندا باہر آتا ہے ۔۔ اور تمہارا جنونی بندا تب باہر آتا ہے جب تمہارا کچھ ۔۔۔۔۔۔ .”

ڈیرئیک جسے اس کو سطح سطح پڑھ رہا تھا۔۔۔

” شٹ اپ ڈیرئیک ” جان گھبرا کر اس کے پاس سے اٹھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ اس کے انداز میں واضح بے چینی تھی ۔۔۔

” کون ہے وہ ۔۔۔۔ ؟؟ ” ڈیرئیک بنا اثر لیے دوبارہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔۔جس کی پشت اس کی طرف تھی اور رخ کھڑکی کی طرف ۔۔۔

” سٹاپ ” جان پھر بولا ۔۔۔۔ اب کی بار اس کی آواز نارمل تھی

” لٹ می گیس۔۔۔۔۔ ” دماغ پر انگلی رکھ کر اس نے سوچنے کی اداکاری کی ۔۔

جان کو اندازہ تھا کہ وہ کس کانام لینے والا ہے ۔۔

” ہاں ایما ۔۔ ” جان نے آنکھیں بند کر کے اپنے تاثرات کو نارمل کرنے کی کوشش کی اسے خود بھی پتا نہیں چل رہا تھا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔۔

” ایسا کچھ نے ۔۔۔ ” وہ بےتاثر انداز میں بولا۔۔

“میری بات تو ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ تم فوراً صفائی دینے لگ گئے ۔۔۔ میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ ایما کے ساتھ جب تم آئے تھے تب تو بلکل ٹھیک تھے …” جان نے آنکھیں چورائی۔۔

” تم کب تک خود سے بھاگوں گے ” ڈیرئیک اس کے سامنے آتے ہوئے بولا ۔۔

” جب ایسا کچھ نہیں تو پھر ۔۔ تم کیوں پیچھے پڑے ہو ۔۔۔ ” جان زچ آکر بولا۔۔ اس کے ہر انداز میں بےزاری تھی ۔۔ یا شاید وہ خود سے بھی بے زار تھا۔۔۔

” ٹھیک ہے ۔۔۔ دیکھتے ہیں ۔۔ تم کب تک خود سے بھاگتے ہو ۔۔۔ ” جان نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔۔

” تم بتاؤں ۔۔۔ کس نے دی تھی سپاری ۔۔۔کیا بات تھی ؟؟ “

” بس اتنا پتا چلا کہ مجھے مارنے کی سپاری ملی تھی ان کو ۔۔۔ باقی بھی پتا کر لیتا لیکن تمہاری وجہ سے نہیں کر پایا ۔۔ نہیں ان کو سہی سے مل پایا “”ڈیرئیک لائٹ آئن کرتے ہوئے افسوس سے بولا

لائٹ آئن ہوتے ہی کمرہ کا منظر سامنے تھا ۔۔ یہاں باہر کی طرح کوئی توڑ پھوڑ نہیں تھی ۔۔

دیواروں پر نیلا رنگ ۔۔۔ فرنیچر سارا وڈ کا تھا ۔۔۔ یہ کمرا اس پینٹ ہاؤس میں موجود باقی کمروں کی نسبت سب سے سادہ لیکن سب سے خوبصورت تھا ۔۔ ہر چیز جہاں پڑی تھی یوں لگ رہا تھا کہ وہ بنی ہی وہاں کے لیے ۔ ۔۔

بیڈ کے ساتھ والی دیوار پر چار تصویریں لگی تھی ۔۔۔

ایک جعفر صاحب کی ۔۔۔

ایک ایوا (جان کی ماں )

روکی ۔۔

ایک چھوٹی سی نو ماہ کی بچی ( جان کی بہن )

” کیا مطلب ؟؟ میرے وجہ سے کیوں ” جان نے الجھ کر اس کی جانب دیکھا جو اب صوفے پر بیٹھا ہوا تھا اور اپنا گال آہستہ آہستہ سہلا رہا تھا ۔۔۔ جہاں اس نے مکا مارا تھا ۔۔۔

پھر ڈیرئیک نے ساری بات اس کے سامنے رکھ دی ۔۔۔

” ہمممم ۔۔۔ وہ پھر آئیں گے ” جان بھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ کر اپنا ماتھا انگلیوں سے دباتا ہوا بولا ۔۔۔ اس کو یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے سر میں دھماکے ہوئے ہوں ۔۔۔

“مجھے بھی پتا ہے ۔۔۔ کیونکہ وہ تمہاری وجہ سے میرے ہاتھ سے نکل گئے ۔۔ اس لیے اب سے میری حفاظت کی ذمیداری تمہاری ہے ۔۔۔ “

” ہمممم ۔۔۔ ” جان کو اس کی آواز گڈ مڈ ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ آنکھوں کے۔ آگے اندھیرا سا چھا رہا تھا ۔۔۔

اور اس اندھرے میں ایک منظر سا چل رہا تھا ۔۔۔۔

ایک 5 سال کا بچہ ۔۔ جو بغیر پلکے جھپکے ۔۔۔۔ایک جگہ سٹل کھڑا تھا ۔۔۔ جس کا چہرہ بےتاثر تھا وہ بےبس خاموش نظروں سے سامنے دیکھ رہا ۔تھا ۔

اس کے سامنے خون میں ڈبی لاش۔۔۔۔ وہ آوازیں ۔۔۔

ایک آنسو چپکے اس کی آنکھوں سے نکل کر اس کی کنٹپی میں جذب ہو گیا تھا ۔۔۔

________________________

ہر طرف اندھیرا تھا ۔۔ وہ دوڑ رہی تھی اس اندھیرے سے دور ۔۔۔ آس پاس درخت ہی درخت تھے۔۔۔

اس لڑکی کا چہرہ واضح نہیں تھا ۔۔۔

اس کے برہنہ پاؤں زخمی تھے ۔۔

وہ جتنا اس اندھیرے سے دور بھاگ رہی تھی

اتنا ہی وہ اندھیرا اس کا پیچھے کر رہا تھا ۔۔۔

اس اندھیرے میں بہت سارے سائے اس کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔

جیسے اسے پکڑنا چاہتے ہوں ۔۔۔

ان سایوں کی پہچان بس ان کی لال لال آنکھیں تھی ۔۔۔

اندھیرا پہلے سے زیادہ گھپ ہو رہا تھا ۔۔

وہ لڑکھڑا کر گری۔۔

اور اسی وقت ان سایوں نے اسے ہر طرف سے گھیر لیا ۔۔

وہ اس کے اوپر جھک رہے تھے ۔۔

وہ چیخنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ لیکن اس کی آواز کسی انجانی قوت سے بند ہو گئی تھی ۔۔

وہ کیوں نہیں چیخ پا رہی تھی ۔۔

ان سایوں کی لال آنکھیں اسی پر جمی تھیں ۔۔۔

___________________________

ایک دم اس کی آنکھ کھولی ۔۔

اس نے خود کو پسینے میں ڈبو ہوا پایا۔۔۔

اس کا سانس بڑی طرح پھولا ہوا تھا ۔۔۔

ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔

اس نے آس پاس نظر دوڑائی وہ اپنے کمرے میں ہی تھی ۔۔۔

یعنی وہ خواب تھا ۔۔

اس نے شکر کا سانس لیا ۔

اس نے موبائل پکڑ کر وقت دیکھا ۔۔ 4 بج کر 34 منٹ یعنی رات کا آخری پہر ختم ہونے کو تھا ۔۔ سورج کسی بھی وقت نکلنے والا تھا۔۔۔

وہ اٹھ کر بیٹھی ۔۔

اس نے آج سے پہلے کبھی اتنا عجیب خواب نہیں دیکھا ۔۔۔

اس کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار بہت معمول سے تیز تھی ۔۔

اسے یوں لگا جیسے وہ ابھی بھی اس خواب کے زیرِ اثر ہو ۔۔۔

اب اس کو نیند نہیں آنی تھی ۔۔۔

اس نے بیڈ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کی ۔۔۔

وہ دوبارہ اس خواب کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔۔

لیکن پتا نہیں کیوں مگر اس کے دل کو یوں لگ رہا تھا ۔۔ کہ جیسے یہ خواب اشارہ ہے ۔۔۔

کچھ برا ہونے کا ۔۔۔۔

کچھ بہت برا ۔۔۔۔

وہ لڑکی کون تھی اسے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔

یوں لگ رہا تھا کہ وہ اس لڑکی کو جانتی ہے۔۔۔

لیکن وہ کون تھی ۔۔۔اگر وہ اس کا چہرہ دیکھ لیتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی ۔۔و

مگر یہ تو خواب ہے نا ۔۔۔۔۔ اس کے دماغ نے اسے تسلی دی ۔۔

نہیں یہ خواب نہیں اشارہ ہے ۔۔۔ دل ماننے کو تیار نا تھا ۔۔

اس ادھیڑ سے اس کو ہاتھ میں پکڑے موبائل کی میسج ٹون نے نکلا اسے ۔۔۔

اس نے ہاتھ میں پکڑا موبائیل آنکھوں سامنے کیا اور جوں جوں وہ میسج پڑھتی جا رہی تھی ۔۔ ویسے ویسے اس کے ماتھے کے بل گہرے ہو رہے تھے ۔۔۔۔

پارک میں داخل ہوئی تو ۔۔ روز کی نسبت ایما اس سے پہلے ہی وہاں تھی اور بینچ کی بیک سے ٹیک لگائے بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔

اس کی نظریں زمین کی طرف تھی ۔۔۔اور چہرہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا ۔۔۔

جس سے اسے بخور اندازہ ہوگیا کہ اس کا میسج اس کو مل چکا تھا ۔۔

۔

حور خود کو اس کے سوالوں کے لیے تیار کرتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔۔

لیکن اس کا بیٹھنے کا نوٹس لیے بغیر اسی طرح زمین کی طرف دیکھتی رہی ۔۔۔

” ناراض ہو ” حور نے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

ایما بولی کچھ نہیں ۔۔ بس اا نے آہستہ سے کندھے کو جھٹکا دے کر اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹایا ۔۔۔

مطلب بہت ناراض تھی وہ اس سے ۔۔۔

حور نے بےبسی سے اسے دیکھا ۔۔۔ جو اس کی طرف دیکھنے کی روادار نہیں تھی ۔۔۔

” ایما میری بات تو سن لو۔۔۔۔ یوں ناراض تونہ ہو ” ایما کا ناراض ہونا اسے تکلیف دے رہا تھا ۔۔۔

” میری ناراضگی اگر اہمیت رکھتی ہوتی تو تم یہ فیصلہ نہیں کرتی ….” ایما نے اب بھی اس کی طرف نہیں دیکھا ۔۔۔

” تمہارے خیال میں مجھے کیا کرنا چاہیے تھا ؟؟؟” حور نے ایک بار پھر اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا اس بار اس نے ہاتھ نہیں جھٹکا۔

حور کو حوصلہ ہوا۔۔۔

” تمہیں علیحدگی لے لینی چاہیے تھی ۔۔۔ ” حور کے دل کو دھکا سا پڑا اس کی بات سن کر ۔۔۔ اس کو یوں لگا جیسے ایما نے اس کی روح کو جسم سے الگ ہونے کا کہہ دیا ہو ۔۔۔

” علیحدگی ۔۔ ” وہ زیر لب یہ لفظ بولی ۔۔۔

” وہ بندہ جس نے دوسری شادی کرلی ۔۔۔ پھر تین سال تک پلٹ کر نہیں دیکھا ۔۔ اب وہ آیا ہے ۔۔ کیوں ؟؟؟ ” ایما نے اس کا چہرہ سفید پرتا دیکھا تو اپنے کندھے پر رکھا اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوۓ سمجھانے کے انداز میں بولی ۔۔۔

اور حور یہ سوچنے لگی کہ ابھی تو اس نے بس ایما کو یہ ہی میسج پر بتایا تھا کہ اس کی شادی آہل کے ساتھ اگلے ماہ ڈن ہوگئی ہے ۔۔تو وہ یہ کہہ رہی ہے ۔۔ اگر وہ اسے آہل کی پہلی بیوی سے اولاد کے بارے میں بتا دیتی تو ۔۔۔ اسے آگے حور کی سوچنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔۔

” حور کیا کوئی ایسی بات ۔۔۔ جو تم نے مجھے نہیں بتائی ۔۔۔ ؟؟ ” ایما اس کے چہرے کا اتار چڑھاؤ غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

” ہمممم ۔۔۔ ایما میں انہیں چھوڑ نہیں سکتی ۔۔۔ یہ جو تین سال میں نے انتظار کیا ہے ۔۔ یہ تو کچھ نہیں اگر مجھے ساری زندگی انتظار کرنا پڑتا تو وہ بھی میں کر لیتی ” حور کھوے ہوئے انداز میں بولی ۔۔ جبکہ اس کی باتیں سنتی ایما دنگ رہ گی ۔۔۔۔

” کیا ہے ایسا ۔۔ اس میں کہ تم اپنی زندگی اس کے پیچھے برباد کرنے پر تلی ہو “

” مجھے نہیں پتہ ۔۔ لیکن یہ سوچ کر ہی کہ اگر وہ میرے نہ رہے تو مجھے میری سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔۔ ایما تمہیں نہیں پتا کہ اگر وہ اب بھی نہ آتے تو بھی میں ان کے نام پر ساری زندگی گزار دیتی ۔۔۔ اور تم کہہ رہی ہو کہ….” حور اب کی بار کھل کر بولی ۔۔۔ اسے پتا نہیں چلا کہ بولتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔

” کب جانا ہے ۔۔ پاکستان ؟؟ ” اس کے آنسو اور باتیں سن کر ایما نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ نہیں روکے گی ۔۔۔

” پندرہ دن تک ..”

“” ہممم ۔۔۔ چلو واک کر لیں اب ۔۔ اس کے بعد آفس بھی جانا ہے ۔۔۔ میرا کھڑوس باس زرہ بھی دیر ہونے پر بولنے لگتا ہے۔۔۔۔ ” وہ پچھلی باتوں کا اثر زائل کرتے ہوئے بینچ سے اٹھتے ہوئے خوشگوار انداز میں بولی ۔۔۔

” ارے چلو بھی ۔۔۔۔ مجھے بعد میں دیکھ سکتی ہو ۔۔ لیکن اگر میں آفس سے لیٹ ہوئی تو بعد کی بھی گارینٹی نہیں ہے ” ایما نے جب حور کو اس کی جگہ سے ہلتا نہ دیکھا تو ہاتھ کر پکڑ کر کھڑا کیا ۔۔

” ایما ۔۔۔ یار تم بہت اچھی ہو ۔۔ لو یو یار ” حور کھڑے ہوتے اس کے گلے لگتے پرنم لہجے میں بولی ۔۔۔

” یار لگتا ہے تم مجھے دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتی “ایما نے ٹھنڈی سانس لے کر بےچارگی سے بولی ۔۔ یہ اور بات تھی کہ آنکھیں اس کی بھی نم ہو گئی تھیں ۔۔۔

” بدتمیز ۔۔۔۔ ” حور اس سے علیحدہ ہو کر نم آنکھوں سے ہستے ہوئے اس کے کندھے پر ہلکے سے موکا مار کر بولی ۔۔

” شکریہ۔۔ ” ایما نے سر جھکا کر اپنا لقب وصول کیا ۔۔

_____________________________

” واہ آج تو بڑے بڑے لوگ آئیں ہوئے ہیں ” آہل جو اپنے کمرے سے نکلا تھا ۔۔ فہد کی آواز سن کر مٹھایاں بھینچ کر اس کی جانب مڑا ۔۔۔

فہد عافیہ بی بی کے بڑے بیٹے اکرم کا اکلوتا بیٹا تھا ۔۔ جو انتہاء کا بگڑا ہوا تھا ۔۔ اس کی اور آہل کی کبھی نہیں بنی تھی ۔۔ جبکہ عافیہ بیگم کے چھوٹے بیٹے مجیب کی دو بیٹیاں تھیں مہک،،مسکان ۔۔۔

” ہاں ۔۔ اور گھٹیا گھٹیا لوگ پہلے ہی سے یہاں ہیں ” آہل سرد آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ کر بولا ۔۔

” ارے حورین کو نہیں لائے ۔۔۔ ایک بار دیکھ کر دل پاگل سا ہو گیا تھا۔۔ بڑی مست چیز تھی ۔۔ ” وہ بڑی بے ہودگی سے بول رہا تھا ۔۔ آہل کی برداشت یہاں جواب دے گئی ۔۔ ویسے بھی اس میں برادشت کی بڑی کمی تھی ۔۔

اایک زوردار گھونسہ سے اس کو نوازتے ہوئے وہ اپنی آگ برساتی آنکھیں اس پر مرکوز کرتے ہوئے بولا۔۔

” دوبارہ اگر میری بیوی کا نام تیرے زبان پر آیا تو کاٹ کر کتوں کو کھلا دوں گا ۔۔ ” اس کا گریبان اب بھی اس کے ہاتھوں میں تھا ۔۔۔

” حورین ۔پوری نشے کی بوتل ہے۔۔ بلکہ وہ تو پہلے والی سے بھی زیادہ ۔۔۔” اس سے آگے فہد بول نہیں پایا کیوں کہ آہل اس پر مکوں اور لاتوں کی بارش کر چکا تھا ۔۔

” ہاےےےےےےے یہ کیا ۔۔۔ کر رہا ہے ۔۔۔ پیچھے ہو ۔۔۔ ” عافیہ بی بی پتا نہیں کہاں سے نازل ہوئی ان کے ساتھ رفیق بٹ بھی تھے ۔۔۔۔آہل کو فہد سے پیچھے کرتے ہوئی بولی ۔۔۔۔

” میرے بچے کی کیا حالت کر دی ظالم نے ۔۔۔ ” عافیہ بی بی فہد کا منہ اپنے دنوں ہاتھوں کے پیالے میں تھامتے ہوئے بین کرنے کے انداز سے بولیں۔۔۔۔

فہد کے ناک اور ہونٹ سے خون نکل رہا تھا ۔۔ لیکن ابھی بھی اس کے ہونٹوں سے وہ مکروہ مسکراہٹ نہیں گئی تھی ۔۔

” آہل یہ سب کیا ۔۔۔۔ ؟؟؟” داجی دونوں ہاتھوں کو پیچھے باندھے گرجدار انداز میں بولے ۔۔۔

بلال صاحب اس وقت اپنے آفس تھے ۔۔ دادی سو رہی تھیں دوا کھا کر ۔۔

ان کے علاؤہ باقی سب بھی داجی کی گرجدار آواز سن کر وہاں جمع ہوگئے تھے ۔۔۔

یہاں تک کہ ملازم بھی ۔۔۔

” داجی کچھ نہیں ہوا ۔۔ میری ہی غلطی ہے ۔۔۔ آہل کا کوئی قصور نہیں ۔۔” فہد مظلوم سی شکل بنا کر بولا ۔۔

” پوری بات بتاؤں …” داجی دیکھ آہل کو رہے تھے جس کا چہرہ بےتاثر تھا لیکن مخاطب فہد سے تھے ۔۔

” کچھ نہیں ۔۔۔ داجی ” فہد نے بھی بات کو ٹالنے کی اداکاری کی ۔۔

” مجھے جواب چاہیے ۔۔۔” داجی سرد آنکھیں لیے غصے سے بولے ۔۔

” وہ داجی ۔۔۔ میں اسے یہ کہہ رہا تھا کہ تمہیں داجی کی بات مان لینی چاہیے تھی ۔۔۔”

فہد شرمندہ سا ہوکر آنکھیں نیچے کر کے بولا ۔۔۔

” عافیہ لے کر جاؤ اس کو ڈاکٹر کو بلاؤ ۔۔۔ اور باقی سب بھی جائیں اور شادی کی تیاریاں کریں ۔۔۔ ” داجی نے سب کے وہاں سے رخصت ہوتے ہی ۔۔ داجی بھی جانے کو مڑے لیکن پھر روک گئے اور آہل کو دیکھیے بغیر بولے ۔۔۔

” مجھے مجبور نہ کرو کہ میں پھر سے تمہیں نکالنے پر مجبور ہو جاؤں۔۔۔ مجھے پہلے ہی تم بہت شرمندہ کروا چکے ہو ۔۔۔ اگر ابھی بھی یہ ارادہ ہے تو پہلے بتا دو ” ان کے انداز میں اتنی اجنبیت تھی کہ اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔۔ لیکن اس نے اپنے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔۔۔۔

داجی کے جاتے ہی اس نے مٹھیاں بھینچ لی۔۔۔

اس کے اندر نفرت اور غصے کا طوفان اٹھ رہا تھا ۔۔

وہ لمبے لمبے ڈاگ بھرتا حویلی سے باہر نکلا ۔۔ اور گاڑی میں بیٹھ کر ۔۔ گاڑی گیٹ سے نکال کر روڈ پر لاتے ہوئے اس نے کسی کو فون کیا ۔۔۔

” میرا کام ہوا…؟؟؟.”

” اوکے ۔۔ میں آکر دیکھ لیتا ہوں ۔۔۔ “

آج کہ واقعہ نے اس کا ارادے پختہ کر دیۓ تھے ۔۔

اب دیکھنا یہ تھا کہ جو غصے اور نفرت کا طوفان وہ اپنے اندر دباۓ بیٹھا تھا وہ کتنی تباہی لانے والا تھا۔۔۔۔

__________________________

“تمہیں کیا ضرورت تھی آنے کی ۔۔۔ میں روز کی طرح آج بھی خود آ سکتی تھی ” ایما ایک ناراض نظر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے حنان پر ڈالی ۔ ۔۔۔ اس کو بلکہ اچھا نہیں لگ رہا تھا حنان کا احسان لینا ۔۔۔ وہ اپنے کام خود کرنا پسند کرتی تھی ۔۔

حنان جو بڑی سنجیدگی سے ڈرئیونگ کر رہا تھا ۔۔ ایما کی بات سہی سے سن نہیں سکا ۔۔ اس کا دماغ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔

” میں نے کچھ کہا ہے حان ” اس کو اپنی طرف متوجہ نہ پا کر ایما نے اب اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر متوجہ کیا ۔۔۔

” تم کیا کام کرتی ہو۔۔ آفس میں مین ۔۔ کس پوسٹ پر ۔۔ ” حنان کی بات سے اسے الجھن ہوئی وہ اسے کیا کہہ رہی ہے اور حنان کیا بات کر رہا ہے ۔۔

” میں فلحال سیکٹری کی پوسٹ پر ہوں ۔۔۔ جب تک کوئی اور سیکٹری اپوانٹ نہیں ہو جاتی ۔۔۔ تب تک کے لیے ۔۔ ” اس کی بات سن کر حنان کی گرفت سٹرنگ ویل پر سخت ہوئی ۔۔۔

” ایما تم ۔۔ تم یہ جاب چھوڑ دو ۔۔ میں کہیں اور تمہیں دلوا دوں گا ۔۔۔ ” ایما کو کرنٹ لگا۔۔۔

” تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ میں کسی کا احسان لینا پسند نہیں کرتی ۔۔ میں جو بھی کرنا چاہتی ہوں اپنے بل بوتے پر کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ مجھے تو یہ بات بھی نہیں پسند نہ تم مجھے پک اینڈ ڈراپ کی سروس دو ۔۔۔۔ ” حنان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے ایما کو اپنی بات سمجھاۓ۔۔

” ایما میں تمہاری سیفٹی کے لیے کہہ رہا ہوں ۔۔ کیونکہ تمہیں کچھ ہو یہ میں برداشت نہیں کر سکتا ۔۔ ” آخر میں تنگ آکر اس نے گاڑی ایک طرف روکی اور اپنی سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔ کیونکہ اس کا سارا فوکس اس وقت ایما کو جاب چھوڑنے پر راضی کرنے پر تھا ۔۔ ایسے میں اس کے لیے ڈرائو کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔

” تم کیا کہہ رہے ہو مجھے سمجھ نہیں آ رہی ۔۔۔ بھلا مجھے کیا ہونا ہے ؟؟” اس کے گاڑی روکنے سے ایما چونکی تھی ۔۔۔ لیکن اس سے زیادہ وہ اس کی سیفٹی والی بات پر الجھی تھی ۔۔۔

” تمہیں کتنا پتا ہے جہان کے بارے میں ۔۔ ؟؟؟” اگر ایما رات کو جان کے بارے میں سرچ نہ کرتی تو اسے نہیں پتا لگنا تھا کہ حنان کس جہان کی بات کر رہا ہے ۔۔۔

” حان جو بات ہے سیدھی طرح کہو ۔۔ کیوں پہلیوں میں الجھا رہے ہو ۔۔۔۔ ” ایما کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کچھ تو تھا جو غلط تھا ۔۔ کیونکہ اس نے حنان کو کبھی اس طرح نہیں دیکھا۔۔۔

” ایما ۔۔” حنان اس کی طرف مڑ کر اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا۔۔۔۔ اور اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھا۔۔۔

ایما نے اچھنبے سے اس کی حرکت دیکھی ۔۔

” جہان بہت خطرناک ہے ۔۔۔ تم پلیز اس سے دور رہو ۔۔۔ ” وہ اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولا۔۔

” خطرناک سے مراد “” حنان دو منٹ چہرہ نیچے کیے جیسے خود کو بولنے کے لیے تیار کر رہا تھا ۔۔

” ایما اس نے اپنی مدر کا مڈر کیا ۔۔۔۔ ” حنان نے اپنے ہاتھوں میں موجود ایما کے ہاتھ کی لرزش اچھی طرح محسوس کی تھی ۔۔۔

” وٹ ” ایما بڑی مشکل سے اپنی چیخ کا گلا گھونٹ کر بس اتنا ہی بول پائی تھی ۔۔۔

” یہی نہیں ۔۔۔ اس نے اپنی بہن ۔۔ اور ایک ڈوک جو اس کی مدر نے اسے گفٹ کیا تھا اسے بھی مار دیا ۔۔۔ اس کی بہن کی تو لاش آج تک نہیں مل پائی ۔۔۔ ایک بار تو اس نے ڈیڈ پر بھی اٹیک کی کوشش کی تھی ۔۔۔اس لیے ڈیڈ نے اسے بورڈنگ بھیج دیا تھا ۔۔ ” ایما سفید ہوتے چہرے کے ساتھ اس کی ساری باتیں سن رہی تھی ۔۔ اس کو اپنے ہاتھ ٹھنڈے اور خوف کی وجہ سے گلا سوکھا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔

” ایما ۔۔ آر یو اوکے ۔۔۔ ” حنان تو اس کی یہ حالت دیکھ کر پریشانی سے اس کے گال تھپتھپاۓ ۔ جو بلکل ٹھنڈے پر چکے تھے ۔۔۔

” میں کیا کروں پھر ۔۔اب ” حنان کو ایما کی آواز سن کر سکون ملا۔۔۔

” تم یوں کروں آج ہی ریزائن کر دو۔۔۔ ” حنان گاڑی سے پانی کی بوتل نکال کر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔

ایما نے اس سے پانی کی بوتل لی ۔۔ اس وقت اس کا گلا سوکھا ہوا تھا ۔۔

” ہاں ۔۔میں ریزائن کر دوں گی ۔۔۔ ” وہ پانی پینے کے بعد سرگوشی کہ انداز سے خود سے بولی۔۔۔ جبکہ اس کی سرگوشی حنان کے کانوں تک بھی پہنچی تھی۔۔۔ جیسے سن کر اسے اپنے دل میں اطمینان سا اترتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔

اگاڑی دوبارہ اپنی منزل پر رواں ہوگئی تھی ۔۔

ایما کو رات کا خواب پھر سے یاد آیا ۔۔۔ ( تو کیا یہ خواب اسی وجہ سے آیا تھا کہ میں خطرے میں تھی ۔۔ مطلب وہ لڑکی میں ہی تھی ۔۔۔ اور وہ سایہ جہان تھا )

اس کا دل خراب ہو رہا تھا ۔۔۔ صبح کو اس نے صرف جوس ہی پیا تھا ۔۔۔ ناشتہ اس نے جلدی کے چکر میں نہیں کیا ۔۔کہ حنان اس وقت باہر گاڑی میں تھا ۔۔ اس نے بس چینج کیا اور بالوں کا جوڑا بنا کر بیگ پکڑ کے گاڑی میں بیٹھنے گئی ۔۔۔

اسے بیگ میں موجود چاکلیٹ کا خیال آیا ۔۔۔

جلدی سے بیگ کھول کر اس نے چاکلیٹ نکالی اور ریپر اتار کر چاکلیٹ کی ایک بڑی سے بائیٹ لی ۔۔

حنان نے ایک نظر ونڈ سکرین سے ہٹا کر اس کی طرف دیکھا جو اب بچوں کی طرح چاکلیٹ کھارہی تھی ۔۔ ایسے چاکلیٹ کھاتی حنان کو وہ بہت کیوٹ اور معصوم لگی ۔۔

کچھ چاکلیٹ اس کے ہونٹ اور چیک پر لگ گئی تھی ۔۔۔

آفس آگیا تھا ۔۔۔

گاڑی پارکنگ میں روک کر حنان اس کا ہاتھ پکڑا جو بچی چاکلیٹ بیگ میں ڈال کر گاڑی کا ڈور کھول کر نکلنے لگی تھی ۔۔۔۔

حنان نے ایک نظر ایما کے پیچے کھولے دروازے پر ڈالی اور پھر ٹشو نکال کر اس کے ہونٹ اور چیک سے چاکلیٹ صاف کی ۔۔

نرمی سے ۔۔

پیار سے ۔۔

اس وقت اس کے دل اور دماغ میں ایک ہی بات چل رہی تھی کہ آیا چاکلیٹ زیادہ میٹھی ہوگی یا پھر اس کے ہونٹ۔۔۔

“اب تو میرا ہاتھ چھوڑ دو ۔۔۔ ” ایما اس کی نظروں سے بے خبر اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالنے کے لیے بولی ۔۔۔

” ایک شرط پر ” ۔۔ حنان نے اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی ۔۔ اور شرارت سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔۔۔

شرط کی بات سن کر ایما نے اپنی بڑی آنکھیں مزید بڑی کر کے حیرت سے اس کی طرف دیکھا ۔۔

” کیسی شرط ؟؟؟”

” وہ چاکلیٹ مجھے دو۔۔ پھر جانے دوں گا ۔۔۔۔ ” چاکلیٹ کے بارے میں حنان اس کے پاگل پن سے اچھی طرح واقف تھا ۔۔

” حان پلیز۔۔۔۔ ” ایما نے معصوم سی شکل بنائی۔۔۔ کہ کسی طرح وہ اپنی چاکلیٹ بچا لے ۔۔۔

” نوپ ۔۔۔ ” حنان نے اپنے دوسرا فارغ ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا ۔۔

ایما نے یہ بات محسوس نہیں کی لیکن حنان اس کا دماغ بٹا رہا تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے جو خوف تھا وہ اب نہیں تھا ۔۔۔

ایما نے منہ بسورے ہوئے اپنی بچی ہوئی چاکلیٹ بیگ سے نکال کر اس کو دی ۔۔۔

چاکلٹ لیتے ہی حنان نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔

” حان تمہیں پتا ہے تم بہت برے ہو ۔۔۔۔ ” ایما گاڑی سے نکلنے کے بعد بولی۔۔۔

” اوہ ۔۔ تمہارا دوست ہوں ۔۔۔۔ برا تو ہونا ہی تھا ۔۔۔ ” حنان بھی اس کے پیچھے گاڑی سے اترا گاڑی لوک کرتے ہوئے بولا۔۔۔

ایما پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔

” تم نہ سہی ۔۔۔۔

تمھاری یہ چاکلیٹ ہی سہی ۔۔۔۔ “

حنان نے مسکراتے ہوئے چاکلیٹ کی ایک چھوٹی سی بائٹ لی۔۔۔۔۔

اسے چاکلیٹ پسند نہیں تھی ۔۔۔ لیکن جب سے وہ اس طرح ایما سے چاکلیٹ لیتا تھا ۔۔ اسے وہ چاکلیٹ ہر چیز سے زیادہ لذیز لگتی تھی ۔۔۔

” کیا بنے گا تیرا حنان ۔۔۔۔” اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر وہ خود ہی اپنے آپ سے بولا ۔۔۔

اور VIP لفٹ کی طرف بڑھاگیا۔۔۔

ایما آج ریلکس تھی ۔۔۔اسے پتا تھا کہ وہ لیٹ ہے ۔۔ لیکن ریزائن کے فیصلے نے اسے ہلکہ پھلکہ کر دیا تھا ۔۔۔

وہ جان کے آفس میں آئی تو خلافِ معمول آج وہ آفس میں نہیں تھا ۔۔۔

ایما نے پہلے جلدی سے کافی بنائی اور جان کی بتائی انسٹکرشن کے مطابق کام کیا ۔۔۔

ان کاموں سے فارغ ہونے کے بعد اس نے گھڑی پر وقت دیکھا جان اب بھی نہیں آیا تھا ۔۔۔

وہ جان کے آفس سے نکل کر اپنے کیبن میں گئی ۔۔ جو سیکٹری بنے کے بعد اسے ملا تھا ۔۔

یہ کیبن جان کے آفس کے بلکل ساتھ تھا ۔۔ بس درمیان میں ایک گلاس وال تھی۔۔

جس کے ذریعے ایما کو اس کے آنے اور جانے کا پتا لگ جاتا تھا ۔۔۔

” ریزنشن لیٹر لکھ لیتی ہوں ۔۔۔” وہ لیٹر ٹایپ کر رہی تھی ۔۔کہ پاس میں پڑا انٹرکام بجا۔۔۔

” اندر آؤ۔۔ ابھی ۔۔۔۔” اس نے گلاس وال کی طرف دیکھا۔۔۔ جہاں جان اپنی سیٹ پر بیٹھا اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔

اسے دیکھ کر ایما کو حنان کی بات یاد آئی ۔۔ اور خوف نے پھر سے اسے گھیر لیا ۔۔۔اس نے ایک نظر اپنے سامنے لیٹر پر ڈالی۔۔۔ جو آدھے سے زیادہ لکھا جاچکا تھا ۔۔۔ پھر ہمت کر کے آفس میں داخل ہوئی۔۔۔

” تیار ہو جائیں۔۔آج ڈیرئیک اور الیویا کے شوٹ ہیں ۔۔۔۔ بیچ پر ۔۔۔ تم بھی میرے ساتھ چل رہی ہو ۔۔۔ ” جان بغور اس کے خوفزدہ چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔

ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ جان نے اسے تم کہہ کر مخاطب کیا تھا۔۔۔

جان کے ساتھ جانے کے خیال سے ہی ایما کو اپنی روح فنح ہوتی لگ رہی تھی ۔۔ اس لیے وہ اس کے تم کہنے پر زیادہ غور نہیں کر سکی ۔۔۔

(زندگی پیاری ہے ۔۔ ایما تو منع کر دے ۔۔۔ ) ایما نے دماغ کے کہنے پر عمل کرتے ہوئے اسے مخاطب کیا ۔۔۔ جو اسے اپنی بات کہنے کے بعد دراز سے پتا نہیں کیا تلاش رہا تھا ۔۔۔

” س۔۔۔۔سر ” ایما اٹکتے ہوئے بولی ۔۔۔

” تم اب تک یہاں ہو ۔۔۔ میں نے ابھی کیا کہا ہے ۔۔۔ ” جان اس کو وہاں موجود دیکھ کر جھڑکنے کے انداز سے بولا۔۔۔ اس کا انداز بہت انسلٹنگ تھا ۔۔۔

” سر ۔۔۔ میں نہیں جا سکتی آپ کے ساتھ ۔۔۔ ” انکار سن کر جان کا دماغ بلکل آؤٹ ہو گیا ایک جھٹکے سے وہ سیٹ سے اٹھا اور ٹیبل پر موجود پیپر ویٹ دیوار پر مارا ۔۔

آفس میں شیشے کے ٹوٹنے کی اواز گونج گئی ۔۔۔

ایما نے ڈر کی وجہ سے آنکھیں بند کر لی تھی ۔۔۔ اسے لگا تھا کہ جان نے پیپر ویٹ اس پر پھینکا تھا ۔۔

اپنی پشت پر کسی کی گرفت محسوس کر کے اس نے آنکھیں کھولی تو خود کو جان کے حسار میں پایا۔۔ابھی وہ اس شاکڈ سے ہی نہیں سنبھلی تھی کہ جان کی اگلی حرکت نے اس کے چودہ تبک روشن کر دیے ۔۔۔

اس کا سانس روک گیا تھا ۔۔ اس نے خود کو اس کے حسار سے نکلنے کی کوشش کی لیکن جان نے اس کے دونوں ہاتھ اپنی دوسرے ہاتھ کی گرفت میں لے کر اس کی کوشش ناکام کردی ۔۔

اسے اپنے ہونٹ پر جلن سی ہوئی ۔۔۔

کیا تھا اس کی لمس میں ۔۔۔ غصہ ۔۔ جنون ۔۔ اور شاید نفرت بھی ۔۔۔

بےبسی کے احساس سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے ۔۔۔

اس کو اب پکا یقین ہوگیا تھا۔۔ کہ حنان بلکل ٹھیک کہہ رہا تھا ۔۔۔

کچھ دیر بعد جان پیچھے ہوا۔۔ اور گہری نظر سے اسے دیکھا۔۔جس کا چہرا لال ہوا تھا ۔۔ آنکھیں نم اور لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔۔۔

ایما کی کمر اور ہاتھ اب بھی اس کی گرفت میں تھے۔۔۔

ان دنوں کے درمیان بہت کم فاصلہ تھا۔۔۔

” آئندہ کے بعد مجھے انکار کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ۔۔۔ ” جان اس کے چہرے پر آئی لٹ کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولا۔۔۔

اس کی نیلی آنکھیں اس وقت بےتاثر تھیں ۔۔۔

” تمہارے پاس 15 منٹ ہیں ۔۔۔۔ اپنا حلیہ درست کرو ۔۔ اور نیچے پارکنگ میں آؤ “.اس کو آڈر دے کر وہ خود اپنی پینٹ کی پاکٹ سے سگیرٹ نکالتے ہوئے آفس سے نکل گیا ۔۔۔

وہ اپنا غصہ کنٹرول کرنے کے لیے زیادہ تر سگریٹ کا ہی سہارہ لیتا تھا ۔۔۔

اپنے آفس سے نکلنے کے بعد اس نے اپنے کبڈ کولیکشن کی انچارج کو اس کا ڈریس چینچ کروانے کا کہہ کر گاڑی کے پاس ہی ٹیک لگا کر کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔

ٹھیک پندرہ منٹ بعد اس کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ سانس لینا بھول گیا ۔۔۔

بلیو سلیو لیس ٹاپ اور وائیٹ کلر لانگ سکرٹ جو اس کے پیروں تک آتے تھی اس کے سامنے تھی ۔۔۔ بال بھی اب اس کے جوڑے کے بجائے کھولے ہوئے تھے ۔۔۔ روئی روئی آنکھیں ۔۔۔ لال گال ۔۔۔اور زخمی ہونٹ پر لپ سٹک لگا کر چھپانے کی کوشش کی گئی تھی ۔۔۔

اس وقت وہ انتہاء کی خوبصورت لگ رہی تھی اسے۔

کہ اس کا دل کر رہا تھا کہ سب سے چھپا لے

۔۔ کوئی بھی اس کے سواہ

نہ اسے دیکھ سکے

نہ چھو سکے ۔۔۔

یہاں تک کہ یہ ہوا بھی جو اس کے بالوں کو اڑا رہی تھی یہ بھی اسے بری لگ رہی تھی ۔۔۔

اس نے بڑی مشکل سے اس سے نظر ہٹا کر اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔۔خود بھی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی ۔۔ وہ پوری کوشش کر رہا تھا کہ اس کا دھیان اس کی طرف نہ جائء ۔ لیکن دل تھا کہ بار بار اسے دیکھنے کی خواہش کر رہا تھا

جان کو اپنی فیلنگ سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔ جو ایما کو دیکھنے کے بعد سے آتی تھی ۔۔

کیوں اسے غصہ چھڑتا تھا جب کوئی اور اسے چھوتا تھا ۔۔۔

جب وہ ہستی تھی ۔۔ اسے ہر چیز ہستی محسوس ہوتی تھی ۔۔۔

جب وہ اداس ہوتی تو پوری دنیا اسے ویران ویران کیوں لگتی تھی ۔۔۔

اور آج جب اسے اور حنان کو قریب دیکھا تو کیوں وہ غصے سے پاگل ہو گیا تھا۔۔۔ ؟؟

ان سوالوں کے جواب جو اس کا دل دے رہا تھا۔۔۔ دماغ وہ ماننے پر راضی نہیں تھا ۔۔۔

جان نے دوبار اس کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔۔۔

گاڑی بڑی تیز رفتاری سے اپنی منزل کی طرف رواں تھی ۔۔۔

__________________________

شوٹ کے لیے سب تیار تھا ۔۔۔

ایک طرف کمپنی کی وین کھڑی تھی ۔۔ اور پاس ہی کمرہ مین اپنا کمیرہ سیٹ کر رہے تھے ۔۔

آس پاس بھی اتنا رش نہیں تھا ۔۔۔

اس لیے ایڈ کے لیے یہ جگہ پرفکٹ تھی ۔۔۔

الیویا نے وائٹ وسکوٹ ٹاپ کے ساتھ شارٹ پینٹ پہنی ہوئی تھی ۔۔۔

اور ڈیرئیک نے ابھی چینج نہیں کیا تھا ۔۔

وہ اپنے سامنے پڑے پھلوں سے انصاف کر رہا تھا ۔۔۔

الیویا نے موقع دیکھ کر پاس سے گزرتے ایک ورکر کو ایک چھوٹا لکڑی کا ڈبہ دیا ۔۔ اور ساتھ ہی پیسے بھی دے کر اس کو اس کا کام سمجھایا ۔۔۔

وہ لڑکا حیران ہوا۔۔۔

لیکن پیسے اس کی ساری حیرانگی ختم کر گئے۔

اسے تو پیسے مل رہے تھے اس کے لیے یہی بہت تھا ۔۔

اور وہ کام کے لیے راضی ہو گیا ۔۔۔

” اب تمہیں پتا لگے کا ڈیرئیک تم نے اولیویا کو بہت ہلکہ لے لیا ہے ۔۔۔ ” الیویا ہاتھ جھاڑ کر ڈیرئیک کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔

اس کی آنکھوں میں اس وقت ایک بڑی خوبصورت چمک تھی ۔۔۔

ڈیرئیک کا ردِعمل سوچ کر دل میں گدگدی سے ہو رہی تھی ۔۔۔

اس نے ٹیبل سے چپس کا پیکٹ پکڑ کر کھولا۔۔۔ابھی دو چپس ہی کھائی ہوئیں گی ۔۔

کہ ڈیرئیک کسی نا آہنگی آفت کی طرف وہاں ٹپکا۔۔۔

” تھوری مجھے بھی دو ۔۔۔ ” اس نے درخواست کی ۔۔۔

” نہیں …” درخواست رد ہوئی۔۔

” اچھا۔۔۔۔ اممم چلو۔۔۔ پانچ ہی دے دو۔۔۔ ” ڈیرئیک کی نظر اس کی پیکٹ پر تھی ۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح لے کر بھاگ جاۓ۔۔۔

” مجھے سوچنے دو ۔۔۔ نہیں ” اس نے سوچنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا ۔۔۔جسے سن کر وہ خوش ہوا ۔۔ لیکن یہ خوشی بھی الیویا کو پسند نہیں آئی۔۔۔

” اچھا ۔۔۔ 3 ہی دے دو۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔ ” ابھی اتنا کچھ کھایا ۔۔ ابھی بھی بھوکا۔۔۔

الیویا نے اسے گھوری ڈالی ۔۔۔۔مطلب انکار۔۔۔

” اچھا ۔۔ ایک ہی دے دو۔۔۔۔ ” اس نے اتنی مسکین شکل بنا کر کہا کہ اسے اس پر ترس آیا اور ایک چپس کا ٹکڑا نکال کر اس نے ڈیرئیک کو دیا۔۔۔

ڈیرئیک نے خوشی سے اس سے وہ پیس لیا ۔۔۔۔ اور اچھی زبان سے چاٹا ۔۔۔

الیویا کو اس کے ایسے کرنے سے الجھن کو رہی تھی ۔۔ اس لیے اس نے اپنی نظر اس کی طرف سے ہٹا دی ۔۔۔

ابھی اس نے ایک پیس اور لیا ہی تھا کہ ڈیرئیک نے اس کے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ چھینا ۔۔۔اور اپنی وہ چاٹی ہوئی چپس اس کے سامنے پیکٹ میں ڈال کر اچھی طرح پیکٹ ہلا کر اس میں مکس کر دی۔۔۔۔

” یہ لو۔۔۔۔ ” ان سب سے فارغ ہونے کے بعد اس نے بڑی شرافت سے پیکٹ واپس اسے کیا ۔۔۔۔

” یخخخخخ۔۔۔۔” الیویا دوبک کر پیچھے ہوئی ۔۔۔۔

” ارے کھا لو۔۔۔ اس طرح پیار بڑھتا ہے ۔۔۔۔ ” ڈیرئیک نے پھر سے اصرار کیا ۔۔۔

” تم ہی کھاؤ۔۔ تمہارا جھوٹا کھا کر میں مرنا نہیں ۔۔۔ ” الیویا کو کراہت ہو رہی تھی ۔۔۔

اس کی کہنے کی دیر تھی ۔۔۔ ڈیرئیک نے اس کے سامنے پانچ منٹ نہیں لگائے اور سارا پیکٹ مزے سے خالی کر دیا۔۔۔

” اممممم مزے کا تھا ۔۔۔۔ اور کچھ ہے تمہارے پاس ۔۔۔ ؟؟؟” اب وہ اس کی سامان کی تلاشی لے رہا تھا ۔۔۔

” پیچھے ہو ۔۔ ” الیویا نے چڑ کر اسے پیچھے کیا ۔۔۔

” میں کب تمہارے اوپر چھڑا ہو۔۔۔ ” وہ برا مانتے ہوئے پیچھے ہوا

” افففففف۔۔۔ تم کہاں سے آگے اس دنیا میں ۔۔۔ ؟؟؟” الیویا نے زچ کر پوچھا۔۔۔۔

” تمہارے پیچھے پیچھے ہی آیا تھا۔۔۔ اب تم ہی بتاؤ تم کہا سے مجھے یہاں لائی ہو ۔۔۔ ” ڈیرئیک کے پاس جواب نہ ہو ایسا ہو سکتا ہے۔۔۔

الیویا نے اب چپ رہنا ہی بہتر سمجھا ۔۔۔ کیوں سامنے والا سوال سے پہلے جواب تیار کر بیٹھا ہوا تھا۔۔

” اچھا میں ذرہ چینج کر لو ۔۔۔ جان بھی پانچ منٹ تک آنے والا ہے ۔۔۔ ” موبائل کی ٹون سن کر اس نے میسج دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

الیویا نے کچھ نہیں کہا اس کی بات پر بھی ۔۔۔ لیکن اپنی آکسائیڈ منٹ وہ چھپا نہیں سکی ۔۔۔

” تم کیوں خوش ہو رہی ہو۔ ۔۔” ڈیرئیک نے آنکھیں چھوٹی کر کے کہا ۔۔۔

” میری مرضی ۔۔۔” جواب میں اس نے کندھے آچکا دیے ۔۔۔

ڈیرئیک اس کو شکی نظروں سے دیکھتے وہاں سے چلا گیا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں جان بھی ایما کو لے کر وہاں آگیا ۔۔۔

ڈیرئیک نے وائٹ ٹراؤزر اور ساتھ وائٹ ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔۔۔

ابھی وہ پہن کر باہر ہی آیا تھا ۔۔۔ کہ اس کو یوں لگا جیسے اس کی کمر پر کچھ چل رہا ہے ۔۔۔۔اس نے کمر پر ہاتھ رکھا اس کو کچھ ابھرا ابھرا لگا۔۔۔۔

پھر کمر کے ساتھ ٹانگوں پر پھر یوں لگا ۔۔۔ اس نے کمر کے پیچھے ہاتھ لے جا کر اس چیز کو نکلا چاہا۔۔۔

وہ چیز تو نکلنے کی بجائے اب اس کے سینے والی سیڈ پر آ گئی تھی ۔۔۔

اس کے ہلکے ہلکے ناخون اسے محسوس ہو رہے تھے ۔۔

وہ اچھل اچھل کر اس چیز کو نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔

سیٹ اور آس پاس موجود لوگ بھی اس کی عجیب حرکتیں دیکھ کر ہنس رہے تھے ۔۔۔ وہ جس طرح اچھل رہا تھا سرکس کا بندر ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔

الیویا کا تو ہنس ہنس کر آنکھوں پانی آنے لگ گیا تھا ۔۔۔

” اب یہ کیا نیا تماشہ ہے ۔۔؟؟؟” جان نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اچھلنے سے روکتے ہوے باز پرس کیا ۔۔۔

” میرے کپڑے میں کچھ ہے۔۔۔ ” ڈیرئیک نے اپنی الجھن بتائی۔۔۔

” جاؤ۔۔۔ جا کر دوسرا سوٹ پہن لو۔۔۔ ” جان اس کو وین میں چھوڑتے ہوئے بولا اور وین کا دروازہ بند کر دیا۔

اس کے بعد اس نے سارے سٹاف پر ایک سرد نظر ڈالی ۔۔۔ جس کا مطلب صاف تھا۔۔۔ اپنے کام پر توجہ دو۔۔۔

اور سب اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئے ۔۔۔

جان بھی مڑ کر جانے لگا تھا کہ ایک منظر نے اسے آگ ہی تو لگا دی ۔۔۔

ایما کسی آدمی سے مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہی تھی ۔۔اس کے سر پر پھولوں کے بنے تاج کا اضافہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔

” آپ کی بیٹی بہت کیوٹ ہیں ۔۔۔ ” ایما نے اس آدمی سے کہا۔۔۔ تھوری دیر پہلے اسی کی بیٹی اسے یہ پھولوں کا تاج دے کر گئی تھی ۔۔۔

” ہاں ۔۔ اپنی ماں پر گئی ہے۔۔ ” اس کے باپ نے ایک پیار بھری نظر اپنی مٹی سے کھیلتی بچی پر ڈالی۔۔۔

” وہ نہیں آئی ساتھ ۔۔ ؟؟” ایما کی بات پر اس آدمی کے چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ آئی۔۔۔

” اس کی نور کی پیدائش پر ہی ڈیتھ ہوگئی تھی ۔۔۔ “

” اور آئی ایم سوری ۔۔۔ ” ایما کو حقیقت دکھ ہوا۔

” ایک بات پوچھوں۔۔۔۔ ؟؟؟” ایما نے جھجھکتے ہوئے بولی ۔۔

” جی ضرور۔۔ ” اس آدمی نے خوشدلی سے اجازت دی۔۔۔

” آپ مسلم ہیں ؟؟؟ ” اس کے سوال پر اس آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔

” جی الحمدللہ۔۔ میرا ایک اسلامک سینٹر بھی ہے جو میں نے گھر ہی کھولا ہے۔۔۔ اگر آپ آنا چاہے ۔۔ تو یہ کارڈ پر ایڈریس لکھا ہے۔۔ ” اس آدمی کے چہرے پر وہی روشنی تھی جو ایما کو اکثر حور کے چہرے پر نظر آتی تھی ۔۔۔

” شکریہ ۔۔ ” ایما نے اس سے کارڈ پکڑا۔۔

کارڈ پر ابراہیم لکھا ہوا تھا ۔۔۔

” ویسے بہت پیارا نام ہے آپ کا ۔۔۔ ” ابھی ایما اتنا ہی بولی تھی کہ کسی نے اس کا بازوں بڑی بےدردی سے پکڑا اور اس کو کھینچتے ہوئے وہاں سے لے گیا ۔۔۔

ایما نے جب مڑ کر دیکھا تو وہ جان تھا ۔۔

جس کے چہرے سے صاف پتا لگ رہا تھا کہ اسے غصہ چھڑا ہوا ہے ۔۔۔

(اب کیا غلطی ہو گئی مجھ سے) ایما نے پریشانی سے اس کی جانب دیکھا۔

” یہاں سے اب ہلنا نہیں ۔۔۔ اور نہ ہی میرے علاوہ کسی سے بات کرنی ہے ۔۔ ” جان اس کو کھڑا کر کے سخت لہجے میں بولا۔۔۔

ایما نے فوراً سر ہلا دیا۔۔

جان وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ اور کمیرہ فوٹوگرافر کو پکڑا دیا۔۔ آج کا فوٹوگرافی کرنے کا دل نہیں کر رہا تھا ۔۔ ورنہ یہ کام وہ خود کرتا تھا ۔۔

” یہ تم نے کیا تھا ۔۔۔ ” ڈیرئیک جو اب کے براؤن ٹرازر اور وائٹ شرٹ میں پوز بنا کر کھڑا تھا ۔۔ الیویا سے بولا۔۔

جواب میں الیویا کی ہنسی سے بتا دیا کہ یہ کام اسی کا ہے ۔۔۔

” میں نے نہیں تمہارا ہی سپاہی چوہا ۔۔ اپنے کامانڈر کی تلاش میں یہاں تک آیا ہوگا ۔۔ ” الیویا ہسنی دوباتے ہوئے بولی

اگلے پوز میں ڈیرئیک نے الیویا کو ہوا میں گھمانا تھا ۔۔۔

ڈیرئیک نے ایسا ہی کیا ۔۔۔ بس آخر میں اس نے الیویا کی کمر پر جان کر گرفت ہلکی کر دی ۔۔ جس کی وجہ سے وہ نیچے گر گئی ۔۔

” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ ” وہ سب کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔

” اس کا مطلب تھا ۔۔۔ زیادہ اونچا نہ اُڑرو۔۔ ورنہ نیچے گر جاؤ گی ۔۔۔ ” ڈیرئیک ایک ٹیس کرنے والی سمائل اسے پاس کرتے نکسٹ پوز کرتے ہوئے بولا۔۔

اگلے پوز میں الیویا نے ڈیرئیک کی گردن میں بازوں ڈال کر کھڑے ہونا تھا اور ڈیرئیک نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالنا تھا۔۔

الیویا اس کی گردن میں بازوں ڈالتے ہوئے اپنے لمبے ناخون کا استمال کرتے ہوئے اس کی گردن زخمی کر چکی تھی ۔۔

“اوفف “ڈیرئیک نے بڑی مشکل سے درد ضبط کیا تھا۔۔۔

” اس کا مطلب ہے کہ مجھے اتنا ایزی نہ لو”. اولیویا اس کے کان کے پاس ہونٹ لے جا کر سرگوشی میں بولی ۔۔۔

اگلے پوز سیٹ کرنے سے پہلے ہی ڈیرئیک اپنے جوگر سے اس کا نازک پاؤں کچل چکا تھا۔۔۔

” اس کا مطلب یہ ہے ۔۔۔ کہ چونٹی کو ہاتھی سے پنگا نہیں لینا چاہیئے کہ اس کے کچلے جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔۔۔ ” ڈیرئیک نے بھی اسی کے انداز سے جواب دیا۔۔۔

ان دونوں کے بیچ کیا جنگ چل رہی تھی وہاں موجود سوائے ایک شخص کے کسی کو نہیں پتا تھا۔۔۔

جان نے سر نفی میں ہلایا جیسے کہہ رہا ہو ان کا کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔