Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 13
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 13
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
ڈیرئیک کھانے سے انصاف کر رہا تھا ۔۔اس کا ہاتھ اور منہ مصروف تھے لیکن ۔۔ شطانی دماغ اور آنکھیں ادھر اُدھر دیکھ کر جیسے اپنے شکار کی تلاش میں تھیں ۔۔
سب اس وقت کچھ نہ کچھ کھا ہی رہے تھے ۔۔ یا کچھ صرف ہاتھ میں واین پکڑے باتیں کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔
اچانک اس کی آنکھوں میں مخصوص چمک آئی ۔۔ وہ چمک جو شکار ملنے کی خوشی میں اس کی آنکھوں میں آتی ہے۔۔۔
اس نے پینٹ کی جیب سے ایک چھوٹی سی شیشی نکالی ۔۔
” چلو یار تمہیں کوئی بہت مس کر رہا اور تمہارے دیدار کے لیے ترپ رہا ہے ۔۔ ” وہ شیشی اپنے آنکھوں کے بلکل سامنے کر کے سرگوشی کے سے انداز میں اس سے بات کر رہا تھا۔۔۔
” وہ چیز بھی یوں لگ رہا تھا اس کی بات سن کر خوش ہوا تھا۔۔ اور لڈیاں ڈالنے لگا تھا ۔۔۔ ۔۔”
اس نے آنکھوں سامنے سے ہٹائی اور چیئر سے اٹھتے ہوئے اس طرف گیا جہاں اس کا شکار کسی سے مسکراتے ہوئے بتائیں کر رہا تھا ۔۔اس بات سے بے خبر کہ وہ خطرے میں پڑ چکا ہے ۔۔۔ یا پھر یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ خطرے کی نظر اس پر پر چکی ہے ۔۔۔۔
اس نے اس شیشی کا ڈھکن کھولا اور اس کے پاس سے گزرتے ہوئے بڑے طریقے سے اس میں موجود چیز اس پر پھینکی جو اس کے کندھے پر گری ۔۔
وہ خود وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر اطمینان سے اس طرف کھڑا ہوگیا جہاں سے اس کو سارا نظارہ سہی سے نظر آ رہا تھا ۔۔
” اور تمہیں پت۔۔۔ ” الیویا جسے اپنی کالج کے دور کی دوست مل گئی تھی اس سے بات کر رہی تھی ۔۔۔ کہ ایکدم اس سے بات کرتے کرتے وہ شل ہو گئی ۔۔اور آنکھیں پوری کھولے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ الیویا نے اس کا چہرہ سفید ہوتا دیکھا ۔۔ اس کی نظر اس کی کندھے پر تھی ۔۔
” کیا ہوا ۔۔ ؟” الیویا کو سمجھ نہیں آیا کہ ایک دم بات کرتے ہوئے اسے ہو کیا گیا ۔۔۔
” وہ ہ ہ ..” لڑکی اس کی کندھے کی طرف اشارہ کر کے ہکلاتے ہوئی بولی ۔۔
“کیا وہ ۔۔۔ ؟؟” الیویا نے اس کے اشارے پر جب اپنے کندھے کی طرف منہ کر کہ دیکھا۔۔۔ تو اس کی حالت اس لڑکی سے بھی خراب ہوگئی۔۔
اس کے چہرے کا رنگ آڑ گیا ۔۔ آس پاس کی آوازیں آنا بلکل بند ہوگئی ۔۔
بس اس کی نظر اپنے کندھے پر بڑے مزے سے بیٹھی اس چیز کی طرف تھی ۔۔ جو بڑی میٹھی میٹھی نظروں سے اس کو تک رہا تھا ۔۔۔
ایک ۔۔
دو ۔۔۔
تین ۔۔
ان سے تھوری دور کھڑے ڈیرئیک نے انہی پر نظر ٹکاتے تین تک گنتی کی ۔۔
” کاکرووووچچچچچ ” اس کی تین کی گنتی مکمل ہوتے ہی الیویا زور سے اچھل کر چیخ مار کر اچھلی تھی ۔۔۔اور ساتھ موجود لڑکی کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی ۔۔۔
وہ اتنی زور سے چیخ کر اچھلی تھی کہ وہ بچارہ کاکروچ بھی جو اس کے کندھے پر ایزی ہو کر بیٹھا تھا ۔اور پیار سے منہ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسے دیکھ رہا تھا ۔۔اسنے بھی ڈر کر اس کے کندھے سے چھلانگ ماڑی ۔۔۔
آس پاس موجود کچھ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔۔لیکن ان دونوں کو اس طرح گلے لگ کر کھڑے دیکھ وہ یہ سمجھے کہ کافی ٹائم بعد ملی ہے اس لیے خوشی سے چیخ نکلی ہوگی ۔۔ سو وہ دوبار اپنی باتوں میں لگ گۓ۔۔۔
” کہ ۔۔ کہاں ۔۔۔ گی۔ گیاااااا “”” الیویا اپنے ساتھ موجود لڑکی سے اٹکتے ہوئے پوچھا ۔۔۔ کیونکہ کا کا کا کرکروچ کو گرتے اس نے خود دیکھا تھا ۔۔۔
” وہ ہ ہے ۔۔ ایسا کرو ۔۔۔ اسے جوتی سے مار دو ۔۔ ” اس لڑکی نے نیچے گراس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے۔ کہا ۔۔
“نہیں میری ۔۔۔ جوتی۔ ۔ خراب ہوجاۓ گی ” الیویا منہ بناتے ہوئے بولی
” میرررر ۔۔ ی ۔۔ سے ۔ مار ۔۔ مار دو۔ مگر مار دو ۔۔ “
” نہیں میں نہیں ۔۔۔ مارتی ۔۔ تم ہی مار لو ۔۔۔ پھر چر گیا میرے پر تو کیا ہوگا” وہ دونوں اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ چپک کر کھڑی تھی ۔۔۔
” پاس نہ جانا ۔۔ یہی سے شوٹ لے کر مار دو ۔۔۔ “
الیویا کو اس کا یہ مشہورہ اسے پسند آیا۔۔ اس لڑکی نے اپنی ہیل اتار کر اسے دی
الیویا نے کانپتے ہاتھوں سے ہیل اس سے لی اور نشانہ لے کر کاکروچ کی طرف پھینکا ۔۔
اس کا نشانہ سہی رہتا ۔۔۔ اگر کوئی بروقت اس کی ہیل نہ پکرتا۔۔۔
الیویا نے خونخوار نظروں سے اس کو دیکھا جو ایک ہاتھ سے ہیل پکڑے اور دوسرے سے ہاتھ سے اب وہ کا کروچ پکڑ رہا تھا ۔
اس کا منہ نیچے کی طرف تھا اس لیے الیویا اس کی شکل نہیں دیکھ سکی تھی ۔۔
” کیا کر رہے ہو ؟؟؟ ” الیویا نے تعجب اور ڈرتے ہوئے اس کی حرکت دیکھی ۔۔۔
” میں اپنے پاٹنر کو بچا رہا ہوں۔۔ ؟؟ نظر نہیں آ رہا ۔۔ کتنی دیر سے اس کی ڈھونڈ رہا تھا۔۔ اور یہاں تم اس کے قتل کے منصوبے بنا رہی تھی ۔۔؟؟؟ “
ڈیرئیک اس کی جانب دیکھتے ہوئے مصنوعی غصے سے بولا ۔۔۔
” تو اس کا مطلب ۔۔۔ تم نے یہ سب کیا ….؟؟؟ ” الیویا جو اس کو دیکھ کر پہلے ہی آگ بگولہ ہو رہی تھی اس کی بات سن کر بلکل ہی آپے سے باہر ہو گئی ۔۔۔
” کیوٹ ۔۔۔۔ ” الیویا کے ساتھ کھڑی لڑکی نے ڈیرئیک پر کمنٹ پاس کیا ۔۔۔
” تمہں یہ کیوٹ لگتا ہے ؟؟؟” الیویا نے حیرت سے ڈیرئیک کی طرف اشارہ کر کے اس سے پوچھا ۔۔ جبکہ ڈیرئیک سٹائل سے اپنے بال سنوارنے لگیا۔۔۔
” ہائے ۔۔۔ میں ڈیرئک ۔۔ یہ شاید آپ کی ہے ۔۔۔ ؟” ڈیرئیک نے ہیل اس لڑکی کی جانب بڑھاتے ہوئے لگے ہاتھوں اپنا تعارف بھی کر وا دیا۔۔۔
” میں Zoey ہوں ؟؟؟؟ ” اس لڑکی نے اس شرماتے ہوئے ڈیرئیک سے سینڈل پکڑا ۔۔۔
الیویا تو بس حیرت سے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” واہ کیا نام ہے ۔۔۔ مل کر خوشی ہوئی ۔۔۔ “”” ڈیرئیک نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے ۔۔۔ یہ اس کا وہی ہاتھ تھا جس میں اس نے کاکروچ پکڑا ہوا تھا جیسے وہ لوگ بھولی ہوئی تھی ۔۔
اس کے ہاتھ آگے کرتے ہی یاد آیا اور وہ دونوں ڈر کر پیچے ہوئی ۔۔۔
” پہلے اسے تو مارو ” الیویا تپے ہوئے انداز میں بولی ۔۔۔
” تمہں نہ مار دو ۔۔۔ ” ڈیرئیک کاکروچ کی پشت اپنی انگلی سے سہلاتے ہوئے بولا۔۔۔
” ایخخخ” اس کی حرکت دیکھ کر الیویا نے منہ بنایا ۔۔۔
جبکہ Zoey وہاں سے کھسک گئی تھی ۔۔۔
” تمہں پتا ہے میرا یہ پاٹنر میرے مدد کرنے آیا تھا اس بلا کو پکڑنے کے لیے ۔۔۔ “
وہ کس بلا کی بات کر رہا تھا اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی ۔۔۔
” تم ۔۔۔ تمم۔۔۔گو ۔ ٹو ۔۔ہیل ” الیویا کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا بولے ۔۔۔ تو لڑکیوں کا فیمس جملہ استمال کیا
” وہی سے آیا ہوں۔۔۔ انہوں نے ہی بھیجا ہے کہ تمہیں لے کر آؤ “
جواب فوراً سے پہلے حاضر تھا ۔۔۔
” اوففف تمہاری زبان اتنی لمبی کیوں ہے ؟؟؟” الیویا نے تنگ آکر اس سے پوچھا جو اب کاکروچ کو واپس شیشی میں ڈال رہا تھا۔۔۔
” میں پہلے ہی اس دینا میں آنے لگا تھا وہ تو گاڈ نے کہا ڈیرئیک تمہاری زبان تو بہت چھوٹی ہے اس لیے مجھے رکنا پڑا۔۔ میرے زبان پوری نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ ورنہ انہوں لوگوں کا بھی تو حق تھا نا کہ وہ ڈیرئیک کی صحبت سے فیضیاب ہوں جو گزر چکے ہیں ؟؟؟” ڈیرئیک شیشے کی بوتل پینٹ کی جیب میں ڈال کر اب پورا اس کی طرف متوجہ تھا ۔۔۔
“” آئی وش کے تمہاری اولاد بھی تمہاری جیسی ہو ۔۔۔ پھر تمہیں پتا لگے گا ۔۔ ” الیویا تنگ آ کر بولی ۔۔۔
” اوہ مطلب میں تمہیں اتنا پسند آیا ہوں کہ تم چاہتی ہو کہ ہمارا بے بی بھی مجھ پر جاۓ۔۔” ڈیرئیک چہک کر بولا۔
” اوہ ہیلو ۔۔۔ ہمارا بےبی ۔تمہارا دماغ تو سیٹ ہے …” الیویا ترپ ہی تو اٹھی اس کی بات سن کر ۔۔۔
” بلکل سیٹ ہے ۔۔۔ اب جب ہم دونوں کی شادی ہو گی تو بےبی بھی تو ہمارے ہی ہونگے۔””
ڈھیٹ ہو تو کوئی ڈیرئیک جیسا ۔۔۔
“میں مر کر بھی تم سے شادی نہ کرو ۔۔۔ ؟؟ ” الیویا تحضیک آمیز انداز میں بولی ۔۔
” اس لیے تو زندہ سلامت موجود تمہیں سے شادی کروں گا ” ڈیرئیک پینٹ کی دنوں پوکٹ میں ہاتھ ڈالے شہانہ انداز میں دانت نکالتے ہوئے بولا ۔۔۔
” میں کسی اور سے پیار کرتی ہوں۔۔۔ ” الیویا اس سے جان چھڑانے کے لیے بولی ۔۔ ورنہ عرصہ بیت گیا تھا اس کا کسی سے بھی کوئی ریلشن بنائے ہوئے ۔۔۔
” کسی اور میں ہوں یا میرا آنے والا بےبی ۔۔۔ اگر کوئی اور ہوا نا تو اس پر میں اپنی کاکروچ اور چوہے کی فوج بھیج دینی ہے …” ڈیرئیک اس کو ڈراتے ہوے بولا ۔۔۔
“ہی ہی ہی ہا ہا ہا ہا ” الیویا اور بولتے اس سے پہلے ہی یہ عجیب ڈرانی آواز گونجی یوں لگ رہا تھا جیسے یہ کسی کی رنگ ٹون ہے ۔۔۔
اس نے ڈیرئیک کی طرف دیکھا جو موبائیل نکال کر کال اٹھا رہا تھا۔۔ مطلب یہ رنگ ٹون اس نے لگائی ہوئی تھی ۔۔۔ بھئ الٹے کام کی امید اسے سے ہی کی جا سکتی ہے ۔۔۔
” ہیلو۔۔۔۔۔ بیلو ..” کال اٹھا کر وہ شوخی سے بولا۔۔
” کیا ۔۔۔ کب سے ۔۔۔ اچھا میں آرہا ہوں۔۔۔ ” سامنے والے نے پتا نہیں کیا کہا کہ الیویا نے پہلی بار اس کے چہرے پر سنجیدگی چھائی دیکھی
ڈیرئیک ایک آخری نظر اس پر ڈالی ۔۔۔ اور جلدی سے وہاں سے چلا گیا اس کا رخ باہر کی طرف تھا ۔۔۔ وہ دوڑنے کے انداز سے وہاں سے نکلا تھا
اور الیویا کو اس کی وہ ایک نظر حیران کر گئی تھی ۔۔ کیونکہ ڈیرئیک کی سبز آنکھوں میں اس نے ڈر اور کچھ کھو دینا کا خوف دیکھا تھا ۔۔۔
” مجھے اس سے کیا ” وہ خود سے بولتی دوبارہ پارٹی میں موجود لوگوں سے ملنے میں مصروف ہوگئی ۔۔۔
__________________________
وہ گاڑی فل سپیڈ میں چلا رہا تھا ۔۔ پھر بھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اڑ کے جان کے پاس پہنچ جائے۔۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔
ابھی آدھا راستہ ہی ہوا تھا کہ ایک تقریبا سنسان سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے ۔۔ ایک اور گاڑی نے اسے اوور ٹیک کیا اور بلکل سامنے ترچھی کھڑی کر دی ۔۔ یوں کہ اس کا راستہ بند کر دیا۔۔۔
ڈیرئیک دانت پیستے رہ گیا ۔۔
اس گاڑی سے دو بندے نیلے چہرے پر ان کے نقاب تھا اور ہاتھ میں پستول اور چاکو ۔۔۔ ان لوگوں نے پورے سیاہ کپڑے پہنے تھے جس کی وجہ سے وہ اندھیرے کا ہی حصہ لگ رہے تھے ۔۔۔
” گاڑی سے اُترو اور کوئی بھی ہوشیاری کرنے کی کوشش کی تو تیرا بھیجا اُڑا دوں گا … “
وہ دونوں اس کی گاڑی کے پاس کھڑے ہو کر اس کو نشانے پر لیے ہوئے تھے ۔۔
ان کا انداز پروفشنل تھا۔۔۔
ڈیرئیک ان کی بات پر گاڑی سے اترا اور ہاتھوں کی مٹھی بنا کر ہاتھ سر کے پیچھے باندھ لیا۔۔ اس کا خیال تھا کہ اب وہ لوگ کوئی مطالبہ کریں گے لیکن اس کے برعکس انہوں نے گن کی نالے سے اس کی پشت کو دھکا دے کر اسے آگے چلنے کا کہا۔۔۔
وہ اسے اغوا کرنا چاہتے تھے ۔۔۔ یہ بات اسے سمجھ آگئی ۔۔ اب جو بھی کرنا تھا بہت سوچ سمجھ کر کرنا تھا۔۔
اس کی گن بھی دوسری گاڑی میں تھی ۔۔۔
چلتے چلتے وہ ایک دم مڑا اور ہاتھوں میں موجود لیموں کا رس ان کی آنکھوں میں ڈالا۔۔
وہ لوگ اس کے لیے تیار نہیں تھے ان کا خیال تھا کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے ۔۔۔
لیموں کا رس ان کی آنکھوں میں پرتے ہی وہ لوگ ترپنے لگے تھے ۔۔۔
ڈیرئیک ان کو موقعہ دیے۔ بغیر ان کی بچی ہوئی آنکھ پر بھی لیموں کا رس چھڑکا ۔۔۔ اس نے لیموں پر مصالحہ بھی لگایا ہوا تھا ۔۔ جو زیادہ تکلیف دہ تھا ۔۔۔ یہ لیموں اس نے پارٹی میں سے پکڑے تھے ۔۔۔ کہ بعد میں کچھ لے کر اس پر استعمال کرے گا ۔۔ لیکن یہ ابھی اس کے کام آ گئے ۔۔
اس نے ان کے ہاتھ سے ہتھیار لیے اور ان کو انہی کی گاڑی میں بندھ کر دیا۔۔۔ اس نے صرف اتنا نہیں کیا بلکہ اس نے ٹیپ سے ( رسی نہیں تھی نا) ان کو پہلے اچھی طرح باندھا ۔ اور پھر وہ لیموں کو ان کی آنکھو پر ٹیپ سے چپکا دیا۔۔۔
” آئیندہ مجھ سے پنگا لینے سے پہلے سو بار سوچو گے ۔۔۔ میرے پاس وقت نہیں اس لیے تم لوگوں کو ہلکے میں فارغ کر رہا ہوں ۔۔۔ ” عرصے بعد وہ غصے میں آیا تھا ورنہ وہ بہت ٹھنڈا رہنے والا بندہ تھا اور جلدی غصہ بھی نہیں کرتا تھا بلکہ ایسی سچویشن میں اسے مزے آتے تھے لیکن آج اسے اپنے دوست کی فکر تھی۔۔
وہ ان لوگوں کو تڑپتا چھوڑ کر اپنی گاڑی کی طرف مڑا ۔۔ لیکن پھر واپس آیا اور ایک بار پھر ان کی آنکھوں میں لیموں نچھوڑا ۔۔۔۔۔
” نام بتاؤں جس نے تمہیں بھیجا ہے ۔۔۔۔ ” اس کا ایک ہاتھ ابھی بھی ان کی آنکھ پر بندھے لیموں پر تھا ۔۔۔
” ہمیں نہیں پتا ۔۔ ہمیں بس تمہیں مارنے کی سپاری ملی تھی ” وہ لوگ تڑپتے ہوئے بولے۔۔۔
” ہممم۔ اب تم لوگ اس لیموں کی سپاری کے مزے لو۔” وہ سرد لہجے میں بولتے ہوئے ایک بار پھر لیموں نچھوڑتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا، اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
