465.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah Phala Ishq Episode 20

Raah Phala Ishq by Zoha Qadir

صبحِ سورج کی نارنجی کرنیں چاروں طرف پھیلی ۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ۔۔۔ ٹھڈی ہوا ۔۔۔ خاموشی جو اپنے اندر سکون لیے ہوے تھی ۔۔۔

یہی سہی وقت ہوتا رزاق کہ تلاش میں نکلنے کا وہ جو اس وقت رزاق کی تلاش میں نکلتے ہیں خالی ہاتھ نہیں رہتے ۔۔ صرف رزق نہیں ۔۔۔علم ۔۔ صحت کچھ بھی ۔۔

آپ جس مقصد کے لیے بھی اٹھے ہو کامیاب ہو گئے ۔۔ کیونکہ اس وقت اٹھ کر آپ جو کرتے ہیں آپ کی اسی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔۔پھر وہ اچھی وہ یہ بڑی یہ آپ پر منحصر ہے ۔۔۔

حور بھی فجر پڑھنے اور قرآن کی تلاوت کر کے کر اب لان میں چہل قدمی کے لیے آئی تھی ۔ یہ اس کی عادت تھی ۔۔ شروع شروع میں اسے یہاں کے وقت میں ڈھلنے میں مسلہ ہوا تھا ۔۔ مگر اب وہ آہستہ آہستہ وہ اس ماحول کی عادی ہو رہی تھی ۔۔

لان میں چلتی ہلکی ہوا جب جسم سے ٹکراتی تھی تو سرور سا ہوتا تھا ۔۔

کچھ سوچ کر اس نے پاؤں سے جوتی اتری ۔۔ اور پاؤں گھاس پڑ رکھے ۔۔۔

پاؤں کے ٹھنڈی نرم گھاس پر رکھتے ہی ایک سکون سا اس اپنے اندر سرعت کرتا محسوس ہوا تھا ۔۔ اس نے آنکھیں بند کر کے یہ سکون پوری طرح محسوس کیا ۔۔

ایسا سکون جو اس کے دماغ کو پرسکون کر رہا تھا ۔۔

آہل جو نماز پڑھنے کے بعد ٹریک سوٹ پہن کر کر اب جانگنگ کر کے واپس آیا تھا ۔۔ حور کو دیکھ کر اس کے قدم روک سے گئے ۔۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی ۔۔۔ آنکھیں بند کیے وہ اسے کسی اور جہاں کی لگ رہی تھی ۔۔۔ سفید دوپٹے کے ہالے میں اس کا چہرہ چاند کی چودھویں کی طرح چمک رہا تھا پنکھڑی جیسے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سجاۓ ۔۔۔ آہل کو اپنی طرف بڑھنے پر مجبور کر گی تھی ۔۔

وہ جو آنکھیں بند کیے اس کی آمد سے بے خبر تھی ۔ لیکن کسی کہ نظروں کی تپش محسوس کر کے اس کے مسکراہٹ لب سکھڑے اور کل والا واقعہ اس کی دماغ میں لہرایا ۔۔

اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولی ۔۔ اور بنا یہ دیکھے کہ کون اسے دیکھ رہا ہے وہ جلدی اندر کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔

آہل جو اسے غور سے دیکھ رہا تھا اس نے اس کی مسکراہٹ کا سمٹنا بڑی طرح محسوس کیا ۔۔

اس کے مسکراہٹ کے سمٹنے پر وہ جو اس کے سحر میں قید ہوا تھا اسے ہوش آیا ۔۔۔

جب اس نے دیکھا کہ حور نے نے اس کی موجودگی کو جان لیا تو اس کو حور کا اس طرح گھبرا کے جانا ناگوار گزرا اس لیے اس نے جلدی سے جاتی حور کی کلائی پکڑی لیے ۔۔

جس سے وہ اور ڈر گی ۔۔اس کی نظروں کے سامنے بس کل کا منظر ہی تھا ۔۔ اس آدمی کی نظروں میں جو تھا اس نے اس کو ڈرا دیا تھا ۔۔۔

اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہوا ۔۔ لیکن جب اس نے مڑ کر اپنی کلائی آزاد کرنی چاہی تو اس کی نظریں آہل پر پڑی ۔۔ ایک اطمینان سا تھا جو اسے رگوں میں اترا تھا ۔۔۔

” کیسی ہیں آپ ۔۔ ؟؟ ” آہل اس کی کلائی اس طرح پکڑے اسے اپنے سامنے کیا اس کی گرفت نرم تھی لیکن پھر بھی اتنی ضرور تھی کہ حور اپنا ہاتھ چوڑا سکتی ۔۔۔وہ اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگوں کو بغور دیکھتا سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔

اسے حور کے انداز گربر محسوس ہوئی تھی ۔۔

” ٹھیک ۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔۔ ؟؟” حور نے ایک نظر اسے دیکھ کر اپنا منہ جھکا لیا ۔۔ساتھ میں اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کی ۔۔ آہل کا اس طرح اس کی کلائی پکڑنا ۔۔ اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہے تھے۔۔

حور کی گھبراہٹ آہل کو مزہ دے رہی تھی ۔۔

” آپ خود کر بتاؤ کیسا ہو۔۔ ” آہل نے اس کی کلائی چھوڑی جس پر اس نے سکون کا سانس لیا لیکن اس کی سانس روک سی گی جب آہل نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور اس کے ہاتھ پر لگی مہندی غور سے دیکھی ۔۔

اسے اپنا دل ہاتھ میں دھڑکتا لگ رہا تھا ۔۔ وہ تو پوچھ کر پچھتائی ۔۔چہرہ الگ گرم ہو رہا تھا ۔۔ایسے میں اس میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ اس کی طرف دیکھتی ۔۔

” بتایا نہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟ ” اس کی خاموشی پر ۔۔ آہل نے اس کے ہاتھ سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا ۔۔۔ اور دوبارہ پوچھا ۔۔

حور اب چپ رہی ۔۔ البتہ اس کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح آہل کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ نکال کر اندر جاے ۔۔ اسے یہ بھی خوف بھی کھاۓ جا رہا تھا کہ اگر کسی نے انہیں ساتھ دیکھ لیا تھا کیا سوچے گا ۔۔

اس کی سوچوں کو بریک تب لگا جب آہل اس کے ہاتھ پکڑے چلا تھا ۔۔ مجبوراً حور کو بھی اس کے پیچھے جانا پڑا ۔۔۔

آہل نے اسے لان پر پڑی چیئر پر بیٹھا ۔۔۔ اور چیئر کے دنوں بازوں پر ہاتھ رکھ کر اس پر جھکا ۔۔ اور بغور اس کی لزتی پلکوں پر نظریں جما دی ۔۔۔

” کیسا لگتا ہوں ۔۔ ” اپنا منہ اس کے کان کے پاس کر کے وہ سرگوشی میں بولا ۔۔۔ اس کے اس طرح کرنے وہ کانپ ہی تو اٹھی ۔۔ دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔ ہاتھوں میں ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے ۔۔آہل کے انداز اس کے ہوش اڑا رہے تھے ۔۔

” اچھے ہیں ۔۔۔ ” اس نے جلدی سے کہا ۔۔۔

” ایسے نہیں ۔۔ میری طرف دیکھ کر کہوں ۔۔ ” آہل اس کے اور قریب ہوا ۔۔

” کیا کرے کوئی آجاے گا ” چیئر کے بلکل ساتھ جڑ کے اس اپنے اس کے درمیان توڑا فاصلہ بنایا ۔۔نظریں بار بار دروازے کی طرف تھی ۔۔۔

آہل نے اس ایک ہاتھ چیئر سے اٹھا کر اس کا منہ کا رخ تھوڑی سے پکڑ کر اپنی جانب کیا ۔۔۔

اور اپنی کالی سحرانگیز آنکھیں اس کی آنکھوں میں ڈال کر ۔۔ جیسے اس نے اس پر کوئی اسم پھوکا ۔۔

وہ تو جیسے اس کی آنکھیوں میں دیکھ کر جھپکنا بھول گی تھی ۔۔۔بس یک ٹک اس کی آنکھوں میں دیکھتی گی ۔۔ جہاں کالی آنکھوں کتنے ہی راز اپنے اندر چھپے تھی ۔۔

اور کوئی نیا سا جذبہ تھا ان میں ۔۔

کچھ نیا احساس جس سے شاید وہ خود بھی بےخبر تھا ۔۔

” اب بتاؤ ۔۔۔”

” بہت اچھے ۔۔ ” وہ کسی معمول کی طرح بولی ۔۔

” کتنا ..؟ “

” جیسے۔۔ شدید دھوپ میں ۔۔ ٹھنڈی بارش ۔۔۔ جیسے اچانک اندھیرے میں روشنی کی کرن ۔۔۔ جیسے خزاں کے بعد بہار ۔۔ جیسے دل کے ساتھ ڈھرکن ۔۔ ” وہ کھوئی ہوئی انداز میں اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولتی گی ۔۔

اس باتیں سن کر آہل کی آنکھوں میں چمک آئی ۔۔۔

ہونٹوں پر خیف سی مسکراہٹ ۔۔

” یعنی پیار کرتی ہو ۔۔۔ ؟؟” آہل نے بھی سرگوشی میں پوچھا ۔۔

یوں جیسے اونچی آواز میں بولنے سے ان کے درمیان موجود سحر ختم ہوجاے گا ۔۔۔

اس کی اس بات پر حور نے آہستہ سے نہ میں سر لیا ۔۔

آہل کی نظریں اس کے گال پر پڑے پلک کے بال پر پڑی ۔۔ اس نے اسی طرح اس کی آنکھوں میں دیکھتے نرمی سے وہ بول اس کے گال سے اپنی سے اٹھا ۔۔

” کیوں ۔۔۔ “

کوئی جواب نہیں آیا ۔۔۔

لیکن حور کے آنکھوں میں پانی آیا تھا ۔۔

وہ جو اس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی ۔۔ یکدم اسے لگا اس کے عکس کی جگہ کوئی اور یہ ۔۔ وہ اس سے پہلے کسی اور کا ہو چکا ہے ۔ یہی بات ہی تو اسے ہر وقت بے چین کیے ہوئی تھی ۔۔۔

” حورین۔۔۔ ” آہل نے جب اس کی آنکھوں میں پانی دیکھا تو پریشان ہوا ۔۔۔ اس لیے اس کا پورا نام لیا ۔۔

” آپ نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔ ” آنسو اس کی آنکھ سے نکل کر اس کے گال پر آیا ۔۔

اس کا ایک آنسو اسے بےچین کر گیا ۔۔۔

آہل دل کیا کے اسے کہا کہ اچھا تو اس نے نہیں کیا ۔۔ لیکن وہ جب بولا تو محبت میں گوندا لہجہ تھا ۔ جس کا اسے خود بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔

” کیا کیا میں نے ۔۔۔؟؟ ” اس نے انگلی سے اس کی آنکھ سے نکلنے اس قمتی موتی کو بے مول ہونا سے روکا ۔۔

” آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے ۔۔۔ ” یہ بولتے اب کی بار اس کی آنکھوں سے آنسو تیزی گرنے لگے ۔۔

جنہیں آہل نے اس سے مزید کچھ پوچھنے سے روکا ۔۔۔

” شیی ۔۔ بس چپ ۔۔ ” پنجوں کے بل بیٹھتے اس نے سامنے گھاس پر بیٹھتے اس نے اپنے ٹراؤزر کی پولٹ سے رومال نکلا ۔۔۔ اور اس کے آنسو صاف کیے ۔۔۔

” حور ۔۔ کس بات کی سزا دی رہی ہو ۔۔۔ اور یہ آنسو ۔۔۔۔مجھے کتنی تکلف دے رہے ہیں کاش میں آپ کو بتا پاتا ۔۔ ” وہ کچھ اس بےبسی سے بولا کہ حور رونا بھول کر اسے دیکھنے لگے ۔۔ جیسے اس کی بات نے اسے حیرت میں ڈالا ہو ۔۔

” آپ کو کہاں درد ہو رہی؟؟ ۔۔۔ اور اب اس طرح کیوں بیٹھے ہیں ۔۔ ؟؟ ” وہ رونا بھول کر یکدم اس کے لیے پریشان ہوگی ۔۔ اس بس اتنا پتا تھا کہ آہل تکلف میں ہے ۔۔۔

” یہاں ۔۔۔ یہاں ہے تکلف ۔۔ ” اس نے اپنے دل پر اس کا ہاتھ رکھا ۔۔۔

حور نے اپنے ہاتھ کے نیچے اس کے دل کی دل کی تیزی سے دھڑکتے دل کی دھڑکن محسوس کی ۔۔

کچھ کہتی ۔۔

کچھ بولتی ۔۔

کوئی بھید کھولتی ۔۔

حور اس کی بات کا مطلب سمجھ کر بلش کر گی ۔۔ گھنی پلکوں کی بار گالوں پر سجدہ ریز ہوگی۔۔

آہل نے دلچسپی سے اس کا یہ روپ دیکھا ۔۔

حور کا اس کو اس طرح دیکھا ۔۔ مزید بلش کرنے پر مجبور کر گیا تھا ۔۔ اس نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا چاہا ۔۔

جس سے آہل دیھان اس سے ہٹ کر اس کے ہاتھ پر گیا ۔۔

جس کی دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر اس کا نام لکھا تھا ۔۔

آہل نے انگلی سے اس کے ہتھیلی پر لکھے اپنے پر انگلی پھیری ۔۔۔ جس سے حور نے گھبرا کر اسے دیکھا ۔۔

اور اسی وقت آہل اپنے دل کی خواہش کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوے اس کی ہتھیلی پر لکھے اپنے نام پر لب رکھے ۔۔۔

اب کی بار نہ دل کی دھڑکن تیز ہوئی ۔۔

نہ اونچی ۔۔

بلکل بند ہوئی ۔۔

اسے لگا وہ بے ہوش ہوجاے گی ۔۔ آہل نے اب بھی ہونٹ نہیں ہٹاۓ ۔۔۔

وہ تو لگتا تھا آج حور کے ہوش اڑانے کے پکے ارادے کیے ہوے تھا ۔۔

” اوہ ہ ہ ۔۔۔ صبح صبح یہاں یہ ہوتا ۔۔۔ ” ان کو ہوش دنیا میں فہد کی آواز لائی ۔۔

جو خباثت بری مسکراہٹ لیے حور کے لال ہوتے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔

وہ یہاں خاص کر آیا ہی حور کی وجہ سے تھا ۔۔ ورنہ وہ کہاں اس وقت اٹھنے والا تھا ۔۔ اس دیکھا تھا کہ حور فجر کے بعد یہاں آتے ہیں ۔۔ اس لیے وہ آ لام لگا کر سوگیا تھا ۔۔

لیکن یہاں آہل کو حور کے سامنے پنجوں کے بل بٹھا دیکھ کر وہ بدمزہ ہوا تھا ۔۔

اس کی آواز سن کر حور گھبرا کر اپنا ہاتھ آہل کے ہاتھ سے چھڑاتے اندر کی طرف بھاگ گی ۔۔

فہد کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا ۔۔

” لگتا ۔۔ تم پچھلے بار کی ماڑ بھول گئے ۔۔۔” آہل نے جب اسے حور کو گھورتا دیکھا تو اس کے تن بندن میں آگ سی لگ گی ۔۔ اور مزید فہد کی آنکھوں میں موجود غظالت نے اس کا دماغ خراب کیا تھا ۔۔۔اس لیے وہ غراتے ہوے بولا تھا ۔۔۔

” کیا وہ ایسی چیز ہے ۔۔ کہ اس سے نظر ہٹا سکے ۔۔ میں تمہاری بےگناہی کا سب کو بتا دوں کا ۔۔ بس یہ بلبل ۔۔ ” وہ مزید بھی کوئی بکواس کرتا اگر آہل کے بھاری ہاتھ کا مکا اس کا منہ نہ توڑتا ۔۔۔

ابھی وہ ایک مکے سے نہیں سنبھالا تھا کہ آہل نے دوسرا بھی ماڑا ۔۔ مکہ اتنا زور کا تھا کہ وہ زمین پر گرا تھا ۔۔ اس کا ہونٹ پھٹ گیا تھا ۔۔ ناک سے بھی خون نکلنے لگ گیا ۔۔

آہل کا دل کر رہا تھا کہ اس کی زبان کاٹ دے جس سے وہ اس کی بیوی کے بارے میں بکواس کر رہا تھا ۔۔۔

مگر اس نے مھٹوں کو ضرور سے بھنچ کر برداشت کیا ۔۔۔ مہمانوں سے بھرا پرا گھر تھا ۔۔ وہ کوئی تماشہ نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ اس لیے بغیر اس کے منہ لگے اس نے اندر جانا چاہا لیکن پیچھے سے فہد پھر بول اٹھا ۔۔

” تم ساری عمر بھی لگا دو گے ۔۔ تو بھی کچھ نہیں ہو گا ۔۔ داجی اور سب کی نظروں میں تم کیا ۔۔ مجھ سے بہتر تم جانتے ہو۔۔ اور وہی لوگ نہیں ۔۔ حور بھی ” وہ ہاتھ کی پشت سے خون صاف کرتا اٹھا ۔۔ اور پھر اسی ڈھائی سے بولا ۔۔۔

اس کو حور کا نام لیتا دیکھ کر اس کا دماغ پھر آؤٹ ہوا ۔۔ وہ مڑا اور ایک زور کی لات اس کے پیٹ پر ماڑی ۔۔

وہ جو ابھی اسی کھڑا نہیں ہوا تھا پھر سے گر گیا ۔۔

آہل نے اس کو گریبان سے پکڑ کر سیدھا کیا ۔۔۔

” دوبارہ میری بیوی کا نام تیرے منہ سے نکلا تو تمہاری لاش بھی کسی کو نہیں ملنی ۔۔ اور دوسری بات ۔۔ میرے لیے پریشان ہونے کی ضرورت تجھے نہیں ہے ۔۔ ” اس کا گربیان پکڑے وہ جس جنونی انداز میں بولا تھا ۔۔ اس سے فہد بھی ڈر گیا ۔۔

کہاں ٹھنڈے مزاج والا آہل اور کہاں یہ جنونی ۔۔

وہ گھر کا لاڈلا بےشک تھا ۔۔

لیکن سب کی عزت کرتا تھا ۔۔

وہ ضدی تھا ۔۔ اپنی کر کے ہٹتا تھا ۔۔

لیکن کسی کو تکلف بھی نہیں دیتا تھا ۔۔

مگر یہ آہل بلکل الگ تھا ۔۔

جیسے سب کچھ تباہ کرنے کے در پر ہو ۔۔

لیکن شاید وہ بھول رہا تھا ۔۔ اس نے ہی تو اسے ایسا بنے پر مجبور کیا تھا ۔۔

آہل اس کو چھوڑ کر اندر جا چکا تھا ۔۔ جبکہ وہ زمین پر کہراتا رہ گیا ۔۔

لیکن یہ سب کسی نے بہت حسد سے دیکھا تھا ۔۔

اور حسد کب کسی کو خوش رہنے دیتا ہے ۔۔

حسد کرنے والے کا کوئی علاج نہیں ۔۔ ان کو کتنا ہی اچھا کیوں نہ مل جاے ۔۔ وہ روے گے اسی کے لیے ۔۔ جو ان کو نہیں ملا ۔۔

اور آجکل سب اسی ہی کا تو شکار ہے ۔۔

کوئی کہاں کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتا ہے ۔۔

لیکن بات یہ بھی نہیں کہ کوئی خوش ہوتا ہے کہ نہیں ۔۔ کبھی کا ہم خود دوسروں کو حسد پر مجبور کرتے ہیں ۔۔

کبھی انہیں باتیں سنا کر ۔

تو کبھی انہیں دوسروں کی کامیابی کا بتا کر ۔۔ یہ نہیں دیکھے گے کہ اس نے بھی کچھ کیا ہی ہے ۔۔ اور جو اس نے نہیں کیا ہے ۔۔ اس کامیاب ہونے والے نے نہیں کیا ۔۔

درحقیقت ہم خود اپنی آنے والی جنریشن کو اس طرف دھکیل رہے ہیں ۔۔ ہم لوگ خود کو خود ہی تباہ کر رہے ہیں ۔۔۔

______________________

حور نے کمرے میں آ کر جلدی سے دروازہ بند کیا ۔۔ اور اسے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گی ۔۔

مسکان ان سب سے بے خبر سوئی ہوئی تھی ۔۔

حور کا دل ابھی بھی بڑی طرح دھڑک رہا تھا ۔۔

چہرے لال تھا ۔۔

اسے لگ رہا تھا جیسے آہل کی نظریں اب بھی اس کے چہرے پر تھی ۔

اس نے اپنا وہ ہاتھ دل سے لگا جس پر آہل نے بوسہ دیا تھا ۔۔

اس کا لمس اسے اب بھی اپنی ہتھیلی پر محسوس ہو رہا تھا ۔۔ اس کی شو کی ہلکی ہلکی چوبن کا احساس اب بھی تھا ۔۔۔

حور دروازے سے اٹھ کر شیشے کے سامنے آئی ۔۔۔ لیکن پھر اس کی مسکراہٹ سمٹی ۔۔

” نہیں وہ اس کا تو نہیں تھا ۔۔ اس کے پاس تو بس اس کا نام تھا ۔۔ ” دماغ نے فوراً کہا ۔

” اور جو آج ہوا وہ کیا تھا ۔۔ ؟؟” دل نے بھی جیسے فوراََ دلیل دی ۔۔۔

” مجھے تو ہمدردی لگی ۔۔ ” دماغ نے بڑی سنگ دلی سے کہا ۔۔

” اس کے انداز میں محبت تھی ۔۔ ” دل نے جیسے دماغ کی عقل پر ماتم کیا ۔۔

” محبت ایک ہوتی ہے ۔۔۔۔۔” دل اس بات پر طنزیہ ہنسا۔۔

” نہیں عشق ایک سے ہوتا ہے ۔۔ جو مجھے ہوا ۔۔ اور اسے بھی ہوگا ۔۔مجھے یقین ہے اپنے عشق پر ۔۔۔ ” اور یہ ہوئی جیت دل کی ۔۔

لیکن اب آگے یہ دیکھنا تھا ۔۔

کہ یہ عشق ہے عشق ہی ہوگا ۔۔

یا بنے گا روگ ۔۔

کیونکہ یہ

راہ پلہ عشق ہے ۔۔

عشق کے زینے ہے ۔۔ جس پر چھڑنا آسان نہیں ۔۔

ہر زینا پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے ۔۔

لیکن پہلے سے زیادہ مضبوط بناتا ہے ۔۔

_______________________

آہل نے کمرے سے آکر اپنی گاڑی کی چابی لی ۔۔

اور جیپ لے کر باہر نکل گیا ۔۔۔

اسے اس وقت بس تنہائی چاہیے تھی کہ وہ خود کو سمجھ سکے ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اسے خود کی بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔

وہ آج خود سے الجھ رہا تھا ۔۔

کتنی دیر گاڑی چلانے کے بعد آخر اس نے ایک جگہ سڑک کے کنارے گاڑی روکی اور سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا ۔۔

اس کی آنکھوں سامنے بار بار حور کا چہرہ آرہا تھا ۔۔۔

“محبت ہوگی ۔۔ ” دل نے جیسے پوچھنے کے انداز میں بتایا ۔۔۔

” تمہیں غلط فہمی ہو گی ۔۔۔” دماغ کو دل کی بات پر غصہ آیا تھا ۔۔۔

” نہیں یہ علامت محبت کی ہے ۔۔ ” دل بھی جیسا ڈیٹ کر کھڑا ہوا ۔۔

” یہ علامت ہے بیماری کی ۔۔ اور شکر الحمد میں صحت یاب ہوں۔۔۔ ” دماغ بھی اپنے تیر لے کر میدان میں اترا ۔۔

” یہ بیمار کو اس کی بیماری کا تب پتا لگتا ہے جب اسے تکلف ہو ۔۔ پہلے جب وہ بیماری ہلکی رہتی ہے تو کوئی تکلف نہیں ہوتی ۔۔ لیکن جب بیماری تکلف دے تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں پھر دوائوں کے ہوتے رہ جاتے ہیں ۔۔ ” دل کی دلیل جاندار تھی ۔۔

” اکثر بیمار دوسروں کے منہ سے اس کی بیماری کا سن کر خود میں بھی محسوس ہوتی ہیں کہ مجھ میں بھی ہے ۔۔لیکن کب علاج کرتے ہیں تو کچھ نہیں ہوتا ۔۔ وہ محظ ایک خود پر لی پریشانی ہوتی ہے ۔۔۔” دماغ نے بھی ثابت کر دیا کہ اس کے پاس دماغ ہے ۔۔

” یہ حور سے پیار کرتا ہے ۔۔ ” دل سیدھی بات پر آیا ۔۔

” نہیں ہے ۔۔ “دماغ نے بھی ترید کی ۔۔

” لیکن اُسے تو ہے نا ۔۔۔ ” دل نے پھر کائل کرنا چاہا ۔۔

” ایک طرف کی ہے ۔ ۔۔” دماغ نے جیسے مکھی اڑنے والا انداز سے کہا ۔۔

” محبت کی قدر نہ کرنے والے پھر اسی محبت کے لیے پچھتاتے ہیں ۔۔۔ ” دل نے ڈرانا چاہا۔۔۔

” تب یہ محبت کہاں تھی جب اسے ضرورت تھی ۔ تب کہاں تھی ۔۔ جب علیحدگی چاہیے تھی۔ ۔ تب کہاں تھی جب کسی غیر کے ساتھ تھی ۔۔” دماغ نےدل کو وہ آئینہ دیکھا جو اس کے خیال میں حقیقت تھا ۔۔

اور بس جیت ہوئی ۔۔۔۔دماغ کی ۔۔

ایک طرف دل تھا ۔۔

تو ایک طرف دماغ ۔۔

ایک طرف عشق تھا ۔۔

تو ایک طرف بدگمانی ۔۔

اب دیکھنا یہ تھا کہ جیت کس تھی ۔۔۔۔۔۔

وہ جب ڈیرییک سے ملنے گی تھی اس وقت وہ نیند میں تھا۔ ۔

اس لیے اس نے آفس کے بعد جانے کا سوچا ۔۔

ویسے بھی جس سے اس نے دوسری جانب بھی شروع کی تھی ۔۔ اس کی زندگی بہت مصروف ہوگی تھی ۔۔

صبح اٹھ کر آفس آنا ۔۔ پھر رات کو کلب میں ویٹریس کی جاب ۔۔

اس نے ابھی تک اپنی اس جاب کا کسی کو نہیں بتایا تھا ۔۔ نہ اس کا بتانے کا ارادہ تھا ۔۔

ویسے سے بھی اسے پوچھنے والا تھا کون ۔۔ دو دوست بناۓ تھے اس نے اور دونوں ہی اس سے دور ۔۔

اپنے کیبن میں بیٹھے وہ آج کا شیڈیول تیار کر رہی تھی ۔۔

اس کا خیال تھا کہ جان آج نہیں آئے گا ڈیرییک کہ وجہ سے مگر وہ اس بات سے بے خبر تھی ۔۔ کہ وہ آج آیا تھا اور اب میٹنگ کے لیے کہنی گیا ہوا ۔۔

براوں رنگ کے بال جوڑے میں قید تھے ۔۔بھوری آنکھوں پر گلاسس لگائے تھے ۔۔ چھوٹی سے ناک اور اس کے نیچے پتلے لب جو اب جیسے آہستہ آہستہ بولنا بھول رہے تھے ۔۔

گہرے سبز رنگ کی ٹی شرٹ کے ساتھ پینٹ پہنے وہ آس پاس کے ماحول سے بے خبر پوری طرح کام میں غرق تھی ۔۔ اس کا چہرہ سنجیدہ تھا ۔۔

گزرے وقت اور حادثات نے اسے بہت تلخ اور سنجیدہ بنا دیا تھا ۔۔

ڈائری پر شیڈول لکھ کر اس نے لیپ ٹاپ چیک کیا ۔۔ کہ کوئی ضروری آئ میل تو نہیں آئی ۔۔

اسی وقت اس کی ایک کولیگ پھول اور گفٹ ریپر میں پیک ایک ڈبہ لے کر وہاں آیا ۔۔۔

” ہےےے ایما ۔۔ ” اس نے لیٹ نہ ٹاپ پر مصروف ایما کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔

” ہےے جورج ۔۔ ” ایک سراسری نظر اس پر ڈال کر وہ دوبارہ کام مشغول ہوگی تھی ۔۔

” اٹیٹیوڈ ۔۔ ” جورج ہلکے سے منہ میں بڑبڑایا ۔۔ اسے ایما کا انداز پسند نہیں آیا تھا ۔۔

” اوکے لسن ۔۔ یہ تمہارا پارسل آیا ۔۔ مجھے کام ہے میں چلتا ہوں ۔۔۔۔باۓ ” وہ پھول اور باکس ٹیبل پر رکھ چلا گیا ۔۔

ایما نے الجھن سے اس باکس کو دیکھا ۔۔

” مجھے کون بھیج سکتا ہے ۔۔ ” اس نے سوچتے ہوئے وہ پھول اپنی طرف کیے ۔۔ سفید رنگ کے یہ پھول اسے بہت پسند تھے ۔۔ اس نے پھول ناک کر قریب کر کے اس کی خوشبو اندر اتری ۔۔ یکدم اس کے اداس لب ہلکے سے مسکرے ۔۔ اس پھولوں کے بکے میں ایک چٹ بھی تھی ۔۔

” امید ہے ۔۔ یہ پھول ۔۔ یہ دیکھ کر تمہاری لب مسکراۓ گیے ۔۔ ” ایما کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔ یہ الگ قسم کا کیئرنگ انداز صرف ایک کا ہی تھا وہ جب جب ناراض ہونے کی کوشش کرتے وہ اسے منانے کا انتظام پہلے ہی کر لیتا تھا ۔۔۔۔(حان ۔۔ ) اس نے زیرلب اس کا نام لیا ۔۔

اسی وقت اس کے موبائیل کی سکرین روشن ہوئی ۔۔ نمبر انجان تھا ۔۔

” ہیلو ۔۔ پریٹی ایم کیسی ہو ۔۔ ؟؟ ” اس کے کال اٹھاتے ہی وہ بول اٹھا ۔۔

ایما اس کے ایم کہنے پر مسکرائی ۔۔ اسے پتا تھا اکثر جب وہ موڈ میں ہوتا تھا تو وہ اسے ایم کہتا تھا ۔۔

” تم سے ناراض ہوں ۔۔۔ ” ایما نے مصنوعی ناراضگی سے کہا ۔۔ یہ اور بات اس کے لب مسکرا رہے تھے ۔۔وہ کافی ٹائم بعد اس سے بات کر رہی تھی اس لیے اس کے لیے یہ بہت تھا کہ وہ اس سے بات کر رہا ہے ۔۔

اس نے موبائیل ایک ہاتھ سے دوسری ہاتھ میں منتقل کرتے ہوے اپنی چیئر سے ٹیک لگائی ۔۔ کی

” بنو مت ۔۔ مجھے پتا تم اب بھی مسکرا رہی ہو ۔۔ ” اسے کہ اتنے سہی اندازے پر وہ حیران نہیں ہوئی ۔۔ کیونکہ وہ ہمشہ اس کا ہر انداز جان لیتا تھا ۔۔

” میں واقعی میں ناراض ہوں ۔۔۔ ” وہ پھر ماننے سے انکاری ہوئی ۔۔

دوسری طرف حنان تو جیسے جی اٹھا تھا۔۔ کتنا مس کیا تھا ۔۔ اس نے اس کی آواز کو ۔۔ اس کے اس انداز کو ۔۔ لیکن کام نہیں اس کو ایسا جکڑا تھا کہ اسے سر کھجانے کی فہرست نہیں تھی ۔۔ اوپر سے اس کا فون بھی لاپتہ ہوگیا تھا ۔

” یعنی تم نے ابھی بوکس نہیں کھولا ۔۔ گڈ ۔۔ چلو پھر واپس بھجوا دو ۔۔ ” اس نے ہونٹوں کو دبا کر اپنی مسکراہٹ روکی ۔ اور بڑی سنجیدگی سے بولا ۔۔

” کیا ہے اس میں ۔۔” ایما نے فوراً سے پہلے وہ ڈبا اپنے طرف کھسکایا ۔۔جیسے حیان ابھی کہی سے آکر ڈبا لے جاے گا ۔۔۔

” خبردار کھولنا نہیں ۔۔۔ ” وہ اسے منع کرتے ہوے وہ کھولنے پر اکسا رہا تھا ۔۔

” اب تو میں کھول کر رہوں گی ۔۔ ” ایما نے کہتے ساتھ ساتھ ہی اس باکس سے گفٹ ریپر سے ہٹایا ۔۔

اندر ایک کالے رنگ کا چوکور ڈبہ تھا ۔۔ جس کے چاروں طرف دوستی اور محبت کی مختلف وش تھی ۔۔

” یہ کیا حان ۔۔ ” وہ ڈبے پر لکھی وش پڑھتی اس سے پوچھ رہی تھی تھوری دیر والی ناراضگی اب کہنی نہیں تھی ۔۔

” تمہیں میں کہا تھا نہ کھولنا ۔۔ ” اب وہ بھی اسی کہ انداز میں میں بولا تھا ۔۔

” حان میں سیئریس ہوں ۔۔ ” ایما نے اب تنگ آکر کہا ۔۔

” ہاں پتا ہے ۔۔ تم سیریس قسم کا کیس ہو ۔۔ ” وہ پھر شرارت سے بولا ۔۔ اس کا کوئی موڈ نہیں تھا ایما کو بتانے کا کہ اس میں کیا وہ چاہتا تھا وہ خود دیکھے ۔۔

“فاین میں خود دیکھ لیتی ہوں ۔۔باۓ” کہتے ساتھ ہی اس نے فون بند کیا اور ڈبے کو اپنے بلکل سامنے کر کے اس نے اس کا ڈھکن کھولا تھا تو اس کی چاروں سائڈ کھل کر نیچے گریں ۔۔ اور اس پر جو تھا ۔۔ اسے دیکھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا ۔۔

اس کی چاروں سائڈ پر چاکلیٹ لگی ہوئی تھی ۔۔۔ جو اسے بہت پسند تھی ۔۔۔

اس ڈبے میں ایک اور ڈبہ تھا بس کا ڈھکن نہیں تھا وہ ربن سے بند تھا ۔۔ اس کی بیک کے چاروں طرف حنان اور اس کی تصویر لگیں ہوئی تھی ۔۔

اس نے ریبن کھولا تو ایک دفعہ پر سے وہ چاروں سائڈ کھل کر نیچے گری ۔۔ یہ بھی چاکلیٹ سے بھری ہوئی تھی ۔

اس کا دل اتنی چاکلیٹ دیکھ کر جھوم اٹھا تھا ۔۔

لیکن ابھی ایک اور ڈبہ تھا جو سائیز اس سے پہلے والوں سے چھوٹا تھا ۔۔اس پر بھی ایما اور جان کی تصویریں لگی ہوئی تھی ۔۔ اور ربن بندھا ہوا تھا

اس نے آکسائیڈ انداز میں وہ بھی کھولا تو اس میں ایک لال رنگ کی ڈبی تھی ۔۔

ایما کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکا ۔۔

کہنی اس میں رنگ نہ ۔۔

اور کیا حنان اس کو دوست سے بھر کر ۔۔

اس نے تھوک نگل کر ہمت کر وہ ڈبی کھولی ۔۔

لیکن اس میں رنگ نہیں تھا ۔۔

بلکل کے چابی تھی ۔۔

” یہ کس چیز کی چابیاں ہیں ۔۔ ” اس نے وہ چابی ہاتھ میں پکڑ کر دیکھی ۔۔

” چابی کس کی ہے ۔۔ اس کے لیے تمہیں آفس سے نکل کر باہر دیکھنا ہوگا ۔۔ ” جہاں چابی پری تھی اسی کی نیچے یہ نوٹ تھا ۔۔

وہ آفس کی بلڈنگ سے نکل کر باہر آئی لیکن آتے ہوے چکلیٹ پکڑانا نہیں بھولی ۔۔ باہر آئی وہاں کچھ نہیں تھا پھر یہ چابی ۔۔۔ اس نے حنان کو کال ملائی ۔۔جسے حان نے کاٹ دیا ۔۔

ایما نے موبائیل کی سکرین کو گھورا ۔۔

کہ اسی وقت کیا نہیں اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ۔۔

ایما نے اپنی آنکھوں پر رکھیے ہاتھوں پر ہاتھ رکھا۔۔۔ جیسے جاننے کی کوشش کر ہو ۔۔

” حان ۔۔۔” اس نے بے یقینی سے اس کا نام لیا ۔۔

اس کے نام لیتے ہی حنان اس کی آنکھوں سے ہاتھ اٹھتا اس کے سامنے آکھڑا ہوا ۔۔

ریڈ پینٹ ۔۔ وائیٹ شرٹ پہنے ۔۔ آنکھوں پر چمشہ لگاے ۔۔ چہرے پر وہی نرم مسکراہٹ جو اس کی طبیعت کا خاصا تھا ۔۔ بلیک سلکی بال لاپرواہی سے اس کے ماتھے پر گرے رہے تھے ۔۔وہ خاصا فرش لگ رہا تھا ۔۔

” آؤ ام جی ۔۔ یہ واقعی تم ہو ۔۔۔ ” ایما نے اس کے چہرے پر ہاتھ کر اس کے ہونے کا یقین کیا ۔۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی اس کے سامنے ہے ۔۔۔

اس کے یہ انداز سامنے کھڑے حنان کو سرشار کر گیا تھا ۔۔

حنان نے اپنے چہرے پر سے اس کے ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔ اور ہونٹ سے قریب کر کے چکی کاٹی ۔۔

” آؤچ ۔۔ یہ کیا بتمیزی ہے ۔۔ ” اس نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑایا ۔۔ ساتھ میں گھوری سے نوازتے ناراضگی سے کہا ۔۔

” میں تو یقین کرنے میں مدد کر رہا تھا ۔۔ ویسے آیا یقین ۔۔ ؟؟” آنکھوں سے گلاسس ہٹاتے ۔۔ کالی آنکھیں میں شرارتی چمک لیے وہ اپنی مسکراہٹ روکے اسے تنگ کرتے ہوے بولا ۔۔۔

” ہاں آگیا یقین ۔۔۔ اب جہاں سے آے ہوے وہاں جاؤ ۔۔ ایک تو میرا خیال نہیں آیا ۔۔ اور جب آیا تو تم مجھے تنگ کر رہے ہو ۔۔ مجھے نہیں ملنا تم سے ۔۔ مجھے کام ہے میں اندر جارہی ہوں ۔۔ ” ایما نون ساپ بولتے ۔۔مڑ کر اندر جانے لگی تو حنان اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا ۔۔

” ہولڈ اینڈ کولڈ آن ۔۔ مجھے بولنے تو دو ۔۔ “

” بولو ۔۔ ” اسنے نے منی بسور کر احسان کر کے اسے بولنے کا موقعہ دیا ۔۔

اسکی اس ادا سے پورے دل سے مسکرایا ۔۔

” دیکھو یار میرے آگے کے دن اور مصروف ہو جانے ہیں ۔۔ میں بس ایک دن کے لیے ہی بری مشکل سے وقت نکال کر آ پایا ہو ۔۔ سو پلیز یہ ناراض بعد میں۔ ہو جانا ۔۔ ” اس نے مسکین سی صورت بنائی ۔۔

اس کی شکل دیکھ وہ ہلکے سے مسکرائی ۔۔۔

” اچھا ٹھیک ہے ۔۔لیکن بس آج کا دن اس کے بعد میں پھر ناراض ہو جانا ہے ۔۔ ” اس نے مانتے ہوے کہا۔۔

” اچھا تم ایسا کرو شارٹ لیئو دے آؤ ۔۔۔ آج کا دن ہی ہے ۔۔ اس کے بعد پتا نہیں موقع ملے نہ ملے ۔۔ ” باقی کی بات اس نے دل میں سوچی تھی ۔۔

ایما جو اندر جانے لگی کہ اسے اپنی ہاتھ میں پکڑی چابی کا خیال آیا تو وہ سر پر ہاتھ مارتی اس کی جانب مڑی ۔۔ اور وہی کھڑی اس نے چابی لہرائی ۔۔۔

” یہ چابی ۔۔ کس کی ہے ۔۔ ؟؟؟ “

” تم واپس آؤ تو پھر بتاؤ گا ۔۔ سرپرائز ہے ۔۔ بس ۔۔ ” اس کی بات پر وہ کندھے اچکاتے اندر چلی گی ۔۔۔

حنان اس کی پشت پر لہراتے بال دیکھ رہا تھا ۔۔ آج وہ فیصلہ کر کے آیا تھا کہ وہ ایما کو اپنے دل کی بات کر دے گا ۔۔ اور اسے مزید آفس میں جان کے ساتھ کام نہیں کرنے دے گا ۔۔۔

جان تو آفس میں تھا نہیں پھر بھی اس نے لیو دے دی ۔۔اور اپنے آفس سے چیزیں سمیٹ کر اس نے ایک طرف کیے ۔۔ حنان کا دیا باکس بھی اس نے ایک طرف کر کے رکھ دیا۔۔

اور نیچھے آئی۔۔

جہاں حنان اپنی ہیوی بائیک پر بیٹھا تھا اسی کا منتظر تھا ۔۔ اس کے ساتھ ایک اور ہیوی بائیک کھڑی تھی ۔۔

اب اسے سمجھ آئی کہ وہ چابی کس چیز کی تھی ۔۔

” کیا خیال ہے ۔۔ ریس نہ ہو جائے ۔۔ حنان نے ہیلمیٹ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔.

” کیوں نہیں ۔۔ تم تیار ہو نا ہارنے کے لیے ۔۔ ” ایما نے ہلمٹ سر پر بندھ کر اس کو چیلنج نظروں سے دیکھا ۔۔

” دیکھتے ہیں ۔۔”حنان نے بھی اسی انداز سے کہا ۔۔

” تین کی گنتی پر “ایما نے کہنے پر حنان سیٹ ہوکر بیٹھ گیا ۔۔

“ون “۔۔۔وہ خود بھی سیٹ ہوگی ۔۔

دونوں نے بائیک سٹارٹ کر دی ۔۔اور اسے ریس دی ۔۔

” ٹو ۔۔” انجن سے دھواں نکل رہا تھا ۔۔

“تھری ۔۔۔” ایما نے تھری کہتے ہی ہستے ہوے بائیک کو ریس دی اور ریس کے سہی طرح سٹارٹ ہونے سے پہلے ہی نکل گی ۔۔ ۔۔

جبکہ حنان اس کی چلاکی پر دانت پیستا اس کے پیچھے ہوا ۔۔

____________________________

اس کی آج ایک ضروری میٹنگ تھی اس لیے وہ آفس جانے کی بجائے سیدھا وہاں گیا جہاں میٹنگ تھی ۔۔

ڈیرییک کے لیے اس نے پہلے ہی سیکیورٹی کے مضبوط انتظام کر دیا تھا ۔۔ اب کی بار ڈیرییک کی نہیں چلنی تھی ۔۔

ویسے بھی اس کی سہی خبر لینے کا موقع اسے مل نہیں رہا تھا کیونکہ وہ نیند اور پین کلیر انجکشن کے اثر میں ہوتا تھا ۔۔۔

میٹنگ ہوٹل میں جو کافی لمبی رہی ۔۔

لیکن ہمشہ کی طرح کامیاب بھی رہی ۔۔

اب وہ سب ہاتھ ملاتے وہاں سے چلے گے ۔۔۔

جان نے موبائیل نکال کر دیکھا ۔۔ اس دن کے بعد ڈی کی کوئی کال نہیں آئی تھی ۔۔

لیکن وہ بھی اس کھیل کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔۔

اتنے سال جو نے صبر کیا ۔۔ اب وقت آگیا تھا ۔۔ قدم اٹھا کر ۔۔ ڈی کو اس کے منہ کے بل گرنے کا ۔۔

جان بھی جانے لگا کہ اس کی ایک غیر ارادی نظر ایک ٹیبل پر گئ ۔۔

اور وہاں ہستے ۔۔۔

انہیں دیکھ کر اس کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ آئی ۔۔

نیلی آنکھوں میں بھی عجیب سی چمک تھی

” کھیل تو اب شروع ہوگا ۔۔۔۔۔ ” وہ انہیں دیکھتا ہولے سے بولا تھا ۔۔

_____________________________

جیت ایما کا مقدر ہوئی ۔۔ کونکہ حنان ویسے بھی اسے ہارا ہوا اور اداس نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔

لیکن بظاہر اس نے منہ بنایا ہوا تھا کہ ایما چیٹنگ کر کے جیتی تھی ۔۔

اس وقت بھی وہ دنوں ہوٹل میں بیٹھے تھے ۔۔۔

اور کھانے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔

” اممم حان ایک بات پوچھوں ۔۔۔ ” ایما اپنے سامنے پڑے پانی کے گلاس کے کناروں پر پرسوچ نظروں سے انگلی پھرتی سنجیدگی سے بولی ۔۔

” پوچھ لو ۔۔ تم نے کون سا میرے منع کرنے سے باز آجاؤ گی ۔۔ ” حنان نے ایما کے سامنے پڑا پانی کا گلاس پکڑا جس کے کناروں پر وہ انگلی پھرتی تھی ۔۔۔

” مجھے جاننا ۔۔۔ ہے کہ ۔۔ کیسے ۔۔ جان سر وہ ۔۔ مڈر کیے تھے ۔۔ ” ایما کے دماغ کی سکرین پر بار بار جان کا وہ چہرہ آ رہا تھا جو ڈیرییک کے لیے اتنا پریشان تھا ۔۔

وہ یہ سوچ کر الجھ رہی تھی کہ وہ شخص جو اپنے دوست کے لیے اتنا پریشان تھا وہ کیسے اپنی بہن ۔۔ ماں اور کتے کا قتل کر سکتا ہے ۔۔

حنان جو مسکراتی نظروں سے اس دیکھ رہا تھا ۔۔ اس کے سوال پر یکلخت اس کی آنکھوں میں سختی اتر آئی ۔۔

” ایما میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ۔۔ ” اس نے سخت لہجے میں اسے ٹوکا ۔۔ اور نظریں اس سے ہٹا دی ۔۔۔

” حنان بتانا ہے کہ ۔۔ ورنہ میں جا رہی ہوں ۔۔ ” ایما کہنے کے ساتھ ہی کھڑی ہوگی ۔۔

” بیٹھ جاؤ ۔۔ ” حنان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا۔۔ البتہ اس کی نظریں ٹیبل پر تھی ۔۔

اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔

صاف پتا چلا رہا تھا کہ وہ ضبط کے کڑھے منازل سے گزر رہا تھا ۔۔

ایما بھی چپ کر کے واپس بیٹھ گی ۔۔

ایک دم ماحول عجیب سا ہوگیا تھا ۔۔۔ ایک بےچین سے خاموشی کے وقفے کے بعد حنان نے ٹیبل سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔

ایما کو اس کی نظر دیکھ کر خوف آیا تھا ۔۔وہ پوری لال تھی ۔۔۔۔

اگلے ہی پل حنان نے اس سے نظریں ہٹائی اور ہوٹل کی ونڈو پر ٹکا دی اور بولنا شروع ہوا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماضی ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہان اپنی ماں کی ڈیتھ کے بعد اپنے باپ کے ساتھ شفٹ ہو گیا تھا ۔۔

وہ گم سم سا رہتا تھا ۔۔۔

سارے اسے سنبھالنے کی کوشش کر کے تھک چکے تھے ۔۔

اسے جس جگہ بیٹھاؤ ۔۔۔ کئ گھنٹوں تک وہاں بیٹھا اپنا ہاتھ دیکھتا رہتا ۔۔

اگر اسے کھانا دو تو کھانے کو گھورتا رہتا ۔۔۔

بولنا تو جیسے وہ بھول گیا تھا ۔۔

حنان کا دل کرتا تھا کہ وہ بھی باقی لوگوں کی طرح اپنے بھائی بہنوں سے کھیلں لیکن جہان گم سم سا رہتا تھا ۔۔ مریم بہت چھوٹی سی نازک گڑیا کی طرح تھی ۔۔

اسے تو ہاتھ لگاتے ہوے بھی عجیب لگتا تھا ۔۔۔ اس کی آنکھیں کبھی نیلی لگتی تھی تو کبھی سبز ۔۔ اس کے لیے جعفر صاحب نے ایک کیئر ٹیکر رکھ دی تھی ۔۔

ہاں لیکن جہان کا ڈوگ روکی وہ بہت اچھا تھا ۔۔ حنان اس سے کھیل لیتا تھا ۔۔

حنان اور وہ ایک دوسرے سے کافی اٹیچ ہوگئے تھے اس دوران

لیکن ایک دن جہان نے جب اسے حنان کے ساتھ لان میں کھلتے دیکھا تو وہ شعلہ بنا وہاں آیا ۔۔

اسے دیکھ کر روکی بھی اس کی طرف بھاگا ۔۔

” یہ میرا ہے ۔۔ ” ٹھنڈے انداز میں کہتے ہوے اس نے جھک کر روکی کی پیٹھ کو سہلایی ۔۔

یہ اس کا بولا اس حادثے کے بعد پہلہ جملہ تھا ۔۔

” مگر جان ہم دنوں بھائی ہیں۔ ۔ اور بھائیوں میں تیرا میرا نہیں ہوتا ۔۔ ” حنان نے اسے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔

اس کوشش تھی کہ دونوں کے تعلقات آپس میں اچھے ہوں۔ ۔۔

وہ اس سے کچھ کہنے ہی چھوٹا تھا ۔۔ اس کا قد حنان کے ہی برابر تھا ۔

” سوتیلے ہیں ۔۔ ہم ۔۔ اور ہمارے میں تیرے میرے کے سواہ کچھ ہے ہی نہیں ۔۔ ” جہان نے سرد لہجے میں کہا اور روکی کو لے کر اندر چلا گیا ۔۔

مگر اگلے دن جب حنان اٹھ کر باہر نکلا تو جہان روکی کا گلا دبا رہا تھا ۔۔ اور وہ بچارہ ترپ رہا تھا ۔۔۔ حنان دل کیا میں جا کے اسے روکے لیکن اسے جہان سے ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔

حنان وہنی ڈرا کھڑا اسے دیکھتا رہا ۔۔

اب اس اُس نے گلا دبانا بند کر دیا تھا ۔۔۔ اور روکی کی پیٹھت کو تھپتھپا اٹھا ۔۔ اور اندر چلا گیا ۔۔

اس کا چہرہ ایسے تھا جیسے اس نے کچھ کیا نہیں ۔۔

اس کے جانے کے بعد حنان روکی کے پاس گیا ۔۔ اور اسے گود میں لے کر رونے لگا ۔۔

اس واقعے کے بعد سے حنان اس سے ڈرنے لگ گیا ۔۔

اور اس کی چیزوں سے دور رہتا تھا ۔۔

پھر سکول دوبارہ شروع ہوگے ۔۔ وہ سکول سے آکر زیادہ وقت مریم کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔

انہی دنوں سکول میں جہان کی اور ڈیرییک کی ٹھنی رہتی ۔۔ وہ دنوں ایک دوسرے سے چار کھاتے تھے ۔۔۔اور ایک دوسرے کو نقصان پہچانے سے باز نہیں آتے تھے۔ ۔۔

گھر آکر بھی جہان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا اور اس پاس سے اس کی بہت سی شاکتیں انے لگی ۔۔ جس سے تنگ آکر جعفر صاحب نے اسے بورڈنگ اسکول بھیج دیا ۔۔ وہ گھر بہت کم آتا تھا ۔۔۔

ایک دن اسی طرح کریسمس کی چھوٹیاں ہوئی تو وہ آیا ۔۔ حنان اس وقت مریم کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔۔ جو 6 سال کی ہو چکی تھی ۔۔ گھر میں کوئی نہیں تھا ۔۔ جعفر صاحب اور شازیہ بیگم ساتھ پارٹی میں گۓ تھے ۔۔

اسے اپنی بہن مریم کے ساتھ کھیلا دیکھ کر جہان نے اسے پکڑ کر سٹور میں بند کیا ۔۔۔

اس کے بعد گھر معصوم مریم کی چیخوں سے گونج اٹھا ۔۔

” سوری جہان ۔۔۔ پلیز اسے کچھ نہ کہنا ۔۔۔۔ ” حنان سٹور کا دروازہ پیٹتے ہوئے چیخی جا رہا تھا ۔۔

اس کے بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح دروازہ تور کر باہر نکلے اور کسی طرح مریم کو اس کے شکنجے سے آزاد کر وادے ۔۔۔

ایک دم مریم کا رونہ بند ہوگیا ۔۔۔ وہ ب چینی سے دروازے اور زور سے بجانے لگا۔۔۔ اس کا دل ناخوشگوار انداز میں ڈھرک رہا تھا ۔لیکن گھر میں بس اس کے زور زور سے دروازے بجانے کے لیے کوئی آواز نہیں تھی ۔۔ آخر جب وہ تھکنے لگا تو سٹور کا دروازہ کھولا۔۔۔

دروازہ کھولنے شازیہ بیگم تھی جو طعبت خرابی کی باعث جلدی گھر آگی تھی ۔۔

حنان ان کو پیچھے کرتا مریم کے کمرے کی طرف بھاگا ۔۔

شازیہ بیگم بھی اس کی حالت دیکھ کر اس کے پیچھے آئی ۔۔

حنان جب مریم کے کمرے میں پہنچا تو دیکھا ۔۔ مریم کے بیڈ پر خون تھا ۔۔ لیکن نہ مریم تھی ۔۔ نہ جہان ۔۔ وہ روتے ہوئے پورے گھر میں مریم کا نام لے کر اسے تلاش کر رہا تھا ۔۔۔

آخر اسے وہ گھر کے پیچھے والے حصے میں ملا ۔۔

” مریم کہاں ہے ۔۔ ؟؟” حنان نے اسے اسے کندھوں سے پکڑا کر جنجھوڑا اور روتی ہوے بولا ۔۔

” کون مریم ۔۔۔ ” وہ پرسکون انداز میں بولا تھا ۔۔ اس کے ہاتھوں پر خون لگا ہوا تھا ۔۔ چہرہ سپاٹ ۔۔ آنکھیں پرسکون تھا ۔۔

حنان کا دل بڑی طرح ڈھرکا ۔۔ اور وہ وہنی بے ہوش ہوگیا تھا ۔۔ اس کے بعد وہ اکثر مریم کا نام لیتے اٹھ جاتا ۔۔ راتوں کو ڈر جاتا ۔۔

جہان کو واپس بورڈنگ بھیج دیا گیا ۔۔ اور اسے کے بعد وہ نہ گھر آیا ۔۔ نہ ہی کسی نہیں بلایا ۔۔

اور نہ ہی مریم کا کوئی سراغ ملا ۔۔۔

__________________________

حنان نے اپنی آنکھیں صاف کی ۔۔

ایما کو اندازہ نہیں ہوا کہ آنسو اس کی آنکھوں سے بھی نکل رہےہیں ۔۔

یہ سب سن کر اب اسے بھی جہان سے خوف ہو رہا تھا ۔۔ وحشت ہو رہی تھی ۔۔

اس لیے اس نے اپنے آنسو صاف کیے ۔۔ اور حنان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا جو اس نے ٹیبل پر رکھا ہوا ۔۔

اس کے اس طرح کرنے سے حنان نے کھڑکی سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا اس کے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ تھی ۔۔

” سوری ۔۔۔ ” اس نے ہلکی آواز میں کہا ۔۔

” نہیں ۔۔ اس میں تمہاری کیا غلطی ۔۔۔ بلکل جس نے یہ کیا ۔۔ مجھے اس سے بھی کوئی شکوہ نہیں ۔۔ نفرت نہیں لیکن میں مزید اپنے کسی کو کھونے کی ہمت نہیں رکھتا اس لیے ۔۔ میں اس سے دور رہتا ہو ۔۔ اور کوشش کرتا ہوں کہ مجھے جو عزیز ہیں وہ بھی اس سے دور رہے ” حنان نے اپنے ہاتھ پر رکھے اس کے ہاتھ کو دیکھتا اپنے دل کی بات اس سے شیئر کی ۔۔

” اچھا ۔۔۔ تم یہاں بیٹھو میں آیا ۔۔۔ ” حنان کی بات پر ایما نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا ۔۔اس کا مقصد ماحول کو ہلکہ پھلکہ کرنا تھا ۔۔

حنان باتھروم کی طرف چلا گیا ۔۔

جبکہ ایما اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اسے کی آنکھوں کے سامنے جہان آیا ۔۔ جب اس کا۔ہاتھ جلا تھا وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھلا رہا تھا کہ اسے تکلف نہ ہو اس وقت اس کے دل میں جہان کے لیے ایک نرم گوشہ بنا تھا ۔۔۔مگر اب حنان کی باتوں نے وہ گوشی پھر سخت کر دیا تھا ۔۔۔

وہ سوچوں میں اتنا گم تھی کہ اسے پتا نہیں چلا کہ کوئی اس کے بلکل پاس آکر کھڑا ہوا تھا ۔۔

” اہممممم .۔۔۔۔۔۔۔” جان حنان کے جانے بعد چیئر سے اٹھا ۔۔ اور ایما کے پاس جا کر کھڑا ہوا ۔۔ لیکن جب اس نے ایما کو اسی طرح سوچوں میں گم دیکھا تو اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔

ایما نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔۔

کوئی مان سکتا ہے کہ اتنی خوبصورت چہرے پیچھے اتنا بڑا درندہ چھپا ہوا ہے ۔۔

ایما نے اسے دیکھتے ہوئی سوچا ۔۔۔

” ہیلو ۔۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ۔۔ آفس ٹائیمگ ہے ۔۔۔ تو یہاں موجودگی کو میں کہا کہوں ۔۔۔ ” جہان کا انداز بلکل سنجیدہ تھا ۔۔ نیلی آنکھیں بغور اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگوں کو دیکھ رہی تھیں ۔۔

“وہ میرے ساتھ آئی ہے ۔۔ اور لیئو دے کر آئی ہے۔۔۔۔ ” لیکن ایما کے کچھ بولنے سے پہلے ہی حنان وہاں آیا ۔۔۔ اور ایما اور اس کے دروان آکر کھڑا ہوگیا ۔۔

” اوکے ۔۔ ول سی ۔۔ کل ملتے ہیں ۔۔ مس ایما ۔۔ ” جہان اپنے سامنے کھڑے حنان کا کندھا تھپتھپاتا مسکرا کر پہلے حنان کو بولا پھر اسے کے پیچھے چھپی ایما کو ۔۔سمائیل پاس کر کے نکل گیا ۔۔

اس کی مسکراہٹ بہت پراسرار سی تھی ۔۔۔

لیکن پھر ایما نے اس سے دماغ جھکٹا اور حنان سے باتوں میں لگ گی تھوری دیر بعد کھانا آ گیا ۔۔۔ حنان پھر پتا نہیں کہاں چلا گیا تھا ۔۔۔

یکدم ریسٹورنٹ میں چلاتا میوزک بند ہوا ۔۔

“ایما ۔۔۔ ” اور مائک پر ایما کو اپنا نام سنائی دیا ۔۔۔

ایما نے چونک کر سٹیج کی طرف دیکھا ۔۔۔ جہان حنان کھڑا جگر کرتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

ہوٹل میں بیٹھے سب لوگ بھی سٹیج کی طرف متوجہ ہوگئے تھے ۔۔

” مجھے نہیں پتا ۔۔ کب اور کیسے ۔۔ لیکن ۔۔ میرا دل ۔۔ تمہارے نام پر دھڑکتا ہے ۔۔ ” اب وہ سٹیج سے اتر کر اس کی جانب بڑھ رہا تھا ۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سپاٹ لائٹ بھی چل رہی تھی ۔۔

ایما بےیقنی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔

” یہ آنکھیں اب ہر سیکنڈ ۔۔ ہر منٹ ۔۔۔ ہر پل ۔۔بس تمہں دیکھنا چاہتی ہیں ۔۔ ” اب وہ اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا ۔۔

سپاٹ لائٹ ان دنوں پر پڑ رہی تھی ۔۔

” سو ایما ۔۔۔” وہ گھنٹے کے بل اس کے سامنے بیٹھا اور جیب سے ڈبی نکال کر کھول کر اس کے سامنے کی ۔۔

” ویل یو میری می۔۔۔۔ ” وہ بڑی امید سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

پورے روسٹورنٹ میں خاموشی تھی ۔۔ سارے ۔۔ ایما کے ہاں کے منتظر تھے ۔۔۔

اور ایما ۔۔

وہ بلکل سٹل تھی ۔۔

اس کی نظریں ۔۔ سبز ہیرے کی انگوٹھی پر پڑی ۔۔ جس اندر ایک طرف اس کا نام اور دوسری طرف حنان کا نام تھا ۔۔

حنان بھی ڈھرکتے دل کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

ایما نے ساکت نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔

اس کی آنکھوں میں شاک تھا ۔۔

دکھ

بے یقینی ۔۔

اور نہ میں سر ہلا

وہی حنان کے ہاتھ ڈھیلے ہوے ۔۔۔

اب ایما الٹے پاؤں دروازے کی جناب چلنے لگی ۔۔

اس کا سر مسلسل نفی میں ہل رہا تھا ۔۔ آنکھوں میں آنسو ۔۔۔

اپنے دوست کے کھونے کہ ۔۔

اس نے کہاں سوچا تھا کہ ایسا ہوگا ۔۔

اسے پتا تھا کہ اب ان کی دوستی پہلے جیسی نہیں ہوسکتی ۔۔

پھر یکدم وہ مڑی اور بھاگتے ہوے وہاں سے چلی گی ۔۔

حنان ۔۔ ویران آنکھوں سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔

اس کی دھڑکن اسے یوں لگ رہا تھا ۔۔

بند ہو رہی ہے ۔۔۔

جس بات کا اسے ڈر تھا ۔۔ وہی ہوا ۔۔

ایما نے انکار کر دیا۔۔۔

اسے پتا تھا ایما کا۔۔ وہ اب اس سے دور رہے گی ۔۔

جان وہاں سے سیدھا واپس ہسپتال آیا ۔۔۔

ڈیرییک کو مکمل ہوش آ چکا تھا ۔۔۔۔ اسے ملنے لوگ اس طرح آ رہے تھے جیسے وہ کوئی بہت مشہور شخصیت ہو ۔۔۔ یا کسی ملک کا پرائم منسٹر ۔۔۔

ہسپتال کے عملے والے بھی حیران تھے اس شخص میں ایسا کیا ہے جو اتنے لوگ اس سے ملنے آ رہے ہیں ۔۔۔خیر انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ جب تھا یہاں ہے ۔۔۔ ان کی جان عزاب میں ڈالنے والا ۔۔آخر کو وہ ڈیرییک ہے ۔۔

جان بھی اس کے کمرے میں جانے لگا کہ دروازے پر ایک کاغذ پر کچھ لکھا تھا ۔۔۔

(ڈیرییک یعنی مجھ سے جو بھی ملنے آئی خالی ہاتھ ہرگز نہ آۓ ۔۔۔ اور اگر خالی ہاتھ آ ہی گئے ہیں تو واپس جاۓ اور میرے لیے ۔۔کچھ کھانے کا سامان لاۓ ۔۔ اور اگر مجھ سے اس وجہ سے نہ ملنے آئے کہ میرے لیے کچھ لانا پڑنا ہے ۔۔ تو میں نہایت پیار سے ان سے یہی کہوں گا ۔۔۔ میں سہی بھی ہونا ہے ۔۔۔ آپ کا پیارا ڈیرییک ۔۔ ) یہ تحریر دیکھ کر جان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ پوری طرح اپنے ہوش و حواس میں آ چکا ہے ۔۔۔

وہ اندر آیا ۔۔تو کمرے میں کچھ نہ کچھ کھانے کا سامان پڑا ہوا تھا ۔۔

کہنی چاکلیٹ کا ڈبہ تو کہنی جوس کا۔۔۔یہ پھر چپس ۔۔کچھ نہ کچھ ۔۔

بھئ دہشت ہی اتنی تھی ہمارے مریض کی ۔۔۔

اور ہاں مریض صاحب کی ایک فکیچر زراہ ٹانگ لٹکی ہوئی تو ۔۔۔دائیں بازوں جو فیکچر کا شکار تھا اسے بےچارے کو بھی آرام نصیب ہوا تھا ۔۔ کیونکہ جس شخص کے وہ ہاتھ پاؤں تھے ۔۔۔ وہ کہاں ٹک سکتے تھے ۔۔

خیر اب بھی کہاں ٹکے ہوے تھا ۔۔ بائیں ہاتھ اس کا مسلسل چپس اور جوس کے ساتھ برابر کا انصاف کر رہا تھا ۔۔۔ اگرچہ اس کا بائیں بازوں بھی زخمی تھا لیکن اس میں فیکچر کا مسلہ نہیں تھا ۔۔

جان نے خونخوار نظروں سے اس مریض کو گھورا ۔۔۔جس کا چلتا منہ اسے دیکھ کر روک چکا تھا ۔۔اب آنکھوں میں حد درجہ مصعومت اور چہرے پر مسکین سی شکل بنانے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

لیکن جان اس کے اندر کے شیطان سے اچھی طرح واقف تھا اس لیے وہ اس کی مسکین سی شکل پر کوئی ترس کھانے والا نہیں تھا ۔۔۔

ڈیرییک نے جب اس کے تیور دیکھے تو اسے اپنے اردگرد خطرے گھنٹیاں سنائی دی ۔۔

” ہاےےے بڈی ۔۔۔ دیکھ تیرا یار تیرے لیے موت کو مات دے کر آیا ہے ۔۔۔ ” ڈیرییک نے اپنے طرف آہستہ سے بڑھتے جان کو دیکھا تو تھوک نگلتے ہوے بڑی ہی پیار سے بولا۔۔

جس کا جان پر زرہ اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔

وہ ایسے ہی اس کی جانب بڑھتا رہا ۔۔۔

” اچھا چپس کھاۓ گا ۔۔۔ ؟” ڈیرئیک دل پر پتھر رکھ کر اسے چپس کی آفر کی ۔۔۔ ورنہ جان اپنی کھا جانے والی نظروں سے اسی کی نگل جانا تھا ۔۔۔

اس کے پاس پہنچ کر جان نے کرسی سے چیزیں اٹھا کر سائڈ پر رکھی ۔۔ اور چیئر اس کے سامنے کر کے بیٹھ گیا ۔۔

اس کی نیلی آنکھوں سے شعلے نکل رہی تھی ۔۔ لیکن چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔

اس نے اس سے چپس کا پیکٹ پکڑا ۔۔۔ اور اس میں سے ایک چپس نکال کر منہ میں ڈال اور زور زور سے چبا کر کھانے لگا ۔۔جیسے وہ چپس نہ ہو ڈیرییک ہو ۔۔۔

ڈیرییک تو یہ دیکھ کر اور کھسیانا ہو گیا ۔۔ اس وقت اس کی ٹانگ میں زخمی تو ۔۔ نہ وہ بھاگ سکتا تھا ۔۔

وہ پوری طرح اس جلاد کے رحم و کرم پر تھا ۔۔ جو نہ تو اس پر رحم کرنے کے موڈ میں لگ رہا تھا ۔۔ نہ کرم کرنے کے موڈ میں ۔۔۔

” ہاں تو کیا پیغام تھا ۔۔۔۔ ” جان نے اس کے زخمی بازوں کے بلکل قریب ہاتھ رکھتے ہوے پر سوچ انداز میں بولا ۔۔۔ اس کے اس طرح ہاتھ رکھنے سے جان نے ڈر کر اسکے ہاتھوں کو دیکھا ۔۔۔پھر اس کی شکل کو ۔۔

” ہاں یاد آیا ۔۔۔ ” اس نے اس اسی زخمی فیکچر زدہ بازوں پر زور سے ہاتھ مارا ۔۔ ” سوری میں اتنی ۔۔ جلدی جان نہیں چھوڑنے والا۔۔۔ ” یہی تھا نا ۔۔۔ اس نے ٹھنڈے انداز میں اس سے پوچھا ۔۔

ڈیرییک کا تو درد سے تراح نکل گیا ۔۔۔ اس نے رحم طلب نظروں سے اسے دیکھا ۔۔جواب میں جان نے بھی بے رحم نظروں سے اسے گھورا ۔۔

” وہ تو میں حوصلہ دے رہا تھا کہ میں ٹھیک ہو ۔۔۔ ” ڈیرییک نے مصعوم شکل بنائی ۔۔۔

” تو میں بھی تو حوصلہ دے رہا ہوں ۔۔۔ میرا یار اتنی تکلف سے میں ہے ۔۔۔ ” جان نے پھر دو بار اس کے بازوں پر ہاتھ زور سے رکھا ۔۔۔

ڈیرئیک کی تو چیخ نکلتے نکلتے رہ گی ۔۔۔

” جان ۔۔ میری سانس روک رہی ہے ۔۔۔۔ پانی ۔۔ پانی ۔۔ ” اس نے اکھڑتی سانسوں درمیان کہا ۔۔

جہان بھی اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوا ۔۔

اور جلدی سے پانی گلاس میں ڈال اس کے سر نیچے ہاتھ کر کر اس کا سر اپر کر پانی اس کے منہ سے لگایا ۔۔

ڈیرییک نے ابھی دو ہی آپ لیے ہوں گے کہ جان نے یکدم گلاس میں موجود سارا پانی اس کے منہ انڈیل دیا ۔۔۔

اب تو اسے سہی معنوں میں غوطہ لگا تھا ۔۔۔

جبکہ جان اب سیدھا کھڑا کر اس کی حالت پرسکون انداز میں محلاظہ کر رہا تھا۔

تھوری دیر بعد اس کی حالت سنبھالی تو اس نے جان کو گھورا ۔۔۔

” اب اگر تم نے کچھ کیا نہ ۔۔۔ تو پھر دیکھا ۔۔۔۔ ” اتنی سریس کنڈیشن میں بھی اس کی دھمکی سن کر جان مے چہرے پر تمسخر اڑانے والی مسکراہٹ آئی ۔۔

” میں اور کروں گا بھی ۔۔ اور پھر مل کر دنوں دیکھیں گیۓ ۔۔۔۔ ” ڈیرییک نے تپ کر اسے دیکھا ۔۔۔

” تم نہ بھولو ۔۔۔ میں ٹھیک بھی ہونا ہے ۔۔۔ ” ڈیرییک نے اسے انڈرئیک دھمکی دی تھی ۔۔۔

” مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔۔ بچپن سے سنتے آ رہا ہوں کہ تو نے ٹھیک ہونا ہے ۔۔۔ لیکن کیا ۔۔ ابھی بھی تمہاری دماغی حالت ویسی ہی ہے ۔۔۔ ” جان اسے سہی معنوں میں ٹونٹ ٹونٹ کر رہا تھا ۔۔

یہ شکر تھا کہ اب ڈیرییک کو منہ سے ہی باتیں سننا رہا تھا ۔۔۔ورنہ اس کے بھاری ہاتھ اس کی کچومر بنی ہڈیوں کا مزید کچومر بنانے والی تھی ۔۔

جان کا موبائیل بجا ۔۔۔ اس نے موبائیل نکال کر دیکھا تو اس کے وکیل کا فون تھا ۔۔۔

” سر جو پیپر ریڈی ہیں ۔۔۔ ” دوسری طرف سے بات سن کر اس کی نیلی آنکھوں میں چمک سے کندی تھی ۔ ۔۔ کچھ دیر پہلی جو ٹیس کرنے والی مسکراہٹ اس کے چہرے پر تھی ۔۔ اب اس کی جگہ سرد سی مسکراہٹ آدمی تھی ۔۔۔

اس ے چہرے پر بس سرد تاثرات تھے ۔۔۔

” ٹھیک ہے ۔۔۔ آپ سنبھال کر رکھیں ۔۔ پھر کل ملتے ہیں ۔۔۔ ” سنجیدگی سے بولتے اس نے بات مکمل کر کے کال کٹ کی ۔۔۔

اور ڈیرییک کی طرف دیکھا جو بڑی مشکوک نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

” تمہارے ارادے مجھے نیک نہیں لگ رہے ۔۔۔۔ ” وہ اسی طرح اس کی طرف مشوک نظروں سے دیکھتا بولا ۔۔

” نہ میں نیک نہ میرے ارادے ۔۔۔ ” وہ موبائیل جیب میں ڈال کر اس کے پاس دوبارہ سے بیٹھ گیا ۔۔۔۔

” تم مجھے بتا رہے ہو کہ نہیں ۔۔۔۔ ” ڈیرییک نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن کراہ کر دوبارہ گر گیا ۔۔۔ جان نے اب بھی اس کی مدد نہیں کی تھی ۔۔۔

” نہیں ۔۔ ” دوٹوک یک لفظی جواب ۔۔

” کوئی نہیں ۔۔۔ میں خود پتا کر والوں گا ۔۔۔ ” اس بات پر جان نے بے نیازی سے کندھے اچک جیسے کہہ رہا ہو تمہاری مرضی ۔۔۔

تھوری دیر بعد نرس نے آکر اسے انجکشن لگایا تو وہ پھر نیند میں چلا گیا ۔۔۔

اور جان وہنی اس کے پاس بیٹھا کل کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔

وہ فیصلہ لے چکا تھا ۔۔

اب بس عمل کرنا رہ گیا تھا ۔۔۔

وہ بھی کل اس نے کر لینا تھا ۔۔

______________________________

آج پھر وہ لڑکی بھاگ رہی تھی ۔۔

پھر وہ ساۓ اس کے پیچھے تھے ۔۔

وہی جنگل ۔۔

وہی سایوں کا قابو کرنا ۔۔

اور ایک ایک کر کے اس کے اندر داخل ہونا ۔۔

لیکن ان سب کہ اس کے اندر جاتے ہی ۔۔ اس کے جسم کو آگ لگ گی ۔۔

وہ چیخ رہی تھی ۔۔ مسلسل ۔۔

اپنے جسم پر لگی آگ وہ کسی طرح بھجانا چاہتی تھی ۔۔

لیکن وہ اس کو جلا رہی تھی ۔۔۔

اسے ختم کر رہی تھی ۔۔

وہ چیختے ہوے اٹھی ۔۔

اسے یوں لگ رہا تھا کہ اب بھی اس کو لگی ہوئی ہے ۔۔

اس نے سائڈ ٹیبل پر پڑے پانی کا جگ اٹھیا ۔۔۔ اور اپنے اپر انڈیل دیا ۔۔لیکن جلن اب بھی لگ رہی تھی ۔۔

وہ دوڑتے ہوے باتھ روم گی ۔۔ اور شاور کے نیچے جا شاور کھولا ۔۔۔

اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے ۔۔

ٹھنڈا پانی اس کے جسم پر پڑا رہا تھا ۔۔

لیکن یو لگ رہا تھا کہ وہ آگ اب بھی لگی ہے ۔۔۔

اس کے سارے کپڑے بھیگ گئے تھے ۔۔

وہ اسی طرح روتی ہوئۓ شاور کے نیچے گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ گی ۔۔۔

پہلے پہل تو یہ خواب ساۓ تک رہے تھے ۔۔ لیکن آج آگ لگنا ۔۔ اسے بے چین اور خوفزدہ کرنے کے ساتھ حراس کر رہا تھا ۔۔

زندگی کبھی اتنی مشکل بھی ہوگی اس نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا ۔۔

اسے حوصلہ دینے والا بھی کوئی نہیں جو آکر اسے کہتا ۔۔

“کہ ایما یہ خواب ہے کچھ نہیں ہوا اٹھ جاؤ “

اکیلا ہونا کسے کہتے ہیں ۔۔ یہ کوئی آج ایما سے پوچھتا ۔۔

تنہائی وہ زہر جو انسان کو دھیرے دھیرے ختم کرتی ہے ۔۔ سب سے پہلے وہ اعصاب پر حملہ کرتی ہے ۔۔ پھر وہ زہر آنکھوں میں اترتا ہے ۔۔ جس سے انسان کو ہر ہستہ شخص بڑا لگتا ہے یا تو وہ سب سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔۔ یا پھر کمزور پر جاتا ہے ۔۔ پھر یہ زہر آنکھوں سے ہوتا ہونٹوں اور جب دل میں جاتا ہے نا تو انسان بےحس ہو جاتا ہے ۔ اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔۔جہاں ہر جزبہ مر جاتا ہے ۔۔

ہوٹل سے آنے کے بعد وہ سیدھا گھر آئی تھی ۔۔ اور روتے روتے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتا نہیں لگا ۔۔

آج ویسے بھی کلب سے آج چوٹی تھی ۔۔۔

اس نہیں پتا لگا کہ وہ کتنے گھنٹے سے ٹھنڈے شاور کے پانی کے نیچے کھڑی تھی ۔۔۔

جب اس کے ہاتھ پاؤں سن ہونا شروع ہوئے تو وہ ہوش میں آئی ۔۔۔

اور باتھ روم کی دیوار کا سہارا لے کر آہستہ سے اٹھی ۔۔ اور سہارے سے ہی چلتے ہوئے وہ واپس کمرے میں آئی ۔۔

کھڑکی سے پردے ہٹے ہوے تھے ۔۔

نیا دن شروع ہو چکا تھا ۔۔

لیکن کیا واقعی نیا دن شروع ہوا تھا ۔۔

سب کچھ ویسا ہی تو تھا ۔۔

زندگی اس کے لیے ایک امتحان بن چکی تھی ۔۔

ایما کو نہیں پتا تھا ۔۔

اس کے امتحان اب سہی معنی میں شروع ہونے والے ہیں ۔۔

اس کی زندگی میں طوفان اب سہی معنوں میں آنے والا ہے ۔۔۔

اس کے بعد اس سے سویا نہیں گیا ۔۔۔

اس لیے اس نے آفس جانے کے لیے تیار ہونا بہتر جانا ۔۔ ویسے بھی فارغ بیٹھ کر فضول سوچوں نے اسے مزید تنگ کرنا تھا ۔۔

فریش ہو کر جب وہ باتھ روم سے نکلی تو پہلی چھنک آئی ۔۔پھر دوسری پھر تیسری ۔۔ اور پھر یہ سسلہ چل نکلا ۔۔

چھینک چھنک کر اس کی چوٹی سی ناک لال ہوگی تھی ۔۔

اب اتنی دیر سردی میں وہ بھی لنڈن کی ۔۔ اور ٹھنڈے پانی کے نیچے بیٹھے رہو تو یہ تو ہونا ہی تھا ۔۔

اس نے بال ٹاول میں لپیٹے اور کچن میں آکر کافی بنانے لگی ۔۔ ساتھ میں اس نے میڈیسن بھی لے لی ۔۔

یہ اپارٹمنٹ دو کمروں جن میں ایک کچن اور باتھ روم پر مشتمل تھا ۔۔

وہ واپس کمرے میں آئی اور شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر ۔ اس نے اپنے بال خشک کرنے چاہے لیکن جیسے ہی اس کی نظر شیشے میں اپنے عکس پر گی تو وہ حیران رہ گی ۔۔۔

یہ وہی تھی کیا ۔۔۔

چمکتی بھوری آنکھیں اب ویران اور رو رو کر سوجن کا شکار ہو چکی تھی ۔۔۔ آنکھیوں ایک نیچے ہلکے سے پڑے تھے ۔۔ زکام کی شدت سے سرخ ہوتی اس کی ناک اور گال ۔۔ اور برسوں کی بیمار لگ رہی تھی ۔۔

ایک ہی رات میں وہ کیا بن گی تھی ۔۔