Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 18
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 18
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
انہیں پاکستان آۓ ہوئے تین دن ہوگئے تھے۔۔ حویلی میں شادی کی تیاریاں زوروں سے ہو رہی تھیں ۔
ابھی کل رات ہی تو داجی نے اسے اپنے پاس بلایا اور صبح آہل کے ساتھ جاکر برات اور ولیمے کا ڈریس لانے کا کہا ۔۔
صبح ناشتے کے بعد آہل نے اسے تیار ہونے کا کہہ کر باہر اس کا انتظار کرنے لگا ۔ حور فریش تو پہلے ہی ہوگئی، تھی ۔۔اس لیے اس نے گرین سوٹ کے ساتھ سر پر بلیک حجاب لیا اور چادر سے خود کو اچھی طرح ڈھانپتے ہوئے پورچ میں آئی ۔۔
آہل جو فون پر بات کر رہا تھا جیسے اس کی نظر حورین پر پڑی تو وہ دومنٹ تک بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔اسے حور کے چہرے پر صرف نور ہی نظر آ رہا تھا جو بلیک رنگ کے حجاب میں چاند کی طرح چمک رہا تھا ۔۔حور جو اس کی جانب ہی بڑھ رہی تھی کہ اس کو یوں خود کو بےخود ہو کر دیکھنا اسے کنفیوز کر گیا اسی وجہ سے اس کہ چلنے کی رفتار بھی کم ہوگئی ۔۔آہل نے اس کا کنفیوز ہونا اور رفتار کم ہونا محسوس کیا تو ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے عنابی ہونٹوں پر چھائی ۔۔۔
وہ خود بھی کالے رنگ کی شلوار قمیض پر براؤن لیدر کی جیکٹ پہنے ہوئے حور کی دھڑکنیں روک رہا تھا ۔
حور گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر آہل کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔ گاڑی کا دروازہ بند ہونے کی آواز سے آہل بھی ہوش میں آیا تو دیکھا کے کال کب کہ بند ہو چکی ہے ۔۔ اس نے خود کو سرزنش کی اور جاکر ڈراونگ سیٹ سنبھال لی ۔۔ ابھی اس نے گاڑی سٹارٹ بھی نہیں کی تھی کہ مہک ریڈ رنگ کی تنگ سی شلوار قمیض اور کھولے بال اور میک اپ سے لدھڑے چہرے کے ساتھ وہاں آئی ۔۔
اس نے حور کہ سائڈ والا شیشہ نوک کیا ۔۔
” کیا بات ہے ۔۔ ؟؟” آہل نے اپنی کھڑکی نیچے کرتے ہوئے ناگوار سے پوچھا اسے مہک کا آنا بلکل پسند نہیں آیا تھا ۔
” مجھے بھی شاپنگ کرنی ہے ۔۔ ” مہک ادا سے بال جھٹکتے ہوئے بولی ۔۔ اس نے بہت تیز پرفیوم لگایا تھا ۔۔
” تو ڈرایور کے ساتھ جاؤ ۔۔۔ ؟” آہل گاڑی سٹارٹ کرتے ہوے بولا ۔۔
” ڈرایور کو بڑی امی ( آہل کی ماں ۔۔ ) نے اپنے کام سے بھیجا ہے ۔۔” مہک ساری تیاری کر کے آئی تھی ۔۔
” بیٹھو ۔۔ ” اس کے بیٹھتے ہی آہل نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔۔
آہل ماتھے پر بل ڈالے تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔
” حور تم کیا دادی اماں بن کر آئی ہوں ۔۔۔ ” حور جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی مہک کی بات سن کر چونک گئی ۔۔۔ اس نے ایک نظر آہل کی طرف دیکھا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔اس نے فوراً نظر آہل سے ہٹائی۔۔
” کیونکہ میں ایسے ایزی فیل کرتی ہوں ۔۔ ” حور نے سادگی سے جواب دیا لیکن اسے مہک کی بات پسند نہیں آئی تھی ۔۔ حور کی بات پر مہک طنزیہ انداز میں مسکرائی ۔۔
” ویسے ایکٹنگ اچھی کر لیتی ہو ۔۔۔ ” حور کو مہک کی اس بات کا مقصد سمجھ نہیں آیا ۔۔۔
” کیا مطلب ۔۔۔ ؟؟”
” مجھے اب کسی کی فضول آواز نہ آئے ۔۔۔۔ ” اس کی بات پر مہک اس سے پہلے پھر کچھ بولتی آہل کی سرد آواز نے اسے خاموش کر وا دیا ۔۔
مہک منہ بسور کر گاڑی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی آہل نے سیدھی طرح اس کی آواز کو فضول کہا تھا۔۔۔
ابھی وہ مال سے تھورا دور ہی تھا کہ ایک سٹاپ پر حور والی سائڈ کہ کھڑکی سے کچھ آ کر اس کی گود میں گرا ۔۔
حور نے چونک کر دیکھا تو اس کی نظر اس چھوٹے سے کاغذ پر پڑی جو چڑ مڑ کیا گیا تھا اس نے باہر کی طرف دیکھا جہاں ان کہ ساتھ کھڑی گاڑی میں عجیب سے ہوالیے میں بیٹھے چار لڑکے اسی کو دیکھ رہے تھے ۔۔ ان کی نظروں سے حور کو اپنے اوپر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
وہ فوراً پیچھے ہو کر بیٹھ گئی کہ اس وقت اس کی سائڈ کا شیشہ بند ہوا ۔۔ اب بلیک مرر کی وجہ سے باہر والے کو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔
حور نے آہل کی طرف دیکھا جو سنجیدہ نظر سے سامنے دیکھ رہا تھا ۔۔ حور نے آہل سے نظر ہٹا کر اپنا ہاتھ دیکھ جس میں وہ کاغذ تھا ۔۔ حور کا دل کر رہا تھا اس کاغذ کے ساتھ وہ ان لڑکوں کو بھی آگ میں جھونک دے جن کی نظریں اسے اب بھی اپنے اوپر محسوس ہو رہی تھی ۔۔
اس نے اپنے مٹھی کو اور زور سے بھینچا ہوا تھا کے اس کے ہاتھ لال ہونے لگے تھے چونکی وہ تب تھی جب آہل نے اس کو وہی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔ اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا ۔۔اس کا چھوٹا سا ہاتھ آہل کے ہاتھ میں چھپ ہی تو گیا تھا اب آہل ایک ہاتھ سے ڈرایو کر رہا تھا حور کے دیکھنے پر آہل نے اس پر نظر ڈالی اور ہلکی سا مسکرایا ۔۔
حور نے گڑبڑا کر نظریں آہل سے ہٹائی اسے نہیں پتا تھا لیکن اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا ۔۔
مال کے آنے تک آہل نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔۔ جبکہ حور نے کوشش کی تھی مگر جب جب اس نے ہاتھ چھوڑنے کی کوشش کی تب تب آہل کی اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط ہوتی گئی تھی اس لیے اس نے بھی کوشش ترک کردی تھی ۔۔
” تم جاؤ اپنی شاپنگ کرو ۔۔ جب فروغ ہو جاؤ تو مجھے بیل کر دینا ۔۔ ” مہک کے گاڑی سے اترتے ہی آہل نے سنجیدہ مگر سرد انداز میں کہا حور کا ہاتھ اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا جس پر مہک کی بھی نظر پڑ گئی تھی جس سے وہ جل ہی تو گئی تھی ۔۔ ورنہ باقی راستے تو وہ اپنے موبائیل کے ساتھ ہی مصروف رہی تھی ۔۔
“تم کہاں جا رہے ہو ۔۔۔ “مہک کھا جانے والی نظروں سے حور کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
“تم اپنے کام سے کام رکھو ۔۔۔ ” آہل نے منٹ نہیں لگایا اس کی طبعیت صاف کرنے میں ۔۔۔
” مگر ۔۔۔ ” مہک نے پھر کچھ بولنا چاہ لیکن آہل کی سرد نظروں کی وجہ سے بول نہیں پائی اور پیر پٹختے ہوئے وہاں سے چلتی بنی۔۔۔
اس کے جاتے ہی آہل حور کی جانب متوجہ ہوا ۔۔ حور جو پہلے ہی آہل کے سرد رویے اور اس طرح ہاتھ پکڑنے کی وجہ سے گھبراہٹ کا شکار تھی اس کے اس طرح اپنے طرف پوری طرح متوجہ ہوتے دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے ۔۔۔
” مجھے دیں ۔۔۔ ” آہل نے نرمی سے وہ کاغذ حور کے ہاتھ سے لیا ۔۔ اس کے انداز میں پہلے والی سرد مہری مقصود تھی اور جو یہ سمجھ رہی تھی کہ آہل نے نہیں دیکھا اپنے ہاتھ سے اسے کاغذ کا وہ چھوٹا سا گولا پکڑتے دیکھ کر شرمندہ ہوگئی حلانکہ اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں تھی ۔۔۔
آہل نے وہ کاغذ کھولا تو اندر لکھی تحریر دیکھ کر اس کی رگیں کھینچ گئی۔۔۔۔
جہاں موبائیل نمبر کے نیچے call me baby لکھا تھا ۔۔۔
آہل دومنٹ اس چٹ کو گھورتا رہا ۔۔ پھر کچھ سوچ کر موبائل نکال کر گاڑی سے نکل گیا حور بھی اس کی تقلید کرتے ہوئے باہر نکل آئی یہ اور بات ہے کہ آہل کے تیور اس کی سانس خشک کر رہے تھے ۔۔
حور کے آہل کے پاس پہنچتے ہی آہل نے اس کا ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل کان سے لگاتے ہوئے اندر کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔
حور بھی اس کے ساتھ کھینچی جا رہی تھی ۔۔
” میسج دیکھ لیا ۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ جب کام ہو جائے مجھے بتا دینا ۔۔۔ تھینکس یار ۔۔ ” آہل فون پر بات کرتے ہی بوتیک کے اندر آیا ۔۔
” یس میم ۔۔۔ ” ورکر اس کی جانب آئی حور نے ایک نظر آہل کو دیکھا جو کال پر مصروف تھا ۔۔
” ویڈنگ ڈریس ۔۔۔ ” حور کو خود ہی بتانا پڑا۔۔
” میم برات یا رسیپشن ۔۔۔ ؟؟” ورکر نے شائستگی سے پوچھا ۔۔۔
” دونوں ۔۔ “
حور کا جواب سن کر وہ ورکر اندر چلی گئی تو حور دوسرے کپڑے دیکھنے لگی ۔۔
” یہ دیکھیں میم ۔۔۔ ” اس کے ساتھ ایک اور ورکر ڈریس لیے وہاں آئی ۔۔۔
کپڑے دیکھ کر حور پریشان ہوگئی کیونکہ وہ سارے بہت ہیوی تھے ۔۔۔ اس نے کبھی اتنے ہیوی کپڑے نہیں پہنے تھے ۔۔
” کچھ پسند آیا ۔۔۔ ؟” آہل بھی کال بند کر کے اب اس کے پاس آ کھڑا ہوا ۔۔
” یہ ساری تو بہت ہیوی ہیں ۔۔ میں کیری کیسے کروں گی ۔۔۔ ” حور نے پریشانی سے آہل کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
” میں ہوں نا ۔۔۔ میں کر دوں گا مدد ” آہل کی بات سن کر حور فوراً سیدھی ہوئی جبکہ پاس کھڑی ورکر بھی ہسنے لگی ۔۔۔
” یہ والا دیکھیں۔۔۔ ” آہل نے لائٹ پنک اور میرون لہنگے اور چولی کی جانب اشارہ کیا جس کا کام باقیوں کہ نسبتاً کافی کم تھا ۔۔
آہل نے لہنگے کا ڈوپٹہ لیا اور حور کو شیشے کے سامنے کھڑا کر کے اس کے سر پر ڈالا ۔۔
” ماشاءاللہ۔۔۔ ” بے ساختہ آہل کے منہ سے یہ الفاظ نکلے حور تو آہل کی حرکتیں دیکھ کر پریشان ہوئی جا رہی تھی ۔۔ وہ تو آہل کو سنجیدہ اور اپنے کام سے کام رکھنے والا سمجھی تھی ۔۔لیکن آہل کی بے باکیوں نے اس کے چودہ کیا سولہ طبق روشن کر دیئے تھے ۔۔۔
” یہ پیک کر دیں ۔۔ ” آہل کی بات سن کر ورکر پھرتی سے سوٹ پیک کرنے لگی ۔۔
” ریسیپشن کا ڈریس میں اپنی پسند سے لوں گا ۔۔ ” آہل اپنا روخ اس کی جانب کرتے ہوئے نرمی سے بولا ۔۔
” تو اب کون سا میری پسند سے لیا ہے ۔۔ ” حور نے یہ بات دل میں سوچی تھی لیکن زبان نے اس کی سوچوں کو آواز دے دی ۔۔ حور نے اپنی اس بے ساختہ حرکت پر زبان دانتوں تلے دبائی ۔۔ جبکہ دوسری طرف آہل اس کی بات سن کر محفوظ ہوا تھا۔ ۔
” پہننا میرے لیے ہے تو ظاہر سی بات ہے پسند بھی میری ہی ہوگی ۔۔۔ ” آہل اس کی ہوائیاں اڑے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے مزے سے بولا ۔۔
” میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔۔ ” حور منمنائی
” اچھا ۔۔ ” آہل نے اچھا جو لمبا کر کے کھینچا اسے حور کی بوکھلائی ہوئی حلات مزہ دے رہی تھی ۔۔۔
بل پے کر کے وہ باہر نکلے تو آہل اسے شو شاپ میں لے گیا اور ڈریس سے میچنگ جوتی دلاوائی ابھی وہ جوتی لے کر نکلے ہی تھے کہ مہک کا فون آگیا وہ فارغ ہے اور طبعیت بھی سہی محسوس کر رہی اس لیے اب گھر چلتے ہیں ۔۔
اسے پتا تھا مہک ضرور کوئی ایسا کام ڈالے گی اس لیے وہ ڈرایور کو پہلے ہی بلا چکا تھا ۔۔
مہک تو جل کے کوئلہ ہی ہوگئی جب آہل نے اس کو ڈرایور کے ساتھ جانے کا کہا وہ تو ان دونوں کے ساتھ ان کی شاپنگ خراب کرنے آئی تھی لیکن آہل نے موقعہ ہی نہیں دیا ۔۔
آہل کو شاپنگ کرتا دیکھ کر کوئی کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ اس شادی سے کبھی ناخوش بھی تھا اس کا انداز تو یوں تھا جیسے قارون کا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو
۔
شاپنگ سے فارغ ہو کر آہل اسے ریسٹورنٹ لے آیا ہلکی پھلکی باتوں کے دوران انہوں نے کھانا ختم کیا ۔۔
” تم یہی روکوں میں ابھی آیا ۔۔ ” آہل اسے روکنے کا کہہ کر خود پارکنگ سے گاڑی لینے چلا گیا ۔۔
شام کے سائے اب گہرے ہو رہے تھے ویسے بھی سردیوں میں رات ہونے کا پتہ بھی نہیں چلتا ٹھنڈی ہوا موسم کو مزید سرد بنا رہی تھی ۔۔
حور ایک طرف ہو کر کھڑی ہوگئی ۔۔ اس طرف زیادہ رش بھی نہیں تھا ابھی وہ آہل کا انتظار کر رہی تھی کہ وہی لڑکے تھے جنہوں نے اسے پرچی پھینکی تھی ۔۔۔
” یہ بلبل یہاں اکیلی کھڑی ہے ۔۔۔ ہیروں کہاں گیا ۔۔۔ ” وہ حور کو گھیرے میں لیے اپنی ہوس زدہ نظریں اس پر ٹکائے بار بار اس کو چھونے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔
” دور رہو۔۔۔۔۔ ” حور ان کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے سخت انداز میں بولی آہل بھی پتا نہیں کہاں رہ گیا تھا ۔۔
” آہاں اس بلبل میں تو اکڑ بھی ہے ۔۔۔ یعنی مزہ ہی دوبالا ” ان میں سے ایک حور کا گال سہلاتے ہوئے کمینگی سے بولا ۔۔۔
حور کی برداشت جواب دے گی ” چٹاخ” کی آواز سے ایک تھپڑ اس لڑکے کے گال پر پڑا ۔۔۔
” تیری اتنی ہمت سالی ۔۔ ” وہ بھپڑا ہوا اس کے بازوؤں کو دبوچ کر اپنا منہ اس کے منہ کے قریب کرتے ہوے بولا۔۔ اس کے منہ سے شراب کی سمیل بھی آ رہی تھی ۔۔اس سے پہلے حور کچھ کرتی وہی لڑکا جو اس پر جکا ہوا تھا چیختے ہوئے پیچھے کو گرا ۔۔۔
آہل نے اس کے منہ پر مکا مارا تھا ۔۔ اس کے باقی ساتھی بھی آہل پر پل پڑے جن سے آہل بھی اچھی طرح نبٹ رہا تھا ۔۔۔ لوگوں کا رش لگ رہا تھا لیکن آگے کوئی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
” روک جا ۔۔۔ ورنہ یہ بلبل جائے گی جان سے ۔۔۔ وہی لڑکا جسے حور نے تھپڑ مارا تھااور آہل نے مکا مارا تھا حور کی گردن پر چاقو رکھتے ہوئے دھمکی آمیز انداز میں بولا ۔۔۔ مجبوراً آہل کو رکنا پڑا ۔۔۔
” آہ ہ ..” ابھی اسے روکے منٹ بھی نہیں ہوا تھا کہ وہی لڑکا درد سے چیختے ہوئے نیچے کو بیٹھا کیونکہ حور نے اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان پوری قوت سے ٹانگ ماری تھی ۔۔
اتنی دیر میں پولس اور سٹاف بھی وہاں آگیا اور معاملے کو رفہ دفعہ کرنے لگ گیا ۔۔۔
آہل نے غصے سے حور کا ہاتھ پکڑا اور گاڑی میں پٹخنے کے انداز میں اسے بیٹھاتے ہوئے خود ڈرایونگ سیٹ سنبھال کر گاڑی زن سے لے کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔
______________________
آفس دوبارہ جوائن کیے تین دن ہوگئے تھے اس وقت وہ آفس کے سامنے بنے کیفے میں بیٹھی کافی پیتی سوچوں میں گم تھی ۔۔اس کے سوچوں کا محور جان تھا جس کی شخصیت ایما کی سمجھ سے باہر تھی ۔۔
وہ جان کے ساتھ ہوے ایگریمنٹ کے مطابق کام کر رہی تھی اس نے جان کے سامنے شرط میں اپنی کچھ 2 باتیں رکھی جنہیں جان نے بغیر ہچکچاہٹ کے مان لیا ۔۔
1_ بات اس نے یہ رکھی کہ جان اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرے گا ۔۔
2_دوسری کہ جیسے ہی وہ ساری رقم ادا کرے گی ویسے ہی یہ ایگریمنٹ ختم کر دیا جائے گا ۔۔
جان کا اتنی جلدی مان جانا ہی اس کو الجھا رہا تھا اس کا خیال تھا کہ وہ نہیں مانے گا ۔سب سے عجیب بات وہ مان بھی گیا تھا اور اس کا رویہ ایما کے ساتھ نورمل تھا جیسے باقی کلائنٹ کے ساتھ ہوتا تھا ۔
گھر تو ویسے بھی اب اس کے پاس نہیں رہا ۔۔ کچھ ضروری چیزیں پیک کر کے اس نے رینٹ پر رہنا شروع کر دیا تھا ہاں لیکن اس نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ چاہے جو مرضی ہو اس کو اپنا گھر واپس لینا ہے ۔
وہ کافی پیتی اپنی سوچوں میں اتنا مگن تھی کہ ڈیرئیک کے آنے کا اسے پتا نہیں لگا لیکن خیر طوفان سے کب تک بے خبر رہ سکتا ہے کوئی ۔۔
ڈیرئیک نے اسے دیکھا جو ارگرد سے بیگانی کافی کے کپ کو ٹیبل پر رکھے کھڑکی سے باہر پتا نہیں کیا اتنی یکسوئی سے دیکھ رہی تھی ۔۔
یکلخت اس کے دماغ میں کچھ آیا اس نے پاس سے گزرتے ویٹر کو اپنے پاس بلایا اور کیچپ ٫ کچا انڈہ اور نمک اس سے منگوایا ویٹر کو اس کی دماغی حلات پر شک ہوا لیکن ڈیرئیک نے جب اسے گھوڑا تو وہ فوراً چیزیں لینے چلا گیا ۔۔
ڈیرئیک نے وہ سب کافی کے کپ میں ڈالا ایما اپنی سوچوں میں اتنا گم تھی کہ اسے پتا بھی نہیں چلا کہ اس کی کافی کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔۔۔
(لیکن خیر کوئی نہیں جب وہ کافی پیۓ گی تو اسے لگ پتا جاۓ گا ۔۔ )
اس کام سے فارغ ہونے کے بعد ڈیرئیک نے اپنے موبائیل کا کیمرہ آن کیا اور ایما پے سیٹ کر دیا اس طرح کے ایما کو اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ اس کی ویڈیو بن رہی ہے ۔۔
” مس سائیکو ۔۔۔ ” اس کے سامنے والی خالی چئیر پر بیٹھ کر ڈئرئیک نے چوٹکی بجاتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ ” اس کے چٹکی بجانے پر وہ اپنی سوچوں سے نکلی تو اپنے سامنے بیٹھے ڈیرئیک کو دیکھ کر بدمزہ ہوگئی ۔۔۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔ ” اس کے سوال پر ڈیرئیک نے بھنویں اوپر کو اٹھائی
” پہلے تو لگا تھا کہ تم صرف نام کی سائیکو ہو لیکن آج تم نے ثابت کر دیا کہ تم پوری سائیکو ہو ۔۔ ” کہنے کے ساتھ ہی ڈئرئیک نے اس کے سامنے پڑی کافی کو اپنی طرف کیا مقصد صرف ایما کو کافی کی طرف متوجہ کرنا تھا جس میں وہ کامیاب بھی رہا ۔۔
ایما نے جب اسے اپنی کافی پکڑتا دیکھا تو فوراً اس سے پہلے جھپٹنے کے انداز سے اس سے اپنا کپ لیا اور کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔۔
” میرا نام بھی سائیکو تم نے رکھا تھا ۔۔۔ اور اب تمہاری کمپنی کا ہی اثر ہے کہ میں آہستہ آہستہ پوری سائیکو ہو رہی ہو ۔۔۔۔ ” ڈیرئیک کو جواب دے کر اس نے کافی کا ایک بڑا سیپ لیا ۔۔۔ اور اگلے لمحے ایما کو یوں لگا جیسے اسے الٹی آجائے گی اس نے جو سیپ لیا تو فوراً منہ سے فوارے کی شکل میں باہر نکلا جو سیدھا سامنے بیٹھے ڈیرئیک پر گرا ۔۔
وہ جو ایما کی حلات کا مزہ لے رہا تھا ایما کی اس حرکت کی وجہ سے بد مزہ ہو گیا ۔۔
” افففف ۔۔۔ اففف۔۔”ایما نے ڈیرئیک کو ابھی نہیں دیکھا اس کا تو زبان کا ٹیسٹ ہی اتنا خراب ہو رہا تھا ۔۔۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے پاس سے گزرتے ویٹر نے اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے جلدی سے پانی کا گلاس اسے دیا ۔۔۔۔ پانی پی کر ایما کو تھوڑا سکون ملا تو اس نے غصے سے ڈیرئیک کی جانب دیکھا ظاہری سی بات ہے اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ یہ کس کا کام ہے لیکن جب اس کی نظریں ڈیرئیک کی طرف گئی تو اس کی حالت دیکھ اسے مزہ آ گیا دل میں یوں لگا کسی نے ٹھنڈی پھوار کر دی ہوں اسے اپنے اندر سکون سا اتراتا محسوس ہو رہا تھا مسکراہٹ تو اس کی منہ سے چپک ہی گئی تھی ۔۔
جبکہ دوسری طرف ڈیرئیک کینہ پرور نظروں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔ ایما کی حالت کا مزہ وہ خاک لیتا ۔۔
” اٹھو تمہیں جان بلا رہا ہے ۔۔۔۔ اور تمہارا فون کہاں ہے ۔۔۔ ” اپنا منہ ٹشو سے صاف کرتے ہوئے ٹیبل سے اپنا موبائیل پکڑ کر چیئر سے اٹھا اور اسے بھی اٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔
ڈیرئیک کی بات سن کر ایما کے مسکراتے لب سمٹ گئے اور وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے اس کے پیچھے چل دی ویسے بھی آجکل جان کا ہر بلاوا اس کی سانس خشک کر دیتا تھا
ڈیرئیک کی پشت ایما کی طرف تھی اس لیے وہ ڈیرئیک کی شطانی مسکراہٹ دیکھ نہیں سکھی ۔۔۔
ایسا ہو سکتا ہے کہ ڈیرئیک کسی کا ادھار رکھے۔۔۔
سردی کی شدت عروج پر تھی ۔۔۔ دھند نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔۔۔
وہ بھی نیلی سرد آنکھیں اس دھند سے لپٹی شیشے پر ٹکائے کھڑا تھا ۔۔ آج اس نے کتنے ہی امپائر کی طبعیت صاف کی تھی ۔۔ اس کا غصہ دیکھ کر سب دیہان برق رفتاری سے کام کر رہے تھے کہ اگلی باری ان کی نہ آجاے ۔۔ اس لیے آفس میں خلافِ معمول بہت خاموشی تھی ۔۔۔
وہ ابھی بھی نظریں شیشے پر ٹکائے کھڑا تھا کہ اس کا فون بجا ۔۔
اس نے ٹیبل پر پڑے اپنے موبائل کی سکرین پر دیکھا نمبر انون تھا لیکن پھر بھی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ کون ہوسکتا ہے ۔۔ اس کی نیلی آنکھیں مزید سرد ہوگئی ۔۔ ماتھے پر نمودار بل اس کی ناگواری کا پتا دے رہے تھے ۔۔۔
فون ایک بار بج کے بند ہوگیا لیکن جان کی نظریں اب بھی سکرین پر تھی اس کو پتا تھا کال پھر آۓ گی اور وہی ہوا اگلے پل سکرین پر پھر سے وہ نمبر آیا ۔۔۔
اب کی بار اس نے کال اٹینڈ کر لی ۔۔۔ لیکن بولا کچھ نہیں ۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔ ڈر گئے ۔۔ابھی سے ۔۔۔ ” دوسری طرف سے اس کی پہلی بار کال نہ اٹینڈ کرنے پر جیسے چوٹ کی گئی ۔۔۔
” میں ڈرا ہو کہ نہیں ۔۔۔ اس کا تو بہت جلد پتا لگے گا تمہیں ۔۔۔ لیکن تم مجھ سے ڈرتے ہو ۔۔۔ یہ مجھے پتا ہے ۔۔۔ ” اس کی آواز اس کی آنکھوں کے برعکس پرسکون تھی ۔۔۔ اس کا یہی پرسکون انداز تو اس کے مخالف کو آگ بگولہ کر دیتا تھا ۔۔۔
” ڈی کسی سے نہیں ڈرتا ۔۔۔۔ اب تم تیار رہنا ۔۔۔ ” دوسری طرف موجود شخص اس کی بات سے مسکرایا اس کی مسکراہٹ بھی اس کی شخصیت کی طرح پراسرار تھی ۔۔
” کر لو ۔۔۔ جو کر سکتے ہو ۔۔ جان بھی کسی سے نہیں ڈرتا ۔۔ خاص کر ان سے جو چھپ کر وار کرتے ہیں اور سامنے آنے سے ڈرتے ہیں ۔۔۔ ” اس کا تمسخر اڑانے والا انداز ڈی کو بتا گیا کہ مقابل کسی سے کم نہیں۔۔
” لگتا ہے تم مجھے بھول گیے ۔۔۔ لیکن کوئی نہیں اب اگلی ملاقات میں سب یاد آجائے گا ۔۔ ابھی تو میں ذرا تمہارے سرپرائز کا انتظام کر لوں ۔۔۔ ” معنی خیز انداز میں کہتے اس نے فون کاٹ دیا ۔۔۔ یہ چوتھی کال تھی جو اسے آئی تھی ۔۔۔ اور ان چاروں بار نمبر نیا ہوتا تھا ۔۔
کال بند ہوچکی لیکن اس نے کوئی ریکشن نہیں دیا اسی طرح کھڑکی کے سامنے پرسکون انداز میں کھڑا رہا تھا ۔۔۔ اس کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں جان سکتا تھا کہ اس کے کتنے طوفان ہیں جو زرہ سی چھڑنے کی دیر تھی تباہی مچانے کے لیے تیار تھے ۔۔۔
آفس کا دروازہ نوک ہوا ۔۔۔
” یس۔۔۔۔ ” اس نے اسی طرح کھڑے ہوئے اجازت دی ۔۔۔
اجازت ملتے ہی ایما خود کو پرسکون کرتی اندر داخل ہوئی تو پہلی نظر اس پر گی جو گرے پینٹ کوٹ پہنے اس کی طرف پشت کیے کھڑا تھا ۔۔ اس نے ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے تھے ۔۔
ابھی ایما اس کی طرف دیکھ ہی رہی تھی کہ اسی وقت جان اس کی طرف پلٹا ۔۔ اور اپنی نیلی سرد نظریں اس کی طرف جماۓ جیسے اس کے آنے کا مقصد پوچھا ۔۔۔
” یس سر ۔۔۔ ” اس کی ایسی نظریں ایما کا حلق خشک کر رہی تھی اس نے گلا تر کیا ۔۔۔
جان نے جواب میں کچھ نہیں کہا بس آہستہ سے اس کی طرف بھڑا ۔۔ اس کی نیلی آنکھیں جن میں اس وقت سرد مہری ہی سی تھی وہ مستقل اس پر جمی تھی ۔۔۔
اس کو اس طرح اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر ایما کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی نامحسوس انداز میں اس نے قدم پیچھے کی طرف اٹھنا شروع کر دیئے ۔۔ یہاں تک کے مزید پیچھے نہیں جا سکی اور اس کی پشت دروازے سے لگ گئی۔۔۔ اسی وقت جان اس کے بلکل قریب آگیا اور اپنے دونوں ہاتھ اس کے آئیں بائیں دروازے پر ٹکائے اس کو اپنے گھیرے میں قید کیا ۔۔۔
ایما کو جان کے انداز بلکل سمجھ نہیں آرہے تھے ۔۔ اس کے ہونٹ خشک اور ہاتھ پاوں ٹھنڈے پڑ گئے تھے ۔۔ اس نے ہمت کر کے دوبارہ بولنا چاہا تو جان نے اسی وقت اس کے ہونٹ پر انگلی رکھ دی ۔۔
اس کے ایسا کرنے سے ایما کا دل زور سے دھڑکا ۔۔ اسے جو پرسکون تھی کہ جان اس کے ساتھ کوئی ایسی ویسے نہیں کرے گا لیکن آج اس کو یہ اطمینان بھی جاتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔۔جان کی نظریں مسلسل اس کے ہونٹوں پر تھی جبکہ ایما کی اس پر ۔۔۔
اب جان اس کے ہونٹ کو اپنی انگلی سے ٹریس کرنے لگا ۔۔۔ ایما کی برداشت اب کے جواب دے گی ۔۔ اس لیے جان کے ہاتھ جھٹک کر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا ۔۔ وہ اس کا ہاتھ جھٹکنے میں ہی بس کامیاب ہوئی تھی لیکن پیچھے کرنے میں نہیں ۔۔
جان نے اس کا بھپڑا ہوا چہرا دیکھا تو تمسخر آمیز انداز میں مسکرایا اور اگلے ہی پل اس نے ایما کے دنوں ہاتھ اس کی پشت پر باندھ کر خود سے بلکل قریب کر لیا ۔۔اتنا قریب کے ایما کو اس کے گرم سانسوں کے تھپیڑ اپنے چہرے پر محسوس ہو رہے تھے ۔۔اس کی گرفت اس کے ہاتھوں پر اتنی سخت تھی کہ ایما کو اپنے ہاتھ ٹوٹتے ہوے محسوس ہو رہے تھے ۔۔
ایما کو جان کی قربت سے خوف آرہا تھا ۔۔ کیونکہ جان کا انداز بلکل سپاٹ تھا ۔۔ ہر احساس سے عاری ۔۔ جیسے کے اس نے ایما کو نہیں کسی بےجان گڑیا کو پکڑا ہو ۔۔
لیکن ایما اس کی دھڑکن اتنی تیز ہوگئی تھی کہ اسے لگا کہ ابھی اس کا دل نکل کر بھاگنا شروع کردے گا۔۔۔ایما نے خود کو اس کی گرفت سے نکلانے کی کوشش کی ۔۔
” سر یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ ” آخر ایما جب خود کو اس کی گرفت سے نہ نکال پائی تو غصے سے بولی ۔۔ اس کا چہرہ اس وقت پورا لال تھا ۔۔
” آئندہ ۔۔۔ جب تک میں نہ بلاؤ ۔۔۔تم نہیں آؤ گی ۔۔۔ لیکن اگر میرے بلاۓ بغیر آئی تو اس کا مطلب میں یہی سمجھوں گا کہ تم میری قربت کی خواہاں ہو ۔۔۔ ” جان اپنے ہونٹ اس کے کان کے پاس کرتے ہوے سرگوشی میں بولا ۔۔۔ اس کا انداز حاکمانہ ہونے کے ساتھ مزاق اڑاتا بھی تھا ۔
” سر آئی ۔۔۔ مجھے آپ نے ہی بلایا تھا ۔۔ ” ایما بھی اب کی بار چپ نہ رہی اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بنا ڈرے بولی ۔۔
جان نے چونک کر اس کا یہ انداز دیکھا ۔۔۔ لیکن یہ چوکنا اس نے اس سرعت سے چھپایا کہ ایما کو اس کے چوکنے کا بھی نہیں پتا چلا ۔۔
” انٹریسٹنگ ۔۔۔ اگر تم میرے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتی ہو تو ایسے ہی کہہ دو ۔۔۔ اتنا ڈرامہ کریٹ کرنے کیا ضرورت تھی ۔۔۔ ” جان اسے گہری نظروں سے اس کے تاثرات دیکھتے ہوے بولا ۔۔
اس کی یہ بات سن کر ایما بلکل آؤٹ ہوگئی ۔۔۔ اس نے ایک زوردار جھٹکا دے کر جان کو خود سے دور کیا اور اس بار جان کی گرفت سے نکلنے میں بھی کامیاب رہی کیونکہ جان نے خود اسے چھوڑا تھا ورنہ جان کی گرفت سے نکلنا ایما کی بس کی بات نہیں تھی ۔۔,
اس کی گرفت سے نکل کر ایما نے غصے سے انگلی اس کی طرف اٹھی اور بولی نہیں پھنکاری تھی ۔
” تمہاری ذہنیت کا اس بات سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں سواۓ گند کے کچھ نہیں ۔۔۔ ” شدید جذبات سے اس کا سانس پھول گیا تھا ۔۔آنکھیں بھی اس کی نم ہو رہی تھیں لیکن پھر بھی اس نے اپنے آنسو نکلنے نہیں دیے ۔۔ اس کی بھوری آنکھیں اس وقت ضبط کی شدت کی وجہ سے لال ہو رہی تھیں ۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جان کے ساتھ کیا کر دے ۔۔۔ اگرچہ اسے کوئی روک ٹوک نہیں تھی لیکن آج تک کسی کے ساتھ بھی اس کے تعلقات اس نوعیت کے نہیں ہوئے۔۔
جو کہ جان بنانا چاہتا تھا وجہ شاید حور کے ساتھ رہنے کا اثر تھا جو خود کو سیپ کے موتی کی طرح سنبھال کر رکھتی تھی ۔۔۔اس کے دل میں بھی یہ خواہش تھی کہ وہ خود اس ایک کے لیے سنبھال کر رکھے جو اس کا حقیقی حقدار ہے ۔۔
وہ بولنے کہ بعد روکی نہیں تھی اور جان کے آفس سے نکلتی گئی ۔۔۔ جان نے بھی اسے روکا نہیں ۔۔
بس پرسوچ نظریں اس طرف ہی تھی جہاں سے ابھی وہ گئی تھی ۔۔
__________________________
ڈیرئیک ایما کے آنے سے پہلے ہی آفس سے نکل گیا ۔۔۔ کیونکہ اسے پتا تھا کہ جان جب اسے بتانے گا کہ اس نے بلایا ہی نہیں تو ایما ضرور اس کی شامت لاۓ گی ۔۔ہو سکتا ہے اسے قتل ہی کر دے ۔۔
ابھی وہ ایما کی حالت کو سوچتے ہوئے سرشار سا ڈرایو کر رہا تھا کہ اس کا فون بجا ۔۔ اس نے موبائل نکال کر دیکھا تو ڈیڈ کالنگ آرہا تھا ۔۔
اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کال کیوں کر رہے ہیں ۔۔
” ہائے ڈیڈ ۔۔ ” اس نے کال اٹینڈ کرتے ہی پرجوش میں کہا ۔ لیکن دوسری طرف وہ جو اس کی حرکتوں کی وجہ سے عاجز تھے انہیں اس کا یہ پرجوش انداز پسند نہیں آیا ۔۔۔
” ڈیرئیک میں تمہارا کیا کروں ۔۔۔۔ جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ گارڈز کے ساتھ جانا جہاں جانا تو تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی ۔۔۔ ” انہوں نے جیسے تنگ آکر کہا ۔۔۔
انہیں پچھلے دنوں سے دھمکی آرہی تھی کہ اگر انہوں نے ڈیل سائن نہ کی تو ہر طرح کے نقصان کے لیے تیار رہیں ۔۔۔ انہیں اور کسی چیز کی فکر نہیں تھی سوائے اپنے بیٹے اور بیوی کی لیکن مجال ہو جو ان کا بیٹا ان کی بات مان لے ۔۔ انہوں نے اس کے ساتھ اس کی حفاظت دے کر گارڈز بھیجے تھے جنہیں چکما دے کر وہ نکل آیا تھا اور ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہو چکا تھا ۔۔۔
” ڈیڈ ۔۔ میری بات سنیں ۔۔۔ مجھے نہیں پسند اپنے ساتھ یہ گارڈز کا دم چھلہ لگانا ۔۔۔ اور ویسے بھی میں اپنی حفاظت خود کر سکتا ہو ۔۔۔ ” اس نے بھی خلافِ معمول سنجیدگی سے کہا ۔۔۔
” مگر ۔۔۔ ” انہوں نے پھر کچھ کہنا چاہا ۔۔۔
” ڈیڈ کہا نا ۔۔۔ آپ پریشان نہ ہو ۔۔ میں ٹھیک ہو ۔۔ ” اس نے انہیں تسلی دی ۔۔
اب گاڑی جس سڑرک سے گزر رہی تھی یہ سنسان تھی ۔۔۔ آس پاس درختوں کی قطاریں تھی ۔۔۔
” چلو ٹھیک ۔۔۔ اپنا خیال رکھنا ۔۔۔ ” انہوں نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا انہیں پتا تھا کہ اب وہ چاہے جو مرضی کر لیں وہ اپنی بات سے نہیں ہٹے گا ۔۔۔
” اوکے ڈیوڈ ۔۔۔۔ ” سبز آنکھیں سرک پر ٹکائے اس نے جواب دے کر فون بند کیا ۔۔۔ ابھی تھوڑا راستہ مزید تہہ کیا تھا تو اس نے دیکھا کہ ایک لڑکی اپنی گاڑی کا بونٹ کھولے اس پر جھکی ہوئی تھی ۔۔
سنسان سڑک ۔۔۔ آس پاس گھنے درخت تھوڑی دور ہی جنگل تھا ایسے میں اگر وہ بھی چلا گیا تو کون اس کی مدد کرے گا ۔۔ یہی سوچتے ہوۓ ڈیرئیک نے گاڑی روکی اور کھڑکی کھول کر اونچی آواز میں اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
” ہائےےے ۔۔ مدد چاہیے ” آواز سن کر جب لڑکی نے چہرہ اس کی جانب کیا تو وہ اور کوئی نہیں تھی اولیویا تھی ۔۔جسے دیکھ کر ڈیرئیک کا چہرہ اور سبز آنکھیں جگمگا اٹھی تھیں ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف اولیویا اسے وہاں دیکھ کر بدمزہ ہوگئی تھی ۔۔
وہ تو کام سے جا رہی تھی کہ راستے میں گاڑی خراب ہوگئی تھی ۔۔۔ اس لیے وہ گاڑی چیک کرنے کے لیے ادھر کھڑی تھی ۔۔۔ کتنی دیر سر کھپانے کے بعد بھی جب اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو مدد کے خیال سے اس نے فون کرنے کا سوچا لیکن اسے پہلے ہی اسے پیچھے سے جانی پہچانی آواز آئی اور جب مڑ کر ڈیرئیک کو دیکھا تو دیکھ کر تسلی ہوئی لیکن اس کے سامنے اس نے منہ بیگاڑا تھا ۔۔
” واہ ۔۔۔ کیا بات ہے ۔۔ ابھی میں تمہارے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔۔ ” ڈیرئیک اپنی گاڑی ایک طرف کھڑی کر کے اس کے پاس آتے ہوے بڑے رومانٹک انداز میں بولا ۔۔ یہ اور بات تھی کہ اس وقت اس کی آنکھوں میں شرارت چمک تھی ۔۔
اس کی بات سن کر اولیویا نے آنکھیں گھمائی ۔۔۔
” ارے پوچھو گی نہیں کہ کیوں یاد کر رہا تھا ۔۔۔ ” ڈیرئیک اب اس کے بلکل قریب آچکا تھا۔۔
” نہیں ۔۔۔ مجھے پتا تم فضول ہی سوچوں گے ۔۔ اور مجھے فصول چیزوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ۔۔ ” اولیویا نے تپ کر کہا ۔۔
” تمہارے منع کرنے سے میں کون سا ہو جانا ہے ۔۔۔ ” ڈیرئیک اب اس کو سائڈ پر کر کے خود گاڑی چیک کرنے لگ گیا ۔۔۔ اتنا تو اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے وہ یہاں کھڑی تھی ۔۔
اس کی یہ بات سن کر اولیویا کا میٹر ہی آؤٹ ہوگیا ۔۔۔
” تو پھر پوچھنے کا تکلف ہی کیوں کیا تھا ۔۔۔ ” اس کا یہی تپنا ہی تو ڈیرئیک کو مزہ دلاتا تھا ۔۔۔
” بس میں کبھی کبھی ایسے تکلف کر ہی لیتا ہوں ۔۔۔یو نو نہ کتنا اچھا ہو میں۔۔۔ ” وہ تاریں چیک کرتے ہوئے خود ہی اپنی تعریف کے مزے لے رہا تھا ۔
” ہاں ۔۔ اتنے اچھے ہو ۔۔۔ کہ دل کرتا ہے جان سے مار دوں ۔۔۔ ” اولیویا نے جل کر کہا ۔۔ وہ ایک طرف کھڑی ساتھ اس سے بحث کر رہی تھی اور ساتھ موبائل میں بزی تھی ۔۔۔
” میں تمہاری انہی باتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا یہ جو تم اشاروں کناروں میں مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کرتی ہو نا ۔۔۔ قسم سے دل لوٹ لیتی ہو ۔۔۔ ” ڈیرئیک کو پتا اس بات پر اولیویا کی آنکھوں سے انگارے نکل رہے ہوں گے یہی دیکھنے کے لیے جب اس کی طرف دیکھا تو وہ واقعی اس کو ایسے ہی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
” ہاہاہاہا ۔۔ بعد میں دیکھتی رہنا ۔۔ یہ بندہ آپ کا ہی ہے ۔۔۔”اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک شرارت سے کہا ۔۔
” فلحال میری گاڑی سے ٹول باکس لانا ۔۔۔ ” اس نے چابیاں اس کے حوالے کی ۔۔۔اولیویا انکار کر دیتی لیکن کیوں کہ اس کا اپنا کام تھا اس لیے چپ چاپ چابیاں لے کر وہاں سے چلی گی ۔۔۔
وہ جب ٹول باکس نکال رہی تھی تو اسے لگا کہ اس کے علاؤہ بھی کوئی ہے ۔۔۔ اس نے ادھر اُدھر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔ اپنا وہم سمجھ کر اس نے کندھے اچکاۓ اور باکس لے کر ڈیرئیک کے پاس واپس آئی ۔۔۔
باکس اس سے لے کر ڈئرئیک نے ٹیپ نکالی اور پھر جھک گیا ۔۔۔
اسی وقت ایک نیلے رنگ کی گاڑی ان کے پاس سے ہو کر گزری جس پر اولیویا نے سراسری نگاہ ڈال کر دوبارہ ڈئرئیک کو دیکھنے لگی جو اس کی گاڑی پر جھکا خلاف معمول خاموشی سے کام کر رہا تھا ۔۔
پتا نہیں کیوں لیکن اولیویا کو اس کی خاموشی اچھی نہیں لگی تھی ۔۔۔
گاڑی کو یونہی کھلا چھوڑ کر اس نے گاڑی میں بیٹھ کر اس نے چابی گھما کر گاڑی سٹارٹ کی تو وہ چل گئی ۔۔۔
” بندہ تھینکس ہی کہہ دیتا ہے ۔۔۔ ” رومال سے ہاتھ صاف کرتے ہوے اس نے اولیویا کو کہا جو اب بونٹ بند کر رہی تھی ۔۔۔
” میں نے کہا مدد کروں ۔۔۔ تم خود ہی آئے تو پھر تھینکس کس چیز کا ۔۔۔ ” اندر بےشک وہ اس کی ممنون تھی لیکن اس کے منہ پر وہ کبھی نہیں کہنے والی تھی ۔۔
” یہ بھی سہی ہے ۔۔۔ تھینکس تو ویسے بھی غیروں کو کہتے ہیں ۔۔۔ ہےنا ۔۔۔ ” اس کے گال زور سے کھینچتے ہوئے ڈئرئیک نے اسے پھر سے چھیڑا ۔۔۔
” خوش فہمیاں ہیں ۔۔۔ ” اولیویا نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوے آنکھیں گھما کر کہا ۔۔۔
” اتنا آنکھیں نہ گھمایا کروں ۔۔ میں تمہارے سامنے ہی ہوں ۔۔۔ اور رہی بات خوش فہمیوں کا تو دیکھتے ہیں ۔۔ ابھی تھوڑی دیر بعد تم ضرور میرا نام لو گی ۔۔۔۔” کہہ کر ڈیرئیک اپنی گاڑی میں بیٹھا اور اس کی جانب فلائینگ کس اچھالتا ہوا گاڑی سٹارٹ کرتا ہوا وہاں سے نکل گیا ۔۔
اولیویا کو اس کی اس بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا اس لیے وہ سر جھٹکتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی اور سیٹ پر بیٹھ کر اپنی سیٹ بیلٹ بند کر جب اس نے ہاتھ سٹریینگ ویل پر رکھا تو اس کی سانس حلق میں پھنس گئی ۔۔
کیونکہ سامنے ہی سٹرئیگ وہیل پر ڈیرئیک کا شاگرد لیٹا سر کے نیچھے ہاتھ رکھے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” ڈئرئیک ۔۔۔۔ ” اولیویا نے چیختے ہوئے اس کا نام لیا ۔۔ اسے اس کی بات کا مطلب اب سمجھ آیا تھا ۔۔۔
ڈرئرئیک جس نے گاڑی کی سپیڈ سلو ہی رکھی تھی اپنا نام کی صدا سن کر اس کے فیس پر ایول سمائیل آگئی۔ ۔۔اس نے اولیویا کو جب ٹول باکس لینے بھیجا تھا تب ہی یہ کارنامہ سر انجام دیا تھا ۔۔
اس نے گاڑی کی سپیڈ اب کہ تیز کر دی ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اس کا موبائل وائبریٹ ہوا تو اس نے دیکھا مس سائیکو کالنگ آرہا تھا ۔۔۔
اس نے کال اٹھانے کی غلطی نہیں کی ۔۔۔
دوسری طرف ایما نے جب دیکھا کہ وہ کال نہیں اٹھا رہا تو اس نے غصے میں میسج ٹائیپ کر کہ بھیج دیا ۔۔۔ ” آج حقیقتِِ…میرا دل کر رہا ہے کہ تم میرے سامنے ہو اور میں تمہیں قتل کر دوں۔۔۔ اور تمہیں مار کر زنہ کروں اور پھر ماروں “
ڈئرئیک نے اس کا میسج پڑھنے کے لیے جب گاڑی کی سپیڈ کم کرنی چاہیے تو وہ کم نہ ہوئی ۔۔ اس نے دو تین بار بریک پر پاؤں رکھا لیکن بریک فیل ہوچکا تھا ۔۔۔
اس نے اپنے حواس کو قائم رکھا ۔۔۔۔ اور سامنے دیکھا جہاں ایک اچھا خاصا موٹا درخت تھا ۔۔اس نے عقل استعمال کرتے ہوئے سیٹ بیلٹ کھولی اور گاڑی کا دروازہ کھول کر چھلانگ مار دی ۔۔۔۔
اسے کے چھلانگ مارتے ہی گاڑی سامنے درخت سے دھماکے سے ٹکرائی ۔۔۔ اسے بھی تھوڑی رگڑیں آئی تھی ۔۔۔ لیکن وہ معمولی تھیں ۔۔
اولیویا جو اس کے پیچھے ہی کاکروچ سے بڑی مشکل سے جان چھڑا کر آ رہی تھی یہ سب دیکھ کر حواس باختہ ہو کر گاڑی روک کر اس کی طرف بڑھی اور سہارے سے اسے کھڑا کیا۔۔۔ اسے پتا نہیں چلا لیکن اس کی آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا۔۔۔۔
” ہے ہنی ۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ ” ڈیرئیک اس کو اس طرح پریشان دیکھا تو نرمی سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے تسلی دیتا ہوا بولا ۔۔
” مگر ۔۔۔ ” اولیویا کا دل بڑی طرح دھڑک رہا تھا ۔۔۔
” ہے ہے میں ٹھیک ہو ۔۔۔ اتنی جلدی میں مرنے …” ڈیرئیک نے اس کی بات کاٹ کر ابھی اپنی بات کر رہا ہی تھا کہ اگلے ہی پل اولیویا کہ گلے لگ کر رونے کی وجہ سے اسے چپ ہونا پڑا ۔۔۔
اولیویا کو نہیں پتا اسے کیا ہوا لیکن اس کہ مرنے کی بات اسے برداشت نہیں ہوئی ابھی تھوڑی دیر پہلے جو ہوا تھا اس نے اس کو ہلا کر رکھ دیا تھا
۔۔ اس لیے اس کے گلے لگ کر اس کہ آنسو میں شدت آگئی ۔۔ مگر اسے جھٹکا تب لگا جب ڈیرئیک نے اسے زور سے دھکا دیا ۔۔۔ اس کے اس طرح دھکا دینے اس کا دل بڑی طرح دھڑکا ۔۔۔
دھکا اتنا شدید تھا کہ اس کا سر کی پشت درخت سے ٹکرایا ۔۔۔ تھوری دیر کے لیے اس کی آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے ۔۔ لیکن جب حواس تھوڑے کام کرنے لگے تو اس کی نظر اس طرف گی جہاں ڈیرئیک نے اس کو دھکا دیا تھا۔۔
مگر سامنے موجود منظر سے اس کی آنکھیں پھٹ گئی تھی ۔۔ سانس روک گیا تھی ۔۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے تھے ۔۔۔
وہ سانس روکے یک ٹک سامنے دیکھ رہی تھی ۔۔
جہاں وہ گاڑی ڈیرئیک کو ٹکر مارتے ہوئے دوسری طرف جا رہی تھی ۔۔
اور ڈیرئیک ۔۔۔
وہ نیچے گرا ہوا تھا
بلکل بے جان ۔۔۔
اس کے ارگرد خون ہی خون تھا ۔۔
زندگی اور شرات سے بھرپور آنکھیں ۔۔
اب بند تھی ۔۔۔
یعنی ڈیرئیک نے اسے بچانے کے لیے دھکا دیا تھا ۔۔۔
وہ اس کے لیے اتنی ضروری تھی ۔۔
کیا وہ کسی کی زندگی میں اتنی ضروری تھی کہ وہ اس کے لیے جان بھی قربان کر دے ۔۔۔
اس نے خود کو گرنے سے بچانے کے لیے درخت کا سہارا لیا۔۔
مگر نہیں۔۔۔۔یہ وقت یہ سوچنے کا نہیں تھا ۔۔۔کرنے کا تھا ۔۔
حواس کو بڑی مشکل سے قائم کرتے اپنے دھکتے سر کو تھامتے وہ کھڑی ہوئی جب اسے اپنے ہاتھ پر گیلاہٹ محسوس ہوئی اس نے ہاتھ آگے کر کے دیکھا تو اس کے سر سے خون نکل رہا تھا ۔۔
لیکن یہ اس خون کے آگے کچھ نہیں تھا ۔۔۔ جو ڈیرئیک کے جسم سے نکل کر پھیل رہا تھا ۔۔۔
بڑی تیزی سے ۔۔۔
شاید اس کی بدعا لگ گئی اسے ۔۔۔
نہیں وہ اپنے ڈیرئیک کو بچا لے گی ۔۔
کیا وہ واقعی ہی بچا لے گی۔۔۔۔
جان کا دل گھبرا رہا تھا ۔۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے اس کا کوئی بہت اپنا ازیت میں ہے ۔
گھبراہٹ ایسی تھی کہ کسی طور سکون نہیں تھا ۔۔
بالوں میں ہاتھ پھیرتے ادھر سے ادھر آفس میں چکر لگاتے اس نے اپنی اندر کی اس بے چینی پر قابو پانے کی کوشش کی ۔۔ لیکن وہ کم ہونے کی بجائے مزید ہو رہی تھی ۔۔
” کیا مسلہ ہے ۔۔۔ ؟؟” آخر تنگ آکر اس نے خود ہی سے پوچھا ۔۔یوں جیسے اس سے اس کو اپنی بےچینی کا سبب مل جائے گا ۔۔
تھک کر اس نے چیئر کی بیک سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔
آنکھوں کے پردے میں ڈیرئیک کی تصویر آئی ۔۔
صرف ایک پل کے لیے ۔۔
کیونکہ اگلے ہی پل اس نے آنکھیں کھولیں۔۔۔
” ڈیرئیک کو اندر بھیجے ۔۔۔۔ ” اس نے انٹرکام کان سے لگیا ۔۔ ایک ٹانگ مسلسل بےچینی سے ہل رہی تھی ۔۔
” سر وہ تو ۔۔ کب کے آفس سے جا چکے ہیں ۔۔۔ ” اس نے لب بھینچ کر اس کی بات سنی ۔۔جبکہ دوسری طرف بچاری کی جان اٹکی ہوئی تھی کہ آج باس کا موڈ سہی نہیں اس کی شامت نہ آجاۓ ۔۔
” ہممم ۔۔ ایک بلیک کافی میرے آفس میں پہنچائیے۔۔۔ ” اپنی کنپٹی کو ہاتھ سے سہلتے ہوئے اس نے آڈر دے کر انٹرکام جگہ پر رکھ دیا ۔۔۔
کچھ سوچ کر اس نے ڈیرئیک کا نمبر ڈال کیا ۔۔۔۔لیکن کافی دیر بیل بجنے کے بعد فون خود ہی بند ہوگیا ۔۔۔
تین چار بعد اس نے کوشش کی ۔۔ لیکن تینوں بار ہی یہی ہوا۔۔
فون سائیڈ پر پٹخنے کے انداز میں رکھ کر اس نے اپنا سر دنوں ہاتھوں میں گرا دیا ۔۔۔
اس کی چھٹی حِس بار بار خطرے کا اشارہ کر رہی تھی ۔۔
تھوریی دیر بعد ڈور نوک ہوا ۔۔۔
” یس ۔۔ ” اجازت ملتے ہی ایما سپاٹ چہرہ لیۓ اندر آئی اس کے ایک ہاتھ میں گرم کافی تھی جس سے اب بھی دھواں نکل رہا تھا ۔۔
اس نے وہ کپ جان کے سامنے ٹیبل پر رکھا ۔۔۔
اس دوران جان کی نظر اس کی طرف گئی ۔۔ جس کی بھوری آنکھوں میں لال ڈورے پڑے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ وہ کافی دیر روتی رہی ۔۔۔
ایک پل کے لیے جان کا دل برا ہوا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مگر اگلے ہی پل اس نے خود پر دوبارہ بےحسی کا خول چڑھا لیا ۔۔۔ اور اپنے سامنے پڑے کافی کا کپ پکڑ کر اس سے سپ لیا ۔۔
اس دوران اس نے دوبارہ ایما کی طرف نہیں دیکھا جو ٹرے ہاتھ میں پکڑے اس کے اگلے حکم کی منتظر تھی ۔۔۔جان کا خیال تھا کہ اگر اس نے ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں جھانکا تو اس کے لیے خود پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا ۔۔۔
” سر میں جاؤں ۔۔۔ ؟؟” آخر جب جان کچھ نہیں تو ایما نے تنگ آکر خود ہی پوچھ لیا ۔۔اس کا لہجہ البتہ سپاٹ تھا ۔۔
“ہمم ۔۔۔ ہاں جائیں ۔۔۔ ” جان اس کی آواز سن کر سوچوں سے باہر نکلا ۔۔ وہ اس وقت واقعی میں تنہائی چاہتا تھا ۔۔
” مس ایما ۔۔ ” وہ جو ابھی پلٹی ہی تھی کہ جان کی آواز سن کر اسے دوبارہ رکنا پڑا ۔۔۔
” میری آج کی ساری میٹنگ ۔ اپائنٹمنٹ سب کینسل کریں ۔۔ اور مجھے اب کوئی ڈسٹرب نہ کرے ۔۔۔ ” ایما نے اس کی ساری بات کے جواب میں سر ہلایا اور جانے کے لیے مڑی ۔۔
اس کے لیے جان کو سمجھانا ناممکن سا ہو رہا تھا ۔۔
اس کا مزاج منٹ میں گرم ہوتا تھا اور اگلے ہی سکینڈ وہ ریلکس ہوتا تھا جیسے وہ کوئی اور ہی شخص تھا جو غصہ کر رہا تھا ۔۔
یہی سوچتے ہوے وہ آفس سے نکل گئی ۔۔۔
ابھی اس نے کافی کا دوسرا سیپ ہی لیا تھا کہ موبائل پر میسج بیپ ہوئی ۔۔اس نے ڈیرئیک کا سوچتے ہوے موبائیل اٹھایا ۔۔۔
جہاں اسی اننونمبر سے تصاویر اور ویڈیو آئی ہوئی تھی ۔۔۔ ساتھ ہی ایک میسج تھا جس میں سرپرائز لکھا ہوا تھا۔۔جیسے اس کو سمجھے میں دیر نہیں لگی کہ میسج کس کا ہے ۔۔
لیکن پیکچز اور ویڈیو دیکھ کر اس کی نیلی آنکھیوں میں طوفان سا اٹھا تھا ۔۔
ویوڈیو ڈیرئیک کے اکسیڈنٹ کی تھی ۔۔۔
لیکن تصاویر وہ بلر تھی۔۔۔ یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس میں لڑکا ہے کہ لڑکی بس اتنا پتا لگ رہا تھا کہ وہ تصویر کسی انسان کی تھی ۔۔مگر جان نے اس پر غور نہیں کیا۔۔
کرتا بھی کیسے ۔۔۔ اس کا دوست۔۔۔ اس کا جگر ۔۔۔ اس کی جان ۔۔ اس کی مسکن ۔۔۔خون میں لت پت تھی تو وہ غور کرتا بھی تو کیسے ۔۔
غصے سے اس نے ہاتھ میں پکڑا کپ درازے کی طرف پھینکا۔۔ ایما جو حواس باختہ سی اسے اولیویا کے میسج دینے آئی تھی ۔۔۔۔ کہ وہ اسے ہسپتال لے کر جا رہی ہے اور ساتھ اس نے ہستپال کا نام بتایا تھا ۔۔
لیکن برا ہوا اس کے اندر آتے ہی جان نے جو کپ پھینکا تھا جس میں موجود کافی ابھی بھی اچھی خاصی گرم تھی اس کے ہاتھ اور پاؤں پر گری ۔۔۔ کیونکہ بازو وغیرہ کور تھے اس لیے ان کی بچت ہوگی ۔۔۔
” آہ ہ ۔۔۔ ” ہاتھ پکڑے وہیں بیٹھتی گئی ۔۔۔ جلن اتنی تیز تھی کہ لگ رہا تھا کہ کوئی بہت سی سوئیوں اس کے ہاتھ اور پاؤں میں گھسا رہا تھا ۔۔۔
اس کی آہ سن کر جان جو گاڑی کی چابیاں پکڑنے کے لیے جھکا تھا فوراً سیدھا ہوا اور اسے اس طرح ہاتھ پکڑے بیٹھا دیکھ کر پریشانی سے اس کی جانب آیا ۔۔۔
” کانوں میں مسئلہ ہے کیا کوئی ۔۔۔ جب میں نے کہا کہ جب تک میں نہ بلاؤں تو نہ آنا تو پھر اندر آنے کا کیا مقصد تھا ۔۔۔ عزت کیوں نہیں راس آتی تمہیں۔۔۔۔ ” اس کے سر پر کھڑے ہو کر وہ سخت غصے میں جھنجھلا کر بولا ۔۔۔ ایک تو پہلے ہی ڈیرئیک کی وجہ سے اس کو اتنی ٹیشن ہو رہی تھی ۔۔۔
” میں یہاں اولیویا کا میسج دینے آئی تھی کہ ۔۔ ڈیرئیک کا اکسیڈنٹ ہوگیا اور وہ اسے ہسپتال لے کر جا رہی ۔۔۔ ” اب تو جیسے اس کی برداشت ختم ہوگئی تھی ۔۔ اسے بھی ڈیرئیک کی ٹیشن ہو رہی تھی اوپر سے یہ جلے کا درد اور سونے پر سہاگا جان کا جلا کٹا انداز ۔۔۔ “اور دوسری بات پہلے جا کر سیکھ کر آئی عزت ہوتی کیا ہے ؟ کرتے کیسے ہیں ؟؟ اور سب سے ضروری لڑکیوں سے کیسے بات۔۔۔ ” وہ وہیں ویسے ہی نیچے بیٹھے پھاڑ کھانے والے انداز میں جو بولنا شروع ہوئی تو چپ تب ہوئی جب جان نے اس کو بازوں میں اٹھایا تھا ۔۔
اس کا منہ اور آنکھیں پوری کھل گی تھیں ۔۔۔ اس کی پرفیوم کی خوشبو ایما کو اپنے حواسوں پر بھاری ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ اس کے برعکس جان کا انداز سپاٹ تھا۔۔ وہ اسے لے کر لمبے لمبے قدم اٹھتا پرائیویٹ لفٹ میں داخل ہوا ۔۔
” چھوڑیں مجھے ۔۔۔ کیا کر رہے ہیں۔۔۔ ” اس نے خود کو جان کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی جس پر جان نے اپنی گرفت اس پر اور مضبوط کر دی تھی ۔۔
” میرے پاس فالتو وقت نہیں ۔۔ اس لیے یہ ڈرامے بند کرو ۔۔ اور مجھے ہاسپٹل کا نام بتاؤ جو اولیویا نے بتایا تھا۔۔۔ “لفٹ سے نکل کر اس نے گاڑی کی جانب قدم بڑھا دیئے جبکہ آج تو جان نے لگتا تھا اس غصہ چڑھا چڑھا کر اس کی دماغ کی نس پھاڑنے کا ارادہ کیا تھا ۔۔
” نہیں بتانا ۔۔۔ کر لیں جو کرنا ہے ۔۔۔۔ ” ایما کو اندازہ نہیں تھا کہ اس نے یہ بات کہہ کر کون سے طوفان کو دعوت دے دی تھی ۔۔
جان نے اپنی گاڑی کے پاس پہنچ کر اسے ایک دم سے چھوڑا جس کی وجہ سے وہ زور سے زمین پر گری تھی ۔۔۔
” یہ کیا حرکت تھی ۔۔۔ ؟” ایما نے غصے سے جان کی طرف دیکھا لیکن جان کے خطرناک تیور دیکھ کر وہ خود ایک پل کو ڈر گی ۔۔
” حرکت تو میں اب کروں گا ۔۔۔ ” کہتے ساتھ ہی اس نے ایما کا وہی جلا ہوا ہاتھ زور سے پکڑا اور اسے کھڑا کر گاڑی کے ساتھ لگایا ۔۔۔
” آآآ۔ہ..” باقی کی چیخ اس کی منہ میں ہی رہ گئی تھی کیونکہ جان نے دوسرا ہاتھ بھی اس کے منہ پر رکھ دیا ۔۔
ان دنوں کے درمیان ایک انچ کا بھی فاصلہ نہیں تھا ۔۔
” اب بتاؤ ۔۔ نام بتا رہی ہو کہ نہیں ۔۔ ؟؟” اس کی بھیگی بھوری آنکھوں میں اپنی نیلی سرد آنکھیں گاڑے بولا تھا ۔۔
اس کی تیز گرم سانسیں ایما کے چہرے پر پڑ رہی تھی ۔۔۔
ایما کو ڈر تو بہت لگ رہا تھا لیکن اسے بھی ضد ہوگئی تھی ۔۔ اس لیے اس نے ہٹ دھرمی میں سے نہ میں سر ہلایا ۔۔
اسے سر ہلاتے دیکھ کر جان نے زور سے اس کا ہاتھ دبایا ۔۔۔ ایما نے چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس کی فلادی گرفت سے نکلنا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔ ستم تو یہ تھا کہ وہ چیخ بھی نہیں پا رہی تھی ۔۔
” بتانا ہے کہ نہیں ۔۔۔ ” اب کہ نظریں اس کے جلے ہوئے پاؤں پر گاڑے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا گیا ۔۔۔ اس کے انداز میں سفاکیت سی تھی ۔۔ جیسے اپنے راستے میں آنے والی ہر شہ کو وہ ختم کر دینے کو تھا وہ ۔۔
اس کی نظروں کا مطلب سمجھ کر ایما کے ہوش ہی اڑ گے ۔۔ پہلے کی درد ہی برداشت سے باہر تھی اب اگر پاؤں بھی ہوتا تو۔۔۔۔اگے کا سوچ کر ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے اس لیے اس نے جلدی سے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔ کہ بتاتی ہوں۔۔
اس نے مانتے ہی جان نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا اس کے ہاتھ ہٹاتے ہی ایما نے اپنی سانس بھال کی ۔۔ اور اسے ہسپتال کا نام بتایا ۔۔
نام سن کر جان نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے پٹکنے کے انداز میں بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔۔
ایما کا دل کیا کہ اس سے کہے کہ اب تو اس نے نام بتا دیا ہے تو کیوں ساتھ لے کر جا رہا ہے لیکن اس کے تیور اسے خوف کی مبتلا کر رہے تھے ۔۔
باقی ہسپتال کا راستہ بڑی خاموشی سے کٹا ۔۔
_________________________
حویلی پوری طرح سجی ہوئی تھی ۔۔ مہمان بھی سارے تقریباً پہنچ چکے تھے ۔۔ آج مایوں تھا پھر مہندی ۔۔ برات اور ولیمہ تھا ۔۔
حور کا اس دن کے بعد آہل سے آمنہ سامنہ نہیں ہوا تھا ۔۔
آہل کا انداز کئیرنگ تھا لیکن وہ کیا چیز تھی جو حور کو بے چین کیے ہوئے تھی اسے نہیں پتا تھا ۔۔۔
پیلے اور سبز رنگ کے سادے فراق پہنے ۔۔۔جس سے اس کا نازک سراپا مزید دلکش لگ رہا تھا ۔۔ کیونکہ اس وقت وہ کمرے میں اکیلی تھی اس لیے اس نے حجاب نہیں لیا ہوا تھا بس دوپٹہ لیا تھا ۔۔۔ لمبے بال کچر میں جکڑے ہوے تھے جس میں سے کچھ شریر لٹیں نکل کر اس کے رؤی جیسے سفید گالوں کو چھو رہی تھیں ۔۔ اس وقت وہ مکمل سادگی میں تھی مگر اس سادگی میں بھی غذب ڈھا رہی تھی ۔۔
وہ اس وقت بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔ کل بھی تقریباً ساری رات لڑکیوں نے اسے گھیرے رکھا تھا جس کی وجہ سے اس کی نیند پوری نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
” آپی ۔۔۔!!” مسکان نے ہلکا سا دروازہ کھول کے اندر جھانک کر اس کا نام پکارا ۔۔۔
” آؤ ۔۔۔مسکان اندر آ جاؤ ۔۔ ” مسکان کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آگیی تھی ۔۔ تھی تو وہ مہک کی بہن لیکن اس کے بلکل برعکس تھی بس تھوڑی شرارتی تھی ۔۔
” آپی آپ بہت پیاری ہیں ۔۔۔ ” مسکان اس کے پاس بیٹھ کر اس کی جانب اشتیاق سے دیکھتے ہوئی بولی ۔۔۔
اس کی بات سن کر اس نے ہلکے سے ہنستے ہوئے اس کے گال پیار سے کھینچے ۔۔
” تم سے زیادہ نہیں ۔۔۔ ” اپنی تعریف سن کر مسکان کھل اٹھی ۔۔۔
” اوہ ۔۔۔ میں دیکھنے آئی تھی کہ آپ سو تو نہیں رہی نیچے وہ ڈھولکی رکھی ہے ۔۔۔ اس لیے اور پھر آپ کو مہندی لگانی ہے ۔۔۔ ” سر پر ہاتھ مارتے اس نے اپنی عقل پر جیسے ماتم کیا ۔۔
اس کی باتوں کے دوران ہی حور نے سر پر اپنے دوپٹے سے حجاب سٹ کر لیا تھا ۔۔
” آپی یہ رہنے دیں ۔۔۔۔ آپ کو تنگی ہوگی ” مسکان نے اس کو جھجکتے ہوے کہا ۔۔
” مجھے اس میں آسانی رہتی ہے ۔۔۔۔ ” حور نے نرمی سے اس کی جانب دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔
” لیکن آپی وہاں تو کوئی مرد نہیں ۔۔
” میں پھر بھی کرنا ہے ۔۔۔ مجھے اس کے بغیر کمفرٹیبل نہیں رہتا ۔۔۔ ” اس کی اس بات کے بعد مسکان نے بھی مزید اصرار نہیں کیا ۔۔۔
” اچھا تم یہی روکو میں ایک بار باتھروم سے ہو آؤں تو مل کر چلتے ۔۔۔ ” حور باتھ کی جانب جاتے ہوئے بولی ۔۔۔
اس کے باتھ روم جاتے مسکان نے وقت گزاری کے لیے ادھر اُدھر چیزیں دیکھنے لگی کہ اس کی نظر ڈونٹ کی طرز کے کور پر پڑی جو بیڈ کے سائڈ پر پڑا تھا ۔۔۔
” واو۔۔۔ ” اس نے وہ کور ہاتھ میں پکڑ دیکھا ۔۔۔
” چوررررررررر۔۔۔۔ ” علی جو حور کو دیکھنے آیا تھا اس کے کمرے میں ایک لڑکی کو دیکھ کر رک گیا ۔۔۔ وہ واپس مڑنے لگا کہ اس نے دیکھا کہ وہ لڑکی کچھ پکڑ رہی تھی ۔۔۔ اسے لگا کہ وہ کچھ چرا رہی ہے اس لیے وہ دبے پاؤں دورزاہ کھول کر اس کے پاس گیا ۔۔
اس لڑکی کی پشت اس کی طرف تھی اس لیے اسے اس کے آنے کا پتا نہیں چلا تھا ۔۔۔
” کون۔۔۔۔” مسکان جو دلچسپی سے وہ کور دیکھ رہی تھی اپنی کان کے پاس سے چور سن کر ہڑبڑا گئی ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف علی کو تو اسے دیکھ کر دل ہی چوری ہوگیا ۔۔۔جو سبز رنگ کے گھیرے دار فاروق پہنے ۔۔۔ سیاہ رنگ کے کھلے لمبے بال ۔۔ گھنی پلکیں اور بڑی آنکھیں جو وہ اس وقت پوری کھولے اسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” ارےےے بھائی کون ہے چور ۔۔۔ ” علی جو گم ہو کر اسے دیکھ رہا تھا بھائی کا لفظ سن کر بدمزہ ہوگیا ۔۔۔ اسی وقت حور بھی آواز سن باتھ روم سے نکل گی ۔۔۔۔۔ لیکن علی کو مسکان کے پاس دیکھ کر سمجھ گئی کہ یہ اسی کی شرارت تھی ۔۔
” علی ۔۔۔ میری جان نکال دی ۔۔۔ باز آجاؤ تم ۔۔ ہر کسی کو تنگ کرنے لگ جاتے ہو ۔۔۔ ” حور اسے دانٹتے ہوئے بولی ۔۔۔
” آپی میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ میں تو بس آپ کے پاس تھورا وقت گزارنے آیا تھا لیکن پھر دیکھا کہ ایک لڑکی آپ کی غیر موجودگی میں آپ کی چیزوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہی ہے ۔۔۔ ” علی نے فوراً اپنی صفائی دی ۔۔۔
” اےےےے میں تمہیں چور لگتی ہو ۔۔۔ ” مسکان کو صدمہ ہی ہوگیا ۔۔۔
” لگتی کیا ہو ۔۔۔تم ہو ۔۔۔ ” علی دانت نکلتے ہوے بولا۔۔۔
” تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔۔ ” مسکان دانت پیستے ہوے بولی ۔۔۔
” بہت نیک خیال ہے ۔۔۔ پھر کہا کہتی ہو کچھ نیک کام کر نہ لیا جاے ۔۔۔” مسکان جتنے غصے میں تھی علی اتنے ہی مزے سے بول رہا تھا ۔۔۔
” بدتمیز ۔۔۔۔ ” مسکان کا غصے سے منہ لال ہو چکا تھا ۔۔
” آپ نہایت لگانا بھول گئی ۔۔۔ ” آگے سے علی پھر دانت نکالتے ہوے بولا ۔۔۔
” بسس کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ بچوں کی طرح لڑ رہے ہو ۔۔۔ ” مسکان کے کچھ بولنے سے پہلے حور کو ہی انہیں چپ کروانا پڑا جو کب سے حیران پریشان ان کی لڑی دیکھ رہی تھی ۔۔
” میں بھی یہی کہا رہا تھا آپی ۔۔۔ یہ بچوں کو بڑوں کو تمیز سے بات کرنی چاہیے۔۔۔ ” علی نے مسکان کی اپنے مقابل چھوٹی ہائیٹ پر چوٹ کی ۔۔
” بلکل سہی میں بھی ۔۔۔ کیا کھمبوں سے لڑنے لگی ۔۔۔ ” مسکان طنزیہ مسکراہٹ اس کی جانب اچھالتے ہوئے بولی ۔۔۔
حور ان کو پھر سے لڑتا دیکھ کر سر پکڑ چکی تھی ۔۔
” تم ۔۔۔ ” علی آگے بھی بولتا اگر حور اس کا کان پکڑ کر نا کھینچتی ۔۔۔
” ہاں جی ۔۔۔ تم نکلو کمرے سے ۔۔۔ ” اسے کمرے سے باہر نکال کر حور مسکان کی جانب مڑی جو پھولے منہ کے ساتھ ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑی تھی ۔۔۔
” آؤ ۔۔ مسکان وہ چلا گیا ہے ۔۔۔ “
” آپی گول گپے کھانے ہیں کیا ۔۔۔۔۔ ” علی پھر سے منہ کمرے کے اندر کرتے شرارت سے مسکان کی طرف دیکھتے ہوے بولا ۔۔۔
” روکو ذرا ۔۔۔ ” مسکان اس کے بال کھنچنے کی نیت سے اس کی جانب بڑھی تھی کہ علی اسی وقت وہ ہستے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا تھا ۔۔۔
حور نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپائی کیونکہ مسکان کا منہ واقعی گول گپے جیسے بنا ہوا تھا
