465.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah Phala Ishq Episode 15

Raah Phala Ishq by Zoha Qadir

پارک سے آنے کے بعد حور کتنی دیر اپنے اور ایما کے درمیان ہوئی باتیں سوچتی رہی ۔۔ایما کے لیے یہ کہنا آسان تھا کہ حور آہل کو چھوڑ دے ۔۔

لیکن حور کے لیے یہ بات سوچنا بھی جان لیوا تھی ۔۔ آہل اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا جس کو اس نے حد سے زیادہ چاہا اور محبت کی تھی ۔ یہ سب نکاح کے بولوں کا ہی جادو تھا ۔۔ آہل کی شادی کی خبر سن کر وہ ٹوٹ ضرور گئی تھی ۔۔ لیکن پھر وقت اور اپنے رب کی مدد سے اس نے خود کو سنبھال لیا۔۔۔ اس نے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر آہل کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ آگے چل کر یہ رشتہ کس موڑ پر آ جائے گا ۔۔وہ یہ بات جانتی تھی کہ اس کی جگہ کوئی اور عورت آہل کی زندگی میں لے چکی ہے اور اس سے اس کا بیٹا بھی ہے ۔۔کیا وہ کبھی اس بچے کو ماں کا پیار دے پائے گی ۔۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس کی ماں نے اس کی جگہ لی یا وہ بھی عام عورتوں کی طرح اس سے بدلہ لے گی ۔۔ انہی سوچوں میں گم جب اس کی نظر بیڈ کے سامنے ڈرسنگ ٹیبل پر پڑی تو اس نے حیرت سے اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔

اسے معلوم نہیں ہوا کہ کب اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنا شروع ہوۓ ۔۔

باتھ روم میں جاکر اس نے چہرے پر پانی پھیرا ۔۔ واپس آئی تو اس کی نظر گھڑی پر پڑی ۔۔

اس نے ابھی سینٹر بھی جانا تھا ۔۔ اور وقت پہلے ہی اوپر ہو گیا تھا ۔۔ اس نے جلدی سے حجاب لیا ۔۔۔ اور سنٹر کے لیے نکل گئی کچھ کھانے کا وقت تھا نہیں ۔۔ رخسار بیگم جب سے شادی کی بات پکی ہوئی تھی شاپنگ میں مصروف تھی ۔۔ جس کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے علی کھیلنے چلا گیا تھا ۔۔

اس نے میسج کر کے علی کو اپنے جانے کا بتایا اور چل پڑی ۔۔ وہ اپنی سوچوں میں تیز رفتاری سے کب سڑک پر چلنے لگی اس معلوم نہیں ہوا ۔۔ جب معلوم ہوا تو دیر ہو چکی تھی ایک بلیک گاڑی اس کی جانب آ رہی تھی فاصلہ بہت کم رہ گیا تھا ۔۔۔ حور کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے ۔۔

حنان جو جعفر صاحب کے ساتھ میٹنگ میں گیا تھا اور اب واپس آ رہا تھا ۔ گاڑی کی رفتار اس نے تیز رکھی تھی ۔۔ اس نے جب ٹرن لیا تو سامنے ہی ایک لڑکی منہ نیچے کیے اس کے گاڑی کے بلکل سامنے آ رہی تھی ۔۔ اس نے دو تین بار ہارن دیا ۔۔ لیکن وہ لڑکی شاید کچھ زیادہ ہی سوچوں میں گم تھی ۔۔ جب چوتھی بار اس نے ہارن دیا تو اس لڑکی نے سر اٹھایا۔۔

اس کا چہرہ دیکھ کر وہ چونک گیا ۔۔

” حور۔۔ “

حنان نے گاڑی روکنے کی پوری کوشش کی لیکن گاڑی رکتے رکتے بھی حور کو لگ چکی تھی ۔۔

” اوہ شٹ ۔۔” حنان سیٹ بیلٹ سے خود کو آزاد کر کے گاڑی کا دروازہ کھول کر جلدی سے حور تک پہنچا ۔۔

” حور ..” حنان نے اس کے گال تھپتھپاۓ۔۔ مگر اسے ہوش نہیں آیا وہ یونہی سڑک پر بےسدھ پڑی ہوئی تھی ۔۔

آس پاس راہ گزر کا گھیرہ ہوگیا تھا۔۔

حنان کو اس صورتحال سے کافی الجھن کو رہی تھی ۔۔ اسے معلوم تھا کہ حور ایما کی زندگی میں کتنی اہمیت رکھتی ہے ۔۔ اگر حور کو کچھ ہوا تو ایما اسے کبھی معاف نہیں کرے گی ۔۔

حنان نے اس کی نبضیں پکڑ کر چیک کی ۔۔ وہ آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔۔ باقی بظاہر اسے کوئی چوٹ نہیں لگی تھی ۔۔ حنان نے شکر کا سانس لیا ۔۔ اور حور کو بازوں میں اٹھا کر گاڑی کی بیک سیٹ میں لٹیا۔۔اور گاڑی ہاسپیٹل کی طرف موڑ دی ۔۔۔

” ٹیشن کی کوئی بات نہیں انہوں نے کچھ کھایا نہیں تھا ۔۔ اور کچھ خوف کی وجہ سے یہ سب ہوا یہ باقی سب ٹھیک ہے ” چیک اپ کے بعد ڈاکٹرز نے اسے تسلی دی ۔۔۔

” اور ان کو ہوش کب تک آئے گا ۔۔ ” ڈاکٹر کی بات سن کر اس کو اطمینان ہوا ۔۔

” کچھ ہی دیر میں ان کو ہوش آ جائے گا ۔۔ ” ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں اس بتا کر کے جا چکا تھا ۔۔۔۔۔

ڈاکٹر کے جانے کے بعد اس نے حور کے فون سے اس کے گھر انفارم کیا ۔۔۔ اور وہیں رک گیا ۔۔۔

” حنان بھائی ۔۔؟؟ ” علی بے حواسی سے وہاں پہنچا ۔۔ وہ ایک دو بار پہلے بھی حنان سے مل چکا تھا اس لیے اسے حنان کو پہچاننے میں مشکل نہیں ہوئی ۔۔

” آپی کیسی ہیں ۔؟؟ ” علی اس کے پاس پہنچ کر اس کا کا بازوں ہلاتے ہوئے بولا۔۔

اس وقت وہ کہیں سے بھی وہ شرارتی لڑکا نہیں لگ رہا تھا ۔

” وہ ٹھیک ہے کچھ دیر میں اسے ہوش آجاۓ گا تو لے جا سکتے ہو ۔۔ میں نے پے مینٹ کر دی ہے ۔۔ اب میں چلتا ہوا۔۔۔ ” حنان اس کو تسلی دے کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔

جبکہ علی حنان کے بتاۓ ہوئے کمرے میں چلا گیا جہاں حورین تھی ۔۔

________________________

ایما نے ایک بار پھر جان کا آج کا شیڈول دیکھا ۔۔۔جو اس نے اپنے پاس رکھی چھوٹی سی ڈائری میں لکھا ہوا تھا ۔۔

اب وہ بور ہو رہی تھی اس کا یہاں کچھ خاص کام نہیں تھا ۔۔ جب کہ جان کمیرہ مین کو آنگل سمجھا رہا تھا۔۔

اس نے موبائیل نکالا اور حور کا نمبر ڈائل کیا ۔۔ اس کا ارادہ آج جو ہوا وہ حور کو بتانے کا تھا ۔۔

بیل جا رہی تھی ۔۔۔

” ہیلو حور ۔۔ پتا ہے آج کیا کیا سر نے ۔۔۔” کال اٹینڈ ہوتے ہی ایما نے دوسری طرف بولنے کا موقعہ دیے بغیر آج جو ہوا وہ حور کو بتانے لگی ۔۔

” اس کی ہمت کیسے ہوئی یہ کرنے کی ..؟؟” حنان جو حور کا فون واپس کرنا بھول گیا تھا ۔۔ ایما کی کال آنے پر اس نے اٹینڈ کر لیا کہ اسے بتا دے کہ حور کا فون اس کے پاس رہ گیا ہے ۔۔ لیکن اس کے بتانے سے پہلے جو ایما نے بتایا اس نے اس کا دماغ گمھا دیا تھا۔۔

” حنان ۔۔۔!! ” ایما جو حور کی طرف سے جواب کی منتظر تھی حنان کی آواز سن کر حیرت زدہ رہ گی ۔۔

” میں نے ۔۔ ” ابھی حنان اتنا ہی بولا تھا۔۔ کسی نے ایما کے ہاتھ سے موبائل لے کر کان سے لگایا۔۔

ایما نے الجھ کر دیکھا منہ موڑ کر جہاں جان چہرے پر بھر پور سنجیدگی سجائے اس کا موبائل کان سے لگائے کھڑا تھا ۔۔ اس کی گرفت موبائل پر بہت مضبوط تھی ۔۔

” ایما میں نے کہا تھا کہ تم یہ جاب چھوڑ دو۔۔ وہ شخص خطرناک ہے ۔۔ میں نے بتایا تھا نا اس کے قتل کا ۔۔” حنان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح وہ ایما کو جان سے دور کر لے ۔۔

جبکہ جان سپاٹ چہرے کے ساتھ اس کی اپنے بارے میں کی جانے والی ساری بکواس سن رہا تھا ۔۔۔

” ہوگیا تمہارا..” اس کے چپ ہوتے ہی وہ ٹھنڈے انداز میں بولا ۔۔

” ایما کہاں ہے ۔۔۔۔ اس کا فون تمہارے پاس کیا کر رہا ہے .؟؟؟ ” حنان کو اور تپ چڑھی ۔۔۔

جان کچھ نہیں بولا ۔۔۔ وہ بس حنان کے لہجے میں محسوس کی جانے والی بےچینی سے محفوظ ہو رہا تھا ۔۔

” ڈیم اٹ۔۔ ایما کہاں ہے۔۔ کیا کیا ہے تم نے اس کے ساتھ ۔۔۔ اگر اسے ایک بھی آنچ آئی ۔میرا وعدہ ہے ۔۔ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔” حنان بلکل ہی آوٹ اوف کنٹرول ہو گیا تھا ۔۔ اس کے منہ میں جو آرہا تھا وہ بولی جا رہا تھا ۔۔

” موت سے مجھے ڈر نہیں لگتا ۔۔ اس لیے تم نے جو کرنا ہے کر لو ۔اور میں نے جو کرنا ہے میں تو وہ کر کے رہوں گا۔۔ اوہ ڈونٹ وری میرا تیسرا قتل تم واقعی میں بہت پسند کرو گے ۔۔ ” جان کا سرد طنزیہ لہجہ اس کو سن کر چکا تھا ۔۔۔

جبکہ ایما کو بس قتل کے علاؤہ کوئی بات سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔

” تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ۔۔ ” حنان وارنگ دینے والے انداز سے بولا لیکن اس کے لہجے میں موجود لرکھراہٹ جان نے اچھی طرح محسوس کی تھی ۔۔۔

” جب میں کروں گا تب دیکھ لینا۔۔۔ ” یہ کہہ کر جان نے کال بند کر دی۔ اسے آپنے اندر سکون اتراتا محسوس ہوا تھا ۔۔

اس نے ایما کی طرف دیکھا جس کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا اور وہ پوری آنکھیں کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔اس کے ہونٹ بھی نیلے پڑ رہے تھے۔۔ اور جسم ہلکے سے کانپ رہا تھا۔۔۔

اب پتا نہیں یہ سردی کا اثر تھا ۔۔کہ خوف کا غلبہ۔۔

جان گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اپنی جیکٹ کی زپ کھولی ۔۔۔

اس کی توجہ اپنی جانب محسوس کر کے ایما نے آنکھیں اس پاس گھمانا شروع کر دی ۔۔

وہ جو شروع سے بہت بولڈ تھی ۔۔ لڑکوں کے ساتھ رہتی تھی ۔۔ سب کو منہ توڑ جواب دیتی تھی ۔۔ جان کے سامنے پتہ نہیں اسے کیا ہو جاتا تھا۔۔۔

جان نے بڑی دلچسپی سے اس کی آنکھیں چرانے والی ادا کو دیکھا۔۔۔اور اپنی بلیک لیدر کی جیکٹ اس کے کندھے پر ڈال دی۔۔۔ ایما اس کے پاس آجانے سے ڈر کر اچھلی ۔۔ لیکن پھر اپنے آس پاس Caron Poivre کی خوشبو سونگھ کر وہ سیدھی ہوئی تو خود کو جان کی جیکٹ میں پاکر حیرت سے اس کی جانب دیکھا ۔۔۔

( کیا تھا وہ شخص۔۔ اسے بلکل سمجھ نہیں آیا )

” ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔ بہت ہنڈسم لگ رہا ہوں کیا ۔۔ ” جان ایما کے بال اس کے چہرے سے پیچھے کرتے ہوئے نرمی سے بولا جو بار بار تیز ہوا کی وجہ سے اس کے چہرے پر آ رہے تھے ۔۔۔۔

ایما کو بےساختہ اپنی اور جان کی پہلی ملاقات یاد آگی۔۔ تب بھی جان نے کچھ ایسے لفظ ہی بولے تھے ۔۔

ایما نے جلدی سے نظروں کا زاویہ تبدیل کیا۔۔۔پتا نہیں کیوں لیکن جان کی نظروں کی تپش سے اسے اپنے گال لال ہوتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔

” آج نہیں کچھ کہو گی ۔۔۔” جان وہیں سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔ جبکہ باقی سارے اب چیزیں سمیٹ رہے تھے ۔۔

ایما نے محسوس نہیں کیا لیکن جان اس کا موبائل اپنے پینٹ کی جیب میں ڈال چکا تھا ۔۔

” ارے ارے ۔۔۔ میں ڈسٹرب تو نہیں کیا ۔۔ ؟؟” ڈیرئیک ڈریس چینچ کر کے ان کی جانب آتے ہوئے ڈرامائی انداز میں بولا۔۔

” وہ تو تم جبکہ آئے ہو تب کہ ہیں ہم ۔۔ ” جان نے بھی آخر اپنی نظریں اس سے ہٹا کر ڈیرئیک کی جناب موڑ لی ۔۔ایما نے شکر کا سانس لیا اور وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی۔۔

” خیر تو ہے جناب ۔۔۔ بڑی میٹھی میٹھی نظروں سے لڑکی کو دیکھ رہے تھے ۔۔ ” ڈیرئیک اسے چھیڑتے ہوئے بولا۔۔

” تو تم کیا چاہتے ہو کہ تمہیں دیکھوں ۔۔۔ ؟؟” جان نے سوالیہ نظروں سے اس ڈھیڈ ہڈی کو دیکھا ۔۔۔

” مجھے تو کوئی عتراض نہیں ۔۔ تم مجھے دیکھنا اور میں تمہارے طرف سے ایما کو دیکھ لوں گا “

” ڈیرئیک ۔۔۔۔ ” جان نے تنبیہ کری نظروں سے اسے دیکھا۔۔

” کیا ڈیرئیک ۔۔ میاں جو بات ہے وہ مان کیوں نہیں لیتے۔۔۔ ” ڈیرئیک بھی چڑ کر بولا۔

جان اس کو جواب میں کچھ کہتا اس سے پہلے اس کی پینٹ میں موجود ایما کا فون بجنے لگا۔۔۔ اس نے نکال کر دیکھا تو حنان کی پھر سے کال آ رہی تھی ۔۔ جان نے کال کینسل کردی۔۔

” ایما کا فون ہے نا ۔۔؟؟” ڈیرئیک فوراً پہچان گیا ۔۔

” تم یہ چھوڑ اور مجھے یہ بتاؤ کہ یہ شوٹنگ کے دوران کیا تم لوگ بچوں والی حرکتیں کر رہے تھے ۔۔ ” جان نے بڑی ہوشیاری سے موبائل واپس پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے بات کا روخ تبدیل کیا ۔۔

” اب اپنے فوچر وائف کو تنگ نہیں کروں گا تو کسے کروں گا۔۔۔ ” ڈیرئیک کندھے آچکا کر بولا۔۔

” مطلب تم سریس ہو۔۔۔ ؟؟؟”.

” ہاں ۔۔ مجھے وہ پسند ہے ۔۔ یہ ماننے میں مجھے کوئی عار نہیں ۔۔ ” وہ درپردہ جان کو۔سنا رہا تھا۔۔

ایک بار پھر فون بجا ۔۔ جان نے غصے سے موبائل نکالا اس کا خیال تھا کہ پھر سے حنان ہوگا۔۔ لیکن موم کالنگ دیکھ کر اس کے ماتھے پر وٹ آے ۔۔۔

اس نے کال اٹینڈ کر کے کان کے ساتھ لگائی ۔۔۔

دوسری طرف سے پتا نہیں کیا کہا گیا کہ جان پھر چونک گیا ۔۔ اس کا یہ چوکنا ڈیرئیک نے بھی محسوس کیا تھا۔۔

” کیا ہوا۔۔۔ ؟؟ “

” میں آ کر بتاتا ہوں ۔۔ فلحال تم ایما کو بھیجوں میں گاڑی میں اس کا انتظار کر رہا ہوں۔۔” وہ تیزی سے بول کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔

تھوری دیر بعد ایما جان کے ساتھ گاڑی میں تھی ۔۔۔ جان اتنی سپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔۔۔ کہ ایما کو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں بج ہی نہ جائے ۔۔

” سر ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔۔ ؟؟” جان نے جب گاڑی ہاسپیٹل کے سامنے روکی تو ایما نے الجھ کر اس سے پوچھا ۔۔ جواب میں جان نے کچھ نہیں کہا ۔۔ بس اس کو گاڑی سے اترنے کا اشارہ کر کے خود بھی اترا اور اس کا ہاتھ تھام کر اندر داخل ہوا۔۔

ایما کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکا ۔۔

ہسپتال سے تو اسے ویسے ہی ڈیڈ کی ڈیتھ کے بعد وحشت ہوتی تھی ۔۔

“اوہ ایما ۔۔ شکر ہے تم آگی۔۔۔” اس کے اندر داخل ہوتے ہی مسسز وائز جو ان کی ہمسائی تھی وہ بولی ۔۔۔

” کیا ہوا ۔۔۔سب ٹھیک تو ہے ۔۔؟؟” ایما کے دماغ میں جو خیال آ رہے تھے وہ ان کو جٹک کر ڈرتے ہوئے بولی ۔۔

” تمہاری مام کی کنڈیشن سہی نہیں ۔۔ میں نے کھڑکی سے ان کو اپنے گھر کے سامنے گرتے دیکھا تھا ۔۔ وہ شاید کہیں جانے لگی تھیں ۔۔ تو میں ان کو یہاں لے آئی ۔” ایما کا اگر جان نے ہاتھ نہ پکڑا ہوتا تو اس نے گر جانے تھا ۔۔۔

” کہاں ہیں وہ اس وقت ۔۔؟؟” جان نے ایما کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سنبھالا جو گم سم سی ہوگی تھی پھر عورت کی طرف متوجہ ہوا ۔۔ جو ستائشی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

جان کے لیے یہ ستائشی نظریں عام بات تھی ۔۔

” آئیں میرے ساتھ ۔۔۔ ” وہ عورت انہیں لے کر روم میں چلی گئی ۔۔ جہاں ازابیلا تھی ۔۔

” مام۔۔” ایما جب کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی نظر اپنے ماں کی طرف گئی جو مشنوں کے ذریعے سانس لے رہی تھی ۔۔

ایما کی آواز سن کر انہوں نے آنکھیں کھولی اور ہاتھ کے اشارے سے اسے پاس بلایا۔۔۔

جان اسے چھوڑ کر پتا نہیں کہاں جا چکا تھا ۔۔ ایما نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ۔۔۔ اس کا سارا دھیان اس وقت ازابیلا کی طرف تھا ۔۔

اس نے ازابیلا کے پاس جا کر اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں کر کے اس پر بوسہ دیا۔۔۔

” مام سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔” وہ ان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔۔ ہلانکہ دل اس کا کسی انہونی ہونے کا پتا دے رہا تھا۔۔

” ایما ۔۔ ” ازابیلا اپنے منہ پر سے ماسک اتارتے ہوئے بولی ۔۔ ایما نے روکنا چاہا مگر انہوں نے اشارے سے منع کردیا۔۔

اس دوران روم کا دروازہ کھول کر کوئی اندر آیا۔۔ مگر ایما کو پتہ نہیں چلا۔

” ایما۔۔۔ پیٹر کو ڈھونڈ کر ۔۔ اس کا خیال ۔۔ رکھنا ۔۔۔ تم دونوں ہی ۔۔ایک دوسرے کا سہارا بننا۔۔” ازابیلا کو بولنے میں تکلیف ہو رہی تھی پھر بھی وہ بول رہیں تھیں ۔۔

ایما کی آنکھوں میں ان کی باتیں سن کر آنسو آگے جنہیں وہ پیچھے دھکیل کر ان سے بولی۔

” مام ہم مل کر پیٹر کو ڈھونڈیں گے ۔۔ آپ بلکل ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔ ” ایما نے ان کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر بولی ۔۔ آیا جیسے وہ ابھی کہیں چلی جائے گیں ۔۔

” وعدہ کرو۔۔ تم اپنا خیال رکھو گی ۔۔ اور پیٹر کا بھی ۔۔ “

” مام وعدہ ۔۔ کرتی ہوں میں ۔۔ ” ایما کی بات سن کر ان کے چہرے پر سکون ایا۔۔۔اس وقت ڈاکٹر اور نرسیں اندر آئے اور ازابیلا کو لے کے ICU کی طرف چلے گئے۔۔۔

ایما نے نوٹ نہیں کیا لیکن دروازہ کھول کر اندر آنے والا جان تھا ۔۔ جان نے ایما کو باہر رکھی چیئر میں بیٹھایا اور اس کے سامنے سینڈ وچ کیا۔۔

” نہیں ۔۔۔ ” ایما نے روتے ہوئے سر نہ میں ہلایا۔۔۔۔

” کھا لو۔۔ ورنہ میں زبردستی کھلاؤ گا۔۔ جان کو سختی کرنے پڑی کیونکہ اس کو پتا تھا اس کے بغیر گزرا نہیں تھا ۔۔۔

ایما نے اس سے سینڈوچ لیا اور چھوٹے چھوٹے بائٹ لے کر کھانے لگی ۔۔

جان اس کو کھاتے دیکھ کر ریلکس ہوا اور اس کے پاس ہی بینچ پر بیٹھ گیا ۔۔۔

ایما کی اور ازیبلا کی باتیں سن کر اس کو اپنی مام کی یاد آگئی تھی ۔۔ وہ آنکھیں بند کر کے سر دیوار سے ٹکا کر بیٹھ گیا ۔۔۔

بند آنکھوں کے سامنے منظر سا چلنے لگا تھا۔۔

” جہان ۔۔۔ آپ گڈ بواۓ کی طرح یہاں روکو اور ڈول کا دھیان رکھنا ۔۔ میں ابھی آپ کے لیے آئسکریم لے کر آتی ہو۔۔ ” ایوا جان کے سر کے بال پیار سے بگاڑٹے ہوئے بولی ۔۔

” بٹ مام میں بھی جانا ہے ۔۔ ” چھوٹے سے جان نے منہ بسورا۔

” پھر ڈول کہاں جائے گی۔۔ ” ایوا نے ایک بار پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔

” ڈول بھی ہمارے ساتھ جائے گی نا۔۔ ” جان نے جھجھک کر حل پیش کیا۔۔

” آپ یہی روکو ۔۔ میں آتی ہوں ۔۔” اب کی بار ایوا سختی سے بولی۔

” مجھے آپ نہیں پسند ” اعلان کیا گیا۔۔

” افف یہی روکو ۔۔ اور ڈول کا خیال رکھو میں آئی ۔۔ ” ایوا کہہ کر آگے چلنے لگی ۔۔

سامنے روڈ کراس کر کے وہ دکان تھی جہاں کی اسکرایم اس نے لینی تھی ۔۔ وہاں کافی رش بھی تھا اس لیے ایوا اسے ساتھ لے کر جانے سے کترا رہی تھی ۔۔

ایوا کے جاتے ہی جان نے بے بی کاٹ میں لیٹی اپنی بہن کو دیکھا جو پینک چھوٹی سی فراق میں ہاتھ ہلا ہلا کر کھیل رہی تھی ۔۔اس نے بے بی کاٹ ایوا کے پیچھے لگا کر خود بھی چلنے لگا ۔۔

ابھی اشارہ بند ہی تھا اور ٹرافک زروں سے گزر رہی تھی ۔۔ کہ ایوا کو پیچھے سے کسی نے دھکا دیا اور وہ سامنے سے گزرتی تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا کر گری ۔۔ گرتے ہی اس کے سر سے اور ناک سے خونے نکلنے لگا ۔۔ جو سڑک پر پھیلنے لگا تھا ۔۔

جان نے بے یقین نظروں سے اپنے ہاتھوں کو دیکھا جس سے اس نے اپنی ماں کو دھکا دیا تھا ۔۔

” جان ..”

” جان “

کوئی اس کا کندھا ہلارہا تھا ۔

” ہاں ۔۔” جان نے آنکھیں کھولی تو سامنے ڈیرئیک اس پر جھکا اس کا کندھا ہلا رہا تھا ۔۔

” تم کب آئے ۔ ۔۔” جان نے منہ پر ہاتھ پھیرا۔۔

” تمہارے فون کے فوراَٰ بعد میں نکل پڑا تھا ۔۔ ساتھ اولیویا کو بھی لے آیا ” ڈیرئیک اس کے پاس ہی بینچ پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔۔۔

جان نے گردن موڑ کر دیکھا جہاں الیویا ایما کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔ ایما اب پہلے سے بہتر لگ رہی تھی ۔۔

” ڈاکٹر کیا کہہ رہیں ہیں۔۔۔ ؟ “

” 10٪ چانس ہے بچنے کے ۔۔ وہ بھی اس صورت میں کہ میموری لوس ہونے کا خطرہ ہے ۔۔۔” جان نے بےتاثر انداز میں اسے بتایا ۔۔۔

” اوہ ۔۔۔ “

” میں آتی ہوں ۔۔” ایما کسی خیال کے آتے ہی ایکدم سے اٹھی ۔۔۔

” کہاں ” الیویا اس کے ایکدم اس طرح اٹھنے سے پریشان ہوئی تھی۔۔

” واش روم ” ایما کہہ کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔ در اصل وہ باتھ روم نہیں فیس پتا کرنے گئی تھی ۔۔

ریسیپشن سے جس اس نے فیس کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ جمع ہوچکی ہے۔۔

“کس نے کی۔۔” ایما نے الجھ کر پوچھا

” آپ کے ساتھ جو ہنڈسم تھا اس نے۔۔۔” ایما کو زرہ اندازہ نہیں تھا کہ جان نے جمع کر وائی ہے ۔۔

اس نے انفورمیشن کے لیے رقم پوچھی کتنی کے تو اس کے ہوش اڑ گے ۔۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ رقم جمع کر کے جان کو واپس کر دے گی ۔۔ لیکن جتنی رقم رسپشن نے بتائی اتنی تو وہ سالوں لگا دیتی تو بھی جمع نہ کر پاتی۔۔

یہ ایک پراویٹ ہسپتال تھا۔

وہ گم سم سی واپس آئی تو دیکھا ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر تھا ۔۔ لال بیتی بند تھی ۔ جس کا مطلب تھا کہ آپریشن ختم ہو چکا ہے ۔۔

وہ تینوں افسوس سے ڈاکٹر کی بات سن رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ ایما کو کیسے بتائیں گے ۔۔

لیکن ان کو ضرورت ہی نہیں پڑی اور کچھ گرنے کی آواز پر انہوں نے مڑ کر دیکھا جہاں ایما فرش پر بے سد گری ہوئی تھی ۔۔ شاید گرتے وقت اس کے سر پر چیئر لگی تھی جس کی وجہ سے اس سر سے خون نکل رہا تھا ۔۔

جان پتھرائی نظروں سے یہ دیکھ رہا تھا اس کو یوں لگا جیسے ایوا کی طرح ایما بھی ۔۔

نہیں اس کے آگے وہ سوچ نہیں سکا ۔۔

ڈاکٹر ایما کو اندر لے کر جا چکے تھے ۔۔۔

جبکہ جان کی نظریں اب بھی اس جگہ پر تھی جہاں سے کچھ دیر پہلے ایما تھی ۔۔ پر اب وہاں صرف خون تھا ۔۔

آہل صبح کا گیا رات کو واپس آیا تھا ۔۔

اس کا پورا دن اتنا مصروف گزرا تھا کہ اس کو سر کھجانے کی فرست نہیں ملی تھی ۔۔

حویلی میں اس وقت سب سو گئے تھے ۔۔

فہد کے منہ سے حور کے بارے سن کر آہل کو پتا نہیں کیوں غصہ چھڑا تھا ۔۔ اس کو حور سے کوئی شدید قسم کی محبت نہیں تھی ۔۔پر حور اس کے نکاح میں تھی ۔۔اس کی بیوی تھی ۔۔ وہ تو اپنی چھوٹی سی چھوٹی چیزوں کے بارے میں اتنا ٹچی رہتا تھا ۔کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا تھا ۔ یہ تو پھر اس کی بیوی تھی ۔۔دا جی کے رویے کے بارے میں اب اس نے محسوس نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔ آیا کچھ غلطی اس کی بھی تھی ۔۔ لیکن اس کی اتنی بڑی سزا اسے نہیں بنتی تھی ۔۔

انہی سوچوں میں گم وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا ۔۔۔ کھانا اس نے باہر ہی کھا لیا تھا۔ ۔

اس نے فریش ہونے کے بعد موبائل پکڑا۔۔۔ تو وہاں سڈنی نام کے نمبر سے کچھ تصویریں آئی ہوئی تھی۔۔

اس نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے وہ تصویریں دیکھیں تو اس کے ماتھے پر موجود بلوں پر مزید اضافہ ہو گیا ۔۔

اس نے کسی کو فون کیا ۔۔ اور کمر پر ہاتھ رکھ کر بے صبری سے فون اٹھانے کا انتظار کرنے لگا ۔۔

دوسرے طرف فون اٹھا لیا گیا ۔۔اس نے کچھ کہے بغیر بس خاموشی سے دوسری طرف کی بات سنی اور بنا کچھ کہے اس نے اپنا فون زور سے دیوار پر مارا۔۔

اس کو شدید غصہ آرہا تھا ۔۔

اور آنکھیں لال ہو رہی تھی ۔

” یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔”

وہ غرانے کے انداز میں کسی کو تصور میں مخاطب کرتے ہوے بولا۔۔

___________________________

یہ ایک سادہ سا کمرہ تھا ۔۔ چاروں دیواروں پر سفید رنگ ہوا تھا ۔۔ کمرے میں آرائش کی کوئی چیز نہیں تھی سوائے اس کیلوگرافی کے اور ایک خانہ کعبہ کی تصویر کے ۔۔

وہاں موجود شخص کالی ہوڈی پہن کر اب ماسک سے اپنے چہرے کا جلہسہ ہوا حصہ چھپا رہا تھا ۔ ۔۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی اور لال تھی ۔۔

اب بیڈ پر بیٹھ گیا تھا ۔۔

” جا رہے ہو ۔۔” وہ بوٹ کے لیسیس بند کر رہا تھا جب ایک اور آدمی کمرے میں آیا ۔۔

وہ دیکھنے میں کافی گریس فل تھا۔۔۔اور جوان ہی لگ رہا تھا ۔۔

” جی ڈیڈ ۔ ” اس نے منہ نیچے کیا ہی جواب دیا ۔ اب وہ اپنے دوسرے شوز کے لیسس بند کر رہا تھا ۔۔

” میرے خیال میں تمہیں اسے بتا دینا چاہیے۔۔۔” اس کی بات سن کر وہ سیدھا ہوا اور چل کر ان کے برابر کھڑا ہوا ۔۔

اس کا کندھا ان کے کندھے سے اوپر تھا۔۔

” وہ برداشت نہیں کر پائے گی ۔۔ “

” اب بھی کر رہی ہے ۔۔ یہ بھی کر لے گی ۔۔ ” انہوں نے سمجھانے کی پھر سے کوشش کی ۔۔

” نہیں مجھے پتا ہے ۔۔ ” وہ اب بھی انکاری تھا۔۔۔

” اس کو تمہاری ضرورت ہے۔۔ “

“مجھے بھی تو ضرورت ہے ” اس کی آواز میں دکھ تھا ۔۔ خالی پن تھا ۔۔

“تمہارے پاس میں بھی تو ہوں ۔۔۔” ان کی اس بات کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔

” کب تک چھپاؤ گیۓ۔۔ ؟” انہوں نے جیسے اس کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا ۔۔

” جب میں پہلے جیسا ہو جاؤں گا ۔۔ ” اتنا کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔۔

جبکہ دوسری طرف وہ اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر خوش ہوگئے تھے ۔۔کیونکہ پہلے وہ تیار نہ تھا ۔۔ اب وہ راضی ہو گیا تھا ۔۔۔

وہ بلیک ہوڈی پہن کر چپکے سے اپنے گھر آیا ۔

اس نے دیکھا ۔۔ ازابیلا کے کمرے سے روشنی آ رہی تھی۔۔اس نے کھڑکی سے جھانکا۔۔

تو ایما وہی بیڈ پر لیٹی تھی ۔۔

اس کے سر پر پیٹی بندھی تھی ۔۔

وہ اندر نہیں جا سکا کیونکہ اندر ایما اکیلی نہیں اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا ۔۔۔

وہ شاید کوئی لڑکی تھی ۔۔ جس کی پشت اس کی طرف تھی ۔۔ کیونکہ وہ کھڑکی والی طرف موجود کرسی پر بیٹھی تھی ۔۔

اس بار وہ دور سے دیکھ کر ہی آگیا تھا ۔۔

____________________________

اندھیرا پھر سے اندھیرا ۔۔

جنگل ۔۔

سائے پھر اس کے پیچھے بھاگ رہے تھے ۔۔

انہوں نے پھر سے اسے پکڑ لیا تھا ۔۔

اب کی بار وہ ساۓ ایک ایک کر کے اس لڑکی کے وجود میں جا رہے تھے ۔۔

اس لڑکی کے ہاتھ بھی ان سائیوں کی طرح کالے ہو رہے تھے ۔۔

اوپر چاند چمک رہا تھا ۔۔

لیکن اس کی روشنی اس تک نہیں پہنچ رہی تھے ۔۔

ان سائیوں کی لال آنکھیں۔۔۔ اس کو ڈرا رہیں تھیں ۔۔

وہ ان کی گرفت سے نکلنے کی جدو جہد کر رہی تھی۔۔

_______________________________

رات سے دن ہو گیا تھا۔۔۔

حنان کی بے چینی حد سے سوا تھی ۔۔ کیونکہ اس نے کل سے ایما سے بات نہیں کی تھی ۔۔

کل بھی وہ کال بند کر کے ۔۔سیدھا اس سائیڈ پر گیا جہاں شوٹنگ ہو رہی تھی ۔۔ مگر ایما نہیں تھی وہاں ۔۔

پھر اس نے آفس پتا کرایا ایما وہاں بھی نہیں تھی ۔۔۔

اس کے گھر پر تالا لگا ہوا تھا۔۔

تھک آ کر وہ واپس گھر آ گیا تھا ۔۔

گھر آکر اس نے ڈین کو میسج کیا۔۔ ایما کا لاپتہ ہونا کافی پریشانی کی بات تھی ۔۔

سر اس کا درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔

اس نے پین کلر لی ۔۔۔اور تھوری دیر آنکھیں بند کر لی ۔۔ کب آنکھ لگی اسے پتا نہیں لگا ۔۔

فون کی بیل سے اس کی آنکھیں کھولی ۔۔

اس نے نیند میں ہی کال اٹھائی تھی ۔۔

اور ہیلو ہیلو کیا ۔۔

جب کوئی جواب نہیں آیا تو خود سے بڑبڑا تے ہوے” لوگوں کو تنگ کرنے کا مزہ آتا ہے ” پھر سے سو گیا ۔۔

پھر اس کی آنکھ صبح 11 بجے کھولی۔۔

آنکھ کھولتے ہی جو پہلا خیال اس کے ذہن میں آیا تھا وہ ایما کا ہی تھا ۔۔

جلدی سے چینج کر کے وہ پھر ایما کے گھر کی طرف گیا ۔۔

اس بار تالا نہیں لگا تھا ۔۔ لیکن گھر کے باہر لوگ کھڑے تھے۔

لوگ کالے لباس پہنے ہوئے تھے ۔۔

(جان نے واقعی میں ۔۔۔تو ایما کو)اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا ۔۔ وہ دوڑتے ہوئے اندر گیا تو ایما کو صوفے پر بیٹھا دیکھ کر پرسکون ہوگیا ۔۔

ایما گم سم سی صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔

حنان نے اس کا ہاتھ ہلا کر اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔

تو اس نے اپنی ویران آنکھیں اس کی طرف موڑ لی ۔۔

حنان کو اس کی حالت دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی ۔۔

لوگ آتے جا رہے تھے ۔۔۔

حور کو بھی کسی نے خبر دی تھی وہ بھی وہاں آ گئی تھی ۔۔

اور اب اس کے پاس بیٹھی اسے سنبھال رہی تھی ۔۔

اس کی کوشش تھی کہ وہ روۓ ۔۔ مگر وہ تو پتھر کے مجسمے کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔

کل اس کی پٹی کے بعد ڈاکٹر نے تھوری دیر اس رکھ کر ڈسچارج کر دیا تھا ۔۔ زخم گہرا نہیں تھا ۔۔

بس انہوں نےاس کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے دوائی میں نیند کی گولی آیڈ کر دی تھی۔۔

صبح جب اس کی آنکھ کھولی۔۔ تو الیویا اور ڈیرئیک پہلے سے وہاں تھے ۔۔

ایما پہلے تو بےتاثر نظروں سے انہیں دیکھتی رہی ۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا کہ کیا ہوا ہے ۔۔

لیکن تھوری دیر بعد کل کا سارا دن فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگا تھا ۔۔

وہ ازابیلا کے کمرے میں گئی ۔

اس امید میں کہ شاید وہ جو اس نے دیکھا وہ خواب ہو ۔۔لیکن ازابیلا اس کے کمرے میں نہیں تھی ۔۔

اس کے اس طرح دوڑنے سے ڈیرئیک اور الیویا بھی اس کے پیچھے آئے تھے ۔۔ ان دونوں نے کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔۔

” میرے موم کہاں ہیں ۔۔ ؟؟” وہ آنکھوں میں ڈر لیۓ ان دنوں کی جانب دیکھتے ہوۓ بولی ۔۔۔

ڈیرئک اور الیویا نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔ان کچھ سمجھ نہیں آئی کہ کیا کہیں ۔۔

لیکن ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی جان جو ابھی ابھی آیا تھا اس نے بےتاثر انداز میں کہا

” شی از ڈیڈ ..”

“ہوتے کون ہو یہ کہنے والے ۔۔” وہ بھپراہی ہوئی شیرنی کی طرح اس کا گریبان پکڑتے ہوئے بولی ۔۔

” واچ یور ہینڈ لیڈی ۔۔۔ ” جان اس کے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتے سخت لہجے میں بولا ۔

” مجھے نہیں پرواہ ۔۔ میں بس اپنے اپنی مام چاہیے۔۔ ” وہ چیختے ہوے بولی تھی ۔۔

” موم کو دیکھنا ہے۔۔۔ آؤ پھر ۔۔ ” جان اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اپنے ساتھ لے کر چلنے لگا ۔۔

” جان ویٹ ۔۔ وہ اس وقت سٹریس ہے ۔۔ ” ڈیرئیک جان کے سامنے آکر اس کا راستہ روک کر سمجھانا چاہا۔۔

جان نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔۔ بس اسے سایڈ پر کر کے ایما کو ازابیلا کے تابوت جس میں اسے لٹایا ہوا تھا ۔۔۔ اس کے پاس لا کر اس کا ہاتھ چھوڑ تے ہوے بوا۔۔

” یہ لو یہ ہیں تمہاری امی ۔۔ ” اس کے بعد اس ایما کی یہی حالت تھی ۔۔وہ گم سم سی ہو گی تھی ۔۔

کس نے اس کے کپڑے چینج کرنے کو دیے ۔۔

کب ازیبلا کا کوفن اٹھا کر لے کر گے ۔۔کب اسے دفنایا۔۔ ایما کو کچھ معلوم نہیں تھا ۔۔

بس سب کے جانے کے بعد اس نے اپنے باپ کے ساتھ موجود اپنی ماں کی قبر کو دیکھا ۔۔

کتنی دیر وہاں کھڑی دیکھتی رہی ۔

پھر کسی نے اسے کندھے سے تھاما تو اس نے گردن موڑ کر دیکھا ۔۔ جہاں حور اس کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔

_________________________

( 10 دن بعد ۔۔)

ازیبلا کی ڈیتھ سے لے کر وہ اب تک ایک بار بھی نہیں روئی تھی ۔۔ نہ بولی تھی ۔۔ اس کے سارے احساسات جیسے جم سے گیے تھے

اس آفس سے دو تین بار فون آچکا تھا کہ وہ آفس اب جوائن کر لیے ۔۔ نہیں تو اسے نکال دیا جائے گا ۔۔ مگر وہ تو یوں تھی جیسے پرواہ ہی نہیں ۔۔اس یہ بھی یاد نہیں تھا کہ حور نے پرسوں چلے جانا ہے ۔۔

وہ بس کھڑکھی میں کھڑی باہر دیکھ رہی تھی کہ جب دروازے پرنوک ہوا۔۔

اس نے دروازہ کھولا۔۔

” میم سر نے کہا ہے کہ آپ کو لے کر آؤ ۔۔۔ ” وہ وائٹ شرٹ جس پر کمپنی کا لیبل بھی بنا ہوا تھا اور بلیک پینٹ پہنے ہوے مہذب انداز میں بولا۔۔

” کون سے سر ۔۔ ” اس کے سوال پر ڈرائیور نے عجیب نظروں سے دیکھا ۔۔

” جان سر ۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ آپ کو یہ دوں۔” ڈرائیور نے ایک سفید رنگ کا انویلپ اس کی جانب کرتے ہوے کہا ۔۔۔

اس نے انویلپ اس سے لیا ۔۔ اور کھول کر دیکھا ۔۔۔

وہ ہاسپٹل کا بل تھا ۔۔ ساتھ میں ایک چھوٹے سے کاغذ کے ٹکرے پر نوٹ لکھا ہوا تھا ۔۔

( یہ پیسے مجھے ابھی واپس کرنے ہے ۔۔ میں کسی پر ادھار نہیں رکھتا ۔۔۔ نہ ہی میں نے چیرٹی دینے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔۔ہاں لیکن ایک آپشن اور بھی ہے ایک رات میرے نام کر دو۔ ۔۔) ۔۔لفظ تھے یا زہر اسے سمجھ نہیں آیا ۔۔ اتنی توہین ۔۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مجھے پاؤں انگاروں پر کھڑی ہے ۔۔۔

“چلو۔۔۔” ایما نے اپنا بیگ پکڑا اور اس کے بال جو جوڑے میں بند تھے جنہیں اس نے صبح ہی بنایا تھا اور بغیر وہی ڈریس جو کل حور نے زبردستی اس کو چینچ کروایا تھا ویسے ہی چل پڑی ۔۔

ڈرائور حیران ہوا۔۔ اس کا خیال تھا کہ ابھی ایما تیار ہونے میں بھی ٹائم لگاۓ گی ۔۔لیکن اس کے طرح چلنے پر وہ حیران کے ساتھ پریشان رہ گیا ۔۔ مگر کہا کچھ نہیں ۔۔

آفس پہنچ کر ایما نے جارحانہ انداز میں گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔

اور لفٹ میں جا کر مطلوبہ فلور کا بٹن دیا۔۔۔

لفٹ کا دروازہ کھولتے ہی وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتی جان کے آفس آئی ۔۔

آس پاس گزرتے ورکرز نے روک کر اسے دیکھا۔۔

اور دروازہ کھول کر اندر آئی ۔۔ جہاں جان وائن پیتے ہوے ساتھ میں کام کر رہا تھا ۔۔

وہ سیدھا اس کی طرف گئی ۔۔

” چٹاخ ۔۔۔ ” اس نے تھپڑ اتنی قوت سے مارا تھا کہ اس کا اپنا ہاتھ درد ہونے لگا گیا تھا ۔۔۔

اس کی تپھڑ سے جان بھی چیئر کے پیچھے دھکیل کر اس کے سامنے کھڑا ہوا

ایما نے ایک بار پھر اس کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ۔۔۔لیکن اس بار جان اس کا ہاتھ اپنے چہرے پر پہنچے پہلے ہی اس کا تھام چکا تھا ۔۔

” میں وہ ہاتھ توڑ دیتا ہوں جو مجھ تک آتے ہیں ۔۔ لگتا ہے تمہیں اپنے ہاتھ پیارے نہیں۔”

اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ تکلیف کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔

” تو تم نے کیا سب کو اپنی لیگل پراپرٹی سمجھ رکھا ہے ۔۔۔ ہاں ۔۔ میں یہاں کام کرنے آتی ہوں ۔۔ کوئی ہوکر نہیں ہو ۔۔ سمجھ کیا رکھا ہے خود کو ۔۔ ارے میں لانت بھیجتی ہوں تم پر ۔۔ اور تمہاری اس گھٹیا جاب پر ۔۔میری طرف سے تم دونوں جہنم میں جاؤ ۔” اتنے دنوں سے اندر موجود غبار اب باہر نکل رہا تھا ۔۔

” میں نے آپشن رکھا تھا ۔۔لیکن اب تو آپشن بھی نہیں رکھوں گا ۔۔۔ تمہارے پاس پانچ دن ہے ۔۔۔میرے پیسے واپس کرنے کے لیے ۔۔ اگر تم نے اس دوران پیسے واپس کیے ۔۔ دین اٹس گڈ ۔۔ ادر وائس ۔۔ یو نو ویل ۔۔” جان نے جلد ہی اپنا غصہ کنٹرول کیا ۔۔ اور سچویشن کو پھر سے اپنے کنٹرول میں لیا۔۔

” اوکے ڈن۔۔ ناؤ لیو مائی ہینڈ ” ایما نے تھوڑے دیر سوچا پھر جواب دیا ۔۔

جان نے اس کا ہاتھ چھوڑا اور فائیل سے ایک پیپر نکال کر اس کی جانب بڑھیا ۔۔ جو اس کے اپنے ہاتھ سے اپنی کلائی سہلا رہی تھی ۔۔ جہاں جان کی مضبوط پکڑ کی وجہ سے نشان پڑا ہوا تھا ۔۔

” ارے اتنی جلدی کیا ہے ۔۔ پہلے اس اگیرمینٹ پے سائن کرو ۔۔۔ ” پیپر اس کی جانب بڑھاتے ہوے بولا۔۔۔یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ پہلے سے ہی تیار تھا ان سب کے لیے ۔۔

“کیا ہے اس میں ۔۔ ؟؟؟” ایما اس کے ہاتھ سے پیپر لے کر مشوک نظروں سے اس کی جانب دیکھتے ہوے بولی ۔۔۔

“یہی کہ جب تک تم میرے پیسے واپس نہیں کر دیتی تم شہر سے باہر نہیں جا سکتی ۔۔۔ اگر تم میرے پیسے وقت پر واپس نہیں کرتی تو تمہیں میری ہر بات ماننی ہوگی ۔۔۔ جب تک میں کہوں ۔۔۔ہاں اور یہ بھی لکھا ہے کہ اگر تم نے واپس کر دیے تو میں تمہارا راستہ دوبارہ کبھی نہیں روکوں گا ۔۔ اگر یقین نہیں تو خود پڑھ لو۔۔۔”ایما نے پڑھا وہاں واقعی یہی لکھا تھا۔۔

ایک پل کے لیے اس کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ اسے یہ سائن نہیں کرنا چاہیے پھر کچھ سوچ کر اس نے کہا ۔۔

ٹھیک ہے اگر میں پیسے وقت پر واپس نہ کر پاؤ تو میری بھی ایک شرط ہے ۔۔”

” کیسی شرط ۔۔؟؟” اگیرمینٹ ابھی بھی جان کے ہاتھ میں تھا ۔۔

” وہ میں بتا دو گی ۔۔ اور ہوسکتا ہے اس کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔۔ ” ایما نے ایک نظر اس کے ہاتھ میں پکڑے ایگریمنٹ پر ڈالی ۔۔

” کونفیڈنس ۔۔۔ اوکے پھر دیکھتے ہیں ۔۔ “

جان کے مان جانے پر اس نے سائن کر دیا ۔۔۔

اس سب کے دوران جان کی نظر اسی پر تھی ۔۔

” کہاں جا رہی ہو۔۔ ” ایما سائن کر کے جانے لگی کے جان ٹیبل پر ہی بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھا۔

” ابھی میرے پاس پانچ دن ہے ۔۔ سو میں جواب دینے کی پابند نہیں ۔۔ ” ایما نے بنا روکے جواب دیا۔۔۔

“اور جاب بھی ہے تمہاری ۔۔ ؟؟ “

” میرا استیفہ مل جائے گا ۔۔۔ “

جواب دے کر وہ جا چکی تھی ۔۔

جبکہ جان پرسوچ نظروں سے دروازے کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔جہاں سے ابھی وہ گئ تھی ۔۔

___________________________

وہ مال آیا تھا ۔۔ اسے کچھ شاپنگ کرنے کے لیے ۔۔۔

آس پاس لوگ گزر رہے تھے ۔۔ اتنے لوگوں کو دیکھ کر اسے خارش سی ہو رہی تھی ۔۔

مطلب کیسے لوگ اتنے آرام اور سکون سے شاپنگ کر رہے تھے وہ بھی ڈیرئیک کے ہوتے ہوئے ۔۔کتنی غلط بات تھی نا۔۔

وہ سامنے موجود شو شاپ کی طرف گیا ۔۔۔

اس نے ایک جوگر کا پیر لیا اور دونوں پاؤں میں پہن کر اس کے تسمے اچھی طرح بند کر کے چیک کیا ۔۔ ورکر اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا ۔۔۔

ایک دم وہی شوز جو اس نے چیک کرنے کے لیے پہنے تھے ۔۔ اُسے میںث شاپ سے باہر ہی طرف دوڑ لگائی۔۔۔ وہ ورکر بھی بدحواس سا اس کے پیچھے بھاگا ۔۔۔

شاپ سے تھوڑا آگے جا کر وہ روکا اور مڑ کر دوبارہ شاپ کے اندر آیا اور اچھالا ۔یوں جیسے جوتے بیک کر رہا ہو ۔۔ شاپ میں موجود باقی ورکر اور کسٹمر نے اچھنبے سے اس کی یہ حرکت دیکھی ۔۔

جبکہ وہ ورکر جو اس کے پیچھے بھاگا تھا وہ اب کھسیانا سا ہو کر واپس اس کی طرف آیا تھا ۔۔

” یہ پیک کر دے ۔۔۔” جوتے اتار کر اس کی جانب کرتے ہوئے وہ یوں بولا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔

مطلب کسی کی سانس خشک کرنا۔ ۔۔ کچھ نہ کرنے کے مترادف تھا اس کے لیے ۔۔

شوز پیک کروا کر وہ باہر نکلا تو اس کی نظر الیویا پر گئ۔۔۔

وہ لیڈیس ڈریس دیکھ رہی تھی ۔۔

ڈیرئیک اس کے پاس جا رہا تھا کہ ایک بےبی ٹوائز شاپ کے سامنے سے گزرا ۔۔لیکن پھر واپس ہوا ۔۔۔

اس کے ہونٹوں پر ایول سمائل آئی ۔۔

الیویا ڈریس دیکھ رہی تھی کہ اس کو اپنے کندھے پر وزن سا لگا ۔۔

اس نے منہ موڑ کر دیکھا تو دیکھا ایک لمبا سا کالے رنگ کا سانپ تھا ۔۔

” آہ ہ ہ ہ ” ہاتھ سے وہ سانپ کو سایڈ پر کر کے چیخ مار کر پیچھے ہوئی ۔۔۔

اس کی چیخ سن کر آس پاس موجود باقی لیڈیز بھی متوجہ ہوئی ۔۔ کچھ پہلے ہی ہنستے ہوئے اس دیکھ رہی تھی ۔۔

جیسے ہی باقیوں کی نظر اس سانپ کی طرف گئ ۔۔ تو وہ سب بھی چیخنے لگی ۔۔

شاپ پر یوں لگ رہا تھا جیسے وہاں چیخنے کا کمپیٹیشن ہو رہا ہو ۔۔۔

تھوری دیر بعد الیویا نے غور کیا کے وہ سانپ ہل نہیں رہا تھا ۔۔

وہ دھیرے سے کانپتے قدم اٹھاتے وہ سانپ تک پہنچی اور جھک کر اسے ہلایا ۔۔۔

اسے اپنی بے وقوفی کا احساس اس وقت شدت سے ہوا ۔۔

کیونکہ وہ سانپ نکلی تھا ۔۔

لیکن اس کی بناوٹ اس طرح کی تھی کہ وہ بلکل اصلی لگ رہا تھا ۔۔

“” ہاہاہاہاہاہاہااہاہاہہاہا”” مردانہ ہنسی سن کر اس نے سامنے کی طرف دیکھا۔۔ جہاں شیطان ۔۔(ڈیرئیک ) اس کی شکل دیکھ کر ہنس رہا تھا ۔۔

اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی یہ کس کا کام تھا ۔۔

وہ غصے سے باہر نکلی ۔ ڈیرئیک بھی نیچے سے سانپ اٹھا کر اس کے پیچھے گیا ۔۔ جو اب مال سے باہر نکل رہی تھی ۔۔

جاتے جاتے بھی ۔۔۔ اس نے پاس سے گزرتی دو لڑکیوں میں سے ایک کے بیگ پر وہ سانپ پھر سے رکھ دیا ۔۔۔

مشکل سے دومنٹ ہی گزرے ہونگے کے ۔۔ مال کے اندر سے پھر چیخوں کی آواز آئی ۔۔۔

یہ تھی ڈیریک کی شاپنگ۔۔

جو کرتا تھا دوسروں کو شاکنگ۔۔

وہ الیویا تک پہنچا ۔۔ اور اس کے ساتھ قدم ملا کر چلنے لگا ۔۔

” تم میری جان چھوڑنے کا کیا لو گے ۔۔۔ ؟؟” الیویا رک کر اس کی جانب مڑی ۔۔

” تمہیں ۔۔۔ ” ڈیرئیک بھی اس کی جانب اسی طرح مڑ کر کھڑے ہوتے ہوئے مزے سے بولا ۔۔۔

” ہائےےےے بیوٹیفل ۔۔ ” ایک اٹھیس سال کا خوش شکل نوجوان الیویا کو دیکھتے ہوئے بولا ۔

” ہاے” الیویا نے بھی مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔جس سے اس لڑکے کو حوصلہ ہوا ۔۔

ڈیرئیک کو اپنا نظرنداز کرنا بالکل اچھا نہیں لگا ۔۔

ڈیرئیک نے اس لڑکے کی طرف دیکھا جو بہانے سے ہستے ہؤے الیویا کو بار بار ٹچ کر رہا تھا ۔۔۔

کسی خیال کے آتے ہی اس کی سبز آنکھیں جگمگا اٹھی ۔۔۔

اب وہ اس لڑکے کی طرف بڑی میٹھی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔

” ہاےے ہنڈسم ۔۔۔ وٹس یور نیم ۔۔ ؟؟” وہ لڑکی جیسی پتلی آواز نکالتے ہوئے بولا۔۔

لڑکے نے اس کو جواب دینا ضروری نہیں سمجھا ۔۔

اسے یہ نہیں پتا تھا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر چکا تھا ۔۔

جبکہ الیویا تو بس منہ کھولے اس کی حرکتیں دیکھ رہی تھی ۔۔

اگلے ہی پل ڈیرئیک اولیویا کو اس کے پاس سے ہٹا کر خود اس کے بلکل ساتھ جڑ کر کھڑا ہوا ۔۔۔

ایک ہاتھ اس نے اس لڑکے کے سینے پر رکھا ۔۔جبکہ دوسرے ایک کی انگلی سے اس کے ماتھے سے لے جا کر ہونٹوں تک لکیر کھنچتے ہوئے بڑے سیکسی انداز میں ہونٹوں کو اندر کرتے ہوئے بولا۔۔۔

” تمہارا گھر کہاں ہے۔۔ ؟؟ تاکہ ہم وہاں جاکر ۔۔ بھرپور طریقے سے وقت گزار سکھے ۔۔”

وہ لڑکا گھبرا گیا ۔۔ اور اس کو دھکا دے کر دوڑا ۔۔

ڈیرئیک بھی تھوڑی دور تک اس کے پیچھے گیا ۔۔ پھر واپس آیا تو الیویا جا چکی تھی ۔۔

“شٹ ۔۔”

وہ بس یہی کر سکا تھا۔۔

اسے پھر اس لڑکے پر غصہ آیا جس کی وجہ سے الیویا کے ساتھ وہ وقت نہیں گزار سکا