Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 17
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 17
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
یہ بات اس کے لیے ناقابل یقین تھی ۔۔کہ اس کی ماں جو بچپن میں ہی مر گئی وہ زندہ تھی اور اسے بلا رہی تھی ۔۔۔
پہلے اسے لگا کہ جیسے کوئی اس کے ساتھ مزاق کر رہا ہے۔۔۔ بھلا مرا ہوا ایکدم سے کیسے زندہ ہو سکتا ہے ۔۔۔لیکن پھر اس نے اپنے حواس پر قابو کیا ۔۔
” کیا ثبوت ہے کہ میری ماں تم ہی ہو ۔۔۔ ؟” اس نے دھڑکتے دل کہ ساتھ سرد لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
” تم ایک بار خود آکر دیکھ لو ۔۔۔۔ ” دوسری طرف اس کی ماں کی آواز میں وہی عورت فریاد کرنے کے انداز میں بولی۔۔اسے اس عورت کی آواز نم لگی ۔۔یا یہ اس کا وہم تھا ۔۔
اس عورت کی آواز ۔۔بولنے کا انداز ۔۔سب ہی تو اس کی ماں سے ملتا تھا ۔۔۔ اس کا دلکہہ رہا تھا کی یہ اس کی ماں ہی ہے ۔۔ لیکن دماغ نہیں مان رہا تھا ۔۔۔
“تو پھر ٹھیک ہے اگر تم واقعی وہی ہو جو کہہ رہی ہو تو اس پارک آجانا جہاں ہمیں لے کر جاتی تھی ۔۔” اپنی بات کہہ کر اس نے دوسری طرف کی سنے بغیر فون بند کردیا ۔۔۔اب وہ بے چینی سے لاؤنچ میں ادھر اُدھر چکر کاٹتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔
اس نے ایک نظر دیوار پر لگی گھڑی پر ڈالی ۔۔اور پھر فیصلہ کرتے ہوئے اس نے فلیٹ اور بائیک کی چابی ٹیبل سے پکڑ ی اور باہر دروازہ لاک کر کے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
یہ فلیٹ یونی میں اس نے اور ڈیرئیک نے مل کر لیا تھا ۔۔۔
جان اپنا خرچا خود اٹھنا چاہتا تھا وہ مزید اپنے باپ کا احسان نہیں لینا چاہتا تھا ویسے بھی وہ ان کی نظر میں ایک خودسر اور بےکار بلکل اپنی ماں کی طرح تھا جو کہ ان کے مطابق ان کے ساتھ ہونے کے باوجود کسی اور آدمی کے ساتھ ریلیشن شپ میں تھی ۔۔ اس گھر بھی صرف ایک ہی شخصیت تھی جس کو اس کا خیال تھا اور وہ شازیہ بیگم تھیں جو اسے سپورٹ کرتی تھیں اور کبھی کبھی تو اس کے لیے جعفر صاحب کے سامنے ڈٹ جاتی تثھی ۔۔
بائیک کو سٹارٹ کرتے ہوئے اس نے بائیک اس راستے پر ڈال دی جہاں اکثر اس کی ماں اسے اور اس کی بہن کو لے کر جاتی تھی ۔۔۔
25 منٹ بعد وہ اس پارک میں موجود تھا ۔۔ اس نے اپنے چہرے کے تاثرات نارمل رکھے ہوئے تھے ۔۔ دیکھنے والے کو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ پارک میں سیر کے لیے آیا ہے۔۔۔لیکن اس کے اندر طوفان چل رہا تھا ۔۔
ٹریک پر چلتے ہوئے اس کی نظریں آس پاس کا جائزہ لے رہی تھیں ۔۔
وہاں اکثر مائیں اپنے بچوں کے ساتھ آئی ہوئیں تھیں جنہیں دیکھ کر اسے پرانے یادیں تازہ ہو رہی تھی اس لیے تو اس نے یہاں آنا چھوڑ دیا تھا ۔اپنی بہن کے ساتھ بھی تو آخری بار وہ اسی جگہ آیا تھا ۔۔۔ دل میں چبھن سے ہو رہی تھی ۔۔ ابھی وہ آگے جا رہا تھا کہ سامنے نظر پڑی تو اسے کے چلتے قدم روک گیۓ ۔۔صرف قدم ہی نہیں اس کا دل بھی ایک پل کو رک گیا ۔۔
سامنے ہی تو اس کی ماں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ اس نے سر کو ڈھانپا ہوا تھا اس کا سر جھکا ہوا تھا شاید وہ رو رہی تھی ۔اس کے ہلنے سے جان کو اس بات کا اندازہ ہوا۔۔ وہ دھیمے قدموں سے ان کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اسی وقت ایک آدمی اس کی ماں کے ساتھ آ کر بیٹھا اور اس کی ماں اس کے کندھے سے پکڑ کر ساتھ تسلی دینے کے انداز اپنے ساتھ لگایا۔۔۔اس کی ماں بھی اس شخص کے گلے لگ گی۔۔
یہ سب دیکھ کر جان کو اپنا آپ انگاروں پر جلتا محسوس ہوا۔۔ اس کے کانوں میں اپنے باپ کے زہریلے جملے گونج رہے تھے جو اکثر وہ اس کی ماں کے لیے استعمال کرتا تھا ۔۔
(وہ گھٹایا عورت کا نام بھی نہ سنوں میں اس گھر میں ۔۔ )
(پتا نہیں کس کس کے ساتھ وہ میرے پیٹھ پیچھے رنگ رنگیلا کرتی پھرتی تھی۔)
( یہ باہر کی عورتیں ہوتی ہی ایسی ہے۔۔ ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا ۔۔ ہر طرف منہ ماری کرتی پھرتی ہیں ..بس جہاں کوئی امیر یا خوبصورت مرد دیکھا وہاں اس کے پیچھے پڑ گئ ۔۔)
اور آج جان کو ان کی کہی ساری باتیں سچ لگ رہی تھی ۔۔اس نے اپنے ہاتھوں کی مھٹیاں بھینچ لی اور سرخ ہوتے نظروں سے اس طرف دیکھ رہا تھا جہاں وہ شخص بڑی توجہ اور محبت سے اس کی ماں کے آنسو صاف کر رہا تھا ۔۔
وہ لمبے لمبے ڈاگ بھرتے ہوئے ان کے سامنے جا کر سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔اس کی لہو ہوتی نظریں اپنی ماں کے ہاتھ پہ تھی جو اس شخص کی گرفت میں تھا ۔۔
اس کو دیکھ کر اس کی ماں کے ساتھ وہ شخص بھی کھڑا ہوگیا ۔۔ اس کی ماں نے اس شخص کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکلا بازوں پھلا کر اسے گلے لگانا چاہا تو وہ دو قدم پیچھے ہوتے سرد انداز میں بولا ۔۔
“” میرے قریب مت آنا لیڈی ۔۔ ” اس کے انداز میں اجنبیت محسوس کر کے پھر سے ان کی آنکھوں میں پانی آگیا۔۔
” جہان بیٹا اپنی ماں سے ناراض ہو ۔۔ ؟؟ ” اپنے بازو نیچے کرتے ہوئے وہ ہارے ہوئے انداز میں بولی ۔۔ بلکل ویسے جیسے اکثر اس کے چھوٹے ہوتے اس کے ناراض ہونے پر بولا کرتی تھیں
” نہیں ۔۔ آپ کے زندہ ہونے پر افسوس ہے ۔۔؟؟” اس نے نفرت سے بھرپور نظریں ان پر ٹکا دی ۔۔
اس کی بات سن کر اس کی ماں کے چہرے کا رنگ اڑتا اس نے باخوبی دیکھا تھا ۔۔
ان کو یہ بات بری لگی تھی ۔۔ یہی بات اسے سکون دے رہی تھی ۔۔
وہ بے چین تھا تو اسے بے چینی میں مبتلہ کرنے والوں کو بھی وہ چین سے نہیں رہنے دیتا تھا ۔۔
” اتنی نفرت ۔۔۔؟؟ کیوں ؟ “انہوں نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا ۔۔ جیسے یہ بات سن کر انہیں دل میں تکلیف ہوئی ہو ۔۔
” یہ ڈرامے بند کرو ۔۔ اور اپنے یہاں آنے کا مقصد بتاۓ ۔۔ ؟” جان اب پنٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر بے زاری سے ادھر اُدھر دیکھا۔۔
اس کے اس طرح کہنے سے ان کی آنکھوں سے آنسو اور تیزی سے گرنے لگے
” یہ ڈرامہ نہیں ہے ۔۔۔ میں اپنے بچوں سے ملنے آئی ہوں ۔۔۔ ” وہ جیسے اس کی اتنی نفرت برداشت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔
” اوہ لٹ می گیس اب دل بھر گیا ہوگا مردوں کے دلوں کے ساتھ کھیل کر ۔۔ اس لیے اپنی یہ موت کا ڈرامہ ختم کرنا پڑا ہوگا ۔۔پھر یاد آیا ہوگا کہ ۔۔۔آہ میری تو اولاد بھی ہے ۔۔” وہ طنزیہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے ان کے ساتھ کھڑے آدمی کی جانب مڑا ۔۔۔
” لگتا ہے ۔۔ آپ بھی اس عورت کے دل بھلانے۔۔۔” اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ آدمی جو خاموشی اور ضبط سے ان ماں بیٹے کی باتیں سن رہا تھا مزید جان کی بکواس برداشت نہیں کر سکا دھاڑا
” جسٹ شٹ اپ ۔۔۔ بیوی ہے یہ میری” اس شخص کا چہرہ توہین کی شدت سے لال ہوگیا تھا ۔۔
جبکہ دوسری طرف اس کی ماں اپنے لیے یہ الفاظ سن کر ساکت ہوگئی تھی ۔۔۔
” اوہ امیر ہونگے ۔۔ اس لیے کر لی شادی ” اس نے پھر سے زہر اگلا
” دفا ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔ ” اس شخص نے جیسے بڑی مشکل سے اپنے غصہ پر قابو پایا ۔۔
” مجھے بھی کوئی شوق نہیں ۔۔ گھٹیا لوگوں کے ساتھ باتیں کرنے کا ۔۔ ” اب کی بار وہ شخص اس کی جانب بڑھا ہی تھا کہ ساتھ کھڑی اس کی ماں نے اس کا بازوں تھام لیا اور سر نفی میں ہلا کر انہیں روکا۔۔۔
” اسے کچھ نہیں پتا ۔۔۔ ” وہ بڑی مشکل سے آنسو روکتے ہوئے بولی تھی ۔۔ان کے اس طرح کرنے سے انہیں رکنا پڑا ۔۔
” اور نہ ہی میں کچھ جاننا چاہتا ہوں ۔۔ ” وہ مڑا اور جانے لگا کہ پیچھے سے پھر وہ بولی ۔۔
” ٹھیک لیکن مجھے اتنا بتا دو ۔۔ مریم (جان کی بہن ) کیسی ہے ” ان کی آواز میں التجا تھی ۔۔
اس کے قدم ان الفاظوں پر زنجیر ہوئے آنکھوں کے سامنے اپنی بہن کا چہرہ گھما لیکن اس نے جلد ہی خود پر قابو پایا اور جب بولا تو آواز پہلے کی طرح ہی زہر خند تھی
” بہت دور جہاں چلے جانے کے بعد کوئی واپس نہیں آتا ۔۔ انفکٹ اس معاملے میں وہ لکی ہے کہ یہ چہرہ اور آواز دیکھنے سے تو محفوظ رہی ۔۔ ” بول کر وہ روکا نہیں اور چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔
” میری غلطی اتنی بڑی تو نہ تھی ” یہ آخری الفاظ جانے سے پہلے جان نے سنے تھے ۔۔
اس کے بعد وہ واپس آگیا تھا ۔۔
__________________________
وہ جو ڈبوتے سورج کے ساتھ ماضی میں کھویا ہوا تھا ۔۔
کسی کے ” ہاےے ” کہنے سے واپس آیا ۔اور گردن دائی جانب موڑ کر اس نے ناگوار نظروں سے ان دو لڑکیوں کی جانب دیکھا جنہوں نے اس کے خیالوں میں خلل ڈالا تھا۔
اس کی ناگواری محسوس کر لینے کے باوجود وہو ڈھیٹ بنی اب اسے اپنے ساتھ سیلفی لینے کا کہہ رہی تھیں ۔۔
لیکن جان انہیں دیکھ اور سن کب رہا تھا اس کی نظر تو ان کے پیچھے کھڑی ایما پر تھی ۔۔سورج کی ڈھلتی کرنیں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی ۔۔ ۔جس نے کھلے بالوں پر ٹوپی پہنی ہوئی تھی ۔۔ اس کی کھلے بالوں کی لٹیں بار بار اس کے چہرے پر آکر بوسہ دے رہی تھیں جنہیں وہ پیچھے کر دیتی لیکن وہ پھر آگے آ رہی تھیں ۔۔
جان کو اس کی ان لٹوں سے عجیب سی جلن ہو رہی تھی اس کا ان لٹوں سے دل کہہ رہا تھا کہ ان لٹوں کو اس کے چہرے سے ہٹا کر خود اس کے چہرے پر بوسہ دے ۔۔
اپنی اس خواہش سے گھبرا کر اس نے جلدی سے اپنی نظریں بڑی مشکل سے اس کے چہرے سے ہٹائی تو دیکھا کہ وہ لڑکیاں ابھی بھی پوری باچھیں پھیلائیں اسے دیکھ رہی تھیں ۔۔وہ سمجھی کہ جان ان کی جانب دیکھ رہا ہے ۔۔۔
” ایک طرف ہو جائیں ۔۔۔ “‘ وہ فوراً سے پہلے ایک طرف ہوگئی اور موبائل کا فرنٹ کیمرہ کھول کر پوز سیٹ کر کے کھڑی ہوگئیں تھی اور اب جان کا انتظار کر رہی تھیں ۔۔مگر ان کا منہ بن گیا جب جان نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے گاڑی ڈراونگ والی سائیڈ کی جانب آیا اور دروازہ کھول کر بیٹھ گیا ۔۔۔
بیٹھنے سے پہلے ایک بار پھر اس کی نظر غیر ارادی طور پر اس طرف پڑ گئی جہاں ایما کھڑی تھی ۔۔
مگر وہاں اب کوئی نہیں تھا ۔۔
وہ جگہ خالی تھی ۔۔
جان کو اپنا آپ بھی اس جگہ کی طرح خالی لگا ۔
______________________________
ایما نے جب محسوس کیا کہ جان مسلسل اس کی طرف دیکھ رہا ہے تو اسے الجھن ہونے لگی ۔۔اس لیے وہ حور اور الیویا کو لے کر وہاں سے چلی گئی۔۔
پھر انہوں نے کافی جگہ اور گھومی اور آخر میں ڈنر کر کہ ان کی واپسی ہوئی تھی ۔۔ واپسی پر بھی الیویا نے ان دونوں کو ڈراپ کیا تھا ۔۔
” کل کتنے بجے کی فلائٹ ہے ۔۔ ؟” جب حور اترنے لگی تو ایما کو خیال آیا کہ اس نے ٹائم تو پوچھا ہی نہیں ۔۔
” تین بجے ہے دوپہر کے ۔۔۔ ” حور نے ٹائم بتا کر ایک بار پھر ان دنوں کو بائے کیا اور اندر چلی گئی ۔۔
الیویا ان کو چھوڑ کر چلی گئی ۔۔ ایما نے اسے اصرار بھی کیا وہ اندر آۓ۔۔ لیکن الیویا نے منع کردیا ۔۔ کہ اس کا کو ضروری کام ہے وہاں جانا ہے ۔۔۔
ایما دروازہ کھول کر اندر آئی اور لائٹ آن کی ۔۔ سارا گھر خالی خالی تھا ۔۔ اس کا دل گھبریا تو اسنے لائٹ پھر آف کر دی اور جا کر اس صوفے پر بیٹھ گئی جہاں ازیبلا اکثر اس کے انتظار میں بیٹھا کرتی تھی ۔۔
اس کی آنکھیں ۔ پھر سے بھیگنے لگی ۔۔
اسے ابھی بھی یقین نہیں آتا تھا کہ ازیبلا اب نہیں رہی ۔۔
روتے روتے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتا نہیں لگا اور وہ وہی صوفے پر سو گئی ۔۔۔
کسی نے آرام سے چابی کے ساتھ دروازہ آہستہ سے کھولا کہ کم سے کم آواز نکلے ۔۔۔
اور آہستہ سے اندر آ کر اس کے پاس صوفے کے ساتھ گھٹنوں کے بل بیٹھا اور غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا ۔۔
جہاں آنسو کے نشان ابھی بھی تازہ تھے ۔۔
کچھ دیر اس کے پاس بیٹھنے کے اور اٹھا اور اندر جاکر کمرے سے کمبل نکال کر اس پر ڈال دیا ۔۔
اس کے کمبل ڈالنے سے ایما ہلی تو اس نے اپنی سانس روک لی اور جہاں کھڑا تھا وہیں سٹل کھڑا رہا ۔۔
ایما کے ماتھے پر بل پڑے پھر وہ پرسکون ہوکر سو گئی ۔۔
اس نے اپنی پینٹ کی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور ٹیبل پر اس کے بیگ کے پاس رکھ دیا ۔۔
اس کا دل تو کر رہا تھا کہ جانے سے پہلے وہ اس کے گلے ملے لیکن نہیں یہ مناسب نہیں تھا ۔۔ اس لیے دل کی خواہش پر قابو کرتے ہوئے وہ جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے واپس چلا گیا ۔۔
” آہل میں کتنے دنوں سے دیکھ رہی ہوں تم روز اس وقت باہر چلے جاتے ہو ۔۔۔ ابھی کچھ دن ہی رہ گئے ہیں شادی کو لیکن تم تو ایسے پھر رہے ہو جیسے کسی اور کی شادی ہونے والی ہے ۔۔۔ زرہ جو تم نے کسی کام میں ہاتھ بٹایا ہو ۔۔” آہل جو تیار ہوکر لمبے لمبے ڈاگ بھرتا آج پھر شرجیل کے ساتھ جانے کی تیاری میں تھا ۔۔لاونج سے گزرتے ہوئے دادی جی کی نظروں میں آ گیا ۔۔۔
دادی جی جو کتنے دنوں سے اس کی حرکتیں صبر سے دیکھ رہی تھیں ۔۔آج پھر اس کو وائٹ ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے باہر جانے کی تیاری میں دیکھ کر ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔۔۔
ان کی نازاضگی سے بھری آواز سن کر وہ بھی الرٹ ہوا ۔۔ اور سر میں ہاتھ پھیرتے ہوئے ان کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا ۔
” کام تھا ۔۔ اسلیے جانا پڑا ہے ۔۔۔ لیکن اگر آپ کہتی ہیں تو نہیں جاتا ۔۔بھلا آپ کی بات ٹال سکتا ہوں میں ۔۔ ” اس نے اپنا سر ان کی گود میں رکھ دیا ۔۔
” پتر مجھے کام سے کوئی مسلہ نہیں لیکن تو جو شادی کی تیاریوں سے لاپرواہی دیکھا رہا ہے وہ اچھی نہیں لگ رہی ۔۔” وہ اس کے گھنے بالوں میں پیار سے انگلیاں پھیر کر اسے سمجھاتے ہوئے بولی ۔۔۔
ان کے ایسے کرنے سے اسے اپنے اندر سکون سا اترتا محسوس ہوا تھا ۔۔
اس نے تین سال انہیں کتنا مس کیا تھا ۔۔ یہ صرف اسے پتا تھا ۔۔۔
” اوکے ۔۔ اب جیسا آپ کہیں گی ۔۔ ویسا ہی ہوگا۔۔۔ ” اس نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کر لی ۔۔
” ویکھ ذرہ کام کر کر کے آنی جی شکل بن گئی ہے ۔۔ میرے پتر کی ۔۔۔ ” وہ اس کی اچھی خاصی صحت کو کمزور کہہ رہی تھیں ۔۔۔
آہل نے ان کی اس بات پر کچھ نہیں کہا بس آنکھیں بند کیے لیٹا رہا ۔۔۔
” جا مہک ۔۔ آہل کے لیے تازی جوس لے کر آ ۔۔” انہوں نے پاس سے گزرتی مہک سے کہا ۔۔
مہک جو انکار کرنے کے موڈ میں تھی آہل کا نام سن کر فوراً اندر چلی گئی ۔۔
فون کی بیل پر ۔۔ اس نے موبائل پینٹ کی جیب سے نکلا ۔۔ اور دادی جی کی گود میں ہی لیٹے لیٹے اس نے نمبر دیکھا کس کا ہے ۔
وہ کال شرجیل کی تھی۔۔ اس لیے وہ دادی جی کی گود سے اسے اٹھنا پڑا ۔۔۔
” میں کال سن کر آتا ہوں ۔ ” ان کو آگاہ کر کے وہ باہر لان میں آیا اور وہاں پڑی کین کی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے کال اٹینڈ کی ۔۔
” بابا ۔۔۔ ” کال اٹینڈ کرنے پر جو آواز دوسری طرف سے آئی۔۔۔اس نے اس کے سنجیدہ چہرے پے مسکراہٹ بکھیر دی ۔
” جی بابا کی جان ۔۔۔ ” ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ۔۔چیئر کی بیک سے ٹیک لگا کر ایزی ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔
لان میں ہوا چل رہی تھی جو اعصاب کو تقویت دی رہی تھی آس پاس بھی کوئی نہیں تھا اس لیے وہ آسانی سے دیان سے بات کر رہا تھا ۔۔
” بابا آپ کب آؤ گے ۔۔۔ ؟؟” اس کا معصوم سوال آہل کو خنجر کی طرح چبا تھا ۔۔ داجی کی شرط تھی کہ اگر اس نے اس حویلی اور حور کے ساتھ رہنا ہے تو اسے دیان کو چھوڑنا ہوگا ۔۔
لیکن وہ بھی انہی کا پوتا تھا اس نے بھی سب کچھ پہلے سے طہ کر لیا تھا ۔۔
” شرجیل انکل کہاں ہے ۔۔ ؟؟” اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا اس کے پاس اس لیے اس نے دیان کا سوال گول کر کے شرجیل کا پوچھا تھا ۔۔۔
” ہاں بول ۔۔۔ ” موبائل شاید سپیکر پر تھا ۔۔ اس لیے شرجیل نے فوراََ جواب دیا ۔۔۔
” میں اب نہیں آ پاؤ گا ۔۔ تم ایسا کرو اکیلے چلے جاؤ کوشش کرنا کسی طرح وہ لڑکی مل جائے۔۔” انگلیوں سے اپنی کنپٹی سہلاتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لی۔۔
” اچھا تو ٹینشن نہ لے میں کر لو گا ۔۔۔ تو بس اپنی شادی کی تیاریاں کر ۔۔۔۔” دوسری طرف شرجیل کو بھی اپنے دوست کی حالت پر ترس آیا ۔۔جو کچھ نہ کرتے ہوئے بھی سب کی نظروں میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا ۔۔۔
شرجیل کو پتا تھا کہ آہل ظاہر نہیں کرتا لیکن اندر سے وہ ٹوٹ گیا تھا اس واقعے کے بعد سے ۔۔۔
” اچھا میں رکھتا ہوں ۔۔۔ شادی پر ضرور آنا ۔۔۔” سامنے سے مہک کو آتے دیکھ کر اس نے بات سمیٹی لیکن شادی کے ذکر پر بولتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ آئی تھی ۔
اس کی سیاہ ذہین روشن آنکھوں میں آگ کی سی لپٹ تھی ۔۔اگر شرجیل سامنے ہوتا تو دیکھ لیتا لیکن وہ سامنے نہیں تھا اس لیے اس کو کچھ پتا نہیں چلا ۔۔۔ورنہ شاید وہ اسے سمجھا دیتا ۔۔۔
فون بند کر کے اس نے نظریں اس کی سکرین پر ٹکا دی ۔۔۔اس کے دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا ۔۔
مہک جو آہل کے ساتھ اپنی چائے کا کپ بھی لے کر وہاں آئی تھی ۔۔ اس نے چائے ٹیبل پر رکھ کر خود بھی اس کے ساتھ کی چیئر سنبھال لی تھی ۔۔
” کیسے ہو ۔۔؟؟” مہک نے جب اسے موبائل پر مصروف دیکھا تو مجبوراً اسے خود ہی آہل کو اپنی طرف متوجہ کرنا پڑا ۔۔۔
آہل نے اس کی آواز سن کر سکرین سے نظریں اٹھائی اور اس کی طرف دیکھا جس نے بلیک فٹنگ والی شارٹ شرٹ ساتھ کیپری پہنی ہوئی تھی ۔۔ بال اس کے کھولے ہوئے تھے ۔۔چہرے پر میک آپ اور ہونٹوں پر گہری لپ سٹیک وہ اتنی پیاری تھی کہ اگر کوئی اس کو ایک بار دیکھ لیتا تو اس کے لیے اس پر سے نظر ہٹانا مشکل ہو جاتا ۔۔
لیکن وہاں موجود شخص کوئی اور نہیں آہل تھا اسے اپنے سامنے دیکھ کر بدمزہ ہوا۔۔اس کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔اس کو بلاوجہ اتنا میک اپ اور مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والی لڑکیاں زہر لگتی تھیں ۔۔
جو خود کو دعوت نظارہ بنا کر سب کے سامنے پیش کرتی ۔۔ کہ آؤ اور اپنے حواس زادہ نظروں سے مجھے دیکھو ۔۔
اس نے اپنا چائے کا کپ اٹھایا اور اندر چلا گیا ۔۔۔
” کب تک بھاگوں گے ۔۔۔ ” پیچھے مہک اس کے اس طرح اٹھ کے جانے سے دلفریب انداز سے مسکرائی اور چائے کا کپ لبوں سے لگایا ۔۔۔
یہ تو آنے والا وقت بتانے والا تھا کہ کون کتنا بھاگنے والا ہے ۔۔
کون ہارنے والا ہے ۔۔
کیونکہ وقت سے بڑا کھلاڑی کوئی نہیں ۔۔۔۔
_____________________________
فون کے مسلسل بجنے کی وجہ سے اس کی نیند میں خلل پر رہا تھا ۔۔اس کے ماتھے پر بل پڑے اس نے آنکھیں بند کیے ہی ٹیبل پر ہاتھ ادھر اُدھر کر کے موبائل تلاش کیا ۔۔
موبائل پکڑا۔۔اور ادھ کھلی آنکھوں سے اس نے کال کرنے والے کی پروفائل دیکھی ۔۔۔
کال آنا اب بند ہوچکی تھی
” حور ..” نام دیکھ کر اس نے پھر آنکھ بند کر لی ۔۔ مگر کسی خیال کے آتے ہی اس نے پٹ سے آنکھیں کھولی ۔۔ اور ٹائم دیکھا ۔۔۔
1بج کر 42 منٹ ہوئے تھے اور تین بجے حور کی فلائٹ تھی ۔۔
خود کو کوستے ہوئے وہ اچھل کر صوفے سے کھڑی ہوئی اور کمرے کی طرف بڑھی ۔۔ اس کے پاس ٹائم بہت کم تھا ۔۔ اس لیے جلد سے فریش ہو کر اس نے چینج کیا ۔۔۔بالوں کو ڈرائر سے جتنا ہوسکا اس نے ڈرائے کیا ۔۔۔اور گلے میں سٹالر ڈال کر جوگز پہنے اور باہر نکلی ۔۔
دروازے بند ہونے کے بعد اسے یاد آیا کہ اس کا بیگ اور موبائل ٹیبل پر پڑا رہ گیا ۔۔
سر پر ہاتھ مارکر اس نے جلدی سے دروازہ دوبارہ کھولا یہ تو شکر تھا کہ چابی اس کے پاس ہی تھی بیگ اور موبثائیل پکڑتے ہوئے اس نے دیکھا کہ ایک صفحہ سا نیچے گرا ۔۔ اس نے وہ اٹھیا اور الٹ پلٹ کر دیکھا ۔۔ اندر کچھ لکھا تھا ۔۔ ابھی وقت نہیں تھا اس لیے وہ بیگ میں ڈالا اور دروازہ بند کر کے وہاں سے بھاگتے ہوئے چلی گئی ۔۔
کتنی بس چینج کر کے وہ وہاں پہنچی اسے ہی پتا تھا ۔۔۔
ائیرپورٹ کے باہر کھڑے ہوکر اس نے اپنا سانس درست کرتے ہوئے وقت دیکھا ابھی دو بجے تھے ۔۔۔
سیدھی کھڑی ہو کر اس نے اپنے بال کان کے پیچھے اڑسے جو بار بار چہرے پر آ رہے تھے اور اندر چلی گی ۔۔
اور ادھر اُدھر حور کی تلاش میں دیکھ ہی رہی تھی کہ کسی نے زور سے اس کے بال کھینچے ۔۔۔
مڑ کر دیکھا تو ایک نوجوان لڑکا کھڑا کافی عضے سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔اس کے ہاتھ میں ایک چپس کا پیکٹ بھی تھا ۔۔
ایما اسے جانتی تھی وہ حور کا بھائی علی تھا۔۔
” ویسے نا چھوٹا بھائی ہونا ہی غلط ہے ۔۔ بلکہ بھائی ہی نہیں گھر میں چھوٹا ہونا ۔۔لوگ چھوٹا ہی سمجھ ہی لیتے ہیں ۔۔ جاؤ یہ کر دو ۔۔وہ کر دو۔۔ اور اگر منع کرو تو آپ کے لیے سپیشل چپلی کباب تیار ہونگے امی کے ۔۔ ” علی کو شاید حور نے ہی اسے ہی دیکھنے کے لیے یہاں کھڑا کیا تھا ۔۔زیادہ انتطار کرنے کی وجہ سے اس کا موڈ خراب ہوگیا تھا اس لیے اس نے لمبا سا لیکچر ہی دے ڈالا ۔۔
ایما نے اس کے لیکچر کے جواب میں اس کے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ لیا اور کھانے لگی ۔۔
علی کا تو منہ ہی کھل گیا ۔۔ یعنی دن دھاڑی آنکھوں کے سامنے کتنی دلیری سے اسے لوٹا گیا ۔۔۔ایک معصوم سے بچے کو ۔۔۔
” ایما آپی ۔۔ یہ اچھی بات نہیں ۔۔ ” علی نے منہ بنا ۔۔۔
” ابھی تو مجھے حور کے پاس لے جاؤ ۔۔پھر اچھا برا دیکھیں گے ” ایما نے اس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔۔
یہ بات علی کو پسند نہیں آئی اس لیے وہ ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑا ہوگیا ۔۔
ایما نے حیران ہو کر اس کو اتنا ایزی کھڑا دیکھا اور چپس کھاتے اس کے ہاتھ روک گیے ۔۔
” کیا بات ہے ۔۔ اب چلو بھی ۔۔ ” علی نے نہیں میں سر ہلا ۔۔
” کیوں کیا مسئلہ ۔۔ ” ایما نے ایک ہاتھ کمر پر رکھ کر لڑنے کے انداز سے پوچھا ۔۔
علی نے جواب میں اس کے ہاتھ سے اپنے چپس کا پیکٹ جھپٹا اور بھاگ گیا ۔۔
” ارے ۔۔ ” ایما بھی اس کے پیچھے بھاگی کہ اس کا سر زور سے کسی کے سینے سے ٹکریا۔۔۔۔
ایما کو اپنے سر کے ارگرد تارے ناچتے دیکھائی دے رہے تھے ۔۔
اس کا بیگ اور موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گیا
وہ سر پکڑے اس شخص کے سینے سے پیچھے ہونے لگی کہ لڑکھڑئی تو اسی شخص نے اسے بازوں سے پکڑ کر سنبھالا۔۔
ایما کے حواس تھوڑے سنبھلے تو اسے اپنے ارگرد بڑی جانی پہچانی خوشبو آئی ۔۔اس نے سر سے ہاتھ ہٹایا تو اس کی نظر سب سے پہلے بوٹوں پر ہی گئی ۔ کالے بوٹوں سے ہوتی اس کی نظر اوپر کی طرف گئی بلیک پینٹ وائٹ شرٹ اور بلیک کورٹ پھر چہرے پر نظر پڑتے ہی اس نے منہ بنایا ۔۔۔
وہ جان ہی تھا جو اس کو خود کا تفصیلی جائزہ لیتا دیکھ رہا تھا ۔۔ اس نے ابھی بھی ایما کا بازو پکڑا ہوا تھا ۔۔
” لگتا ہے بریکیں خراب ہوگئی ہیں ۔۔ دماغ اور پاؤں کی ۔۔ ” جان نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
اس کی نظروں نے ایک ہی پل میں ایما کا تفصلی جائزہ لے لیا تھا ۔۔۔ موٹی سی نیلی جرسی اور نیلی ہی پینٹ پہنے وہ جان کو اپنے دل سے بہت قریب محسوس ہو رہی تھی ۔۔
اس کی بات سن کر ایما سھلگ ہی تو گئی ۔۔
اس نے جھٹکے سے اپنے بازؤں اس کی گرفت سے آزاد کرواے اور انگلی اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے غصے سے بولی ۔۔” میرا دماغ اور پاؤں دنوں بلکل سہی ہیں ۔۔ ضرورت تمہیں ہے ۔۔۔ بہتر ہے چیک کرو ۔۔ “
جان پرسکون سے انداز سے سینے پر ہاتھ باندھ کر اس کی بات سن رہا تھا ۔۔ اسے جیسے ایما کے غصے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔۔
ایما کی بات کے ختم ہوتے ہی وہ اپنے اور اس کے درمیان دو قدم کا فاصلہ مٹاتا اس کے سامنے آیا اور اس کی بھوری آنکھوں میں اپنی نیلی آنکھیں ڈال کر اس نے جیسے ایما کو اپنی نیلی سمندر جیسی آنکھوں میں قید کر لیا تھا ۔۔
“میری توجہ چاہتی ہو جو بات میں طول دے رہی ہو ؟؟ ۔۔ ” جان اس کی بھوری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے گمبھیر لہجے میں بولا۔۔
ایما کو یوں لگا جیسے وہ اس کے اردگرد کوئی حسار پھونک رہا ہے لیکن اس نے جلد ہی خود کو سنبھلا ۔۔
اسے جان کی اس بات سے الجھن ہوئی بھلا اس نے کب بات کو طویل دی ۔۔ اس کی بھوری آنکھوں میں الجھن تیری جو جان نے بغور دیکھی ۔۔
” چلو پانچ دن بعد ویسے بھی تم نے میرے پاس ہونا ہے ۔۔” جان نے اس کے چہرے پر آئی لٹ کو کان کے پیچھے کیا ۔۔۔
ایما اس کے ایسے کرنے سے گھبرا کر پیچھے ہوئی ۔۔ اسے جان کی قربت سے ڈر لگتا تھا ۔۔۔ جب جب وہ پاس آتا تھا تب تب اس کا دل بری طرح دھڑکنے لگتا تھا ۔۔ زبان تو جیسے تلالوں سے چپک جاتی تھی ۔۔جان کو شاید اس بات کا علم تھا اس لیے وہ بار بار اسے امتحان میں ڈالتا تھا ۔۔
” اتنا خوشفہم نہیں ہونا چاہیے۔۔ ” ایما نے سنبھل کر جواب دیا ۔۔اور نیچھے سے اپنا موبائیل اور بیگ پکڑا ۔۔
موبائل پکڑ کر اسے افسوس ہوا کیونکہ اس کی سکرین ٹوٹ چکی تھی ۔۔ اسے یہ موبائل بہت عزیز تھا ۔۔ یہ اس کے ڈیڈ نے اسے اس کی سالگرہ پر دیا تھا۔۔
” ایما۔۔۔ ” حور جو ایما کی تلاش میں آئی تھی اسے ایک ہنڈسم بندے سے بات کرتا دیکھ کر اس نے دور سے ہی دو تین بار آوازیں دی ۔۔ شاید آواز اس تک نہیں گئی تھی ۔۔اس لیے وہ مجبوراً اس کے پاس آئی۔۔
حور کی آواز سن کر ایما نے فوراً اس طرف دیکھا جہاں سے حور کی آواز آئی تھی ۔۔ اس نے کٹیلی نگاہ جان پر ڈالی اور حور کی طرف بڑھ گئی ۔۔
جان اس کو جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔ اسے پتا تھا وہ یہاں اپنی دوست کو سی آف کرنے آئی تھی ۔۔ ایما کی ہر حرکت پر اس کی نظر تھی ۔۔
وہ مڑ کر جانے لگا کہ اس کے پاؤں کے نیچے کوئی کاغذ آیا ۔۔۔وہ شاید ایما کے بیگ سے نکلا تھا ۔۔ اس نے نیچے جھک کر وہ کاغذ اٹھیا اور کھول کر پڑھنے لگا ۔۔۔
پرھتے ہوے اس کے ماتھے پر بالوں کا جال بن گیا ۔۔
نیلی آنکھیں غصے سے لال ہو رہی تھی ۔۔
اس نے لب بھینچے وہ کاغذ تہہ کر اپنی پینٹ کی جیب میں ڈال لیا تھا ۔۔۔
اب اس کی پرسوچ نظریں اس طرف تھیں جہاں سے ایما اور حور گئی تھیں ۔۔
اس کے دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا ۔۔
وہ ائیرپورٹ سے نکل کر اپنی گاڑی تک آیا ۔۔
وہ یہاں شازیہ بیگم کے اصرار پر حنان کو سی آف کرنے آیا تھا جسے کام کے سلسلے میں ڈیڈ نے بھیجا تھا ۔۔۔
________________________
شہر سے دور سنسان سی جگہ پر ایک عام سا گھر تھا ۔۔
اندر جاؤ تو ایک چھوٹا سا تین کمروں کا اور ایک کچن کا عام سا گھر تھا ۔۔
لیکن اگر خوفیا راستے کا استعمال کرتے ہوئے نیچے جاؤ تو نیچے ایک بہت بڑا ساؤنڈ پروف ہال نما کمرہ تھا ۔۔۔
اسے ٹاچر سیل کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔۔۔
مختلف قسم کے آلات وہاں موجود تھے ۔۔
ایک سائیڈ پر ایک جیل نما کمرہ بھی تھا جہاں کچھ لوگ بند تھے انہوں نے اپنی سانسیں تک روکیں ہوئی تھی وہ اتنا سہمے ہوئے تھے کہ ایک دوسرے کے ساتھ چپک کر بیٹھے تھے ۔۔۔ کچھ نے تو آنکھیں بند کر کے کانوں میں بھی انگلیاں ڈالی ہوئی تھی ۔۔ان کے سیل کے پاس ایک دیوقدامت آدمی کھڑا تھا ۔۔۔
لیکن وہ لوگ اس سے نہیں ڈر رہے تھے ۔۔۔
وہ تو سامنے چلتے منظر سے خوفزدہ تھے ۔۔
ان کی سانسیں سینے میں اٹکی ہوئی تھیں
سٹیچر پر ایک آدمی بندھا ہوا تھا ۔۔۔ اس کے ہاتھوں کے ناخن غائب تھے ۔۔ جسم پر بھی گہرے گہرے کٹ لگے ہوئے تھے ۔ وہ درد سے مسلسل چیخ رہا تھا۔۔ کیونکہ اس کے پاس موجود شخص دیھرے دیھرے چھوٹی سی سوئی اس کی آنکھ کے اندر ڈالی جا رہا تھا ۔۔اور ساتھ ساتھ اس کی اذیت سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔۔۔ یہ اذیت بھری چیخیں ہی تو اس کا سرور تھیں ۔۔۔وہ آدمی سر بھی نہیں ہلا سکتا کیونکہ اس کا ماتھا بھی بلیٹ نما پٹی سے بندھا ہوا تھا ۔۔۔
اس شخص نے ایک سوئی ایک جگہ روک دی ۔۔۔
اس کے روکتے ہی وہ شخص تکلیف سے کراہتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔
” ڈی ۔۔جو ۔۔۔چاہے لے لو ۔۔۔ لیکن مجھے ایک بار میں مار دو۔۔ ” ڈی نے اس کی بات سن کر اپنی کالی آنکھیں اس پر گاڑ دی ۔۔۔
” ڈی کو جو چاہے ہوتا ہے وہ لے لیتا ہے اسے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ۔۔۔ اور رہی بات ایک ہی بار مارنے کی ۔۔اس میں وہ مزہ کہاں جو تڑپا تڑپا کر مارنے کا ہے ۔۔۔ ” وہ اب سوئی اس کی آنکھ سے نکال کر دوسری آنکھ میں ڈال رہا تھا ۔۔
بیسمنٹ پر سے چیخوں سے گونج رہا تھا ۔۔ وہ اس طرح پر سکون تھا جیسے سوئی سے کوئی کپڑا سی رہا ہے ۔۔ اس آدمی کا چیخنا جیسے کوئی گانا تھا اس کے لیے ۔۔۔
اب تو وہ آدمی بھی خاموشی ہوگیا تھا ۔۔ شاید تکلیف سے بےہوش ہوگیا تھا ۔۔۔
” اس کو اندر کرو۔۔ اور اسے نکالو۔۔ جس نے میرے ڈی کے آدمی کو مارنے کی کوشش کی ۔” اس کی بات پر وہ دیو قدامت شخص اندر گیا جہاں لوگ قد تھے ۔۔ اس کے اندر آنے سے وہ لوگ اور ایک دوسرے کہ ساتھ جڑ کر بیٹھ گئے۔۔۔۔ اس دیوقدامت آدمی نے مطلوبہ شخص لے کر باہر آیا ۔۔ جیسے اب ڈی کے اگلے حکم کا منتظر تھا ۔۔
“اس کو اس پر لٹا دو ۔۔ اور ہاں ساری کینڈل جلا دینا اور لائٹ بند کر دینا ۔۔۔” ڈی اس سٹیچر کے تھوری دور چیئر پر بیٹھ گیا ۔۔ ساتھ میں اس نے رومال سے اپنا ہاتھ صاف کیا جو خون سے بھرا ہوا تھا۔۔۔
وہ دیو قدامت آدمی اسے جس سٹیچر پر باندھ رہا تھا ۔۔اس کے اوپر کینڈل ہی کینڈل تھی جو لوہے کی جالی پر رکھی گئی تھی۔۔۔وہ آدمی اب سمجھا اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔۔
ڈی کے ارادے نے سانس روک دی تھی ۔۔۔وہ اسے قطرہ قطرہ جلا کر مارنے والا تھا ۔۔ وہ سمجھ گیا تھا ۔۔
” ڈی ۔۔ مجھے معاف کر ۔۔دو۔۔ پلیز ۔۔۔ ” وہ آدمی خود کو آزاد کرنے لگا ۔۔۔اس کی نظریں اوپر تھیں ۔۔جہاں وہ کینڈل جل رہی تھی۔۔
” تم نے میرے آدمی کو پیٹرول سے جلا کر مارنا تھا ۔۔ آگ سے کھیلنا پسند ہے تو اب کیوں گھبرا رہے ہو ۔۔ ” ڈی اپنے بازؤں کے کف اب نیچے کرتے ہوئے پرسکون انداز میں بولا۔۔۔
” ڈی ۔۔ آہ ۔۔ پلیز ۔۔ ” موم اب پیگلنا شروع ہوگئی تھی ۔۔اور اس پر گر رہی تھی ۔۔۔
ہال کی لائٹ بند تھی ہر طرف اندھیرا تھا سوائے اس حصےمیں جہاں موم بتیاں جلی ہوئی تھیں ۔۔اور اس کے نیچھے وہ آدمی ۔۔
ڈی منہ پر انگلیاں رکھے اپنا من پسند منظر دیکھ رہا تھا ۔۔ اس کی کالی پراسرار آنکھیں اس وقت چمک رہی تھیں ۔۔
وہ دیو قدامت شخص فون لے کر اس کے پاس آیا تھا ۔۔
اس نے فون پکڑ کر اسے جانے کا اشارہ کیا جسے سمجھ کر وہ فوراً وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
فون پر کلائنٹ۔۔۔ 0109 لکھا ہوا تھا
اس نے فون کان سے لگایا ۔۔
” میرے شرائط یاد ہیں ۔۔۔ ” اس نے دوسری طرف کی بات سن کر پرسکون انداز میں کہا۔۔ اس کا پرسکون انداز بھی خطرناک لگتا تھا ۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔ انفورمیشن اور تصویریں بھیج دو ۔۔ ” یہ کہہ کر اس نے فون بند کیا اور دوبارہ اس آدمی کی طرف دیکھا جو درد سے پاگل ہو رہا تھا ۔۔ کیونکہ گرم گرم موم اس کے جسم پر بارش کی طرح مسلسل مختلف جگہ سے گر رہا تھا ۔۔
میسج ٹون سے اس نے میسج کھولا۔۔
” آہ اب مزہ آئے گا۔۔۔ جب مقابلہ برابری کا ہو ۔۔۔ “وہ تصویر پر دیکھ کر خوش ہوتا خود سے بولا۔۔
‘ جہان ۔۔عرف جان۔۔ جلد ہی یہاں ملیں گے ۔۔ اس باربی ڈول ایما کا بھی یہاں ہونا حق ہے ۔۔ ” ڈی قہقہ لگاتے ہوئے موبائل پر باقی معلومات دیکھ رہا تھا ۔۔
” امید ہے یہ ملاقات پیچلے سے زیادہ یادگار رہے گی۔۔” ڈی دوبارہ جان کہ تصویر دیکھتے ہوئے بولا۔۔
سٹیچر پر بندھے آدمی نے جب تکلیف سے منہ کھولا تو موم اس کے منہ کے اندر بھی چلی گئی ۔۔۔وہ اور بری طرح تڑپ اٹھا تھا ۔۔
________________________
ایما حور سے مل کر واپس گھر آئی تو سب سے پہلے اس نے ازیبلا کے کمرے کا رخ کیا ۔۔اور اس کی کبڈ کھول کر اس نے گھر کے پیپرز نکلے ۔۔۔اس کا ارادہ گھر پر لون لے کر جان کو اس کے پیسے واپس کرنے کا ارادہ تھا ۔۔۔پھر بعد میں وہ آہستہ آہستہ کر کے لون پورا کر دے گی ۔۔
لیکن اس گھر کے پیپرز کے ساتھ جو پیپر اس کے ہاتھ آئے انہوں نے اس کی آنکھیں کھول دی ۔۔۔
یہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔
وہ پیپر لے لیے وہی زمین پر بیٹھتے ہوئے بے یقینی سے بولی ۔۔۔
ان پیپر پر لکھا تھا کہ اس گھر پر لون لیا گیا۔۔۔ اور اس کو جو مہینہ چل رہا ہےاسی میں اس کے پیسے واپس کرنے ہے ورنہ بینک اسے قبضے میں لے لے گی ۔۔
اس مہینے کے ختم ہونے میں دن رہ کتنے گئے تھے صرف 3۔۔۔
اس نے جلدی سے الماری دیکھی شاید کوئی اور کاغذات ہوں ۔۔۔لیکن اندر کچھ نہیں تھا ۔۔ اسے پتا تھا اگر بینک نے ایک بار یہ گھر لے لیا پھر اس کا کیا ہوگا ۔۔
اس گھر سے اس کی کتنی یادیں تھی ۔۔۔
ڈیڈ ۔۔
موم ۔۔
پیٹر اور اس کا بچپن ۔۔
ابھی تو پیٹر کو بھی اس نے ڈھونڈنا تھا ۔۔ حور بھی چلی گئی ۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایسے حالات میں وہ کرے تو کیا کرے ۔۔ زندگی ۔۔جیسے ایک دم اس پر تنگ ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔
ہر طرف سے راستہ بند ہو رہا تھا ۔۔
یوں لگ رہا تھا جیسے ہر طرف اندھیرا ہوگیا تھا ۔۔
بلکل اس کے خواب کی طرح اور وہ لال آنکھوں والے ساۓ وہ یہ سب مصیبتیں ہی تو تھیں جو اس کے اندر اسے مار رہی تھیں ۔۔
خواب میں مطلب وہ خود تھی ۔۔۔
تھوڑی دیر اسی طرح وہ سر پکڑ کے بیٹھی رہی پھر کسی خیال کے آتے ہی وہ اٹھی ۔۔اپنی ٹوٹی سکرین والا موبائیل پکڑا اور حنان کا نمبر ڈائل کیا ۔۔
نمبر بند جا رہا تھا ۔۔
ایک بار ۔۔
دو بار ۔
وہی جواب ۔۔ اس نے حنان کے گھر کے نمبر ڈائل کیا جو حنان نے ہی دیا تھا ۔۔ وہ شاہد اس کی موم کا تھا ۔۔
کیونکہ دوسری طرف سے کوئی عورت بول رہی تھی ۔۔
” آپ حان کی موم ہیں ۔۔۔ ” ایما نے جہجکتے ہوئے پوچھا ۔۔ اسے شازیہ بیگم سے بات کرتے ہوئے ہمشہ جہجک ہوئی تھی ۔۔
” جی ۔۔ آپ کون ۔۔ ” دوسری طرف سے نرمی سے بولی ۔۔
” میں ایما ۔۔ حان کی دوست ۔۔ کیا میری اسے سے بات کرا دیں گی ۔۔ ” ایما نے درخواست کی ۔۔
” وہ تو بزنس کے سلسلے میں گیا ہے ۔۔اور 4 دن اس سے کنٹک کرنا ۔۔۔ ممکن نہیں ۔۔۔” اسے یہاں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔۔
” اوکے ۔۔ تھینکس۔۔۔ ” اس نے اپنے ہونٹ اندر کر کے جیسے خود کو رونے سے روکا ۔۔ اور فون کے بند ہوتے ہی اس نے فون سائیڈ پر رکھا۔ اور خالی خالی نظروں سے کبھی موبائل کی سکرین کو دیکھتی رہی اور کبھی پیپز کو ۔۔
آنسو ایک ایک کر اس کا گال بھیگنونے لگے ۔۔
اسے اس وقت بہت شدت سے اپنے اکیلے ہونے کا احساس ہو رہا تھا ۔۔۔
” ایما تم یہ ۔۔ گھر ۔۔ نہیں کھو ۔۔۔ سکتی ۔۔۔ ” اس نے خود کو جیسے خبردارکیا ۔۔” آنکھیں اس کی لال ہو رہی تھی ۔۔
سر درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔۔
اس نے اٹھ کر کچن کا رخ کیا ۔۔اسے پتا تھا اب جو بھی کرنا ہے اسی نے کرنا ہے ۔۔اس کے لیے اسے خود کا خیال بھی رکھنا ہے ۔۔
اس نے کافی بنائی ساتھ میں ایگ اور ٹوس فرائی کیے۔
ایگ اور ٹوس ختم کر کہ اور باقی بچی ہوئی کافی پینے لگی کہ اس کے دماغ میں ایک خیال آیا ۔۔۔ اس کی نظریں کافی پر تھی اور دماغ کہیں اور ۔۔
اس کا دماغ جو کہہ رہا تھا ۔۔دل اس کے لیے بلکل راضی نہیں تھا ۔۔۔
اور کافی کا کپ وہیں اس کے ہاتھ میں پکڑا ٹھنڈا ہونے لگا ۔۔۔
دماغ کا فیصلہ بازی لے گیا ۔۔ دل منہ بسورتا رہ گیا ۔۔۔
