465.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah Phala Ishq Episode 25

Raah Phala Ishq by Zoha Qadir

آج ڈیرییک اسے ڈیٹ پر لایا تھا ۔۔۔ اور جگہ بھی وہی تھی جہاں ان کی پہلی ڈیٹ تھی ۔۔۔

اکسڈنٹ کے بعد جو کمزوری اسے ہوئی تھی وہ کافی حد تک ٹھیک ہوگی تھی ۔۔ ٹانگ پر اب بھی پلاسٹر چھرڑا تھا لیکن اسے کہاں پرواہ ۔۔۔

” ویسے یار ۔۔ اس دن تم نے ذاتی کی تھی میرے ساتھ ۔۔۔ ” ہونٹوں پر مچلتی مسکراہٹ کو روکتے ہوے اس نے اسے دیکھا جو کھا جانے والوں نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ اسے اچھی طرح پتا تھا کہ اس نے اسے زچ کرنے کے لیے یہ ذکر چھڑا ہے۔۔۔

” بلکل واقعی ذاتی ہوگی تھی۔۔ مجھے وائن نہیں گرانی چاہیے تھی ۔۔۔۔۔۔ بلکل تیزاب سے تمہارا دماغ صاف کرنا چاہیے تھی ۔۔۔ ” ایک ایک لفظ کو چباتے اس نے جلے کٹے انداز میں کہا کہ وہ لطف اندوز ہوگیا ۔۔۔۔ اس کے بھر پور قہقے روسٹورنٹ میں گونج اٹھے ۔ الیوویا نے بڑے سلگ کر اسے دیکھا جو ایسے خوش ہو رہا تھا جیسے پتا اس نے اس کی کتنی تعریف کردی ہو ۔۔۔

” تو ثابت ہوا ۔۔۔ مس اولیویا مجھ سے اتنی محبت کرتی ہیں کہ ہر وقت میرے بارے میں سوچتی ہو ۔۔۔ ” قہقہ کو بڑی مشکل سے روک کر اس کی جانب شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے گویا ہوا ۔۔ وہ کراہ کر رہ گی تھی ۔۔ اور اٹھ کر جانے لگی کہ ڈیرییک نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا ۔۔ اور آبرو اوپر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔ جبکہ سبز آنکھیں میں ابھی بھی شرارتی چمک تھی ۔۔۔

” اتنی جلدی ہار مان لیتی ہو تم تو یار ۔۔۔ ” اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوے وہ چیئر کی بیک سے ٹیک لگا کر اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

” ہار اور وہ بھی اولیویا ۔۔ پوسبل ہی نہیں ۔۔۔ ” وہ بھی دوبارہ اس کے سامنے بیٹھتے ہوے چیلنج انداز میں گویا ہوئی تھی ۔۔۔

” اچھا یہ بات ہے ۔۔۔۔ ؟؟” اس نے ٹیبل پر اپنے دنوں بازوں ٹکاتے ہوے اس کی جانب جکھتے ہوے پوچھا ۔۔۔

” جی ۔۔ یہی بات ہے ۔۔۔ ” وہ بھی اسی انداز میں اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی ۔۔ انداز پر اعتماد تھا ۔۔۔

دور سے دیکھنے میں لگ رہا تھا کہ بہت ہی رومنٹک کپل ہے لیکن اصل بات تو وہ دنوں ہی جانتے تھے ۔۔۔

” چلو پھر آج اگر ایک پل بھی کوئی ایسا موقعہ آیا کہ تمہارا دل میرے لیے ڈھرکا تو تم ایمانداری کے ساتھ میرا پرپوزل اکسپٹ کرو گی ۔۔بولو ہے منظورِ ” بڑی سنجیدگی سے اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اسے چیلنگ کیا ۔۔ ایک پل کو اس کی چھوڑنے والی بات پر اولیویا کا دل زور سے ڈھرکا ۔۔۔ مگر صرف پل کے لیے ۔ پھر وہ دوبارہ اپنے پر اعتماد انداش میں واپس آگی تھی۔۔

” منظور ۔۔ کیونکہ مجھے یقین ہیں ۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔۔۔ ” اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اس نے بھی چیلنج اکسپٹ کیا۔

” تم میرے ساتھ اتنی مین کیوں ہو ۔۔۔ ” اس نے ناراضگی سے اسے دیکھا اور ساتھ ہی موبائیل بھی نکال لیا ۔۔۔

” اوہ ۔۔ہلیو ۔۔۔ کیا تم کبھی خود سے ملے ۔۔۔؟؟ تم زرہ بھی اچھے نہیں ہو ۔۔۔ ” کیا شانِ بے نیازی تھی ۔۔۔

” یہ تو اور بھی اچھی بات ہے ۔۔۔ نہ میں اچھا نہ تم ۔۔ یعنی جوڑی خوب جمے گی ۔۔۔” جان کو میسج پے میسج کرتے اس نے زبان کو بند کرنے والی غلطی غلطی سے بھی نہیں کی ۔۔۔

اولیویا نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا اور وہ بھی موبائیل نکال کر اس میں مصروفِ ہوگی۔۔۔

آڈر وہ لوگ کر چکے تھے ۔۔۔ خیر وہ لوگ کہنا غلط ہوگا ۔۔ کیا تو بس ڈیرییک نے تھا ۔۔ لیکن لگ وہ آٹھ بندوں کا تھا ۔۔۔ اب ظاہری سی بات تھی ٹائم تو لگنا تھا ۔۔

ابھی تھوری دیر ہی ہوئی تھی کھانے آئے کو کے جان ماتھے بڑے بڑے بل ڈالے ریسٹورنٹ میں داخل ہوا اس کے پیچھے ہی ایما بھی ۔۔۔

ڈیرییک پر نظر پڑتے ہی وہ لمبے لمبے ڈنگ بھرتا اس کی جانب آیا اور پاس آکر اسے گھورا ۔۔ جس کا منہ اور ہاتھ کھانا کھانے میں مصروف تھے ۔۔۔

یعنی بہت بہت ضروری کام ہو رہا تھا

” کیا مسلہ کیوں بار بار تنگ کر رہے تھے ۔۔ پتا ہے کتنا ضروری میٹنگ چھوڑ کر آنا پڑا ہے مجھے ۔۔۔ ” وہ کافی غصے سے میں تھا ۔۔ جسے دیکھ اولیویا اور ایما بھی گھبرا گی لیکن وہ جس پر غصہ کر رہا تھا وہ کمال اطمینان سے چکن پیس ٹیبل پر رکھتے ہوے اس کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔

” تم خود آگے ہوے اچھی بات ہے ۔۔ ورنہ اگر میں وہاں آتا تو ان لوگوں کو میٹنگ چھوڑ کر جانا پڑنا تھا ۔۔ ” بات مکمل کر کے وہ پھر کھانا کھانے میں مصروف ہوگیا ۔۔

ایک چیز تھی بس ۔۔ جو اسے سیریس کر سکتی تھی ۔۔

اور وہ تھی کھانا ۔۔۔

جان نے اسے گھورتے ہوے ویئر کو اشارہ کر کے مزید دو چیئر لانے کا ۔۔۔

چیئر آنے کے بعد وہ اس پر بیٹھ گیا ۔۔ موبائیل پر اب وہ ویڈیو کے ذریعے میٹنگ اٹنٹڈ کر رہا تھا ۔۔ کیونکہ میٹنگ واقعی بہت ضروری تھی ۔۔۔

ڈیرییک تم پاگل تو نہیں ۔۔۔ ” ایما نے ڈیرییک کو ایسے دیکھا جیسے واقعی اس کا دماغ خراب ہوگیا ہو ۔۔ وہ لوگ کھانا کھانے کے بعد نکلے ہی تھے کہ ڈیرییک کو ایک گاڑی نظر آئی جو سہی سے لوک نہیں تھی ۔۔۔ پھر کیا ۔۔ وہ گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی بھاگا کر لے گیا ۔۔۔ پیچھے گاڑی کا مالک بے حواسی سے اس کے پیچھے بھاگا تھا لیکن ڈیرییک صاحب مستی کرنے کے فل موڈ میں تھے ۔۔۔

بڑی مشکل سے اس مالک کو انہوں نے پیسے دے کر ٹھنڈا کیا تھا ۔۔

” ہاں ہو ۔۔ تو پھر ۔۔ ” مزے سے ادھر اُدھر دیکھتے اس نے جواب دیا ۔۔

شام کا وقت تھا ۔۔ سٹریٹ لائٹس آن ہوگی تھی ۔۔ آس پاس برف کو سرک سے ہٹا کر گاڑی کے گزرنے کے لیے جگہ بنی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ چاروں گاڑی پیچھے پارکنگ میں چھوڑ کر اب واک کر رہے تھے ۔۔۔

” تو پاگل خانے جاؤ بھائی ۔۔۔ ” ایما نے چڑ کر اس کے سامنے ہاتھ جوڑے۔۔ اس بات پر جان کی بلیو آنکھوں میں عجیب سی سرد مہری آئی ۔۔ جو اور کسی نے نہیں لیکن ڈیرییک دیکھ چکا تھا ۔۔

” میں ابھی آتا ہو ۔۔۔ ” وہ لمبے لمبے ڈنگ بھرتا ان سے آگے چلنے لگا ۔۔ ڈیرییک نے اولیویا کو اس کے پیچھے جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔

” کیا ہوا۔۔۔ ” ایما نے پریشانی سے ڈیرییک کو دیکھا جو دور جاتے جان کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” ایما ۔۔ جان نے بارے میں کتنا جانتی ہو تم ۔۔۔۔ ؟؟؟” ڈیرییک نے روک کر جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اس کی جانب دیکھا ۔۔ اس کے سوال پر وہ ہڑبڑا گی ۔۔ لیکن پھر سنبھل گی ۔۔۔

” میں اسے قاتل سمجھتی ہوں ۔۔” اس نے اعتماد کے ساتھ جواب دیا اس کی بات سے وہ ایک پل کے لیے چپ ہوا ۔۔

” تم کسی کو جاننے بغیر ایسے کس بنا پر کہہ رہی ہو ۔۔۔ ؟؟؟ ” ڈیرییک کو غصہ تو چھڑا تھا لیکن اس نے ضبط کیا ۔ ۔

” مجھے حان نے بتایا سب ۔۔۔ کہ ۔۔۔ ” اس کی بات کو ڈیرییک نے مکمل کیا۔ ۔۔

” کہ جان نے اپنی ۔ماما ۔۔ اپنی بہن اور روکی کو خود مارا یہی نا ۔۔۔ ” تلخی سے اس نے اس کی بات کو مکمل کیا ۔

” ہاں ۔۔ تو کیا ایسا نہیں ۔۔۔ ” اس نے سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے دیکھا ۔۔۔۔

” اچھا اگر ۔۔ اس نے اپنی ماں کو ماڑا ہوتا تو اسے جیل کیوں نہیں ہوئی ۔۔۔ چلو تب نہیں تو تب کیوں نہیں ہوئی جب اس نے اپنی بہن کو مارا تھا ۔۔۔” یہاں آکر وہ چپ ہوگی ۔۔۔

ڈیرییک نے اسے غصے سے دیکھا اور بولنا شروع ہوا ۔۔ اسے آج سارا سچ اسے بتانا تھا کیونکہ جان نے تو کبھی نہیں بتانا تھا اور ڈیرییک کو پتا تھا کہ اس کے دوست کے دل میں اس لڑکی کے لیے دھڑکتا ہے ۔۔ جو اسے اتنا غلط سمجھتی ہے ۔۔ اس نے ایک لمبی سانس لی ۔۔۔ اور بولنا شروع کیا ۔۔۔

_____________________________

جعفر صاحب نے جان کی موم سے دولت کے لیے شادی کی تھی لیکن انہوں نے تو محبت کی کی تھی ۔۔ انہوں نے تو اسلام بھی قبول کر لیا تھا ۔۔ اور جفعر صاحب کی ہر بات پر آنکھیں بند کر یقین کرتی تھی اور ان کی ہر بات مانتی تھی ۔۔ لیکن وہ ٹوٹی تب تھی جب ان کو پتا لگا کہ جعفر صاحب نے ان سے پہلے ہی ایک شادی کی اور ان کی وہ بیوی پاکستان ہے اور ان میں سے بھی ان کا ایک بیٹا تھا ۔۔ وہ اپنے ماں باپ کے بعد اسے لے کر یہاں آگے تھے اور اسی گھر میں شفٹ ہونگے ۔۔ جہان تب چار سال کا تھا جبکہ مریم تب بہت چھوٹی تھی ۔۔ روز گھر میں لڑئی ہوتی جو شازیہ بیگم کرتی تھی تنگ آکر انہوں نے شازیہ بیگم کے کہنے پر ان کو طلاق دے دی ۔۔ جس پر وہ ٹوٹ گی جعفر صاحب اور شازیہ بیگم حنان کو لے کر پتا نہیں کہاں شفٹ ہونگے یہ انہیں نہیں پتا تھا بچے بھی ڈسٹرب ہو رہے تھے اس لیے ایک دن وہ بچوں کو لے کر باہر آئی کہ ان کا دماغ فریش ہو ۔۔ وہ ان کے لیے آئسکریم لینے کا رہی تھی ک تھبی جان نے دیکھا کہ کسی نے اس کی ماں کی پشت پر چاقو رکھا ہے ۔۔ اس نے اپنی ماں کو اس حملے سے بچانے کے لیے دھکہ دیا تھا لیکن وہ آکسیڈنٹ ہوگیا ۔۔۔ یہاں وہ دوسری بار ٹوٹا تھا ۔۔۔ پھر باپ جو پتا نہیں کہاں گیا تھا وہ واپس آگیا اور پہلے تھوری بہت توجہ دیتا تھا ۔۔اب وہ بلکل لاپرواہ ہوگیا تھا ۔۔ انہوں نے اسے یہی بتایا تھا کہ اس کی ماں مر گی ۔۔ ساتھ میں وہ اس کی مری ماں پر بار بار الظام لگتے کہ وہ ہلکے کردار کی مالک تھی ۔۔۔ پھر کسی نے ایک دن روکی کو زہر دیا ۔۔ اس سے روکی کی تکلف دیکھی نہیں گی اس لیے اس نے اس کی تکلف کو ختم کرنے کے لیے اس کا گلا دبایا ۔۔ وہ اس کی ماں کی نشانی تھی ۔۔ اسے اس سے اپنی ماں کی خوشبو آتی تھی اور اس کے بعد بس اس کی بہن تھی ۔۔۔ اس کی سٹیپ مدر نے اسے بورڈنگ بھیج دیا ۔۔ اور پھر اس نے اپنی بہن کو بھی کو دیا ۔۔ جب وہ اپنی بہن سے ملنے آیا تو کسی نے اسے سٹور بند کر دیا ۔۔۔ اور پھر مریم کی چیخ تھی ۔۔ اور جب وہ باہر آیا اسے نہیں پتا تھا کہ کس نے دروازہ کھولا بس وہ اپنی بہن کے پاس جانا چاہتا تھا لیکن وہ کہنی نہیں تھی ۔۔۔ اسے دربارہ بورڈنگ بھیج دیا گیا مریم کو ڈھونڈنے کی کوشش کی گی ۔۔۔ لیکن وہ نہ ملی ۔۔ وہ جب سے بورڈنگ آیا خاموش رہتا تھا ۔۔ پھر ایک دن اس نے خود کو ختم کرنے کی کوشش کی گی ۔۔ اس کا پیچھلا ریکاڈ دیکھتے ہوے اسے ۔۔۔ مینٹل ہاسپٹل بھیج دیا گیا ۔۔ تین ماہ وہ نارمل ہوتے ہوے بھی پاگلوں کے درمیان رہا ۔۔ اور وہ واقعی پاگل ہوجاتا اگر وہ فرشتہ صفت انسان اس کو نہ نکال لیتے ۔۔۔ جعفر صاحب کو تو ویسے بھی اس کی پرواہ نہیں تھی انہیں وہ چاہے تھا کیونکہ ساری دولت اس کے نام تھی ۔۔ جو اس کی ماں کے بعد اس کی تھی ۔۔ لیکن پھر اس پر ایک اور انکشاف ہوا ۔۔ کہ اس کی ماں زندہ ہے لیکن کومے میں ہے ۔۔ جعفر صاحب کو سب پتا تھا اُنہوں نے ان کے تھم پرئینٹ لیے ۔۔ اور کچھ پرپروپٹی جن کے پیپرز ان کے پاس تھی وہ اپنے نام کر وا لی ۔۔۔ لیکن پھر انہوں نے ان کو مکمل مروانے کی کوشش کی مگر جس ڈاکٹر کو کہا اس نے ان کو ہاں کردیا ۔۔ مگر جان جو اس وقت 16 سال کو ہوگیا تھا ۔۔ اسے اپنے اعتماد میں لیا اور سارا بتا دیا ۔۔ جان نے پھر مجھ سے مدد لی اور ان کو سیف مقام کر پہنچایا۔۔۔۔ابھی کچھ عرصہ پہلے ان کو ہوش آئی لیکن ان کی حالت اسی نہیں تھی کہ ان کو کسی کہ سامنے لایا جائے اس لیے اب تک ان کا علاج ہو رہا ہے ۔۔ پھر اس کے ڈیڈ نے ایک اور گیم کھیلی ایک عورت کو اس کی ماں والا گیٹ آپ کر کے اس کے پاس بھیجا تاکہ اس کے ذریعے وہ جان سے وہ دولت اپنے نام کر سکے۔ ۔ اب بھی ایک مرد آتا ہے اس کے آفس یہ کہہ کر کہ وہ اس کی ماں کا دوست ہے ۔۔اگر اسے سچ نہ پتا ہوتا تو وہ واقعی ان کی باتوں میں آسکتا تھا

_____________________________

” آخر تم کیا ہو ۔۔۔۔ ” اتنا درد بھرا ماضی ۔۔ اسے جھرجھری آئی تھی ۔۔۔ یعنی کوئی شخص اتنا سفاکی کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ ڈیرییک بھی خاموش ہوگیا تھا ۔۔ وہ جان کا درد پھر سے محسوس کر رہا تھا ۔۔۔

” الیوویا کہاں ہے ۔۔۔۔۔ ” وہ جب ڈیرییک کے ساتھ وہاں پہنچی جہاں جان اکیلا گرل پر بازوں رکھے سمندر کو دیکھ رہا تھا ۔۔لیکن اولیویا کہنی نہ تھی ۔۔

” وہ کال سننے گی تھی ۔ ” اپنی آنکھیں سمندر کے پانی پر مرکوز کیے اس نے بے تاثیر انداز میں جواب دیا ۔۔

ڈیرییک کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا وہ ان دونوں کو روکنے کا کہہ کر اولیویا کے پیچھے گیا جہاں جان نے اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔

ایما انگلیاں مڑورتے اب کوئی بات سوچ رہی تھی جو وہ اس سے کرے ۔۔۔ جان کو بھی اندازہ تھا کہ وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے اس کی جانب دیکھا بھی نہیں بس بےنیاز سا کھڑا رہا ۔۔۔

” او ۔۔۔مائی ۔۔ گوڈ ۔۔۔ ایما یہ تم ہو ۔۔۔ ” تبھی دو لڑکے جو ان کے پاس سے گزر رہے تھے ان میں سے ایک روک کر ایما کی جانب دیکھتے ہوے آکسائیڈ ہوکر بولا ۔۔

ایما نے اس بندے کو دیکھا جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔۔ جبکہ وہ جو تب سے اس سے بے نیاز ہوکر کھڑا تھا اب اس کی ساری توجہ اس کی جانب ہوگی ۔۔

” کون ۔۔” ایما جب نہیں پہچانا تو آخر کار اسے پوچھنا ہی پڑا ۔۔

” ارے یار ۔۔ میں سیم ۔۔۔ یار ہم سکول فرینڈز بھی رہے ہیں ۔۔ ” یاد آنے پر ایما نے اکسڈیڈ ہو کر اس کے گلے لگ گی ۔۔۔ جان نے گردن موڑ کر انہیں دیکھا ۔۔ لیکن ایما کو اس لڑکے کے گلے لگے دیکھ کر وہ جو پہلے ہی بھرا ہوا تھا اب تو پھٹ ہی والا تھا ۔۔۔

منٹ لگا اس نے ایما کو اس لڑکے سے الگ کیا اور گھما کر ایک گھونسہ اس لڑکے کے منہ پر مارا ۔۔

” شی از مائین … ” اس سے پہلے وہ ایک اور مکہ مارتا ایما نے اسے بازوں پکڑ کر روکا ۔۔

” سیم ۔۔ جاؤ ۔۔۔۔ ” وہ لڑکا بھی ناک سے خون صاف کرتا وہاں سے غایب ہوا تھا ۔۔۔ ویسے بھی وہ جان کو دیکھ کر پہچان گیا تھا اس لیے اس نے جانے میں عافیت جانی ۔۔۔

اس کے جاتے جان نے اپنا بازو سے اس کا ہاتھ ہٹا کر اس کے دنوں بازوں پکڑ کر خود خود سے قریب کیا ۔۔ اتنا کہ اس کی گرم سانسیں وہ اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی اور اس کی آنکھوں میں اپنی نیلی سرد آنکھیں گارتے ہوے وہ سرد لہجے میں بولا تھا ۔۔ ” کیا سوچ کر تم اس کے گلے لگی تھی ۔۔۔ ” اس کا انداز اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسی پھیلا رہا تھا۔۔

” دوست ہے میرا وہ ۔۔۔ ” اس نے بڑی مشکل اپنے گلے سے آواز برآمد کی تھی ۔۔۔

جان اسے پکڑ کر گرل کے پاس آیا اور اسے گرل کی جانب جھکایا ۔۔

” یہ دیکھ رہی ہو ۔۔ میرا دل کر رہا ہے ۔۔ تمہں یہاں پھنک دوں تاکہ تم پر سے اس کا لمس مٹ جائے ۔۔ ” اس کی بات پر ایما نے تھوک نگلتے ہوے پل سے گزرتے تیز اور دھارتے ہوے سمندر کو دیکھا تھا جس کا پانی ڈنھنڈ یخ تھا اور جس کی گہری کا اندازہ بھی نہیں تھا ۔۔

اسے اونچائی سے خوف آتا تھا اس لیے اس کی آنکھوں آگے اندھیرا چھا رہا تھا ۔۔ اس کا مزمت کرتا وجود ساکت ہو رہا تھا ۔۔ جان نے جب اسے سیدھا کیا تب تک وہ بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔ جان کو اپنے رویے پر زرہ بھی افسوس نہیں تھا ۔۔ اگر وہ بے ہوش نہ ہوتے تو شاید وہ آج اسے واقعی سمند پھنک دینا تھا ۔۔۔ اسے بازوں میں اٹھا کر گاڑی تک لایا پھر ڈیرییک کو فون کیا جس نے اسے جانے کا کہہ کر فون بند کردیا ۔۔۔

اور پھر اپنے بازو سے لگی کپکپاتی اولیو کو دیکھا ۔۔ دھند کا فایدہ اٹھا کر کچھ حبشی اسے پکڑ کر ایک تنگ گلی میں لے آئے تھے ۔۔ وہ خود بھی زخمی تھا ۔۔ اس لیے اس نے ۔۔ پولیس کی گاڑی کا سائرن آن کر دیا تھا ۔۔ پولیس کی گاڑی کی آواز قریب سے سن کر وہ لوگ اولیویا کو چھوڑ دوسرے طرف سے بھاگ گئے ۔۔

ڈیرییک نے آگے بڑھ کر اس کا نیچے گرا کورٹ اٹھایا اور اس کے کندھے پر ڈال دیا ۔۔

اس نے جب چہرہ اوپر کیا تھا ڈیرییک کو دیکھ کر اس کے گلے لگ گی ۔۔

ڈیرییک جس نے آج کے دن کو بہت اچھے طریقے سے منانے کا سوچا تھا اس کا اتنا عجیب انجام دیکھ کر ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا ۔۔۔

__________________________________

ویسے بھی رخسار بیگم جب واپس جانے لگی تو انہوں سب اسے بتا دیا جو کچھ پیچھے تین سالوں میں ہوا تھا ۔۔ اور حور نے شکر کے کہ اس دن اس نے صبر سے کام لیا ۔۔

پہلے دن کے علاؤہ وہ دیان کے ساتھ سوتی تھی ۔۔

عشق اتنا ہے کہ ہر پل تجھے دیکھا چاہوں۔۔۔

آداب اتنا ہے کہ تجھے دیکھتے ہی نگاہ جھکا لو ۔۔۔۔۔

(Mumtahina Mannat )

اب بھی کو کچن میں کھڑی دیان کی فرمائش پر کوکیز بیک کر رہی تھی ۔۔۔ نیلے رنگ کے پرنٹڈ سوٹ پر اس نے حجاب لیا ہوا تھا لیکن دوپٹہ کرسی پر رکھا تھا ۔۔ جبکہ دیان صاحب بھی فرش پر بیٹھے چاکلیٹ سے بھر پور انصاف کر رہے تھے ۔۔ منہ اور ہاتھ پر چاکلیٹ ملنے کے بعد مطمئن ہوگیا تھا۔۔۔

” ماما ۔۔ دیان ۔۔ دندہ ہوگیا ۔۔۔ ” اپنے چھوٹے ہاتھوں سے جس پر چکلیٹ لگی ہوئی تو اس سے وہ اس کی قمیض کا دامن کھنچ کر اس کی توجہ اپنے جانب کرتے ہوئے بولا ۔

” ارے ۔۔ یہ چاکلیٹی بوئی کہاں سے آگیا ۔۔۔ ” حور نے اس کو گود میں اٹھا کر اس کے گال سے اپنے گال مس کیا ۔۔ جس سے وہ کھل کھلا کر ہنس پڑا یہی تو وہ چاہتا تھا کہ وہ بس اس پر توجہ دے ۔۔۔

بکسٹ آون میں رکھنے کے بعد وہ اسے لے کر باہر آگی ۔۔۔

” میں چاکلیٹ کھانی ہے ۔۔۔ ” دیان کو ایسے ہی بازوں میں پکڑے وہ اس بات سے بےخبر تھی کہ وہ کسی کی گہری نظروں کے حسار میں ہے ۔۔۔

” پر ۔۔ وہ تو ۔۔ دیان کھا گیا ۔۔ ” پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوے وہ پریشانی سے بولا ۔۔ اس کے چھوٹے سے ماتھے پر چھوٹے چھوٹے بل پڑے ہوے تھے ۔۔

” پھر میں دیان کو ہی کھا جاؤ گی ۔۔ ” حور نے اسے ڈراتے ہوے اس کے گال پر ہلکی سی چکی کاٹی ۔۔ جس میں وہ بچہ منٹ میں لال ہوا تھا ۔۔ اور حور کا پھر سے اس پر کرش ہوا ۔۔۔

اس کو نہلا کر اس کے کپڑے چینج کر کے وہ نیچے آئی کہ پہلے بسکٹ نکال لے پھر چینج کرے گی ۔۔ کیونکہ دیان صاحب اسے کے کپڑے بھی گیلے کر چکاتھا ۔۔۔

” دیان اب اس سے کھیلے ۔۔ میں ابھی آئی ۔۔۔ ” اس کے ہاتھ میں گاڑی پکڑتے ہوئے حور نے اسے صوفے پر بیٹھایا ۔۔ اور پھر چکن کی جانب دوڑ لگائی۔۔

” بابا ۔۔۔ ” دیان جو گاڑی سے کھیل رہا تھا ۔۔ ایک دم آہل کو دیکھ کر چہکتے ہوئے اس کی جانب بھاگا ۔۔۔

آہل جو کام کے سلسلے میں تین دن سے گھر سے باہر تھا ۔۔۔ اب واپس آیا ۔۔ وہ پہلے بھی حور کو دیکھ رہا تھا جب وہ دیان کے لاڈ اٹھاتے ہوے اوپر جا رہی تھی ۔۔ ان کے جانے کے بعد وہ بھی چیج کرنے چلا گیا ۔۔ اور اب وہ سفید رنگ کی شلوار قمیض پہن کر نیچے آیا تھا ۔۔

دوسری طرف حور گرم ٹرے اون سے نکلنے کے بعد گلو اترا چکی تھی اس کا دل دیان کی بابا کی پکار سنی تو اس کا دل زور سے ڈھرکا ۔۔ دیھان ایک پل کو بھٹکا اور اسی بے دھیانی میں وہ اپنا ہاتھ گرم ٹرے پر رکھ چکی تھی ۔۔۔

” آہ ہ ہ ۔۔۔ ہ ۔” بے ساختہ چیخ اس کے گلے سے نکلنے جلن کے احساس سے آنکھوں میں پانی آگیا تھا ۔۔

اس کی چیخ سن کر آہل بھی جلدی۔سے اندر آیا جس کی گود میں دیان تھا ۔۔ حور کو یوں روتا دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا ۔۔ آہل اس کے قریب آیا تو اس کی گود میں بیٹھا دیان بری بےتابی سے اس کے گال پر اپنے چھوٹے ہاتھ رکھ کر اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔

” ماما ۔۔ ماما نہ دو ۔۔ ” لیکن حور کی آنکھوں سے آنسو اور تیزی سے بہہ رہے تھے ۔۔ پتا نہیں تکلیف زیادہ جلن کی تھے یا اس ستمگر کی بےنیازی کی جو شادی کے بعد سے اب تک اس سے برتے ہوے تھا ۔۔۔

” حور آر یو اوکے ۔۔۔ “اب کی بار آہل نے پوچھا ۔۔ اسے بھی حور کا اس طرح رونا پریشان کر گیا تھا ۔۔

اس کے سوال پر حور نے اپنے آنسو بہاتی آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔ اس کی آنکھوں میں لکھی تحریر وہ صاف پر سکتا تھا ۔۔ کہ تکلف دے کر پوچھ رہے ہو ٹھیک ہو ۔۔۔؟؟

نہ تجھ سے کوئی شکاتیں ۔۔۔

ہم سنیں گے تیری حکایتیں۔۔۔۔

ہیں تجھ کو مجھ سے جو بھی شکاتیں ۔۔۔

میری جان وہ بھی کمال ہیں ۔۔

تو سوال کر میں جواب دوں ۔۔ تجھے ایسے لاجواب کر دوں۔۔۔

نہ رہے کوئی ملال بھی ۔۔ نہ ہو کوئی شکاتیں ۔۔۔

نہ ہو بھولنے کا سوال اب ۔۔۔

نہ تجھ مجھ کو کبھی بھلا سکے ۔۔۔

میری پیار میری محبتوں کا ایک تو ہی تو حقدار ہے ۔۔۔

تو ہی عشق بھی ۔۔ تو ہی حیات ہے ۔۔۔

تیرے پیار کی کیا بات ہے ۔۔

ہے کون میرا تیرے سوا ۔۔۔

نہ کروں کہ گلہ تو کیا کروں ۔۔

نہ تو بھول پاے گا کبھی مجھے ۔۔۔

چاہے جتنی بھی تو دعا کرے ۔۔

وہ دنوں خاموشی سے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ۔۔ ایک کی آنکھوں میں تھکن تھی ۔۔ تو دوسرے کی آنکھیں بھی رات جگ کی شکار شکوہ لیے ہوے تھی ۔۔

سکون تو کسی جانب نہ تھا ۔۔۔ ان دنوں کی خاموشی کو دیان نے تورا تھا ۔۔

” بابا ۔۔ ماما ۔۔ دو رہی ہیں۔۔ ” دیان زیادہ دیر تک حور کو روتا نہ دیکھ سکا ۔۔ اس لیے اب اس کا ساتھ دیتے وہ بھی رونے لگ گیا ۔۔۔ حور نے دیان کو اس کی گود سے لینے کے لیے جیسے ہی ہاتھ آگے کیے تو آہل کی نظر اس کے سرخ ہوتی ہتھیلی پر پڑی ۔۔۔

دیان اسے دینے کی بجائے اس نے دیان کو اپنے دائیں بازو پر کیا اور بائیں بازوں سے اس کو پکڑتے ہوے ۔۔ باہر لاؤنج میں لایا۔۔۔

” سکینہ بوا ۔۔۔ ” اس نے زور سے گھر کی ملازمہ کو آواز دی ۔۔ جو تھوری دیر بعد وہاں نمودار ہوئی ۔۔ ان کو فرسٹ ایڈ بکس لانے کا کہا کر کر وہ مڑا تو دیکھا دیان صاحب حور کی گود میں بیٹھے ہیں جیسے وہ صوفے پر بیٹھا کر گیا تھا ۔۔ اور حور کا چہرہ اپنے چھوٹے دونوں ہاتھوں سے تھامنے کبھی اس کے بائیں گال پر بوسہ دے رہا تو کبھی دائیں ۔۔ جس سے حور کے چہرے پر مسکراہٹ آگی ہوئی تھی ۔۔ وہ بڑے پیار سے اس کو دیکھ رہی تھی ۔۔ بلکل ویسے ہی جیسے ماں اپنی اولاد کو دیکھتی ہے ۔۔۔ اس کے چہرے پر ممتا بھری چمک تھی ۔۔۔

آہل کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا تھی وہ لڑکی ۔۔

جس کے ساتھ اس نے اتنا کچھ کیا ۔۔ پھر بھی اس نے اس کا ساتھ دیا ۔۔ وہ چاہتی تو اسے چھوڑ سکتی تھی اس کے پاس بہت موقعے تھے ۔۔۔ مگر جب سے سب باتیں ۔۔ سچ اس کے سامنے آیا اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اس عظیم لڑکی کا سامنا کرنی کی ۔۔

رخسار بیگم جانے سے پہلے اس بتا گی تھی ۔۔ کہ طلاق کے مطالبے میں حور کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔۔

اور آخری کانٹا احمد نے نکال دیا ۔۔ایر پورٹ پر ۔۔

” بھائی پیچھے ہنگاموں کی وجہ سے میں یہ بات آپ کو نہیں بتا سکا جو بہت اہم ہے ۔۔ ایک دن آپی کا کسڈینٹ ہوا تو جس آدمی نے ان کی مدد کی تھی آپی کا موبائیل اس کی گاڑی میں رہ گیا ۔۔ وہ میرے جاننے والے ہی تھے ۔۔ پھر اگلے صبح انہوں نے بتایا کہ کسی انجان نمبر سے فون آیا تھا جو انہوں نے اٹینڈ کر لیا ۔۔۔ میں نے جب نمبر چیک کیا تو وہ آپ کا تھا ۔۔ میں بس آپ کی غلط فہمی دور کرنا چاہتا تھا ۔۔ کہ آپ آپی کو غلط نہ سمجھے گا ۔۔ میری آپ کا کردار بلکل صاف ہے ۔۔ ” نظریں نیچے کیے اس نے لڑکے اپنی بہن کی زندگی سے وہ کانٹا نکال دیا تھا جس سے وہ خود بھی بے خبر تھی اور اگر اسے معلوم ہوجاتا تو شاید وہ جیتے جی مر جاتی ۔۔

” یہ تو نہیں ۔۔۔ ” آہل نے اس آدمی کی پک کرپ کہ ہوئی تھی وہی دیکھا کر اس سے پوچھا تھا اور اس کا اثبات کے جواب نے جائے تمام گھتی سلجھا دی ۔۔ اس کے بعد وہ خود حور سے چھپتا پھر رہا تھا ۔۔ اسے خود پر غصہ آرہا تھا ۔۔ کہ کیوں اس نے اس گھٹیا انداز میں سوچا ۔۔ وہ جنتا شکر کرتا کم تھا کہ اس نے حور سے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔

آہل نے اس کے ہاتھ پکڑا جو لال ہو رہا تھا اور اس پر کریم لگانے کے بعد اسے دیکھا جو اسے مکمل طور پر نظرانداز کیے دیان سے باتیں کر رہی تھی جو پریشانی سے اس کے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” میرے گڈے میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔ دیکھو کچھ بھی نہیں ہوا مجھے ۔۔۔ میں سمائل کر رہی ہوں ۔۔۔ ” وہ چہرہ مسکراہٹ لاتے ہوے بولی تھی ۔۔

دیان جا رونا پھر بھی بند ہوا وہ سمہم گیا تھا ۔۔ اتنے سے ہی ۔۔ حور نے آخر بےچارگی سے اس دوران پہلی بار آہل کی جانب دیکھا ۔۔۔ ڈر بھی تھا ناجانے وہ اسے کیا سمجھے ۔۔۔

آہل نے دیان کو اس سے لیا ۔۔۔

اور اس کے کان میں کچھ کہا ۔۔ جس پر اس نے روتے ہوے نہ میں سر ہلایا ۔۔۔

آہل نے یوں سر ہلایا جسے کہہ رہا ہوں سمجھ گیا ہو ۔۔۔ وہ دیان کو لیے ہی کمرے میں گیا ۔۔

اور جب واپس آیا تو حور غایب تھی ۔۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا سفری بیگ صوفے رکھا ۔۔ اور ماتھے پر تیوریا لیے کچن میں گیا ۔۔ کیوں وہنی سے آوازیں آرہی تھی ۔۔۔

وہ تواقع عین مطابق حور میڈم وہنی برتن دھو رہی تھی ۔۔۔ جس پر اسے اور غصہ چھڑا ۔۔

اس کی خود سے یہ لاپرواہی اس کا خون کھلانے کو کافی تھی ۔۔۔

وہ لمبے لمبے ڈنگ بڑھتا اس کی جانب آیا اور کی کلائی زور سے تھامی وہ جو برتن کو صابن لگا رہی تھی ۔۔ اس کی سخت گرفت اور ماتھے پر بل دیکھ کر گھبرا گی ۔۔

اس نے دیان کی جانب دیکھا جو آہل کے کندھے لگے ہی سویا ہوا تھا ۔۔ اسے اپنا آخری نجاد کا راستہ بند نظر آیا ۔۔۔۔

وہ اسے لیے اپنے کمرے میں آیا ۔۔۔

” ہلنا مت یہاں سے ۔۔ ورنہ ٹانگیں تور دوں گا ۔۔ ” اس کو صوفے پر پٹکختے ہوے وہ سرد لہجے میں بولا تھا ۔۔ پھر واپس گیا ۔۔۔

حور کو اس کی آواز آ رہی تھی جو اب ملازمین پر برس رہا تھا ۔۔۔

جبکہ وہ صوفے میں دبکی آنکھیں بند کیے دعا کر رہی تھی ۔۔ اس کی آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا۔۔۔ دماغ میں آہل کا وہ رویہ آرہا تھا جب اس نے فہد کے ساتھ دیکھ کر اسے سڑک پر چھوڑ دیا تھا ۔۔

آہل نے پہلے دیان کو اس کے کمرے میں لیٹا ۔۔ پھر ملازموں کی طعبت اچھی طرح صاف کی کہ ان کے ہوتے وہ کیوں کام کر رہی تھی۔۔ وہ بچارے کہنا چاہتے تھے کہ وہ تو منع کرتے تھے لیکن بیگم صاحب خود ہی باز نہیں آتی۔۔۔

اب جب وہ واپس آیا ہاتھ میں ٹیوب تھی ۔۔۔ اسے اس طرح گھٹنوں میں سر کیے بیٹھے دیکھ کر اسی اپنی سختی کا احساس ہوا ۔۔ لیکن وہ بھی کیا کرتا اس کی اس لاپرواہی نے اس کا دماغ گھما دیا تھا ۔۔

” ہاتھ آگے کرو ۔۔۔ ” اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ کر اس نے سرد لہجے میں کہا ۔۔ حور نے فورا اس کی بات پر عمل کرتے ہوے ہاتھ آگے کیے ۔۔

آہل نے اس کا ہاتھ پکڑا جو ضرورت سے زیادہ ٹھنڈا تھا ۔۔ پہلے نرمی سے اس کے ہاتھ پر دوبارہ کریم لگائی جو برتن دھونے کے دوران اتر گی تھی ۔۔

جب کریم لگادی ۔۔ تو یونہی اس کے ہاتھ کو پکڑا پھر ہونٹوں کے قریب کر کے اس ہاتھ پر بوسہ دیا ۔۔۔

حور نے ترپ کر آنکھیں کھولیں ۔۔۔ نظریں سیدھے اس پر گیے جو اس کی کلائی کو سہلاتے اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔ اس کی آنکھوں میں اب سختی نہیں تھی جس سے اسے خوف آتا تھا ۔۔ بلکل ان میں تو پشمانی تھی ۔۔۔ جو اسے حیران کر رہی تھی ۔۔

” تمہیں پتا لگ گیا ہے نا ۔۔ کہ تمہارے زخم ۔۔ تمہارے آنسو ۔۔ مجھے تکلیف دیتے ہیں ۔۔اسے لیے اب ان کے ذریعے تم مجھے سزا دے رہی ہو ۔۔ ” اس کے آنسو اپنی انگلیوں سے سمیٹتے ہوے ۔۔۔ وہ ہاری ہوے انداز میں اس کی حیرت سے پوری کھلی آنکھوں میں دیکھتے ہوے بول رہا تھا ۔۔۔

جبکہ اسے اس کایا پلٹ کی سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔۔

” معاف کروں گی ۔۔۔ ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے اس نے بڑے مان سے پوچھا تھا ۔۔۔

حور اس کا پیچھلا رویہ یاد آیا ۔۔۔ آنسو ایک بار پھر نکلنے شروع ہوگے تھے ۔۔ اس نے روتے ہوے نہ میں سر ہلایا ۔۔۔

آہل نے آگے ہوکر اسے خود سے لگایا ۔۔ اب اس کے آنسو اس کی شرٹ کو بھیگو رہے تھے ۔۔

” حور مجھے میرے اپنوں کی بے اعتنائی نے مجھے تور دیا تھا ۔۔ اور ٹوٹے ہوے خود تو زخمی ہوتے ہیں ۔۔ دوسروں کو بھی کر دیتے ہیں ۔۔۔ لیکن اب بس ۔۔۔ اب بہت ہوگیا ۔۔۔ اب میں تھک گیا ۔۔ ہوں خود بے قصور ثابت کرنے کی کوشش میں ۔۔ بس اب میں آرام کرنا چاہتا ۔۔۔ اس کے سر پر تھوڑی ٹکاے ۔۔ جیسے اپنے دل کی بات کہہ رہا تھا ۔۔ حور بھی خاموشی سے اس کے سینے پر سر ٹکاے اس بات سن رہی تھی ۔۔ اس نے اسے بولنے دیا ۔۔ تاکہ اس کے اندر جو ہے وہ نکل جاے ۔۔ ورنہ وہ زہر بن جاے گا ۔۔

” تمہیں پتا ۔۔۔ تم وہ واحد تھی ۔۔ جسے نہ میں نے کوئی صفائی دی نہ تم نے کوئی صفائی مانگی ۔۔ بلکل تم نے میرا ساتھ دیا ۔۔ تب جب میں سب سے ہار گیا تھا ۔۔ تب تم نے میرا ساتھ دیا ۔۔ جیسے میں نے بے اعتبار کیا تھا ۔۔۔ ” حور جلدی سر اٹھا کر اس کے ہونٹوں پر اپنی نازک انگلی رکھ کر جیسے اس مزید بولنے سے روکا تھا ۔۔

اس کی اس حرکت پر وہ زخمی سے مسکرایا تھا ۔۔۔

” تم اتنی اچھی کیوں ہو ۔۔۔۔ ” اس کی انگلی کو اپنے ہونٹ سے ہٹا کر بےبس انداز میں پوچھا ۔۔

“کیونکہ میں ۔۔۔ ” ایک پل وہ خاموش ہوے اور اسے دیکھا ۔۔ پھر ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔

” کیونکہ میں مسسز آہل ہوں۔۔۔ ” اور آہل ۔۔ وہ تو اپنے سامنے بیٹھی اس لڑکی کا ظرف دیکھتا رہ گیا ۔۔ کیا کچھ نہیں کیا اس نے ۔۔ پھر بھی بغیر کوئی شکوہ شکایت کیے اس نے اس معاف کر دیا ۔۔

” نہیں ۔۔۔ غلط تم مسسز آہل نہیں ہو ۔۔ ” یکدم وہ اسے دور ہو کر کھڑا ہوا ۔۔ اور حور اس کے ایک دم انجان بنے پر ترپ ہی تو اٹھی تھی ۔۔ وہ بھاگ کر وہاں سے جانا چاہتی تھی اسے پل آہل نے اسے بازوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا ۔۔۔ اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی ۔۔

” تم مسسز آہل نہیں ہو ۔۔۔۔۔ بلکل تم جانِ آہل ہو ۔۔۔ ” وقفے کے بعد بول کر اس نے اسے دیکھا جس کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا تھا جسے اس نے بے مول ہونے نہیں دیا بلکل اپنے ہونٹ سے چن لیا ۔۔۔

” امم نوٹ بیڈ ۔۔۔ ” اس سے زرہ پیچھے ہوکر اس نے گہری نظروں سے اسے دیکھا ۔۔ جس کا چہرہ اس کی حرکت پر منٹ میں سرخ ہوا تھا ۔۔

” تمہیں اور نہیں رونا ۔۔۔ ” اس کا چہرہ تھوری سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوے اس نے گہری نظروں سے اسے دیکھا ۔۔

اور وہ تو اس کی بات کا مطلب جان کر کان کی لو تک سرخ ہوگی ۔۔۔

” ایسے نہیں چلے گا ۔۔۔ جانِ آہل ۔۔۔ ” خود کو اس کی نظروں سے بچانے کے لیے حور نے اسی کے سینے میں منہ چھپا لیا ۔۔ جس پر وہ کھل کر ہنسا تھا ۔۔۔ حور کے ہونٹوں پر بھی شرمیلی سے مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔