465.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah Phala Ishq Episode 1

Raah Phala Ishq by Zoha Qadir

London city

وہ تقریباً دوڑتے ہوئے آفس میں داخل ہوئی ۔اس نے جلدی سے ایک نظر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ڈالی ۔

“”شکر ہے پہنچ گئی ” ابھی آٹھ بجنے میں پانچ منٹ تھے ۔۔اس نے شکر کا سانس لیا ۔

“”آج باس نے بھی آنا ہے ۔سنا ہے کہ وقت کے بہت پابند ہیں۔۔ ایک منٹ آگے پیچھے ہونا بھی برداشت نہیں کرتے “

ایما خود سے باتیں کرتے ہوئے لفٹ میں داخل ہوئی تھی کے اس کے ساتھ ہی بلیک پینٹ اور بلو ٹی شرٹ پہنے ایک شخص داخل ہوا ۔

اس شخص کے داخل ہوتے ہی وہ ایک طرف ہوگئی ۔ اس شخص نے ایک نظر اس معمولی سی لڑکی پر ڈالی جو اس کے آنے سے ایسے سائیڈ پر ہوئی تھی جیسے وہ کوئی اچھوت ہو۔۔

حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا ایما نے بس جہان کو جگہ دی تھی۔

اس شخص کو ایما کا انداز پسند نہیں آیا اور یہ اس کے ماتھے پر پڑے بل سے صاف پتا لگ رہا تھا ۔۔

ایما نے 5 فلور کا بٹن دبانے کے لیے ہاتھ آگے کیا ہی تھا کہ اسی وقت اس شخص نے بھی ہاتھ آگے کیا ۔۔

ایما نے گھبرا کر اس کی جانب دیکھا اور وہ سٹل ہوگئی ۔۔اتنا مکمل حسن اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

درازقد ٫ کسرتی جسم ٫ گندمی رنگت۔۔ پُرکشش نقوش اور کانچ سی نیلی آنکھیں , بھورے بال جو بے ترتیبی سے اس کے ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے اور ہلکی بڑی ہوئی شیو ۔ایما نے اپنی اب تک کی زندگی میں اتنا خوبصورت مرد نہیں دیکھا تھا۔۔

ایما کے اس طرح مسلسل دیکھنے سے اس کے ماتھے پر پڑے بل مزید گہرے ہوگئے

“Why you are continuously staring at me ??? “

“”تم کیوں مسلسل مجھے گھوری جا رہی ہو ؟؟؟ “”

اس شخص نے اپنا رخ مکمل ایما کی طرف کر کے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا ۔۔

اس کا انداز اتنا انسلٹنگ تھا کہ ایما کا خفت کے مارے چہرہ لال سا ہو گیا تھا۔۔

ایما نے اپنی نظر اس پر سے ہٹا لی کہ مزید وہ کچھ نہ کہہ دے۔

جان ایما کی طرف سے سوری کے انتظار میں اسی جانب دیکھ رہا تھا لیکن جب اس کے گال لال ہوتے دیکھے تو حیران رہ گیا کہ اس نے ایسے بھی کیا کہہ دیا کہ۔۔

اس نے اپنی حیرت کو جلدی سے قابو کیا ۔

جب ایما آگے سے کچھ نہیں بولی تو جان نے برہم نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔

“”Hey girl ! I asked something ? .”””

اس نے ایما کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجاتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا ۔انداز ایسا تھا جیسے وہ کسی ملک کا بادشاہ ہے اور ایما اس کی کنیز ۔

ایما کو اس کا انداز بھڑکا گیا کب سے وہ کنٹرول کر رہی تھی اپنی زبان پر اب جیسے بس ہوگئی تھی۔۔

“”I was not staring at you i was praising the beauty of nature”

“”میں تمہں نہیں دیکھ رہی تھی میں تو خدا کی بنائی خوبصورتی دیکھ رہی تھی””

اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس نے بات مکمل کی اور لفٹ سے نکل گئی جو کہ اس دوران کھل گئی تھی۔۔

اب جان کو اندازہ ہوا تھا کہ بظاہر معمولی دِکھنے والی لڑکی معمولی نہ تھی ۔

________________________

بولنے کو تو وہ بول آئی لیکن دل اب بری طرح دھڑک رہا تھا۔

“”مانا کے بندہ بہت ہنڈسم ہے لیکن مغرور اتنا ہی ۔بن ایسے رہا تھا جیسے وہ کسی ریاست کا بادشاہ ہے “”ہلکی آواز میں جان کو کوستے ہوئے وہ ساتھ ساتھ کیبورڈ پر کام بھی کر رہی تھی ۔

“”یہ تم کس سے باتیں کر رہی ہو “اس کے ساتھ والے کیبن میں بیٹھی کولیگ میری نے پوچھا۔

“”دیواروں سے “” تنک کر جواب دیتی وہ میری کو پریشان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کیبن کے پاس سے گزرتے جان کو بھی رکنے پر مجبور کر گئی۔۔

“””دیواروں سے وہ کیسے “”میری نے اس کو ایسے دیکھا جیسے اس کا دماغ خراب ہو۔۔

“”تمہیں نہیں پتا ؟؟””ایما نے صدمے سے پوچھا جیسے میری نے بہت بڑی غلطی کر دی ہو

“”کیا نہیں پتا !!”” اس کا یہ انداز اچھی خاصی بولڈ اور کانفیڈنٹ میری کو کنفیوژ کر گیا ۔ جب کہ ان کی باتیں سنتا جان بھی ایما کے کیبن کے تھوڑا نزدیک ہوگیا گیا ۔

ان دنوں کی پشت جان کی جانب تھی اس لیے وہ دونوں اس کو موجودگی سے ناواقف تھیں۔۔

“”دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں “” اس کی بات غور سے سنتے میری اور جان دنوں اب حقیقی معنوں میں صدمے میں آ گئے تھے ۔۔

جان کو پہلے ایما معمولی اور ڈرپوک لگی ۔ اس کے بعد جب ایما نے ایسے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا اسے دیکھ کر اس وقت وہ اس کو بہادر لگی۔۔لیکن اب ۔۔وہ اس کو سائیکو لگی۔

مطلب سیریسلی دیواروں کے کان ۔۔۔۔وہ سر وہ ہلاتا جیسے افسوس کرتے ہوے اپنے روم کی طرف چل پڑا۔۔

“”تمہیں یہ کس نے کہا کے دیواروں کے کان ہوتے ہیں ؟؟”” میری نے اشتیاق سے پوچھا۔۔۔

“”یہ خالص پاکستانی آنٹیوں کی ریسرچ ہے جو میری دوست نے مجھے بتائی تھی””

“”اور اگر دیواروں نے تمہاری باتیں کسی کو بتا دیں تو ؟” میری کا انداز طنزیہ تھا۔

“”دیواروں کے کان ہوتے ہیں زبان تھوڑی جو وہ کسی کو باتیں بتائیں گی “”ایما بھی مری کا طنز سمجھ گئ تھی ۔

اب میری چپ ہوگئی اور کام کرنے لگی ۔۔ایما بھی اپنی بھڑاس نکال کر اب پرسکون ہوگئی تھی

وہ ایسی ہی تھی باتوں کو زیادہ دیر سر پر سوار نہیں کرتی تھی۔بلکہ ادھر اُدھر بھڑاس نکال لیتی تھی ۔

تقریباً گھنٹے بعد اس کو باس کا بُلاوا آیا ۔

ایما کو یہ بات پہلی ہی اس کی کولیگ بتا چکی تھی کہ باس کی غیر موجودگی میں جو بھی نیا ورکر آتا ہے وہ ایک بار اس کو خود ڈیل کرتے ہیں ۔ اس لیے وہ اس سب کے لیے تیار تھی۔

وہ باس کے کیبن میں داخل ہوئی تو سامنے موجود شخصیت کو دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا ۔

جان نے ایک ہاتھ میں ایما کی فائل پکڑی تھی اور دوسرا ہاتھ اپنے چہرے کے نیچے رکھے دروازے کی جانب ہی متوجہ تھا ۔وہ ایما کا ریکشن دیکھنا چاہتا تھا اور اس کو ویسے ہی ریکشن ملا جیسا کہ اس نے سوچا تھا ۔۔

ایما نے جلد ہی خود پر قابو کیا۔۔اور دل ہی دل میں خود کو حوصلہ دینی لگی۔

“”ایما ڈر نہ تم نے کچھ نہیں کیا اور کہا تھا۔۔بلکہ تم نے تو اس کی تعریف کی تھی ۔۔””

“”ایما بیٹھیے “”

جان نے سامنے پڑی کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا کہا اور دوبارہ اس کی فائل دیکھنے لگا ۔۔

ایما نے بھی اس کی توجہ خود سے ہٹتی دیکھ کر سُکھ کا سانس لیا ۔ ورنہ جان کا اس کو یوں مسلسل دیکھنا اور کنفیوژ کر رہا تھا ۔

“”میں نے آپ کا کام دیکھا ہے ۔۔ اچھا ہے ۔۔۔لیکن “”

ایما کو جان کی تعریف کی سہی سے خوش بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس کی لیکن سن کر پریشان ہوگئی ۔۔

“”لیکن کیا””

“”لیکن آپ کو اب میں پھر سے ٹرائل پر رکھوں گا ۔۔اپ کے پاس ون ویک ہے اس دوران اگر میں آپ کے کام سے مطمئن ہو گیا تو آپ یہ جاب جاری رکھ سکتی ہیں ورنہ آپ کا یہاں کوئی کام نہیں “””

ایما کا دل کیا اس کا سر پھاڑ دے ۔اس کے اتنے محنت سے کیے کام کو وہ صرف اچھا کہہ رہا تھا چلو ٹرائل کی تو ٹھیک ہے لیکن منہ پر ہی بول دینا کہ “”آپ کا یہاں کوئی کام نہیں”” یہ کوئی بات ہوئی

“”اوکے سر “” بڑی مشکل سے وہ اپنی زبان روکتی صرف اتنا ہی بول سکی اور اٹھ کر جانے لگی کہ جان کی آواز سن کر رک گئی

“”مس ایما !! میں آپ کو جانے کا کہا ؟؟””

ایک آبرو اٹھاۓ جان نے سخت لہجے میں اس کو روکا۔۔

ایما نے ہاتھ کو زور سے بند کر کے جیسے اپنا غصہ ضبط کیا اور نہ میں سر ہلا کر کرسی پر بیٹھ گئی ۔۔

جان نے اب کی بار فرست سے اس کا جائزہ لیا ۔۔

جوڑے میں بندھے ڈارک براؤن بال جس سے کچھ لٹیں نکلی ہوئی تھیں ۔۔بھورے رنگ کی آنکھیں جو اس وقت جھکی ہوئی تھیں ،، لال گال۔ ۔ گوری رنگت۔ براؤن رنگ کی لمبی سی شرٹ کے ساتھ سیاہ جنیز پہنے وہ بے شک پیاری تھی ۔۔لیکن جان کے ٹائپ کی نہ تھی۔۔

“”جاسکتی ہیں اب “” اس کا جائزہ لینے کا بعد اس کو جانے کی اجازت دی جبکہ وہ اب تک اپنی روکے جانے کی وجہ نہیں سمجھی تھی۔ لیکن پوچھا نہیں اور چپ کر کے نکل گئی ۔۔

لیکن چپ تو منہ سے کی تھی دل ہی دل میں وہ اس کو خوب باتوں سے نوازا رہی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلابی رنگ کے حجاب سے اچھی طرح سر ڈھانپے ساتھ سفید اور گلابی رنگ کا فراق پہنے وہ گروسری کر رہی تھی ۔جب کسی خیال کے آتے اس نے بیگ میں سے موبائل نکال کر ایما کو کال کی۔۔

دو منٹ بیل کے بعد اس کی طرف سے فون اٹھایا گیا تھا ۔

“‘ اسلام و علیکم ایما “

“یو ٹو حور ” ہمیشہ کی طرح آج بھی ایما نے اس کے سلام کا جواب ویسے ہی دیا ۔

“کیا بات ہے ! موڈ کیوں آف ؟؟” اس کی آواز سن کر حور کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ضرور کوئی بات ہوئی ہونی ہے جس سے ایما کی آواز میں وہ تازگی نہیں جو اس کی ذات کا حصہ تھی ۔۔

“‘کچھ نہیں ہوا ۔تم بتاؤ کیسے فون کیا “” ایما کی کہ اس طرح ٹالنے سے حور کو اندازہ ہوگیا کہ اب اسے کیا کرنا ہے ۔

“تم کہتی ہو تو مان لیتی ہوں کچھ نہیں ہوا ہوگا ۔ میں تو بس یہ پوچھنے کے لیے فون کیا کہ آج تم میری طرف آسکتی ہو ؟؟ “”

حور کو پتہ تھا کہ جب تک ایما اس کو بات نہیں بتائے گی اس کو چین نہیں آۓ گا اس لیے اس نے بھی اصرار نہیں کیا۔

دوسری طرف ایما جو اس امید میں تھی کہ حور اس کی منت کرے اور پھر وہ حور کو بتاۓ کہ آج کیا ہوا ۔ حور کے اس طرح اتنی جلدی بات مان لینے پر منہ بسور کر رہ گئی ۔

” میں تو روز ہی آ سکتی ہوں ۔” ایما کی ناراض ناراض سی آواز سن کر حور کے ہونٹوں پر تبسم بکھر گیا۔

اچھا بتاؤ کیا ہوا ہے ؟؟ کیوں موڈ آف ہے تمہارا “

ایما نے بھی اب کی بار نخرہ نہیں کیا اور آج کی ساری روداد حور کو سنا دی دی ۔

“اوہ اس کا مطلب تم نہیں آ سکتی ” حور نے اس کی پوری بات تحمل سے سنے کے بعد اس سے پوچھا

“”ہاں ۔ابھی ابھی مجھے وہ فائلز ملی ہیں جن کو مجھے ہفتے میں مکمل کرنا ہے لیکن وہ کام ہفتے میں ختم ہونے والا نہیں پھر بھی میں ٹائم سے پہلے ختم کرکے اس کھڑوس کو دیکھا دوں گی کہ میں بھی ایما ہوں “”

ایما کہہ تو حور کو رہی تھی لیکن درحقیقت وہ خود کو یاد کروا رہی تھی کہ اس نے کیا کرنا ہے ۔۔

“بلکل تم کر سکتی ہو “” حور نے بھی اس کو حوصلہ دیا ۔

“”تم کیوں پوچھ رہی تھی کہ میں تمہارے طرف آ سکتی ہوں ؟؟”” ایما جسکا حور سے باتیں کر کے دل ہلکا ہو گیا تھا

تو اس کو خیال آیا کہ حور کیوں پوچھ رہی تھی آنے کا ۔

“” میں سٹور آئی تھی بیکنگ کا سامان لینے تو سوچا کہ تم کافی عرصے سے لاوا کیک کی فرمائش کر رہی تھی تو اس کا سامان بھی لے لیتی ہوں “”

حور کی بات سن کر ایما کے منہ میں پانی آ گیا اسے حور کے ہاتھ کی بیکنگ بہت پسند تھی خاص طور پر لاوا کیک ۔

“تو تم یوں کرو کہ بیک کر کر میری طرف آ جاؤ””

“وہ تو ٹھیک ہے مگر میرا ارادہ تمہارے ساتھ مل کر بنانے کا تھا ” حور کی یہ بات سن کر ایما کی ہوائیاں اُڑ گئی کوکنگ اور بیکنگ سے تو اس کی جان جاتی تھی ۔

” شکر ہے کہ میں بچ گئی ورنہ تمہارے ارادے تو بہت ہی خطرناک تھے “”

“”تو مسئلہ کیا ہے کوکنگ سے تمہیں “” آج تو جیسے حور نے تنگ آکر پوچھا ۔

“” کبھی فرصت سے بتاؤں گی ۔ابھی تو باس صاحب راؤنڈ پر ہیں یہ نہ ہو کہ پھر کچھ بول دیں ۔باۓ””

ایما جو ایزی ہو کر چیئر کی بیک پر مزے سے ٹیک لگا کر حور سے باتیں کر رہی تھی جان کو آفس سے باہر نکلتا دیکھ کر جلدی سے بات کو سمیٹ کر فون بند کیا ۔۔

حور اس کی جلدی دیکھ کر مسکراتے ہوۓ دوبارہ سے اپنی ضرورت کی چیزیں دیکھنے لگی جو اسے چاہیئے تھی ۔