Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 10
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 10
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
دوپہر کا وقت تھا لیکن لنڈن جیسے شہر میں سورج کم ہی اپنی شکل دیکھاتا ہے اس لیے اس وقت دوپہر ہونے کے باوجود یوں لگ رہا تھا جیسے شام ہونے والی ہے یہ شدید سردی آنے کی علامت تھی۔۔
رخسار بیگم نے حور کے کمرے کا دروازہ نوک کیا ۔۔ تھوری دیر جواب تک انتظار کیا جب کوئی جواب نہیں آیا تو وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئیں ۔۔
کمرے کی دیواروں پر پنک رنگ کا پینٹ ہوا تھا۔وائٹ ڈریسنگ ٹیبل اور وائٹ ہی بیڈ ساتھ ساتھ ہی سیٹ ہوئے تھے ۔۔ہر چیز سلیقے سے اپنی جگہ پر پڑی ہوئی تھی ۔۔
انہوں نے چاروں طرف دیکھا کمرے میں کوئی نہ تھا البتہ باتھروم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی ۔۔ وہ وہیں بیڈ پر بیٹھ کر اس کے نکلنے کا انتظار کرنے لگیں وہ حور سے ایک بار تفصیل سے خود بات کرنا چاہتیں تھیں۔۔
حور جو نماز پڑھنے کے لیے باتھ روم وضو کرنے گئی تھی جب باتھ روم سے نکلی تو رخسار بیگم کو اپنے انتظار میں بیٹھا ہوا دیکھا ۔۔
” آپ کب آئیں ؟؟ “
” ابھی آئی تھی “
حور کو اندازہ تھا کہ وہ کیوں آئیں ہیں ۔۔
” نماز پڑھنے لگی تھی ؟؟ “
” جی “
” اچھا پھر تم نماز پڑھ لو بعد میں بات کر لیں گے..” وہ بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولیں ۔۔
” نہیں امی آپ بتائیں کیا بات ہے ” حور ان کو دوبارہ بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے بولی ۔۔
وہ دومنٹ خاموشی سے اس کے چہرے کی جانب دیکھتی رہیں ۔۔
” تمہیں یقیناََ آہل نے بتا دیا ہوگا کہ وہ کیوں آیا تھا ؟؟” رخسار بیگم بغور اس کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے مدھم لہجے میں بولیں
” جی ۔۔۔۔ “
” تو تم نے کیا فیصلہ کیا ؟؟”
” امی میرا فیصلہ وہی ہوگا جو آپ کا اور ابو کا ہے ؟؟ ” رخسار بیگم نے فخر سے اپنی بیٹی کی جانب دیکھا جس نے کبھی ان کا سر جھکنے نہیں دیا ۔۔
” بیٹا مجھے اپنی مرضی بتاؤ ۔ تمہارا دل راضی ہے کہ نہیں ۔۔ مجھے اور تمہارے ابو کو تمہاری خوشی عزیز ہے “
” امی میں اس رشتے کو نبھانا چاہتی ہوں ” حور نے ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے اپنی دل کی بات ان سے کی ۔۔
” آہل نے تمہیں کچھ بتایا ۔۔ ؟؟ ” وہ اس کے بالوں میں پیار سے انگلیاں پھیرنے لگیں ۔۔حور کو ان کے اس طرح کرنے سے بہت سکون مل رہا تھا۔
” یہ ہی کہ ان کی وائف کی ڈیتھ ہوگئی ہے ..” اس نے افسوس بھرے لہجے میں کہا ۔۔
رخسار بیگم نے اس کے چہرے کی جانب گہری نظروں سے دیکھا جہاں افسوس تھا ۔۔
” بس یہ ہی !! ” انہوں نے جیسے تصدیق کی
” جی …”
“ہمممم” انہوں نے لمبی سانس لی جیسے خود کو بولنے کے لیے تیار کیا ہوا ۔۔
” آہل کا ایک تین سال کا بیٹا بھی ہے ۔۔۔ ” اگرچہ حور کو اندازہ تھا کہ کچھ ایسا ہی ہوگا لیکن پھر یہ بات سن کر ایک پل کے لیے اس کا دل بند ہوا ۔۔
” اب بھی تمہارا فیصلہ وہی ہے ۔؟؟؟”
اس نے خاموشی سے سر اثبات میں ہلا دیا ۔۔ اور آنکھیں بند کر دیں ۔۔
آہل نے انہیں سب کچھ بتا دیا تھا ۔۔اور سچ جاننے کے بعد ان کو آہل پر فخر محسوس ہوا تھا ۔۔وہ حور کو بھی بتانا چاہتی تھی لیکن آہل نے انہیں منع کیا تھا کہ وہ خود حورین کو سچ بتانا چاہتا تھا ۔۔
ویسے بھی اسے دو تین دن تک واپس چلا جانا تھا وہ اس لیے اپنے دوستوں سے ملاقات کے لیے گیا ہوا تھا ۔۔ رات کو اس نے سلمان صاحب کو فون کر کہ کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے دوست کے ہاں رہے گا ۔۔
انہوں نے حور کی طرف دیکھا جو ان کی گود میں آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی ۔۔
انہوں نے آہستہ سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔
” چلو تم نماز پڑھ لو ۔۔۔ میں ذرا اس نکمے کو دیکھ لوں ۔ ” وہ حور کا سر اٹھاتے ہوئے بولیں اور کمرے سے نکل گئیں ۔۔۔
حور نے ان کو جاتے دیکھا ۔۔ اس کو نہیں پتا تھا کہ آیا اس کا فیصلہ صحیح ہے کہ نہیں لیکن جو بھی تھا آہل کی کل کی باتیں اس کو پریشان کی ہوئی تھیں ۔۔۔
وہ ان سوچوں کو دماغ سے جھٹکتے ہوئے نماز کے لیے کھڑی ہو گئی۔۔
___________________________
جان کام کے سلسلے میں دوسرے شہر گیا تھا ۔۔ اس دوران وہ آفس ڈئرئیک کے حوالے کر گیا تھا۔۔اس کا مقصد صرف ڈئرئیک کا بزنس کی طرف انٹرسٹ بڑھانا تھا۔۔۔لیکن اس چکر میں بچارے باقی کلائنٹ کی شامت آ گئی تھی ۔۔۔
اس وقت بھی وہ جان کی چئیر پر بیٹھا ۔ ٹانگیں ٹیبل پر رکھے سامنے موجود امپلائے کی سانس خشک کیے ہوئے تھا ۔۔۔
“یار مزہ نہیں آیا کام دیکھ کر۔۔ ” اور وہی ہوا جو پیچھلے دو دن سے جان کی غیر موجودگی میں ہوتا آرہا تھا ۔۔ جب تک ڈیرئیک اگلے کو تیگنی کا ناچ نہیں نچا لیتا تھا ۔تب تک اسے مزہ نہیں آتا تھا ۔۔ کیا میل کیا فی میل سب کی شامت آئی ہوئی تھی ۔۔۔ان سب کو اب اپنے باس کی سہی سے قدر ہوئی تھی جو بےشک سخت تھا مگر کوئی ایسا کام نہیں کروایا تھا جو ڈیرئیک کرتا تھا ۔۔
” ٹھیک ہے سر میں سہی کرنے کی کوشش کرتا ہوں ” امپلاۓ بھاگنے کے چکروں میں تھا ۔
اب پاگل کو کون بتاتا کہ ڈیرئیک سے بھاگنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔۔
” ارے رکو ۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے “
” ج۔۔۔جی سر ” وہ ہکلاتے ہوئے بولا ۔۔۔لیکن دل میں ایک ہی ورد جاری تھا ۔۔
” آل تو جلال تو ۔۔ آئی بلا کو ٹال تو ۔””
یہ جو سامنے میکسی پڑی ہے نا ” ڈیرئیک نے سامنے پری لال رنگ کی میکسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس نے منگوائی تھی ۔۔
” یہ ذرا پہن کر تو دیکھاؤ ” اس کی بات سن کر اس امپلاۓ کی پوری آنکھیں کھل گئی ۔۔
“جی ۔۔۔ سر میں کیسے ۔۔” اس بچارے کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس طرح اس بلا سے پیچھا چھڑایا جائے ۔۔
” اچھا یہ نہیں پہن سکتے تو وہ جو سامنے شرٹس پڑی ہیں وہ پہن کے دیکھا دو ” ۔
وہ لیڈیز شرٹ کی جانب آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے بولا جو بیچ وغیرہ پر لڑکیاں پہن کر جاتی ہیں ۔۔
” سر میں میکسی پہن کر آتا ہو ..” وہ جلدی سے میکسی ہاتھ میں پکڑتے ہوئے آفس میں موجود باتھ روم میں گھس گیا مباد ڈیرئیک زبردستی ہی نہ پہنا دے ۔۔
” ہاہاہاہاہاہاہا ” امپلاۓ کے جاتے ہی وہ اس کی شکل پر چھائی بدحواسی یاد کر کے ہنسنے لگا ۔۔
” ٹن ٹن ٹن ” موبائل کی بیل سن کر اس نے سکرین کی جانب دیکھتے ہوئے کال پک کی ۔۔۔
“ہاےےےےے بڈی ” کال اٹھاتے ہی وہ چہکتے ہوئے بولا ۔۔
جان نے موبائیل کان سے ہٹا کر ایک بار پھر سے نمبر دیکھا آیا کہی غلط تو ڈال نہیں کردیا ۔۔
مطلب ڈیرئیک اور وہ بھی آفس کا کام کرتے ہوئے اتنا خوش ۔۔
” کام کیسا جا رہا ہے ؟؟ ” جان ایک ہاتھ سے لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ کرتے جبکہ دوسرے سے موبائیل کان سے دوبارہ لگاتے ہوئے آفس کے کام کے بارے میں اس سے استفادہ کیا ۔۔
” ایک دم اے ون ” وہ سامنے کھڑے امپلاے کو مسکراتے ہوئے انگھوٹا سے ڈن کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔
اور بیچارا امپلاے جس کی فیٹٹ مکیسی پہنے کی وجہ سے سانس روکی ہوئی تھی ۔ ڈیرئیک کو کوسنے کے سواہ کچھ نہ کر سکا ۔۔۔
” ڈیرئیک اب تم کسی امپلاۓ کو تنگ نہیں کرو گے ؟؟”
جان لیپ ٹاپ کی سکرین کی جانب دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
” کیا یار ۔۔ کبھی تو مجھے خوش ہونے دیا کرو …” اس نے بچوں کی طرح منہ بسورا ۔۔۔۔ لیکن نظریں اس کی اب بھی اس امپلاۓ کا تنقیدی جائزہ لے رہی تھیں۔
” تم جہاں مرضی مزے کرو مگر آفس میں نہیں ” اس کے سنجیدہ لہجے میں وارنگ تھی ۔۔
” تم نے کیمرے کہاں لگاۓ ہیں ” اب کی بار اس نے امپلاۓ سے نظر ہٹا کر ادھر آدھر دیکھتے ہوئے جیسے کیمرا تلاش کرتے ہوئے اس سے پوچھا ۔۔
” میں کل واپس آ رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔ ” جس ڈیرئیک نے اس کی بات کو گول کیا اس نے بھی اس کی بات گول کردی ۔۔۔
جیسے کو تیسا۔۔۔
ہاں نہیں تو۔۔۔۔
” میری سیکٹری کا انتظام ہوا ؟؟” ۔۔۔
” ایڈ دیا ہے ۔۔۔ لیکن کوئی بھی ایسی نہیں ملی جو زیادہ دیر ٹک سکے ” سبز آنکھوں کی شرارت چمک کر اس وقت مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔
” ہممم ۔ اچھا میں رکھتا ہوں ۔۔۔ اور ہاں اب کسی بھی امپلاۓ کو تنگ نہیں کرنا ” فون بند کرنے سے پہلے جان نے اسے پھر سے تنبیہ۔ کی ۔۔
” اممممم اوکے ” وہ حیرت انگیز طور پر وہ مان بھی گیا ۔۔۔
فون بند کر کے اس نے ہاتھ تھوڑی کے ساتھ لگاتے ہوئے پرسوچ نظروں سے سامنے کھڑے امپلاے کی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔
جو اس وقت نہایت ہی مزاحیہ خیز لگ رہا تھا ۔۔
” تم جاؤ “
جانے کا اشارہ ملتے ہی وہ وہاں سے اپنے کپڑے چینگ کر کے گدھے کے سینگ کی طرح غائب ہوا۔۔
ڈیرئیک بھی کچھ سوچ کر جان کے آفس سے نکل کر اس جانب بڑھا جہاں انٹر ویو ہو رہے تھے ۔۔۔
____________________________
ایما سر پکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی ۔
ڈیرئیک نے اس کو انٹرویو پر لگایا ہوا تھا ۔۔ کبھی وہ خود بھی اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس وقت تو ایما کے لیے انٹریو لینا زیادہ بمشکل ہو جاتا تھا ۔۔
ابھی کل کی بات تھی کہ انٹرویو کے لیے آنے والی لڑکیوں سے وہ عجیب و غریب سوال پوچھنے لگتا ۔۔
جیسے کہ ایک لڑکی کی آنکھیں کچھ چھوٹی تھیں تو اسے اس نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا ” ایک شخص کو دیکھنے کے لیے کتنا وقت لیتی ہو ” اور اس بچاری کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا جواب دے ۔۔
اسی طرح ایک لڑکی کی ہائیٹ بہت اچھی تھی اس سے ڈیریک نے کیا کہا ” سورج بٹ ہماری ہاں لفٹ کا انتظام ہے “
اور ایسے موقعوں پر ایما جتنی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کرتی تھی یہ اسے ہی پتا تھا
ابھی بھی بریک لے کر بیٹھی ہی تھی کہ ڈیرئیک پھر سے نازل ہو گیا ۔۔
” اور بھئی سائیکو ۔۔ ملی کوئی “
اس کی آواز سن کر ایما نے ہاتھوں سے سر اٹھا کر خمشش نظروں سے اس کی جانب دیکھا ۔۔
جو واقعی میں اس کو سائیکو کرنے کا پکا ارادہ کیے ہوئے تھا ۔۔
” میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ میرا کام نہیں ہیں پھر بھی تم نے مجھے یہاں بیٹھا دیا ” وہ اس جانب دیکھتے ہوئے سلگتے لہجے میں بولی ۔۔
” مطلب نہیں ۔۔۔۔ ہممم ” وہ اپنے تھوڑی پکڑتے ہوئے خود ہی اندازہ لگاتے ہوئے بولا ۔۔
” تم میرا پیچھا چھوڑنے کے لیے کیا لو گے ” ایما نے تنگ آکر اس سے پوچھا ۔۔۔
” ارےے تم تو میری دوست ۔ہو۔ تو اس لحاظ سے تمہیں میری مدد کر کے خوش ہونا چاہیے ..” وہ اس کے ساتھ پڑھی خالی کرسی پر بیٹھتے ہوئے مصنوعی افسوس چہرے پر سجاتے ہوئے بولا۔.
” پہلی بات ۔۔ میں تمہاری دوست نہیں ۔۔ دوسری میں جو بھی لڑکی سلیکٹ کرتی ہوں تمہیں وہ پسند نہیں آتی ۔ تیسری بات اگر ایسا ہی چلتا رہا تو مل گئی سیکٹری “
ایما کی بات سن کر اس کے چہرے پر سے مصنوعی افسوس غائب ہوئی ۔ اور شیطانی مسکراہٹ واپس اپنی جگہ پر آئی ۔۔
” اممم تم انٹر ویو سے جان چھڑا سکتی ہو ۔۔۔” وہ سسپینس پھلانے والے انداز میں بولا ۔۔
” کیسے ؟؟” ایما بےتابی سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی ۔۔ وہ مسلسل تین دن سے انٹرویو لے کر فیڈ آپ ہوگئی تھی ۔۔
” لیکن تم وعدہ کرو تم منع نہیں کرو گی ” سینے پر ہاتھ باندھ کر وہ چئیر پر ٹیک لگاتے ہوئے لاپرواہی سے بولا
اس کی بات سن کر ایما مشکوک ہوئی ۔۔۔
” اس طرح نہ دیکھوں ۔۔ کوئی غلط کام یا تنگ نہیں کر رہا میں تمہیں۔۔لیکن اگر تم نہیں چاہتی تو تمہاری مرضی ہے ۔ لیتی رہو انٹرویو “
ڈیرئیک اپنی باتوں سے اسے چاروں جانب سے گھیرے ہوئے تھا۔۔
” آئی تھنک تمہیں میری شرط منظور نہیں ۔۔۔ تو میں چلتا ہو”
اس کو سوچ میں پڑا دیکھ کر ڈیرییک چیئر سے اٹھتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھا ۔۔۔
” اوکے۔۔ اوکے منظور ہے “
اس کو جاتے دیکھ کر ایما جلدی سے اس کے سامنے آکر اسے روکتے ہوئے بولی ۔۔۔
ڈیرییک کو پہلے ہی پتا تھا کہ وہ مان جائے گی
آخر ڈیرییک کوئی کام کرنے کی ڈھان لے اور پھر وہ کام پورا نہ ہو ایسا ہو سکتا ہے بھلا ۔۔
” دیٹس دی سپیرٹ ” وہ خوشی سے ہاتھوں پر تالی مارتے ہوئے بولا ۔۔۔
” اب بتاؤ کیا کرنا ہے مجھے ؟؟” جب ڈیرییک نے اسے کچھ نہیں بتایا تو مجبوراً ایما کو خود ہی پوچھنا پڑا۔۔
” اب سے جان کی سیکٹری کی پوسٹ پر تم سلیکیٹ۔ ؟؟؟؟ “
یہ وہ بم تھا جس میں ایما کو لگا کہ اب اس کے حواس کام کرنا بند کر دیں گے ۔۔۔
لیکن اس کے حواس تو پوری طرح کام کر رہے تھے ۔۔
مطلب اس کو سہی سنائی دیا ۔۔وہ اسے جلاد کے ہاتھوں مروانے کے پلان کیے ہوئے تھا ۔
” کیااااااااااا!!!!!!!!!! ” صدمے سے وہ بس یہ ہی کہہ پائی ۔۔۔۔۔
