Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 12
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 12
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
“یہ کیا ؟؟”
وہ لوگ گاڑی کے پاس پہنچے ہی تھے جب گاڑی کی چابی سے لوک کھولتے جان کی نظر ایما کھلے پاؤں کی طرف گی ۔۔
” شوز ہیں ” ایما نے اس کی نظر اپنے شوز کی طرف محسوس کرتے ہوے سادگی سے جواب دیا۔۔
بلیک لونگ ٹیل فراق ۔ بالوں کو جوڑے میں باندھے جس میں اس کچھ لیٹیں نکل کر اس کے چہرے کا احاطہ کیے ہوے تھے ۔چہرہ میک آپ سے عاری تھا ۔ وہ بلاشبہ اس سادگی میں بھی بہت دلکش لگ رہی تھی ۔۔
لیکن ۔ اس کی ساری تیاری کو وہ وایٹ سپورٹ شوز بہت اوکوارد لک دے رہے تھے ۔۔
” سیریسلی مس ایما ۔۔ سپورٹ شوز ” جان طنزیہ انداز میں اس کی جانب دیکھتے ہوے بولا۔۔
” جی سر ۔۔ سپورٹ شوز۔۔ مجھے یہی پہنے کی عادت ہے ۔۔۔ اوپر سے دیکھیں نا سردی کتنی ہے ۔۔۔ ایسے مجھے سردی میں نہیں لگے گی ۔۔” ایما نے اس کی مختصر بات کا تفصیلی جواب دیا۔۔
اب کی بار وہ کچھ نہیں بولا ۔۔ بس پرسوچ نظروں سے اس کی جانب دیکھتے ہوے گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔ ایما نے بھی شکر ادا کیا کہ جان نے جلد ہی اس کی جان خلاصی کر دیا۔۔اس کے ساتھ والی گاڑی کی سیٹ سنبھال لی۔۔۔
____________________________
لاہور پاکستان۔۔
تین سالوں بعد وہ یہاں آیا تھا۔۔۔اس حویلی جہاں اس کا بچپن گزرا تھا۔۔ جہاں اس کے لاڈ أٹھاۓ گے۔۔ جہاں اس کی ہر فرمائش اس کے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی پوری کر دی جاتی ۔۔ وہ یہاں سب کی آنکھوں کا تارا تھا ۔۔۔
آج وہی اسے غیروں کی طرح ڈرائنگ روم میں بیٹھایا گیا تھا۔۔۔ کتنا عجیب تھا نا ۔۔
کہ کچھ پل پہلے ہی آپ آسمان پر تھے اور پتا ہی نہ چلا پل جھپکتے ہی آپ زمین پر آ گئے ۔۔۔
ملازم چاے وغرہ رکھ کر جا چکا تھا ۔۔لیکن اس نے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔۔
بس خاموشی سے سامنے پڑی بندوق کی طرف دیکھی گیا ۔۔
بچپن کی یادیں پھر سے تازہ ہو رہی تھی ۔۔۔
” دا دی ۔۔ می بھی ۔۔ ڈش ڈش کرے گا ۔۔۔” ( دا جی میں بھی ڈش ڈش کرو گا ..)
ایک تین سال کا کیٹو سا بچا اپنے دی جی کے بازو کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ہلاتے ہوئے اپنی توتلی زبان میں فرمایش کر رہا تھا۔۔
داجی جو اس وقت بلال کے ساتھ (آہل کے ابو) حویلی کے لان میں بیٹھے چاے پی رہے تھے ۔۔ جب وہ وہاں آیا تھا۔۔
” ہاہاہاہاہاہاہااہاہاہہاہا” اس کی فرمائش سن کر داجی نے قہقہا لگاتے ہوے اس کو اپنے گود میں لیا ۔۔۔جب کہ بلال صاحب نے اپنے صاحب زادے کی فرمائش سن کر مسکرانے پر اکتفادہ کیا تھا۔۔
” اچھا ۔۔۔ پھر کس کو ڈش ڈش کرو گے ؟؟”
” دو گندے ہوتے ہیں؟؟” ( جو گندا ہوتے ہیں) اس نے اپنے چھوٹی ناک چھڑا کر سمجھداری سے سے جواب دیا ۔۔
جبکہ بلال صاحب ان دنوں دادا پوتے کی ویڈیؤ بنا نے لگ گئے تھے ۔۔
” اوہ تو تون گندے ہے ؟؟” داجی اس کے گال پیار سے کھنچ کر بولے تھے ۔۔
“وہ دو میرے ڈول کو مد سے لے کر داۓ گا ۔۔۔ پھر میں اوتھے۔ڈش ڈش کروں دا ۔۔ بلتل ویسے جیسے کل وہ تی بی میں آنتل گندے انکل کو کر رہے تھے “
اس کی پوری بات سن کر بلال صاحب جو مزے سے ویڈیؤ بنا رہے تھے سٹپٹا کر سیدھے ہوے ۔۔ جبکہ داجی بھی چونکے تھے ۔۔
” اور یہ آپ نے کہاں دیکھا ؟؟” اب کہ انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔ انہیں اس طرح کی کیا کوئی بھی فلم پسند نہیں تھی ۔۔
” بابا کے تاتھ ” وہ تو مزے سے جواب دے کر فارغ ہو چکا تھا ۔۔۔ مگر بلال صاحب کی شامت آ گی تھی ۔۔۔۔
اور پھر بلال صاحب کی جو دا جی سے کلاس ہوئی تھی وہ بھی اس ویڈیو میں سیو ہوئی تھی ۔
پھر جب یہ ویڈیو اس نے ہوش سنبھالنے کے بعد بلال صاحب اپنا حصہ ایڈیٹ کر کے دیکھائی تھی ۔تو اسے کتنا عجیب لگا تھا کتنا چھڑا تھا ۔۔ بلکہ بلال صاحب تو اکثر اسے چھڑتے بھی تھے ۔۔وہ تو بعد میں داجی نے پوری ویڈیو دیکھائی تو پھر وہ خود بلال صاحب کو چھڑتا تھا۔۔گھر میں وہ سب سے زیادہ بی اماں اور بلال صاحب کے ہی قریب تھا۔۔
داجی تھوڑے سخت طبیعت کے مالک تھے ۔ اس وجہ وہ ان کے سامنے زرہ سنبھل کر رہتا تھا۔۔
پچھلی باتیں سوچتے ہوے ایک ہلکی سی مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں کا احاطہ کیا ۔۔
داجی کے اندر آتے ہی وہ دوبار سنجیدہ ہوگیا
داجی کے پیچھے عافیہ بی بی داجی کی بہن جو شادی کے مختصر عرصے میں اپنی بدلحاضی اور تیز زبان کے بعض اپنے دو بیٹوں سمت واپس اپنے میکے آگی ۔وہ بھی تھی ۔۔
ان کو یہاں دیکھ کر آہل کو ناگواری ہوئی ۔۔
آہل ان کے آتے ہی احترامََ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔۔
” بیٹھو “
اس کو واپس بیٹھنے کا کہتے ہوے وہ خود بھی بیٹھ چکے تھے ۔۔جبکہ عافیہ بی بی بھی ان کے ساتھ والے صوفے پر جگہ سنبھال چکی تھی ۔۔۔
آہل کو ان کی فطرت کا اچھی طرح پتا تھا کہ وہ ایک کی دو لگاتی ہیں ۔۔۔ اور تو اور اسے اس بات کا بھی پکا یقین تھا کہ اُنہوں نے ہی داجی سے کچھ ایسا کہا ہونا ہے جس کی وجہ سے وہ ان سے اتنے بدگمان ہوچکےہیں۔۔
” کیسے آنا ہوا برخوردار ۔۔ ” کیسا بے گانہ لہجہ تھا ۔۔۔
” میں نے آئی جان سے بات کر لی ہے ۔۔۔ وہ رخصتی کے لیے راضی ہیں ” اس نے ان نے بھی بےگانہ لہجے کو نظر انداز کرتے ہوئے بنا کسی تمہید باندھے جو بات کرنی تھی وہی کی ۔۔
اس کی بات سن کر داجی بھی چونکے تھے لیکن ان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی ۔۔
عافیہ بی بی بول پڑی ۔۔
” کی کیا ہے تو آنو کے وہ آنکھوں ویکھیں مکھی نگلنے نوں تیار اے ..۔۔ ” ان کے لیے یہ بات حضم کرنا مشکل ہو رہی تھی ۔۔۔ کہ رخسار بیگم اتنے جلدی رخصتی کے لیے تیار ہو گی ۔۔وہ تو ان کی طرف سے خلاح کے نوٹس کی امید میں تھی ۔۔۔
داجی کو ان کا انداز پسند نہیں آیا لیکن سوال ان کابھی وہی تھا ۔۔
” باقی کے معملات آپ خود ان سے تہ کر لیجیے گا ” عافیہ بی بی کے سوال جواب دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا۔۔
اپنے سوال کا نظر انداز ہونا انہیں آگ بگولہ کر گیا۔۔ اس سے پہلے کو۔ وہ پھر سے اپنے زبان سے زہریلے تیر نکالتی دا جی بول پڑے ۔۔
” ہممم ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔۔ لیکن تمہیں ہماری شرائط یاد ہے نا ؟؟ اس حویلی میں ہمارے ساتھ رہنے کی ۔۔ ‘”
ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوے وہ اپنے ازالی سخت اور مغرور اندرا میں بولے تھے ۔
” جی داجی ۔۔ اچھی طرح یاد ہیں ” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوے بولا تھا ۔۔
ان دونوں کی باتوں کے دوران عافیہ بی بی تو بس ہونک بنی ان کی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ ان کو اپنا نظرنداز ہونا بھی بڑا گراں گزرا تھا ۔۔
آہل دا جی سے اجازت لے کر بی جان اور باقی گھر والوں سے ملنے جا چکا تھا ۔۔۔
____________________
” سر ہم یہاں کیوں آۓ ہیں …” جان کو گاڑی شاپنگ مال کے آگے روکتے دیکھ کر اس نے اچھنبے سے اس کی جانب دیکھتے ہوے پوچھا تھا ۔۔
جان نے کوئی بھی جواب دیئے بغیر گاڑی سے اترا اور اسے بھی گاڑی سے اترنے کا اشارہ کرتے ہوے خود اندر داخل ہوا ۔۔
مجبوراً ایما بھی جلدی سے گاڑی سے نکل کر اس کے پیچھے ہوئی ۔۔
” سر ہمیں پارٹی سے لیٹ نہیں ہو رہا ۔۔۔ ” ایما بڑی مشکل سے اس کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی کوشش کرتے ہوے بولی تھی ۔۔
“نہیں۔ ” اب کی بار شکر ہے جواب تو آیا تھا ۔۔
جان کے ساتھ چلنے کی کوشش کرنے میں اس کا سانس پھول گیا تھا مگر پھر بھی وہ اس کے برابر چلنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔ یکدم اس کو اپنا ہاتھ کسی مضبوط مگر نرم گرفت میں محسوس ہوا ۔
چونک کر اس نے اپنے ہاتھ پکرنے والے شخص کی جانب دیکھا۔۔ جہاں جان سپاٹ چہرے کے ساتھ اس کا ہاتھ پکڑے لیڈز شوز شاپ میں داخل ہوا تھا ۔۔
ایما بھی ٹرانس کی سی کیفیت میں اس کے ساتھ کھینچی جا رہی تھی ۔۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن بھی تیز ہوتی محسوس ہو رہی تھی اتنی تیزکہ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہاں موجود سب لوگ اس کے دل کی دھڑکن سن رہے ہو ۔۔
یہ نہیں تھا کہ اس نے پہلے کھبی کسی مرد سے ہاتھ نہیں ملایا لیکن کسی کہ بھی ہاتھ ملانے سے اس کو ایسی فیلنگ کبھی نہیں آئی جیسے جان کے پکڑنے سے آئی تھے ۔۔۔
جان اس کو بیٹھا کر خود سینڈل دیکھنے لگا جبکہ ایما ابھی بھی اسی احساس میں گم تھی ۔۔
دل بار بار یہ خواہش کر رہا تھا کہ جان پھر سے اس کا ہاتھ تھام لے اور کبھی نہ چھوڑے۔
( بس کرو ایما بوس ہیں وہ تمہارے ۔۔ تم کہاں اور وہ کہاں ) بڑی مشکل سے اس نے اپنے دل کو ڈبتے ہوے جان کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔
جو اس سے سائز پوچھ رہا تھا ۔۔
اس کے پیچھے سیل بواے پورے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے ایما کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
ایما کو لگا کہ وہ اس سوٹ میں عجیب لگ رہی ہے اس لیے وہ اسے دیکھ کر ہنس رہا ہے ۔ ۔۔
” ٹرائے کرو ” جان سیل بواے کے ہاتھ میں موجود نازک اور نفیس سے بلیک ہیل والے سینڈل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔
” بٹ میں نہیں کبھی ہیل نہیں پہنی ۔۔ ” جان کی بات سن کر ایما کے تو طوطے کی اڑ گے تھے ۔
وہ تصویر میں خود کو یہ سنڈل پہن کر ملنگوں کی طرح چلتا دیکھ رہی تھی ۔۔
” میں نے جو کہا ہے وہ کرو ۔۔ ” اب کی بار وہ سختی سے بولا ۔۔
مجبوراً منہ بسورتے ہوے اس کو ماننے ہی بنی ۔۔
“۔ میم میں ہیلپ کروں۔۔۔۔۔ ” سیل مین سنڈل اس کے پاؤں کے پاس کرتے ہوے بولا۔۔
” اس کے ہاتھ ہیں ” ایما کے بولنے سے پہلے جان سرد مہری سے اسے ٹوکا ۔
سیلر بواے اس کے بعد نہیں بولا ۔۔ بس سنڈل اس کے پاوں کے قریب رکھ کے ایک طرف ہوگیا ۔۔۔۔
“پرفیکٹ ۔۔اب زرہ چل کر دیکھو …” اس کے پاؤں میں وہ سینڈل واقعی بہت پیارے لگ رہے تھے ۔۔
ایما ڈرتے ہوئی کھڑئی ہوئی اور ایک دو قدم چل کر اس کی بس ہوگی ۔۔
ایک تو ہیل ۔۔ وہ بھی پہلے بار پہنی ۔۔ دوسرا فلوار پر ٹائلز لگی تھی ۔۔ جس پر پاؤں بار بار سلپ ہو رہا تھا ۔۔
” میں گر جاؤں گی اس میں ۔۔ ” ایما دوبارہ صوفے پر بیٹھ کر اس کی جانب دیکھتے روہانسے منہ بنا کر بولی ۔جو کریڈٹ کارڈ سے پے مینٹ کر رہا تھا ۔۔
” نہیں گرتی ۔۔۔ ” جان اس کا ہاتھ دوبارہ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ کھڑا کرتے ہوے بولا۔۔
” میں گر جاؤں گی ۔۔ مجھے پتا ہے نا …” وہ دوسری بار سلپ ہوتی بچی تھی ۔۔ اگر جان نے اس کا ہاتھ نہ پکڑا ہوتا تو اس نے واقعی ہی گر جانا تھا ۔۔
” میں ہوں نا ” وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے ساتھ لگا کر بولا ۔۔۔۔۔
وو دنوں سے وقت رومنٹک کپل کی طرح چل رہے تھے ۔۔
اس کے بعد ایما کچھ نہیں بولی ۔۔ ہاں لیکن گرنے کا خدشہ اسے دوبارہ نہیں ہوا۔۔ پتا نہی کیوں اس کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے واقعی جان اس کو گرنے نہیں دے گا۔۔
_____________________
پارٹی شروع ہو چکی تھی ۔۔ پارٹی کا انتظام ولا کے لان میں ہی کیا گیا تھا ۔۔ پول کے پاس ہی ڈیک ۔۔ اور ڈانس فلور ۔۔۔۔ ایک طرف بیٹھنے کا انتظار تھا ۔۔ دوسری طرف کھانے کا ۔۔ لایٹ سا میوزک اور ڈیکوریشن بہت اچھی لگ رہی تھی ۔۔۔
ڈیرئیک کب کا وہاں آ چکا تھا ۔۔ لیکن نہ جان وہاں تھا نہ ہی ایما ۔۔ وہ اب تک بڑی شرفت سے کسی کو تنگ کیے بغیر کھڑا ۔۔۔۔
” یار کوئی پاٹنر ہی نہیں میرے ساتھ ۔۔ ایما بھی نہیں ورنہ اس کو ہی بنا لیتا ” ابھی وہ بور ہوتے یہی بات سوچ رہا تھا کہ اس کی نظر ایک لڑکی کی پشت پر گی جس کے گولڈن چھوٹے گردن تک آتے بال سلیقے سے سیٹ تھے ۔۔ وہ اکیلی ہی ایک طرف کھڑی تھی اور شاید ڈرنک کر رہی تھی ۔۔ کیونکہ اس کے ہاتھ میں کچھ تھا ۔۔
” واہ ۔۔ پہلے کیوں نہیں نظر پڑی ” اس نے اپنا گرے کوٹ سہی کیا اور پاس سے گرتے ہوے ویٹر سے دو گلاس پکڑ کر اس کی طرف بڑھا ۔۔۔
” اہمممم ۔۔۔۔۔ ” اس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس نے گلہ کھنکارا۔
وہ لڑکی مڑی ۔۔۔ اور اس پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھوں میں غضہ ہلکورے لینے لگا۔۔
” تمممم”
اس دیکھتے ہی دیرئیک نے بڑے نامحسوس انداز میں ہاتھ میں پکڑے گلاس ویٹر کو واپس پکڑا دیے تھے ۔۔ پھر اس لڑکی کے ہاتھ میں دیکھا کہ اس نے کیا پکڑا ہے۔۔اس کے ہاتھ میں موبائیل تھا۔۔۔۔۔۔۔مطلب مدان صاف تھا ۔۔
” جی میں ۔۔۔ نام تو یاد ہی ہوگا ۔۔۔ ڈئیر اولیویا۔۔ ” اگر اسے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں غضہ آیا تھا
تو دوسری طرف اسے دیکھتے ہی ڈیرئیک کی سبز آنکھیں ہیرے کی طرح جگمگا اٹھی ۔۔۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ..” وہ سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے نخوت سے بولی ۔۔۔
” مجھے اطلاع ملی تھی کہ یہاں ایک بلا آ گی ہے جس کے سر پر سانپ ہیں ۔۔۔ تم دیکھا ہے کہنی اسے ” وہ شرارت سے اس کو پچھلے ملاقات کا حوالہ دے رہا تھا۔۔
اس کی بات سن کر اولیویا نے غصے اپنے مھٹیاں بھینچ لی تھی ۔۔
بھلا کیسے وہ بھول سکتی تھی اس دن کو ۔۔ گھر جانے کے بعد کتنے دیر شیشے میں اپنے بال دیکھتی رہی تھی کہ آیا واقعی ایسے لگتے ہیں اس کے بال ۔۔۔۔ اسی وجہ سے تو اس نے اپنے بال شورٹ کر واے تھے ۔۔ اور اب وہ پھر وہی سب۔۔
” ہاں میرے سامنے ہی کھڑا ہے ۔۔ بلکہ اس کے سر سے ہی نہیں زبان ،ناک ، آنکھ ہر جگہ ہی سانپ ہیں ” ترخ کر جواب آیا تھا ۔
” ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔ ” اولیویا نے ناگواری سے اسے ہستے ہوے دیکھا اس کا بس نے چل رہا تھا ۔ کہ وہ واقعی سانپ لاکر اس کے منہ میں ڈال دے ۔۔
” یہاں کیا ہو رہا ہے ؟؟” جان کی سنجیدہ آواز سن کر وہ دونوں ہی اس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔
” او ام جی ۔۔ یہ میس سائیکو ہے ؟؟؟ ” جان کے ساتھ گھبرائی سی کھڑی ایما پر نظر پڑتے ہی ڈیرئیک خوشی سے پرجوش انداز میں بولا ۔۔
” ڈیرئئک !! تم مس اولیویا سے کیا کہا ؟؟” جان اولیویا کے چہرے پر چھائی بے ناگواری نوٹ کر چکا تھا ۔۔اس لیے ڈیرئیک کے سوال نظر انداز کرتے ہوے اس نے اپنا سوال پوچھا ۔۔۔
” میں تو جسٹ تعریف کی تھی ۔۔۔” وہ کندھے اچکا کر مزے سے بولا ۔۔
اس کی تعریف کیسی ہوتی ہے اس بات کا جان کو اچھی طرح پتا تھا ۔۔
” ڈیرئیک یہ وہی نئی ماڈل ہے جس کا میں نے تمہیں بتایا تھا ۔۔””جان دانت پیستے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دیتا بولا ۔۔۔
‘”مطلب میرے ساتھ جو ماڈل ہے وہ یہ ہے ۔۔۔ یس ” ڈیرئیک کی تو خوشی سے دانت ہی اندر نہیں جا رہے تھے ۔۔
” نو وے میں اس کے ساتھ کام ۔۔ نہیں بلکل نہیں کر سکتی “. الیویا نے فوراً انکار کیا ۔۔
” اگیرمینٹ سائین ہیں۔۔۔ اب تم منع نہیں کر سکتی ۔۔ ” جان اسے ٹوکتے ہوے بولا ۔۔
“اچھا چھوڑوں سب ۔۔ مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے اس لڑکے کو لڑکی کیسے بنایا ؟” ڈیرئیک اور اس کے عجیب سوال ۔۔۔
” ڈیرئیک تم جیسے آفس میں لڑکے کو لڑکی بنا لیتے ہو ۔۔۔ تو تمہیں تو پھر سب پتا ہوگانا ۔۔ ” ایما بار بار اس کے اس طرح کہنے سے تنگ آ کر بولی ۔۔
ایک تو پہلے ہی اسی ہیل اور ڈریس کی وجہ سے عجیب لگ رہا تھا ۔۔
” تم سب لوگ باتیں کرو میں ابھی آتا ہوں ۔۔ “
جان جعفر صاحب اور شازیہ بیگم کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔۔۔
” آپ وہی ہو نا جس نے اس دن ہوٹل میں اس کی طبیعت صاف کی تھی ” ایما ڈیرئیک کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اولیویا کی طرف اشتیاق سے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
ڈیرئیک نے منہ ٹیھرا کیا ۔۔
” ہاں ۔۔ بس سوچ رہی ہوں اس وقت وائن کی جگہ تیزاب ہوتا تو وہ پھنک دیتی۔”
” ہاہاہاہاہاہاہااہاہاہہاہا ” اس کی بات سن کر وہ ایما نے مزے سے قہاہا لگایا ۔۔
” واہ ۔۔ تم دونوں ہی وہ عظیم ہستیاں ہوں جہنوں نے پہلی ہی ملاقات میں ڈیرئیک پر کچھ پھکنے کا شرف حاصل کیا ۔۔ ایک نے کوفی پھینکی ۔۔ وہ تو میری قسمت اچھی تھی کہ کافی ٹھنڈی تھی ۔۔ ورنہ میرا یہ حسین چہرا خراب ہو چکا ہونا تھا۔۔ اور دوسری محترمہ ۔۔ نے تو واین کی پوری بوتل قسطوں میں پھینکی تھی۔۔ اب وہ دنوں ہستیاں میرا شکریہ ادا کرنے کی بجاے مجھ پر ہنس رہی ہیں ۔۔۔۔ کیا وقت آ گیا ہے “
ڈیرئیک لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ ہلا ہلا کر پوری تقریر ہی کر ڈالی ۔۔
وہ دونوں پہلے تو حیرت سے اس کا لڑاکا انداز دیکھتی رہی پھر ہسنے لگی ۔۔۔
” جو بھی ہے ۔۔۔ لیکن دل کا بہت اچھا ہے ۔۔۔ ” ایما نے اپنے ساتھ کھڑی اولیویا سے سرگوشی میں اس کی تعریف کی جسے سن کر اس نے منہ بنایا ۔۔ مطلب صاف وہ ایما کی بات پر ایگری نہیں تھی ۔۔
” آہ ہ ہ ۔۔۔فائنلی کسی نے تو مجھے پہچانا ۔۔۔۔۔ اس لیے تو تم مجھے اچھی لگتی ہو ۔۔ مگر ڈیئر تعریف کرنے ہے تو کھل کر کرو ۔۔۔ “
ڈیرئیک ڈرمائی انداز میں جھومتے ہوئے بولا۔۔۔
بھلا ڈیرئیک سے کوئی چیز چھپئی جا سکتی ہے ۔۔
“مجھے آپ سب کی توجہ چاہیے ۔۔۔۔ ” جعفر صاحب مائک پر بولے ۔۔ جس سے سارے ان کی طرف متوجہ ہوے ۔۔
” آج کی شام میں ہمارا ساتھ دینے کا بہت شکریہ۔۔ یہ پارٹی ایک تو ہم نے اس ڈیل کو حاصل کرنے کی خوشی میں رکھی ہے ۔۔۔ جو جان نے بلیک سٹار گروپ آف انڈسٹری سے کی ساتھ کی ہے ۔۔۔
اور دوسری کہ میرا دوسرا بیٹا ۔۔ حنان جعفر بھی اب سے آفس جوان کر رہا ہے ۔۔ “
وہ حنان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کو اپنے ساتھ لگاتے ہوے فخر سے بولے ۔۔ ان کی دوسری طرف جان کھڑا بے زار سا چہرہ بنا کھڑا تھا ۔۔۔
تھوری دیر بعد سارے رفراشمنٹ سے لطف اندوز ہو رہاے تھے ۔۔
ڈیرئیک پتا نہیں کہاں غایب ہو گیا تھا ۔۔ اولیویا بھی جان کے جانے بعد تھوڑی دیر بعد وہاں سے چلی کی گی ۔۔
بچی ایما ۔۔ جسے آج پتا لگا تھا کہ اس کا دوست حنان اس کے باس کا ہی بھائی ہے ۔۔۔
یہ بہت اس کے لیے شوکنگ تھی۔۔۔
” ایما ۔۔ !!!! ” وہ ایک کونے میں بیٹھے تھی ۔۔ اس نے زیادہ چلنے سے پرہیز ہی کیا تھا ۔۔
ابھی یہی بات سوچ ہی تھی کہ جانی پہچانی آواز سن کر سامنے دیکھا جہان حنان کھڑا تھا ۔۔
او مائی گاڈ۔۔۔ یار تم بلکل ڈفرنٹ لگ رہی ہو ۔۔۔ پہچانی ہی جا رہی ۔۔۔۔۔ “
” جان سر۔۔۔ تمہارے ؟؟؟ ” اس کا سوال سن کر حنان کے چہرے پر چھائی خوشگواری جو اسے دیکھ کر آئی تھی وہ غایب ہو گئ اور اس کی جگہ ناگواری لے لی ۔۔
” بھائی ہے ۔۔۔ سوتیلا بھائی ۔۔۔ ” وہ آہستہ آواز میں بولا۔۔۔ اس نے آنکھیں نیچے کرکے بتایا ۔۔اور لہجہ بھی حتی الامکان نورمل رکھا ۔۔
اگر وہ ایما کی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا تو وہ دیکھ لیتی کہ جان کے ذکر سے اس کی آنکھوں میں کیسا زہر سا اترا تھا ۔۔
” سو اس کا مطلب میرے باس تمہارے بھائی ہیں ۔۔ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔۔ “
ایما اس کے ناگواری کو محسوس کیے بغیر آکسائیڈ انداز میں بولی ۔۔
” تم۔۔ جان کے آفس میں کام کرتی ہو ؟؟؟؟ ” حنان کے لیے یہ انکشاف حیرت انگیز تھا ۔۔
” ہاں ۔۔ سر ۔ ” ااس کی بات مکمل کرنے سے پہلے ہی شازیہ وہاں آگی ۔۔
” اوہ ۔ ہانی ڈالنگ تم یہاں ہو ۔ آؤ میرے ساتھ مجھے آپ کو کسی سے ملاوانا ہے ” وہ ایما کو سراے سے نظر انداز کر کے اس کو اپنے ساتھ لے گی ۔۔۔
ایما کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ انہوں نے جان کر حنان کو اس کے پاس سے ہٹایا ہے۔۔
” میں بھی نکلتی ہو” ایما جب اکیلے بیٹھ کر بور ہو گی تو جانے کے ارادے سے اٹھتے ہوئے بولی۔۔
” سر پہلے پوچھ لوں۔۔۔۔ ” وہ اپنے جگہ سے اٹھ کر جان کو تلاش کرنے لگی۔۔
بلا آخر اس کی نظر تھوڑے دور کھڑے جان پر پڑی جو ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے دوسرا سے گلاس پکڑ ے بڑی توجہ سے اپنے سامنے کھڑا آدمی کی بات سن رہا تھا ۔۔
وہ اگر ایک نظر سامنے اٹھتا تو اس کی نظر سیدھا ایما پر جاتی ۔۔
” بلیک بیوٹی ۔۔۔ ” وہ جان کے پاس جانے ہی لگی تھی کہ اسی وقت کوئی اس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا ۔۔
وہ کوئی 33 کی عمر کا آدمی تھا۔۔ کالی آنکھیں۔ کالی گھڑی ۔۔۔ کالے بوٹ ۔۔ کالے بال ۔۔ وہ دیکھنے میں بڑی شاندار شخصیت کا ملک لگ رہا تھا۔۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس کہ اس نے سب کچھ اس نے کالا پہنا ہوا تھا
ایما کو اس کے پاس آ جانے سے خوف سا محسوس ہوا تھا ۔۔۔
” واٹ یور گڈ نیم ” وہ سیدھے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔
” ای۔۔ ایما ” اس نے اٹکتے ہوے بڑی مشکل سے اپنا نام مکمل کیا ۔۔
” سو ایما میرا نام دلان ہی ہے۔۔ ” ایما نے کچھ نہیں کہا بس ہلکی سی مسکراہٹ پاس کی اور سایڈ سے ہو کر جانی لگی کہ وہ پھر اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا ۔۔
” سو ایما ۔۔ میرے ساتھ ڈانس کریں گی !!!” وہ اپنا ایک ہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوے بولا۔۔
ایما جس کا دل کر رہا تھا کہ وہ بس کسی طرح اس کی نظروں کے سامنے سے ہٹ جائے اس کی ڈانس کی آفر سن کر پریشان ہوگی ۔۔
“elle est à moi mre Dylan”
اس کے جواب دینے سے پہلے جان وہاں آیا اور اس کے کندھے کو اپنے بازؤ کے حصار میں لیتے ہوے بڑے چبتے ہوے لہجے میں اُس آدمی سے گویا ہوا ۔۔
ایما کو اس کی بات سمجھ نہیں آئی سواے اس سے اُس آدمی کا نام Dylan تھا ۔۔ کیونکہ وہ کسی اور زبان میں بولا تھا ۔۔
اس نے آدمی نے مسکراتے ہوئے ان کو جانے کا راستہ دیا۔ لیکن یہ مسکراہٹ صرف ہونٹوں تک تھی ۔۔ آنکھوں میں اس سے کے پراسراریت تھی ۔۔
جان اس کو لےکر ڈانس فلور پر لے آیا جہاں پہلے سے دوسرے جوڑے لایٹ کپل ڈانس کر رہے تھے ۔۔۔
جان نے اپنے ہاتھ اس کی نازک کمر پر رکھ کر ایک جھٹکے سے اپنے قریب کیا ۔۔
اگر ایما بروقت اس کے سینے پر ہاتھ نہ رکھتی تو اس نے سیدھا جان کے سینے ٹکڑانا ۔۔
اب کہ جان نے اس کا ایک ہاتھ اپنے کندھے پر رکھا اور دوسرے اپنے ہاتھ میں پکڑ کر آہستہ آہستہ سٹپ لے رہا تھا ۔۔
” کیا کہہ رہا تھا وہ ؟؟؟ ” جان ایما کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سلگتے لہجے میں بولا۔۔
” کچھ خاص نہیں .” ایما نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی ۔۔۔
جان نے یکدم اس کے ہاتھ پر اپنے گرفت مضبوط کی اتنی کہ ایما کو درد ہونے لگا تھا ۔۔
” میں نے کچھ پوچھا ہے ۔۔ ؟ ” وہ سرد مہری سے بولا۔۔
” وہ نام پوچھ رہا تھا ۔۔۔ اور ڈانس کی آفر کر آرہا تھا ۔” اس کا یہ انداز دیکھ کر ایما کو اس سے ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
جان کی پکڑ اس کے ہاتھ پر اور مضبوط ہوئی ۔۔ اتنی کہ درد کی وجہ سے اس کے آنکھوں میں نمی آگی ۔۔
” سر پلیز ۔۔۔۔۔ ” ایما کی گلوگیز آواز سن کر وہ ہوش میں آیا ۔۔۔
اور ایک جھٹکے سے اس سے علیحدہ ہوتے ہوئے وہاں سے نکلا تا۔
اس کے اس طرح جھٹکا دینے سے اس نے بڑی مشکل سے خود کو گرنے سے روکا تھا۔۔
