Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 19
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 19
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
“آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیئے تھا ۔۔”
جان ڈاکٹر کے آفس میں ڈاکٹر کے سامنے والی چیئر پر سر جکاۓ بیٹھا ایک ہاتھ سے ٹیبل پر پڑا پیپر ویٹ گھما رہا تھا ۔۔ اس کا چہرہ ہمشہ کے برعکس سرد تاثرات کے سے پاک تھا تھا ۔۔۔نیلی آنکھیں گھومتے ہوے پیپر ویٹ پر تھا ۔۔۔
وہ جب ہاسپٹل پہنچا تھا تو نرس سے ڈیرئیک کی کنڈیشن پوچھنے پر جب اس نے بتایا کہ ڈیرئیک کی کنڈیشن سیریس تھی تو اسے ایما کی ڈریسنگ کا کہہ کر وہ سیدھا ڈاکٹر کے پاس آیا بات کرنے لیکن ڈاکٹر کی سیٹ پر موجود شخصیت کو دیکھ کر اسے یوں محسوس ہوا تھا جیسے میلے میں گم ہو جانے والے بچے کو اچانک کوئی اپنا مل جائے ۔۔
تب سے وہ آفس میں ہی تھا ۔۔۔
” میں یہاں ہی کام کرتا ہوں۔۔ ہاں بس ہوا یہ کہ میں نے ڈیرییک کا کیس خود لیا تھا۔۔ جب میں نے اسے دیکھا تو مجھ سے رہا نہیں گیا ۔۔۔ اس کی کنڈیشن ہے بھی اتنی سیریس ۔۔ ہاتھ پاؤں پر بھی فکیچر ہے ۔۔ لیکن جس چیز کا زیادہ ڈر ہے وہ اس کی سر کی چوٹ کا ہے ۔۔ ابھی بھی بس میں کچھ رپورٹ کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔ اندر ڈاکٹر اس کی باقی ڈریسنگ کر رہے ہیں “
ڈاکٹر عبد العلیم اس کے چہرے کے تاثرات کا بغور معائنہ کرتے ہوے آہستہ آہستہ اسے ساری ڈیٹیل بتا رہے تھے ۔۔ اور جیسے جیسے وہ بتا رہے تھے ویسے ویسے جان کو لگ رہا تھا جیسے اس کا دل کچل رہا ہے ۔۔ اس کی آنکھوں میں ازیت ہی اذیت ارقم تھی جیسے چھوٹیں اسے آئی ہوں ۔۔ تکلیف اسے ہو رہی ہو ۔۔۔
” ڈیڈ ۔۔۔!!!” اس نے کے لہجے میں انجانا سا خوف تھا ۔۔ کچھ اپنا ۔۔ کچھ قیمتی ۔۔۔ کھو جانے کا خوف ۔۔۔ پھر سے تنہا رہ جانے کا خوف ۔۔ صرف اس کے لہجے میں ہی نہیں اس کی نیلی آنکھیں جیسے اس کے خوف کا پتا دے رہی ہو۔۔۔
دو ہی تو لوگ تھی جن کے سامنے وہ اپنا کھولا تھا ۔۔ ایک ڈیرییک اور ایک یہ ۔۔
اس کا ڈیڈ کہنا پر انہیں ہمشہ کی طرح اپنے اندر سکون اترتا محسوس ہوا تھا ۔۔ وہ اس کے لہجے میں چھپے خوف سے بھی واقف تھے ۔۔۔
” اسے کچھ ہوگا تو نہیں نا ۔۔۔ ” جب وہ کچھ نہیں بولی تو اس نے جان نے ان سے خود پوچھا ۔۔۔ وہ بلکل وہی بچہ بن گیا تھا ۔۔ جب اس کی ماں کو آکسیڈنٹ کے بعد یہاں اسی ہسپتال لےکر آیا گیا تھا ۔۔ بس تب اور اب میں فرق یہ تھا تب وہ اس کے لیے صرف ڈاکٹر تھے لیکن آج ۔۔ اب ان کا رشتہ تھا ۔۔ بے شک وہ اس کے سوتیلے باپ تھے ۔۔
لیکن رشتے میں کچھ سگہ سوتیلا نہیں ہوتا ۔۔ یہ ہم خود ہوتے ہیں ۔۔ جو رشتوں کو ۔۔ محبتوں کو پیمانے پر ناپتے ہیں ۔۔ حقیقت میں محبتیں بےغرض ہوتی ہیں ۔۔
” دعا کرو ۔۔۔ ” اپنی سیٹ سے اٹھ کر وہ اس کے پاس آۓ اور اس کے کندھے پر ہاتھ سے تھپکی دے کر اسے حوصلہ دیتے ہوے بولے ۔۔
” میری دعا قبول نہیں ہوتی ۔۔۔ “منہ نیچے کیے وہ جیسے اپنے پیچھلی دعائی قبول نہ ہونے کی وجہ سے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔ تلخی ۔مایوسی ۔۔ناراضگی کیا کیا نہ تھا اس کے لہجے میں ۔۔
” دعائیں قبول ہو جاتی ہیں ۔۔ بس ہم انسان ہی ہیں جو انتظار نہیں کرتے ۔۔ ” ہمشہ کی طرح اپنے شفیق لہجے میں بولتے انہوں کی بات سیدھا اس کے دل کو لگی تھی ۔۔ وہ خاموش ہی ہوگیا تھا ۔۔۔
” موم کیسی ہیں ۔۔ ” تھوری دیر کی خاموشی کے بعد ۔۔ اس نے سر اٹھا کر ان کی جانب دیکھا۔۔۔ اس کی آنکھیں لال تھی پوری ۔۔
” وہ ماں ٹھیک ہو سکتی ہے ۔۔ جس کی اولاد اسے ناراض ہو ۔۔۔۔ ؟؟ ” انہوں نے الٹا اس سے سوال کیا ۔۔ انداز کسی بھی طنز سے پاک تھا ۔
” کم سے کم وہ ٹھیک تو ہیں ۔۔ میرے سے قریب لوگ ہمشہ نقصان اٹھاتے ہیں ۔۔ ” اس نے طنزیہ انداز میں کیا ۔۔
اس کی اس بات پر وہ مسکراے تھے ۔۔ یوں جیسے کوئی بڑا بچے کی مصعوم سے سوال سے یا بات پر مسکراتا ہے ۔۔
” لا حاصل کو روتے ہیں ۔۔
اور حاصل کو رولاتے ہیں ۔۔ “
انہوں نے دیھرے سے اُردو میں یہ شعر پڑھا ۔۔جان کو اُردو آتی تھی لیکن اتنی نہیں ۔۔اس لیے اس نے نا سمجھی سے ان کی جانب دیکھا جو اس کے پاس پڑی چیئر پر اب بیٹھ رہے تھے ۔۔
” آپ کی ماں روز آپ کی راہ تکتی ہے کہ آپ ان کے پاس آؤ گی ۔۔ میں اکثر رتوں کو اٹھ اٹھ کر اسے آپ کے لیے روتے دیکھا ہے ۔۔ آپ کامیاب ہو پیسہ ہے آپ کے پاس ۔۔ مخلص دوست ۔۔ پھر بھی یہ کہہ رہے ہو ۔۔۔ یہ جو آزمائش ہوتی ہیں نا ۔۔۔ یہ امتحان ہے ۔۔۔ انسان
کا ایمان دیکھنے کے لیے ۔۔ اسے مضبوط کرنے کے لیے ۔۔ جو لوگ ان آزمائشوں کو صبر و شکر سے برداشت کرتے ہیں ۔۔ ان کا ایمان اور مضبوط ہوتا ہے ۔۔ ان کو پتا ہوتا ہے کہ اللّٰہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے ۔۔۔جیسے ہم سمجھ نہیں سکتے ۔۔
“قرآن میں ہے ۔۔۔ ( ممکن ہے جسے تم بُڑا سمجھتے ہو وہ تمہارے حق میں بہتر ہو ۔!!( سورہَ بقرہ آیت 216 ) اس سے بھی بڑا ہوسکتا تھا ۔۔ ” آگے وہ کچھ کہتے کہ ڈور نوک ہوا۔۔
وہ واپس اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئے ۔۔
” آجائیں ۔۔ ” ان کی اجازت ملتے ہی نرس اندر آئی اس نے ایک نظر جان پر ڈالی اور ہاتھ میں پکڑی فائیل ان کی جانب کرتے ہوئے پروفیشنل انداز میں بولی ۔۔” سر یہ روم نمبر 21 کے پیشنٹ کی رپورٹس آگی ۔۔
” اوکے ۔۔ تھانکس ۔۔ ” انہوں نے روپوٹ اس کے ہاتھ سے لی ۔۔ روپوٹ دے کر نرس واپس چلی گی ۔۔۔ وہ روپورٹ دیکھنے لگے ۔۔ جبکہ جان ان کی باتوں کے سحر میں تھا ۔۔
رپورٹ دیکھ کر وہ سیٹ سے اٹھے اس کا کندھا ایک بار پھر تھپاتھے ہوے دروازہ کھول کر باہر نکل گئے ۔
_________________________
ایما کو جان کی سمجھ نہیں آسکتی تھی کہ یہ بات اس نے یہ بات مان لی تھی ۔۔
ہسپتال میں آنے کے بعد وہ اسے چھوڑ کر نرس کو کچھ کہہ کر اندر ڈاکٹر کے پاس چلا گیا تھا جیسے کے وہ اکیلا آیا ہو ۔۔
ایما کو پتا نہیں چلا تھا کہ اس نے نرس کو کیا کہا تھا لیکن جب اس کے پاس آئی اور اس کے ہاتھ کی ڈریسنگ کی تو اسے سمجھ آگی تھی کہ اس نے نرس کو اس کی زخم دیکھنے کا کہا تھا ۔۔
مطلب وہ اس کے تکلف سے بے خبر نہیں تھا ۔۔۔
نرس اس کے ہاتھ پر کریم لگا کر فارغ ہو گی تھی اب اس کے پاؤں پر لگا رہی تھی جو اس نے سٹول پر رکھا ہوا تھا ۔۔
وہ جان کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔ وہ اسی کی ذات کو جتنا سلجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔ وہ خود ہی اتنا الجھ جاتی تھی ۔۔
کبھی وہ بہت زیادہ کرینگ ہو جاتا تھا ۔۔
کبھی بہت روڈ ۔۔۔
کبھی سوٹ ۔۔۔
کبھی جنونی ۔۔۔
اور کبھی بلکل انجانی ۔۔
” اور کہنی ہے ۔۔۔ ؟؟” نرس نے جب اس کے پاؤں پر بھی کریم لگا کر ڈریسنگ کر دی ۔۔ اب اس سے پوچھ رہی تھی کہ کہنی اور ہو تو وہاں بھی لگا دی ۔۔
اس نے جواب میں بس نہ میں سر ہلا دیا ۔۔
” اسکیوز می ۔۔ ڈیرییک کیسا ہے ۔۔۔” ایما تمام خیالات کو دماغ سے جھکتے ہوئے چیزیں سمیٹتی نرس سے پوچھا جس کے ہاتھ اس کے سوال سن کر روک گے اور اب وہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ جیسی کہہ رہی ہو کون ڈیرییک بہن ۔۔
” اوہ میرا مطلب وہ جو ابھی آکسیڈنٹ کا کیس آیا تھا ۔۔۔ ” اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ نرس کو کہاں پتا ہوگا کہ ڈیرئیک کون ہے ۔۔ اس لیے اس نے زیادہ آسان طریقہ سے پوچھا ۔۔
” کیس سریس ہے ۔۔۔ مین پروبلم ہیڈ انجری کا ہے ۔۔ باقی کی تفصیل آپ ڈاکٹر سے پوچھ لینا ۔۔۔ ” اب وہ ہاتھ سے گلو اتر کر اسے کی طرف پین کلر بڑھاتے ہوئے ۔۔۔
ایما نے پین کلر لی اور ٹیبل پر سے پانی کا گلاس اٹھایا اور دوائی نگل لی ۔۔ جو کہ وہ پھنک دیتی اگر نرس سر پر کھڑی نہ ہوتی ۔۔
اس نے دوا نگل کر ناک چھڑای۔۔۔ جب اسے کوئی ناپسندیدہ چیز مجبوری میں کھانی پڑے تو وہ ایسے ہی بچوں کی طرح ناک بھنویں چھڑاتی تھی ۔۔
” تھوری دیر تک پین بھی کم ہوجاۓ گی ۔۔۔ ” نرس اسے کہہ کر باہر چلی کی ۔۔۔ ایما نے ایک بار پھر کمرے میں نظر دوڑائی ۔۔۔ عام کمرہ ہی تھا جیسا ہسپتالوں کا ہوتا ہے ۔۔ چھوٹا سا کمرہ ایک سنگل بیڈ ۔۔ اس کے ساتھ چھوٹی سی ٹیبل ۔۔ اور دائیں طرف کھڑکی ۔۔۔
اس کے دیکھنے کا مقصد یہ تھا کہ اس کو یوں لگ رہا تھا جیسے اسے کوئی دیکھ رہا ہے ۔۔
تب کھڑکی والی سایڈ پر کھڑکا ہوا ۔۔۔
سردی کی وجہ سے ونڈو بند تھی ۔۔ کھڑکی گلاس کی تھی جو دھند کی وجہ سے بلر تھی ۔۔۔اس لیے سہی سے سے نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔مگر اسے یوں لگ رہا تھا جیسے کھڑکی کے اُس پار کوئی ہے ۔۔کیونکہ اسے سایہ سا محسوس ہوا تھا ۔۔
وہ بیڈ سے اٹھی ۔۔ اور پاؤں آرام سے زمین پر رکھا ۔۔ نرس نے اسے چلنے سے منع کیا تھا ۔۔
لیکن ہاےےےے یہ تجسس کے مارے لوگ ۔ کہاں باز آسکتے ۔۔
اس نے کھڑکی کے پاس جا کر آرام سے اپنے بائیں ہاتھ سے کھڑکی کھولی کیونکہ بائیں ہاتھ پر ڈریسنگ تھی ۔۔ ویسے بھی اس کی حالت جان کی جاہلانہ گرفت کی وجہ سے زیادہ خراب دی ۔۔
خیر تھوری دیر کی جہدوجہد سے وہ ایک ہاتھ سے کھڑکی کھولنے میں کامیاب ہوگی تھی ۔۔۔
لیکن اتنی میں ہی اس کو سانس چڑ گی تھی ۔۔ چہرہ لال ہوگیا تھا ۔۔ لیکن بھوری آنکھوں اپنی اتنی سی کامیابی پر چمک اٹھی تھی ۔۔
اس نے کھڑکی کھول کر باہر دیکھا ۔۔ مگر باہر کوئی نہیں تھا ۔۔ پھر وہ کھٹکا کیسا تھا ۔۔۔
اس نے الجھ کر ایک بار پھر دیکھا اس بار اس نے باہر پورا باہر نکال کر دیکھا ایک تو یہ دھند بھی دیکھنے میں روکاوٹ بن رہی تھی ۔۔۔
“کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔ ؟؟؟” مزیڈ کچھ دیکھتی کہ پیچھے سے ایک دم جان کی آواز سن کر وہ ڈر کر اچھلی اس سے پہلے اس کا سر اوپر کھڑکی پر پرتا جان نے بروقت اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر اس کا سر کو محفوظ کر لیا ۔۔۔
جان کے اس طرح ایک دم بلانے کی وجہ سے وہ گھبرا گی تھی ۔۔ یہی گھبراہٹ کے آثار اس کے چہرے سے نظر آ رہے تھے ۔۔
” آرام سے ۔۔۔ ” جان نے ایک نظر اس کے گھبراے چہرے پر ڈالی اور ایک اس پیچھے کھولی کھڑکی پر ۔۔۔ اور اس کے کندھے سے پکڑ کر اسے سہارا دیا بیڈ کی جانب لے کر آیا یوں کہ اس کے پاؤں پر زیادہ وزن نہ پڑے ۔۔۔ایما نے ایک نظر اپنے کندھے پر رکھے اس کے ہاتھوں پر ڈالی ۔۔ اور سانس بھر کر رہ گی ۔۔ کیونکہ اتنا تو اسے پتا لگ ہی گیا تھا کہ اسے جتنا منع کرے گی وہ اتنا ہی ضد میں آۓ گا ۔۔۔
اسے اس وقت وہ اس جنونی شخص کے بلکل الٹ تھا ۔۔ جو سب کچھ تباہ کرنے کے در پر تھا جبکہ اس وقت وہ پرسکون سمندر کی طرح جو ہزاروں راز اپنے اندر لیے ہوے تھا ۔۔ جس کے بارے میں بس سمدر کو ہی پتا ہوتا ہے ۔۔
جان نے اسے آرام سے بیڈ پر بیٹھایا ۔۔ یوں جیسے وہ کانچ کی ہو ۔۔۔
بیڈ پر بیٹھ کر ایما کی نظر بیڈ کے ساتھ پڑی ٹیبل پر نظر گی ۔۔ جہاں کافی کا کپ اور سانڈوچ پڑا تھا ۔۔
اسے بیٹھا کر جان کھڑکی بند کرنے چلاگیا ۔۔ جہاں سے آتی سرد ہواؤں نے کمرہ کافی ٹھنڈا کر دیا تھا ۔۔ابھی وہ کھڑکی بند کر ہی رہا تھا کہ اس کی نظر ایک شخص کی جانب پڑی جو جلدی سے مڑا تھا ۔۔ جان کی نظر صرف اس کی بلیک ہوڈی پر پڑی تھی ۔۔
یہ کھڑکی اس سایڈ پر تھی جہاں صرف درخت تھے ۔۔ نہ بیٹھنے کی کوئی جگہ تھی ۔۔ یہ سایڈ سنسان سی تھی ۔۔
وہ پرسوچ نظروں سے اس جانب دیکھا ۔۔ پھر کھڑکی بند کر کے وہ دوبارہ ایما کے سامنے روم میں پڑی واحد چیئر رکھ کر بیٹھ گیا ۔۔
اس کا چہرہ بلکل سنجیدہ تھا ۔۔ اس لیے وہ کیا سوچ رہا ہے کسی کو نہیں پتا تھا ۔۔
اس نے سانڈیوچ کا ریپڑا کھولا اور اس کے ہونٹ کے پاس کیا ۔۔۔
ایما اس کے اس طرح کرنے پر شرمندہ سی ہوگی ۔۔
” میں کھا لو گی ۔۔ ” اس نے دھیرے سے کہا ۔۔۔
جان نے ہاتھ پھر بھی پیچھے نہیں کیے مجبورََ ایما نے چھوٹی سے بائیٹ لی ۔۔۔
اس کے بائیٹ لیتے جان نے اب کافی کا کپ پکڑ کر اس کی پلایا ۔۔اسی طرح کر کے وہ اس کو سنڈیچ کھلاتا گیا ۔۔ اور ایما بھی چپ کر کھاتی گی ۔۔۔ یہ اور بات ہے کہ اس کا چہرہ جان کے یوں کرنے کی وجہ سے لال ہوگیا تھا ۔۔ جبکہ جان کا چہرہ اس کے برعکس سپاٹ تھا یوں جیسے وہ کوئی formality نبھا رہا ہو ۔۔۔ایما کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ سب کیوں کر رہا تھا ۔۔
” بتایا نہیں۔۔۔؟؟ کھڑکی کے پاس کیا کر رہی تھی ۔۔ ؟؟ ” جب سانڈوچ کی مشکل سے دو تین بائیٹ رہ گی تھی ۔۔ تو جان نے دوبارہ پوچھا ۔۔ اس کی نیلی آنکھیں گہری سے اس کے چہرے کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔۔
ایما جو اب ڈیرییک کے بارے میں پریشان تھی ۔۔ کہ وہ کیسا ہوا گیا ۔۔ جان نے اس طرح پوچھنے پر اس نے چونک کر اس کی جانب دیکھا ۔۔۔
اس کا چوکنا جان نے اچھے سے محسوس کیا تھا ۔۔
” کچھ نہیں۔ ۔۔ بس ایسے ہی ۔۔ ” ایما نے بات کو ٹالا ۔۔ اسے لگا کے اس کا وہم تھا اور ایسے کوئی ضروری بات نہیں تھی کہ وہ سب کو بتاتی پھرتی اس لیے اس نے بات کو ٹالا تھا ۔۔
” ہممم ..” جان کو اس اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے ۔۔ مگر اس نے کہہ نہیں ۔۔ اس نے ایما کی اس بات سے اپنا ہی مطلب نکلا تھا ۔۔۔
جو اس کی سب سے بڑی غلطی بنے والی تھی ۔۔
ایک تباہی جو وہ خود اپنے لیے تیار کر چکا تھا ۔۔
پہلے جو کچھ ہوا تھا ۔۔ اس میں اس کا قصور نہیں تھا ۔۔
لیکن اب جو ہونے والا تھا ۔۔ اس کا زمیداری وہ خود تھا ۔۔
جان اس کو سانڈوچ اور کافی ختم کر وائی اور جیب سے موبائل نکالا اور اس میں مصروف ہوگیا۔۔
اس وقت اسے سگریٹ کی شدید طلب ہو رہی تھی ۔۔ لیکن وہ اس وقت ہسپتال میں تھا ۔۔ اس لیے اس نے خود پر قابو پایا ہوے تھا ۔۔ ورنہ اندر ڈیرئیک کی حالت کی وجہ سے جو تباہی مچ رہی تھی ۔۔ اسے لگ رہا تھا وہ اس کو ختم کر دے گی ۔۔ اور اس ویڈیو میں جو حالت تھی اس کے یار کی ۔۔ وہ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہی تھی ۔۔ وہ واحد بندہ تھا پیچھے اتنے سالوں میں جسے وہ چاہ کر بھی خود سے دور نہیں کر پایا تھا ۔۔ ڈاکٹر عبد العلیم کی باتوں نے اسے سنھبالنے میں مدد کی تھی ۔۔ ورنہ اس کا دل۔کررہا تھا کہ ہر چیز تباہ کر کے رکھ دے ۔۔۔
” ڈیرئیک کیسا ہے ۔۔۔ ؟؟ وہ ٹھیک تو ہے نا ۔۔ ؟” ایما کے لہجے میں ڈیرییک کے لیے اپنائیت کے ساتھ فکرمندی تھی ۔۔
” ڈاکٹرز نے ابھی سہی سے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ ” وہ موبائیل کہ سکرین کو گھورتا ہوا بولا ۔۔ جہاں ڈیرئیک کے ڈیڈ نمبر شو ہو رہا تھا ۔۔ لیکن اس نے کال نہیں کی تھی ۔۔
اسے پتا تھا ۔۔ اس کی کال ان کے لیے بمب سے کم نہیں ہوگی ۔۔ لیکن پھر بھی ان کو بتانا بھی تو تھا نا ۔۔
ٹھنڈی سانس لے کر اس نے خود کو کمپوز کیا ۔۔
ایما جو اسی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ اسے ایک پل ہوں لگا جیسے جان کی آنکھیں نمم تھی ۔۔ لیکن اگلے پل جب جان نے لمبی سانس لے کر خود کو کمپوز کیا تب وہاں کچھ نہیں تھا ۔۔ اس کی آنکھیں خشک تھی ۔۔
” ہیلو ۔۔ ” فون کان سے لگا کر وہ نورمل لہجے میں بولا ۔۔
٫ اوہ ۔۔ جان ۔۔ کیسے ہو ۔۔ ” دوسری طرف مسٹر تھامس کی خوشگوار انداز میں بولے ۔۔
” میں ٹھیک آپ کیسے ہیں ۔۔۔” اس نے بھی جو ابََ ان کی خیریت دریافت کی ۔۔
” اس نالائق کے ہوتے میں ٹھیک ہو سکتا ہوں ۔۔ کب سے اسے فون کر رہا ہوں ۔۔ لیکن وہ اٹھا نہیں رہا ۔۔ ” انہوں نے ہمشہ کی طرح ڈیرییک کی شکائیت اس سے کی ۔۔وہ جان کو بھی بیٹوں کی طرح ہی ٹرٹیٹ کرتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے جان ان کے بڑا بیٹے جیسا ہے ۔۔جس سے وہ اکثر اس کے چھوٹے بھائی کی شکائیں کرتے تھے لیکن انہیں نہیں پتا تھا کہ ان کی اس بات نے اس کے دل پر چھڑایا ہی تو چلا دی تھی ۔۔
اس کو خود پر سے ضبط ختم ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔
” سر میں ۔۔۔ آپ کو اڈریس سینڈ کر رہا ہوں ۔۔۔ آپ مسسز تھامس کو لے کر آ جائیں ۔۔ ” اس نے ان کو ڈیریکٹ آکسیڈنٹ کا نہیں بتایا ۔۔۔ اسے پتا تھا کہ وہ ہارٹ پیشنٹ ہے ۔۔
دوسری طرف انہیں بھی اس کا سنجیدہ انداز کھٹکا تھا ۔۔
” کیا سب ٹھیک ہے ؟۔۔۔ ڈیرئیک کہاں ہے ۔۔؟” ان کا لہجے انجانے احساس کے تحت کانپا تھا ۔۔
” آپ آئیں پھر میں آپ کو بتاتا ہوں ۔۔ ” اتنا کہہ کر اس نے فون بند کیا اور اٹھ کر باہر نکل گیا ۔۔
ایما کو اس کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ڈیرییک کے پرنٹس سے بات کر رہا تھا ۔۔۔
ایما کا اپنا دل بھی ڈیرییک کے لیے پریشان ہو رہا تھا ۔۔
جان باہر نکالا تو اس کی نظر باہر بیٹھی اولیویا پر پڑی جس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ سر جکاۓ یک ٹک اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کے کپڑے خون سے بھرے ہوئے تھے ۔۔۔
اور یہ خون کس کا تھا ۔۔ یہ جان کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔ہاں یہ خون کتنا قیمتی ہے یہ کوئی اس سے پوچھتا ۔۔۔
اس میں مزید دیکھنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔ اس لیے وہ لمبے لمبے ڈنگ بڑھتا باہر نکالا ۔۔ اور قدرے سنسان گوشے میں آکر اس نے اپنی اندر کی بےچینی پر قابو پانے کے لیے پینٹ کی جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی اور ایک سگرئیٹ نکال کر ہونٹوں میں رکھا ۔۔ پھر لائٹر نکال کر سیگریٹ کے قریب لایا ۔۔کہ کانوں میں ڈیرییک کی آواز گونجی ۔۔
” اوہ بھائی بس کر ۔۔ آگے کم جلے ہوئے ہو جو مزید خود کو جلا رہے ہو ۔۔ ” اسے سگرٹ پسند نہیں تھی ۔۔ اسے لیے وہ اکثر و بیشتر جان کو بھی الٹی سیدھی باتیں کر کے ٹوکتا تھا ۔۔
لائٹر پکڑا ہاتھ کانپ اٹھا ۔۔ لاٹٹر کا شعلہ کا نکل جل رہا تھا مگر اس سے وہ شعلہ سگریٹ کو نہیں لگایا ۔۔ کیونکہ ڈیرییک کہا جملہ اس کے کان میں گونجا ۔۔ ” میں تم سے وعدہ کرتا ہو اگر تم نے ایک یہ سگریٹ پینا بند نہیں کیا تو قسمے میں دھواں بن کر کر تیرے اندر چلا جانا ہے اور وہ تباہی مچانی ہے کہ لگ پتے جاے گے تمہیں ۔۔ “
اس نے سگریٹ ہونٹوں سے نکال کر باہر پھنکی ۔۔ اور لائٹر بھی ایک طرف پھنک دیا ۔۔
اندر گھٹن بڑھ رہی تھی ۔۔
” آہ ہ ہ ہ ۔ح ۔۔ ” ضبط کے خول چھٹک رہے تھے ۔۔
اس نے زور سے اپنا ہاتھ دیوار پر مارا ۔۔
ایک بار ۔۔
دو بار ۔۔۔
تین بار ۔۔۔
یہاں تک کے ہاتھ خون پورا لال ہوگیا تھا ۔۔۔ دیوار بھی خون آلودہ ہوگی تھی ۔۔لیکن اسے تکلیف ہو ہی کب رہی تھی ۔۔
اس نے تھک کر اپنا سر اسی دیوار سے ٹکا دیا ۔۔
” تم ایسا نہیں کروں گے ۔۔ ” اس کی آواز نم تھی ۔۔۔نیلی آنکھوں کے سمندر سے پانے نکل کر اس کے گال بھگو رہا تھا ۔۔
مگر آنکھوں کے سامنے ڈیرییک کا اپنا ساتھ بتیا جانے والا وقت تھا چل رہا تھا ۔۔۔
ڈیرییک کا ہوتا چہرہ گھوم رہا تھا ۔۔
مہمانوں کی آمد اور رہنے کے انتظام کے لیے جگہ کم پڑ گی تو ً بلقیس بیگم نے مہک اور مسکان کو حور کے ساتھ روم شئر کرنے کہا ۔۔۔ مہک نے تو صاف منہ پر انکار کر دیا تھا کہ وہ اپنا کمرہ نہ کسی کو دے گی اور نہ ہی کسی کے ساتھ شئیر کرے گی ۔۔جبکہ مسکان آرام سے مان گی ۔۔۔
اور اب وہ اپنا بوریا بسترا ہاتھ میں لیے کانوں میں ہنڈفیری لگاۓ جھومتے ہوئے مگن انداز کر اوپر حور کے کمرے میں جا رہی تھی اس ایک کے ہاتھ میں اس کا سہرانا تھا جس کے کے بغیر اسے نیند نہیں آتی تھی ۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ میں اس نے اپنا سلیپنگ سوٹ پکڑا ہوا تھا وہ اپنے دیھان میں مست ماحول تھی ۔۔ کہ ایک دم اس کا ٹکرا اوپر سے نیچے تیزی اترتے علی سے ہوا ۔۔
” امی ۔۔۔ ” گرنے کے خوف سے اس نے امی کا نام لیتے ہوئے آنکھیں زور سے بند کر لی سامان سارا اس کا ہاتھ سے گرا کانوں سے ہینڈ فری بھی اتر گی ۔۔ وہ بھی سھریوں گرتی اگر علی بروقت اس کا ہاتھ نہ تھام لیتا ۔۔۔
علی جو اوپر سونے کی کوئی جگہ نہ دیکھی تو نیچے آ رہا تھا وہاں جگہ مل جائے گی کہ اسی وقت کوئی اس ٹکرایا اس نے خود کو سنبھالا ساتھ میں ٹکرنے والے کا ہاتھ پکڑکر دیکھا تو وہ مسکان تھی ۔۔۔
مصعوم چہرہ ۔۔ بڑی بڑی کالی آنکھیں جو اس وقت بند تھی ۔۔چہرے کا رنگ بھی اڑا ہوا تھا ۔۔ چھوٹی سی تیکھی ناک ۔۔اور پتلے نازک لب ۔۔ کالے بال جوڑے میں بند تھے ۔۔جس میں کچھ لٹیں نکل کر اس کے چہرے پر آئی ہوئی تھی ۔۔ وہ چھوٹی سی گڑیا ہی لگ رہی تھی ۔۔وہ اس سے سال دو سال چھوٹی ہی ہوگی ۔۔ خود وہ اٹھارہ کا تھا ۔۔ مگر اس وقت وہ مسکان کے سحر میں گرفتار ہو چکا تھا ۔
” امی نہیں علی ۔۔ ویسے تم نے پی تو میں ہوئی ۔۔ ” بامشکل اس سے نظر ہٹا کر علی نے طنز کیا ۔۔۔
اس کی آواز سن کر مسکان نے پٹ سے آنکھیں کھولی ۔۔ اور اسے دیکھ کر اس کی آنکھیں میں ناگوری آئی تھی ۔۔
” پہلی بات کہ مجھے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم علی یا گندے نالے کی گلی ۔۔۔دوسرا مجھے اپنا پتا ہے کہ میں نہیں پیتی لیکن تمہارا کنفرم ہے کہ تم نے ہر وقت پی ہوتی ہے اور آخری مگر سب سے ضروری میرا ہاتھ چھوڑا اور میرے راستے سے ہٹو۔۔ ” مسکان نے دانت پیستے ہوے ناگوری سے کہا ۔۔
جس کا علی پر کوئی نہیں ہوا تھا البتہ اس کی غصے سے پھولتے ناک دیکھ کر اسے مزہ آ رہا تھا ۔۔
” پکا میں چھوڑ دوں ۔۔۔” علی نے چھوڑنے سے پہلے کنفرم کیا ۔۔ انداز سنجیدہ تھا ۔۔ مگر آنکھیں ۔۔ فل شرارت سے چمک رہی تھی ۔۔۔
” کہا تمہں چھوڑنے کا مطلب نہیں پتا ۔۔ I said just ..leave my hand ..” اس نے علی کی آنکھوں شرارت دیکھ لی تھی جس سے اس کا ناک مزید پھول گیا تھا ۔۔
اس لیے غصے سے ساتھ اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی ۔۔
علی نے اس کی کوشش دیکھی ۔۔۔
” اوکے ۔۔جیسے تمہاری مزی ۔۔ ” یہ کہتے ہوئے علی نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔ وہ جو تب سے علی کے سہارے تھی اس کے ہاتھ چھوڑنے پر گرنے لگی ۔۔ خود کو گرنے سے بچانے کے لیے اس نے بےحواسی میں اپنے سامنے کھڑے علی کی شرٹ کو اس کے سینے سے مٹھی میں پکڑا ۔۔۔
” ارے ۔۔۔ ارے لڑکی کیا کر رہی ہو ۔۔ مجھے چھڑ رہی ہو ۔۔ چلو چھوڑو میری شرٹ ” علی مصنوعی حیرت سے اس کی حالت کا مزہ لیتے ہوے کہا ۔
” زیادہ اوور ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔ میں بس کو گرنے سے بچانے کے لیے کیا ۔۔ ” مسکان نے اس کی شرٹ چھوڑی اور اپنی خفت مٹانے کے لیے اسی پر چڑ دوڑی ۔۔اب وہ اپنا سوٹ اور سہرانا اور سوٹ اٹھانے جھکی تھی ۔۔
جبکہ وہ تو حیرت سے اس کا شاہانہ انداز دیکھتا رہ گیا ۔۔ یعنی چِت میں اس کی پت بھی اس کی ۔۔
” واہ کیا بات ہے محترمہ میں بھی اسی لیے آپ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ۔۔” علی نے خود کو سنبھال کر اسے کہا ۔۔
مسکان چیزین پکڑ کر سیدھی ہوئی اور اس کی بات جو نظر انداز کرتے ہوے دوبارہ کان میں ہنڈفیری لگی ۔۔ اور اوپر چلی گی ۔۔
لیکن اب کی بار وہ دیھان سے چل رہی تھی ۔۔
اور بچارہ علی تو اس کے انداز ہی محلاظہ کرتا رہ گیا تھا ۔۔
______________________________
حور ٹیریس میں کھڑی تھی جو اس کے کمرے کے ساتھ منسلک تھی ۔۔۔
ٹریس میں گملے پڑے ہوئے تھے ۔۔ جس میں مختلف قسم کے پھول بھی تھے ۔۔ ایک طرف جھولا پڑا ہوا تھا ۔۔۔اور اس کی گرل پر شادی کی وجہ سے لائٹنگ ہوئی تھی ۔۔ کچھ جگہ دیے پڑے ہوئے تھے ۔۔ جو کہ ماحول کو خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔
وہ بھی جھولے پر بیٹھی تھی اس کے سفید نازک ہاتھوں مہندی لگے ہاتھوں میں موبائیل تھا جس سے وہ ایما کو ویڈیو کال کر رہی تھی ۔۔
رات کا دوسرا پہر تھا ۔۔ اس لیے سب تھکے اپنے کمروں میں سو رہے تھے ۔۔
موبائیل کی سکرین پر ایما کی پرفائل آ رہی تھی ۔۔ جس میں وہ اس نے اپنی پوری فیملی کی پکچر لگی ہوئی تھی ۔۔
کال اٹینڈ ہوگی تھی ۔۔ اب کنکٹینگ ٹو ڈیوائس آ رہا تھا ۔۔۔
لیکن دوسری طرف کنیکٹ ہونے کے باوجود ایما کی طرف سے ویڈیوں شو نہیں ہو رہی تھی ۔۔
” ایما ….!!!” حور نے پریشانی سے موبائیل کی سکرین پر اس کی پروفائل گھورتے اس کا نام پکڑا ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ ” ایما نے دونوں کانوں میں ہنڈ فری لگائی۔۔۔
” السلام و علیکم ۔۔ تمہیں شو کیوں نہیں ہو رہی ۔۔ ” حور کو اس کا اس طرح کیمرہ بند کرنا الجھن میں ڈال رہا تھا ۔۔
” کچھ بس موبائیل گرگیا تھا ۔۔۔ اس لیے۔۔ اچھا تم یہ سب چھوڑوں اور دیکھاؤ ۔۔۔تم نے کیا پہنا تھا آج ؟؟۔۔۔۔ کیسی لگ رہی تھی ۔۔؟؟ کیسا رہا فنکشن ۔۔؟؟” اس کی بات پر حور نے موبائیل اس طرح کر کے پکڑا جس سے وہ پوری نظر آ رہی تھی ۔۔
مہندی لگے ہاتھ جو ۔۔ حجاب کی بجاے سر پر دوپٹہ جس میں ہوا کے زور کی وجہ سے اس کے بال نکل رہے تھے ۔۔ گھنی لمبی پلکیں ۔ گلابی ہونٹ ۔۔ اس نے ابھی بھی مایوں کا جوڑا پہنا ہوا تھا ۔۔ ٹریس اور چاند کی روشنیوں میں نہایا اس کا وجود دیکھ کر دومنٹ کے لیے ایما بھی مسمراز ہو گی تھی ۔۔ اتنی خوبصورتی لیکن اس کی خوبصورتی میں موجود پاکیزگی اسے زیادہ خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔
” تم خود دیکھ لو کسی لگ رہی ہوں کیا پہنا ہے ۔۔۔ فنکشن بہت اچھا رہا ۔۔ ہلا گلہ ۔۔۔ لیکن میں نے تمہں بہت مس کیا تھا ۔۔ ” اس نے اس کے سارے سوال کے جواب مسکرا کر دیتے ہوے کہا۔۔
” بلیو می حور ۔۔۔ تو اس وقت اس دنیا کی لگ ہی نہیں رہی ۔۔ بلکل انیجل لگ رہی ہو ۔۔ قسم سے اگر میں لڑکا ہوتی نہ تو تمہیں آج تمہاری شادی سے اغوا کر لینا تھا ۔۔۔۔ مگر اب بھی کوئی مسلہ نہیں کیا کہتے ہو ۔۔ ” حور ایما کی باتوں پر بلش کرنے لگی ۔۔اس کے گال گلابی ہوگے تھے ۔۔۔
” ایما !!!!” حور نے اسے پٹری اترتے دیکھا تو تنبیہ کی ۔۔
” ہاےےےےے آفت ہے آپ کا شرمانہ ۔۔۔ اگر تم اسی طرح اب شرماتی رہی تو یقیناً مجھے اپنی باتوں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا ۔۔” ایما پھر بھی باز نہ آئی شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولتے وہ آج پورے دن اب تھورا ایزی فیل کر رہی تھی ۔۔۔
” سیرسلی ۔۔۔ اگر تم نے اب بھی باز نہ آئی تو میں فون بند کر دینا ہے ۔۔ پھر کسی بھی فنکشن کی کوئی بھی پیک نہیں دوں گی ۔۔ ” حور کی دھمکی کارآمد رہی ۔۔۔ اب حور جھولے سے اٹھ کر چلتے ہوے گرل کے ساتھ اپنی بیک لگائی اور اسے فنکشن کے بارے میں بتاتی گی ۔۔
” اب تم بتا ۔۔ تم کیا رہی ہے آج کل ۔۔ ہاں تمہارا وہ کیسا جس کا اکیسڈیٹ ہوا تھا۔۔ اور تم نے دیا کرنے کا کہا ؟؟؟” حور کے سوال پر ایما کی مسکراہٹ سمٹی اور سارا دن اس کی آنکھیں کے سامنے فلم کی طرح دوڑا ۔۔۔۔
” فلحال تو ویسا ہی ہے ۔۔ کوئی امپرومینٹ نہیں ۔۔۔ ” ایما نے اداسی سے کہا ۔۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہ اس کی بدعا کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔اسی وجہ سے وہ پشیمان بھی تھی ۔۔
” تم اداس نہ ہو ۔۔ آللہ بہتر کے گا ۔۔ وہ ٹھیک ہو جائے گا ” حور نے اس انداز میں اداسی محسوس کی تو اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولی ۔۔۔
“میرے اداس ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔” وہ تھکے انداز میں بولی تو حور کو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ اکیسڈیٹ کے علاؤہ بھی کوئی بات ہے ۔۔ جس کی وجہ سے ڈسٹرب ہے ۔۔
” ایما سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔تم۔مجھے پریشان لگ رہی ہو؟؟ ۔۔ کوئی بات ہوئی کیا ۔۔۔ ؟؟ ” حور سے کہاں دیکھی جاتی تھی اس کی پریشانی ۔۔
” کیا پریشانی ہو سکتی ہے ۔۔ سب تو اچھا میری لایف میں ۔۔ باپ پہلے مڑ گیا تھا ۔۔ ماں بھی کچھ عرصے پہلے گزر گیا ۔۔۔ بھائی ہے تو وہ پہلے شرابی تھا اب لاپتہ ہی ہو گیا ۔۔ پولیس میں بھی روپوٹ کروائی لیکن اب تک کچھ اتاپتہ نہیں ۔۔آیا زندہ بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔ ” ایما ایک دم تلخ ہوئی تو حور مزید پریشان ہوگی ۔۔۔اس کے باتوں سے اسے لگا تھا کہ وہ شاید سنبھل گئی لیکن اب اسے اندازہ ہوگیا تھا اس کو ایما چھوڑ کر اس طرح نہیں آنا چاہیئے تھا ۔۔ وہ یہاں خوشیاں منا رہی ہے اور وہاں اس کی بہن جیسے دوست کتنی اکیلی ہے ۔۔
” سوری ایما ۔۔میں ابھی دوست نہیں ہو نا ۔ ” ایما جو مزید بول کر ۔۔ باقی کی باتیں بولتے حور کی آواز پر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔ اسے خود پر غصہ آیا ۔۔ اسے پوچھنے کی ضرورت نہیں جی حور سے کہ اس نے سوری کیوں کیا ۔۔اسے پتا تھا کہ وہ گلٹی فیل کر رہی ہوگی ۔۔
” اپنا سوری اپنے پاس مجھے یہ نہیں چاہیے ۔۔۔ ” خود کو کوستے اس نے ہشاش بشاش انداز میں بات کو بدلنے کی خاطر کہا ۔۔
مقصد حور کا دیھان اپنی باتوں کی طرف سے ہٹانا تھا کہ وہ گلٹی نہ ہو اور اپنی شادی سہی سے اٹنٹڈ کرے ۔۔
” پھر کیا چاہیے ۔۔۔ ؟؟” حور نے بھی محسوس کرلیا کہ وہ مزید اس بات نہیں چاہتی۔۔۔
” اجازت چاہے ۔۔۔۔۔ ” ایما کا انداز کافی سریس اور سنجیدہ تھا ۔
” کس چیز کی ۔۔ ؟؟” اس کی بات پر حور الجھن کا شکار ہوئی ۔۔کہ وہ کس چیز کی اجازت مانگ رہی ہے ۔۔۔
” تمہیں اغوا کرنے کی ۔۔۔” ایما کی بات پر حور پھر سے سرخ ہوگی ۔۔
” تم نا مجھ سے اب تب بات کرنا جب تمہاری یہ ٹام بوائے والی حرکتیں جاے گی ۔۔۔ ” اس نے کافی تپ کر کہا ۔۔ اور غصے سے کال بند کر دی ۔۔
” جانوں ایک بار میرے پاس آوے تو ۔۔ پھر جیسے کہوں گی ۔۔ ویسے ہی پاؤں گی ۔۔ ” اس کے کال بند کرنے پر ایما نے میسج کیا ۔۔ ساتھ میں کس
والا اموجی تھا ۔۔
وہ اکثر حور کو اس طرح تنگ کرتی تھی ۔۔۔
” جواب میں حور نے بھی گھوری
والا ایموجی سینڈ کیا اور لکھا کی اب وہ بھول جاۓ کہ وہ اپنی شادی کی کوئی پیک سینڈ کرے گی ۔۔۔ ” اس کے ہاتھ تیزی سے موبائیل کے کی بورڈ پر چل رہے تھے ۔۔ چہرے پر دیھی سے مسکراہٹ تھی ۔۔۔ صرف اس کے ہی نہیں ایما کے بھی ۔۔
یہی تو دوستی ہوتی ہے کہ وہ آپ کو اتنا زچ کرتے ہیں کہ آپ اپنی پریشانی بھول جاتے ۔۔
” مجھے پک کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی ۔۔ کیونکہ تمہیں تو میں اغوا کر لوں گی ” آگے ایما نے شرارتی مسکراہٹ کے لکھا اور آنکھ مارنے
والا ایموجی سینڈ کیا ۔۔اس نے آج سہی معنی میں آج حور کو تنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔
” ایما کیا مسلہ ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟” حور نے تنگ آکر لکھا ۔۔
” تمہیں اغوا کرنے کا ۔۔۔ ” ایما کا فوراََ سے پہلے رپلاے آیا ۔۔۔
” اوکے باۓ ۔۔۔ ” حور کو اندازہ ہوگیا تھا اس نے باز نہیں آنا تو اس بھی بات کہہ دیا ۔۔۔
دومنٹ کے وقفے کے بعد ایما کا میسج پھر سے آیا ۔۔۔۔
” تم آرام رہنے دو ۔۔تمہں اغوا کروں گی ۔۔تم نے بے ہوش ہو ۔۔ پھر لمبا سارا آرام کر لینا ۔۔۔ ابھی کچھ ۔۔ اہم اہم ویسے باتیں جائیں ۔۔۔ ” اس نے ساتھ معنی خیز والا ![]()
ایموجی سینڈ کیا ۔۔
حور کا دل کیا اپنا سر دیوار سے ماڑ لے ۔۔
” تم نا اپنے آہم آہم اپنے پاس رکھو ۔۔۔ میں ایسی باتیں نہیں کرتی ۔۔” حور نے غصے ٹائپ کر کے بھیجا۔۔اب کی بار وہ واقعی میں زچ ہوچکی تھی۔۔ لیکن ایما کو ابھی تسلی کہاں ہوئی تھی ۔۔
” ارے تم کس طرف جا رہی ہو ۔۔ میں تو یہ کہہ رہی تھی شاپنگ وغیرہ ۔۔ ” اگلے لمحے ایما نے انجان بنے کی انتہا کر دی ۔۔
” ایما بس کر دو ۔۔ یہ دیکھو ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔۔ ” حور نے ہاتھ جوڑنے والا ایموجی
سینڈ کیا ۔۔۔
” ارے ڈالنگ یہ کیا کر رہی ہو ۔۔ یہ ہاتھ اس کام کے لیے تھوری ہیں ۔۔ یہ تو دل سے لگانے کے لیے ہیں ۔۔ ” ایما نے ٹھرکی بنے کی انتہا کر دی ۔۔
اگر حور کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس نے یہی سمجھنا تھا کہ دوسری طرف کوئی لڑکا لیکن حور کو پتا تھا ۔۔ ایما کی ساری حرکتوں کا ۔۔۔۔
” اللہ حافظ ۔۔۔ ” لکھ کر اس نے سینڈ کیا ۔۔ اور ساتھ ہی نوٹیفیکیشن سے نیت ہی بند کر دیا ۔۔
اسے پتا اندازہ ہوگیا تھا کہ ایما میں ٹھرکی کی روح آئی ہوئی ہے اس نے اب باز نہیں آنا ۔۔
اور وہی ہوا جو ایما چاہتی تھی ۔۔ کہ حور خود فون بند کرے ۔۔ اور حور کا دماغ بھی بٹ گیا ۔۔
فون تھوڑی سے ٹکاۓ وہ آسمان پر موجود چاند
پر نظر جمائے ۔۔ دھمی مسکراہٹ لیے وہ ایما کی حرکتیں سوچ رہی تھی ۔۔۔
دو آنکھیں گہری سے اسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
حور کو خود پر کسی کی نظر تپش محسوس ہوئی تو اس نے نظر گھما کر ادھر اُدھر دیکھا ۔۔تو نیچے فہد کھڑا تھا ۔۔۔جو اسی کو دیکھ کر رہا تھا ۔۔
حور کو اس کی نظریں اپنے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
اسی پل ہوا کے تیز جھونکے سے اس سر سے دوپٹہ اترا۔۔۔ حور جو جانے کی کر رہی تھی ۔
اس سب سے مزید بھوکلا گی ۔۔ اس نے جلدی سے سر پر دوپٹہ سہی کیا اور جلدی سے بھاگنے کے انداز میں اپنے کمرے میں گی ۔۔ اسے خود پر غصہ آ رہا تھا کہ اگر اس نے ٹریس پر جانا ہی تھا تو سر پر حجاب ہی کر لیتے ۔۔
وہ مہک کی نیند خراب ہونے کے خیال سے وہاں پر گی ۔۔مگر اب اسے اپنے فیصلے پر افسوس ہو رہا تھا ۔۔ اسے وہاں نہیں جانا چاہیے تھا ۔۔۔ آج تک کسی نامحرم مرد نے اسے نگے سر نہیں دیکھا تھا ۔۔
__________________________
ڈیرییک کا آپریشن ہو چکا تھا ۔۔۔ ڈاکٹرز نے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا تھا کہ اگر اس دوران اسے ہوش آگیا تو کوئی فکر کی بات نہیں لیکن اگر وہ نا آیا تو اس کی زندگی کا بچنا بہت مشکل ہے ۔۔ چوبیس میں سے 15 گھنٹے گزر چکے تھے ۔۔ لیکن ابھی بھی اس کے ہوش کے کوئی آثار نہیں تھے ۔۔ اور یہی بات وہاں موجود افراد کا سانس روکنے کا سبب بن رہی تھی ۔۔۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ۔۔ ان سب بھی دھڑکنے آہستہ ہو رہی تھی ۔۔۔ جان حلق کو آ رہی تھی
ایما رات کو ہی چلی گی تھی ۔۔ کیونکہ اسے ہسپتالوں سے وحشت ہوتی تھی ۔۔ کیونکہ جب جب وہ یہاں آئی اس نے کسی کو کھویا ہی تھا ۔۔۔مزید کچھ کھونے کی اس میں ہمت نہیں تھے اس لئے اس نے جانا ہی بہتر سمجھا ۔۔
البتہ اولیویا وہی روکی تھی ۔۔
اس کی آکسیڈنٹ کی خبر بھی پھیل گئی تھی ۔۔۔ جیسے جیسے لوگوں کو پتا چلا تھا وہ وہاں آرہے تھے۔۔ یا فون کر رہے تھے ۔۔ ڈیرییک کے والدین بھی وہاں تھے ۔۔ اسکی ماں کا تو رو رو کے بڑا حال تھا جیسے جان نے سنھبال تھا جبکہ مسٹر تھامس کی بھی حالت سہی نہیں تھی لیکن وہ خود کو مضبوط کیے کھڑے تھے ۔۔ ان کا فون کتنی بار بجا لیکن انہوں نے ایک بار بھی نہیں دیکھا کہ کس کا ہے ۔۔
جان جو مسسز تھامس کے ساتھ بیٹھا ان کو حوصلہ دے رہا تھا ۔۔ اس کی نظروں سے یہ اوجھل نہیں تھا ۔۔
وہ خود بھی ٹوٹ رہا تھا ۔۔ لیکن کا خود پر کمال کنٹرول تھا ۔۔وہ اولیویا کو مسسز تھامس کے پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اٹھا ان کے پاس جا کر کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
وہ جو دیوار سے ٹیک لگائے ۔۔یک ٹک زمین کو گھور رہے تھے ۔۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنے سے انہوں نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
ان کی نظریں اس وقت ویران تھی ۔۔
ایسی ویرانی جیسے دیکھ کر خوف آتا ہے ۔۔۔
ان کے چہرے کی ساری شادبانی کچھ ہی گھنٹوں میں کہنی کھو سی گی تھی ۔۔
وہ جو اس عمر میں کافی چکاچوند تھے اس ٹائم ان کے کندھے جھکے ہوئے تھے ۔۔ان کا سہارہ ۔۔ ان کے گھر کا اکلوتا چراغ جس کی روشنی کی لو بجھنے کو تھی ۔۔ وہ سب جو کماتے تھے اسی کے لیے تو تھا ۔۔ ان کے جینے کا مقصد ہی وہی تھا ۔۔ اس کی شرارتوں سے ان کے گھر میں رونقیں تھی ۔۔ وہ ایک ہی 20 کے لوگوں کے برابر تھا جہاں ہوتا تھا ۔۔ وہاں خاموشی ہو ہی نہیں سکتی ۔۔ وہ کسی کو سکون سے بیٹھنے دیتا ہی نہیں تھا ۔۔ سب کی ناک میں دم کرنا تو اس کا کام تھا۔۔۔
اس وقت وہ چپ ۔۔ مگر سکون پھر بھی کسی کو نہیں تھا ۔۔
وہ آج خاموش کیا ہوا ۔۔۔ سب کی آوازیں کو بھی خاموش کروا گیا۔۔۔
آج اس نے کسی کو تنگ نہیں کیا تھا ۔۔ لیکن پھر بھی سب کی سانسیں تنگ تھی ۔
” اسے کچھ نہیں ہوگا ہے نا ۔۔۔ ” تب سے خاموش وہ اب اسے دیکھ کر بولے تھے ۔۔ ان کے لہجے میں امید تھی ۔۔ لیکن آنکھیں خوف سے بھری ہوئی تھی ۔۔
کچھ قمتی کھو جانے کے خوف سے ۔۔
جان کچھ نہیں بولا ۔۔ بس ضبط سے ہونٹ بھنچ کر رہ گیا ۔۔۔ اس کی نیلی آنکھیں اس وقت لال انگار ہو رہی تھی ۔۔
” تم اسے کہو۔۔۔ تمہاری بات مانتا ہے وہ ۔۔۔ ” اب وہ اس کا زخمی ہاتھ جس پر اس نے کوئی پٹی نہیں کروائی تھی بس پانی دھویا تھا ۔۔ ویسے بھی خون رک چکا تھا ۔۔لے کر بڑی بڑی امید سے بولے تھے ۔۔
جان کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ان کو منع کرتا اس لیے اس نے ان کے ہاتھوں میں قید اپنا ہاتھ نکلا ۔۔ جس سے ان کے چہرے کا رنگ کا ایک پل کے اُر گیا ۔۔
لیکن جب جان نے ان کے اسی ہاتھ کو اپنے دنوں ہاتھ میں لے کر انہیں حوصلہ دیا تھا ۔۔ تو مسکرا اٹھی ۔۔ لیکن ان کی مسکراہٹ میں بھی اداسی تھی ۔۔۔
وہ ان کو یہ نہیں کہہ سکا کہ اس میں نہیں ہمت کہ وہ ڈیرییک کو اس حالت میں دیکھ سکے وہ تو ویڈیو کو ایک بار دیکھ کر دوبارہ نہیں دیکھنے کی ہمت نہیں جٹا پیایا تھا اور تو اب وہ یہ نہیں کر پائے گا۔۔۔۔۔۔
انسان جتنے مرضی مضبوط کیوں نہ ہو ۔۔وہ اپنے پیاروں کو تکلیف میں دیکھ سکتا۔۔۔ وہ اس ٹائم سب سے زیادہ کمزور ہو جاتا ہے ۔۔
وہ ان کا ہاتھ آرام سے چھوڑتے ہوئے وہ ڈاکٹر کی طرف بڑھا ۔۔۔ اور بڑی مشکل سے پندرہ منٹ کی اجازت لے کر وہ اندر داخل ہوا۔
کمرے میں مشنوں کی آواز تھیں جو اس کی دل کی دھڑکن کا بتا رہی ۔۔
سامنے ہی تو وہ تھا ۔۔۔پٹیون اور مشنوں میں جکڑا ۔۔ سبز آنکھیں جس میں ہو وقت چمک رہتی تھی اب بند کیا ہوئی تھی کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔
زرد چہرہ جس پر جگہ جگہ خراشیں آئی ہوئی تھی ۔۔۔ مسکراتے لب اس وقت سختی سے بند تھے ۔۔ جیسے اب نہ بولنے کی قسم کھاۓ ہوے تھے ۔۔
اس کو اس طرح دیکھ کر جان کو وحشت نے گھیرا تھا ۔۔ وہ مڑ کر واپس جانے لگا تو مسٹر تھامس کا چہرہ اس کی آنکھوں میں آیا ۔۔
کتنی امید سے کہا تھا انہوں نے اسے ۔۔۔
وہ واپس مڑا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھتا اس کے پاس آیا ۔۔۔
” ڈیرییک ۔۔۔!!! ” جان نے اس کا نام لیا ۔۔۔ مگر کوئی رسپانس نہیں آیا ۔۔۔
” یار دیکھ اس طرح تنگ نہ کر ۔۔ اور جیسے تنگ کرنا کر لیے مگر اٹھ جا ۔۔ ” اس نے ایک بار پھر کوشش کی ۔۔۔
اس کی اس بات پر پر ڈیرییک کی بائیں ہاتھ ہی انگلیاں حرکت میں آئی ۔۔۔چونکہ جان اس کے دائیں طرف کھڑا تھا اس لیے وہ دیکھ نہیں سکا ۔۔
جبکہ جان اس کو کوئی رسپانس دیتے دیکھ کر ضبط کرتا رہ گیا ۔۔۔
” دیکھ اب اگر تو نہ اٹھا ۔۔۔ تو بھول جائیں میں تجھ سے کبھی بات کروں گا ۔۔ اور تجھے پتا ہے میرا ۔۔ ” غصے سے بولتے آخر میں اس کی آواز آہستہ ہوگی تھی ۔۔
ایک منٹ ۔۔
دو منٹ ۔۔۔
تین منٹ ۔۔
” تم نے کہا تھا کہ تم جلدی جان نہیں چھوڑنے والے ۔۔۔ تو اتنی سی جلدی تھی ۔۔۔ اٹھ جا ۔۔ ورنہ میں تمہارے ڈیڈ کو تمہارے ایک ایک کارنامہ بتانا ہے ۔۔”
کوئی جواب نہیں آیا ۔۔۔ ایک آخری کوشش کی ۔۔۔
مگر جواب وہی ۔۔۔
اس نے ضبط سے میٹھی اور ہونٹ بھنچے اور سے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکل گیا ۔۔
اسے کے جاتے ہی ۔۔۔
بستر پر لیٹا وجود کے ہونٹوں پر خف سی مسکراہٹ کے ساتھ مسکرایا ۔۔۔لیکن اگلے ہی پل اس کی مسکراہٹ سمٹی ۔۔ ماتھے پر وٹ پڑے
یہ ہارٹ مشین پر ۔۔ ڈرکھنوں کی رفتار میں بدلاؤ ہوا ۔۔
مشینوں نے شور مچانا شروع کر دیا ۔۔۔
ڈاکٹرز اور نرس بھاگتے ہوے اندر گیۓ ۔۔
جان جو ابھی دروازے سے نکلا ہی تھا اس افتاد پر بوکھلا گیا ۔۔
ایک پھر سارے ڈاکٹرز اندر تھے ۔۔
ایک بار پھر لال بتی ۔۔۔
ان کا خون خشک کر رہی تھی ۔۔
سب سانس روکے تھیٹر کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
لیکن اس بار انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا ۔۔۔
20 منٹ بعد ڈاکٹرز باہر نکلنے ۔۔ ان کے چہرے بلکل سنجیدے تھے ۔۔۔
کسی انہونی کے احساس تہت اولیویا اور مسسز تھامس نے منہ پر ہاتھ ۔۔
کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔۔ وہ ٹھیک ہوگا ۔۔ آنسو تواتر ان کی آنکھیوں سے نکل رہے تھے ۔۔ ان کے چہرے اس وقت پورے آنسوں سے بھیگے ہوئے تھے ۔۔
جبکہ جان اور مسٹر تھامس ڈاکٹرز کے جانب تیزی سے بڑھے تھے ۔۔
ڈاکٹر نے جان کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ ان کا چہرہ سپاٹ تھا ۔۔
” سوری ۔۔۔۔۔ ” ڈاکٹر یہ بول کر چپ ہوگے تھے ۔۔
جان بلکل سٹل ہوگیا ۔۔
مسٹر تھامس لڑکھڑے۔
مسسز تھامس ۔۔ روتے ہی نہ میں سر ہلا رہی تھی ۔۔ انہوں نے اپنی چیخیں روکنے کےلئے منہ پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔
اور الاویا گم سم ۔۔۔ ہوگی تھی ۔
وہاں اب موت سا سناٹا تھا ۔۔۔
کسی میں ہمت نہیں تھی کہ وہ یہ سناٹا تور پاتا
اس نے خود کو ایک لال سی غار نما میں دیکھا ۔۔۔
جہاں ایک طرف لاوا دیوار کے اوپر سے نکل کر نیچے کی طرف گر بہہ رہا تھا ۔۔ جس کی گرم لال اور پیلی روشنی نے غار کو روشن کیا ہوا تھا ۔۔۔
عجیب وحشت زادہ کر دینے والا ماحول تھا ۔۔۔
سناٹا ایسا تھا ۔۔
کہ اگر سوئی بھی گرتی تو آواز آ جاتی ۔۔
گرمی تھی تو انتہا کی تھی ۔۔
وہ پیشانی پر آیا پسنہ ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے وہ آس پاس کا جائزہ لے رہا ۔۔
اصولََ اسی صورتحال سے لوگ گھبرا جاتے ہیں لیکن وہ لوگ تھوڑا تھا ۔۔
اس کے انداز میں دلچسپی تھی ۔۔
سبز چمکتی آنکھوں اشتیاق ۔۔
آخر کو کوئی عام تھوری تھا ۔۔
وہ تو ڈیرییک تھا ۔۔
ڈیول کا سردار ۔۔۔
ایک دم کالا دھواں وہاں نمودار ہوا ۔۔۔
جو دیکھتے ہی دیکھتے اونچے چھت کو چھوتے ڈیول کی شکل اختیار کر گیا ۔۔
اس کا پورا جسم لال تھا۔۔ آنکھیں پیلے رنگ کی آگ جیسی شولا اگلی ۔۔ سر پر دو کالے رنگ کے سینگ ۔۔بڑے بڑے دانت باہر کو نکلے ہوے تھے ۔۔اس کے بڑے بڑے ہاتھ اور پاؤں کے ناخن کلے نوک دار اور لمبے تھے ۔۔اس نے ایک ہاتھ میں سٹیک پکڑی ہوئی تھی ۔۔ جو نیچے سے ڈنڈے کی طری سیدھا تھا ۔۔ بس اوپر کی طرف سے کانٹے کی طرح تھا ۔۔
ڈیول نے ڈیرییک کو دیکھا ۔۔ اور جھک کر اسے تنظیم دی ۔۔
” سرکار آپ آگے ۔۔” اس ڈیول کی بھاری اور خوفناک آواز غار میں گونجی ۔۔ آواز کچھ زیادہ اونچی تھی اس لیے ڈیرییک کو کان پر ہاتھ رکھنا پڑا ۔۔۔
“آرام سے بولو ۔۔۔” اس نے ڈیول کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔
“معافی سرکاری۔۔۔ ” اب کی بار وہ بچارا ممنایا ۔۔۔
” یہ ٹھیک ہے ۔۔ اب میرے بیٹھنے کا انتظام کرو۔۔۔ ” اس کے کہنے کی دیر تھی ایک اور ڈیول وہاں آیا اور کرسی کی شکل ڈھال گیا ۔۔۔
” گرمی بڑھی ہے ۔۔۔ ” کرسی پر بیٹھ کر اس نے ایک اور مسلہ بتایا ۔۔۔
اب وہی ڈیول جو سب سے پہلے آیا تھا اسے ہوا دینے لگا ۔۔
” سرکار وہ ۔۔۔ ” اس سے پہلے وہ بچارا ڈیول کچھ بولتا ڈیرییک پھر بول پڑا ۔۔جس پر ڈیول خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا ۔۔
” کھانا ۔۔۔” ایک ابڑو آچکا کر اس نے اس ہوا دیتے ڈیول کو گھورا ۔۔
وہ ہوا دیتا ڈیول کے پل کے لیے غائب ہوا ۔۔ پھر جب آیا تو بہت سارے کھانے کا سامان بھی اس کے پیچھے ہوا پر آرتا ہوا ڈیرییک کے سامنے آیا ۔۔۔
کھانا دیکھ کر وہ تو اس پر ٹوٹ پڑا ۔۔ جبکہ وہ دنوں ڈیول ضبط کیے اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگے ۔۔
آخر سرکار تھا وہ ان کا اگر کوئی بات بڑی لگتی اسے تو شامت ان کی آنی تھی ۔۔
” اب بولوں ۔۔ کیا بات ہے ۔۔ ” کھانے سے فارغ ہو کر کرسی سے ٹھیک لگاتے ہوے آخر اس نے ان بچاروں کا خیال آ ہی گیا ۔۔۔
” سرکار اب واپس آجائیں ۔۔ ہم سے اور نہیں سنبھالا جاتا ۔۔آپ کے جیسا ناک میں دم کوئی کر سکتا ” وہ اس کے بائیں طرف دنوں ہاتھ باندھے سر جکا کر بڑی احترام کے ساتھ بولا ۔۔
” سرکار دنیا والوں کو ہم سنبھال لیں گے ۔۔ اب ان ہیل والوں کو قابو کر لیں ۔۔ ویسے بھی آپ کے بغیر یہاں کوئی رونق نہیں ۔۔۔۔۔ ” آخر اس بچارے نے اپنا مسلہ بتا ہی دیا۔۔
” کتنے فخر سے بتا رہے ہو کہ نہیں سنبھالے جاتے ناک کٹوا دی ہے ۔۔ اتنا کچھ سیکھا کر گیا تھا وہ سب بھول گئے ۔۔ ” وہ ڈیول کو گھورتے ہوئے غصے سے بولا ۔۔
” جناب وہ سب اب پرانے ہو چکے ہیں ۔۔۔ کام نہیں کرتے ۔۔۔ ” اس بات پر ڈیرییک کو اور غصہ آیا اور وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
” ابھی میں اسی پرانے طریقے سے کر کے دیکھتا ہوں چلو۔۔۔ “ڈیرییک بول کر اس کے ساتھ جانے لگا کہ اسے اپنے نام کی پکار آئی ۔۔
” ڈیرییک ۔۔۔” وہ وہنی روک گیا ۔۔ اس آواز وہ کیسے نہ پہچانتا ۔۔یہ جان کی آواز تھی ۔۔
اس پکار کو وہ نظرانداز بھی نہیں کرسکتا تھا۔ ۔
اس لیے واپس مڑا گیا ۔۔
“سرکار۔ ۔۔ کہاں جا رہے ۔۔” اسے جاتا دیکھ کر وہ ڈیول بول اٹھا ۔۔۔
” واپس جہاں سب میرا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ ” ڈیرییک روک کر بولا ۔۔
” سرکار وہاں۔ جہاں آپ کی کوئی قدر نہیں ۔۔ ” وہ ڈیول پھر بولا ۔۔ اس کا مقصد اسے روکنا۔۔۔
اسی وقت پھر جان کی آواز آئی ۔۔
” یار دیکھ اس طرح تنگ نہ کر ۔۔ اور جیسے تنگ کرنا کر لیے مگر اٹھ جا ۔۔ ” اس کی اس بات پر ڈیرییک مسکرایا اور ڈیول کی طرف دیکھا ۔۔
” دیکھ لو ۔۔ میری کتنی قدر ۔۔ تمہیں کیا پتا میرے لیے کتنے پیارے پیارے ریڈرز مصعوم سی رائٹر سے ناراض اور احتجاج کرنے کی دھمکی دی رہے ۔۔۔ اب یہ جگہ تم لوگوں کی ہی ذمیداری ہے ۔۔ مجھے اور کوئی شکایت نہیں چاہیے ۔۔۔ ” وہ انگلی اٹھا کر انہیں تنبیہ کرتے ہوئے واپس چلا آیا ۔۔جبکہ ڈیول منہ بنا کر رہ گیا ۔۔
اسے ہوش آگیا تھا ۔۔۔
مگر سر اور پورے جسم سے میں ٹیسیں آٹھ رہی تھی ۔۔
لیکن وہ جاں کی آواز سن اور سمجھ بھی رہا تھا ۔۔
اور ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اس نے کرنا کیا ہے ۔۔
جان کے اٹھتے ہی اس کا شطانی دماغ پھر چلا ۔۔ جسے سوچ کر اس کی چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔۔ اس حالت میں بھی اسے دماغ کو سکون ہی تھا ۔۔۔
لیکن پھر درد کی وجہ سے اسکی مسکراہٹ سمٹی ۔۔
جب ڈاکٹرز وغیرہ آے ۔۔ وہ اسے پرسکون کرنے کے لیے نیند کا انجکشن لگانے لگے ۔۔ کہ اس بات سن کر روک گیے ۔۔
پھر جو اس نے کہا ۔۔ وہ بس حیرت سے اسے دیکھتے رہ گئے ۔۔ پھر اسبات میں سر ہلا کر باہر نکل گے ۔۔ جبکہ وہ اندر پرسکون ہوکر آنکھیں بند کر گیا۔۔۔
____________________________
” سوری ۔۔۔ مگر میں اتنی جلدی جان نہیں چھوڑنے والا ۔۔ ” ڈاکٹر اب کی بار مسکراتے ہوئے پھر سے بولا ۔۔
پہلے تو کسی کو سمجھ نہیں اس لیے وہ سب نا سمجھی سے ڈاکٹر کی جانب دیکھنے لگے ۔
لیکن اگلے ہی پل ڈاکٹر کی مسکراہٹ اور بات کو سمجھ کر جہاں وہ خوش ہونے کہ ساتھ غصہ ہوکر رہ گئے ۔۔
مطلب اسے اس حال میں بھی سکون نہیں تھا ۔۔
اتنی کریٹیکل سچویشن میں بھی ۔۔۔۔۔
بندہ تھوڑا لحاظ ہی کرلیتا لیکن وہی بات ڈیرییک بندہ تھوری تھا ۔۔۔
