465.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah Phala Ishq Episode 16

Raah Phala Ishq by Zoha Qadir

آفس سے وہ سیدھا گھر گئی تو حور کو پہلے سے دروازے کے پاس اپنے انتظار میں پایا ۔۔

حور کی نظر بھی اس پر پڑ چکی تھی ۔۔

ایما نے چابی سے دروازہ کھولا ۔۔۔ حور بھی خاموشی سے اس کے پیچھے کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔ان دنوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔۔۔

دروازہ کھول کر وہ اندر آئی ۔۔ اس کے پیچھے حور بھی اندر داخل ہوئی ۔۔۔

ایما نے چابی بےدلی سے ٹیبل پر پھینکی اور خود صوفے پر ٹیک لگا کے بیٹھ گئی اور آنکھیوں پر بازوں رکھ لیا ۔۔

حور اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہی تھی ۔۔ اس نے اس کا بکھرا حلیہ بھی نوٹ کیا تھا ۔۔ جس میں پتا نہیں کہاں چلی گئی ۔۔

” کل میرے فلائٹ ہے پاکستان کی ۔۔ پھر پتا نہیں میرا آنا کب ہو ۔۔ ” حور بھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی اور اس کے آنکھوں سے بازو ہٹایا ۔۔۔

بازو کے ہٹتے ہی اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔ لیکن آنسوؤں کو نکلنے سے روک نہ پائی ۔۔۔

” ایما ۔۔ ” حور نے نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔

اس کے ہاتھ رکھنے کی دیر تھی ایما کی برداشت جواب دے گئی اور وہ اس کے گلے لگ کر اور شدت سے رونے لگی ۔۔۔۔

” میرا ۔۔۔ کوئی نہیں ۔۔ ہے ۔۔۔تم بھی ۔۔ چلی جاؤ گی ۔۔۔ ” اس کے گلے لگے وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے بولی ۔۔۔ یہ ازیبلا کی ڈیتھ کے بعد پہلی بار تھا کہ وہ کھل کر روئی تھی ۔۔۔اور کسی کو اپنے احساس بتا رہی تھی ۔

حور دیھرے سے اس کی پیٹھ سہلانے لگی ۔۔۔

” ایما تم اکیلی نہیں ہو ۔۔۔ تم جب چاہوں مجھے فون کر لینا ۔۔۔ یا اگر چاہوں تو تم بھی میرے ساتھ آ جاؤ ۔۔ ” حور اسے نرمی سے خود سے الگ کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی ۔۔۔

رونے کی وجہ سے اس کے گال اور ناک لال ہو گئے تھے ۔۔ آنکھوں میں بھی سرخ ڈوریاں پڑی ہوئی تھی ۔۔۔

” نہیں ۔۔۔ مجھے پیٹر کو ۔۔ ہاں موم نے مجھے پیٹر کو ڈھنڈنے کا کہا تھا۔۔۔ انہوں مجھ سے وعدہ لیا تھا ۔۔ اوہ ۔۔مائی ۔۔گاڈ ۔۔ میں ۔۔ میں یہ کیسے بھول گئی ۔۔ میں یہ بات کسیے بھول سکتی ہوں ۔۔۔ ” ایما اب رونا بھول گئی ۔۔ ایک اور پریشانی ۔۔۔وہ اپنا سر دنوں ہاتھوں سے پکڑ کر بیٹھ گئی ۔۔۔

حور کو اس کی یہ حالت دیکھ کر دکھ ہو رہا تھا۔۔ اس کو اپنی آنکھیں بھی گیلی ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ لیکن اس نے جلد ہی خود کو سنبھالا۔۔۔کیونکہ اگر وہ خود بھی رونے لگتی تو ایما کو کون سنبھلتا ۔۔۔

” ایما ریلکس ۔۔۔ پیٹر بھی مل جائے گا ۔۔ابھی مجھے یہ بتاؤ تم نے کچھ کھایا ہے ؟؟” حور کی بات سے ایما کو بھوک کا احساس ہوا۔۔۔

کبھی کبھی کسی کے بتانے سے یا پوچھنے سے ہمیں اپنا احساس ہوتا ہے ۔۔

پھر چاہے وہ بھوک ہو ۔۔

غلطی ہو ۔۔

یا پھر ۔۔۔

نادانی ہو۔۔۔

اس کی شکل دیکھ کر حور کو پتا لگ گیا تھا کہ اس نے کچھ نہیں کھایا ہوا۔۔۔اس لیے وہ ٹھنڈے سانس لے کر کچن گئی ۔۔ اور فریج کھول کر دیکھا ۔۔۔ مگر فریج میں فلحال ایسا کچھ نہیں تھا ۔۔ جو وہ ایما کو دے سکتی ۔۔

اس نے کیبنٹ کھول کر دیکھا تو وہاں اسے وہاں نوڈل کا پیکٹ ملا۔۔۔اس نے اسے ہی غنیمت جانا ۔۔۔اور وہ پیکٹ نکال کر نوڈلز بنانے لگی ۔۔

ایما بھی کچن میں آگئی ۔۔

” ایما ایسا کرو۔۔ جب تک یہ نوڈلز تیار ہوتے ہیں ۔۔تم تیار ہو جاؤ ۔۔۔آج کا دن ہم دنوں ساتھ گزراے گیں۔۔ ” حور پین میں چمچہ ہلاتے ہوئے مصروف انداز میں بولی ۔۔

ایما نے ایک پیار بھری نظر حور پر ڈالی جو ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتی تھی ۔۔ چاہے مشکل وقت ہوتا یا پھر خوشی کا موقعہ اس نے اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑا تھا ۔۔

ایک بار پھر اس کی آنکھیں نم ہونا شروع ہوگئی ۔۔ یہ سوچ کر کہ اب اس کی یہ مخلص دوست بھی چلی جائے گی ۔۔

” ارے تم ابھی تک گئی نہیں۔۔۔ ” حور جو باؤل پکرنے کے لیے مڑی تھی اسے وہیں کھڑا دیکھا کر حیرت سے بولی ۔۔

” ہاں ۔۔ میں جا ہی رہی تھی ۔۔ ” ایما ہربراہٹ میں کچن سے نکل کر اوپر اپنے کمرے میں آگئی ۔

تھوڑی دیر بعد جب حور ٹیبل پر جوس اور نوڈلز کا باؤل رکھ رہی تھی تو ایما بلیک جیکٹ اور پینٹ زیبِ تن کیے وہاں آئی ۔۔ اس نے سر پر ریڈ ٹوپی پہنی ہوئی تھی ۔۔۔چہرے پر بھی تھوڑی تازگی آئی تھی اس کے ۔۔۔

حور نے نوڈلز اس کے آگے کی ۔۔نوڈلز کو دیکھ کر ایما کی بھوک بھی چمک اٹھی تھی ۔۔۔

اب وہ بھرپور طریقے سے نوڈلز سے انصاف کر رہی تھی ۔۔

جبکہ حور مسکراتے ہوئے اسے کھاتے دیکھ رہی تھی ۔۔اسے خوشی تھی کہ ایما نورمل لائف کی طرف آرہی تھی ۔۔۔

_____________________

ڈیرئیک نے اپنے ڈارک گرین جگور ایک بہت خوبصورت سے ولا کے سامنے روکے ۔۔۔ اسے دیکھتے ہی گیٹ پر موجود گارڈز نے گیٹ کھول دیا گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے وہ باہر نکلا۔۔

وہ ولا باہر سے پورا سفید رنگ میں رنگا ہوا تھا ۔۔

وہ اب گاڑی سے نکل کر بےنیازی سے چابی انگلی میں گھماتے ہوئے اندر جانے لگا کہ گارڈن میں موجود گارڈنر نے اسے دیکھ کر ۔۔۔ گریٹ کیا ۔۔

” گڈ مارننگ سر ” جس کا اس نے مسکراتے ہوئے سر کے اشارے سے جواب دیا۔۔

دروازہ کھول کر وہ اندر انٹر ہوا ۔۔۔

سامنے ہی ایک بڑا سا لاونج تھا ۔۔ جس میں بڑے بڑے صوفے پڑے ہوئے تھے ۔۔۔ باہر کی نسبت لاونج میں ووڈ کا کام ہوا تھا ۔۔

صوفے کے سامنے ہی ایک بڑی سے LED لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔

وہ آگے گیا تھا ۔۔اس نظریں مسلسل آس پاس کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔

وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔۔۔

وہ گھر کی بیک سائیڈ پر گیا ۔۔ جہاں پول اور سیٹنگ آرینجمینٹ تھا ۔۔

وہیں پول کے پاس میں کرسی پر ۔۔ ایک عورت بیٹھی ہوئی ۔۔دھوپ سیکھ رہی تھی ۔۔۔ اس عورت کی آنکھیں بند تھیں لیکن شکل ڈیرئیک سے ملتی جلتی تھی ۔۔

وہ بلی کی چال چلتے ہوئے ان کی کرسی کے پاس گیا ۔۔۔ اس سے پہلے وہ ان کے کان کے پاس چیخ کر انہیں ڈراتا کسی نے اس کے کان پکڑ کر اسے پیچھے کیا ۔۔

” خواہش ہی رہے گی ہماری کہ کبھی تم کوئی کام سیدھا کر لو۔۔ ” کان پکرنے والے نے جیسے افسوس کیا ۔۔

جسے سن کر وہ چیئر پر بیٹھی عورت بھی مڑی اور اسے دیکھ کر خوش ہوگئی ۔۔۔

” ڈیڈ ۔۔۔ میرے کان پکڑنے سے کون سی آپ کی خواہش پوری ہو جائے گی ۔۔۔ ؟؟” اس کی بات سن کر انہوں نے ہنستے ہوئے اس کے کان کو چھوڑا اور آگے بڑھ کے گلے لگایا ۔۔۔

مسس تھامسن مسکراتے ہوئے ان دنوں کو دیکھ رہی تھیں ۔۔

” اس بار کافی ٹائم بعد آۓ ہو ۔۔ ” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے ۔۔ جو اب اپنے ماں کے گلے میں بازوں ڈال کر کھڑا تھا ۔۔۔

“کافی ٹائم رہوں گا بھی ۔۔ جب تک اگلے بار آپ مجھ پر غصہ نہیں ہو جاتے ۔۔ ” اس کی بات سے ثابت تھا کہ وہ باز نہیں آنے والا۔۔

” کیا بنے گا تمہارا۔۔ ؟؟” انھوں نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا ۔۔ یہ اور بات ہے کہ یہ افسوس مصنوعی تھا ۔۔۔

مسس تھامسن انٹرکام سے لینچ ریڈی کرنے کا آڈر دے رہی تھیں ۔۔ انہیں پتا تھا ۔۔ان کا بیٹا کھانے کا کتنا شوقین ہے ۔۔

” جو بنا تھا۔۔۔ وہ بن چکا ۔۔ اب جو میرے لیے بنی ہے ۔۔ اس کے بارے میں بات ہو جائے۔۔۔ ؟؟” ڈیرئیک پہلے شوخ انداز میں بولتے ہوے اس نے اپنے مطلب کی بات کی ۔۔

اس کی بات سن کر وہ دنوں بھی سیدھے ہوۓ ۔۔ کیونکہ یہ پہلے بار تھا کہ ڈیرئیک کسی لڑکی کا اس طرح ذکر کر رہا تھا ۔۔۔

” کون ہے ۔۔۔ وہ ؟؟” مسٹر تھامسن نے سنجیدہ ہو کر انوسٹی گیشن شروع کی ۔۔۔

” لڑکی ہے ۔۔۔ ” یہ تو شکر تھا کہ اس نے لڑکی پسند کی ورنہ جیسے اس کے کام تھے نا الٹے انہیں ڈر تھا کہ کہیں کوئی لڑکا ہی نہ پسند کر لے ۔۔

” نام ۔۔۔” دوسرا سوال مسس تھامسن کی طرف سے آیا ۔۔

” الیویا ۔۔۔ ” یہ نام لیتے ہوئے اس کی سبز آنکھوں میں روشنی سے کوندی جسے مسس تھامسن نے نہیں لیکن مسٹر تھامسن نے نوٹ کیا تھا ۔۔

” وہ بھی یہ چاہتی ہے ۔۔ ؟؟ ” مسٹر تھامسن پرسوچ انداز میں اس کی جانب دیکھتے ہوے بولے۔۔

” مان جائے گی۔۔ ” ڈیرئیک پورے اعتماد کے ساتھ بولا۔۔

وہ دنوں جو پرخوش سے تھے ۔۔ مایوس ہو کر بیٹھ گئے ۔۔ ان کا خیال۔تھا کہ لڑکی بھی راضی ہوگی ۔۔

” میں بھی کہوں ۔۔۔ کوئی اندھی ہی ہوگی جو ۔۔ تم جیسے پاگل کو پسند کرے گی ۔۔ ” مسٹر تھامسن چیئر پر ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے بولے ۔۔۔

ان کی اس بات پر مسس تھامسن نے ان کو گھوری ڈالی ۔۔۔

کہ کیوں ان کے ہونہار بیٹے کو ایسا کہا۔۔

” بلکل ڈیڈ جیسے موم نے آپ کو پسند کیا تھا ۔۔۔ ویسے ہی نا۔۔ ” شرارت سے اتنا بول کر وہ چیئر سے اٹھ کر دور ہوا۔۔ کیونکہ اسے پتا تھا کہ اب کیا ہونا ہے ۔۔

اس کی بات پر مسس تھامسن کا منہ کھل گیا

مسٹر تھامسن جو اس کی گردن کو اپنی گرفت میں لینے کے لیے اٹھے تھے اس کے اس طرح دور ہونے پر ہاتھ مل کر رہ گئے۔۔

” روک میں بتاتا ہوں ۔۔۔ “

اب وہ دنوں باپ بیٹے دوڑ رہے تھے ۔۔

اور مسس تھامسن مسکرا رہی تھیں ۔۔۔

آخر گھر کی رونق واپس آئی تھی ۔۔۔۔ ورنہ تو وہ دنوں میاں بیوی تو اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے تھے ۔۔

___________________________

آج پھر آہل صبح ہوتے ہی حویلی سے نکل گیا ۔۔

حویلی میں ویسے تو زوروں شور سے شادی کی تیاریاں ہو رہی تھی ۔۔ لیکن وہ کوئی خاص دلچسپی نہیں دیکھا رہا تھا ۔۔۔

گاڑی اپنے مطلوبہ گھر کے آگے روک کر وہ باہر نکلا ۔۔ اور بیل بجا کر ۔۔ پینٹ میں ہاتھ ڈالے دروازے کے کھلنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔

” آہل ۔۔ آجاؤ یار ۔۔ ” ایک خوش شکل نوجوان نے جب دروازے کھولا تو آہل کو دیکھ کر اسے اندر آنے کی دعوت دی ۔۔

آہل اس کے پیچھے اندر آیا ۔۔ اور ادھر اُدھر دیکھا ۔۔ جیسے کسی کو تلاش کر رہا ہو ۔۔

وہ لڑکا اسے لیے ڈرائنگ روم میں آ گیا ۔ اور اسے بیٹھا کر خود کچن میں چلا گیا ۔۔

اس کی واپسی ۔۔ کوک کی بوتل اور ساتھ میں کچھ لوازمات کے ساتھ ہوئی جو اس نے ٹرالی میں رکھی ہوئی تھی۔۔

” اس کی کیا ضرورت تھی ۔۔ ” آہل اس کو ٹیبل سہی کرتا دیکھ کر بولا۔۔

” کوئی نہیں ۔۔ روز روز کہاں تمہں میری سرویس ملے گی ۔۔۔ آج مل رہی فائیدہ اٹھا لو ۔۔” وہ لڑکا گلاس اس کی طرف کرتے ہوئے شوخی سے بولا۔۔

” شرجیل ۔۔ دیان کہاں ہے ۔۔؟؟” آخر اس نے جب محسوس کیا کہ دیان گھر نہیں تو اس نے خود ہی پوچھ لیا ۔۔

” وہ رو رہا تھا ۔۔۔ تیرے پاس جانا ہے ۔۔۔ اس لیے عائشہ اسے لے کر باہر پارک تک گئی ہے کہ بہل جائے۔۔ ” شرجیل نے اپنی بہن کا نام لیا ۔۔

آہل اس کی بات سن کر پرسکون ہوا۔۔ تھوڑی دیر گزری تھی وہ دنوں باتیں کر رہے تھے ۔۔کہ ایک بچہ باہر سے چہکتے ہوئے اندر آیا ۔۔

” بابا ۔۔ بابا ..” یقیناً وہ باہر اس کی گاڑی کو دیکھ چکا تھا ۔۔

وہ آہل کو ڈھونڈتے ہوئے ڈرائنگ روم میں آیا ۔۔

اسے دیکھ کر آہل نے بھی باہیں کھول کر اپنے پاس بلایا۔۔ اس وقت آہل کے چہرے پر بہت پیاری مسکراہٹ تھی ۔۔

دیان بھاگ کر اس کے بازوں میں آیا ۔۔ آہل نے اسے خود میں بھینچ لیا ۔۔

ہر بار جب وہ اسے گلے لگاتا تھا ۔۔ اسے اپنے دل میں سکون اترتا محسوس ہوتا تھا ۔۔

” بابا ۔۔ میں ساتھ جانا ہے ” اس کی بات سن کر آہل کا دل کیا کہ واقعی ہی اسے ساتھ لے جاۓ ۔۔ لیکن ابھی نہیں۔۔ ابھی کچھ کام ادھورے تھے جنہیں اسے پورا کرنا تھا ۔۔

” اگلے بار پکا ۔۔ ” آہل اس کے سلکی لائٹ براؤن بالوں پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ۔۔جو اس کے ماں پر گیۓ تھے ۔

” السلام وعلیکم..” آہل نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں عائشہ کھڑی اسے سلام کر رہی تھی ۔

ایک وقت تھا کہ وہ اس کا خواہشمند تھا ۔۔مگر اس نے اس بات کا اظہار کھبی اس سے نہیں کیا تھا ۔۔ ایک تو وہ اس کی دوست کی بہن تھی ۔۔ دوسرا اس نے ابھی یونی ختم کی تھی اسے سٹیبل ہونے کے لیے ٹائم لگنا تھا ۔۔اس لیے وہ اسے کوئی امید نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔

لیکن جب حور سے شادی کی بات ہوئی تو اس نے داجی کو اپنی پسند کا بتایا جسے سن کر وہ آگ بگولہ ہوگئے تھے ۔

اسی لیے تو انہوں نے اس کا حورین سے نکاح کرنے میں جلدی کی تھی ۔۔ اسے آج بھی یاد ہے آخری وقت تک اس نے کوشش کی تھی کہ یہ نکاح کسی طرح نہ ہو ۔۔

لیکن اس کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے ۔۔ہونا تو وہی ہوتا ہے جو اللّٰہ چاہتا ہے ۔۔ جو ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔۔

اگر اسے پتا ہوتا کہ داجی کہ سامنے اپنی پسند کا بتا کر اسے کیا کھونا تھا تو وہ کبھی نہ بتاتا۔۔

آہل نے اس سے نظر ہٹا کر دوبارہ دیان کی طرف کر چکا تھا۔۔۔

” وعلیکم السلام۔۔” اپنی گمبھیر آواز میں اس کو سلام کا جواب دے کر اب دیان کو گود میں لیے کھڑا ہو گیا ۔۔

شرجیل بھی ساتھ اٹھ گیا ۔۔ کیونکہ اس نے بھی آہل کے ساتھ جانا تھا ۔۔

آہل دیان کو لے کر گاڑی میں بیٹھ چکا تھا ۔۔ جبکہ شرجیل عائشہ کو اپنے جانے کا بتانے لگا۔ ۔

تھوڑی دیر بعد وہ پھر سے اس امید پر نکل گئے تھے ۔۔ کہ شاہد اس بار ان کی تلاش کامیاب ہوجائے۔۔۔

______________________________

آج پھر سورج نے لنڈن کے باسیوں کو اپنا مکھرجی دیکھا کر خوش کر دیا تھا ۔۔۔لیکن یہ اور بات ہے بادل بھی سورج کے ساتھ ہی تھے ۔۔

ایسے موسم میں اکثر لوگ آوٹنگ کا پروگرام بناتے ہیں کیونکہ لنڈن میں سورج کم ہی نظر آتا ہے ۔۔۔ ان آوٹنگ کرنے والوں میں ایما اور حور کے ساتھ اب الیویا بھی شامل تھی ۔۔جو انہیں راستے میں ملی تھی ۔۔ایما کا موڈ آوٹنگ کی وجہ سے کافی بہتر ہوگیا تھا ۔۔

ایما کی الیویا سے بھی تھوڑی بہت دوستی ہوگی تھی ۔۔ ایما نے اسے حور کے کل جانے اور شادی کا بتایا ۔۔ جس پر الیویا نے اسے مبارک باد دی تھی ۔۔

اب وہ تینوں اکٹھی پیدل روڈ پر چل رہی تھیں ۔۔ اور دھوپ کا مزہ لیتے ہوئے ساتھ میں باتیں کر رہی تھیں ۔۔۔

” ایما ۔۔ !!!” ایک دم باتیں کرتے ہوئے حور نے ایما کو بولایا ۔۔

” ہممم ” ایما کے ساتھ الیویا بھی اس کی جانب متوجہ ہوئی ۔۔

” میں کل جارہی ہو۔۔ تو اس لحاظ سے آج کا دن میرا ہوا ۔۔ مطلب میری ہر بات مانی جائے گی ۔۔ ؟؟”

” ہاں ۔۔ ” ایما کو سمجھ نہیں آئی کہ حور یہ بات کیوں کر رہی ہے ۔۔

” تو پھر چلو آج ۔۔ تم میرے مرضی کی ڈریسنگ کرو ۔۔ بلکہ ہم یوں کرتے ہیں ۔۔۔ ایک جیسے ڈریس لیتے ہیں ۔۔ ” حور اکسٹیڈ انداز میں بولی ۔۔ الیویا کو اس کا آڈیا بہت اچھا لگا ۔۔ کیونکہ وہ ویسے ہی میک اپ اور فیشن کی دل دار تھی ۔۔۔لیکن ایما کو کچھ خاص پسند نہیں آیا یہ بات اس کے چہرے سے پتا چل رہی تھی ۔۔ مگر اس نے کچھ کہنے سے پرہیز ہی کیا ۔۔

کیونکہ آج واقعی حور کا دن تھا ۔۔۔

وہ تینوں لیڈیز شاپ کی طرف گئیں ۔۔۔۔

اب مسئلہ یہ ہوتا کہ جو ایما کو پسند آتا وہ ان تینوں کو نہیں ۔۔ اور جو الیویا کو آتا وہ بہت بولڈ ہوتا ۔۔۔ البتہ حور کو کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا ابھی تک ۔۔

بالآخر حور نے ایک جرسی کا فراک پسند کیا ۔۔اس کی لمبائی پاؤں سے تھوڑی اوپر تھی ۔۔ اس پر کچھ کلیاں پھر ڈلی تھی۔ باقی کے مقابلے ان تینوں کو یہ پسند آیا تھا ۔۔۔

ان تینوں نے یہی فراک غنیمت جانا ۔۔اور ایک ہی ڈریس تین کلر میں لیا۔۔۔

الیویا کا گرین تھا ۔۔

ایما کا براؤن اس کی آنکھوں سے ملتا جلتا ۔۔اس پر اس نے اپنی لیدر کی بلیک جیکٹ پہن لے ۔۔ جس سے اس کی لوک اور سٹائلش لگ رہی تھی ۔۔۔

اور حور کا بلیک تھا ۔۔۔ جس پر حور نے اپنا بلیک ہی لونگ کوٹ پہن لیا تھا ۔۔۔

اب وہ تینوں پھر سے۔واک کر رہے تھے کہ ایما کو زورں کی بھوک لگی ۔۔

” اب کچھ کھا لیں ۔۔ یہ پھر چلیں جانا ہے ۔۔ چلیں جانا ہے اور پاکستان پہنچ جانا ہے ۔۔؟؟” اس کی بات سن کر حور منہ نیچے کر کے مسکرا دی ۔۔ جبکہ الیویا کہ ہونٹوں پر بھی مسکرہٹ آگئی ۔۔

” چلیں جناب ۔۔ بتائیں آپ کہاں کا ۔۔ اور کیا کہنا پسند کریں گی ۔۔ ” حور نے نہایت عاجزی سے اس سے پوچھا ۔۔

” جو قریب تر ہو ۔۔ کیونکہ ملکہ ایما میں مزید چلنے کی ہمت نہیں ۔۔ ” ایما نے بھی ملکہ کی طرح گردن اکڑا کر شاہانہ انداز میں کہا ۔۔

وہ دنوں دو منٹ تو سٹل اس کا شاہانہ انداز دیکھتی رہیں ۔۔ پھر ایک دم ہسنے لگیں ۔۔ جس میں ایما خود بھی شامل تھی۔۔۔

وہ تینوں باہر پڑے لکڑی کے بینچ پر بیٹھی تو اسی وقت ایک ویٹر وہاں آئی ۔ آڈر نوٹ کرنے کے لیے ۔۔ یہ ایک اوپن ریسٹورنٹ تھا ۔۔

حور اور الیویا نے مینوں سے دیکھ کر اپنے لیے کلب سینڈوچ اور ساتھ کیپوچینو کا آڈر دیا ۔۔ اب وہ لوگ ایما کے بولنے کا انتظار کر رہی تھیں ۔۔ جو مینوں کو اتنی غور و فکر سے دیکھ رہی تھی ۔۔ جیسے وہ کسی خزانے کا نقشہ ہو ۔۔ بلا آخر اس نے مینوں ٹیبل پر رکھا ۔۔ اور آڈر دینے لگی ۔۔

کلب سینڈوچ۔

ڈونٹ ۔

آف ایگ فارئی۔۔

پین کیک اینڈ ہنی ۔۔

اور ایک بلیک کافی

ابھی کے لیے بس اتنا ہی اگر کچھ منگوانا ہوا تو بتا دیں گے۔۔

ایما مینوں ویٹر کو دیتی ہوئی بولی ۔۔جبکہ بیچاری ویٹر اس دبی پتلی لڑکی کی شکل دیکھتی رہ گی ۔۔ کہ یہ اتنا سب کچھ کھاۓ گی ۔۔

(ہو سکتا ہے سب نے مل کر کھانا ہو ۔۔ ) ویٹر دل میں سوچتے ہوئے وہاں سے چلی گئی ۔ کیونکہ بول کر کہنے سے تو وہ رہی ۔۔

مگر الیویا نے بول دیا ۔۔۔

” ایما ہم نے اپنا آڈر دے دیا تھا ۔۔۔ ” الیویا یہی سمجھی کہ اس نے سب کے لیے آڈر دیا ہے ۔۔

ایما نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا ۔۔ جیسے کہہ رہی ہو ۔ مجھے پتا ہے ۔۔۔

” میرا مطلب اتنا سب کچھ ہم نہیں کھا سکتے ۔۔ ” الیویا اس کی نظروں سے گربڑا کر وضاحت دی ۔۔ ۔۔ حور کو اس کی حالت دیکھ کر ہنسی آئی جسے اس نے بڑی مشکل سے روکا تھا ۔۔

” ہاں تو ۔۔ تم لوگ نہ کھانا ۔ ویسے بھی یہ میں نے اپنے لیے آڈر کروایا ہے ۔۔ ” ایما نے صاف گوئی سے کہا ۔۔ جبکہ الیویا کو وہ اس وقت ڈیرئیک ہی لگی تھی ۔۔

اس کے بعد وہ کچھ نہیں بولی ۔۔۔ کچھ دیر بعد ان کا آڈر بھی آگیا ۔۔

الیویا بیچاری کھاتی کیا وہ تو بس منہ کھولے ایما کی کھانے کی سپیڈ دیکھ رہی تھی ۔۔۔

جبکہ حور آرام سے اپنا سینڈوچ کھا رہی تھی ۔۔

خیر کھا کر جب وہ لوگ فارغ ہوئے تو بل پے کر کے اٹھی ۔۔ بل حور نے پے کیا تھا ۔۔۔جس پر بھی ان کی لمبی بحث ہوئی تھی ۔۔

” اب کہاں جانا ہے ۔۔ ؟؟” حور نے ان دنوں کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔۔

” امممم یوں کرتے ہیں ۔۔ waterloo Bridge چلتے ہیں ۔۔ آج سورج بھی نکلا ہوا ہے اور وہاں سے سن سیٹ کے سین کو مس کرنا بہت بڑی بیوقوفی ہوگی ۔۔ !!” ایما گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے آکسائیڈڈ انداز میں بولی ۔۔۔

“یہ بات بلکل ٹھیک کہی ۔۔چلو پھر وہیں چلتے ہیں ۔۔ پہلے کیپ بک کروایا لے۔ ” حور نے بھی اس کی بات کی متفق ہوئی ۔۔

” ہیلو گرلز ایک گاڑی پہلے سے جو موجود ہے ۔۔۔۔ تو پھر کیپ کی کیا ضرورت ۔۔؟؟” الیویا جو کب سے خاموش ان کی باتیں سن رہی تھی ۔۔ اپنی گاڑی کی چابیاں انگلی میں گھماتے ہوئے بولی ۔۔۔

” چلو پھر جلدی چلو گاڑی میں ۔۔۔ ” ایما جلدی سے بولی ۔۔

” آرام سے ۔۔ ابھی ہمیں گاڑی تک پیدل جانا ہے ۔۔۔ ” الیویا اس کا بازوں پکڑ کر روکتے ہوئے بولی ۔۔

” افف پھر چلو ۔۔۔” ایما کو بس نہیں چل رہا تھا ۔۔ وہاں اڑ کر چلی جائے۔۔اس کا آکسائیڈڈ اور نورمل انداز حور کو کتنا سکون دے رہا تھا ۔۔ یہ وہ بتا نہیں سکتی تھی ۔۔۔

” اچھا چلو ۔۔۔” الیویا ان کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔۔

گاڑی تک پہنچ کر اس نے اپنی ڈائمینڈ بلیک Renault Clio کا دروازہ کھولا اور ان دنوں کو بیٹھنے کا کہا ۔۔

ان کے بیٹھتے ہی اس نے اتنی سپیڈ سے گاڑی چلائی کے اگر ایما نے بیلٹ نہ باندھی ہوتی تو اس کا سر ڈیش بوڈ سے لگنا تھا ۔۔۔جبکہ حور نے الیویا کی سیٹ کو پکڑ کر اپنا بچاؤ کیا ۔۔

ایما نے اسے گھوری ڈالی جس پر اس نے ہنسی روک کر شانے اچکائے تھے ۔۔

گاڑی فراٹے بھرتے ہوئے اپنی منزل پر رواں تھی ۔۔۔ایما بھی فاسٹ ڈرائیو اب انجوئے کر رہی تھی ۔۔

بس حور ہی تھی جس کا سانس سوکھ رہا تھا ۔۔

الیویا نے سونگ لگایا اور اس کا والیوم فل کردیا تھا۔۔۔ ________________________

جان ابھی میٹنگ میں جانے کے لیے نکل رہا تھا ۔۔۔ جب اینثریس پر موجود شخصیت کو دیکھ کر اس کے اعصاب تن گئے ۔۔

وہ شخص بھی اس کی جانب بڑھا ۔۔

” جہان !!!” جان جو اس کو اگنور کر کے نکلنے کا تھا ۔۔ اپنا پورا نام سن کر ایک پل کو اس کو رکنا پڑا ۔

۔یہ نام صرف اس کی ماں استعمال کرتی تھی ۔۔اور اسے نفرت تھی

۔ہاں نفرت تھی اپنی ماں سے ۔۔۔

وہ شخص بھی اسے رکتا دیکھ کر دیھرے سے چلتے ہوئے اس کے قریب آیا ۔۔۔اس کے بال اور دھاڑی کا رنگ کالا تھا ۔۔ جس میں کہیں کہیں سفید بال بھی نکلے ہوئے تھے ۔۔ اس کے چہرے کا رنگ صاف تھا ۔۔ لیکن اس کی شخصیت میں ایسا کچھ ضرور تھا کہ سامنے موجود بندہ مہذب ہونے پر مجبور ہو جاتا تھا ۔۔

” میرا نام جان ہے ۔۔ اور مجھے کتنی بار بتانا پڑے گا ۔۔ کہ مجھے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔”

وہ شخص اب اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا تو جان اپنے چہرے کا رخ دوسری سمت کرتے ہوئے بولا ۔۔اس کے لہجے میں نفرت تھی اور آنکھیں سپاٹ

” ایک بار میری پوری بات سن لو ۔۔” انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا ۔۔

” میری بہت ضروری میٹنگ ہے ۔۔ فضول باتیں سننے کا میرے پاس وقت نہیں ۔۔” ان کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکتے ہوئے سنگدلی سے بولا اور گاڑی کی طرف بڑھا جہاں گارڈ پہلے ہی چوکنا سا اس کے لیے دروازہ کھولے کھڑا تھا ۔۔۔

اس کے گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ دروازہ بند کرتے ہوا اب ڈراونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی ڈرائیو کرنے لگا ۔۔

وہ شخص بس خاموشی اور بےبسی سے اس کو جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔

اس کو اپنا کیا وعدہ پورا کرنا مشکل لگ رہا تھا۔۔

جان کچھ بھی سننے کے لیے تیار ہی نہ تھا ۔۔ وہ جب سے لنڈن واپس آئے ہی اسی کے لیے تھی ۔۔

وہ تھکے ہوئے قدموں سے واپس گھر آگئے ۔۔

وہ ناامید نہیں تھے بس جان کی نفرت انہیں تکلیف پہنچا رہی تھی ۔۔۔

” کیا ہوا ۔۔۔ ؟؟” تبھی وہی نوجوان جس کا چہرہ جلا ہوا تھا ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔

” کچھ بھی نہیں ۔۔ ” انہوں نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا اور اس کی جانب دیکھا ۔۔

” میں پھر کہوں گا کہ تم یہاں رہ کر بھی کروا سکتے ہو ۔۔ ” وہ فوراً بات بدلتے ہوئے ۔۔۔

ان کی اس بات سے سامنے والے کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا ۔۔۔اس لیے اس نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا ۔۔۔۔

” میں کچھ دیر کے لیے اپنے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ” اس کی بات سن کر انہوں نے سر اثبات میں ہلا دیا ۔۔۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا تھا ۔۔

” رات کی فلائٹ ہے ۔۔ ؟؟” انہوں نے ایک طرف اس کے تیار شدہ بیگ پر نظر ڈالنے کے بعد پوچھا ۔۔۔

” جی ۔۔۔ ” اس نے بھی مڑ کر بیگ دیکھا ۔۔۔ اس کے انداز میں بے چینی تھی ۔۔جیسے وہ کچھ کہنا چاہ رہا ہو ۔۔

” کچھ کہنا چاہتے ہو ۔۔ ؟ ” ان کی بات سن کر وہ دھیرے سے ہنسا ۔۔۔۔

” آپ کو کیسے پتا لگ جاتا ہے ۔۔ ” وہ منہ نیچے کیے دھیمے سے بولا ۔۔

” بس لگ جاتا ہے ۔۔ . تم یہ بتاؤ کیا کہنا چاہتے ہو۔۔۔ ” ان کی بات پر وہ دومنٹ چپ رہا ۔۔ اور سر اٹھا کر انہیں دیکھا ۔۔اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔۔

” ہوسکے تو ۔۔ اس کا خیال رکھنا ۔۔۔ ” اس کی آواز ہلکی سی نم تھی ۔۔

اس بات پر انھوں نے کوئی وعدہ نہیں کیا ۔۔ بس اس کا کندھا پکڑا اسے خود سے لگایا ۔اور وہ پہلے کی طرح اس بار بھی ان کے سامنے بے اختیار ہو کر رو پڑا ۔۔

_______________________

جان ہوٹل میں داخل ہوا تو وہاں دوسری کمپنی کا ایجنٹ پہلے سے ہی موجود تھا ۔۔

اس کو دیکھ کر کھڑا ہوا ۔۔ اور اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا تعارف کرایا ۔۔

” سر میں AH کمپنی کی طرف سے سعد ہوں ۔۔ ” جان نے اس کے تعارف کے جواب میں سر ہلایا اور کوٹ سہی کرتے ہوئے بیٹھ گیا ۔۔

اس کے بیٹھتے ہی ایک ویٹر تیزی سے ان کی جانب بڑھا ۔۔۔۔

” بلیک کافی ۔۔” اپنا آڈر کروا کر وہ اس ایجنٹ کی جانب متوجہ ہوا جیسے میٹنگ سٹارٹ کرنے کا کہہ رہا ہو ۔۔

ویٹر وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔

مٹینگ کے دوران کافی آ گئی تھی جس کے وہ سیپ لے کر غور سے اس کے پوائنٹ سن رہا تھا ۔۔

” اوکے سعد اگر کبھی ایسا میرا ارادہ ہوا تو میں آپ کو ہی یاد کروں گا ..اور اگلے بار میں آپ کے سی او سے ملنا چاہوں گا ۔۔”

میٹنگ سے فارغ ہوکر اب بل پھر وہ ہاتھ ملاتے ہوئے بولا۔۔۔اور ہوٹل سے نکل گیا ۔۔

” کیا پرسنیلٹی ہے ۔۔ ” اس کے جاتے ہی سعد خود کالمی میں بولا ۔۔۔

جان نے باہر آکر کی ڈرائیور سے لی ۔۔

” ٹیکسی کروا کے چلے جانا ..” اور خود ڈراونگ سیٹ سنبھال لی ۔۔

اس نے گاڑی سڑک پر ڈال دی ۔۔ آج اس کا دھیان کام کی طرف نہیں ہو رہا تھا ۔۔اس لیے اس نے گاڑی میں بیٹھ کر لونگ ڈرائیو کا فیصلہ کیا تھا ۔۔

اس نے سگریٹ نکالی اور ایک ہاتھ سے سٹیرنگ سنبھال کر پینٹ کی پوکٹ سے لائٹر نکلا کر سیگریٹ سلگائی ۔۔

اب وہ ساتھ ساتھ سگریٹ کے کش لے رہا تھا ۔۔

اس کی نیلی پرسوچ آنکھیں سڑک میں جمی تھی ۔۔۔

جیسی کسی بہت گہری سوچ میں غرق ہوں ۔۔ اس کے دماغ میں کیا چال رہا ہوتا تھا ۔۔ کسی کہ لیے بھی پتا لگنا ممکن نہیں تھا ۔۔کیونکہ اس کا چہرہ زیادہ تر بےتاثر ہی رہتا تھا ۔۔

_________________________

جب وہ لوگ waterloo Bridge پہنچی ۔۔ تو اس وقت سورج تقریباً غروب ہو رہا تھا ۔۔

پل کے نیچے بہتا پانی اور اس کی آواز ۔۔ اور ڈھلتا سورج کی نارنجی کرنیں ہر طرف پھیلیں ہوئی تھی۔۔۔ہلکی ہلکی ہوا جسم کو چھو رہی تھی ۔۔

یہ منظر تو ایسا تھا کہ انسان سانس لینا بھول جاتا تھا ۔۔یہ کہنا غلط نہیں ہو گا ۔۔ کہ یہ منظر دیکھنے والوں کو اپنے ساتھ قید کر لیتا تھا ۔۔

وہ تینوں بریج پر کھڑی یہ دیکھ رہی تھیں ۔۔۔بلاشبہ ان کا یہاں آنے کا فیصلہ بلکل سہی تھی ۔۔۔

” واہ۔۔۔ یہ جان ہے نا ۔۔۔ ” ایما اسی منظر میں پوری طرح کھوئی ہوئی تھی جب اپنے ساتھ موجود لڑکیوں کی آواز سن کر چونک گئی ۔۔

اس نے ان لڑکیوں کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔

کیونکہ وہاں جان اپنی بلیو رنگ کی McLaren coupe سے ٹیک لگا کر بے نیازی سے کھڑا تھا ۔۔اس نے اپنے دنوں ہاتھ سینے سے باندھے ہوئے تھے سفید شرٹ اور بلیو پینٹ میں اس کا مضبوط جسم نمایا ہو رہا تھا۔سورج کی ڈھلتی کرنیں اس کے وجہیہ چہرے کو اور دلکش بنا رہی تھیں ۔۔ اس کی نیلی آنکھیں سورج کی روشنی سے چمک رہی تھیں ۔۔۔۔۔وہ اس وقت خوبصورت کا ایک مجسمہ ہی لگ رہا تھا۔۔

” آؤ بات کرتے ہیں ۔۔ ” وہ لڑکیاں دوبارہ بولیں تو ایما ہوش میں آئی ۔۔ فوراً اس نے جان پر سے اپنی نظریں ہٹائی ۔۔اور دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی کہ کیا ضرورت تھی اسے اس طرح دیکھنے کی ۔۔۔

ایما اس کی ابھی صبح والی حرکت اور شرط نہیں بھولی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جان محویت سے ڈھلتے سورج کو دیکھ رہا تھا ۔۔ اس وقت اس کا دماغ حال میں نہیں ماضی میں تھا ۔۔

(ماضی ۔۔)

وہ تیار ہو کر یونی جا رہا تھا ۔۔۔ تب اس کا فون بجا ۔۔۔ اس نے بیڈ پر بیگ واپس رکھتے ہوئے موبائل دیکھا۔۔ وہ کوئی اننون نمبر تھا ۔۔ اس نے فون اٹھایا تو جو دوسری طرف سے اس نے آواز سنی اسے تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا ۔۔

وہ سٹل ہوگیا ۔۔۔۔اس کی نیلی آنکھوں میں بے یقینی سی بے یقینی تھی ۔۔۔

” مام ..۔۔”اس نے شاکڈ سی کیفیت سے زیر لب یہ لفظ بولا ۔۔۔