465.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah Phala Ishq Episode 21

Raah Phala Ishq by Zoha Qadir

مہندی کا فکشن فارم ہاؤس میں تھا ۔۔۔

گھر والے تو سب ہی وہاں پہنچ چکے تھے ۔۔بس آہل تھا جو ان کے ساتھ نہیں آیا کہاں گیا کسی کو نہیں پتا تھا ۔۔

بلال صاحب مینیجر سے ڈیکوریشن ڈسکس کر ہے تھے ۔۔بڑے سے لان مین ورکر ادھر اُدھر پھر رہے تھے ۔۔

حورین جو بی جان کی بات سن کر اپنے کمرے میں جا رہی تھی کہ راستے میں ایک ورکر نے اسے روکا ۔۔۔

” میم ۔۔۔ ” حورین جو اپنے دیھان میں جا رہی تھی اس کی پکار ان کر پلٹی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

” وہ آپ کو وہاں میڈم بولا رہی ہیں ۔۔۔ ” ورکر کہ بات سن کر حورین نے اچھنبے سے اسے دیکھا ۔۔

” کون سی میڈم ۔۔۔۔ ” ورکر اس کا سوال سن کر گھبرایا تھا مگر حورین نوٹ نہیں کر پائی ۔۔۔۔

” میم آپ خود دیکھ لیں ۔۔۔ مجھے نام نہیں پتا ۔۔۔ ” اس کی بات سن کر حورین نے سر ہلایا اور اس کے پیچھے چل دی ۔۔

وہ ورکر کے پیچھے چل رہی تھی کہ یکدم رک گی ۔۔ کیونکہ وہ جس طرف جا رہی اس جگہ کوئی نہیں تھا یہ جگہ فارم ہاؤس کے بیک پر تھی اور اکثر بند رہتی تھی یہ بات مسکان نے ہی اسے بتائی تھی اسے گھبراہٹ ہوئی ۔۔۔ اس ورکر کا دھیان اس کی طرف نہیں تھا وہ سیدھا چلا جا رہا تھا ۔۔

حورین دیھرے سے پلٹ کر واپس جانے لگی کہ اس وقت اس کا کسی سے ٹکر ہوئی ۔۔۔

اس کے سنبھلنے اور سمجھنے سے پہلے ہی اس کے پیچھے کھڑے شخص نے اس کے منہ پر رومال رکھ دیا ۔۔

اس نے خود کو آزاد کرنے کی جہدوجہد کی لیکن آنکھوں کے آگے چھائے اندھیرے نے اسے بےبس کر دیا ۔۔

” تم جاؤ تمہارا کام یہی تک تھا ۔۔ اور یہ لو تمہاری باقی کی رقم ۔۔۔ ” بے ہوش ہوئی حورین کو بازوں میں نرمی سے سنبھالتے اس شخص نے سامنے کھڑے ورکر کو اپنے جیب سے نکال کر چیک دیا ۔۔۔جسے اس نے فوراً سے اس سے جھپٹنے کے انداز میں لیا ۔۔۔اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔

” بس ۔۔ اب وہ وقت دور نہیں جب آہل تمہیں چھوڑ دے گا ۔۔ پھر میں مکمل طور پر تمہیں پا سکوں گا ۔۔ ” اس کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے وہ سرشار سے انداز میں بولا ۔۔ اس کے لہجے میں خوشی تھی جیسے اس کو یقین ہو کہ وہ اپنے مقصد میں ناکام نہیں ہوگا ۔۔۔

وہ اسے نرمی سے اپنے بازؤں میں لیے سامنے بنے کمروں میں سے ایک میں داخل ہوا ۔۔۔ جہاں پہلے سے مہک موجود تھی ۔۔۔اسے اندر داخل ہوتا دیکھ کر وہ جلدی سے اس کی جانب بڑھی ۔۔

” فہد ۔۔ تمہیں یقین ہے یہ پلین کام کرے گا ۔۔ اگر کوئی یہاں آگیا تو ۔۔۔ ” مہک اس وقت بھر پور گھبراہٹ کا شکار تھی ۔۔

اس کی بات پر فہد مسکرایا پھر پہلے اس نے نرمی سے حور کو بیڈ پر لٹایا اور تھوری سی جگہ بنا کر اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔

” سو فیصد کام کرے گا ۔۔ ویسے بھی یہ جگہ سنسان پڑی رہتی ہے اس لیے سب اسے آسیب زدہ سمجھتے ہیں ۔۔ یہاں آنے کی کوئی غلطی نہیں کرے گا ۔۔ ” فہد بات اس سے کر رہا تھا لیکن اس کی نظریں حوریں کے مصعوم اور بے داغ چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔۔

” ہممم اس کو ہوش کب تک آے گا ۔۔۔ ” ایک زہریلی نظروں سے سامنے پڑے بےہوشی وجود کو دیکھا ۔۔ مہک کا دل کر رہا تھا کہ وہ اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دے ۔۔۔ بےہوشی میں اتنی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔ اس کی لہجے میں بھی زہر بھرا ہوا تھا ۔۔۔ جس پر فہد نے مڑکر اسے دیکھا ۔۔

” دو ۔۔ تین گھنٹے تک اور تمہارے لیے یہ بہتر ہوگا کہ اپنی یہ زہر آلودہ نظریں اس سے دور رکھو ” فہد کو مہک کا یوں حورین کی جانب دیکھنا زرہ بھی پسند نہیں آیا تھا ۔۔

” اوکے ۔۔ اوکے اب آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔ ” اس وقت اس سے بگاڑنا اس کے لیے بہتر نہیں تھا ۔۔ کیونکہ اس کا اور فہد کا مقصد ایک ہی تو تھا ۔۔ اس لیے وہ اس کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر بولی ۔۔

” وہ میں دیکھ لو گا ۔۔ ابھی تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔ ” فہد کی بات پر وہ غصے سے وہاں سے نکل گی ۔۔۔

” جلد ہی ملے گۓ سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ ” فہد ہولے سے اس کے گال سہلاتا وہاں سے اٹھا اور دروازہ بند کر کے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔

اب سے انتظار تھا تو بس آہل کا ۔۔

______________________

وہ شرجیل کی طرف دیان کو لینے آیا تھا۔۔

مگر ان کی آپس میں بحث شروع ہوگی تھی ۔۔

” آہل تمہارا دماغ تو پھر گیا ۔۔۔ آج تیری مہندی ہے ۔۔۔ اگر داجی نے اسے دیکھ لیا تو مہندی روک کر تجھے گھر سے باہر نکال دینا ” شرجیل نے پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔ جو وہ اتنے دنوں سے کر رہا تھا ۔۔لیکن وہ اپنی بات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔

” انہوں نے پہلے کون سا کیا ۔۔ سب دیا ۔۔بس اعتبار نہیں دیا ۔۔ ایک بار اس دن میری بات سن لیتے تو آج یہ تین سال کا وقفہ نہ آتا ۔۔ راضی تو ہوگیا تھا میں ان کی بات پر کر تو لیا تھا نکاح ۔۔۔ پھر یہ بے اعتنائی کیوں کی انہوں نے ۔۔ کتنی زندگیاں برباد ہوئی ۔۔۔ تین ۔۔ ایک وہ مصعوم ۔۔ ایک اس کی ماں ۔۔ اور ایک میں ۔۔۔ تین سال ہوگے تجھے بھی مجھے بھی اس لڑکی کو ڈھونڈتے ہوے ۔۔ جس نے داجی سے بکواس کی تھی ۔۔۔ لیکن ہوا کیا ۔۔ نہ وہ ملی ۔۔ نہ داجی کو میں ثابت کر پایا کہ میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ میں تھک گیا ہوں ۔۔۔ ان کی نظروں میں آ پنے لیے بےگانی دیکھ کر ” وہ تو آج پھٹ پڑا ۔۔ اندر ابلتا سارا ابال باہر نکل رہا تھا جو وہ دباۓ بیٹھا تھا ۔۔ اس کی حالت دیکھ کر شرجیل بھی پریشان ہوگیا ۔۔۔

” دیکھ یہ میرا تجھ سے وعدہ ہے ۔۔ وہ لڑکی خود آئے گی ۔۔ وہ سب سچ بتائی گی ۔۔” شرجیل اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خلوص دل سے وعدہ کیا ۔۔۔

اسے معلوم نہیں تھا ۔۔اور بہت جلد قدرت اس کو اس کا وعدہ پورا کرنے کا موقع دینے والی تھی ۔۔جب حقیقت میں اسے لڑکی کا پتا لگانا تھا تو وعدہ پورا کرنا اس کے لیے کتنا مشکل ہونے والی تھا ۔۔اسے وہ خود بھی واقف نہ تھا۔

آہل نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو نورمل کرنے کی کوشش کی ۔۔۔

جو ابھی اس کے لیے بہت مشکل تھا ۔۔

” تم کل ہر حال دیان کو لے کر آ رہے ہو ۔۔۔۔ نہیں تو یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں ۔۔” آہل نے دوٹوک انداز میں کہا ۔۔

” مگر اس ۔۔۔ ” شرجیل نے پر کچھ بولان چاہا جسے آہل نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا ۔۔

” میں آج کے لیے تمہاری بات مان رہا ہو ۔۔ مگر کل ہر صورت میں تمہیں دیان کو یہاں لانا ہوگا ۔۔۔ ” اس کا لہجہ اور انداز دونوں دو ٹوک تھے ۔۔ شرجیل کو پتا اب مزید بحث کا کوئی فایدہ نہیں اس لیے وہ چپ ہوگیا ۔۔

” بابا ۔۔۔ ” دیان جس کی موجودگی کو وہ دنوں فراموش کر گئے تھی اس کی سہمی آواز سن کر آہل کو خود پر تاؤ آیا ۔۔ وہ ضرور اس کا غصہ دیکھ کر ڈر چکا تھا ۔۔ آہل نے خود کو کمپوز کیا ۔۔ اور صوفے پر بیٹھے دیان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھاتے ہوے اسے اپنے پاس بلایا ۔۔ دیان اس سے ڈر گیا تھا اس لیے وہ اس کی طرف نہیں بڑھا ۔۔ جس پر آہل نے خود ہی جھک کر اسے گود میں اٹھا کر سینے سے لگایا کر کھڑا ہوا ۔۔

” جی بابا کی جان ۔۔ بابا سے ناراض ہے۔ ” اس کے ماتھے پر بوسا دیتے ہوے اس نے پیار سے پوچھا ۔۔۔

” ڈر ۔ لگد رہا ہے ۔۔ ” دیان اپنا منہ اس کے سینے میں چھپاتے ۔۔سہماۓ ہوے انداز میں بولا ۔۔ اس کا چھوٹا سا جسم آہل کے مضبوط بازؤں میں چھپ گیا تھا ۔۔

آہل کو پتا تھا کہ وہ اس سے ڈر گیا ہے لیکن اس نے پھر بھی پوچھا ۔۔

” کس سے ڈر لگ رہا ہے میرے جان کو ۔۔۔ ” وہ اسے یونہی سینے لگاۓ ۔۔

” بابا سے ۔۔۔ “

” بابا کیا کریں کے بابا کی جان کو بابا سے ڈر نہ لگے ۔۔ ” آہل اب اسے انداز میں بولا ۔۔۔

اب کی بار دیان کچھ نہیں بولا جس پر آہل نے اس کے چہرے کی جانب دیکھا ۔۔ اور پھر ایک شفقت سے بھرپور مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا ۔۔ دیان اس کے سینے سے لگے ہی سو چکا تھا ۔۔

ایک سکون تھا جو اسے اپنے روگ پے میں اترتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔

اس نے ایک بار پھر اس کے ماتھے پر سر کو بوسا دیا ۔۔۔

” آہل اب تمہں نکلنا چاہے ۔۔ آج تمہاری مہندی ہے ۔۔۔ ” شرجیل کی بات پر اس نے سر ہلایا پھر دیان کو اس کے کمرے میں لٹا کر شرجیل سے مل کر وہاں سے نکل گیا ۔۔

________________________

اس کی گاڑی اندر داخل ہوتا دیکھ کر فہد جو اسی کے انتظار میں ٹیرس پر کھڑا تھا مکروہِ سا مسکرایا ۔۔۔

اب اس کے اگلے اور نہایت اہم قدم اٹھانے کا وقت آگیا تھا ۔۔۔ ویسے بھی حور کو بھی ہوش آنے والا تھا ۔۔۔تو جتنی جلدی ہو سکے اسے اپنا کام کرنا تھا ۔۔اس لیے وہ ماریہ جو میسج کرتے گھر کی پیچھے کی طرف چلا گیا ۔۔

” آہل مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔ ” مہک کو جیسے ہی فہد کا میسج ملا وہ سیدھا آہل کے پاس آئی جو ابھی اندر آیا ہی تھا مہک کہ اس طرح بولنے پر اس کی جانب متوجہ ہوا ۔۔

” کیا بات کرنی ہے ۔۔۔۔ ؟” سفید شلوار قمیض اس پر بلیک وسٹکورٹ پہنے وہ اتنا خوبرو لگ رہا تھا کہ مہک کا اس پر سے نظر ہٹانا مشکل ہو رہا تھا ۔

” وہ ۔۔۔ یہاں نہیں ۔۔ تم آؤ میرے ساتھ ۔۔ ” مہک اس لیے پیچھے بنے کمروں کی طرف بڑھی اور ساتھ ہی موبائیل پر فہد کو ڈن کا میسج کیا ۔۔

جہاں فہد پہلے سے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔ میسج ملتی ہی وہ مسرور سا مسکرایا اور حورین کی جانب دیکھا ۔۔ جو شاید اب ہوش میں آ رہی تھی ۔۔۔

” چلیں سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ گیم آن کریں ۔۔ ” جب باہر قدموں کی آواز آئی تو حور کے پاس گیا ۔۔ دروازے اس نے جان کر آدھ کھلا چھوڑا تھا ۔۔ تاکہ آواز آسانی سے باہر جا سکے۔ ۔۔۔

” حور ۔۔تم پریشان نہ ہو ۔۔ میں ہو نہ تمہارے ساتھ ۔۔۔” اس کے دونوں کھندوں سے پکڑ کر وہ اس اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا ۔۔ وہ جو ابھی پوری طرح ہوش میں نہیں آئی تھی اسے سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہو رہا ہے اسے اپنے سر میں دھماکے ہوتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔فہد نے اس کا سر اپنے کندھے پر رکھا ۔۔

” کیا بات کرنی ہے جلدی بولنے ۔۔۔ ” اسے اس طرح مہک کا چپ ہونا کوفت میں مبتلا کر رہا تھا ۔۔۔

” پتا نہیں تم میری بات کا یقین کرو کے نا ۔۔۔ لیکن میں پھر بھی تمہیں بتانا چاہتی ہو ۔۔ ” انگلیوں کو مڑورتے ۔۔ مہک نے پریشان سی شکل بنائی ۔۔۔

” اب بتا بھی چکؤ ۔۔ یا میں جاؤ ۔۔۔ ” اب کہ وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔ اس کا اس طرح پہلیوں میں بات کرنا اسے کوفت زدہ کر رہا تھا ۔۔۔

” وہ بات یہ ہے کہ جب اس دن ہم شاپنگ پر گۓ تھے تو میں نے حور کو اپنے پیچھے آتے لڑکوں سے اشاروں سے بات کرتے دیکھا تھا ۔۔۔ پھر میں نے پرسوں بھی اسے فہد سے بات کرتے دیکھا اور آج ۔۔ ” اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگی ۔۔۔ اور اس کا چہرہ دیکھنے لگی کہ آیا اس کی باتوں کا اس پر کتنا اثر ہوا ہے ۔۔۔ لیکن دوسری طرف آہل کا چہرہ سپاٹ تھا جس کی وجہ سے وہ کوئی اندازہ نہیں کر پائی ۔۔۔

” آج کیا ۔۔۔ ” فہد کے اندر اس کی باتوں سے ابال اٹھ رہا تھا لیکن اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔

” اور آج میں نے حور کو فہد سے بات کرتے دیکھا تھا ۔۔ وہ دنوں یہاں ملنے والے تھے ۔۔۔ آہل کی میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔ اس لیے تمہیں اس طرح بے خبر رکھنا نہیں چاہتی ۔۔۔ یہ حوریں بہت خراب لڑکی ہے ۔۔ وہ تمہیں ڈیزرو نہیں کرتی ۔۔۔ ” مصعوم سی شکل بنا کر وہ اس انداز میں بول رہی تھی کہ کہنی سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے ۔۔

آہل کے چہرے پر مہک کی محبت والی بات سن کر ناگواری آئی جسے اس نے چھپانے کی کوشش نہیں کی ۔۔ لیکن جب اس فہد کی آواز آئی تو وہ چونکا اور آواز کے تعاقب میں چلتے اس کمرے کی طرف آیا جس کا دروازہ آدھ کھلا تھا ۔۔۔

جب وہ کمرے میں آیا تو اندر کا منظر دیکھ اسے ہاتھوں اور چہرے کی رگیں تن گی ۔۔۔ اس کے جسم میں آگ لگ گی تھی ۔۔

جب اس نے حور کو فہد کے کندھے پر سر رکھے دیکھا ۔۔ اس دنوں کی پشت دروازے کی طرف تھی ۔۔اس لیے آہل ان دنوں کو چہرے دیکھ نہیں پایا۔۔

” جان ۔۔ مجھے پتا ہے ۔۔ کہ تم مجھ سے بہت پیار کرتی ہو ۔۔ اور بہت جلد اس آہل نامی بلا سے پیچھا چھڑا کر میرے پاس آجاؤ گی ۔۔۔ ” اپنے پیچھے آہل کی موجودگی محسوس کر کے وہ پھر بولا ۔۔۔ حور اب ہوش میں آگی تھی اور باتیں بھی اس کی سمجھ میں آ رہی تھی خود کو فہد کی گرفت میں دیکھ کر وہ گھبرای اور اس باتیں سن کر تو اس کی چودی طبق روشن ہو گے ۔۔۔۔اور اس نے خود کو اس کی گرفت سے نکلا کہ اسی وقت آہل کی آواز سن کر اسے اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔۔ اننننففففففف۔۔۔۔۔۔ ” ایک دم آہل دھاڑا ۔۔۔

اس نے مڑ کر دیکھا جہاں آہل غصناک نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا حور کو اس کی نظروں سے آگ اگلتی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔ اس کے قدم لڑکھڑائے ۔۔۔ سر میں درد کی شدت پر یہ سب ۔۔ وہ گر جاتی اگر فہد بروقت اسے نہ پکڑتا ۔۔

آہل لمبے قدم اٹھتا اس تک آیا اور حور کا بازوں میں مضبوط گرفت میں لیتے اس کو جھٹکے سے اس سے دور کیا ۔۔۔۔

” تمہیں تو میں بعد میں دیکھتا ہوں ۔۔۔ ” انگلی اٹھا کر اسے ورن کرتے وہ حور لیے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہ سے نکل گیا ۔۔۔ اس کی گرفت اس کے بازوں پر اتنی مضبوط تھی کہ حور کولگا کہ اب اس کا بازوں ٹوٹا تو تب ۔۔۔

” اب کیا ہوگا ۔۔۔۔ ” ان کے جانے کے بعد مہک اس کے قریب آئی ۔۔

” اب جو ہوگا ۔۔۔ وہ آہل خود کرے گا ۔۔ ہمارا کام تھا تلی جلانا ۔۔۔ آگ کو بھڑکاۓ گا وہ خود ۔۔۔ ” شیطانی مسکراہٹ سے بولتے وہ بیڈ پر آکڑو بیٹھ گیا ۔۔۔

” بھائی آپی آپ کے ساتھ ہے ۔۔۔ میں کب سے آنکھیں ڈھونڈ رہی ہوں ان کو چلیں آئے آپی پالر سے لڑکیاں آگی ہیں ۔۔۔ ” مسکان جو کب سے حور کو تلاش کر رہی تھی اسے آہل کے ساتھ دیکھ کر پرسکون ہوئی ۔۔۔

” مسکان گڑیا مجھے آپ کی آپی سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔ آپ بعد میں آجانا ۔۔۔ ” حور کے بازوں پر اس نے اپنی گرفت اور مضبوط کی ۔۔ اسنے اپنے لہجے اور چہرے کے تاثرات پر جس طرح قابو کیا تھا یہ اسے پتا تھا ۔۔۔

حور کا لگا اب تو پکا اس کے بازوں کے ٹوٹ جانا ہے ۔۔۔ تکلف کی جیسے انتہا ہوگی تھی اس کا پورا چہرہ لال ہوگیا تھا ۔۔ آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے ۔۔

” آہ ہ ۔۔۔ ” بیساختہ اس کے منہ سے کراہ نکلی

” آپی آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔۔ ” مسکان فورن اس کی جانب بڑھی ۔۔

” مسکان آپ ایسا کرو کہ پانی لے کر آؤ ۔۔۔ میں آپ کی بھابھی کو اپنے کمرے میں لے کر جا رہا ہو ۔۔۔ ” مسکان کو کام لگا کر وہ حور کو لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔ کمرے میں داخل ہو کر اس نے حور کے بازوں کو چھوڑ ا اور اس کا منہ دابوچ کر اپنے قریب کیا ۔۔۔۔ ہ جو بازوں کی تکلف سے نہیں سنبھالی تھی اس کے اس طرح کرنے سے سے خوفزاد ہو کر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ آنسو اب پلکوں کی بار تور کر نکل کر اسے کے گال پر آ رہے تھے ۔۔۔

” پتا اس وقت میرا دل کر رہا ہے کہ تمہیں زندہ گاڑ دو ۔۔ ” اس کے جبڑے کو اور زور سے پکڑے وہ اس جنونی انداز میں بولا تھا کہ حور کو اپنی سانسیں روکتی محسوس ہوئی تھی ۔۔

” لیکن نہیں پھر سوچتا ہوں یہ تو بہت کم ہے ۔۔۔۔ جو مزہ دھیرے دھیرے جلانے کا ہے ۔۔۔وہ ایک ہی بار مارنے میں کہاں ۔۔۔ ” تمسخر آمیز انداز میں بولتے آخر میں وہ ہنسا تھا ۔۔۔

” دیکھیں آپ ۔۔ غلط سمجھ رہےہیں ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ۔۔۔ ” حور نے اپنے صفائی دینے کی کوشش کی ۔۔۔۔ جس مشکل سے وہ بولی تھی اسے پتا تھا ۔

” بلکل سہی کہا میں غلط سمجھا تھا تمہیں ۔۔ لیکن اب سمجھ گیا ہوں ۔۔۔ ” وہ زومعنی انداز میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے بولا تھا ۔۔اس کی نظروں میں موجود حقارت اور نکلتی چنگاریاں ۔۔۔۔حور کو بھسم کر رہی تھی ۔۔۔

” چلی جاؤ ۔۔ دفاع ہو جاؤں ۔۔ اس سے پہلے کہ میں واقعی ہی تمہارا قتل کر دوں نکل جاؤ۔۔ ” اسے دروازے کی جانب دھکا دے کر وہ دھارا ہی تو تھا ۔۔۔ اگر کمرہ ساؤنڈ پروف نہ ہوتا تو اس کی آواز سن کر اب تک سب جمع ہو چکے ہوتے ۔۔

حور نے بامشکل خود کو گرنے سے بچایا ۔۔ اور بہتے آنسو کے ساتھ کمرے کا دروازہ کھول کر بھاگنے کے انداز سے نکلی تھی ۔۔۔۔۔

اتنی زلت ۔۔۔ سے بہتر تھا کہ وہ اسے خود ہی مار دیتا ۔۔

مگر وہ بے خبر تھی ۔۔ ابھی تو یہ شروعات تھی ۔۔۔

فنکشن شروع ہوگیا تھا ۔۔ سب آغا جان کو مبارکباد دے رہے تھے کیونکہ نکاح پہلے ہی ہوچکا تھا اس لیے مہندی کا فنکشن بھی کنبائین تھا ۔۔

آہل بھی اپنے جاننے والوں کے ساتھ کھڑا ان سے باتیں کر رہا تھا۔۔ حور ابھی نہیں آئی تھی ۔۔

اس کے مغرور چہرے پر حد سے زیادہ سنجیدگی تھی ۔۔ طعبت میں رعب مہندی رنگ کے کرتے کے ساتھ وائٹ شلوار پہنے وہ سلطنت کے بادشاہ کی طرح کھڑا تھا ۔۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا دوپہر کو ہوے واقع کا ۔۔ اور یہی چیز فہد اور مہک کو بے چین کر رہی تھی ۔۔

تھوری دیر بعد دلہن آنے کا شور اٹھا تو آہل پر جا کر سٹیج پر بیٹھ آ گیا ۔۔۔ اور سامنے دیکھنے لگا جہاں حور کو لایا جا رہا تھا ۔۔

نیلے رنگ کی شرٹ ساتھ پیلے رنگ کا لہنگا ۔۔ جو اسکے نازک بدن پر بہت جبچ رہا تھا ۔۔ چہرے پر گھونگھٹ تھا جس کی وجہ سے چہرا نظر نہیں آیا تھا۔۔

جب وہ سٹیج کے پاس پہنچ گی تو آہل نے اپنا ہاتھ اس کے آگے کیا ۔۔ اس نے جہجکتے ہوے اپنا نازک ہاتھ اس کی چھوڑی ہتھیلی پر رکھا ۔۔

اس کے ہاتھ ضرورت سے زیادہ ٹھنڈے تھا ۔۔ اس کے ہاتھ کی کپکاہٹ آہل نے اچھی طرح محسوس کی تھی ۔۔۔

وہ اس سے ڈر رہی تھی ۔۔ اسی بات سے ایک تلخ مسکان اس کے عنابی لبوں پر آے ۔۔

اس نے اسے پکڑ کر اوپر کی ۔۔ یہ اور بات ہے کہ اس نے گرفت اتنی سخت رکھی تھی اس کے نازک ہاتھ پر کہ حور کو دل جو پہلے ہی ڈرا ہوا تھا مزید خوفزدہ ہوگیا ۔۔

وہ تو یہ سوچ کر ہی پریشان تھی کہ اگر آہل نے سب کو بتا دیا تو وہ کیا کرے گی ۔۔ کس کس کا کو صفائیاں دے گی ۔۔۔ یہی سوچ سوچ کر اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی ۔۔جب بھی دروازہ کھولتا تو وہ ڈر کر دروازے کے جانب دیکھتی تھی ۔۔ اس نے خود کو کیسے سنبھالا تھا یہ صرف اسے پتا تھا ۔۔

آہل نے اسے اپنے ساتھ پہلو میں بیٹھایا ۔۔ اور زور سے اس کا ہاتھ دبا کر چھوڑ دیا۔۔ جسے حور نے اسی وقت گھونٹ کے اندر کر لیا ۔۔ اس کا ہاتھ پورالال ہوچکا تھا اتنی سی دیر میں اپنے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے وہ جو کب سے اپنی آنسو روکے ہوئے تھی اب مزید ضبط نہ کر سکی اور آنسو ٹپ ٹپ کر کے اس کے اسی ہاتھ پر گرنے لگے ۔۔

آہل نے بھی اس کا رونا محسوس کیا ۔۔

” اپنا یہ ڈرامہ بند کرو ۔۔ اگر تم تھوڑی دیر میں چپ نہ ہوئی تو نتائج کی ذمیدار تم خود ہوگی ۔۔۔” اس کے کان کے پاس ہونٹ کر کے وہ آہستہ سے مسکراتے ہوے مگر اتنے سخت انداز میں بولا تھا کہ حور کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑتی محسوس ہوئی تھی ۔۔اس نے فوراً اپنے آنسو صاف کیے ۔۔

بظاہر تو دیکھنے والے کو یہ لگ رہا تھا کہ آہل نے کوئی پیار بھری سرگوشی کی ہے ۔۔

آہل کی نظریں فہد پر گئ ۔۔ جس کا چہرہ اس کے اس طرح حور سے بات کرنے پر تاریک پر چکا تھا ۔۔ ایک سرد سے مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی ۔۔ اسے پتا تھا اس اب کیا کرنا ہے ۔۔

مہمان بارہ باری کر مہندی اور سلامی دے کر جا چکے تھے ۔۔

” ہاں جی ۔۔ تو اب دیدار کریں گے اپنے دلہن کا ۔۔۔ ” اب سب کزن سٹیج کے پاس کھڑے اس کو تنگ کر رہے تھے ۔۔

” آپ لوگ نہ بھی کہتے تو بھی میں نے کر ہی لینا تھا۔ ۔۔” آہل بھی شوخ ہوا ۔۔۔

اس کے جواب کر تمام ینگ پارٹی نے ہوٹنگ کی ۔۔۔

” یہ ہوئی نہ بات ۔۔۔ ” تمام لڑکوں نے جوش سے اس کا ساتھ دیا ۔۔

” اچھاااااااااا ۔۔ تو پھر اب آپ دیکھ کر دیکھیں زرہ ہمیں ۔۔ ” اب وہ سب حور کے آگے کھڑی ہوگی تھی ۔۔ یوں کے حور ان کے پیچھے چھپ گی تھی ۔۔

” اوہ تو یہ بات ہے ۔۔۔ ” آہل نے آبرو اٹھا کر انہیں دیکھا ۔۔

” جی جی ۔۔ یہی بات ہے ۔۔ اور اگر آپ دلہن کی شکل دیکھنا چاہتے ہیں تو ایک شرط ہے ۔۔۔۔ “

لڑکیاں ساری ایک طرف تھی ۔۔

اور لڑکے آہل کے گرد جمع تھے ۔۔

” کسی شرط ۔۔۔ ” آہل کی بجائے اس کی طرف سے لڑکا بولا ۔۔

” کمپٹیشن ۔۔ اگر ہم جیتے تو دلہن کی شکل کل ہی دیکھنے کو ملے گی ۔۔ اور اگر لڑے جیتے تو آج ہی ۔۔۔ ” اب کی بار مسکان آگے ہو کے چہک کر بولی ۔۔۔

” منظور ہے ۔۔۔ ” لڑکوں کی طرف سے علی بولا ۔۔

” دلہے سے پوچھا ہے ۔۔۔ تو دلہے کا ہی جواب چاہیے ۔۔۔ ” مسکان ٹیس کرنے والی مسکراہٹ سے بولی تھی ۔۔

” تو کوئی بات نہیں۔ نا ۔۔۔ ہم بھی مستقبل کے ۔۔ دلہے اور کسی کے خوابوں کے شہزادے ہیں ۔۔۔ ” علی کون سا کم تھا فوراً سے جواب حاضر ۔۔۔ جس پر سارے لڑکوں نے قہقہہ لگایا ۔۔

” اوووہ میں بھی کہوں کے آج کل مہنڈکیاں آپ جیسے لڑکوں کے پیچھے کیوں پھدکتی ہیں ۔۔ ظاہری سی بات ہے آپ ہی تو ان کے خوابوں کے شہزادے ہیں ۔۔۔ ” اس کے جواب پر ساری لڑکیاں اش اش کر اٹھی ۔۔۔

” اچھا سریس فائینل ۔۔ مجھے شرط منظور ہے ۔۔۔ ” اس سے پہلے ان کی لڑائی مزید آگے بڑھتی آہل نے معاملہ ٹھنڈا کیا ۔۔۔

اب حال میں ساری لائٹ آف تھی اور صرف سٹیج پر لائٹ آن تھا ۔۔۔سارے مہمان سٹیج کی طرف متوجہ ہوگئے تھے ۔۔۔ایک طرف لڑکیاں بیٹھی تھی ۔۔ اور دوسری طرف لڑکے ۔۔ آہل لڑکوں کے ساتھ تھا اور حور لڑکیوں کے ساتھ ۔۔

” تین راؤنڈ ہونگے ۔۔۔ پہلا اشارے سے سمجھانا ہے ۔۔۔

دوسرا انتشاری ۔۔ اور تیسرا ڈانس ۔۔۔ اور نو چیٹنگ ۔۔۔ ” مسکان نے ہی آگے ہو کر گیم سمجھائی ۔۔۔

پہلے لڑکوں والوں کی طرف سے آیا۔۔۔ جس بچارے کو انہوں نے دلبر دے دیا۔۔۔

اب وہ ٹھمکے لگا لگا کر اپنے ساتھیوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔لیکن بے سود ۔۔وہ لوگ سمجھنے کی بجائے اس کے ٹھمکوں پر ہنسی جا رہے تھے ۔۔۔

بہرحال پہلا راؤنڈ لڑکی والے جیتے تھے ۔۔۔

اب باری تھی انتشاری کی ۔۔۔۔

جس میں لڑکے ہی آگے آگے تھے ۔۔ وہ تو گانے کے ساتھ ساتھ جھوم بھی رہے تھے ۔۔ تو یہ روانڈا ان کے حق میں گیا ۔۔ اب باری تھی آخری راؤنڈ کی ۔۔

لڑکیاں اپنے لینگے سنبھال کر سٹیج پر آئی ۔۔

مسکان نے رویل بیلو رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا بالوں کو کھلا چھوڑے ۔۔ چہرے پر نیچرل سے میک کیے وہ انتہائی دلکش لگ رہی تھی ۔۔

گانا سٹارٹ ہوا ۔۔۔

Ballay ballay ni dor punjaban di

Ho ballay ballay ni dor punjaban di

Ho jutti khal di marona naio chal di dor punjaban di

Ho jutti khal di marona naio chhal di dor punjaban di

Ho balle balle!

وہ ساری ایک ساتھ سیم سیم سٹیپ کر رہی تھی۔۔۔ بھی آخر اتنےدنوں کی محنت تھی ان کی ۔۔

Raat ki rangini dekho

Kya rang laai hai

Haathon ki mehendi bhi jaise

Khil-khil aai hai

ماحول میں رونق سی لگ گی تھی وہ کبھی آگے ہو رہی تھی تو کبھی پیچھے ۔۔

Mastiyon ne aankh yun kholi

O.. jhoomti dhadkan yahi boli

Balle balle..

Ho balle balle nache hai ye bawra jiya

Balle balle le jayega sanwra piya

Jale jale naino mein jaise pyar ka diya

Ballay ballay nache hai ye bawre jiya

Ballay ballay le jayega sanwra piya

Jee bhar ke aaj naach le

Aa saari raat naach le

Sharmana chhod naach le

Naach le.. oye, oye!

اب لڑکے کہاں پیچھے رہتے ہو سب بھی سٹیج پر چھڑ گئے تھے یہ اور بات ہے کہ انہیں پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ وہ سب اس پر ڈانس ضرور کریں گی ۔۔۔ اس لیے وہ بھی تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ ۔

اور علی صاحب وہ تو سنبھالے نہ سنبھل رہے تھے ۔۔

Chahne lage dil jise ussi pe addh jaaye

Door na rahe yaar se aankh jab lad jaaye

Ho jahan bhi ho raasta wahin ko mud jaaye

Koi pyaar ka raag sa badan mein chhid jaaye

Khwaab aankhon mein sajayega piya ke sang re

Gin gin gin gin ke ab din aaye wo piya ke sang

O balle balle..

O balle balle nache hai ye bawra jiya

Balle balle le jayega sanwra piya

Jale jale naino mein jaise pyar ka diya

Ballay ballay naache hai ye bawre jiya

Ballay ballay le jayega sanwra piya

ان کا ڈانس ختم ہوتی ہی سب نے تالیاں بجا کر داد دی ۔۔ جسے سر جھکا کر انہوں نے وصول کیا ۔۔

اب تھی لڑکوں کی باری ۔۔۔

ان کا گانا لگا تیرے سنگ پانیوں سا ۔۔

جس کے لیے لڑکے پتا نہیں کہاں سے دوپٹہ اسکارف اٹھا کر لے آئے تھے اب وہ سب سٹیج پر کھڑے اپنی پوزیشن سنبھالے ہوئے گانے کے لگنے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔

ایک لڑکے ایسے کھڑا تھا جبکہ اس کے ساتھ والے نے چہرے پر گھونگھٹ لیا ہوا تھا ۔۔

Sang Tere Laagi

Preet Mohe Ruh Baar Baar Tera Naam le

اپنے ساتھ کھڑے لڑکے کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھمایا ۔۔۔جبکہ وہ لڑکے دوپٹہ منہ میں ڈالے اور آنکھیں جھپک جھپک کر شرمانی کی اداکارہ کر رہا تھا ۔۔

ان کی یہ حرکت دیکھ کر سب ہنس دیے ۔۔

Ki Rab Se Hai Maangi

Yehi Dua Tu Hathon Ki Lakeerein Tham le

اب وہ ایک دوسرے کی کمر پر ہاتھ ڈالے کپیل ڈانس کر رہے تھے ۔۔

Chup Hain Batein Dil Kaise Bayaan Mai Karun

Tu Hi Kahde Jo Baat Mai Kah Na Sakun

اب ایک دوسرے کو کو دھکا دے کر وہ الگ الگ ہوے ۔ان سب نے ہونٹوں پر انگلی رکھی ۔۔۔

گانہ بھی بند ہوگیا ۔۔

اب بس لڑکوں کی

شیش …

شیش ۔۔۔ کی آوازیں آ رہی تھی حال میں بھی سارے خاموشی سے ان کو دیکھ رہے تھے ۔۔

سٹیج کی لائیٹ بھی آوف تھی ۔۔ لان میں مکمل آندھرا تھا ۔۔

” ہی ہی ہی ہی ہاہاہا ہی ہی ہاہا ۔۔ ” اب جب سب کی توجہ ان کی طرف تھی تو ایکدم سے کافی خوفناک چڑیل کی ہسنسے کی آواز آئی ۔۔۔ پیچھے کسی ہارل موئی کا میوزک بھی ایڈ کر دیا گیا تھا ۔۔۔

پھر ہوا یہ ۔۔ کہ اس چیخ کو حال میں موجود عورتوں ۔۔ لڑکیوں اور بچیوں کی چیخوں نے پیچھے چھوڑ دیا ۔۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکرا کر ہی چیخے ماری جا رہی تھی ۔۔

پھر سٹیج کی لائٹ دوبارہ آن ہوئی ۔۔

اور گانا بھی کنٹوییو ہوا ۔۔۔

Ki Sang Tere Paniyon Sa Paniyo Sa Paniyon

Sa Bahta Rahun Tu Sunti Rahe Mai Kahaaniyaan Si Kahta Rahun

اب لڑکے دوپٹے کو لہرا لہرا کر ادھر اُدھر جا رہے تھے ۔۔

کہانی کی باری پر وہ ایک دوسرے کے کھندے پر سر رکھ کر تھپک رہے تھے ۔۔

وہ ایسے ایکٹ کر رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔

Ki Sang Tere Badlon Sa Badlon Sa Badlon Sa Udta Rahun Tere AkIshara Pe Teri Or Mudta Rahun

اس پر انہوں نے اپنے ساتھی کو پکڑا اور جہاز بنا کر بھاگنے لگے ۔۔

Adhi Zami Adha Asama Tha

Adhi Manzilein Adha Rasta Tha

Ik Tere Aane Se Mukkamal Hua Ye

Sab Bin Tere Jahan Bhi Bewajha

اب کی بار سٹیج پر کافی صحت مند بندہ پتا نہیں کہاں سے پکڑ کر لاۓ تھے ۔۔ اور اس کے ارگرد چکر کاٹنے لگے تھے ۔۔

حاضرین جو پہلے ہارر موزیک کی وجہ سے ڈرے ہوے تھے اب دوبارہ ان کی حرکتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔

Tha Tera Dil Banke Mai SathTere Dhadkun Khudko Tujhse Ab Door Na Jaane Dun Ki Tere Sang Paniyon Sa

گانا ختم ہوتے ہی ان کا ڈانس بھی ختم ہوا ۔۔ سب نے ان کو سلوٹ کیا ۔۔۔

” کافی وقت سے میں نے ان کی آواز نہیں سنی تھی جن کے میں خوابوں کا راجہ ہوں ۔۔ اس لیے وہ سنے کے لیے لائیٹس آو کر کے وہ ہارر میوزک لگیا ۔۔ اور یقین کیجیے آپ سے مل کر واقعی بہت خوشی ہوئی ۔۔۔ ” مائک کو پکڑ کر علی نے مسکان کو نظروں کی گرفت میں لے کر شرارت سے کہا ۔۔ اور فورا سے سیٹی سے اتر کر دوڑا کیونکہ وہ سب بہت ہی خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہے تھی ۔۔

ایسا ہو سکتا ہے کہ علی اپنا جواب رہنے دے ۔۔

لڑکے والے جیت گئے تھے ۔۔۔

اس لیے اب حور کا گھونگھٹ اٹھانے کی باری تھی ۔۔۔

دوبارہ سے ساری لائیٹس آوف اور پھر آن ہوئی تو سٹیج کے بیچ حور اور آہل کھڑے تھے ۔۔۔

حور کے چہرے سے گھونگھٹ اب نہیں تھا ۔۔

اس کے بال آج بھی حجاب میں بند تھے ۔۔ رونے کی وجہ سے سرخ ہوتی آنکھیں اور گال ۔۔

نازک لب جو اس کو اپنی طرف متوجہ پاکر لز رہے تھے ۔۔ وہ اس روپ میں بھی اتنی دلکش لگ رہی تھی کہ نظر ہٹنا مشکل تھا ۔۔۔

آہل ابھی گہری نظروں سے اس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا کہ پیچھے گانا بجنے لگا۔۔۔

Surkh wala, sauz wala, Faiz wala love

Hota hai jo love se jyada waise wala love

Ishq wala love

آہل نے اس کی نازک قمر پر ہاتھ رکھ کے خود سے قریب کیا ۔۔۔ اور اس کا ایک ہاتھ اپنے کندھے پر رکھا جبکہ دوسرا اپنے ہاتھ میں لیے وہ لائٹ کپل ڈانس کے سٹیپ کر رہا تھا ۔۔

اس کی گرفت سخت تھی ۔۔۔

Hua jo dard bhi toh humko aaj kuch zyada hua

Ishq wala love

اب وہ اسے گھما رہا تھا ۔۔ گماتے ہوے وہ روکا اور پھر دوبارہ سابقہ پوزیشن میں جا کر اس نے اس کا ہاتھ تھاما ۔۔۔ دیکھنے والے کو یہ لگ رہا تھا کہ وہ بہت خوش ہے لیکن یہ بات حور کو ہی پتا تھی کہ وہ کسی اس ظالم کہ سخت گرفت کو برداشت کر رہے تھی ۔۔۔

Ye kya hua hai kya khabar yehi pata hai zyada hua

Ishq wala love

Agar ye usko bhi hua hai phir bhi mujhko zyada hua

Ishq wala love

ان کو دیکھ کر مہک اور فہد سہی معنی میں پریشان ہوے ۔۔ ان کا خیال تھا کہ آہل شادی سے انکار کر دے گا لیکن یہاں آہل کو خوش اور مطمئن دیکھ کر ان کا جلن سے بڑا حال تھا ۔۔

Meri neend jaise pehli baar tooti hai

Aankhein mal ke dekhi hai maine subah

Hui dhoop zyada leke teri roshni din chadha

Ishq wala love

حور جو آنکھیں نیچھے کیے ہوے تھی کہ آہل کے پکڑ اور سخت ہونے کی وجہ سے اس نے آنکھیں اوپر کر کے اسے دیکھا ۔۔۔ اس کی آنکھیں نم تھی ۔۔ جبکہ آہل کی سرد اور بغیر کسی تاثر کے تھی ۔۔

Jhanke badalon ki jaali ke peechhe se

Kare chandani ye mujhko ittala

Leke noor sara chand mera yahin pe hai chhupa chhupa hua

Ishq wala love

آہل نے اسے زور سے گھما کر اپنے بازو پر کر کے جھکایا ۔۔

ایک پل کے لیے تو حور کو اتنی چکر آگے ۔۔۔ مگر آہل نے اسے سنبھال لیا ۔۔۔

Hua jo dard bhi toh humko aaj kuch zyada hua

Ishq wala love

Ye kya hua hai kya khabar yehi pata hai zyada hua

Ishq wala love

Agar ye usko bhi hua hai phir bhi mujhko zyada hua

Ishq wala love

اب وہ اسی طرح جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ ۔۔۔

گانے کے ختم ہونے سے تھوری دیر پہلے سب نے مل کر دلہا دلہن کے گرد دایرہ بنا اور ٹرین کی طرح ان کے ارگرد چکر لگانے لگے ۔۔۔

رات کافی ہوگی تھی ۔۔۔ اوپر سے بادل بھی گہرے ہو رہے تھے ۔۔۔

مہمان جانے شروع ہوچکے تھے ۔۔۔ ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی یہ تو شکر تھا کہ فنکشن ختم ہونے کے بعد بارش شروع ہوئی تھی ۔۔

” حور میرے ساتھ جاۓ گی ۔۔۔” جب سب جانے لگے تو آہل نے بلال صاحب کو بتایا اور ان کا جواب سنے بغیر حور کو لیے گاڑی میں بیٹھا کر وہاں سے نکل گیا ۔۔ مطلب صاف تھا آگے کا معاملہ وہ خود سنبھالنے ۔۔۔

پیچھے بلال صاحب اپنے لاڈلے سپوت کو کوسنے کے علاؤہ کر بھی کیا سکتے تھے پھر انہوں نے کس طرح داجی کو ہینڈل کیا یہ صرف ان کو پتا تھا ۔۔۔۔

لیکن ان کے لیے یہ بات اطمینان بخش تھی کہ وہ خوش ہے ۔۔ یہ ان کا خیال تھا ۔۔۔

گاڑی میں خاموشی تھی ۔۔ رات بھی زیادہ ہو رہی تھی ۔۔ وہ فل سپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔ جبکہ حور سہمی ہوئی گاڑی کے دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی ۔۔۔

اسے پتا تھا آہل ابھی بھی صبح والے واقعہ کی وجہ سے غلط فہمی لیکن اس کے سخت تاثرات دیکھ کر اس کی ہمت نہیں ہوئی کچھ کہنے کی ۔۔

آہل کی گرفت سٹرنگ ویل پر بہت سخت تھی وہ اتنی تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا جیسے وہ گاڑی نہ جہاز ہو ۔ اس کے چہرے کے تاثرات سخت تھے ۔۔ اندر ابال سا اٹھ رہا تھا وہ جو شادی میں سب ٹھیک اور خوش ہونے کا تاثر دے رہا تھا اب بلکل برعکس تھا ۔۔۔

باہر بارش بھر پور رفتار سے برس رہی تھی ۔۔

ایکدم گاڑی ایک سنسان سڑک پر روکی ۔۔۔

جبکہ حویلی تک کا ابھی آدھہ راستہ ہی ہوا ہوگا ۔۔۔

” بغیر وقت ضائع کیے اپنا یہ ناقابلِ برداشت وجود لے کر میری گاڑی سے اترو ۔۔” اس کی جانب دیکھے بغیر وہ حقارت آمیز انداز میں بولا

اس کی بات سن کر حور کا دماغ بھک سے اڑ گیا ۔۔ اس نے بےیقین نظروں سے پہلے اسے دیکھا پھر باہر بارش کو جو زورو شور سے برس رہی تھی ۔۔۔

آہل کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے غصے میں کیا کر رہا ہے ۔۔۔

” سمجھ نہیں آئی ابھی ۔۔ میں نے کیا کہا ۔۔ ؟؟؟” وہ اتنی زور سے دھاڑا تھا کے حور کا سانس بند ہوگیا ۔۔ خوف سے دل بھی زور سے ڈھرکا وہ بلکل دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گی ۔۔آنسو تیزی سے اس کی آنکھوں سے نکل رہے تھے ۔۔۔

” لگتا ہے تمہیں ایسے سمجھ نہیں آئی گی ۔۔ ” اس کی طرف اپنے خونِ آشام نظروں سے دیکھتے ہوۓ وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔ پھر گاڑی کا دروازہ کھول کر نکالا اور اس کی سائڈ پر آ کر اس نے دروازے کھول کر بیدردی سے اسے بازوں سے پکڑ کر گاڑی سے باہر نکلا

” آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ ” اس کو چھوڑ کر جب وہ گاڑی میں بیٹھا تو اس کی بےیقین سے آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔۔

” ابھی تھوڑی میں میں خود ہی پتا چل جائے گا۔۔۔ ” تمسخر آمیز انداز میں بولتے وہ گاڑی لے کر وہ سے نکل گیا ۔۔

سڑک ساری سنسان تھی ۔۔ نہ ہی آس پاس کوئی آبادی تھی ۔۔

حور نے ایک بےبس نظر اس طرف ڈالی جہاں وہ ستم گر اس برستی بارش میں اکیلا چھوڑ کر گاڑی لےکر گیا تھا ۔۔ بارش سے اس کے سارے کپڑے بھیگ کر اس کے جسم کو نمایا کر رہے تھے ۔۔ خود کو بازوں سے چھپاتے ہوے وہ سڑک کے کنارے پر موجود درخت کے پاس زمین پر اکھٹی ہوکر بیٹھ گی ۔۔ اور اپنا سر گھٹنوں میں چھپا لیا ۔۔۔

اس ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ آہل اسے طرح سڑک پر ۔۔ بارش میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا ہے ۔۔

اس کا سر چکرا رہا تھا ۔۔ اس نے صبح سے کچھ کھایا نہیں تھا پھر اتنا کچھ جو آج ہوا وہ اس کے اعصاب پر کسی بوجھ کی طرح بھاری ہو رہا تھا ۔۔ پھر یہ بوجھ اس کی پلکوں پر آیا اور وہ آنکھیں بند کیے ونہی درخت کے ساتھ ہی بیٹھی رہ گی ۔۔

آہل اسے غصے میں وہنی چھوڑ آیا وہ دور ہی گیا تھا کہ سامنے سے ایک گاڑی آ رہی تھی وہ رونگ وے پر تھی جس میں اونچی آواز میں میوزک لگا ہوا تھا ۔۔۔۔

اس نے ناگوار نظروں اس طرف دیکھا جہاں گاڑی میں چار لڑکے بیٹھے تھے ان کے ہاتھ میں وائن تھی اور وہ سب میوزک پر اچھل رہے تھے ۔۔وہ گاڑی اس کی گاڑی کو کروس کرتے ہوئے آگے چلی گئی ۔۔آہل اپنا سر جھٹکتے ہوے ابھی تھوڑی آگے ہی گیا تھا کہ یکدم اسے اس نے پاؤں بریک پر رکھا ۔۔۔اور مڑ کر اس نے اس جانب دیکھا جہاں وہ گاڑی گیا تھی ۔۔

یعنی وہ اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتا تھا ۔۔۔ اس نے جلدی سے گاڑی موڑی ۔۔۔

اس کے دماغ میں طرح طرح کے خیال آ رہے تھے ۔۔

اس کا دل ناخوشگوار اندازہ میں دھڑکا جب اس نے وہاں پہنچ کر دیکھا جہاں وہ حور کو اتار کر گیا تھا وہاں اب کوئی نہیں تھا ۔۔

اور حور ۔۔ وہ کہاں تھی ۔۔۔۔وہ جلدی سے گاڑی میں سے نکلا اس کی بے چین نظریں آس پاس کا جائرہ لے رہی تھی ۔۔

اگر اسے وہ نہ ملی تو وہ کبھی خود سے نظریں نہیں ملا پاۓ گا ۔۔۔

اس نے اپنے بھیگے بال پیشانی سے ہٹائی ۔۔

اتنی جلدی وہ کہنی نہیں جاسکتی ۔۔

لیکن اگر اس کے ساتھ کچھ بڑا ہوا ہو ۔۔۔

اگر وہ گاڑی میں موجود لڑکے اسے اپنے ساتھ لے گئے ہو ۔۔۔

طرح طرح کے خیال اس کا دماغ ماؤف کر رہے تھے ۔۔۔

نہیں اسے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔

” حور۔۔۔۔۔ ” خود کو تسلی دیتے ہوے اس نے زور سے اس کا نام پکارا ۔۔۔کوئی جواب نہیں آیا ۔۔۔

” حورین ۔۔۔۔ ” اس نے پھر سے اس کا نام پکارا ۔۔۔

اس وقت سارا غصہ ۔۔

وہ سارے منظر ۔۔

ساری بدگمانی جیسے کہنی دور جا چھپی تھی ۔۔۔

بس ایک خیال تھا تو وہ یہ کہ وہ ٹھیک ہو ۔۔

اسے یوں لگ رہا تھا کہ اگر وہ سامنے نہ آئی تو اس کا سانس روک جاے گا ۔۔

ڈھرکن بند ہوجاے گی ۔۔۔

” حور پلیزززز سامنے آؤ ۔۔۔ ” تھک کر وہ یونہی گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔

برساتی بارش سے بے نیاز ۔۔ سڑک پر اس طرح بیٹھے وہ کوئی دیوانا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔

جس اپنا کوئی ہوش نہیں تھا ۔۔

صرف اپنے محبوب کی فکر تھی ۔۔

بارش سے اسے ٹھنڈ لگ سکتی تھی لیکن اسے اس کی پرواہ نہیں تھی ۔۔

اسے شدت سے اپنی اس سنگین غلطی کا احساس ہو رہا تھا ۔۔۔

کتنی دیر بارش میں بیٹھا کے بعد وہ اٹھا اور ہارے ہوئے قدم اٹھاتا گاڑی کی جانب بڑا ۔۔کے اس کی غیر ارادی نظر سڑک کے کنارے پر واقع درختوں پر گئ ۔۔ اسے وہاں کسی کے وجود کا گماں ہوا ۔۔ اس نے تھورا قریب ہو کر دیکھا تو وہ حور تھی ۔۔۔جو ٹانگیں اکھٹی کیے گھٹنوں پر سر رکھے پر بیٹھی تھی ۔۔۔

اسے دیکھ کر جہاں آہل کو ڈیروں سکون اپنے اندر سرعت کرتا محسوس ہوا وہنی پرشانی بھی کہ اتنی دیر سے وہ اسے آوازیں دے رہا تھا وہ جواب کیوں نہیں دی رہی تھی اگر اس کی نظر اس طرف نہ جاتی تو مگر اس نے جواب کیوں نہیں دیا ۔۔۔

وہ پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا ۔۔

” حور ۔۔۔ ” اس نے نرمی سے اس کا نام لیا ۔۔ لیکن سامنے موجود وجود بلکل ساکت تھا ۔۔

” حور ۔۔۔” اس نے بار اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہلایا ۔۔ اس کے ہلاتے ہی وہ ایک طرف کو گر گی ۔۔اس کا چہرہ بلکل سفید پر چکا تھا ۔۔ ہونٹ نیلے ۔

آہل تو اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا ۔۔۔

اس نے جلدی سے اسے اٹھا کر اپنے ساتھ لگایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی نفض چیک کی ۔۔ جو دھیمی چل رہی تھی ۔۔

اس کے لیے یہی بہت تھا کہ وہ چل رہی ہیں ۔۔۔

اس کے بےجان وجود کو نرمی سے اپنے بازؤں میں کے کر وہ جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھا ۔۔ اسے گاڑی میں بیٹھا کر اس نے جلدی سے ہیٹر آن کیا ۔۔ اور خود بھی اس بیٹھ گیا ۔۔ کیونکہ وہ خود بھی بھیگ گیا تھا ۔۔۔

گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے اس نے مسکان کا نمبر ملایا ۔۔ اسے یقین تھا کہ اب تک تو سب لوگ واپس حویلی پہنچ چکے ہونگے ۔۔۔ یا پھر ونہی روک گے ہونگے ۔۔

ایک بار تو بل جاتے جاتے فون بند ہوگیا ۔۔۔اس نے جھنجھلا کر دوبارہ کال کی ۔۔ وہ ساتھ ساتھ ایک پریشان سی نظر حور پر بھی ڈالی ۔

اب کی بار دو تین بل کے بعد فون اٹھا لیا گیا تھا ۔

” ہیلو ۔۔۔ ” اس کی نیند میں ڈوبی آواز آئی ۔۔۔

” مسکان بیٹا ۔۔۔ مجھے آپ کی مدد چاہیے ۔۔ ” دوسری طرف مسکان آہل کی پریشان آواز سن کر فوراً سیدھی ہوئی ۔۔۔ نیند بھی بھک سے اڑ گی۔ ۔

___________________________

آہل حور کا ٹھنڈا ہاتھ تھامے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا کچھ دیر پہلے اس کا جسم کپکپا رہا تھا لیکن پھر کمرے میں ہیٹر کی گرمائش کی وجہ سے ماحول پرسکون ہوا تو اس کی کپکاہٹ بھی کم ہوئی ۔۔۔۔۔ اس کا ہاتھ پکڑنے کا مقصد اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو گرمائش پہنچنا تھا ۔۔

مسکان سے کہہ کر اس نے حور کے کپڑے چینج کر والیے تھے اور خود بھی اس دوران کپڑے چینج کر لیے تھے ۔۔

مسکان کافی بنانے گی ہوئی تھی ساتھ میں کچھ ہلکا پھلکا کھانے کے لیے بھی ۔۔

آہل کی نظر اس کی طرف تھی لیکن دماغ کہنی اور الجھا ہوا تھا ۔۔۔ اس نے ایک بندے کو کہہ کر حور پر نظر رکھنے کا کہا تھا ۔۔ تاکہ پتا چل سکے جس نے تین سال تک طلاق کا مطالبہ نہیں کیا اب کیا ایسا ہوا کے یکدم اس طرح کر رہی ہے ۔۔ وہ وہاں گیا ہی اس مقصد کے لیے تھا ۔۔۔

پھر ایک دن اسے اسی بندے کی طرف سے کچھ تصویریں موصول ہوئی ۔۔

جس میں حور کسی اور شخص کے بازوں میں تھی ۔۔۔ (یہ تصویر حور کی آکسیڈنٹ والی تھی لیکن لینے والے نے اس طرح لی تھی کے اسے دیکھ کر کچھ اور لگتا تھا ۔۔)

اس کے کال کرنے پر کسی انجان مرد کا فون اٹھنا ۔۔ ( اور یہ تب کی بات ہے جب حور کا فون حنان کے پاس رہ گیا تھا ۔۔۔)

اور پھر اس طرح فہد کے کندھے پر سر رکھنا۔۔۔

کہتے ہیں نہ انسان بات کو اپنے رنگ میں دیکھنا زیادہ پسند کرتا ہے ۔۔ اب وہ فوٹوگرافر نے اسے تصویر جان کر اس طرح بھیجی تھی تاکہ اس کی کمائی جاری رہے ۔۔

پھر آہل نے بھی انہی تصویروں کو مدنظر رکھ کر حور کے ہر عمل کو دیکھا ۔۔اس کی آنکھوں پر غلط فہمی کی پیٹی بند چکی تھی ۔۔ وہ صرف تصویر کا ایک دیکھ کر اسے مکمل مان چکا تھا ۔۔

اور اب اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔۔ لیکن ایک چیز جو اس کو سمجھ آئی وہ یہ کہ وہ اسے تکلف نہیں دے سکتا ۔۔ اور نہ ہی اس سے دور رہ سکتا ہے ۔۔۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اس کا دل حور ک طلبگار تھا ۔۔۔

” آہل بھائی ۔۔۔ یہ لیں ۔۔۔ ” مسکان ٹرے پکڑ کر کمرے میں داخل ہوئی اور ایک نظر حورین پر ڈال کر ٹرے اس کے پاس ٹیبل پر رکھ دی جس میں کافی کا کپ ۔۔ دوتین سلائسز اور گر دودھ تھا ۔۔

” تھانکس گڑیا ۔۔ بس ایک اور کام کر دیں ۔۔ آپ کو پتا ہے نا کہ میرے کمرے میں میڈسن کہاں پڑی ہوئی ہیں ۔۔۔ بس مجھے وہ لا دیں ۔۔ ” اس کی بات پر وہ سر ہلاتے ہوئے دوبارہ کرنے سے نکل گی ۔۔

” حورین ۔۔ ” اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس کا ٹمپریچر چیک کیا ۔۔ جو اب نورمل ہو رہا تھا پہلے جہاں اس کا جسم ٹھنڈا تھا اب وہ دھیرے دھیرے گرم ہو رہا تھا ۔۔

اس کے پکڑنے پر حورین نہیں دیھرے سے آنکھیں کھول کر پھر بند کر لی ۔۔ اس کو ہوش آ رہا تھا کہ جسم میں جان بلکل نہیں تھی ۔۔۔

” یہ کھا لیں ۔۔۔ ” آہل سلائسز اس کے ہونٹوں کے پاس کر کے بولا ۔۔ مگر حور میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ کچھ کہہ پاتی ۔۔

آہل نے خود ہی اس کا سر سرھانے کی مدد سے اونچا کیا ۔۔ اور پھر آرام سے اسے سلائسز اور دودھ پلایا ۔۔ اس دوران اس نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا ۔۔

وہ اس کو نازک گڑیا کی طرح اس کو ٹریٹ کر رہا تھا ۔۔

” یہ لیں بھائی ۔۔ ” ابھی وہ اسے دودھ ہی پلا رہا تھا کہ مسکان دوائی لے کر آگی ۔۔

آہل کا اس طرح حور کا خیال رکھتے دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوئی تھی ۔۔

” تھانکس گڑیا ۔۔۔ اچھا اب میں ان کو دوائی کھلا رہا ہوں۔۔۔ اگر ان کی طبعیت پھر خراب ہوگی تو ۔۔ آپ مجھے مسڈکال کر دینا ۔۔۔ ” آہل نے کپسل پیس کر حور کو کھلائی اور کمرے سے نکل گیا ۔۔

یکدم اسے یاد آیا کہ اس کی کافی کمرے میں ہی رہ گی ہے اس لیے وہ واپس آیا ۔۔ مسکان شاید باتھروم تھی۔۔ آہل جھک کر اپنا کپ پکڑنے لگا ۔۔ کہ اس نظر پھر حور پر گی ۔۔اس کے ہونٹ ان نیلے نہیں تھی چہرے کی رنگت بھی اب واپس آرہی تھی کالے لمبے بال سھڑانے پر بکھرے ہوے تھے ۔۔ وہ اس وقت اتنی مصعوم اور دلکش لگ رہا تھا کہ آہل خود کو نہ روکا پایا اور اس نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔ اور مسکان کے آنے سے پہلے ہی وہ کمرے سے نکل گیا ۔۔۔

وہ واقعی ہی عجیب تھا ۔۔

آج اس کے آفس آنے کا خاص مقصد تھا ۔۔ جس کو پورا کرنے کے لیے اسے ایما کا انتظار تھا ۔۔ وہ وقت سے پہلے ہی آفس پہنچ چکا تھا ۔۔

اس وقت وہ بلیک پینٹ کوٹ پہنے اپنی چیئر پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔ خلاف معمول آج اس نے کوئی فائیل بھی نہیں پکڑی ۔۔۔

مگر اس کی بےچین نہریں بار بار سامنے کی طرف اٹھ رہی تھی جہاں سے اس نے آنا تھا

اس نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی ۔۔۔ ابھی آٹھ بجے میں چند منٹ باقی تھے کہ وہ اسے سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی ۔۔

باقی دنوں کے برعکس آج اس نے اس کو غور سے دیکھا تھا ۔۔

وائیٹ رنگ کی کھلی سی جرسی ساتھ پینٹ ۔۔ بھوری آنکھوں میں میں لال ڈورے پڑے ہوے تھے ۔۔ چھوٹی سی ناک اور اس کے نرم وملائم گال اس وقت ضرورت سے زیادہ سرخ تھے ۔۔بال اس نے جوڑے میں قید کیے ہوے تھے جس میں سے کچھ لٹیں نکل کر اس کے گالوں کو چوم رہی تھی ۔۔جان کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ۔۔۔ اس لیے اس نے جلدی سے نظریں اس سے ہٹا لیں ۔۔

” میرے آفس آئیں ۔۔۔ ” وہ ابھی اپنے کیبن کے اندر ہی آئی تھی کہ انٹرکام بجا تھا ۔۔ اور حسبِ حال دوسری طرف آڈر سنا کر ٹھک سے بند بھی ہو چکا تھا ۔۔

” ان سے (اچھو )کس نے کہہ دیا کہ صبح صبح کسی نا آگہی (اچھو) بلا کی طرح ٹپک جائیں ۔۔ دومنٹ سکون کا سانس بھی (اچھو) ۔۔” نہیں لے سکتے ۔۔۔ آتے ساتھ ہی (اچھو) ۔۔۔ میرے آفس آئیں ۔۔۔ ” اس نے بھی فون پھٹک کر ہلکی آواز میں جان کو کوستے ہوے آخر میں اس کی نقل اتاری بیچ بیچ میں چھنک کا وقفہ نہیں روکا ۔۔۔اور بےزرای سے اس کے روم کی طرف چل دی ۔۔ اب جو بھی تھا ۔ آڈر تو ماننا ہی تھا ۔۔

” اچھو ۔۔ جی سر ۔۔ ” اب وہ جان کے سامنے کھڑی تھی ۔۔

” آپ میرے ساتھ آ رہی ہیں ۔۔ ” ایک نظر اس پر ڈالنے کے بعد سنجیدگی سے بولا ۔۔

” مگر ۔۔ اچھو ۔۔۔کہاں سر ۔۔ ” ٹشو منہ سے ہٹاتے ہوے اس نے اچھنبے سے پوچھا ۔۔۔ اب تو اس کے گلے کی آواز بھی بیٹھ سی گی تھی ۔۔

جان نے جواب نہیں دیا بس ایک نظر اس پر ڈال کر باہر نکل گیا ۔۔ جیسے اس کو پتا تو وہ اس کے پیچھے آۓ گی اور ہوا بھی وہی ۔۔ اب وہ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی ۔۔۔

اور الجھن سے اسے دیکھ رہی تھی جس کا اسے بخوبی اندازہ تھا ۔۔

اس نے فون نکال کر وکیل کا نمبر ملایا اور کان سے لگایا ۔۔

” پہنچ گئے ۔۔ ” شاید دوسری طرف سے کال اٹھا لی گی تھی ۔۔۔

” ٹھیک ہے ۔۔ وہنی انتظار کریں ہم آرہے ہیں ۔۔ ” مختصر سی بات کر کے اس نے کال بند کر کے موبائیل ڈش بورڈ پر رکھ کر گاڑی ایک طرف کھڑی کر کے وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔

اس وقت اس کا چہرہ ہر تاثر سے پاک تھا ۔۔ چہرے پر نرمی تھی لیکن نیلی آنکھیں سرد ۔۔

” ابھی ہم ہسپتال جا رہے ہیں ۔۔ ڈیرییک کے پاس وہاں وکیل بھی ہے اور وہاں ہماری شادیہوگی ۔۔ ” وہ اس کو دیکھتے ہوئے عام سے انداز میں بولا ۔۔

پہلے تو ایما کو یقین نہیں آیا اس کی بات پر لیکن جب آیا تو اس کا دماغ گھوم گیا ۔۔۔

” کیا مطلب ۔۔ اچھو ۔۔ آپ کو کس نے کہا ۔۔ اچھو ۔۔۔ میں آپ سے شادی کروں گی ۔۔ ” وہ غصے سے اس کی جانب دیکھتے ہوے بولا ۔۔ بھوری آنکھوں سے جنگاریاں سی نکل رہی تھی جو سامنے والی کو بھسم کر دینا چاہتی ہو ۔۔۔

” میں نے جو کرنا ہوتا ہے ۔۔ میں وہ کر لیتا ہو ۔۔ کسی کے کہنے نہ کہنے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔میرا کام تھا تمہیں بتانا ۔۔ وہ میں کر لیا ہے ۔۔ ” وہ اب دوبارہ ڈراونگ سیٹ پر سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوے بےنازی سے بولا ۔

جبکہ ایما منہ کھول کر اسے دیکھتے رہ گی ۔۔

” آپ نے بتایا میں نے سن لیا۔۔۔اچھو ۔۔۔۔ لیکن عمل کرنا نہ کرنا میرے پر ہے ۔۔اچھو۔۔ جو کے میں نہیں کرنا ۔۔ ” تب کر بولتے ہوے اب وہ سینے پر بازوں باھند کر سیدھی ہو کر بیٹھ گی ۔۔

(ایسی تو ایسی کی سہی ۔۔۔ سمجھتا کیا ہے خود کو ۔۔ )

” اوکے ۔۔ مگر پہلے یہ دیکھ کر بتانا تم اسے جانتی ہو ۔۔۔ ” موبائیل اس کے سامنے کرتے ہوے اس نے نورمل انداز میں پوچھا ۔۔ ایما کا تو خیال تھا کہ وہ اس کی باتیں سن کر غصہ ہو گیا جبکہ وہ تو ریلکس تھا ۔۔

اس نے اس کے چہرے سے نظر ہٹا کر موبائیل کی سکرین پر دیکھا تو اس کی آنکھیں پوری کھل گی ۔۔۔دل کی دھڑکن جیسے رک گی تھی ۔۔

اس نے جان کی طرف دیکھا ۔۔ جو اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے اور نیلی آنکھوں میں چمک جیسے اسے پتا تھا کہ وہ ہار گی ہے ۔۔

ایما نے پھر دوبارہ موبائیل کی سکرین کی طرف دیکھا ۔۔ جہاں پیٹر چیئر پر باندھا ہوا تھا ۔۔ اور ایک آدمی اس کے پیچھے بندوق تانے کھڑا تھا ۔۔۔

اس دو منٹ کی ویڈیو نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔

” آپ ایسا کچھ ۔۔۔۔ نہیں کرے گے ۔۔۔ ” اس کی آواز میں موجود بےبسی محسوس کر کے جان کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔

” آپ نے کہہ میں نے سن لیا ۔۔ اب عمل کرنا نہ کرنا میرے پر ہے ۔۔” اس نے ایما کا جواب اسے واپس کیا ۔۔۔

شدید بےبسی کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے وہ جان کا ویڈیو دیکھنے کا مقصد اچھی طرح سمجھ چکی تھی ۔۔ لیکن وہ اس کے سامنے آنسو بہا کر خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے آنسو کو پیتے ہوے اس نے جان کی طرف دیکھا۔۔

بلیک رنگ کی پینٹ کوٹ میں بھی جس کا مضبوط جسم کا پتا لگ رہا تھا ۔۔عنابی لب جو ایک دوسرے میں پیوست تھے ۔۔۔ چہرے پر بریڈ اور نیلی آنکھوں میں جیت کی خوشی ۔۔۔ وہ واقعی وجیہہ اور شاندار پرسنالٹی کا مالک تھا ۔۔ کتنی ہی لڑکیاں اس کے ساتھ کی خواب دیکھتی ہوں گی ۔۔ لیکن ایما کے لیے وہ شخص صرف ایک ٹارچر تھا ۔۔

جان سامنے دیکھ رہا تھا اس کے باجود اسے پتا تھا کہ وہ اسے دیکھ رہی ہے۔۔۔

” کچھ کہہ رہی تھی آپ ۔۔۔ ” نظریں اس کی جانب کرتے ہوے اس نے برے جتانے والے انداز سے پوچھا تھا جبکہ ایک ہاتھ سے ڈراؤ اور دوسرے سے موبائیل واپس جیب میں رکھا ۔۔۔

” میں کہہ رہی تھی جیسے آپ اچھو کی مرضی۔۔۔ ” اس نے میٹھی لہجے میں دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔

یہ اور بات ہے کہ اسے اس شخص پر شدید غصہ تھا جو بلا وجہ ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پر چکا تھا ۔۔

” یہ ہوئی نہ ابھی بچوں والی بات ۔۔۔ ” وہ اس کی سرخ ناک جو بار بار اس کا دھیان اپنی طرف کر رہی تھی اس کو ہلکے سے دباتے ہوے بچوں کی طرح پچکارتے ہوئے بولا تھا۔۔

ایما نے ناگواری سے اس کا ہاتھ پیچھے کر کے منہ دوسری طرف کر لیا دل ہی دل میں اسے کوسنے لگی ۔۔

فلحال تو وہ یہ کر سکتی تھی

_________________________

وکیل بچارہ گھبرا کر کبھی اپنی ٹائی ڈھیلی کر رہا تھا ۔۔ تو کبھی اپنی پیشانی پر آیا پسنہ جو اتنی سردی میں بھی اسے آ رہا تھا ۔۔

وجہ سامنے لیٹا وجود تھا ۔۔ جس کی سبز آنکھیں ایکسرے کی طرح اس کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔

پہلے کی نسبت اب اس کے چہرے کا رنگ بھی بہتر تھا۔۔

” ہاں جی تو کیسے آنا ہوا ۔۔۔ ؟؟” ڈیرییک آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا ۔۔ انداز تیکھا تھا ۔۔

” وہ ۔۔ آپ کہ طبیعت معلوم کرنے آیا تھا۔۔ ‘ بچارہ وکیل تو یہاں آکر پھنس ہی گیا تھا ۔۔ جان نے اسے یہاں آنے کا کہا تھا اور کسی کو بھی کچھ بتانے سے منع کیا تھا ۔۔۔

” ایسے آتے ہیں کسی کی طبیعت معلوم کرنے ۔۔۔ ؟؟” وہ اب پھر اسے نیچے سے اوپر دیکھتے ہوے مشوک انداز میں اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔

دیکھنے کا انداز ایسا تھا جیسے شکاری اپنے شکار کا جائزہ کر رہا ہو ۔۔ اور ڈیرییک کی حرکتوں کا کسے نہیں پتا تھا ۔۔ ویسے بھی یہ وکیل بچارہ پہلے بھی اس کے ہاتھوں شکار ہوچکا تھا ۔۔ اس لیے اس کا گھبرانا جائز تھا ۔۔

” کیا مطلب ۔۔۔ ” وہ بچارہ ایک نظر اسے بھی دروازے کو دیکھتے ہوے بولا ۔۔ اور دل ہی دل میں جان کے جلدی آنے کی دعا کرنے لگا ۔۔۔

” اوہ ہ آپ کو نہیں پتا چلو کوئی بات نہیں ۔۔۔ اب میں بتا دیتا ہوں ۔۔۔ ” ڈیرییک کو وکیل کی یہ بھوکلائی حالت مزہ ے رہی تھی ۔۔

” نہیں ۔۔۔نہیں مجھے پتا ہے ۔۔۔ ” وہ جلدی سے بولا

” اچھا ۔۔ پھر دیں مجھے ۔۔ ” اس کی بات پر ڈیرییک کی آنکھوں میں شرارتی چمک آئی تھی ۔۔

” کیا ۔۔۔ ؟؟؟” وہ بچارہ بڑا پھنسا تھا ۔۔

” ابھی تو کہا کہ آپ کو پتا ہے ۔۔ پھر کیوں پوچھ رہے ہیں ۔۔ ” ڈیرئیک نے دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے مصنوعی ناراضگی سے پوچھا ۔۔

” ہاں ۔۔ مجھے پتا ہے ۔۔۔ ؟؟” وہ کسی طرح اس سامنے لیٹی بلا سے جان چھڑانا چاہتا تھا ۔۔

” تو پھر آگے بھریں نا ۔۔۔ اگر پتا ہے ۔۔ نہیں تو میں بتا دیتا ہو ۔۔۔جوئی مسلہ نہیں ” ڈیرییک اس کی حالت کا مزہ لے رہا تھا ۔۔

” سر مجھے کچھ نہیں پتا ۔۔ مجھے تو جان سر نے یہاں بلایا ہے ۔۔۔ ” آخر اس نے اس کے مطلب کی بات کر ہی دی ۔۔

” اچھا ریلکس یار میں نے کب کچھ کہا ۔۔ یہ جوس پیؤ ۔۔ ” اس کی بات پر وکیل نے گھبرا کر اس جوس کی جانب دیکھا جس کا ڈیرییک نے کہا تھا ۔۔

” ارے یار پیو ۔۔ کچھ نہیں ہے ۔۔ ” وہ اس کی بات پر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے پاس آیا کیونکہ وہ جوس اس کے پاس ہی ٹیبل پر پڑا ہوا تھا ۔۔

” اچھا اب یہ بتاو ۔۔ کہ جان نے کیوں بلایا یہاں ۔۔۔۔ ” اس کی جانب تھورا سا جھک کر آہستہ آواز میں پوچھا ۔۔

اس سے پہلے وہ بوکھلاہٹ میں مزید کچھ بولتا جان دروازہ کھول کر اندر آیا اس کے پیچھے ایما ۔۔۔

جسے دیکھ کر وکیل نے شکر کا سانس لیا ۔۔۔

ابھی وہ دنوں بیٹھے ہی تھے کہ بلیو شارٹ فراق جو گھٹنوں تک آتا ہے ۔۔اس کے ساتھ لونگ بوٹ اور کھلے بالوں کے ساتھ وہ خوشبو بکھیرتی اندر آئی ۔۔ اسے دیکھ کر ڈیرییک کھل اٹھا تھا ۔۔ اولیویا نے بھی اسے دیکھ کر سمائل پاس کی ۔۔ جس سے اس کے دائیں طرف ہلکا سا ڈمپل پڑا ۔۔ جس پر پہلے اس کا دیھان نہیں گیا تھا ۔۔

” ہاےےےےے آئیوری ون ۔۔ ” وہ ڈیرییک کے پاس کھڑی ہوے تو اس کی نظر کمرے میں موجود باقی افراد پر پڑی ۔۔

” ہاے ۔۔ ” اس کے ہائے کا جواب ایما نے دیا تھا جبکہ جان پیپر ریڈ کررہا تھا ۔۔ لیکن وہ وکیل دانت پوری نکالتے ہوے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ ایما کو وہ جان کی وجہ سے نہیں دیکھتے رہا تھا ۔۔

” ہائے گورجاوس ۔۔۔ ” ہاتھ اس کی جانب کرتے ہوے ہو چہک کر بولا اولیویا نے بھی اس سے ہاتھ ملایا ۔

( اس گورجاوس کے کچھ لگتے ہو لگتا ہے عزت راس نہیں آ رہی ۔۔ کوئی نہیں اس کو اچھی طرح عزت دوں گا ٹھیک ہونے کا بعد ہی دوں گا تاکہ کبھی بھول ناسکے ) ڈیرییک نے اس وکیل کو دیکھتے ہوئے سوچا۔۔

” یہاں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ ؟؟ ” اس نے سوال جان سے پوچھا تھا لیکن جواب ڈیرییک کی طرف سے آیا تھا ۔۔

” میری تیمارداری کے لیے جو لوگ خالی ہاتھ آرہے ہیں ان کی آخری وصیت لکھی جا رہی ہے ۔۔۔ ” وہ جلے کٹے انداز سے بولا تھا ۔۔ ظاہری سی بات ہے جب آپ کا کرش آپ کو چھوڑ سب سے ملے غصہ تو آے گا اور سونے پر سہاگا آپ سے جو بھی ملنے آئے خالی ہاتھ آۓ۔ ۔۔

اولیویا نے اسے گھوڑا ۔۔ جبکہ اس کی بات پر جان نے اپنی مسکراہٹ روکی ۔۔۔ کیونکہ اسے پتہ تو جو بات وہ کرنے والا ہے اس سے ڈیرئیک کا منہ پورا کھلنے والا ہے ۔۔۔اور پھر تھوڑے دیر بعد پھولنے والا ہے ۔۔

” میری اور ایما کی شادی ہونے والی ہے ۔۔ ” جان مسکراتی نظروں سے ڈیرییک کی جانب دیکھتے ہوے بولا ۔۔ جس کا منہ واقعی ہی کھل گیا تھا ۔۔ الیوویا آکسائیڈ ہوئی مگر ایما کا منہ فل بےزرای لیے ہوے تھا ۔۔ وہ بس پیپر ریڈ کر رہی تھی جو جان نے اسے پکڑا تھا ۔۔۔اس نے ان کی گفتگو میں حصہ نہیں لیا تھا ۔۔

” واہ ۔۔ تم دنوں کو مبارک ہو ۔۔لیکن اتنا پراؤٹ کیوں ۔۔ ” الیوویا نے خلوصِ دل سے مبارکباد دی

” فنکشن کروں کا بہت بڑا ۔۔لیکن پہلے اس زومبی کو ٹھیک ہونے دو ۔۔ ” جان نے پٹوں میں جکڑے ڈیرییک کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا ۔۔ آج کل اسے ڈیرئیک کو چھڑنے کا بہت مزہ آتا تھا ۔۔

ڈیرییک نے ناراض ہو کر منہ دوسری طرف لیا ۔۔

________________________

جان نے ایما کو الیوویا کے ساتھ بھیجا تھا چیک آپ کے لیے اور اب ڈیرییک کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔اسکے ہونٹوں پر ٹیس کرنے والی مسکراہٹ تھی۔۔۔ اب کہاں روز روز یہ موقعہ آتا ۔۔

” مبارکباد نہیں دو گے ۔۔۔ ” وہ چپس کے پکٹ کو پکڑتے ہوے بولا ۔۔ جسے ڈیرییک نے فوراً سے پہلے اس سے واپس لی اور ساتھ میں خونخوار گھوری سے اسے نوازا ۔۔

” ابھی میرے بازوں ٹھیک نہیں ۔۔۔ ورنہ بڑے زوروں کی مبارک باد دینے کو دل کر رہا ہے ۔۔”

وہی پیکٹ جو اس نے جان سے پکڑا تھا وہی کھول کر کھانا شروع کر دیا ۔۔

” میرے تو ٹھیک ہے نا۔ ۔۔۔ ” جان نے جواب میں اپنے بازؤں اس کے سامنے کرتے ہوے پوچھا ۔۔

” مقابلہ برابری کا ہوتا ہے ۔۔۔ “

” اووں ۔۔ ” ڈیرییک کے بات جان نے ہونٹ گول کیے ساتھ ایسا منہ بنایا جیسے ڈیرییک نے برے پتے کی بات بتائی ہو ۔۔۔

” جان میں بتا رہا ہو ۔۔ میرے بھی شادی تیرے فنکشن کے ساتھ ہے …” ڈیرییک نے جھنجھلا کر کہا ۔۔

” پہلے لڑکی کو تو راضی کر لو ۔۔۔۔ “

لیکن ڈیرییک کے جواب سے پہلے ہی الیوویا ایما کو لے کر اندر داخل ہوئی ۔۔

” یہ لیں ۔۔ مسٹر جان آپ کی وائف ۔۔۔ ” الیوویا مسکراتے ہوے ایما کو اس کے ساتھ کھڑا کر کر کے بولی ۔۔ جبکہ ایما نے جان کو دیکھنا ضروری نے سمجھا ۔۔اور اسے نظرانداز کرتے ڈیرییک کے پاس چلی گی ۔۔

اس کے اس طرح کے اٹیٹیوڈ سے جان کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔

وہ اب ڈیرییک سے اس کی طبیعت کا پوچھ رہی تھی اور خلاف معمول اور سنجیدگی سے بڑے سیدھے سیدھے جواب دے رہا تھا ۔۔

” اچھا اب میں چلتی ہو ۔۔۔ ” الیوویا دروازے کی جانب بڑھی ہی تھی کہ پیچھے سے ڈیرییک کی آواز سن کر اسے روکنا پڑا ۔۔

” جس مقصد کے لیے آئی تھی وہ تو پورا کر لو ۔۔” وہ اگ چہ باتیں ایما سے کر رہا تھا لیکن الیوویا کی طرف بھی اس کا پورا دیھان تھا ۔۔۔

” دیکھ تو لیا ہے ۔۔ تم ٹھیک ہو بس پھر میں بھی چلتی ہوں ۔۔ ” اس نے نظریں چراتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔۔

” نہیں تم اس لیے نہیں آئی تھی ۔۔۔ ” ڈیرییک اس کے چہرے کی جانب دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔

اس کی بات سن کا دل زور سے دھڑکا ۔۔۔

دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجی

” اسی لیے ہی آئی تھی ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ اب میں چلتے ہوں ۔۔” اپنی گھبراہٹ پر قابو پاکر اس نے اور جانے کی کی ۔۔لیکن ڈیرییک کی اگلی بات سن کر اس کے قدم روک گیے اور اس نے آنکھیں زور سے بند کر لی ۔۔۔

جس بات کا سے ڈر تھا ہوہی ہوا ۔۔۔

” اگر تمہارا خیال ہے کے میں تمہارا وہ محبت گلے لگنا میرے لیے رونا ۔ اور وہ میرا سر اپنے گود میں رکھ کر میرے کان میں سرگوشی کرنا تم مجھے کچھ نہیں ہونے دو گی اور نہ ہی مجھے کھو سکتی ہو وہ بھول گیا ہو۔ ۔۔ تو سچی تمہارے لیے میں بھول بھی جاؤ گا ۔۔۔” وہ بڑی مصعوم شکل بنا کر بولا ۔۔

اس کے انداز پر ایما جو اس کے پاس کی کھڑی تھی اس نے بامشکل اپنی ہسی روکی وہ چونکی تب جب جان اس کا تھام کر کمرے سے باہر لے آیا تاکہ ان دونوں کو پرواسی مل جاے ۔۔

_________________________

” ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔ ” اس نے گاڑی ڈرائیو کرتے جان سے پوچھا ۔۔ جس کا چہرہ بلکل سنجیدہ تھا ۔۔

” گھر ۔۔۔ ” یک لفظی جواب ۔۔

ایما کو شدید نیند آ رہی تھی ۔۔۔ لیکن وہ آنکھیں پوری کھولے جاگنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔

” اچھا آپ سے سوال پوچھوں ۔۔۔ ” وہ اپنے نیند بھاگنے کی خاطر اس خطرے سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔

” ہممم ۔۔۔۔ “

” آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی ۔۔۔۔ ؟؟؟” اس کے سوال پر جان نے وینڈ سکرین سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا جو نیند سے بوجھل آنکھیں لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔

” تاکہ تمہارے دل میں اپنی محبت ڈال سکھوں ۔۔۔ ” اس سے نظر ہٹا کر اب وہ دوبارہ سامنے دیکھ رہا تھا ایما کی یہ بوجھل مدہوش بھوری آنکھیں اس اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی ۔۔

” کیوں ۔۔۔ ؟؟”

” کیونکہ میں چاہتا ہوں ۔۔۔”

” کیوں چاہتے ہیں ۔۔۔ ؟؟”

وقت آنے پر بتاؤں گا ۔۔۔ “

” ابھی کیا ہے ۔۔۔ ؟؟”

” ابھی وقت نہیں ہے ۔۔ “

“کیوں نہیں ہے ۔۔۔؟؟ “

اس پر انجکشن میں موجود نیند کی دوائی اثر کر رہی تھی اس لیے وہ اس سے اتنی سوال پوچھ رہی تھی ورنہ ہوش میں کہاں پوچھتی ۔۔۔

” اچھا میں کیسا لگتا ہوں ۔۔۔ “

” آپ ۔۔۔ بڑے ۔۔ بہت بڑے ۔۔ ” اس کے بچوں کی طرح منہ بنا کر بولنے پر وہ کھل کے ہنسا تھا ۔۔

” کوئی نہیں وہ وقت دور نہیں ۔۔ جب تم خود کہوں گی ۔۔ جان آپ بہت اچھے ہیں ۔۔ ” ہستے ہستے وہ ایکدم خاموش ہوا اور پراسرار انداز میں بولتے ایما کو دیکھا جو اب خوابوں کی وادی میں جا چکی تھی ۔۔

منزل پر پہنچتے ہی اس نے گاڑی روکی اگر۔۔۔۔

” اٹھو ۔۔ گھر آگیا ۔۔ ” اس کا کندھا ہلا کر اس نے اسے جگانے کی کوشش کی ۔۔

وہ تھورا سا ہلی مگر اٹھی نہیں ۔۔۔

جان گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اب وہ نہیں اٹھے گی ۔۔

اس لیے اسے بازوں میں اٹھا کر وہ اندر داخل ہوا ۔۔ اور لاونج میں پڑے صوفے پر اسے لٹایا ۔۔اور ونہی پنجوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔

اس کی نظر ایما کے چہرے سے پر تھی ۔۔ جو سوتے ہوئے مصعوم اور بےزر لگ رہی تھی ۔۔

اس کی آنکھوں کے سامنے وہ لال ڈورں والی بھوری آنکھیں آئی ۔۔ دل میں خواہش جاگی ۔۔

جس پر اس نے عمل کرتے ہوے اس کی دنوں بند آنکھوں پر دھیرے سے اپنے لب رکھے ۔۔

پھر آنکھوں سے ہوتی اس کی نظر اس کے نازک ہونٹوں پر گی ۔۔

یہ لڑکی جب جب اس کے سامنے آتی تھی ۔۔ اس کا دل بغاوت پر آجاتا تھا ۔۔ ایسا اس کے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ۔۔

اب وہ اس سے پہلے وہ مزید کوئی گستاخی کرتا اس کا فون بجا ۔۔ جس سے وہ ہوش کی دنیا میں آیا اور جلدی سے اس کے پاس سے اٹھا بلکل گھر سے باہر نکل آیا ۔۔

” مجھے اس لڑکی سے بچ کر رہنا ہوگا ۔۔ ” اس نے جیسے خود کو نصیحت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔