465.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah Phala Ishq Episode 11

Raah Phala Ishq by Zoha Qadir

آج ہر امپلاے ایسے خوش تھا جیسے ان کو دوبارہ زندگی مل گئی ہو ۔۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو انہیں دوبارہ زندگی ہی ملنے والا ہی حساب تھا ۔ آخر جان جو آج واپس آگیا تھا جس کا مطلب تھا ڈیرئیک سے ان کی جان چھوٹی تھی

جان اپنے آفس میں بیٹھ کر پتا نہیں ڈیرئیک سے کیا باتیں کر رہا تھا ۔۔

مگر انہیں اس سے کیا تھا ان کی تو جان خلاصی ہوئی تھی ۔۔

ایما پرشانی سے ابھی اپنے کیبن میں ہی بیٹھی تھی

ڈیرییک نے اس کو منا کر ہی دم لیا ۔ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا ڈرا دھمکا کر ۔۔

اور آج کا اس کا بطور سیکٹری پہلا دن تھا۔ اس نے ڈیرییک سے پوچھا بھی تھا کہ اسے کیا کام کرنے ہیں ؟؟ جواب میں ڈیرییک اسے یہ کہتے ہوئے ” کہ وہ جان تمہں خود بتا دیں گا ” ریلکس ہونے کا کہا ۔ مطلب کتنا اچھا تھا نا وہ اس کی زندگی عذاب میں ڈال کر ریلکس ہونے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔

آخر تھوڑی دیر بعد اس کو پیغام ملا کہ باس اسے آفس میں بلایا ہے ۔۔

وہ خود کو پر سکون کرتے اجازت لیتے اندر داخل ہوئی ۔۔

اندر صرف جان تھا جو فائیل پڑھ رہا تھا۔ ڈیریک نہیں تھا کہی۔۔

اس کے اندر آنے پر جان نے ایک سرسری مگر گہری نگاہ اس پر ڈالی جو گھبرائی ہوئی تھی ۔۔

” جی سر “

جواب میں جان نے اس کو اپنے بلکل سامنے پڑی چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔

ایما اس کی چیئر کی بجائے دوسری پر بیٹھنے لگی ۔۔ مگر جان کی گھوری کی وجہ سے گھبراتے ہوئے واپس اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئی۔۔۔

” تو مس ایما آج کا پہلا دن ہے میری سیکٹری کے طور پر اس لیے میں آپ کو پہلی اور آخر بار آپ کے کرنے والے کام بتا رہا ہوں ۔۔۔” جان فائیل کو بند کر کے اب پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھا ۔۔

( کہہ تو ایسے رہا کہ اس کے بعد میں کھبی سن ہی نہیں سکتی ) ایما نے دل میں اس کو یہ کہا مگر اس کے سامنے صرف سر ہلایا ۔۔ منہ سے کہہ کر اسے اپنی شامت تھوری بلوانی تھی

” میرے آفس میں آنے سے پہلے آپ یہاں موجود ہوں “

( میں یوں کرتی ہوں ۔گھر ہی نہیں جاتی اسی آفس کو اپنا گھر بنا لیتی ہوں ۔۔ مسئلہ ہی موقہ ) اس نے پھر سے دل میں سڑھتے ہوئے جواب دیا ۔۔

” میں صبح بلیک کافی پیتا ہو ۔۔ تو وہ یہاں موجود ہونی چاہیئے۔۔”

( غلط صبح آتے ہی سب سے پہلے ہمارا خون پیتا ہے ) اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

پھر جان اس کو اس کے سارے کام بتاتا گیا اور ایما دل میں اس کو جواب دیتی گئی ۔۔

مگر اس کے سامنے منہ نیچے اپنے ہاتھوں کی جانب دیکھتے ہوئے سر ہلاتی رہی ۔۔

” مسں ایما آپ نے سنا بھی ہے کہ میں نے کیا کہا ہے ؟؟ “

اس کو ایک ہی زاویے میں بلکل خاموش مجسمے کی طرح بیٹھا دیکھ کر جان نے کنفرم کرنا چاہا کہ آیا اس نے کچھ سنا بھی ہے کہ وہ دیوارں سے باتیں کر رہا تھا ۔۔

ایما اس بار بھی کچھ نہیں بولی بس سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔

” منہ کھولیں اپنا ” ایما نے اچھنبے سے اس کی جانب دیکھا ۔۔ جو بری سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا

۔اسے جان کی دماغی حالت سہی نہیں لگ رہی تھی۔۔

” میری طرف بعد میں دیکھنا اس وقت جو کہا ہے وہ کریں ” ایما نے تابعدار بچوں کی طرح منہ کھولا ۔۔

” زبان باہر نکالیں ” اور ایما کو اس وقت یوں لگ رہا تھا جیسے جان میں ڈئرئیک کی روح آ گئی ہے ۔۔

منہ کھولنے کی وجہ سے آنکھیں بھی اس کی پوری کھل گئی تھی ۔۔ زبان بھی باہر نکالے وہ اب جیسے جان کے دوسرے حکم کی منتظر تھی ۔۔

جان کو وہ اس وقت اتنی کیوٹ لگ رہی تھی کہ اس کو اپنے حواس قیام رکھنا مشکل لگ رہا تھا ۔۔

” اممم زبان تو موجود ہے ۔۔ اور ہل بھی سہی رہی ہے ۔۔ تو بولنے میں کیا مسئلہ ہے ؟؟؟ “

اپنے حواس کو قائم کرتے ہوئے اس نے جیسے ایما پر طنز کیا تھا

” سر آپ نے ہی تو کہا تھا ۔۔کہ جب تک میں نہ کہوں نہیں بولنا ” ایما نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں ٹپٹپاتے ہوئے معصوم سا چہرہ بنا کر بولی ۔۔

اس بار اس نے دل کی بات کو زبان دے ہی دی تھی ۔۔

اور جان کو وہ دن یاد آیا جب اس نے اسے یہ کہا تھا ۔۔ وہ تو یہ بات بھی بھول گیا تھا ۔

” اب ایسی بھی بات نہیں آپ بول سکتی ہیں “

” اوکے ۔۔ پر سر ابھی کے لیے میں کیا کروں ؟؟”

” ابھی کے لیے آپ ایسا کریں کہ کل کی پارٹی کے لیے میرا ڈریس جا کر لے آئیے ؟؟”

جان دوبار فائیل کھولتے ہوئے بولا۔۔

” مگر سر میں .. میں کیسے ؟؟” ایما کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہے ۔ بھلا اسے کیسے جان کی پسند کا پتا ہوگا کہ وہ کیسے ڈریس پہنتا ہے ۔۔

” آپ کو ہی کہا ہے ۔۔ اب جا سکتی ہیں اب “

ایما اسے کوستے ہوئے ابھی دروازے تک ہی پہنچی تھی کہ دوبارہ جان کی آواز سن کر اسے روکنا پڑا ۔۔

” اور مس ایما کل پارٹی میں مجھے آپ ایسے ڈریسنگ میں نہ دیکھے تو اس لیے اپنے لیے بھی ڈریس لے لیجئے گا “

جان کا اشارہ اس کی ڈارک بلیو رنگ کی کھولی سی جرسی اور پینٹ کی جانب تھا ۔۔

ایما نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا ۔۔ اس کا واقعی ہی ایسی ڈریسنگ کرنے کا ارادہ تھا ۔۔ بلکل اس نے شروع سے ہی ہر موقعے پر ایسی ہی ڈریسنگ کی تھی ۔۔

” مس ایما میرے خیال میں کافی دیکھ لیاہے آپ نے مجھے اب آپ جا سکتی ہیں “

جان فائیل کے صفحے پلٹتے ہوئے بولا ۔۔

ایما اس کی بات سن کر بوکھلا گئی اور فوراً سے پہلے باہر نکلی ۔۔

” توبہ میری ۔۔ لگتا دو آنکھیں سر پر بھی ہیں “

وہ آفس سے نکلنے کے بعد اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے خود سے بولی ۔۔۔

____________________________

وہ ڈیرئیک کی منتیں کر کے اپنے ساتھ لائی تھی ۔ کہ وہ جان کے لیے سوٹ سلیکٹ کرنے میں مدد کر دے ۔۔ اس چکر میں اسے آفیشلی ڈیرئیک کو دوست ماننا پڑا تھا ۔۔

مگر اسے ساتھ لانے کا فائیدہ بھی ہوا کہ اسے زیادہ خوار نہیں ہونا پڑا ۔۔

ایک بلیک رنگ ڈینر سوٹ اسے پسند آیا جسے بعد میں ڈیرئیک نے بھی اوکے کر دیا ۔۔

” اب کہاں جا رہے ہیں ؟؟” ایما جس کا خیال تھا کہ کام ہوگیا تو انہیں اب واپس آفس جانا چاہیے ۔ ڈیرئیک کو لیڈیس ڈرسنگ کی شاپ میں گھستا دیکھ کر مشکوک لہجے میں بولی۔۔

” تمہارا ڈریس بھی تو لینا ہے ” ڈیرئیک لاپرواہی سے بولتے ہوئے اندر داخل ہونے لگا ۔

” میرے پاس ہیں ۔ واپس چلو ” اس کی یہ بات سن کر وہ جو اندر جانے لگا تھا واپس اس کی جانب مڑتے ہوئے بولا

” جان نے تمہیں بھی شاپنگ کرنے کا کہا تھا “

” تمہیں سر نے کہا ؟؟”

” نہیں میرے شاگردوں نے بتایا ” ڈیرئیک مزے سے بولتا اسے کنفیوژ کر گیا

” کون شاگرد ؟؟”

” شیطان اور کون ” یہ کہہ کر وہ اندر داخل ہو گیا مجبورََ ایما کو بھی اس کے پیچھے جانا پڑا ۔

وہ سیل گرل کو کچھ ہدایتیں دی ۔ جس کے جواب میں وہ سر ہلاکر اس کی بات کو سمجھتے ہوئے شاپ کے اندر کہی چلی گئی ۔۔

ایما نے کچھ نہیں کہا بس کوفت سے اس کی جانب دیکھا اس کا کوئی بھی سوٹ لینے کا ارادہ نہیں تھا ۔۔

تقریباً پانچ منٹ بعد وہ واپس آئی تو اس کے بازو پرجوڑے تھی ۔۔

“میم آپ یہ ٹرائے کر لیں آپ کون سا لیں گیں ” سیل گرل وہ سارے کپڑے اس کی جانب کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے پروفیشنل انداز میں بولی ۔۔

جبکہ اس دوران ڈیرئیک صوفے پر بیٹھ کر موبائل استمعال کر رہا تھا ۔۔

ایما نے غصے سے اسے دیکھا جو اسے عذاب میں ڈالنے کے بعد خود مزے سے موبائیل یوز کر رہ تھا ۔

سیل گرل سے کپڑے لے کر چینج روم کی طرف بڑھ گئی ۔۔

پہلا جمپ سوٹ تھا جو لیور ریڈ کلر کا تھا ۔۔ بازوں بھی پورے تھے مطلب سردی کا بھی مسئلہ نہیں تھا ایما کو تو یہ ہی پسند آیا تھا ۔

لیکن جب باہر نکلی تو ڈریرئک نے ایک نظر دیکھتے ہی ریجکٹ کر دیا ۔۔

وہ منہ بناتی ہوئی واپس گئی ۔۔

دوسرا چیک کیا ۔ اب والا بلو کلر کا گھٹنوں تک آتا ٹاپ تھا جس کے بازوں سرے سے تھے ہی نہیں ۔۔ یہ تو اس نے خود ہی ریجکٹ کر دیا ۔۔ کیونکہ یہ کیری کرنا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔

تیسرا پرپل کلر کی لمبی سی مکسی تھی جس کے ایک سائیڈ پر بہت لمبا کٹ تھا اور گلا بھی ڈیپ تھا ۔۔

” نوپ اس کا توکلر ہی عجیب ہے ” واہ کیا کمنٹ تھا ڈیرئیک کا ۔

“چھوتا ڈریس بلیک کلر کا لونگ ٹیل فراک تھا ۔ جس کے بازوں بھی پورے تھے ۔

“واہ یہ بیسٹ ہے ۔۔” ڈیرئیک خوش ہوتے ہوئے بولا۔۔

” تم یہاں رکو میں آیا ” ایما جب چینج کر کے واپس آئی تو ڈیریک سوٹ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے بولا ۔

اففف کہی اس ڈریس کی وجہ سے میں گر گئی تو ۔۔

ایما نے تصویر میں خود کو پارٹی میں گرتے دیکھا اور پارٹی میں۔ موجود سارے اس پر ہنس رہے تھے

“بھاووووووو ” اس کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر ڈیرئیک نے اس کو ڈرایا ۔

ایما نے ڈر کر ایک ہاتھ دل پر رکھا ۔ اس کے بھاؤ نے واقعی اس کی جان نکال دی تھی۔

” یو آر سچ آ ڈیول ” ۔۔

” اٹس ہونر فار می ” اس نے بھی جواب میں سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے ہوئے آنر واصول کیا ۔۔۔

” اففف مین یور آر امپاسبل “

ایما اس کو کہہ کر پے مینٹ کرنے جانے گلی ۔۔

” کہاں “

” پے مینٹ کرنے جا رہی ہوں ” ایما بیگ سے والٹ نکالتے ہوئے مصروف انداز میں بولی۔

” پے مینٹ کر دی ہے ۔۔ اب چلو ” اس کو باہر جانب ہاتھوں سے دیکھلتے ہوئے بولا۔۔

” میں خود بھی پے کر سکتی تھی .” وہ ناراض لہجے میں بولی۔

” اوہ پریشان نہ ہو۔ میں بھی کسی پر ادھار نہیں رکھتا ۔ بدلے تم مجھے جو چاہے کھلا سکتی ہو ” واہ کتنا سخی تھانا وہ ۔۔

” زہر نہ کھلا دو ؟؟ ” وہ دانت پیستے ہوئے بولی ۔۔

” نہیں میں جھوٹا نہیں کھاتا ” وہ منہ بنا کر بولا ۔۔

ڈیرئیک سے جیتنا آسان تھوری تھا ۔۔

” یہ مجھے دو .. ” ایما سے جب کوئی جواب نہ بن پایا تو غصے سے اس کے ہاتھ سے شاپر کھیچنے ہوئے وہ مال سے باہر نکل آئی ۔

” آؤ گاڑی میں بیٹھو ..” وہ ٹیکسی روکنے کا سوچ رہی تھی جب ڈیرئیک گاڑی اس کے پاس روکتے ہوئے بولا ۔۔

ایما کا اس کے ساتھ جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس لیے وہ نہ تو گاڑی میں بیٹھی اور نہ ہی اس کی جانب دیکھا ۔۔

اسی طرح سینے پر ہاتھ باندھے سامنے سڑک کی طرف دیکھتی رہی ۔۔

” اگر تم لیٹ ہوئی تو جان تمہیں ہی بولے گا مجھے کیا ۔۔۔” وہ لا پرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے گاڑی موڑنے ہی لگا تھا کہ ایما اسی وقت گاڑی میں بیٹھی اور اپنی ساری بھڑاس گاڑی کے دروازے پرنکالی ۔۔

” اوےےےے جو کہنا ہے مجھے کہوں میرے بےبی پر کیوں غصہ نکلا رہی ہو ۔” ڈیرئیک گاڑی کے ڈیش بورڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔

کوئی لڑکی تمہاری بےبی بن بھی نہیں سکتی ۔۔

ایما نے یہ بات دماغ میں سوچی

شکر تھا کہ راستہ خاموشی سے کٹا تھا ۔۔

___________________________

ایما کا دل کر رہا تھا کہ اپنا سر پھاڑ لے ۔۔

وہ پارٹی کے لیے تیار ہونے لگی تھی کہ جب جان کا فون آیا ۔۔

” مس ایما کیا آپ نے مجھے لیڈی ڈریسنگ کرتے دیکھا ہے کبھی ؟؟” ۔۔

“جی ۔۔۔ میں نے ۔۔ نو سر ” ایما کو سمجھ نہیں آئی کہ اس نے یہ سوال کیوں پوچھا تھا ۔۔

” تو پھر اس بلیک فراک کا مقصد ؟؟ “

جان کی بات سن کر اس کے دماغ میں جھماکا سا ہوا ۔۔

اس نے جلدی سے وہ بیگ کھولا جس میں اس کا ڈریس تھا۔۔

اور پھر وہی ہوا جس کا اس کو ڈر تھا ۔وہاں جان کے لیے جو سوٹ لیا تھا وہ پڑا تھا ۔۔ بیگ کا برینڈ وہی تھا جس میں اس کا ڈریس آیا تھا ۔ایما کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ کام کس کا ہے ۔۔

” ڈیرئیک ۔۔۔ “

پھر اس نے جان کو ڈریس ایکسچینج ہونے کا بتایا تو جواب میں نیا آڈر ملا کہ اس کا ڈریس لے کر اس کے پینٹ ہاؤس پہنچے ۔۔

اس لیے اب وہ اس کے پینٹ ہاؤس کے دروازے پر کھڑی ایک ہاتھ میں بیگ پکڑے دروازہ کھلنے کا انتظار کر رہی تھی ۔

تھوری دیر بعد دروازہ کھل گیا ۔۔

ایما نے نظر اٹھا کر جب درواز کھلنے والے کو دیکھا ۔ تو اس نے جلدی سے اپنی پلکوں کی جھالر نیچے کر لی ۔۔

آنے والا جان تھا جو اس وقت جان شرٹ لیس تھا ۔۔ اس کے بوڈی کے مسل بھی نمایاں ہو رہے تھا ۔

ایما نے نظر اس لیے نیچے نہیں کی تھی کہ اسے شرم آ رہی تھی بلکہ اس لیے کہ اس کو ڈر تھا کہ اگر اس کی نظر مستقل جان کی طرف رہی تو اسے جان سے کوئی نیا طعنہ سنے کو ملے گا ۔۔

اس کو اندر آنے کا راستہ دینے کے لیے وہ ایک طرف ہوا ۔۔

ایما جھجکتے ہوئے اندر آئی ۔۔

” یہ لیں ” ایما بیگ اس کی جانب کرتے ہوئے جھکے سر کے ساتھ بولی ۔۔

اس کی نظریں اپنے پاؤں کی طرف تھی

” ہممم ” جان بغور اس کا جھکے ہوئے سر کی جانب دیکھتے ہوئے اس سے بیگ پکڑا ۔۔

” ایسا ہے کہ آپ اس کمرے میں جا کر چینج کر لیں ۔۔ میں مزید دیر نہیں کرنا چاہتا “

جان اس کے پشت کی جانب موجود کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اور وہاں سے چلا گیا ۔۔

اس کے جاتے ہی ایما نے تب کا رکا سانس اب لیا تھا ۔۔

اب جب وہ تھوڑا ریلکس ہوئی تو اس نے آس پاس کا جائزہ لیا ۔۔

پینٹ ہاؤس کافی کشادہ تھا ۔۔ ایک طرف کیچن تھا اس کے پاس کی ڈائنگ اور تین کمرے تھے ۔پورے پینٹ ہاؤس پر وائٹ پینٹ تھا ۔ وہ خود جس صوفے پر بیٹھی تھی اس کے بلکل سامنے ایک لارج سائز LED تھی ۔۔

بلاشبہ پینٹ ہاؤس بہت شاندار تھا ۔۔

” امیروں کی زندگی ۔۔”

وہ پینٹ ہاؤس پر کمینٹ کرتے ہوئے جان کے بتائے ہوئے کمرے کی جانب چل پڑی ۔۔۔

تاکہ چینج کر سکے ۔۔۔۔،