465.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah Phala Ishq Episode 24

Raah Phala Ishq by Zoha Qadir

چہرے پر مسکینت طاری کیے وہ بیڈ پر لیٹنے کے انداز سے بیٹھا تھا ۔۔۔ لیکن اس کے بیڈ کے پاس کھڑا جان اس کی مسکین شکل کے پیچھے چھپی ساری حقیقت جانتا تھا ۔۔۔

اس لیے سینے پر ہاتھ باندھے سے گھور رہا تھا ۔۔۔

ہونا کیا ہے ۔۔۔ ڈیرییک صاحب نے ہسپتال والوں کو اتنا زچ کیا کہ آخر وہ خود اس کو چھوڑنے آۓ ۔۔۔

کبھی جناب کسی مریض کی شامت لاے ہوے ہوتے تھے تو کبھی نرس ایک بار اس کے پاس ڈیوٹی دیتی نرس جو جوس پی رہی تھی کال سننے کے لیے باہر گی تو اس نے اس کی جوس کے منہ پر گلیو لگا دی ۔۔۔ آگے تو آپ سمجھ گئے ہونگے نا ۔۔

اس کے باقی زخم کافی سہی ہونگے تھے لیکن ٹانگ کا ٹائم لے رہا تھا ۔۔

” اب تم مجھے گھورنا تو بند کرو گے ۔۔ ” اس نے منہ ٹھیرا کرتے ہوے کہا ۔۔۔

اس کی بات پر جان نے آنکھیں گھمائی ۔۔ لیکن کہا کچھ نہیں بلکل کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔

” اب منہ سے کچھ پھوٹے گیے ۔۔ ” اس کی خاموشی اسے زیادہ چھب رہی تھی جس کا اس کو بخوبی پتا ۔۔ اس لیے کچھ بولے بغیر اب وہ کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر نیچے لان کو دیکھنے لگا ۔۔۔

” جان ۔۔۔ کیا زبان ایما کو دے آۓ ہو۔۔ ” وہ جو لان دیکھ رہا تھا اس کی اس بات پر کچھ نہیں بولا اب تو ڈیرییک کو واقعی گڑبڑ لگی ۔۔ وہ پاس پڑی سٹک کا سہارا لے کر اس کے پاس آیا ۔۔۔

” جان ۔۔۔ سب ٹھیک ہے ۔۔۔ ” یہ سنیجدہ سا ڈیرییک تو کوئی اور ہی تھا جو پریشان بھی تھا ۔۔۔

جان نے لان سے نظر ہٹا کر اس کو دیکھا ۔۔ اس کی آنکھوں میں موجود ویرانی دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ ضرور کچھ ہوا ہے ۔۔۔۔۔

” مجھے بھی کچھ نہیں بتاؤ گے ۔۔۔ ” اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس نے متوجہ کیا ۔۔ اگرچہ ایسا کرنے سے اسے ٹانگ میں تکلیف ہو رہی تھی لیکن جو تکلیف اسے جان کو ایسے دیکھ کر اس کے آگے تو یہ کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔

” تمہیں سب پتا ۔۔۔ ہے تو کیا بتاؤں ۔۔۔ ” اسے سہارے سے صوفے پر بیٹھاتے ہوے اس نے اس کی پلستر والی ٹانگ کے نیچے چیئر رکھی ۔۔ پھر اس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔

اس نے گردن موڑ کر بغور اپنے ساتھ بیٹھے اپنے عزیز جان بھائی جیسے دوست کا چہرہ دیکھا ۔۔ جس کی نیلی آنکھیں لال لکیریں تھی ۔۔۔ اس نے تھوری اسے دیکھا پھر پرسوچ انداز میں بولا ۔۔۔

” ایما نے کچھ کہا ۔۔۔۔ ؟؟؟” اس نے اندازَ یہ بات کہی لیکن اس کے چہرے کے تاثرات نے اس کے انداز پر مہر لگا دی ۔۔ دوست ایسے ہی تو ہوتے ہو آپ کے چہرے ۔۔۔ آپ کی خاموشی سے سب جان لیتے تھے ۔۔

وہ دنوں بھی ایسے تھے ۔۔۔

” وہ مجھ سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔۔۔ ” زخمی مسکراہٹ کے ساتھ بولتے اس نے اسے دیکھا ۔۔۔ڈیرئیک نے نہیں اس سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتا ہے ۔۔ اسے ضرورت ہی نہیں تھا ۔۔ اول تو اسے پتا تھا وہ نہیں بتاے گا وہ ان لوگوں میں سے تھا ۔۔ جو اپنے محبت کرنے والے لوگوں سے اعتراف کرنے سے ڈرتا کہ کہنی اُنہیں کچھ ہو نا جاے ۔۔۔ دوم جب اسے پتا تھا کہ وہ ایما کو پسند کرنا یا شاید بات پسند سے بھی آگے تھی ۔۔۔

کمرے میں چھائی خاموشی کو ڈیرییک نے تورا ۔۔

” ابھی کہاں ہے وہ ۔۔۔ ” اس کا انداز پرسوچ تھا ۔۔۔

” اولیویا کے ساتھ ہے ۔۔۔ ” جان نے کلب والے واقعی کے بعد اس کے موبائل میں جی پی ایس ڈیوائسز لگا دی تھی۔۔۔ اس لیے اسے پتا لگ گیا تھا کہ اس کے جاتے ہی وہ بھی نکل گی تھی ۔۔۔

کمرے میں پھر سے خاموشی تھی ۔۔۔

_____________________________

وہ جان کے جانے بعد ہی نکل گی تھی ۔۔ پہلے اسے سمجھ نہ آیا کہ کس کے پاس جاے پھر اسے یاد آیا کہ اس کے پاس اولیویا کا نمبر ہے اس نے اسے کال کی ۔۔۔ پھر اس کے ساتھ کے گھر چلی گی ۔۔ وہ بس کسی طرح اپنا مائنڈ ریلکس کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ اس نے اولیویا کو کچھ نہیں بتایا ۔۔۔ وہ بس خاموش تھی تب سے ۔۔۔اس کی حالت دیکھتے ہوئے وہ اسے ریسٹورنٹ لے آئی تھی ۔۔۔۔

شام کا وقت ۔۔ یخ ٹھنڈی ہوائیں ۔۔۔ چاروں طرف سفید برف ۔۔۔ سڑک کے کنارے پیلی سٹریٹ لائٹ جل اٹھی تھی ۔۔۔ لوگ موٹے موٹے کپڑے پہنے یہاں سے وہاں جا رہے تھے ۔۔

وہ دنوں ریسٹورینٹ کی ونڈوز کے قریب پڑی چیئر پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔

” اممم۔ ۔۔۔ ایما تم یہاں کھانے ویٹ کروں میں ابھی آئی ۔۔۔ ” وہ موبائیل ہاتھ میں پکڑ کر کھڑی ہوئی اور موبائیل کان سے لگاتے ہوے نکل گی ۔۔۔ ایما نے بس ایک پل کے لیے اس کو جاتے دیکھ پھر دوبارہ اپنی توجہ کھڑکی کی جانب کر لی اس وقت وہ ہر چیز سے بے زار تھی اسے کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں نظر آ رہی تھی ۔۔۔ کہ اس کی نظر باہر سے گزرتے جمیز پر گی ۔۔ کچھ سوچ کر وہ جلدی سے روسٹورنٹ سے باہر آئی اس کی جانب گی ۔۔۔

” ہاےےےے جمیز ۔۔۔ ” اس نے پاس پہنچ کر اس نے جھجکتے ہوے اسے اپنی جانب متوجہ کیا ۔۔۔

” اوہ ۔۔ میم ۔۔۔ آپ ۔۔ سر بھی آپ کے ساتھ ہیں ۔۔ ” اسے دیکھ کر وہ خوش اخلاقی سے بولا تھا ۔۔ لیکن اس کا جان نے بارے میں پوچھنا اسے حیران کر گیا تھا ۔۔ اس کے لہجے میں جان کے زکر پر عزت اور محبت دنوں تھے ۔۔۔مطلب اس نے اسے اتنا ذلیل کیا اس نے پھر بھی وہ اس کے بارے میں پوچھ رہا تھا ۔۔

” تم اب بھی اپنے سر کے بارے میں پوچھ رہے ہو ۔۔ ” وہ بات دل میں دبا نہ سکی تھی ۔۔

اس کی بات پر وہ خفف سا مسکرا کر سر جھکا گیا ۔۔ پھر جب اٹھایا تو اس نے ایما کو دیکھا ..

” میم مجھے حیرت آپ ابھی تک سر کو نہیں سمجھی ۔۔۔ وہ اوپر سے جتنے سخت ہیں اندر سے اتنے نرم ۔۔۔ ” ایما نے الجھ کر اسے دیکھا اسے اس کی بات کا مطلب سمجھ میں آئی ۔۔۔ بھلا جان کو سمجھنا کون سا مشکل تھا ۔۔ وہ تھا ہی کھروس ۔۔ بتمیز ۔۔۔ مغرور ۔۔ اور جنونی ۔۔۔ اور ہاں فضول بھی ۔۔۔

اس کے نہ سمجھنے والے تاثرات دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ اسے اس کی بات سمجھ نہیں ۔۔۔۔

” میم آپ ایسے کریں ۔۔ میرے ساتھ آئیں ٹھنڈ ذیادہ ہو رہی ہے۔۔۔یہاں کی کافی بہت اچھی ہے ۔۔ ” اس نے اسی روسٹورنٹ کی طرف اشارہ کیا جہاں وہ اولیویا کے ساتھ آئی تھی ۔۔

وہ لوگ بیٹھے تو جمیز نے بولنا شروع کیا۔۔۔۔

” میں بےروگار تھا ۔۔۔ تعلیم کوئی نہیں ۔۔ ایسے میں اپنا اور اپنی بیمار بہن کا گزرا میں کیسے کرتا ۔۔ہم لوگ سڑک پر ہی ٹھہرتی سردی ہو یا گرمی ہم لوگوں کا گھر وہی ہوتا تھا ۔۔۔ ایک دن میری بہن کی طعبت بہت خراب ہوگی ۔۔میں نے بڑے لوگوں سے مدد مانگی لیکن سارے اسے بھیک مانگنے کا طریقہ سمجھے ۔۔۔۔ ” وہ تلخی سے مسکرایا تھا ۔۔۔ جبکہ ایما دم بخود اس کی بات سن رہی تھی ۔۔ ” ایسے میں میرا ٹکراؤ ایک فرشتے سے ہوا ۔۔ اسے میں نے مدد مانگی بغیر کچھ کہے وہ میرے ساتھ آیا اور میرے بہن کو اپنی قیمتی گاڑی میں لٹایا ۔۔ اور اس کا علاج کرایا ۔۔ میں نے جب شکریہ کہا تھا تو اس نے کہا کہ اس نے یہ مفت میں نہیں کیا ۔۔ اسے ایک وفادار ملازم کی ضرورت تھی جو مجھے کرنی تھی ۔۔۔ وہ میری بہن کا علاج کرواتے رہے اور مجھے سیلری بھی الگ سے دیتے ۔۔۔ اس دن مجھے معلوم ہوا ۔۔ انہیں ملازم کی نہیں ۔۔ مجھے ملازمت کی ضرورت تھی جو انہوں نے پوری کی ۔۔۔ وہ بظاہر سخت اور مغرور ہیں در حقیقت وہ بہت انمول ہیں ۔۔ وہ خول کے اندر رہتے ہوے اس انداز میں مدد کرتے ہیں کہ اگلے کو پتا بھی نہیں چلتا ۔۔۔ آج میں جو بھی ہوں ان کی وجہ سے ہو ۔۔ میری بہن بھی اب ٹھیک ہے اور پڑھ رہی ہے ۔۔ صبح مجھے ڈانٹ اس لیے پڑھ تھی کہ میری طبیعت نہیں ٹھیک تھی ۔۔۔ جس پر انہوں نے مجھے منع کیا کہ کام نہ کرنا کہ یہ نہ ہو کہ میری وجہ سے وہ بھی بیمار ہو جائیں ۔۔ ” یہ کہہ کر وہ ہلکے سے ہنسا تھا لیکن اس کی آنکھیں نم تھی۔۔۔ ایما کو نہیں پتا تھا کہ آنسو اس کی آنکھوں سے نکل رہے ہیں ۔۔۔

” پتا وہ درحقیقت کہنا چاہتے تھے کہ کام نہ کروں تمہاری طبیعت نہیں سہی ۔۔ لیکن میں پھر بھی ناشتہ بنانے لگا جس کی وجہ سے مجھے ڈانٹ پر گی ۔۔ ” اور ایما وہ تو بس سٹل تھی ۔۔ جمیز اس کو بائی کہہ کر کب کا جا چکا تھا ۔۔ لیکن وہ اب بھی ویسے ہی بیٹھی تھی ۔۔۔ اسی پوزیشن میں ۔۔۔

” ایما تم ٹھیک ہو ۔۔۔ ” اولیویا اس نے کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا ۔۔اس کی ایما کی یہ حالت پریشان کر رہی تھی ۔۔

” ہممم ۔۔ ہاں میں ٹھیک ہوں ۔۔ بس اب چلتی ہو ۔۔۔ ” وہ جلدی سے اپنا بیگ پکڑ کر کھڑی ہوئی ۔۔

” ارے کھانا تو کھا لو ۔۔۔ ” اس نے کھانے کی طرف اشارہ جو ابھی ویئٹر لے کر آیا تھا ۔۔۔۔

” نہیں ۔۔۔ میں ۔۔۔ بس اب چلتی ہو ۔۔۔ باۓ ۔۔۔ ” اولیویا نے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ اتنی سپیڈ سے گی تھی ۔۔۔ کہ وہ روکتی کیا ۔۔۔

_____________________________

وہ لان میں گم سم بیٹھی تھی ۔۔ اس کی گود میں کتاب کھلی پڑی تھی اور اس کی توجہ کی طالب گار تھی جس کے صفحے ہوا کے زور سے آگے پیچھے ہو رہے ۔۔۔ سامنے ٹیبل پر پڑا چاے کے کپ میں پر پڑی چاے بھی ٹھنڈی ہو چکی تھی ۔۔ لیکن اس کی توجہ تو سارے کیاریوں پر کھلے پھولوں پر تھی ۔۔۔۔ لیکن دماغ کہنی اور تھا اسے آج امی ۔ ابو اور علی سب کی بہت یاد آ رہی تھی ۔۔

دیان کو سکول گیا ہوا تھا ۔۔۔

کام سارے سکینہ بوا کر دیتی تھی ۔۔ وقت گزرنے کے لیے اس نے کتاب نکلالی لیکن اس سے پڑھا کچھ نہیں گیا تھا ۔۔۔

آہل کو اپنی طعبت آج بوجھل لگ رہی تھی اس لیے وہ آفس نہیں گیا تھا ۔۔ اپنے کمرے سے منسلک ٹریس پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔

سر پر نماز کے انداز میں دوپٹا لیے پیچ رنگ کی شلوار قمیض پہنے وہ ماحول کا حصہ لگ رہی تھی سردی سے بچنے کے لیے اس نے سفید رنگ کی گرم شال لی ہوئی تھی ۔۔ اس نے آج تک گھر میں اسے کھلے سر سے گھومتے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔

آہل کو سمجھ نہیں آتی تھی کیا کرے ۔۔ دل ہمشہ اس کے حق میں فیصلہ کرتا تھا ۔۔ لیکن دماغ اس میں جو گرد تھی وہ ہمشہ اس کے خلاف ہی جاتا تھا ۔۔۔

وہ کب سے یہاں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ بہت چاہنے کے باوجود وہ اس پر سے نظر نہیں ہٹا پایا آخر میں اس نے ٹھنڈی سانس لی اور کمرے سے نکل کر اپنا رخ لان کی جان کیا جہاں وہ بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔

اس کے پاس چیئر پر بیٹھ کر وہ کتنے دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔۔ جو اس کی آمد سے بے خبر تھی ۔۔ آخر اس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔ اس کے گرم ہاتھ کے لمس سے حور نے چونک اسے دیکھا ۔۔جس کا چہرہ لال ہو رہا تھا ۔۔ ہاتھ بھی ضرورت سے زیادہ گرم تھا ۔۔۔ بے ساختہ اس کا ہاتھ اس کی پیشانی کہ طرف گیا ۔۔۔ جو آج ضرورت سے زیادہ گرم تھی ۔۔۔ یخلکت اسے شدید پریشانی ہوئی ۔۔

” آپ کو یہاں میں آنا چاہئے تھا ۔۔۔ اوپر سے کوئی جرسی بھی نہیں پہنی آپ نے ۔۔۔ ” تشوش سے بولتے ہوے وہ اس کے سب ستم بھول گی ۔۔۔ اپنی شال اتار کر اس پر ڈال دی ۔۔ کہ کہنی سردی سے اس کی طعبت مزید خراب نہ ہو جائیں ۔۔۔۔

وہ اسے کہنا چاہتا تھا کہ سردی تو تمہیں بھی لگ سکتی لیکن کہہ نہ سکا بس خاموشی سے اسے دیکھا رہا ۔۔۔

حور نے اسے پکڑ کر کھڑا کیا ۔۔ اور وہ بڑی تعبدارہ سے کھڑا ہو گیا تھا ۔۔ وہ اسے لے کر اندر آئی۔۔ کمرے میں لانے کے بعد اس نے پہلے کمرہ گرم کیا ۔۔۔ پھر اسے بیڈ پر بیٹھا کر اس پر کمبل دیا ۔۔ اور دوبارہ کمرے سے باہر چلی گی ۔۔۔۔

اور آہل وہ تو خاموش سا ۔۔ جیسے کسی کے سحر میں تھا ۔۔ حور کی اتنی کیئر اس کے دل کو دھڑکا رہی تھی وہ جتنا اس لڑکی کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتا تھا ۔۔ وہ پہلے سے زیادہ اس پر حاوی ہوتی تھی ۔۔ وہ اس کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتا تھا لیکن اس کی یہ توجہ وہ خود با خود اسے اپنی جانب متوجہ کر لیتی تھی ۔۔۔

اس کے جانے پر اسے بے چینی ہوئی ۔۔۔ وہ اٹھ کر اسے کے پیچھے چلا بھی جاتا اگر وہ آ نہ جاتی ۔۔ وہ ائی تو اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں گرم دردھ بریڈ کے سلائس جیم اور مکھن تھا ۔۔ اس نے بریڈ پر مھکن لگا کر اس کی جانب کیا ۔۔ بجاے ہاتھ سے پکڑنے کے اس نے اسی کہ ہاتھ سے بریڈ کی بائیٹ لی ۔۔۔ اس نے اگر ایک پل کے لیے بھی اس پر نظر نہیں ہٹائی تھی تو اس نے بھی اس کی نظریں محسوس کر کے اپنی نظریں جھکا کر رکھا تھا ۔۔۔

کمرے میں ایک معنی خیز خاموشی تھی ۔۔۔ جس میں حور کو اپنے تیز ہوتے دل کی دھڑکن کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔۔

اسے دودھ کے ساتھ اسے میڈسن دی اور وہاں سے جانے کی کرنے لگی کہ اسی پل آہل نے اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔ اس کا دل زور سے دھڑکا ۔۔

اس کے گرم ہاتھ میں حور کا سرد ہاتھ تھا ۔۔

” کاش تم واقعی میں اتنی اچھی ہوتی ۔۔۔ ” وہ اس پر نظریں جمائے تھکے ہوئے انداز میں گویا ہوا ۔۔۔

” کاش آپ ۔۔۔ میرا اعتبار کرتے ۔۔۔ ” اس نے آہستہ سے جواب دے کر اسے دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں شکوہ تھا ۔۔ جو آہل کو اچھا نہ لگا تھا ۔۔ نہ جانے کس جذبے کے تحت اس نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اس کے گال سہلاۓ ۔۔۔

” مجھ پر بھی تو کسی نے نہیں اعتبار کیا ۔۔۔ ” وہ کھوے ہوے انداز میں بولا آج نے نہ کوئی طنز کیا تھا نہ ہی کچھ الٹا سیدھا ۔۔ حور نے اس کا وہ ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں لیا جس سے وہ اسکا گال سہلا رہا تھا ۔۔۔

” مجھے نہیں معلوم کے ماضی میں کیا ہوا ۔۔۔ لیکن مجھے آپ پر اعتبار ہے ۔۔ اور ہمشہ رہے گا ۔۔۔ ” مضبوط لہجے میں بولتے ہوے اس نے اسے دیکھا ۔۔۔۔

” کیوں ہے اعتبار ۔۔۔ کیوں ۔۔۔ ” آنکھیں بند کرتے ہوے اس نے ہلکی آواز میں پوچھا تھا ۔۔۔ یہی تو اس کی سب سے بڑی الجھن تھی ۔۔ آخر کیوں تھا اسے اس پر اتنا اعتبار ۔۔۔

دوائی اثر کر رہی تھی ۔۔۔ اس کی بات پر وہ مسکرائی تھی ۔۔ لیکن اس کی آنکھیں اس کی مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دے رہی تھی

” محبت کی سب سے پہلی سیڑھی اعتبار کی ہوتی ۔۔ پھر احترام آتا ہے پھر محبت ۔ میں تو پھر بہت آگے نکل آئی ہو ۔۔۔ اتنی کہ آپ کی اتنی بے اعتنائی کے باوجود آپ کو چھوڑنا میرے بس میں نہیں ۔۔۔ ” یہ ساری باتیں اس نے دل میں کہنی تھی کیونکہ وہ تو سو چکا تھا ۔۔

حور نے اسے دیکھا جو سوتے ہوے بلکل مصعوم بچہ لگ رہا تھا ۔۔۔ اس نے آگے ہوکر اس کے گرم ماتھے پر اپنے نازک لب رکھے ۔۔۔ اسی پل چپکے سے ایک انسو اس کی آنکھوں سے نکل کر اس کے بالوں میں گم ہوگیا ۔۔۔۔

پھر وہ سارا دن اور رات اس نے اس کی تیمارداری میں گزاری تھی ۔۔۔۔

_____________________________

وہ رات کو دیر سے واپس آیا تو اس نے اس کو کو لاؤنج میں بغیر کمبل کے اتنی سردی میں صوفے پر سوے پایا ۔۔۔ اس کے چہرے پر سوتے ہوے بھی تکلف کے آثار تھی ۔۔ وہ اسے نظرانداز کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ اسے لیے اسے ایسے ہی سویا رہنے دیا اور اندر کمرے میں جاکر پہلے فریش ہوا پھر اپنی گیلے بال تولیے خشک کرن لگا مگر اس کا سارا دیھان اور سوچوں کا رخ باہر صوفے پر سوے وجود کی طرف تھا ۔۔۔ آخر جھنجھلا کر اس نے تویلا صوفے پر پھینکا ۔۔۔اور ووڈ روب سے اکسٹرا کمبل نکال کر باہر آیا ۔۔۔ اور کمبل اس پر ڈال دیا ۔۔ پھر ریموٹ سے ہیٹر آن کر کے اسے دیکھا ۔۔ جو حرات ملنے کی وجہ سے اب پرسکون ہو رہی تھی ۔۔ اس بال کھولے ہوئے تھے جو صوفے پر پھیلے تھے اس کے بال زیادہ لمبے نہیں تھے لیکن چھوٹے بھی نہیں تھے ۔۔ ایک لٹ اس کے چہرے پر آئی تو اس نے بڑی نرمی سے اسے پیچھے کیا ۔۔۔ اس کے بال ریشم کی طرح ملائم تھے ۔۔ یہ بات اسے آج پتا لگی تھی ۔۔۔

ہاتھ کی مھٹی بنا کر اس نے چہرے کے نیچے رکھی ہوئی تھی ۔۔ بند آنکھیں ۔۔ لمبی گھنی پلکیں ۔۔۔ ستون ناک ۔۔ پتلے نازک گلابی لب جو اس وقت اد کھلے تھے ۔۔ وہ اسے اس وقت پریوں کی شہزادی لگی تھی جو تمام تر مصعومت اپنے اندر سموئے ہوئے ہو ۔۔ جو اسے کمزور کر رہی تھی ۔۔۔ دل کہہ رہا تھا کہ اب بس اسے اپنا کرلے لیکن نہیں اسے خود پر کنٹرول کرنا تھا ۔۔۔

وہ اس سے دور ہوا ۔۔ ورنہ آج اس کا یہ مصعوم روپ دیکھنے کے بعد اسے خود پر کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔

کمرے میں واپس آنے کے بعد اس نے سائیڈ ٹیبل پڑے جگ سے پانی پایا ۔۔۔

اور بیڈ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کر کے لگا ۔۔۔ رات کا آدھی گزر چکی تھی وہ کروٹ لے لے کر تھک گیا تھا لیکن اسے سویا جا ہی نہیں رہا تھا ۔۔جب بھی آنکھیں بند کرتا ۔۔ ایما کی تصویر آجاتی تھی ۔۔۔ تھک کر۔اس نے چھت کو گھورنا شروع کردیا کہ۔اسے باہر سے کچھ آوازیں آئی ۔۔۔ جس کی وجہ سے اسے اٹھ کر باہر جانا پڑا ۔۔۔ لاؤنج میں آکر اس نے دیکھا کہ جو کمبل اس نے اسے دیا تھا وہ آدھے سے زیادہ اتر چکا تھا ۔۔ وہ ہلکے ہلکے سے کانپ رہی تھی اس کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھی ۔۔ وہ جلدی سے اس کے پاس آیا اور ماتھے پر ہاتھ رکھا جو ٹھنڈا تھا ۔۔ اس پر پیسنا بھی آیا ہوا تھا ۔۔۔

اندھیرے میں ان کالے سایوں نے پھر سے اس کے جسم پر قبضہ کر لیا ۔۔ اس سے پہلے کہ اس کے جسم کو آگ لگتی ۔۔۔ اسے لگا کہ کسی کے زندگی سے بھرے لمس نے اس نے کندھے کو چھوا ۔۔۔

ایک سایہ ابھی بھی باہر تھا ۔۔ وہ اپنی لال آنکھوں سے اسے گھورا تھا ۔۔ کہ یکخت ان آنکھوں کی لالی کم ہوئی اور وہ دھیرے دھیرے نیلی آنکھوں میں تبدل ہوئی ۔۔ یوں جیسے کسی نے ان لال آنکھوں میں پانی ڈال دیا ہو ۔۔ پھر اس ساے کا چہرہ بھی واضح ہوا ۔۔۔

جان نے اسے دیکھا ۔۔۔ جو اب آنکھیں کھول کر بے یقین نظروں سے اسے دیکھ رہی گی ۔۔ اس کی آنکھوں میں وحشت تھی اتنی کہ بے اختیار اس نے اس کے ٹھنڈے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا ۔

” ایما ۔۔۔۔ “

” جان ۔۔۔ ” اس کی آواز نہیں نکلی تھی بس لب ہلے تھے ۔۔ اب اس کی آنکھوں میں وحشت کی جگہ بے یقینی تھی ۔۔ پھر اگلے ہی لمحے وہ اس کے گلے لگی اور شدت سے رو دی ۔۔۔

جان کو اتنی سمجھ آگی تھی کہ اس نے کوئی بڑا خواب دیکھا ہے جس سے وہ ڈر گی ہے ۔۔۔ اس نے بھی اس کے گرد اپنے بازؤں باندھ کر اسے تحفظ کا احساس دلایا ۔۔۔ کیونکہ اسے اس وقت سب سے زیادہ اس سہارے کی ضرورت تھی ۔۔

” ان کی آنکھیں لال تھی ۔۔ میں ان سے ۔۔ بھاگ رہی تھی ۔۔ لیکن وہ میرے اندر چلے گیے تھے ۔۔ ہر بار چلے جاتے ہیں ۔۔۔ پھر ۔۔ پھر میرے جسم ۔۔۔پر آگ لگ جاتی ۔۔ مجھے درد ہوتی ۔۔ بہت ہوتی ہے ۔۔ ” وہ اس کے سینے لگی بے ربطہ انداز میں بول رہی تھی بلکل ایک خوفزاد بچے کی طرح ۔۔۔ اس کے جسم کی لرزش وہ اچھی سے محسوس کر رہا تھا ۔۔

” اچھا ۔۔ سو جاؤ ۔۔۔ اب کوئی نہیں آۓ گا ۔۔۔ ” ہاتھوں سے اس کے بال سہلا کر اسے پرسکون کرنے کی کوشش کرتے ہوے اس نے اسے بہلایا ۔۔

” نہیں ۔۔۔۔ ” ایما نے اس کی شرٹ کو آگے سے زور سے دبوچ لیا ۔۔۔ جیسے ڈر ہو اسے زبردستی سلاے گا ۔۔۔

” وہ پھر آجاے گیے ۔۔۔ ” اس کی آواز میں بےبسی تھی آنکھوں میں آنسو وہ بہت ڈر گی تھی ۔۔۔ بہت زیادہ ۔۔۔

” نہیں آئے گے ۔۔۔ میں یہی ہو میرے ہوتے ہوے کوئی کچھ نہیں کرے گا ۔۔۔ ” اب شاید اس کی تھوری تسلی ہوئی تھی ۔۔ اس لیے اس سے تھورا سا الگ ہوکر اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جیسے جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ آیا وہ سچ کہہ رہا ہے کہ جھوٹ ۔۔۔

” پکا ۔۔۔ ” اپنا ہاتھ اس نے اس کے سامنے کیا ۔۔ جان نے اس کے نازک ہاتھوں کو دیکھا پھر اپنے ہاتھوں میں لے کر بڑی مضبوط لہجے میں بولا ۔۔۔

“پکا ۔۔۔۔”

____________________________

آج اس کا ساکیٹرسٹ کے ساتھ پھر سے سیشن تھا ۔۔ اس دن جب وہ رات کو خواب میں ڈر گی تھی تو جان اس کو اگلے دن ہی یہاں لایا تھا ۔۔۔ اور ساکیٹرسٹ کے روپ میں جب اس نے ڈاکٹر ابرہیم کو دیکھا جن کا اپنا اسلامیک سنیٹر تھا ۔۔ اسے خوشی ہوئی بہت ۔۔۔ ان سے دوبارہ مل کر ۔۔ جان اس کو ان نے پاس چھوڑ کر اس دن تو باہر سے ہی چلاگیا تھا لیکن آج وہ باہر ہی بیٹھا تھا ۔۔۔ پتا نہیں یہ بات سچ تھی کہ واقعی ایما کو ایسا لگتا تھا کہ جیسے جان اور ڈاکٹر ابرہیم بہت اچھے سے ایک دوسرے کو جانتے ہو ۔۔ کیونکہ ڈاکٹر ابرہیم کا انداز جان کے ساتھ جتنا نرم تھا ۔۔۔ جان کا ان کے ساتھ اتنا ہی عجیب سرد قسم کا ۔۔۔۔

فارمل گفتگو کے بعد وہ وہ اصل موضوع کی طرف سے کیونکہ کے پہلے سیشن میں انہوں نے اسے رسمی سی باتیں کی ۔۔

” اچھا ایما ایک بات باتوں ۔۔۔ اب وہ خواب آپ کو یاد ہے کہ لاسٹ ٹائم آپ نے کب دیکھا۔۔” انہوں نے ٹیبل پر دنوں کہونیاں ٹکا کر دوستانہ انداز میں پوچھا ۔۔۔

” اممم چار پانچ دن پہلے ۔۔۔ ” ان کے ساتھ وہ ریلکس فیل کر رہی تھی ۔۔۔ اس لیے آرام سے جواب دیا ۔۔۔

” اچھا وہ جو ڈائیری میں نے آپ کو دی تھی ۔۔ وہ لائی ہیں ۔۔ ” اُنہوں نے شروع کے دنوں میں اسے ایک ڈائیری دی تھی کہ جس میں وہ اپنی ڈیلی کی روٹین لکھے۔۔۔

” جی یہ لیں ۔۔۔۔ ” اس نے بلیک رنگ کی ڈائری ان کی جانب بڑھائی۔۔ جسے انہوںنے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑا۔۔۔۔

” ہممم ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ بات یہ ہے کہ آپ خوش رہا کریں ۔۔ یہ بھی کوئی عمر ٹیشنین لینے کی ” انہوں نے ڈایرئ بند کر کے شفیق سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔۔ کہ وہ بھی ہنس دی ۔۔۔

” ایک بات پوچھوں آپ سے ۔۔۔ ” تھوری دیر خاموشی سے اس کے چہرے کا مطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے محتاط انداز میں اس سے پوچھا ۔۔۔

” جی ۔۔ ضرور ۔”

” میں نے محسوس کیا ۔۔۔ ہے کہ جیسے آپ انسپر ہیں اسلام میں بہت ۔۔ ” سوال کے دوران ان کی نظریں اس کے چہرے پر ہی گھڑی تھی ۔۔ ان کی آنکھیں جیسے جانچ رہی ہو کہ آیا ان کا اندازہ آیا کتنی حد تک سہی ہے ۔۔۔

ان کے اتنے سہی اندازے پر وہ ضرور حیران ہوتی اگر اسے پتا نہ ہوتا ہے کہ وہ ساکیٹرسٹ ہیں ۔۔۔۔

” آپ کوئی بھی اچھی چیز آپ کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے ۔۔۔ ” ایما نے کندھے آچکا کر ریلکس انداز میں جواب دیا جیسے کوئی بات نہ ہو ۔۔۔

” تو آپ کا نہیں دل کیا کبھی کہ آپ اس اچھی چیز میں شامل ہو ۔۔۔ ” وہ بلکل اسی کے انداز میں اس سے بات کر رہے تھے ۔۔

ان کے سوال پر ایک اداس سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی ۔۔۔۔

” دو دفعہ ایسا ہوا ہے ۔۔۔ ایک دفعہ جب میں اپنی مسلم دوست سے متاثر ہو کر میں نے اسلام کے بارے میں لکھی گی ایک کتاب لی ۔۔۔ لیکن وہ کتاب میرے ڈیڈ نے دیکھ لی اور وہ مجھ سے اتنا ناراض ہوے ۔۔۔ اس کے بعد ان کے ناراضگی کے خوف سے میں نے دوبارہ نہیں کچھ کیا ۔۔۔ ” اس نے بات ختم کر کے ان کو دیکھا جو بڑی غور سے اس کی باتیں سن رہے تھے ۔۔۔

” اور دوسری بار ۔۔ میں نے نیٹ پر سرچ کیا ۔۔۔ لیکن وہاں اسلام کے بارے میں اچھی باتیں تھی تو کچھ ایسی بھی تھی جنہوں نے مجھے ڈرایا تھا ۔۔ میں الجھ گی تھی ۔۔ اس لیے دوبارہ اس بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔ ” انہوں نے اسے دیکھا ۔۔۔ انہیں نہیں پتا تھا کہ اس کے پاس ایسا کیا ہے ۔۔ کہ اللہ بار بار اسے سیدھے راستے پر چلانے کا راستہ دیکھا رہا ہے لیکن اتنا تو انہیں پکا تھا کہ اس میں کچھ تو تھا ۔۔ کہ وہ اللہ کو پسند تھی کہ اللہ اسے غافل نہیں رہنے دینا چاہتا تھا ۔۔۔

” مس ایما آپ مسٹر جان کے ساتھ میرے گھر ضرور آئے گا ۔۔ ” پرخلوص مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے اسے دعوت دی ۔۔۔

” جی ضرور ۔۔۔ “

” اچھا مس ایما آپ ویٹنگ آریہ جائیں مجھ مسٹر جان کے ساتھ کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔ ” ایما سر ہلاتے ہوے باہر چلی گی ۔۔ تھوری دیر بعد دروازہ دوبارہ کھلا اور جان اندر آیا اس کا چہرہ بے تاثر تھا ۔۔ نیلی آنکھوں میں ہمشہ والا سرد تاثر ۔۔۔ وہی مغرور چہرہ مضبوط چال ۔۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا اس میں ۔۔۔۔

وہ آکر ان کے سامنے والی سیٹ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔

” کیسے ہو ۔۔ ؟؟؟”

” اچھا ۔۔۔ ” یک الفاظی جواب۔ ۔۔

” دیکھیں مسٹر جان ۔۔ مس ایما کا میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ یک کے بہت دیگر حادثات نے ان کے دماغ پر خوف طاری کردیا ہے ۔۔۔ جس کی صورت یہ خواب ہیں ۔۔ وہ جب بھی میٹلی ڈسٹرب ہوتی ہیں ۔۔ ان کو تب تب یہ خواب آتے ہیں ۔۔ آپ ان کو خوش رکھا کریں ۔۔۔ ” جان بغور ان کی باتیں سن رہا تھا ۔۔

” اور تو کوئی بات نہیں ۔۔۔؟؟ ” اس نے ان کی جانب دیکھتے ہوے سنجیدگی سے پوچھا

” باتیں تو بہت ۔۔ ہیں ۔۔۔ جیسے آپ کو پتا ہے ہماری 6 سینس ہیں ۔۔ ان کے یہ خواب اس لیے بھی ان کو آ رہے ہوسکتے ہیں کہ وہ مستقبل کے آنے والے کسی خطرے سے اس کو خبردار کرنا چاہ رہے ہیں ۔۔۔ ” جان نے سر ہلایا ۔۔۔۔ اور ایک آخری نظر ان پر ڈال کر کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔

____________________________

آنکھوں پر پٹی باندھے وہ دیان کے ساتھ لان میں کھیل رہی تھی ۔۔۔

” دیان ۔۔۔” ہوا میں ہاتھ چلاتے ہوے اس نے اپنا رخ اس طرف کیا جس طرف سے اس کی کھلکھلانے کی آوازیں آ رہی تھی ۔۔۔

” ماما یہاں ۔۔۔ ” ابھی اس نے رخ بدلا ہی تھا کہ وہ پیچھے سے اس کا دوپٹہ کھنچ کر بھاگا تھا ۔۔۔

” ارے کہاں ۔۔۔۔ ” ایک قدم پیچھے لیتے ہوے وہ ہاتھ ادھر اُدھر کر کے اسے ڈھونڈ رہی تھی ۔۔ کہ اس کا پاؤں مڑا ۔۔۔ اس سے پہلے وہ گرتی ۔۔ کہ دو مضبوط ہاتھوں نے اسے کندھوں سے پکڑ اسے گرنے سے بچایا ۔۔ آنکھوں پر پٹی بندھی ہونے کے باوجود اس کی خوشبو سے اسے پتا چل گیا تھا کہ کون ہے ۔۔۔

اس نے جلدی سے آنکھوں سے پٹی نیچے کی ۔۔۔ سامنے ہی وہ کھڑا تھا۔۔۔ کالی آنکھیں اسی پر تھی ۔۔۔ اس نے جلدی سے آنکھیں نیچے کرلی اور اس سے تھورا دور ہٹی کہ اسے پاؤں میں درد ہوئی جیسے وہ لب بھنچ کر ضبط کر گی ۔۔ آہل نے بھی اس کے کندھوں سے ہاتھ ہٹا کر اپنی پشت پر باندھ لیے ۔۔۔

” بابا میں جیت گیا ۔۔ ” دیان جو پتا نہیں کہاں چھپا ہوا تھا ایک دم چہکتا ہوا وہاں آیا اور آہل کی ٹانگوں کو پکڑ کر خوشی سے چہکا۔۔۔

آہل اسے پکڑ کر گود میں پکڑ کر اس کی گال پر بوسہ دیا ۔۔۔ پھر سامنے کھڑی حور کی طرف متوجہ جو اس کے جانے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔ وہ اپنی تکلیف اسے نہیں بتانا چاہتی تھی ۔۔ مگر اب کا چہرہ لال ہو رہا تھا ۔۔۔ کہ ایک پل کو آہل بھی چونک گیا ۔۔۔

” آج ۔۔پھوپھو واپس جا رہی ہیں ۔۔ تو جلدی سے تیار ہوکر آجاؤ ۔۔۔ ان کو چھوڑ کر آنا ۔۔۔ ” اپنی نظر اس کے لال ہوتے چہرے پر جماے وہ بولا تھا جہاں رخسار بیگم سے ملنے کی خوشی تھی وہنی اداسی بھی ۔۔

” اور داجی ۔۔۔۔ ” اس نے ہچکچاتے ہوے پوچھا ۔۔۔

” وہ لوگ نہیں آ رہے بس ابو ۔۔۔ ہیں اب جلدی کرو ۔۔۔ ” حور خوشی سے اندر کی جانب بڑھی لیکن احتیاط کے ساتھ مگر پھر بھی اس کے چل میں لڑکھڑہٹ تھی ۔۔ آہل جو اسی پر نظر جمائے تھا اس کے اس طرح چلنے پر وہ اس کے پاس آیا اور پریشانی سے گویا ہوا

” آر یو اوکے ۔۔۔ یوں کیوں چل رہی ” وہ اس کے لیے فکرمند ۔۔۔لیکن یہ فکرمندی بھی بس چند پل کی تھی ۔۔ اس لیے اس نے اپنے دل کو خوش ہونے سے روک دیا ۔۔۔

” میں ٹھیک ہو ۔۔ آپ دیان کو مجھے دیں ۔۔۔ میں اس کو بھی چینج کروا دو ۔۔۔ ” اس نے ہاتھ بڑھا کر اس سے دیان کو لینا چاہا لیکن بجاے دیان کو پکڑنے کے اس نے اسے بھی اپنے کندھے سے لگا کر اسے سہارا دیا ۔۔۔ پھر اندر آکر اسے لاونج میں پڑے جھولے پر بیٹھا کر اس نے دیان کو گود سے اتارا اور اس کا پاؤں پکڑ کر اسے جائزہ لینے لگا ۔۔۔ حور منع کرتی رہ گی ۔۔۔

پاؤں کو دیکھتے اسے اندازہ ہوگیا کہ موچ آئی ۔۔۔ اس نے ایک جھٹک دیا پاؤں کو ۔۔۔ حور کی چیخ بےساختہ تھی جس کو اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر روکا تھا۔۔ اس کی چیخ سے دیان بھی ڈر گیا ۔۔

” اب درد ہو رہا ہے ۔۔۔ ” اس کے پاؤں کو آرام سے ہلاتے ہوے اس نے سنجیدگی سےا سے دیکھتے ہوے پوچھا ۔۔ جس کی آنکھیں بند تھی ۔۔۔ اس نے کوئی جواب نہیں ۔۔ اب اگرچہ درد نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ لیکن ایک درد دل میں ہو رہی تھی ۔۔ جس کے آگے یہ والی درد تو کچھ نہیں تھی ۔۔۔

” تا ہوا ۔۔۔ ” دیان ڈرتے ہوے آگے آیا اس کے گھنٹے پر ہاتھ رکھ مصعومت چہرے پر مسکینت طاری بولا ۔۔۔۔

اس کی آواز سن کر حور نے آنکھیں کھولی ۔۔ جن میں لال ڈورے پڑے ہوے تھے ۔۔۔

” کچھ نہیں ۔۔۔ ” اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر اس نے مسکرانے کی کوشش کی ۔۔ اس نے آہل کو نظر انداز کیا ۔۔ جیسے پیچلے کچھ عرصے سے کر رہی تھی ۔۔ اسے اپنا نظرانداز کرنا کھلا تھا بڑا ۔۔۔ وہ غصے سے اس کے پاس سے اٹھا اور لمبے لمبے ڈنگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔ اس کے جاتے حور نے لمبی سانس لی ۔۔ اس کو نظرانداز کرنا کتنا مشکل کام تھا ۔۔ یہ کوئی اس سے پوچھتا ۔۔ لیکن وہ نظرانداز کرتے ہوے اسے اپنی موجودگی کو احساس بھی کرواتی تھی ۔۔۔ اس نے کپڑے چینج کر کے بڑی سے چادر لی اور دیان کو پکڑا جس کو اس نے پہلے ہی تیار کر دیا تھا ۔۔ وہ دیان کو لے کر نیچے آئی ۔۔ آہل گاڑی سے ٹیک لگائی سگریٹ پی رہا تھا ۔۔ انہیں دیکھ کر اس نے سگریٹ بجھا دی ۔۔۔ اور گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا ان کے گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور آئر پورٹ کی جانب موڑ دی ۔۔۔