Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 22
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 22
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
اندھیرے کمرے میں لیمپ کی روشنی اور بس گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز تھی ۔۔ بیڈ کی بیک سے ٹیک لگاۓ بیٹھی وہ اپنی گود میں لیٹے دیان کے گھنے بالوں پر انگلیاں پھیر رہی تھی اس کا دوسرا ہاتھ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میں پکڑے وہ نیند کی میٹھی وادیاں میں گم تھا ۔۔ وہ بچہ کہنے کو تین سال کا تھا لیکن اس کی باتیں اور حرکتیں بچوں والی نہیں تھی اب بھی سونے سے پہلے وہ کتنی دیر حور سے باتیں کرتا رہا جس کا جواب وہ غایب دماغی سے دیتی رہی تھی ۔۔
اس کے سونے کا اطمینان کرکے آہستہ سے اس نے اسے بیڈ پر سیدھا کر کے لٹایا اور اس کے اوپر کشن رکھ دیا ۔۔
پھر اپنا بھاری لہنگا سنھبالتے ہوے وہ کھڑی ہوئی اور آئینے کے سامنے جا کر رک گی ۔۔ وہ اب بھی برات کے جوڑے میں تھی اوپر سے براڈل میک اپ نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیئے تھے جس نے بھی اسے دیکھا تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکا لیکن جس ستمگر کے لیے وہ پور پور سجی تھی اس نے تو اسے دیکھنا بھی گورا نہیں کیا ۔
آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوے اس کا دماغ آج کے واقع چلنے لگا ۔۔
(کچھ گھنٹے قبل ۔۔۔ )
اسے آج بھی آہل سے خوف آ رہا تھا وہ چہرے پر سب ٹھیک ہے کا تاثر دے رہی تھی لیکن اندر سے اس کا دل بڑی طرح دھڑک رہا تھا ۔۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پررہے تھے پیچلی رات والا وہ اہل کا رویہ نہیں بھولی تھی ۔۔ آہل کو لے کر اس کے دل میں خوف سا بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
اس کو آہل کے پہلو میں لا کر بیٹھا دیا گیا تھا جس کی گود میں تین سال بچہ اس جیسی ہی آف وائٹ شروانی اور سیم ہی کھسے پہنے ہوۓ اپنی آنکھیں بڑی کیے بڑی دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ کون تھا حور کو اس وقت نہیں پتا تھا لیکن جو بھی تھا بہت ہی پیارا بچہ تھا ۔۔
داجی بہت غصے اور حقارت بھری نظروں سے اس بچے کو دیکھ رہے تھے کچھ یہی حال بلقیس بیگم تھا ۔۔ مہمان بھی سب کانوں میں کھر پھسر کر رہے تھے یہ بھید تو بعد میں حویلی میں آکر کھلا کہ وہ بچہ دیان ہے آہل کا بیٹا ۔۔ اس وقت تو سلمان صاحب اور بلال صاحب نے بڑی مشکل سے داجی کو مہمانوں کا کہہ کر روکا لیا لیکن حویلی آکر داجی کو مزید نہیں روک پائے ۔۔۔
اس وقت سب گھر والے داجی کے کمرے میں موجود تھے آہل دیان کو لیے کھڑا داجی کے سامنے گردن اٹھا کر کھڑا تھا جبکہ حورین رخسار بیگم کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب آخر ہو کیا رہا ہے ۔۔۔ اس کے حسین چہرے پر پریشانی تھی ۔۔
“تمہیں میں نے کیا کہا تھا ؟؟۔ ” داجی سخت لہجے میں دیان کو گھورتے ہوئے بولے کہ وہ مصعوم سہم گیا اور آہل کے سینے میں منہ چھپا گیا تھا ۔۔
” میں نے کیا کہا تھا یہ یہاں نہیں آنا چاہے ۔۔ میں اس گناہ کو ایک پل بھی اپنے گھر میں برادشت نہیں کروں گا ۔۔ ” داجی کے لہجے میں دیان کے لیے نفرت ٫حقارت کے علاؤہ کچھ نہیں تھا ۔۔
ان کی بات پر حور نے رخسار بیگم کو دیکھا جہنوں نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔۔
” داجی ۔۔ اتنے سخت الفاظ استعمال نہ کریں ۔۔۔۔ ” آہل جو بڑی مشکل سے ضبط کیے ہوئے تھا اتنا سخت الفاظ سن ترپ ہی تو اٹھا اس نے دیان کو زور سے خود میں بھینچا تھا ۔۔۔
” ہمیں نہ سکاؤ ۔۔ ہم نے کیا کرنا ہے ۔۔ بس تم جاؤ اور اس کو کہنی پھینک کے آؤ ۔۔ اس کے علاؤہ تم حورین بیٹیاں اور اس گھر میں داخل نہیں ہوسکتے ۔۔۔۔ ” داجی نے ہمشہ کی طرح آج بھی بس اپنا فیصلہ سنایا تھا ۔۔
آہل نے اس کی جانب زخمی نظروں سے دیکھا جنہوں کی بے اعتنائی نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔
” نہ تو میں اس کو کہنی پھنکو گا اور نہ ہی حور کو یہاں چھوڑ کر جاؤ گا ۔۔رہی بات یہ گھر چھوڑنے کی تو وہ تو میں نے تین سال پہلے ہی چھوڑ دیا تھا آج بس میں اپنی امانت لینے آیا تھا سو لے کر جا رہا ہو ۔۔ ” آہل نے آگے بڑھ کر سختی سے حور کا ہاتھ تھاما اور اسے رخسار بیگم کے پہلو سے اٹھا کر جانے کو مڑ گیا ۔۔۔ حور کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس سیچویشن میں آہل کے ساتھ جاے کہ روک جاے ۔۔۔
” روک جاؤ آہل ۔۔۔ ” داجی کی گرجدار آواز سن کر اُس کے چلتے قدم روکے لیکن اس نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔۔
” تم ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ ” داجی کی بات پر وہ زخمی سا مسکرایا ۔۔ آنکھوں کی سرد مہری یخلکت زیادہ ہوئی ۔۔۔
” داجی ۔۔ !! ہونے کو کیا کچھ نہیں ہوسکتا تھا ۔۔ لیکن وہ ہو گیا ۔۔ ” اس نے اتنی تلخی سے کہا تھا کہ داجی بھی چپ سے ہوگے ۔۔ ان چپ عافیہ بی بی کو چھب رہی تھی ۔۔۔
” ارے ایسے کیسے جاؤ گیے ۔۔ پہلے سب کے سامنے اسے سچ تو بتاؤ ۔۔۔۔۔ پھر دیکھنا وہ تیری طرف دیکھے گی بھی نہیں ۔۔۔ ” وہ اپنے مخصوص انداز میں بولی تھی ان کی بات پر حور نے الجھ کر ان کی جانب دیکھا اور آہل نے ہونٹ بینچ لیے تھے ۔۔۔۔۔۔
” بتاؤ اسے کہ تیرے ہاتھ میں پکڑا یہ بچہ ایک طوائف کا ہے ۔۔ جو پتا نہیں کس کا ہے ۔۔ یہ باتیں اس لڑکی کی دوست نے ہمیں بتائیں تھی کہہ رہی تھی کہ آپ کے بیٹے نے اچھا نہیں کیا میری دوست کو امیدیں دلا کر خود شادی کر لی اس نے ۔۔۔ اچھا ہوا جو اس نے بتا دیا ورنہ یہ نجانے کب تک ہماری آنکھوں میں دھول جھونکتا رہتا ۔۔۔” سارے افراد دم سادھے ان کی باتیں سن رہے تھے سواے فہد کے ۔۔۔۔
آہل کا چہرہ ضبط کی کوشش میں لال ہوگیا تھا ۔۔ اس نے زور سے اپنے ہاتھ کی مٹھی بند کی جیسے خود پر قابو پانے کی کوشش کی ۔۔ اس نے اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہا اسے پتا تھا کہ وہ جتنا مرضی کر لیے داجی نہیں یقین کرے گے ۔۔ مگر اس کے چہرے پر پھیلے تکلیف دہ تاثرات آنکھوں میں زخمی پن ۔۔۔ حور کی نظروں سے اوجھل نہیں رہا ۔۔۔۔ اتنا سب سننے کے بعد اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیا کرے ۔۔۔ یہ سب اس کے لیے بہت اچانک تھا
” اب تو جاؤ ۔۔۔ یہ تو تیرے ساتھ نہیں جانے والی ۔۔۔” انہوں نے گم سم سی کھڑی حور کو دیکھتے ہوئے تمسخر آمیز انداز میں کہا ۔۔
اس کا یہ گم سم انداز رخسار بیگم کو پریشان کر رہا تھا ۔۔ جبکہ فہد اور مہک خوش ہورہے تھے ۔۔۔
آہل کو یوں لگ رہا تھا کہ وہ بھی باقی سب کی طرح سنی سنائی باتوں پر یقین کرے گی ۔۔ اس لیے اس کی گرفت حورین کے ہاتھ پر کم ہوگی ۔۔ یہ خیال صرف اس کا ہی نہیں وہاں بیٹھے سب لوگوں کا تھا ۔۔۔۔ اپنے ہاتھ پر اس کی گرفت کم ہونے سے وہ ہوش میں آئی ۔۔اور اسے دیکھا جس کی آنکھیں اور چہرہ اس وقت خطرناک حدتک سرخ ہو رہے تھے ۔۔ پھر اس کی نظر دیان پر گی ۔۔ یہ سچ تھا کہ ایک پل کے لیے ان باتوں نے اس کے حواس گم کر دیے تھے لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھی جو شیشے کا صرف ایک ہی رخ دیکھتی تھی ۔۔ حواس قائم کرنے کے بعد اسے منٹ لگا تھا فیصلہ کرنے میں ۔۔ جس پر اس کا دل پرسکون تھا ۔۔
” داجی ۔۔بُرا نہ مانئے گا ۔۔۔ لیکن میں آہل کے ساتھ جانا چاہوں گی ۔۔۔ ” آنکھیں نیچے کر کے احترام کے ساتھ بولتے وہ سب جو دم بخود کرگی ۔۔ اسکے الفاظ اس کے فیصلے کی پختگی کا بتا رہے تھے ۔۔ اور آہل وہ تو ہلنے کے قابل نہیں رہا ۔۔
جس لڑکی کو سننے بغیر اس نے سزا دی تھی آج اس نے کس طرح سب کے سامنے اس کا ساتھ دیا تھا ۔۔۔
انھیں جو ناز ہے خود پہ وہ بے وجہ نہیں محسن
کہ جس کو ہم نے چاہا ہو وہ خود کو عام کیوں سمجھے ۔۔۔۔
رخسار بیگم اور سلیمان صاحب پرسکون تھے۔۔ لیکن فہد اور مہک کو آگ لگ گی تھی ان کو اپنے ہر منصوبے پر منہ کی کھانے پر رہی تھی مگر وہ بھول رہے تھے جن کے ساتھ اللہ ہو ان کا کوئی کچھ نہیں بیگار سکتا ۔۔
حور نے بھی نہ کبھی انتظار کرنا چھوڑا اور نہ ہی کبھی اپنے رب سے مایوس ہوئی تو کیسے ممکن تھا کہ اب ہوتی ۔۔ اس پتا تھا کہ اللہ کی ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے ۔۔۔ جس کے بارے میں انسان کچھ نہیں جانتا ہوتا ۔۔۔
حور نے آہل کے ہاتھ پر اپنے گرفت مضبوط کی ۔۔
” چلیں ۔۔۔۔۔ ” اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تھا جو حور کہ اس عمل سے کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا تھا ۔۔۔
آہل نے سر ہلایا ۔۔اور اسے لے کر نکل گیا ۔۔۔ جبکہ داجی نے بس خاموشی سے اس کو جاتے دیکھا تھا ۔
_________________________
عائشہ جو کچن میں اپنے اور شرجیل کے لیے چاے بنا رہی تھی گھنٹی بجنے پر دروازے پر جا کر اس نے ہول سے باہر دیکھا تو وہاں آہل کا کھڑا تھا ۔۔ اس نے سر پر دوپٹہ درست کرتے ہوے دروازہ کھولا ۔۔۔۔
اس کے اس وقت وہ بھی شادی کی پہلی رات یوں آنے پر اسے حیرانی ہوئی لیکن پر بھی اس نے اسے اندر آنے کا راستہ دیا ۔۔۔
” شرجیل کہاں ہے ۔۔؟؟ ” اس نے دروازے پر کھڑے ہی پوچھا کہ اگر وہ نہیں ہے تو وہ یہی سے واپس چلا جائے ۔۔
” بھائی اندر ہے ۔۔ آپ بیٹھے میں ان کو بلا کر لاتی ہوں ۔۔ ” اسے ڈرائیگ روم میں بیٹھاتے ہوے وہ شرجیل کو بلانے اس کے کمرے کی طرف چل دی ۔۔۔۔
” بھائی ۔۔ کیا ہوا ۔۔ ” وہ آئی تو اس بلانے تھی لیکن اس کو سر دنوں ہاتھوں میں گرے دیکھ کر پریشان ہو گی ۔۔
اس کی آواز سن کر شرجیل نے اپنا سر اٹھایا اور اپنے سرخ ہوتی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھی ۔۔
” کیوں کیا ۔۔۔ ؟؟؟” وہ اسے گھورتے ہوے غصے سے بولا ۔۔ عایشہ کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ کس بارے میں بات کر رہا ہے ۔۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کس بارے میں پوچھ رہا ہے ۔۔
” کیا کیا ۔۔۔ ؟؟ ” اس کے تیور سے خائف ہوتے اس نے ڈر کر پوچھا ۔۔
اس کی بات سن کر شرجیل غصے سے اٹھا ۔۔۔
” چٹاخ ” اور ایک زور کا تھپڑ اس کے گال کر مارا ۔۔۔ تھپڑ اتنے زور کا تھا کہ عائشہ کو اپنے کان میں سائیں سائیں ہوتی محسوس ہوئی ۔۔ اس نے بےیقین نظروں سے اپنے بھائی کی طرف دیکھا جس نے آج تک اونچی آواز میں اس سے بات نہیں کی تھی آج اس نے اسے تھپڑ مارا ۔۔
آنسو اس کی آنکھوں سے تیزی ے گرنے لگے
” کیوں کیا تھا فون دا جی کو تم نے ۔۔ ؟؟ کیوں زہر گھولا تم نے ۔۔ ؟؟ یہ سب کرتے ہوے تمہں زرہ شرم نہیں آئی ۔۔اتنا بڑا بہتان لگاتے ہوے ۔۔۔۔مجھے خود سے نفرت ہو رہی ہے کہ میں تمہارا بھائی ہوں۔۔۔” شرجیل کے منہ سے یہ باتیں سن کر اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اس کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ بات شرجیل کو پتا چلے گی ۔۔
” بھائی آپ کیا بات کر رہے ہیں ۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ ” روتے ہوے اس نے اس سے پوچھا ۔۔ اپنے بھائی کو خود سے منتطر نہیں دیکھ سکتی تھی کنجا اس کی نفرت برداشت کرنا ۔۔۔ لیکن جو اس نے بویا تھا اسے کاٹنا بھی تو تھا ۔۔۔
” اچھا ۔۔ یہی بات اب کہوں ۔۔ اگر ایک لفظ بھی جھوٹ کہا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھوں گی ۔۔ ” اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنے سر پر رکھ اسے اپنی قسم دی ۔۔۔یہاں آکر اس کی بس ہوگی جسم کانپ اٹھا ۔ اپنا اس کے سر سے ہٹا کر چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پیچھے پڑے صوفے پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پری ۔۔
” بند کروں یہ ڈرامے۔۔ کیوں کیا یہ ۔۔ ” جب اس کا رونا اسی طرح جاری رہا تو وہ برے سرد لہجے میں بول ۔۔۔ اپنا رونا بری مشکل سے روکتے ہوے اس نے بولنا شروع کیا ۔۔
” بھائی مجھے نہیں پتا تھا ۔۔ کہ وہ کون ہے ۔۔ میں تو بس وہ فہد کے کہنے پر کیا تھا ۔۔۔ “
فہد کے نام پر اس کے اندر جواڑ سا پھوٹا تھا جسے اس نے بڑی مشکل سے مھٹی بھنچ کر باہر نکلنے سے روکا تھا ۔۔
وہ دو پل کو روکی اور ڈرتے ڈرتے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو لب بھنچے سامنے دیوار دیوار پر لگی تصویر کو گھور رہا تھا اس نے آج عائشہ اور فہد کی باتیں سنی تھی اگر یہ سنتا تو شاید اسے پتا نہ چلتا ۔۔
” میں فہد کو پسند کرتی تھی وہ ہمارا سینئر تھا یونی میں ۔۔ لیکن جب میں نے اس سے اظہار کیا تو وہ اس نے انکار کردیا تھا۔۔۔ میں نے بڑی بار کوشش کی نہیں ہر بار وہ مجھے ذلیل کر کے منع کر دیتا تھا ۔۔۔پھر ایک دن وہ خود میرے پاس آیا اس نے شرط رکھی کہ اگر میں فون پر یہ سب بول دوں گی تو اسے میری محبت کا یقین آئے گا۔۔۔بھائی میں فہد کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی اس لیے میں بغیر سوچے سمجھے وہ بولتی گی جو وہ مجھے کہتا گیا ۔۔ پھر بعد میں جب آپ لوگوں کا بتائیں کرتا دیکھا تو مجھے پتا لگا تھا کہ اس نے کیوں کال کروائی اس نے مجھے استعمال کیا کیونکہ اسے پتا چل گیا تھا کہ میں آپ کی بہن ہو اس لیے مجھے بنیاد بنا کر وہ آپ دنوں کی دوستی ختم کرنا چاہتا تھا ” آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کر کے وہ آہستہ آواز میں بولی ۔۔ اسے یہ باتیں آج اس نے خود ہی تو اس نے بتائی تھی ۔۔ جس سے اس کے احساسِ میں مزید اضافہ کردیا تھا ۔۔ وہ بے حس نہیں تھی لیکن اپنی خواہش کے لیے خودغرض ہوگی تھی ۔۔۔
” تمہیں جب بعد میں پتا لگا تب مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔ ؟؟” اس کا دل تو کر رہا تھا کہ اس کا منہ تھپڑوں سے لال۔کر دے لیکن وہ یہ نہیں کر سکتا تھا۔
” میں ڈر گی تھی ۔۔ مجھے لگا آپ ناراض ہوں گۓ آپ کو دکھ ہو گا ۔۔ ” وہ منہ نیچے کیے ندامت سے بولی ۔۔
” تو اب مجھے جیسے بہت خوشی ہوئی ۔۔۔ اگر آج میں تم دنوں کی باتیں اتفاق سے نہ سن لیتا تو تم نے تو ساری عمر بےخبر رکھنے کا ارادہ کیا ہوا تھا ۔۔۔ ” اس کی بات پر عائشہ جھکا سر مزید جھک گیا کیونکہ واقعی اس کا یہی ارادہ تھا ۔۔۔
گناہ کرنے کے بعد آجکل توبہ تو دور کی بات اس گناہ اور غلطی کو ہی بھول جاتے ہیں پھر جب حساب شروع ہوتا ہے تو روتے ہیں دل میں پشمانی جاگتی ہے ۔۔ لیکن اس پشمانی کا کیا جو اپنے پر آنے کے بعد ہی آتی ہے ۔۔۔
” اور وہ تصویر دیکھ کر بھی تمہں پتا نہیں چلا تھا کہ تم کیا کر رہی ہو ۔۔۔ ” اس بات پر وہ جو سر جھکائے آنسو بھا رہی تھی اس نے سر اٹھا کر روئی ہوئی آنکھوں سے اس کو الجھ کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
” اب یہ نہ کہنا کہ تم نے کوئی تصویر نہیں سینڈ کی نہ دیکھی ۔۔۔۔ ” اسے واقعی نہیں پتا تھا کہ وہ کن تصویروں کی بات کر رہا ہے ۔۔۔
” مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں ۔۔۔۔ “
اور وہ ٹھٹکا تھا ۔۔
” وہ نمبر کہاں ہے جس سے کال کی تھی ۔۔؟؟ ” کسی خیال کے آنے پر اس نے سرعت سے پوچھا تھا ۔۔۔
” وہ نمبر تو فہد کے پاس ہی ہے ۔۔۔ ” اور بےبسی سے وہ سر پر ہاتھ پھیرتا رہ گیا ۔۔۔
وہ اتنی بڑی مشکل میں پھنس گیا تھا ۔۔ ایک طرف بہن تھی جس نے جو بھی کیا تھا آخر تھی تو اس کی بہن اس کی عزت تو دوسری طرف دوست جو بھائیوں سے کم نہ تھا ۔۔۔
دوست کا ساتھ وہ دینا چاہتا تھا لیکن غیرت آرے آ رہی تھی ۔۔۔
” بھائی پلیز ۔۔ معاف کر دیں ۔۔ ” وہ صوفے سے اٹھ کر گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھتے ہوے بولی تھی ۔۔
” ۔۔ تین سال سے تمہں پتا ہے ہم ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔ عائشہ تم نے تو مجھے میرے دوستوں سے نظر ملانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔۔۔ ایک بیوہ پر تم نے بہتان لگایا ۔۔ تمہاری اس بےوقوفی کی وجہ سے آہل اپنے گھر والوں کی نظر سے گرا در بدر ہوا ۔۔ اور وہ مصعوم بچہ جس کے سر سے پہلے ہی باپ کا سایہ اٹھ گیا تھا وہ بچارا تو ماں سے بھی محروم ہو گیا ۔۔ تمہاری معافی سے یہ سب پہلے جیسا ہو سکتا ہے ۔۔۔”وہ اس کے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے ہٹاتے ہوے کھڑا ہوا درشت انداز میں بولا تھا۔۔۔
” بھائی ۔۔ ” اس سے پہلے وہ اور کچھ کہتی باہر سے دروازہ زور سے بند ہونے اور پھر گاڑی چلنے کی آواز آئی ۔۔
یکدم عائشہ کو یاد آیا کہ آہل بھی تو یہی تھا ۔۔ شرجیل بھی چونک کر باہر گیا جہاں کوئی نہیں تھا لیکن ٹیبل پر پری آہل کی گھڑی اسے بتایا گی تھی کہ کون آیا تھا ۔۔
” آہل ۔۔ ” اس نے بےجان نظروں سے اس گھڑی کو دیکھا ۔۔۔
وہاں موجوں دنوں نفوس کو جانے میں دیر نہیں لگی کہ آہل سب سن چکا ہے ۔۔۔
__________________________________
اس کی آنکھ کھٹ پٹ کی آواز سے کھلی جو اس کے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھی ۔۔ صوفے سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں تھاما جو ابھی بھی گھوم رہا تھا ۔۔۔ شاید دوا کا اثر تھا جو ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا ۔۔۔
” کیسی طبعیت ہے اب ۔۔۔ ” وہ جو سر تھام کر بیٹھی تھی جان کی آواز سن کر فوراً سیدھی ہوئی اور ناسمجھی سے اسے دیکھا
اس کے دماغ سے بلکل کل والی بات نکل گی تھی ۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔ ” اس کے یوں مسلسل تعجب سے اپنی جانب دیکھنے پر اس ہاتھ میں پکڑا باؤل ٹیبل پر رکھ کر انجان بنتے ہوے پوچھا
صوفے پر اس کے ساتھ بیٹھتے ہوے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ ٹمپریچر چیک کیا ۔۔۔۔ جو کہ نارمل تھا اس کے ہاتھ رکھنے سے وہ جھجک کر پیچھے ہوئی۔۔۔
” اچھا جاؤں اور بائیں جانب باتھروم ہے فریش ہو کر آؤ ۔۔۔ ” ہاتھ اس کے ماتھے سے ہٹا کر ہاتھ پر بندھی گھڑی کی جانب دیکھتے ہوے اسے کہا ۔۔۔ جو آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھ رہی تھی
وہ خود سے الجھتی اٹھی اور باتھ روم کی جانب چلی گی ۔۔۔
فریش ہو کر آئی تو اس نے بھانپ اڑتا باؤل اسے پکڑیا جسے اس نے دنوں ہاتھوں سے احتیاط سے تھام لیے سوپ اب بھی گرم تھا یقیناً اس نے اس کے آنے سے پہلے پھر سے گرم کیا تھا ۔۔ ایما کے لیے اس کا یہ نیا انداز ہضم کرنا مشکل ہو رہا تھا اسے کے لیے یہ سب بہت عجیب تھا ۔۔۔۔
( لگتا ہے ۔۔ پی ہوئی ہے ۔۔ اس لیے اپنے ہوش میں نہیں ۔۔۔ ) اس نے دل میں سوچتے ہوے اسے دیکھا ۔۔۔ جو کھڑکی کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن جیسے ہی اس نے اس کی طرف دیکھا اس نے اپنی نظریں کھڑکی سے ہٹا کر اس کی طرف کر لی تھی ۔۔ جس پر اس نے جلدی سے اپنے نظروں کا رخ بدلا۔۔۔
( کیا ضرورت سے اس کھروس کو دیکھنے کی ۔۔۔ ” اس نے خود کو کوسا ۔۔۔
اسے پتا تھا کہ وہ اب اسے ہی گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اس کی نظروں سے بچنے کے لیے اس نے جلدی سے گرما گرم سوپ منہ لیا جس سے زبان پر شدید جلن ہوئی۔۔
” آرام سے ۔۔۔ زیادہ تو نہیں جل گی” جان نے اس کے ہاتھ گرم سوپ کا باؤل پکڑ کر ٹیبل پر رکھا ۔۔۔
” میں ٹھیک ہو ۔۔۔ ” اگر چہ جلن بہت زیادہ تھی پھر بھی وہ نہیں بڑے حوصلے سے ضبط کر گی تھی ۔۔ سوپ تھورا ٹھنڈا ہوا تو اس نے پیایا یہ بتانے کے لیے کہ اسے کچھ نہیں ہوا ۔۔ وہ کسی صورت بھی اس کے سامنے اب خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
“اب تمہاری طبیعت کافی بہتر ہے ۔۔ تو ریڈی ہو جاؤ ۔۔۔ آفس کے لیے نکلنا ہے ۔۔ ” اس آڈر سناتے وہ باہر نکل گیا ۔۔۔
( ایک تو یہ آڈر دینے والی عادت زہر لگتی ہے ۔۔۔۔ ) اس نے پھر کلس کر سوچا
اس کے جاتے ہی اس نے شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر بال ہاتھ سے ہی سیدھے کیے ۔۔۔ کپڑے تو تھے نہیں جو وہ چینج کرتی ۔۔ اس لیے اسے ہی نکل آئی ۔۔
اس نے ناگوار نظروں سے اس کے حلیے کو دیکھا ۔۔ پھر اس سے بے نیاز ہوکر ڈرایئور کرتے ہوئے آفس پہنچا ۔۔۔
_________________________
اس کو یہاں اڈمنٹ ہوے کافی دن ہوگے تھے اس دوران کوئی نہ کوئی اس سے ملنے آتا رہتا تھا ۔۔ لیکن وہ ایک جگہ بیٹھ بیٹھ کر اکتاہٹ کا شکار ہوگیا تھا ۔۔۔ اور سب سے عجیب جو بات تھی اس کے ہوتے ہوے ابھی تک ہسپتال کا ماحول پرسکون تھا ۔۔۔۔
آج بھی نرس سے کہہ کر اس نے اپنی ویل چیئر ہسپتال کے سامنے بناے پارک میں لایا ۔۔۔ آج دھوپ نکلی تھی برف باری کے بعد یہ دھوپ بہت سکون دہ تھی اسے لیے تھوری چہل پہل تھی برف اب بھی تھی ۔۔ جس میں بچے کھیل رہے تھے ۔۔
ایسے میں شکار کا ملنا نعمت سے کم نا تھا وہ بھی اتنے ٹائم کے بعد ۔۔۔ واہ ۔۔۔
ڈیرییک کی نظریں بھی بار بار درخت کے نیچے پرے بینچ پر بیٹھے اپنے شکار پر جا رہی تھی جو بار بار نیند میں جاتا پھر جب سائیڈ کو گرتا تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا اور تھوری دیر بعد پھر سو جاتا ۔۔۔۔
اس نے پہلے اس کو ساکین کیا پھر اپنا بلیک پاؤچ نکالا جس میں اس کا سامان تھا ۔۔۔۔ وہ یہ ہر وقت اپنے ساتھ لے کر پھرتا تھا کہ کہی بھی شکار مل سکتا ہے ایسے اسے ہر وقت تیار رہنا ہونا چاہئے ہے نا ۔۔۔
اس نے پاؤچ کھولا اور اس میں سے پرمننٹ مارکل نکالا اور ویل چیئر شکار کی طرف بڑھا دی۔۔
ویل چیئر کو بینچ کے پیچھے روک کر اس نے آدمی کی چکنی اور چمکدار ٹینڈ کو دیکھا جسے دیکھ کر اس کی سبز آنکھیں چمک اٹھی تھی ۔۔۔ دل میں مسرت سی ہوئی ۔۔۔ جیسے ماں کو اپنی اولاد کو عرصے بعد دیکھنے پر ہوتی ہے ۔۔۔
اس پرسکون انداز میں مارکر سے اس کے بغیر بال والے سر پر لکھا۔۔
( I dare you Slap here )۔۔۔ مارکر واپس رکھا ۔۔۔ پھر ہاتھوں پر ہلکے سے تھوک کر ان کو آپس میں اچھی طرح مل کر گرم کیا ۔۔۔۔پھر ہاتھ ہوا میں بلند کر کے پوری قوت کے ساتھ اس کے سر پر تھپڑ مارا۔۔۔۔
واہ ۔۔ کیا بجا تھا ۔۔ ٹھنڈ پر گی اندر ۔۔
اس کے تھپڑ کے وجہ سے وہ آدمی بھی ہڑبڑا کر جلدی سے اٹھا ۔۔۔۔ ڈیرییک بھی جلدی سے اپنی ویل چیئر کو درخت کے پیچھے کر کے چھپ گیا پھر تھورا سا آگے ہو کر اس آدمی کو دیکھنے لگا جو یہاں وہاں دیکھ رہا تھا ساتھ اپنے ڈینڈ بھی سہلا رہا تھا ۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے یا واقعی کسی نے اس کے سر پر مارا ہے ۔۔۔
اسے یہ نہیں پتا تھا کہ آج جو اس کے ساتھ ہونا تھا وہ تو خوابوں میں بھی کسی کے ساتھ نہیں ہوا ہوگا ۔۔۔
ڈیرییک اب اپنی ویل چیئر اس طرف لے آیا جہاں سے آسانی سے وہ اس آدمی کو دیکھ سکتا تھا ۔۔۔
تھوری دیر گزری تھی کہ وہ آدمی پھر سو گیا شاید اسے لگا کہ اسے غلطی لگی ہے ۔۔۔ کہ ایک شخص جو اس کے پاس سے گزر رہا تھا وہ روکا اس کے سر پر پڑی تحریر دیکھیں ۔۔۔ پھر پہلے اس نے اس سوۓ ہوے آدمی کی ٹینڈ ہلکی سے سہلایی اور اس کے بعد زور دار چماٹ اس کے سر کو مار کر وہاں سے نکل گیا ۔۔ جبکہ اس شخص کی حالت دیکھ کر ڈیرییک کو مزہ آگیا ۔۔۔ بچارا پریشان ہوگیا کہ ہو کیا رہا ہے اس کے ساتھ ۔۔ اب اسے کون بتائے کہ ڈیرییک کی نظر کرم ہوئی ہے اس پر پھر نجانے کتنوں نے اس کے سر کا تبلہ بجا کر رکھ دیا ۔۔۔ یہاں تک کے اس بچارے کی سفید چمکدار لشکارے دار ٹینڈ لال ہوگی اب تو وہ بھی رونے والا ہوگیا گیا ۔۔۔ آخر تنگ آکر وہ دوڑنے کے انداز سے وہاں سے نکالا ۔۔۔ یقین اب وہ پارک تو کیا گھر میں رات کو بھی سونے کی غلطی نہ کرے گا ۔۔۔۔۔
اس کے جانے کا ڈیرییک افسوس ہوا کہ اس کی توجہ روتے ہوے ایک 3 سال کے بچے نے کھنچ لی اس کے ہاتھ میں رینبو کلر کا بڑا سا لولی پاپ تھا ۔۔۔ اور وہ پھر بھی رو رہا تھا ۔۔۔
ڈیرییک نے اس کے ہاتھ بڑے طریقے سے لولی پاپ پکڑا کہ اسے پتا بھی نہیں چلا اگر رونا ہے تو کھل کر روۓ نا ایسے کھانے والی چیزوں کی بے حرمتی بھلا ڈیرییک کہاں برداشت کر سکتا تھا ۔۔۔ اپنے ہاتھ سے لولی پاپ غایب وہ اور زور سے رونے لگا ۔۔۔ روتے روتے اس بچے کی نظر اپنی ہم عمر بچی پر پری جس کے ہاتھ میں بھی ویسا ہی لولی پاپ تھا جیسا اس کا تھا ۔۔۔ وہ اس لڑکی کے پاس گیا اور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس بچی کے بال کھنچے لگا ۔۔۔ اب ہوا یہ کہ وہ بچی تکلف سے رونے لگی کیونکہ بال ایک دم سے کھنچے گیے تھے تو وہ توازن قائم نہ کر سکی اور اس بچے پر گری ۔۔ بچی خیر ہیلدی تھی وہ بچارا بچہ ٹھہرا سوکھا سا ۔۔۔ اور چیخ چیخ کر رونے لگا انہیں روتا دیکھ کر باقی بچے بھی رونے لگے بچاری مائیں پریشان ہوگئی کہ ایسا کیا ہو گیا کہ سب بچے رو پڑے ۔۔۔۔
اب کون بتاے ان کو ۔۔ کہ ڈیرییک ہوا ہے ان کو ۔۔
مینٹ لگا تھا پرسکون ماحول کو وخت ڈال دیا ۔۔ ہمارے ڈیرئیک نے ۔۔۔
آفت کی کیا مجال جو میرے قریب آۓ ۔۔۔۔
میں تو خود ایک چلتی پھرتی آفت ہوں ۔۔۔
