Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 27
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 27
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
آج وہ تیاری کر کے یہاں آئی تھی ۔۔۔ اس نے فیصلہ لے لیا تھا ۔۔ جو باتیں اسے الجھن میں ڈالتی ۔۔ اور اسلام قبول کرنے سے روکتی تھی وہ ڈاکٹر ابرہیم نے دور کر دی۔۔
اب وہ سر پر دوپٹہ لیے کلمہ پڑھ رہی تھی ۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے کیوں اسے اسے خود بھی نہیں پتا تھا ۔۔ بس دل تھا کہ آج پھوٹ پھوٹ کر روۓ ۔۔۔
لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ۔۔۔۔ کملہ پڑھتے ہی اس کی ہچکی بند گی ۔۔اور وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر ہچکیوں کے ساتھ رو دی ۔۔ دل کو یوں لگ تھا کہ جیسے پہلی بار پہلی بار سکون کا مطلب پتا چلا ہو ۔۔۔۔ ایک صلیب سی تھی جو دل سے ہٹ گی تھی ۔۔۔ڈاکٹر ابرہیم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
” دین اسلام میں خوشاآمد ایمان ۔۔” پاس بیٹھے لوگوں مبارک باد دے رہے تھے ۔۔۔
جس وہ کبھی ہستے اور کبھی روتے اور وصول کر رہی تھی ۔۔۔
ابھی اس نے کسی کو نہیں بتایا تھا ۔۔۔ لیکن اس نے یہ سرپرائز سب سے پہلے حور کو دینا تھا ۔۔ مگر قسمت نے اس کے لیے کیا سوچ رکھا ہے وہ اس بات سے انجان تھی
_____________________________
جان کو ڈیرییک کا فون آیا کہ وہ اس کے پینٹ ہاؤس میں اس کا انتظار کر رہا ہے ۔۔ اس نے ایما کو بھی فون کر دیا کہ وہ بھی سیدھی وہاں آجاے ۔۔۔
پتا نہیں کیوں لیکن آج اس کا دل ناخوشگوار انداز میں ڈھرک رہا تھا ۔۔ جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے ۔۔۔۔
اس نے پارکنگ میں گاڑی روکی ۔۔۔ اور باہر نکل جانے لگا کر جانے لگا کہ اس کی ایک غیر ارادی نظر اس طرف گی ۔۔۔ اور جو اس نے دیکھا وہ اسے آگ لگانے کے لیے کافی تھا ۔۔
ایما حنان کے ساتھ اس لگی تھی ۔۔۔ حنان نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور پھر خود بیٹھنے لگا کہ اس کی نظر جان پر گی ۔۔ اس نے جان کو مسکرا کر وکٹری کا نشان بنا کر دیکھا ۔۔۔ اور گاڑی میں بیٹھ کر اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔۔۔
اس کا ایک پل کو دل کیا کہ وہ ایما اور حنان کو جان سے ماڑ دے ۔۔ وہ پینٹ ہاؤس کی طرف جانے لگا کہ اسے کچھ کھٹکا ۔۔ اور اس کے بھرتے قدم وہنی روک گیے ۔۔۔
اس نے دیکھا تھا کہ جیسے ہی حنان نے ایما کو گاڑی میں بیٹھایا تھا تو ایما کا سر ڈھلک گیا تھا ۔۔ یعنی وہ ہوش میں نہیں تھی ۔۔۔
شیٹ۔۔۔۔۔
جان جو خود پر غصہ آیا لیکن اسے یہ نہیں پتا تھا کہ اس کی یہ دو پل کی بے اعتباری اسے بھاری پڑنے والی ہے ۔۔۔
کتنی زیادہ ۔۔۔
اس نے گاڑی میں بیٹھ کر اس کے پیچھے لگانا چاہیے لیکن ابھی اس نے گاڑی سٹارٹ کر کے تھوری سی ہی چلائی تھی کہ اس کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ۔۔۔۔
_______________________________
اس واقعے کے بعد الیوویا نے ڈیرییک کو ہاں کہہ دی تھی ۔۔ اگرچہ یہ سب اس کے پلین مطابق نہیں ہوا تھا ۔۔ لیکن پھر بھی وہ ہوگیا جو وہ چاہتا تھا ۔۔
ڈیرییک نے اپنی ساتھ بیٹھی اولیویا کو دیکھا جو ڈرواننگ کر رہی تھی ۔۔ ریڈ جمپر سوٹ میں جس کی رنگت کھل سی گی تھی ۔۔ اس سوٹ میں اس کا نازک سا بدن گلاب کی طرح لگ رہا تھا ۔۔ لیکن وہ بھی ڈیرییک تھا ۔۔ ایسا ہوسکتا ہے وہ تعریف کر دے ۔۔ اسے اسے ریماکس دیتا تھا کہ وہ جل بھن کر رہ جاتی تھی ۔۔۔ اب بھی و ڈرواننگ سیٹ کی ساتھ والی سیٹ بیٹھا اسے گایڈ کر رہا تھا ۔۔ اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں جا رہی ہیں ۔۔ اولیویا بس اس کے بتاے ہوے راستے پر گاڑی دوڑا رہی تھی ۔۔
” واہ ۔۔ یہ کس کا ہے ۔۔۔ ” جسے ہی ڈیرییک نے پینٹ ہاؤس کے دروازے پر چابی لگا کر اندر داخل ہوا تھا تو اندر لائیٹس خود بخود جل اٹھیں تھی ۔۔
بڑا سا لانوج ۔۔ دیوار پر نسب فش کیوریم ۔۔۔۔ اوپن کچن ۔۔۔ خوبصورت پیٹنگز اور ڈیکوریشن پیس ۔۔ زیادہ فیچر نہیں تھا ۔۔ لیکن چیزیں ساری بہت قیمتی تھی کہ دیکھنے والا نظر نہیں ہٹا پتا ۔۔
” اپنا ہی سمجھو ۔۔۔ ” اولیویا نے اسے ایسے نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو ۔۔ واقعی ۔۔
انداز طنزیہ تھا ۔۔
” اچھا یار ۔۔ جان کا ۔۔ لیکن جان میں الگ تھوری ہیں ۔۔ ” اس کی بات پر الیوویا سر ہلاتے ہوئے پینٹ ہاؤس کو دلچسپی سے دیکھنے لگی ۔۔
” ایک تو پتا نہیں جان کو کیا مسلہ ہے ۔۔ تم یہی روکو میں جمیز کو بلا کر لاتا ہوں ۔۔ ” اسی یہی روکنے کا کہہ کر وہ دوبارہ باہر نکل گیا ۔۔ اس کے جانے کے بعد الیوویا نے سامنے بنے کمرے کی طرف دیکھا پھر مڑ کر دیکھا کوئی ہے تو نہیں اور کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر آئی ۔۔کمرے میں پھیلی پرفیوم کی خوشبو سے پتا لگ رہا تھا یہ جان کا ہے ۔۔۔ کمرے میں اندھیرا پھیلا ہوا تھا ۔۔۔اس نے اندر آکر پہلے کھڑکی سے پردہ ہٹایا ۔۔ جس سے کمرہ روشن ہوگیا ۔۔ کھڑکی کا سائز پوری دیوار جتنا تھا ۔۔۔ لیکن اس کی توجہ وہاں تھی جہاں سے جان کی گاڑی نظر آرہی تھی ۔۔ اس نے گاڑی کو نظروں میں رکھتے ہوے ہاتھ میں پکڑے موبائیل پر کالی ملائی ۔۔ اس وقت ۔۔ اس کی آنکھیں ہر جزبے سے خالی تھی ۔۔
” وہ واپس جا رہا ہے ۔۔۔ یہی سہی ٹائم ہے۔۔ ” اس کے یہ کہنے کی دیر تھی کہ جان کی گاڑی پر فائرنگ شروع ہوگی ۔۔
اس نے گاڑی سے نظر ہٹا لی ۔۔ اور اب کمرے کا جائزہ لیا ۔۔۔ اس کا انداز ایسا تھا کہ ابھی جو تھوڑی دیر پہلے ہوا اس سے اس کا اسے پتا ہی نہیں۔ ۔۔
کمرہ کے سائیز بہت بڑا تھا ۔۔ وہ مڑی کہ اس کی نظر دیور پر لگی تصویروں پر پڑی ۔۔ وہ ان تصویروں کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھی کہ ایک تصویر پر آکر اس کی نظر کیا ۔۔ دل بھی روک گیا ۔۔ وہ بار بار اس تصویر کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” اولیویا۔۔۔۔۔ ” اسی وقت ڈیرییک اسے آوازیں دیتا پینٹ ہاؤس میں آیا ۔۔
لیکن اسے اس کی آواز کہاں آرہی تھی وہ تو بس بے یقین نظروں سے اس تصویر کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
آخر ڈیرییک خود ہی اسے ڈھونڈتا یہاں آگیا ۔۔ اور اس کا ہاتھ تھام کر باہر لے جانا چاہا ۔۔ لیکن وہ ایک قدم بھی نہیں ہلی ۔۔۔
” اولیویا پلیز جلدی چلو ۔۔ جان ۔۔ جان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے ۔۔ ہمیں اس کے پاس جانا ہے ۔۔ ” ڈیرییک نے جب دیکھا کہ وہ اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں تو مجبوراً اسے کہنا پڑا ۔۔۔ وہ اس وقت سخت پریشان تھا ۔۔ اس کے چہرے کا رنگ بھی اڑا ہوا تھا۔۔۔
” ی ۔۔ ی۔۔یہ ۔۔ کو۔۔۔نن ہے ۔۔۔ ” ڈیرییک نے اس کی اشارہ کرتی انگلی کی جانب دیکھا ۔۔ پھر جان چھڑنے والے انداز میں بولا تھا
” یہ جان کی بہن ہے ۔۔ مریم ۔۔۔ اب چلو ۔۔۔ ” ڈیرییک اسے زبردستی کھینچا ۔۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھ پایا کہ اس کے نام بتانے پر اس کا چہرہ خطرناک حد تک سفید ہوگیا تھا ۔۔
” یہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ ” اس کے لب دھیرے سے ہلے تھے ۔۔
” اولیویا چ.. ” اور ڈیرییک بولتے بولتے خاموش ہوگیا ۔۔ اس کی نظر اب الیوویا پر پڑی تھی ۔۔ جس کی آنکھیں میں دھند اتر رہی تھی ۔۔اس نے دل پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اور سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی لیکن پھر بھی اسے سانس نہیں آرہا تھا ۔۔ پھر اس کیا آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔۔۔ جو آخر خیال تھا اس کے دماغ میں وہ یہ تھا ۔۔
” اس نے یہ کیا کردیا ۔۔۔ !!!”
_______________________
وہ کمرے لگے کیمرے سے اس کے بےہوش وجود کو دیکھ رہا تھا دل تو کر رہا تھا اس کا ابھی اس کے پاس جاۓ لیکن پھر بھی اس نے صبر کیا ہوا تھا اسے بس اس کے ہوش میں آنے کا انتظار تھا ۔۔ اس لیے وہ اب کیمرے کے ذریعے بڑی بےتابی سے اس کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا۔۔
کتنا مس کیا تھا نہ اس نے اسے ۔۔
اس کی آواز کو ۔۔
اس کی بھوری آنکھوں کو ۔۔ جو اس وقت بند تھی ۔
اس کی آواز کو ۔۔
اس کے انکار کر اس کو تور کر رکھ دیا تھا ۔۔۔
وہ حنان۔۔ جو بہت کم گو ۔۔ تھورا شرمیلا ۔۔ نرم دل سا انسان تھا ۔۔۔ہاں وہ قابو پا سکتا تھا اپنے اوپر اس کے انکار سے۔۔۔ مگر اس کی ایک سائڈ ایسی بھی تھی جو صرف لوگوں کو تکلف دینے میں انہیں قتل کرنے میں ہی سکون حاصل کرتی تھی۔ ۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے اندر کا درندہ اس کے محبوب کے کنول کی طرح نازک وجود کو کوئی نقصان پہنچاۓ ۔۔
اس لیے وہ سب سے دور گیا ۔۔ جہاں نہ اس نے کسی سے ربطہ رکھا ۔۔ وہ دنیا سے کٹ کر رہا کہ اپنے اوپر قابو پاۓ ۔۔۔
لیکن اس کا یہ کٹ کر رہنا اگر اسے پتا ہوتا کہ اس کا عشق اس سے چھین لے گا تو وہ کبھی بھی نہ کرتا ۔۔
جہان
وہ شخص جس نے اس سے اس کی محبت اس کا جنون چھینا ۔۔
۔۔۔ جس سے اس کو بچپن میں ہی نفرت تھی ۔۔ جس کی ماں کی وجہ سے اس نے اکثر اپنے محبت کرنے والے ماں باپ کو آپس میں لڑتے دیکھا تھا ۔۔۔ تب وہ وہنی تھا جب جان نے اپنی ماں کو بچانے کے لیے انہیں دھکا دیا اس وقت اسے بہت غصہ آیا ۔۔ لیکن پھر جب اس نے اس کے چہرے پر اپنے ماں کے خون سے لت پت پڑے وجود کو دیکھنے پر کربناک تاثرات دیکھے تو اسے اندر تک سکون اتراتا محسوس ہوا ۔۔۔ اس نے دیکھا وہ اپنے کتے سے بہت قریب ہے تو اس نے اس کے روکی کے کھانے میں زہر ملا دیا ۔ اور جب اس نے روکی کی تکلیف ختم کرنے کے لیے خود ہی اس کا گلہ دبایا اور اس کے چہرے پر جو ویرانی تھی ۔۔ اسے پرسکون کر گی اسے لگا جیسے کسی نے اس کے اندر جلتی آگ پر پانی کی پھوار کی ہو ۔۔
اتنا خوش کے وہ بیان سے باہر تھی ۔۔ پھر وہ اسے تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا ۔۔۔ کام ہمشہ خراب وہ کرتا تھا ۔۔ لیکن نام اس کا لگتا تھا ۔۔ اور وہ چپ کر کے برداشت کر لیتا تھا کیونکہ اُسے پتا تھا کہ کوئی اس کا یقین نہیں کرے گا وہ جتنا مرضی شور مچا لے اسی چیز کا وہ فایدہ اٹھاتا تھا ۔ اسے مزہ آنے لگ گیا تھا اس کام میں اب ۔۔۔ وہ کبھی کسی بچے کی ٹانگ توڑتا تو کبھی ہاتھ یہ کام وہ ہمشہ اپنا منہ چھپا کر کرتا تھا سب یہی سمجھتے تھے کہ وہ جان ہے ۔۔ لیکن پھر یہ کام اس کی عادت پھر عادت سے جنون بنتا گیا ۔۔
اس کے حرکتوں سے تنگ آکر کر ڈیڈ نے جب جان کو ہاسٹل بھیج دیا وہ وہی سمجھے کہ ان سب کے پیچھے واقعی جان ہے ۔۔
جب جان کرسمس کی چھٹیوں پہ آیا تو اس نے وہی اپنا من پسند کام کیا لیکن اس بار اس نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا ۔۔ پہلے اس نے اسے کمرے میں بند کیا اور باہر سے دروازہ لوک کردیا ۔۔ پھر اس نے مریم کے بازوں پر چھوڑی سے کٹ لگائیں اسے پتا تھا ۔۔ کہ اسے کی چیخیں کمرے میں بند جہان کی جان نکال رہی ہیں ۔۔ اس کے کٹوں کی وجہ سے خون نکل کر رہا جو بیڈ کے کور کو خون آلودہ کر رہا تھا بڑی تیزی سے ۔۔چھ سال کی وہ مصعوم بچے گلا پھاڑ کر رو رہی تھی ۔۔ چیخ رہی تھی ۔۔خود کو اس سے آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ اور یہی چیز تو اس کا سکون تھی ۔۔ پھر اسے یہ سب روکنا پڑا وجہ باہر اس کی ماں آئی تھی ۔۔ اور لوگوں کی نظر میں وہ اپنا امیج خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔ اس لیے اس نے جان کو باہر نکال کو خود کو اندر بند کر دیا ۔۔ لیکن اس کے لیے حیرت تب تھی جب اسے مریم کے لاپتہ ہونے کا پتا چلا ۔۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس نے اسے کمرے میں زخمی حالت میں چھوڑا تھا ۔۔ اب وہ کہاں گی ۔۔ اس کا پتا نہیں چل سکا ۔۔اس نے گھر سے باہر نکل کر دیکھا کیونکہ خون کے کچھ قطرے باہر کی جانب جا رہے تھے لیکن پھر درختوں اور مٹی کی وجہ سے وہ خون کے نشان بھی گم ہو گئے ۔۔ یقین وہ بھاگ گئ تھی جب وہ اسے چھوڑ کر خود بند ہوگیا تھا ۔۔ پھر جان کو واپس بورڈنگ بھیج دیا گیا تھا ۔۔۔لیکن وہاں جاکر جب جان نے خود کو نقصان پہچانے کی کوشش کی تو ڈیڈ نے اسے مینٹل ہاسپٹل ایڈمٹ کر دیا ۔۔۔ لیکن 4 ماہ بعد اسے وہاں سے رخصت کردیا گیا تھا کیونکہ اس دوران اس نے کوئی ایسی حرکت کرتے نہیں پایا جس سے وہ انہیں دماغی لحاظ سے بیمار لگا ہو ۔۔۔ اسے ان سب باتوں کا پتا تھا ۔۔
اسی طرح اپنی اپنی حرکتوں کی وجہ سے ڈی کی نظروں میں آگیا ۔۔ اس نے اپنا نام اس کو دیا وہ کچھ عرصے منظر سے ہٹنا چاہتا تھا کیونکہ کہ اس کا اصلی چہرہ کسی نے نہیں دیکھا تھا بس سب کو اتنا پتا تھا کہ اس کے چہرے پر ایک کٹ کا نشان ہے اس نے بھی اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا پھر اس نے ڈی نام کو ہی اپنا نام بنا لیا ۔۔۔ اور اسی نام کا استمعال کرتے ہوے اس نے اپنی اندر کی تسکین کا ذریعہ بنا لیا ۔۔ اس نے ڈی کو بھی اپنے راستے سے ہٹا کر اس کا نام ہمشہ کے لیے اپنا بنا لیا تھا ۔۔ جان کے دوست ڈیرییک پر بھی اس نے ہی حملہ کروایا تھا کیونکہ وہ جان کو پھر سے ٹوٹتے دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔
ایما اس کی زندگی میں کالج لایف میں آئی جب پہلے ہی دن سینرز نے اسے تنگ کرنا چاہا تب وہ ٹائم بوائے سی لڑکی آئی اور اس نے اس کی مدد کی ۔۔ ان لڑکوں کو تو خیر اس نے نہیں چھوڑا ہاں لیکن اس مخلص سی لڑکی نے اس کے دل میں اپنی جگہ بنا لی تھی اور پھر آہستہ آہستہ کر کے اس نے اس کے پورے دل پر قبضہ کر لیا ۔۔۔ پھر ایک دن اسے ایک نمبر سے جان اور ایما کو مارنے کی سپاری ملی ۔۔۔ جان کو مارنے میں اسے کوئی مسلہ نہیں تھا لیکن ایما کو مارنے کے بارےمیں کسی نے سوچا تو سوچا بھی کیوں اس نے پتا لگایا کہ کس نے کیا یہ میسج اور پھر اسے پتا لگا کہ یہ اس کی ماں نے کیا وہ اپنی ماں کو بھی سزا دینا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ایما کے انکار کی وجہ سے وہ سب دور ہوگیا ۔۔ مگر اب وہ اسے اپنا کر لیے گا ۔۔۔اب وہ اسے کہنی نہیں جانے دے گا وہ اس کی تھی ۔۔ ہے ۔۔ اور رہے گی ۔۔۔
اس نے سکرین پہ دیکھا جہاں اب وہ ہوش میں آ رہی تھی ۔
اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو نظر سیدھی چھت پر گی ۔۔ وہ خالی نظروں سے چھت کو دیکھتی گی جہاں شاید کچھ لگا تھا لیکن اسے کلیر نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔ اس وقت اس کا دماغ بلکل خالی تھا ۔اسے اتنا یاد ہے کہ وہ پینٹ ہاؤس کی طرف پارک والے راستے سے جا رہی تھی کہ تبھی کسی نے اس کے ناک پر کچھ رکھا اور اندھیرا چھا گیا تھا ۔۔ یہی آخر چیز تھی جو اسے یاد تھی ۔
اب نظروں سے بھی دھندلاہٹ جانے لگی تھی ۔۔پھر اسے چھت پر کلر نظریں آیا اور وہ جھکٹے اٹھ کر بیٹھی ۔۔ اس نے نظر گھما کر دیکھا تو دنگ رہ گی ۔۔۔ کیونکہ کمرے کی کوئی دیوار ایسی نہ تھی کہ جس میں اس کی تصویر نہ لگی ہوئی کوئی جگہ خالی نہ تھی ۔۔ یہاں تک کہ مختلف پوز میں بنے اس کے سٹیچو بھی تھی ۔۔
کہنی کوئی سٹیچو صوفے پر بیٹھا کوفی پی رہا ہے ۔۔۔
تو کوئی آئینے کے سامنے کھڑا بال سیدھا کر رہا ہے ۔۔ اور وہ اس طرح کے تھے ایک پل کو بلکل یوں لگتا تھا کہ واقعی جیسا وہاں کوئی کھڑا بال سیدھے کررہا ہے ۔۔
اور تصویر اتنی تھی کہ گنتی نہیں ۔۔ دیواریں سے ہوتی اس کی نظر بیڈ پر گی اور اس کی آنکھیں کھل پڑی یہ دیکھ کر کہ وہاں بھی کیا کشن کیا سرھانے کیا کمبل اس پر بھی وہی تھی ۔۔۔وہ انہی چیزوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا ۔۔ اس نے چہرہ موڑ کر داخل ہونے والے کو دیکھا ۔۔۔ اور اس کی آنکھیں مزید کھل گی ۔۔
بلیک ٹی شرٹ اور ریڈ ٹرازو پہنے وہ کوئی اور نہیں حنان تھا جو اب چیئر اس کے بیڈ کے قریب رکھ کر اس پر بیٹھا فرصت سے اپنی کالی آنکھوں میں چمک لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
اس کا ایسے دیکھنے سے ایما کو عجیب لگا اس کی آنکھوں میں عجیب سی وحشت تھی ۔۔۔
” حان یہ سب کیا ہے ۔۔ ؟؟ ” ایما اپنا رخ اس کی جانب کر کے حیرت سے پوچھا تھا ۔۔
“یہ میرا جنون ۔۔عشق ۔۔ جو صرف تمہارے سے ہے ” آج تو اس کے انداز ہی الگ تھے
وہ تو بس حیرت سے اس کی شکل دیکھتی رہ گی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ حنان کی اس بات پر کیا بولے ۔۔۔۔
” تمہیں نہیں پتا ایما تم میرے لیے کیا ہو ۔۔۔۔ !!!” اس کے سرد ہاتھوں کو نرمی سے اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوے وارفتگی سے بولا تھا ۔۔۔ ایما کو اس کے انداز سے خوف آرہا تھا ۔۔
” مجھے جانا ہے ۔۔۔ جان میرا انتظار کر رہا ہوگا ” اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکال کر وہ کھڑی ہوے اور دروازے کی جانب جانے لگی ۔۔
اس کا اس طرح اپنے ہاتھوں سے ہاتھ نکالنا اور پھر جان کا نام لینا اسے پاگل کر گیا تھا ۔۔۔ وہ جھکٹے سے کھڑا ہوا اور منٹ میں اس کے سامنے آکر اس کا راستے میں حائل ہو گیا جس کی وجہ سے اس کو رکنا پڑا تھا ۔۔ ۔۔۔۔
” اب تو لے لیا ۔۔ لیکن دوبارہ یہاں سے جانے ۔۔ اور اس کا نام تمہارے زبان پر آیا تو میں تمہاری یہ زبان جس سے اس کا نام ادا ہوا تھا کٹنے سے بھی دریگ نہیں کروں گا ۔۔۔ ” اس جبڑا اپنی مٹھی میں دبوچے وہ جنونی انداز میں بولتے ہوئے اس کو خوفزاد کرگیا ۔۔۔ بھلا کہاں دیکھا تھا کبھی اس کا یہ انداز ۔۔
” چھوڑو ۔۔۔ ” اپنا منہ بڑی مشکل سے اس نے اس کے ہاتھ سے آزاد کروایا تھا ۔۔ اگر نہ کرواتی تو اسے پکا یقین تھا کہ اس کے جبڑے کی ہڈیوں نے ٹوٹ جانا تھا ۔۔۔
” چھوڑ ہی تو نہیں سکتا تمہیں ۔۔ چھوڑ کی تو نہیں سکتا ..”اس کے دنوں کاندھوں سے پکڑ کر وہ ڈھارا تھا ۔۔۔
” پاگل ہوگے ہو کیا ۔۔۔ چھوڑ مجھے ۔۔۔ ” اس نے اپنے کندھے آزاد کروانے چاہے مگر اس کی مضبوط پکڑ نے اسے ایسا کرنے نہیں دیا ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ پاگل ہو گیا ہوں ۔۔ اور مجھے پاگل تم نے کیا ہے ۔۔ مجھے یوں پاگل کر کے تم کیسے کیسے پیچھے ہٹ سکتی ہو ۔۔۔ ” اس نے اس نے پکڑ اس کے نازک کھندوں پر اور مضبوط کر دی تھی کہ ایما کو اپنی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔ اگر اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ اتنا درد برداشت نہ کرپاتی اور بےہوش ہو جاتی ۔۔ لیکن وہ اب تک کھڑی تھی ۔۔ اور ایک بھی آنسو اس کی آنکھوں سے نہیں نکلا تھا ورنہ پیچھے کچھ عرصے سے وہ بات بات پر رونے لگ جاتی تھی اور یہ سب جان کے ساتھ کا کمال تھا جس کی توجہ اور کیئر نے اسے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کر دیا تھا ۔۔۔
” حنان پاگل تو نہیں ہوگے ۔۔۔ کب میں نے تمہیں کہا کہ مجھے تم سے محبت ہے ۔۔۔ کب میں نے تمہیں کوئی ایسا اشارہ دیا جسے تمہیں ایسا لگا ۔۔ بتاؤ ۔۔۔ ؟؟؟” اس کے گریبان جو ہاتھوں میں زور سے پکڑ کر وہ اسے بھی زیادہ غصے اور اونچی آواز میں بولی تھی کہ اس کے گلے کی نس پھول گی تھی ۔۔۔
” مجھے کچھ نہیں پتا ۔۔ بس تمہیں مجھ سے محبت کرنی ہوگی ۔۔۔ ” اس کی بات سن کر وہ تھورا ٹھنڈا ہوا تھا اس کی پکڑ بھی ایما کے کندھے پر ہلکی ہوگی تھی ۔۔۔
” واٹ دی ہل ۔۔۔ نہیں کرسکتی میں تم سے نہیں کبھی نہیں ۔۔۔۔ ” وہ الٹے قدم سے سے دور ہوتی بولی تھی اس کی آواز اور آنکھوں میں بےبسی تھی ۔۔
” کیوں ۔۔۔۔” وہ جو تھورا ٹھنڈا ہوا تھا یکدم پھر سے اشتیال میں آگیا تھا ۔۔۔
” کیونکہ میں جان سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔ ” چیخنے کے انداز میں بولتے وہ تھک کر گھٹنوں کے بل جہاں کھڑی تھی وہنی بیٹھ گی ۔۔۔
اس کے جواب نے سامنے کھڑے وجود کو ساکت کر دیا تھا ۔۔۔
جب محبوب کے دل میں کوئی تیسرا وجود وہ تو یہ پل عاشق کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتے وہ بھی اس وقت اس قامت خیز لمحے سے گزر رہا تھا ۔۔۔۔
![]()
ٹکروں ٹکروں میں دل ہزار ہوا ۔۔![]()
![]()
![]()
جرم یہ تھا کہ تم سے پیار ہوا۔۔۔۔![]()
![]()
جہان نے اسے بہت بڑی مات دی تھی ۔۔۔ لیکن وہ بھی اتنی جلدی نہیں ہاڑ ماننے والوں میں سے تھا ۔۔۔
اس نے۔ خود کو سنبھالا پھر اسے دیکھا جو گھٹنوں کے بل بیٹھی اپنے ہاتھ پر ناجانے کیا دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ چل رہا اس کے پاس آیا ۔۔۔
” اگر وہ نہ رہے تب بھی ۔۔۔ ؟؟” اس نے عجیب انداز میں پوچھا تھا ۔۔۔ ایما نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں عجیب قسم کی سفاکی تھی۔۔۔۔ اور اس کے الفاظ لہجہ برف کی طرح ٹھنڈا۔۔۔
” ک۔۔۔ کیا ۔۔ مطلب ۔۔۔ ؟؟” ایما کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکا تھا ۔۔ آنکھوں میں جیسے ایک خوف سمٹ آیا سب ختم ہو جانے کا خوف ۔۔
اس نے مڑ کر ریموٹ پکڑا اور ٹی وی آن کیا جبکہ وہ ہراساں نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اس کی چھٹی حس اسے کچھ غلط ہونے کا اشارہ کر رہی تھی ۔۔۔۔
ٹی وی آن ہوا ۔۔ اور نیوز رپورٹر کی آواز اس کے کانوں میں پڑی اور جو الفاظ اس نے بولے تھے اس کے بعد اسے لگا کہ وہ کچھ نہیں سن پاے گی ۔۔
اس نے سکرین کی طرف دیکھا جہاں اس دشمن جاں کی تصویر دیکھی جا رہی تھی اور نیچھے اس کے پٹی چل رہی تھی ۔۔۔
( ناظرین جہان جعفر ۔۔۔ جن کا بزنس کی دنیا میں بڑا نام ہے ۔۔ نامعلوم افراد کی فائرنگ کی زد میں آگے ۔۔ ان کی حالت بہت تشویش ناک ہے ۔۔۔ )
حنان اس کے شکستہ حال وجود پر گہری نگاہ ڈالتے ہوے کمرے سے نکل باہر آیا تو اس کے کانوں میں اپنے بندوں کی آواز پڑی ۔۔۔۔
جس سن کر اس نے منٹ میں فیصلہ کر لیا ۔۔۔
وہ واپس آیا تو ایما کہنی نہیں تھی ۔۔ وہ بھاگ گئ تھی لیکن وہ مطمئن تھا کہ وہ زیادہ دور نہیں جا سکتی ۔۔ اس نے پہلے سائڈ ٹیبل سے انجیکشن نکلا جس میں کالے رنگ کا لیکورڈ موجود تھا پھر وہ کاٹیج کی پیچھے والی سائڈ سے باہر نکل گیا ۔۔
________________________
” چھوڑں اسے ۔۔۔۔۔ ” جان دھاڑا تھا اسے دیکھ کر جو اسے گن پوائنٹ پر لیے اور بائیں بازوں سے ایما کی گردن کو گرفت میں لیے قدم قدم پیچھے ہوکر پہاڑ کی کھائیوں کی سائڈ پر پہنچ گیا تھا ۔۔۔
” نہیں۔۔۔۔ یہ اگر میری نہیں تو میں تمہاری بھی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔ ” وہ گن یونہی اسے پر تانے کھڑا چیخ کر بولا تھا ۔۔۔ ایما ہوش میں تو تھی لیکن انجکشن کی وجہ سے وہ حنان کے رحم و کرم پر تھی ۔۔ ورنہ وہ ضرور اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کرتی ۔۔ وہ بھاگ ہی تھی کہ ایک جگہ اسے ملی چھپنے کے لیے ۔۔ اسے پتا تھا کہ حنان اس کے پیچھے آ رہا ہے ۔۔۔ اور تھوری دیر بعد اسے حنان کی آواز بھی آئی جو اسے پکار پکار رہا تھا ۔۔وہ چھپ گی کہ اسے جان کی آواز آئی ۔۔۔ اسے اپنا وہم لگا کہ تھوری دیر بعد اسے پھر سے جان کی آواز آئی ۔۔ اس نے تھورا سارا جھانک کر دیکھا تو وہ جان ہی تھا جس کے ماتھے اور بازوں پر پٹی بندھی تھی ۔۔۔ اور وہ اسے آواز لگا رہا تھا ۔۔۔وہ نکل کر اس کے پاس جانا چاہتی تھی کہ اسی وقت حنان نے اسے پکڑا اور اس کے بازوؤں پر کچھ چبھوا ۔۔۔ اس کے بعد اسے اپنا جسم دیھرے۔ دھیرے مفلوج ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
ان کے وہ جان کے درمیان بامشکل پانچ قدموں کا فاصلہ تھا جو جان کو نا ختم ہونے والا لگ رہا تھا ۔۔
جب اس نے اپنی بندوں کی باتیں سنیں جو در حقیقت ڈی کے بندے تھے جن کا اپنے حقیقی باس جوکہ زندہ تھا اس سے رابطہ ہوگیا تھا اور اب وہ اسے مارنا چاہتا تھا وہ سمجھ گیا کہ اب اس کا بچنا مشکل تھا ڈی سے آج تک کوئی نہیں بچ پایا تو اس نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ایما کو مار کو خود بھی مر جاے گا ۔۔۔
جان نے لب بھینچ کر اسے دیکھا ۔۔ وہ کمزور نہیں تھا ۔۔ وہ حنان کی حالت بگاڑ سکتا تھا لیکن مسلہ یہ تھا کہ ایما اس کے پاس تھا ۔۔۔ اس نے ایک قدم اس کے جانب بڑھایا تو حنان نے اب گن اس پر سے ہٹا کر ایما کے سر پر ٹکا دیا جسے وہ وہنی روک گیا ۔۔۔
گن اس کے پاس بھی تھی ۔۔۔ لیکن اس کی زرہ سی بے احتیاطی ایما کی جان کے لیے خطرہ تھی ۔۔۔
” الوادع ۔۔ ” حنان نے یہ کہا ۔۔ ایما نے اسے دیکھا تھا ۔۔ اس کی بھوری آنکھوں میں جہاں خوشی تھی اس کو زندہ سلامت دیکھ کر وہنی دل میں حسرت تھی آخری بار اسے چھونے ۔۔۔
جہاں دکھ تھا وہنی خوشی بھی کہ اسے سہی راہ چنے کا موقع تو ملا ۔۔۔
” ٹھاہ ٹھاہ ۔۔۔ ” فضا میں دو فائر گونجے ۔۔۔
” ایمااااااا….” اسنے جان کو اپنا نام پکارتے سنا ۔۔ اس کا دماغ تاریکی میں گم ہو رہا تھا۔۔۔ لیکن وہ ابھی بھی ہوش میں تھی
سن پا رہی تھی ۔۔ اس کی پکار میں موجود وہ احساس جس میں محبت تھی ۔۔۔ جن میں کھو دینے کا خوف تھا ۔۔
جان نے دوڑ کر اس کا بے جان ہوتے وجود کو گرنے سے بچایا ۔۔۔
” تمہیں کچھ نہیں ہوگا ۔۔ ” وہ اس کے سر پر ۔۔ اسے گال پر بوسے دیتے ہوے اسے زیادہ جیسے خود کو یقین دلا رہا تھا ۔۔۔
ایما نے اس کا لمس محسوس کیا ۔۔ اور مسکرائی ۔۔ ساتھ ہی اس کے ہاتھ بےجان ہوکر گر گے ۔۔
جان نے بےیقین نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
کیا ایک بار پھر ۔۔!!!
آخر کتنی بار وہ آزمایہ جاے گا ۔۔۔؟؟؟؟
کیا اس کا امتحان کبھی ختم نہیں ہوگا ۔۔۔؟؟
اس کو بےجان وجود اس کی گود میں تھا ۔۔ لیکن جان کو لگا بےجان تو وہ بھی ہوگیا ہے بس فرق یہ ہے اس کی سانسیں چل رہی ہیں ۔۔ جبکہ ایما کہ جان ساکن تھی ۔۔
چہرہ کا رنگ سفید ہو رہا تھا ۔۔
اس کی بھوری آنکھیں بند تھی ۔۔ جن کی چمک سے اسے محبت تھی ۔۔۔
اس کی آنکھیں کے نیچے ہلکے تھے ۔۔
وہ ساکت اسے دیکھے جا رہا تھا ۔۔
اسی وقت ڈی اس کے پاس ۔۔ اس کے ہاتھ میں کوئی انجیکشن تھا ۔۔ اس نے پہلے ایما کی کلائی پکڑ کر نس چیک کی جو ہلکی ہلکی چل رہی تھی ۔۔۔
پھر اس نے وہ انجکشن اس کے بازوؤں میں لگایا ۔۔۔
اور اٹھ کر کھڑا ہوا ۔۔
” یہ ابھی زندہ ہے ۔۔ جو زہر اس کے اندر گیا تھا اس کا تور یہ اینٹی ڈوڈ تھا ۔۔ جو میں لگایا ۔۔ ” اپنی کالی اندر تک اترتی نظروں سے اس نے جان کو دیکھا جو اب اس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
” تم نے کیوں کیا ۔۔ یہ سب ۔۔۔ مجھے پتا ہے تم بغیر مطلب کے کچھ نہیں کرتے ۔۔ ” جان نے بھی اپنی نیلی آنکھیں اس پر مرکوز کرتے ایما کو اپنے بازؤں میں اٹھا کر کھڑا ہوا ۔۔ اسے ہسپتال سے یہاں لانے اور پھر حنان پھر گولی چلانے والا وہی تھا ۔۔
” کچھ حساب تھے ۔۔ برابر کرنے والے۔۔۔۔ ہوگے ۔۔۔ ہیلی کاپٹر وہنی کھڑا ہے تمہیں پہنچا دے گا۔” اس کے چہرے پر رومال بندھا ہوا تھا اور آنکھیں بلکل بےتاثر تھی ۔۔ اپنی بات کہہ کر وہ مڑا اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ اور آگے گیا اور دھند میں کہنی گم ہوگیا ۔۔۔
بلکل جیسے آیا ویسے ہی ۔
اس کی شخصیت پراسرار تھی ۔۔۔
وہ کب ۔۔ کیا سوچ رہا ہے ۔۔ اور کیا کر جاے ۔۔ کسی کو نہیں پتا۔۔۔۔
جان نے ایک نظر پہاڑ کے اس طرف ڈالی جہاں حنان گرا تھا ۔۔
پہار کے اس طرف کھائی بہت گہری تھی ۔۔
یقیناً حنان کے لاش کا کچومر نکل گیا ہوگا ۔۔ ویسے بھی ڈی نے اسے دو گولیاں ماری تھی ۔۔ ایک اس کے دل پر ۔۔ اور ایک دماغ پر ۔۔ اتنا تو پکا تھا ۔۔ کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔
جان نے گہری سانس لے ایما کو دیکھا ۔۔ اسے ایما کو ہسپتال لے کر جانا تھا ۔۔۔
” وہ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔ ” اس کے ساتھ موجود آدمی نے بےچینی سے پوچھا جو جان اور ایما کو جاتے دیکھ رہا تھا ۔۔لیکن اب نظر ہٹا لی تھی اس نے ۔۔۔
“ہممم ۔۔۔۔”” اس نے بس اتنا کہنا پر اکفتادہ کیا ۔۔
اس کے اتنے سے جواب نے اسے مطمئن نہیں کیا لیکن پھر بھی وہ چپ ہوگیا ۔۔ پتا تھا اسے ڈی زیادہ سوال پسند نہیں کرتا تھا
۔ڈی اپنی کالی آنکھوں سے اس کھائی کو دیکھتا رہا جہاں سے حنان گرا تھا ۔۔ اسے ملال تھا
لیکن اس کے ساتھ موجود آدمی کو پتا تھا وہ ملال اس کے مرنے کا نہیں ۔۔۔ بلکل اس کے اتنی آسان موت مرنے پر تھا ۔۔۔ آخر اتنے عرصے ساتھ رہنے کے بعد اسے اتنا سا تو پتا لگ ہی گیا تھا ۔۔۔
___________________________
ڈیرییک اور جان دنوں پریشانی سے ہسپتال کے بینچ پر بیٹھنے ہوے تھے ۔۔
اولیویا کو ہارٹ اٹیک آیا تھا ۔۔ جو کہ اس کی ہارٹ سرجری کے بعد بہت خطرناک بات تھی ۔اور ایما کا ڈاکٹر ابھی کچھ نہیں بتا پا رہے تھے ۔۔
” مسٹر جان۔۔۔ ” ڈاکٹر آئی سی یو سے باہر نکلے جہاں اولیویا تھی ۔۔۔جس دیکھ کر ڈیرییک جلدی سے کھڑا ہوا۔۔۔جبکہ جان گم سم سا بیٹھا ہوا تھا ۔۔
” سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟” ڈیرییک نے بے چینی سے پوچھا ۔۔
” سب ٹھیک ہے ۔۔ پیشنٹ کو ہوش آ گیا ہے ۔۔ اب وہ مسٹر جان سے ملنا چاہتی ہے ۔۔ ” جان سے ملنا ۔۔ یہ عجیب بات تھی ۔۔ ان دنوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔ جبکہ جان اٹھ کر اندر ڈاکٹر کے پیچھے اندر داخل ہوا۔۔ ڈاکٹر اسے چھوڑ کر واپس چلی گی ۔۔۔
اولیویا جو دروازے پر ہی نظر ٹکاۓ ہوے تھے ۔۔ اسے اندر آیا دیکھ کر آسودہ سا مسکرائی تھی ۔۔ جبکہ جان دروازے میں سٹل کھڑا اس کے آنکھوں کا رنگ دیکھ رہا گا جو ہو بو مریم جیسا تھا ۔۔۔ یقین اس نے لینس ابھی اتارے تھے ۔۔ ورنہ اس کی آنکھیوں کا رنگ تو گہرا براؤن تھا ۔۔۔
جان چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس تک آیا اور اب اس کے بیڈ کے پاس خاموشی سے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ اس کے پاس آیا تو اولیویا نے آگے ہوکر بیٹھنا چاہا جان نے اسے روکتے ہوے خود اس کے پاس بیڈ پر جگہ بنانا کر بیٹھ گیا ۔۔
اولیویا نے اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔ پھر دل کی خواہش کے آگے ہار مانتے ہوے اس نے اس کے ہاتھ پر بوسا دیا ۔۔۔ اور پھر آنکھوں سے لگا ۔۔۔ جبکہ جان اس کی حرکات کو سمجھنے کی کوشش کررہا تھا ۔۔۔
” پلیز مجھے معاف کردے ۔۔ ” جان نے اپنے ہاتھ نہیں نکلنے ۔۔۔ اولیویا کے آنسو اس کے ہاتھوں کو بھیگو رہے تھے ۔۔۔ مگر وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا
اولیویا یوں ہی روتے ہی ۔۔ پھر خود ہی اس کا ہاتھ چھوڑ کر اپنی آنسو صاف کیا ۔۔ اور لمبی سانس لی۔۔۔۔ اور بولنا شروع ہوئی۔۔ نظریں اس نے اپنے ہاتھ پر ٹکائی رکھی ۔۔
” میں غریب گھرانے میں پیدا ہوئی بہت سی بیماریوں کے ساتھ ۔۔ میں تین سال کی تھی ۔۔ جب میری آنکھوں کی بینائی چلی گی ۔۔۔ پھر دو سال بعد انکشاف ہوا کہ میرے دل میں سورخ بھی ہے ۔۔۔ میرے والدہ غریب عورت تھی باپ پہلے ہی مر گیا تھا ۔۔ مگر میں ان کی اکلوتی اولاد تھی ڈاکٹرز نے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا کہا تھا ۔۔ لیکن ہمارے ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے ۔۔۔ میری حالت اتنی خراب ہوگی کہ مجھے ہسپتال میں ہی ایڈمٹ کروانا پڑا ۔۔۔ میں زندگی اور موت کے بیچ جھول رہی تھی کہ امی نے مجھے آکر بتایا کہ میرے دل اور آنکھوں کا بندوست ہوگیا ہے ۔۔۔ میرا اوپریشن کامیاب ہوگیا ۔۔۔۔ تو میری امی میرے پاس بائی ۔۔۔ اور مجھے یہ کہتے ہوے کہ جس نے مجھے دل اور آنکھیں ڈونیٹ کی ہے یہ اس کی تصویر ہے ۔۔۔” یہاں آکر وہ ایک پل کے لیے چپ ہوئی ۔۔ جیسے بولتے بولتے تھک گی ہو ۔۔ لیکن آج اسے بولنا تھا اسے سارا سچ بتانا ہی تھا۔ ۔۔
” پتا ہے وہ تصویر بلکل ویسے لڑکی کی تصویر جو آپ کے کمرے میں ہے ۔۔۔ وہ آپ کی بہن تھی مریم ۔۔ جس کا سڑک پر اکسڈینٹ ہوا تھا ۔۔ اس کے پاس وقت کم تھا کیونکہ اس کی انٹرنل بریڈنگ ہو رہی تھی ۔۔۔ میرے ماں کو روتے دیکھ کر اس نے مجھے اپنا دل ۔۔ جس کی دھڑکن اس کا بھائی تھا اور اپنی آنکھیں جس کا ستارہ بھی اس کا بھائی تھا مجھے دے دیا ۔۔ لیکن میں اپنے محسن کا وعدہ نہیں بھولی تھی ۔۔ جو اس نے مجھ کیا تھا۔۔ کہ اس کے بھائی کا خیال رکھنا۔۔ پھر میری ماں کی بھی ڈیتھ جلدی ہوگی مجھے خود کو اس ظالم دنیا سے بچانا تھا اور اپنا گزر بسر بھی کرنا تھا ۔۔۔میری حالت کو دیکھتے ہوئے میری ایک دوست مجھے ایک گینگ کا حصہ بنا دیا جو لوگوں کو ڈریگ کا عادی بناتا تھا۔
میرا کام یہ تھا کہ میں ان کو اپنے پیار میں پھانس کر انہیں عادی بناؤ ۔۔۔۔ مجھے اس کام سے بہت پیسے ملے اور زندگی اب بہتر سے بہترین کی جانب چل دی تھی ۔۔ کہ پہلی بار مجھے عجیب کام ملا جو پہلے نہیں ملا خیر مجھے اس سے کیا مطلب تھا مجھے تو پیسوں سے مطلب تھا ۔۔ پھر میں نے آپ کی کمپنی جوائن کی ۔۔ اور ڈیرییک سے کلوز ہوکر آپ پر نظر رکھی گی ۔۔ ڈیرییک کا جب اکسڈینٹ ہوا ۔۔ تو مجھے اسے اس سڑک پر روکے رکھنے کا کہا گیا تھا ۔۔ اس دن ہوڈی میں بھی میں ہی تھی ۔۔ ہسپتال کی کھڑکی سے جھانکتی جب آپ کو ایما کو سوپ پلا رہے تھے ۔ ۔۔ آپ کی گاڑی پر جو اٹیک ہوا ۔۔ اس کی خبر بھی میں نے دی تھی کہ آپ کہاں ہو ۔۔ لیکن آپ بچ گیے ۔۔ ” بات ختم کر کے اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھے ۔۔ لیکن وہ اپنے دل سے بوجھ اتارنا چاہتی تھی ۔۔۔
کمرے کی فضا میں خاموشی تھی ۔۔
ایک پیشمان تھا اور دوسرا ۔۔ گہری سوچ میں ۔۔
جان کی نظریں اس کے چہرے پر ہی تھی ۔۔ اس کے چہرے پر نظر آتی پشمانی اس کی نظروں سے اوجھل نہیں تھی ۔۔
بنا کچھ کہے ۔۔
بنا کوئی شکوہ کیے اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا ۔۔۔
وہ کیسے کرتا کوئی شکوہ جب اس کے سینے میں دھڑکتا دل ہی اس کی بہن کا تھا ۔۔ اس کی بہن اب اولیویا کی صورت میں اس کے سامنے تھی ۔۔ اور ناراضگی میں وہ مزید دیر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔ مگر ایک آنسو چپکے سے اس کی آنکھوں سے نکل کر اس کے بال میں گم ہوگیا ۔۔ اولیویا بھی اس کے سینے لگے رو دی ۔۔۔۔۔
