Raah Phala Ishq by Zoha Qadir NovelR50451 Raah Phala Ishq Episode 23
Rate this Novel
Raah Phala Ishq Episode 23
Raah Phala Ishq by Zoha Qadir
وقت کا کام ہے گزرنا ۔۔۔ اچھا ہو یا بُرا اس نے گزر جانا ہے ۔۔ لیکن سب کا وقت مخلتف ہوتا ہے ۔۔
کسی کے لیے یہ وقت مرہم بنتا ہے ۔۔
تو کسی کے لیے امتحان ۔۔۔
کسی کے لیے یادیں
لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے لیے وقت ایک مخصوص لمحے میں رک سا جاتا ہے ۔۔۔
یہ جنگل میں بنا لکری کا کاٹیج ہے جس کے چاروں اطراف درخت تھے ۔۔۔ کاٹیج جتنا باہر سے خوبصورت تھا اتنا ہی اندر سے ۔۔۔ جنگل میں درخت کی ویران ٹہنیوں کو برف نے ڈھانپنا ہوا ہے ۔۔۔
درخت اب اتنے خالی نہیں لگ رہے ۔۔ زمین کو بھی برف نے ڈھانپ لیا تھا ۔۔ ہر جگہ سفیدی ہی سفیدی تھی ۔۔ جو آنکھوں کو سکون دے رہی تھی ۔۔
لیکن ان سب سے بے نیاز وہ اندر کھڑکی کے پاس پڑی چیئر پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔ اس کی نظریں اپنے ہاتھ میں پکڑی تصویر کہ طرف تھی ۔۔ اس کی آنکھوں تصویر میں موجود لڑکی کے نقش کو بڑی بےتابی سے سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ کبھی انگلی سے تصویر میں بنی لڑکی کی آنکھوں کو چھو رہا تھا تو کبھی ہونٹوں کو ۔۔۔
دیوانا وار ۔۔ بار بار
کھلی کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا کے ساتھ برف بھی اندر آ رہی تھی ۔۔ جس نے کمرے کو کافی ٹھنڈا کر دیا تھا ۔ اس نے اٹھ کھڑی بند کردی ۔۔ اور واپس اپنے سابقہ کام میں مشغول ہو گیا ۔۔ ٹیبل پر پری کافی کب کی ٹھنڈی ہوگی تھی ۔۔ لیکن اسے کون سی پرواہ تھی
اس کے لیے تو وقت جیسے رک سا گیا تھا اس لمحے جب ایما اس کو انکار کر کے گی تھی۔۔۔ وہ دل برداشتہ ہو کر یہاں آگیا تھا تاکہ دنیا سے کٹ کر وہ خود کو سنبھال سکے اس نے یہاں آکر سب سے رابطہ منتقل کر دیا تھا ۔۔۔
اب بھی وہ کل کی پہنی ہوئی ٹی شرٹ اور ٹروزار میں ملبوس تھا ۔۔۔یہاں آکر اس کا ایک ہی مشغلہ تھا ۔۔ ایما کی تصویر دیکھتے رہنا ۔۔
جس میں وہ اس کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوے بےتحاشہ ہنس رہی تھی ۔۔ اس کی آنکھوں کی چمک اس کے مسکراتے لب ۔۔ اس کا اس کے بازو کو پکڑانا ۔۔ یوں جیسے وہ اب بھی یہ سب محسوس کر رہا تھا ۔۔
تیرے کس کس خیال کو دل سے جدا کروں ۔۔۔۔۔
میرے ہر خیال میں تیرا خیال رہتا ہے ۔۔۔۔۔
وہ جتنی بار اس تصویر میں اس کی ہنسی دیکھتا ۔۔اتنا ہی اس کو سکون ملتا ۔۔لیکن جب بھی اس کے انکار والی بات آتی ہے پھر ٹوٹ جاتا ہے ۔۔ پھر تصویر دیکھتا۔۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ اس وقت خود کو عزیت دے رہا تھا ۔۔۔۔
______________________________
اسے جان کے ساتھ پینٹ ہاؤس میں رہتے مہینہ ہوگیا تھا لیکن اس دوران ایما نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اسے اتنا زچ کرے گی کہ وہ کانوں کا ہاتھ لگانے والا ہو جاے گا ۔۔
آفس وہ جان بوجھ کر لیٹ آتی ۔۔۔ پھر کام بھی خراب کرتی کافی بھی عجیب بناتی اور پھر اتنا مصعوموں والا منہ بناتی جیسے اسے کچھ پتا ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔اور اس کے آنے سے پہلے وہ کلب چلی جاتی ۔۔۔ اب تو بس ہفتے کے آخری دو دن زیادہ کام ہوتا تھا باقی دنوں جلدی فارغ ہوجاتی ۔۔۔
آج بھی اس نے آفس میں کام خراب کیا تھا ۔۔ اور جان کا چہرہ دیکھ کر اسے اندازہ ہوگیا کہ آج اس کی خیر نہیں اس لیے آتے ساتھ ہی کمرے میں گھس گی جلدی کے چکر میں اس نے کچھ کھایا ہی نہیں ۔۔ اس کا اور جان کا روم الگ تھا ۔۔
اب اس کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے ۔۔۔۔جان بھی واپس آگیا تھا ۔۔
منہ میں انگیلیاں دے کر اس نے گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔ جہاں سوئیاں 3 بجا رہی تھی ۔۔۔ پھر دروازہ زرہ سا کھول کر اس کی جھڑی سے باہر دیکھا ۔۔۔ لاونج بلکل خالی اور اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔۔۔ ہونٹوں پر زبان پھیر کر اس نے اپنے خشک ہونٹوں کو گیلا کیا پھر جی اکترتے ہوے دبے پاؤں کچن کی جانب چل دی ۔۔ لائٹ آن کرنے کی غلطی نہیں کی کہ اسے پتا نہ لگ جاے بس موبائیل کی ٹارچ سے کام چلا رہی تھی ۔۔۔
کچن میں آکر اس نے لمبی سانس لی اور بے آواز خوشی سے ہوا میں مکا چلا کر یس کیا ۔۔۔۔ آخر اتنی بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔۔ خوشی تو بنتی تھی ۔۔۔
اس نے فریج کھولی لیکن وہاں ایسا کچھ نہیں تھا جس سے وہ اپنے پیٹ میں لگی آگ بجھاتی ۔۔۔۔ ابھی وہ جھکی ہی ہوئی تھی کہ کچن روشن ہوا ۔۔۔۔
اور وہ جہاں تھی ۔۔ وہنی سٹل ہوگی ۔۔ وہ مڑے بغیر جانتی تھی کہ کون ہو سکتا ہے ۔۔ اتنی تیز فریگنس استعمال کرتا تھا وہ ۔۔۔ کہ دور سے پتا لگ جاتا ہے کہ جناب آ رہے ہیں ۔۔۔
اس نے تھوک نگلی اور ہمت کر کے سیدھی ہوئی اور مڑکر اسے دیکھا جو بلیک ٹی شرٹ اور ٹروزار پہنے سینے پر ہاتھ باندھنے اسے ہی دیکھ رہا تھا کمبخت ایک تو رف سے حلیے میں بھی اتنا ہنڈسم لگتا تھا کہ دل پھسل پھسل جا رہا تھا کہ کبھی اس کا لگتا تھا جیسے اس کے دل نے ویل لگوا لیے ہوں ۔۔ جیسے ہی جان کو دیکھتا فورا سپڈ پکڑ لیتا اس لیے اس نے پہلے اپنے دل کے ویل کو بریک لگائی کہنی آکسیڈنٹ ہی نہ ہو جائیں۔۔ پھر اس کی جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔ جس کی نیلی آنکھیں ہمشہ کی طرح بےتاثر تھی ۔۔ لیکن اس کے ساتھ رہتے اسے اتنا تو پتا چل گیا تھا کہ وہ اس وقت اچھے اور خاصے غصے میں ہے۔۔
اس نے یہاں سے جانا بہتر ہی سمجھا ۔۔۔ لیکن وہ باہر جانے کے راستے وہ استعادہ ۔۔
(کیا ہے ۔۔ مجسمے کی طرح جما کھڑا ۔۔۔ ) اس نے جھنجھلا کر اسے گھورا۔۔۔جیسے اس کے اس طرح کرنے سے وہ اسے راستہ دے دے گا ۔۔۔ ( ہاےےےےے معصوم سوچیں ۔۔۔ )
“مجھے باہر جانا ہے ۔۔۔ ” اس نے مخاطب تو کر لیا لیکن اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی غلطی نہیں کی ۔۔۔ اسے ڈر لگتا تھا کہ کہنی اس کی نیلی آنکھیں اسے نہ لے ڈوبے ۔۔۔ ویسے بھی دل آجکل بقول ایما کے بڑا ٹھرکی ہوا تھا۔۔۔
” پہلے مجھے کچھ بنا کر دو ۔۔۔ ” بجاے سائڈ پر ہونے کے اس نے اس کی کالی پکڑ کر اسے کوئینگ رینک کے سامنے کھڑا کیا اور خود چیئر پر بیٹھ گیا ۔۔۔ ایما نے اسے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا ۔۔۔۔
” مجھے کچھ نہیں بنانا ہی آتا ۔۔۔۔ اگر بھوک لگی ہے تو خود بنا لیں ۔۔۔ ” اسے جواب سے کر اس نے پھر جانے کی کئ ۔۔۔ لیکن یہ اس کی سوچ تھی کہ وہ اس سے بچ کر جا سکتی تھی ۔۔ وہ دوبارہ اس کی کلائی پکڑ چکا تھا ۔۔۔
” تو پھر ٹھیک ہے ۔۔ میں پھر تمہیں ہی کھا جاتا ہو ۔۔۔۔ ” اس کے معنیٰ خیز بات نے سہی معنوں میں اس کے ہوش اڑا دیا ۔۔۔ جیسے وہ بڑی مشکل سے پکڑ کے واپس لائی ۔۔ پتا نہیں ایک تو ان ہوش و حواس کو کیا مسلہ تھا جان کے پاس آنے سے ہوا کی طرح اڑ جاتے تھے ۔۔۔
” مجھے کھانے سے کچھ نہیں بننا ایک تو آپ دیو جیسے اور میں چھوٹی سی ۔۔۔ ” اس نے چھوٹی سی پر انگلیوں سے سائیز بھی بتا دیا ۔۔۔ اس کی بات پر جان نے اسے گھورا تو گربرا کر جلدی بولی ۔۔۔
“میرا مطلب ہے کہ میری مدد کریں تاکہ کچھ کھانے کو بن سکے۔۔۔۔ ” اس نے بری ہوشیاری سے معاملہ ہینڈل کیا ۔۔
اس کی بات پر ہلکی سے مسکراہٹ اس کی چہرے پر آئی لیکن اتنی سرعت سے اپنی چھپ دیکھا کر چلی گی ۔۔ کہ اسے اس کا مسکرانا اپنا وہم لگا ۔۔۔ ( بھلا یہ کیسے مسکرا سکتا ۔۔۔ میں بھی نہ ۔۔ )
جان نے اس کی کلائی آزاد کی ۔۔۔ اور فریزر سے چکن نکالا ۔۔۔ پھر پیاز نکال کر اسے پکڑیا ۔۔۔ جو بڑے مزے سے اسے یہاں وہاں جاتی دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کا پیاز دیکھ کر منہ بن گیا ۔۔۔
اس نے چھڑی پکڑ کر پیاز کو ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو خود کٹ جا نہیں تے میں وڈ دینا ہے ۔۔۔۔
” یہ خود نہیں کٹے کو ۔۔ اسے تمہیں ہی کاٹنا ہے ۔۔۔ ” جان کی بات پر اس نے جلدی سے پھوہر طریقے پیاز کاٹنا شروع کیا ۔۔ ساتھ ساتھ ہی یہ بات بھی اسے حیران کر رہی تھی کہ اسے کیسے پتا لگا کہ وہ کیا سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
جان نے فری پین چولہے پر رکھ کر اسے دیکھا جو آنسو بہاتے منہ کے زاویے خراب کرتے ہوے پیاز کاٹ رہی تھی ۔۔ بھوری آنکھیں لال ہو رہی تھی ۔۔ اور جس طریقے سے وہ پیاز کاٹ رہی تھی کہ شاید ہی کسی نے کاٹے ہوں ۔۔۔ جان نے اپنے عنابی ہونٹوں کو بھنچ کر بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ روکی پھر جیب سے موبائل نکل کر اس کی تصویر کھینچی اور موبائل واپس جیب میں رکھ دیا ۔۔۔ کہ اسے پتا ہی نہ چلا اس کی تصویر کھینچی گئی ہے ۔۔۔
” لاؤ مجھے دو ۔۔۔ اور فرائی پین پر آئل ڈالو ۔۔۔ ” اس پیاز لے کر اس نے پھر کام دیا ۔۔۔ جو کہ اتنا مشکل نہیں تھا ۔۔۔
جان نے جلدی سے پیاز کاٹا وہ اتنی جلدی اور نفاست سے کام کر رہا تھا کہ ایما بس دیکھتی رہ گی تھی ۔۔۔
آدھے گھنٹے کی محنت کے بعد کھانا تیار تھا ۔۔ اسے پتا نہیں اسے کیا کہتے ہیں لیکن اس نے تو اسے پیزا بریڈ کا نام دیا ۔۔۔
کھانے سے فارغ ہوکر وہ اٹھ کر جانے لگی کہ جان نے اسے روک دیا جس پر وہ دوبارہ چیئر پر بیٹھ گی ۔۔۔
جان نے اپنی چیئر کا رخ اس کی جانب کیا اور اس کی جانب جھکتے اس نے اس کی چہرے کو اپنے گرفت میں لایا ۔۔ اور ایما کا دل پھر سے دوڑنا شروع ۔۔۔۔۔
” آج چھوڑ رہا ہو ۔۔۔ لیکن نیکسٹ ٹائم اگر ایسا ہوا تو میں واقعی تمہیں ہی کھاؤ گا ۔۔۔ ” ایما جو اسے کے جھکنے سے قدرے پیچھے ہوئی تھی کہ اگر چیئر کی بیک نہ ہوتی تو وہ اس وقت زمین پر ہوتی ۔۔۔
” میں بلکل بھی اچھی نہیں ہوں کھانے میں ۔۔۔ بلیو می ۔۔۔ ” اس کی بات پر وہ کھل کر ہنسا تھا ۔۔۔۔ یعنی باز پھر بھی نہیں آنا ۔۔۔
اور ایما وہ تو منہ کھولے اسے ہستا دیکھ رہی تھی ۔۔۔ کیا کوئی ہستے ہوۓ اتنا پیارا لگ سکتا۔۔۔ یعنی اچھا کرتا ہے کہ نہیں ہستا ورنہ کوئی اس پر سے نظر نہیں ہٹا پاتا ۔۔۔
” میں چکھا تھا ۔۔۔ بہت ٹسٹسی ہو تم ۔۔۔ بلیو می ۔۔۔ ” انگلی سے اس کے ہونٹ کو سہلاتے ہوئے وہ جس بات کی طرف اشارہ کر رہا تھا وہ یاد آنے پر ایما چہرہ پل بھر میں سرخ ہوا ۔۔۔۔
” جاؤ ۔۔ اب جاکر سوجاؤ ۔۔۔ صبح وقت پر آفس پہنچ جانا ۔۔۔ ” اس کے پیچھے ہوتے ہی وہ دورڑ کر نکلی ۔۔۔
اور جان وہ اس کے ایسے جانے پر پھر سے مسکرایا تھا ۔۔۔ جب سے یہ لڑکی اس کی زندگی میں آئی ہے ۔۔ تب سے اسے مسکرانا آگیا تھا
____________________________
برات کے بعد کیسے لیکن ولیمے کی تقریب جس ہوٹل میں ہونا تہہ پائی تھی وہنی ہوئی تھی ۔۔۔ خلافِ توقع داجی خاموش رہے جبکہ دیان بھی آیا تھا ولیمے پر ۔۔ پھر اس کے بعد جیسے زندگی ایک ڈگری پر چل پڑی ۔۔
اس نے دن جس بے عتنائی کے ساتھ آہل نے سلوک کیا تھا اس کے بعد سے وہ اس سے ڈر گی تھی ۔۔ لیکن وہ اس کا ہر کام خود کرتی تھی اگرچہ یہاں ملازم بھی تھے لیکن کیا کرتی عشق کی ماری جو تھی ۔۔ مگر کرتی اس کی غیر موجودگی میں ۔۔
اب بھی اس کے جانے کے بعد وہ کمرے میں آئی اور لمبی سانسے کر فضا میں پھیلی خوشبو کو اپنے اندر اترا ۔۔۔ دل کو جیسے اقرا آگیا ۔۔
اس نے سب سے پہلے بستر سمیٹا ۔۔۔ ابھی وہ چادر سہی کر رہی تھی کہ سینکہ بوا وہاں آئی ۔۔۔
” بی بی وہ دیان صاحب اُٹھ گئے ہیں اور اب روتے ہوے آپ کو بلا رہے ہیں ۔۔ ” اس کی بات پر حور نے سر ہلایا ۔۔۔
” سکینہ بوا ۔۔۔ !!” وہ جو جانے لگی تھی اس کی پکار پر انہوں نے روک کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
” جی بی بی ۔۔ جی ۔۔ ” حور ان کے پاس آئی اور نرمی سے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں لایا ۔۔۔
جبکہ
سکینہ بوا نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔
” آپ میری ماں کی جگہ ہیں اور ماں اپنی بیٹی کو بٹیا کہتی ہیں ۔۔ بی بی نہیں ۔۔۔ ” اس کی بات پر بوا کی آنکھیں نم ہوگی ۔۔ بھلا اتنی عزت انہیں پہلے کس نے دی تھی ۔۔ پہلے جس گھر میں کام کرتی تھی وہاں ان کی عمر کا لحاظ کیے بنے انہیں بے عزت کردیا جاتا تھا ۔۔۔
انہوں نے دیان کے کمرے کی طرف جاتی حور کو دیکھا اور دل سے اسے ہمشہ خوش رہنے کی دعا دیتی ڈوپٹے سے آنکھیں پونچھ کر کچن کی جانب چل دی ۔۔۔
” یہ کون گندا بچہ رو رہا ہے ۔۔ میرے شہزادے کے کمرے میں ۔۔۔ ” حور کمرے میں آئی تو دیکھا وہ بیڈ پر بیٹھ کر آنکھیں بند اور پورا منہ کھولے فل ویلم سے رو رہا تھا ۔۔
حور کی آواز پر اس نے جلدی سے آنکھیں صاف کی اور مسکراتے ہوے اپنے چھوٹے بازوؤں اوپر کیے ۔۔۔ حور نے آگے ہوکر اسے گود میں اٹھا لیا اس کے گود میں آتے ہی دیان نے اس کے گال پر بوسہ دیا پھر اس کے کھندے میں منہ کرلیا ۔۔۔ وہ ایک شرمیلہ بچہ تھا ۔۔
حور اس کی حرکت پر ہنسی اور جھک کر اس کے گال بوسہ دیا ۔۔ جس پر دیان نے منہ بنایا ۔۔
اسے نہلنے کے بعد کچن میں کھڑی سیکنہ بوا کے حوالے کر کے وہ واپس آہل کے کمرے میں آئی لیکن اہل کو وہاں موجود دیکھ کر دروازے میں رگ گی ۔۔۔ جو بڑی سرد نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ فائیل کے لیے واپس آیا جو وہ گھر ہی بھول گیا تھا
” دروازہ بند کر کے یہاں آؤ ۔۔۔۔ ” اس کا سرد لہجہ اور انداز اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑا گیا تھا۔۔۔
” میں نے کیا کہا ۔۔۔۔ ” اسے دروازے میں ہی روکے دیکھ کر وہ ڈھارا تھا ۔۔ جس وہ اچھل گی اور بجاے اس کے پاس آنے کے اس نے وہاں سے جانا چاہا ۔۔۔ شاید وہ اس کے ارادے جان گیا تھا اس لیے اس اپنے گرفت میں لے کر اس نے خود ہی دروازہ بند کر کے اسے دروازے کے ساتھ لگایا ۔۔۔۔
” کس سے پوچھ کر میرے کمرے میں آئی تھی ۔۔۔ کس خوشی میں تم دیان سے قریب ہو رہی ہو ۔۔۔ ” اس کے چہرے پر جھکا وہ بڑے سرد اندا میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔
اس کی گرفت اس کے بازوؤں پر سخت تھی ۔۔۔ اس کا یہ انداز حور کو سہما رہا تھا ۔۔۔
” بتاو۔۔۔ مجھے ۔۔ کیا پوچھا ہے میں نے ۔۔۔ ” وہ اس کا ٹھنڈا انداز ۔۔۔۔ اس کی دھڑکن روک رہا تھا
” بیوی ۔۔ ہو میں آپ کی ۔۔۔۔ ” اس نے کس مشکل سے یہ بات کی تھی وہی جانتی تھی ۔۔۔۔
” او پلیز ۔۔۔ یہ ڈرامے کہنی اور جا کرنا ۔۔۔ ” اس نے بے زاری سے کہا ۔۔۔ اس کی بات نے کیا قامت اس کی دل پر ڈھائی تھی وہ اس سے بے خبر تھا ۔۔۔۔
حوصلہ بہت ہے مجھ میں ۔۔۔
پر یہ ضروری تو نہیں کہ ۔۔۔۔۔
ہر بار آخری حد تک آزمایا جاؤں ۔۔۔
” آپ کو اگر یہ ڈرامہ لگتا ہے ۔۔۔ تو میں کچھ نہیں کرسکتی لیکن جو میں کر سکتی ہو وہ۔کروں گی ۔۔۔ ” شروع میں مضبوط لیکن آخر میں بہت کوشش کے باوجود آنسو نکل کر اس کے گال پر آ گرا ۔۔۔۔
وہ جو اس کو کچھ اور کہنے کا ارادہ رکھتا تھا اس کے آنسو دیکھ کر لب بھنچ کر رہ گیا ۔۔۔
بنا کچھ کہے اس نےدروازہ کھول کر اس نے خود ہی اسے کمرے سے باہر نکال دیا ۔۔۔
اس کے جاتے ہی وہ سر ہاتھ میں تھام کر دروازے کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔۔۔
اسے جو بہت زیادہ بےچین کیے ہوئی تھی وہ یہ تھی جب اسکے اپنے جن کے سامنے اس کا پچپن سے لے کر جوانی گزر تھا انہوں نے اس کا ساتھ نہیں دیا تو حور نے کیوں دیا ۔۔۔
یقیناً اس میں اس کا کوئی مقصد تھا ۔۔۔
وہ ہر چیز کو بد گُمانی کی عینک سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن اس کی عینک یہ بدگمانی کی گرد بھی اس کے اپنوں کے ہی ڈالی ہوئی تھی ۔۔۔
_____________________________
وہ یہاں ڈیرییک سے ملنے آئی تھی ۔۔۔ ہسپتال کی راہداری میں اس کی ہیل کی ٹک ٹک گونج رہی تھی ۔۔ ریڈ گھنٹوں تک آتا فراق ۔۔ اور ہلکے سے میک میں وہ ہمشہ کی طرح پیاری سی نازک گڑیا لگ رہی تھی ۔۔ وہ کمرے میں آئی تو دیکھا ڈاکٹر اور نرس اس کی ٹانگ کو اوپر نیچے کر کے اسے ایکسرسائز کروا رہے تھے ۔۔ ڈاکٹر تھی فی میل اور وہ بڑے پیار پیار سے اس کی ٹانگ کو آہستہ آہستہ اوپر نیچے کرتے ہوے اس سے باتیں کر رہی تھی جس کا جواب ہمارا ڈیرییک بڑی شرافت سے دے رہا تھا ۔۔کچھ تو غلط تھا ۔۔۔
اولیویا کو پتا نہیں کیوں لیکن یہ سب اچھا نہ لگا ۔۔۔اس نے گلا کھنکار کا ان کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔ ڈاکٹر اس کو دیکھ کر مسکرائی اور ڈیرییک کو بائی کہتی اس کے پاس آئی ۔۔۔
” یہ بہت جلدی ریکور کر رہے ہیں ۔۔ لگتا ہے بڑی جلدی ہے ان کو ہمیں چھوڑنے کی ۔۔۔” یہ بات اس نے ڈیرییک کو دیکھ کر کہی ۔۔ اولیویا نے مصنوعی مسکراہٹ سے اسے دیکھا ۔۔ورنہ دل تو کر رہا تھا کہ اس کا منہ نوچ لیے ۔۔
وہ جانے لگی تو اولیویا نے اپنا پاؤں آگے کیا ۔۔ جس پر وہ بیلنس نہ کر پائی اور نیچے گری ۔۔ اس کے اسے گرنے پر اولیویا کو بڑی ہسی آئی جسے اس نے روک کر پریشانی سے اسے تھام کر کھڑا کیا ۔۔۔
” آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔ ؟؟” آنکھوں میں مصنوعی پریشانی لیے اس نے اس کے پاؤں کو دیکھا ۔۔
” جی جی ۔۔ میں ٹھیک ہو ۔۔۔ ” اس نے اپنے گرنے کی جھنپ مٹانے کے لیے مسکراتے ہوے جواب دیا اور نرس کا سہرا لے کے کمرے سے نکل گی ۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی اس نے نحوست سے سر جھٹکا اور اس کی جانب دیکھا جو دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
” کیا ہے ۔۔۔ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو ۔۔۔ “
” پھر ایسے دیکھوں ۔۔۔ ” اس نے آنکھیں پیگیں کی ۔۔ جس پر اولیویا کی ہنسی نکل گی ۔۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا بیگ اس کے کندھے پر مارا جس پر اس نے کہرانے کی ایکٹنگ کی ۔۔۔ کہ اگر آکسر والے دیکھ لیتے تو اپنے سارے ایوارڈ اسے دے دیتے۔۔۔
” بوتل پیو گی ۔۔۔ ” اولیویا نے بےیقینی سے اسے دیکھا جو خود اپنے منہ سے ۔۔ اپنی چیز ۔۔ چیز بھی کیا کھانی والی چیز آفر کر رہا تھا ۔۔۔ بھئ حیران ہونا تو بنتا ہے نا اس کا ۔۔۔
ڈیرییک نے بوتل پکڑی اور ڈھکن کھول کر اس میں منمٹوز ڈالی پھر دوبارہ بند کر کے اس دی۔۔۔ اولیویا یہ نہیں دیکھ پائی ۔۔۔ ہائے دیکھ لیتی تو بچ جاتی ۔۔۔
اس نے بوتل پکڑی کہنی واپس نہ لے لے اس نے جیسے ہی ڈھکن کھولا فوارے کی طرح بوتل اس پر گری ۔۔۔ اور اس کا سراہ میک اپ اور کپڑے خراب ۔۔۔۔
اسے اب آئی تھی سمجھ اس کی آفر کی ۔۔۔
اس نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا جو اسے حالت کا مزہ لے رہی تھا ۔۔
ایسی بات ہے ۔۔۔ اس نے بھی بنا اس کی حالت کا لحاظ کیے بچی ہوئی بوتل اس پر گرا دی ۔۔۔
دنوں اس وقت پیپسی میں نہاے ہوے تھے ۔۔۔ ان دنوں نے خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اگلے ہی پل ان کے قہقہے کمرے میں گونجے اٹھے۔ ۔۔
________________________________
آج ہفتہ تھا اس لیے وہ یہاں آئی تھی ۔۔۔ کیونکہ زیادہ ان دنوں ہی رش ہوتا تھا اس لیے ان دنوں کے لیے اکسٹرہ ورکر رکھے تھے وہ بھی اب انہی میں شامل تھی ۔۔
” ایما ۔۔ یہ گلاس اس ٹیبل پر دے آؤ ۔۔۔ ” اس کی ساتھی نے ٹرے اسے پکڑتے ہوے اس جانب اشارہ کیا جہاں پانچ چھے آدمی نشے میں دھدت تقریباً ایک دوسرے پر گرے ہوے تھے اور پھر بھی انہیں مزید شراب چاہیے تھی ۔۔ اسے بےزاری سی ہوئ ۔۔۔ لیکن پھر بھی کام تو کرنا تھا اس نے ٹرے ٹیبل پر جاکر رکھی وہ جانے کو تھی کہ ان میں سے ایک آدمی نے اس کی کلائی پکڑ کر اس کو اپنی اوپر گرا لیے ۔۔۔ اس کے باقی ساتھیوں نے بےہودہ قہقہہ لگایا جبکہ وہ بوکھلا گی
اب وہ کمینہ شخص اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
کیونکہ یہ جگہ۔تقریبا کونے میں تھی اور ویسے بھی تیز اور بےہنگہ میوزک لگا ہوا تھا اس لیے کسی کی توجہ ان پر نہیں گی۔۔۔
ایما کو تو دماغ گھوم گیا جب اس آدمی نے اپنے ہونٹ اس کی گردن سے مس کیے ۔۔۔ اس نے اپنی کُہنی اس کی تھوری پر ماری جس سے اس کی گرفت ہلکی ہوئی ۔۔۔ اس نے اس موقعے فایدہ اٹھایا اور خود کو آزاد کرتی اس گھٹیا شخص سے دور ہوئی جو اب خونخوار نظروں سے اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔
” (گالی ) تری یہ جرت ۔۔ (گالی) ۔۔۔” ایما نے اس کے غصے کی۔پرواہ کیے بغیر ایک زور دار مکہ اس کے منہ پر مارا جو اس کے ہونٹ اور ناک پر لگا ۔۔۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر کراہا کر جھکا ۔۔۔ جبکہ اس کے ساتھی اب ایما کو قابو کرنے کی کوشش کر رہے تھی لیکن وہ بھی کم تھوری تھی اس لیے ان کے قابو آنے کی بجاے وہ اکیلی لڑکی ان پر بھاری پر رہی تھی ویسے بھی وہ سب نشے میں تھی یہ بھی اس کے لیے ایک پلس پوائنٹ تھا ۔۔۔لیکن مسلہ تب ہوا جب اس شخص نے جسے اسنے منہ پر مکہ مارا تھا اس نے ایما کے بازوں پر انجیکشن لگا دیا ۔۔۔ جس کی وجہ سے اس کا سر چکرانے لگا ۔۔ سب کچھ دنھدلا دھنالا ہوگیا تھا ۔۔۔ ان لوگوں نے اسے پکڑا اور اس کلب میں موجود کمروں کی جانب بڑے تھے ۔۔۔۔
” اس کی طعبت پہلے میں صاف کرتا ہوں ۔۔۔ ( گالی ) نے مجھے مارا ۔۔۔ ” اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا اور روم میں آکر ڈور لوک کیا اور شرٹ کے بٹن کھول کر وہ اس پر جھکا ہی تھا کہ باہر سے کسی کی کہرانے کی آوازیں آئی ۔۔۔ اور ساتھ ہی دھراہ در دروازہ بجا ۔۔۔ اس شخص نے گھبرا کر دروازے کی جانب دیکھا پھر ایما کی طرف جس پر نشہ اثر کر چکا تھا اس شخص کی نیت پھر خراب ہوئی اس لیے بغیر بجتے دروازے کی پراہ کیے وہ دوبارہ اس پر جھکا ۔۔
اسی پل دروازہ زور دار آواز سے کھلا اور کسی نے آکر اس کی گردن میں پیچھے سے اپنی گرفت میں لیا تھا ساتھ ہی اپنا گھٹنا زور سے اس کے پیٹ پر مارا۔۔۔۔۔ ایک بار دو با ۔۔ اس پر تو جیسے جنون سوار ہوگیا تھا
جان جو ڈیرییک سے ملنے ہسپتال جا رہا تھا کہ راستے میں ایک انجان نمبر سے اس کو کال آئی ۔۔۔ اسے لگا ڈی ہے اس لیے اس کے ماتھے پر بل پڑے اور سٹریینگ پر اس کی گرفت مضبوط ہوئی ۔۔ ڈیرییک کے آکسیڈنٹ والے واقعے کے بعد ڈی کی کوئی کال نہیں آئی تھی جس کا اس کو انتظار تھا جو اب آئی تھی ۔۔
اس نے کال اٹینڈ کر کے فون کان سے لگایا ۔۔۔
Votre fille a été infectée par la drogue et maintenant 6 hommes l’emmènent dans la salle privée de la boîte de nuit si vous voulez la sauver, alors atteignez l’adresse que vous avez reçue sur mobile
(Your girl ingected by drug and now 6 mans carrying her to private room of night club if you want to save her so reached the address you received on mobile )
بےتاثر اور سنجیدہ لہجے میں اسے بتانے کے بعد کال ااینڈ ہوگی اور ساتھ ہی اسے میسج ریسو ہوا ۔۔۔ اس نے میسج دیکھا جہاں جس نائٹ کلب کا پتا لکھا تھا وہ قریب ہی تھا ۔۔
ایما تو کلب میں جاب کرتی ہے لیکن پھر بھی وہ نائٹ کلب والے راستے پر گاڑی کر چکا تھا وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا ۔۔ وہاں جاتے ہی اس نے سیدھا رخ ہی پراویڈنٹ روم کی طرف کیا رہراداری کے ابھی شروع میں ہی تھا کہ اس نے دیکھا ایک شخص اس کی جانب پیشت کیے کھڑا تھا اس نے کسی لڑکی کو پکڑا ہوا تھا جس کا چہرہ بالوں اس کے بالوں سے ڈھکا ہوا تھا اور اپنے ساتھ کھڑے لوگوں سے کچھ بات کرنے کے بعد اندر چلا گیا ۔۔ لیکن جان اس لڑکی کو پہچان چکا تھا وہ ایما کی تھی ۔۔ اس نے ہی صبح یہ کپڑے پہنے ہوے تھے ۔۔ پھر اس نے دیر نہیں لگا پہلے اس کے ساتھیوں کو فارغ کیا پھر دروازے بجایا ۔۔۔ جب دروازہ نہیں کھولا تو اس نے اپنی پینٹ کی پوکٹ سے سائلنسر لگی پسٹل نکالی اور لوک پر فائیر کی جس سے لوک ٹوٹ گیا ۔۔
اس کی نظر جیسے ہی ایما کی طرف گی تو وہ نظر چرا کر رہ گیا پہلے اس نے اپنا کوٹ اتار کر اسے کے کندھے پر ڈالا اور پھر دوبارہ اس شخص پر پل پڑا ۔۔۔
” تمہاری ۔۔۔ ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی ۔۔۔ ” وہ اس کے منہ پر مسلسل مکے ماری جا رہا تھا ۔۔۔ اس شخص کا سارا نشہ اڑ چکا تھا جان کے بھاری مکوں سے لیکن وہ پھر بھی نہیں روکا ۔۔۔ یہاں تھا کہ اس کے شخص کا منہ لہولہان ہوگیا ۔۔ مگر جان کے اندر جو آگ ایما کی حالت دیکھ کر لگی تھی ۔۔ وہ کسی طور کم نہیں ہو رہی تھی ۔۔
” ان ہاتھوں سے لگایا تھا نا ہاتھ اسے ۔۔۔۔ ” وہ اس کے دنوں ہاتھوں کو گرفت میں لے کر جس جنونی انداز سے بولا تھا وہ شخص ڈر گیا ۔۔۔
” معاف ۔۔۔ کر ۔۔۔دو ۔۔۔ ” لیکن اس نے اس کی معافی کی پرواہ کیے بغیر اپنے گن میں موجود گولیاں اس کے دونوں ہاتھ میں اتار دی ۔۔ اور وہ شخص تکلف سے بےہوش ہو چکا تھا ۔۔ جان ایما کو کے کے واپس آگیا تھا۔۔۔۔۔
وہ ہوش میں نہیں تھی وہ اسے لے کر سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔اسے بیڈ پر لٹایا ۔۔۔اور اس کے چہرے کو دیکھا جو سوجھا ہوا تھا اب ہلکا ہلکا نیلا ہوا تھا ۔۔اس کے بازوں اور گردن پر خراشیں پڑی تھی ۔۔
اس کی حالت دیکھ کر اس کا غصہ اور تیز ہوا۔۔
______________________________
آہل کے کل کے رویے نے اسے بہت بڑی طرح ہرٹ کیا تھا ۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ اس کا کام کرنے سے پیچھے نہیں ہوئی ۔۔۔ بلکل اب اس کی موجودگی میں وہ اس کے کمرے میں آئی بغیر نوک کیے ۔۔۔ اور پھر پہچتائی کیونکہ وہ بغیر شرٹ کے کھڑا شیشے کے سامنے کھڑا اپنے بال سیٹ کر رہا تھا ۔۔۔
آہل بھی اسے اس وقت اپنے کمرے میں دیکھ کر چونک گیا ۔۔۔
” اگر آپ شرٹ پہنے کی زہمت کریں گے تو مہربانی ہوگی ۔۔۔ ” اس کی جانب پشت کر کے اس نے طنزیہ انداز میں کہا ۔۔۔
آج تو اس کے تیور ہی اسے حیران کر رہے تھے ۔۔۔ کہا وہ نرم گو حور کہا یہ اس کا طنزیہ انداز ۔۔۔
لیکن پھر بھی اس نے شرٹ پہنی ۔۔۔۔
” اب کہیں کیا کہنا ہے ۔۔۔ ” وہ دوبارہ اپنا رخ آئینے کے سامنے کرتے ہوے سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔۔
حور نے رخ موڑ کر اسے دیکھا جو اب فرست سے خود پر پرفیوم اپسرے کر رہا تھا ۔۔ پورے کمرے میں اس کی خوشبو پھیل گی ۔۔۔ اور وہ جو تہہ کر کے آئی تھی کہ ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرے گی ۔۔ ایک بار پھر اس کی سحرانگیر پرسنالٹی میں کھو گی ۔۔۔۔۔
آہل نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا وایٹ شلوار قمیض اوپر وائٹ ہی حجاب لیے وہ پاکیزہ سی لڑکی بےخود ہو کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کیا کبھی ۔۔ کوئی اتنا پاکیزہ لگ سکتا ہے ۔۔۔ اسے دیکھ کر آہل نے دل میں سوچا ۔۔۔
” کوئی بات کہنی تھی ۔۔ ؟؟” اسے خود بھی حیرانی تھی کہ وہ نرمی سے بات کر رہا ہے اس سے ۔۔ کیوں یہ اسے خود بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔
” جی ۔۔ وہ ۔۔ دیان کے بارے میں کرنے تھی ۔۔۔” اس کے بولنے پر وہ ہوش میں آتی خود ڈبتے ہوے اس بات کی طرف آئ جو کرنی تھی ۔۔۔
” ہمم کہوں۔۔۔ ” بازوں سینے پر باندھ کر وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھا ۔۔ ایک تو نہ متوجہ ہو تو مسلہ ہوتا ہے اب ہو رہا ہے تو اتنا کیوں ڈھرک رہا ہے دل ۔۔۔
آہل کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کا دیکھانا اسے کنفیوز کر رہا ہے اس لیے اس سے نظر ہٹا کر اب وہ موبائیل پکڑ کر اس پر مصروف ہوگیا ۔۔
” وہ میں کہہ رہی تھی کہ دیان کو اب سکول میں اڈمٹ کروا دیں ۔۔” اس کے لہجے میں ماؤں والی پریشانی تھی جو کہی سے بھی بناوٹی نہ تھی ۔۔ لیکن اس وقت آہل کو یہ سب ڈرامہ لگا ۔۔۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ یہ سب اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کر رہی ہے ۔۔
تمسخر آمیز مسکراہٹ لیے وہ اس کے بلکل سامنے آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
” توجہ حاصل کرنے کا اچھا طریقہ ہے ۔۔۔ ” حور نے اسے ایسے دیکھا جیسے اس کی دماغی حالت پر شک ہو ۔۔۔۔
” آپ ہر بات کو غلط طرف کیوں لے کر جاتے ہیں ۔۔۔ ” اس نے تھک کر پوچھا تھا اسے سمجھ میں آئی تھی آخر وہ کیوں ہے ایسا ہے ۔۔۔
” تم غلط کام کرو۔ ۔۔ اور میں اس غلط کی نشان دہی بھی نہ کروں ۔۔۔ ” سینے پر ہاتھ باندھے وہ فرصت سے اس پر اپنے طنز کے تیر برسا رہا تھا ۔۔۔
” میں آپ کو بتانے کی کوشش بھی کی تھی کہ اس دن میری ۔۔۔ ” اس کے بات مکمل کرنے سے پہلے آہل نے ہاتھ کھڑا کر کے اسے مزید بولنے سے روک دیا ۔۔۔۔ وہ صبر کے گھونٹ پی کر رہ گی ۔۔۔
” یہ باتیں اسے کہو جیسے تمہارا پتا نہ ہو ۔۔ آئی سمجھ ۔۔۔”
” اسی لیے تو آپ کو بتا رہی ہوں ۔۔۔ ” اس نے بے بسی سے اس شخص کو دیکھا جو پاس ہوکر بھی میلو دور تھا ۔۔۔۔
” نو مور ایگیومنٹ ۔۔۔۔ مجھے پتا کیا کرنا ہے ۔۔۔ کیا نہیں ۔۔۔ ناؤ ہو کین لیو ۔۔۔ ” وہ بہت اچھے طریقے سے اسے ڈیرگریڈ کر رہا تھا ۔۔۔۔
اس کے کمرے سے نکلتے ہوے حور نے بھی فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔ اب وہ معاملہ اپنے رب پر چھوڑ دے گی ۔۔ اس نے کوشش کی ۔۔ جواب میں ہر بار وہ اسے بےعزت کر دیتا تھا ۔۔۔
_______________________________
وہ ہوش میں آئی تو خود کو جان کے کمرے میں دیکھ کر حیران ہوئی ۔۔ لیکن اپنی حالت دیکھ کر اسے رات کا واقع یاد آیا ۔۔۔۔ اس نے کمرے میں نگاہ دوڑائی وہ اکیلی تھی ۔۔۔ جان نہیں تھی ۔۔ کھڑکی سے سورج کی روشنی پردے ہٹے ہونے کی وجہ سے بیڈ پر آ رہی تھی ۔۔۔
پہلے اس نے اپنے کمرے میں جاکر فریش ہونے کی کئ ۔۔ پھر کپڑے چینج کر کے وہ کچن کی جانب جانی لگی کہ لاونج میں اس کی نظر جان اور جیمز پر پڑی۔۔
جمیز جان کے سامنے سرجکاے ہوے کھڑا تھا اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا یقین اسے ڈانٹ پڑ رہی تھی ۔۔ ایما کو بےساختہ اس پر ترس آیا ۔۔۔۔
” اب فورا میں نظروں کے سامنے سے دفعہ ہو جاؤ ۔۔۔ ” دروازے کے جانب اشارہ کرتے ہوے اسے سختی سے کہا ۔۔ جس پر وہ فورا غائب ہوئی ۔۔ ایما نے اسے باہر جانے تک دیکھا اس کے جانے کے بعد جیسے ہی سیدی ہوئی تھی
جان کو اپنے بلکل قریب غصے سے خود کو گھورتے پایا ۔۔
تمہیں کس نے کہا تم وہاں جاب کرنے کو ۔۔۔ اگر مجھے ذرا سی بھی دیر ہو جاتی پتا ہے کیا ہونا تھا ۔۔۔ ” مطلب ابھی بھی اس کا دل نہیں بھرا تھا اس بچارے پر غصہ اترانے کے باوجود لیکن پھر بھی اس کی بات پر اس نے سر جھکا لیا ۔۔۔ کیونکہ یہ اس کا احسان تھا اگر وہ وقت پر نہ آتا اس کے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔
” جب سے میری زندگی میں آئی ہو ۔۔۔ عزاب بن کر رہ گی ہے میری زندگی ۔۔۔ ” اس کی اس بات سے ایما کا میٹر بھی آؤٹ ہوگیا ۔۔۔
” میرا کوئی ارادہ نہیں تھا آنے کا ۔۔ خود ہی زبردستی لاے ہو ۔۔ اب بھگتو۔ ۔۔۔ ” غصے سے بول کر وہ جانے لگی کہ جان نے اس کا بازوں پکڑ کر اسے روکا اس کا رخ اپنی جانب کیا ۔۔۔
٫ کیا کہا ۔۔۔۔ ؟؟؟” اپنی نیلی آنکھیں میں غصے لیے اس نے اسے گھورا تھا جو جواب میں اسے گھور رہی تھی ۔۔۔ یہ تو ایما ہی جانتی تھی کہ وہ کس طرح دل کو سنبھالنے تھی ۔۔ ایک تو نیلی آنکھیں دوسرا ان کے بیچ کا فاصلہ ۔۔۔۔ اس کی دھڑکنیں مشترک کر رہا تھا ۔۔ لیکن اس نے بھی آج فیصلہ کر لیا تھا کہ ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ۔۔۔
” وہی جو سنا ۔۔۔ آیندہ مجھے بلینم مت کرنا ۔۔۔ ہونہنہ ۔۔ ” انگلی اس کی جانب کرتے ہوے اس نے اسے وارن کیا ۔۔ جان تو اس کا انداز دیکھتا رہ گیا ۔۔
یعنی چوری اس پر سینہ زروی۔۔۔
” زبان کچھ زیادہ نہیں چل رہی تمہاری۔۔۔۔ ” اس ہی انگلی کو مڑورتے ہوے اس نے سرد لہجے میں پوچھا ۔ایما کو درد تو ہو رہی تھی لیکن اس کی ضدی طعبت زور و شور سے جاگی تھی ۔۔۔ اس لیے بےخوفئ سے اس کی نیلی دلکش آنکھوں میں اپنی سحر انگیز بھوری آنکھیں ڈالی کھڑی تھی ۔۔
” میں تو اسی ہی ہوں ۔۔ اور اب ایسا ہی برداشت کرنا ہوگا۔۔۔”جان نے بغور ان بھوری آنکھوں میں دیکھا جہاں ہلکی ہلکی نمی چمک رہی تھی جو اس کی تکلف میں ہونے کی علامت تھی ۔۔۔ اس لیے اس نے گرفت ہلکی کردی لیکن چھوڑا نہیں۔۔۔
” تمہیں جو چاہے ہوگا ۔۔ مجھے کہنا ۔۔ لیکن آج کے بعد میں تمہیں اس طرح کی کسی جگہ نہ دیکھو ۔۔۔۔” انگی اٹھا کر اس کو تنبیہ کر کے جانے لگا کہ ایما کی بات نے اس کا میٹر پھر سے آؤٹ کر دیا ۔۔۔
” مجھے آزاری چاہیے ۔۔۔ اپنے ساتھ لگی اس نام سے ۔۔۔ ” جان غصے سے مڑا۔۔۔ اور اور ٹیبل پر پری فروٹ باسکٹ سے چھڑی پکڑ کے اس کے ہاتھ میں دی ۔۔۔
” لو ۔۔۔ ماڑ دو ۔۔۔ مجھے کیونکہ ایسے میرے جیتے جی تو یہ ممکن نہیں ۔۔۔ ” ایما کا چہرہ سفید ہوگیا ۔۔۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی چھڑی دور پھنکی ۔۔۔جیسے جان نے دوبارہ پکڑ کر اس کی گردن پر رکھا ۔۔۔
” بتاؤ ۔۔ چاہی آزادی ۔.. ” چھڑی اتنی زور سے اس نے اس کی گردن پر رکھی تھی کہ ہلکی ہلکی خون کی بوندیں نکل پڑی ۔۔۔ جو زیادہ تکلف دہ تھی ۔۔۔
٫ بتاو۔۔۔ ” اس نے دباؤ اور بھڑایا ۔۔۔
درد کی شدت کی وجہ سے اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔ جان نے چھڑی اس کی گردن سے ہٹا کر زور سے سامنے دیوار پر ماڑی ۔۔۔ ایما نے ڈر کے ہاتھ دنوں کانوں پر رکھ لیے ۔۔۔
اسے آج جان سے خوف آیا تھا ۔۔۔ اتنا کہ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ کہنی جاکر چھپ جائے جہاں وہ اسے ڈوھنڈ نہ سکے ۔۔۔۔۔
اپنی لال ہوتی نظروں سے وہ اسے دیکھا ہوا نکل گیا ۔۔۔۔
پینٹ ہاؤس سے نکل گیا ۔۔۔
