Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436 Qasoor-e-Ishq Episode 9
Rate this Novel
Qasoor-e-Ishq Episode 9
Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan
عمل کھڑی تھی جبکہ عرش خاموش ہو گیا تھا
اب اپنی شکل گم کرو یہاں سے عرش بولتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا
عمل بنا کچھ بولے واشروم میں چلی گئ
کافی دیر گزر گئی تھی عرش لیٹا سوچوں میں گم تھا
جب عمل باہر آئ اور سیدھا بیڈ کی دوسری طرف لیٹنے لگی
وہ سامنے صوفے پر جاؤ یہاں سے اٹھو عرش عمل سے بولا
سوری مجھے صوفے پر نیند نہیں آتی عمل لیٹ چکی تھی اور اب کمبل بھی اوڑھ لیا تھا
تمھیں نیند نہیں آتی تو میں کیا کروں عرش بیٹھتے ہوئے غصے سے بولا
دیکھیں عرش بھائ کہ جو رہی ہوں نیند نہیں آتی تو کیوں خامخواہ لڑ رہے ہیں
یہ لاسٹ وارنگ ہے اگر اسکے بعد بھائ بولا تو بہت برا ہوگا تمہارے ساتھ عرش وارنگ دیتے ہوئے بولا
اوکے عمل بولی
چلو اب اٹھو عرش غصہ پر قابو پاتا ہوا بولا
ایک نہ آپ کو سکون نہیں ہے عمل غصے سے بول کر کھڑی ہوئ اور سیدھا دروازے کی طرف گئ
کہاں جارہی ہوں تم عرش غصے سے بول کر کھڑا ہوا
باہر کسی اور روم میں جارہی ہوں عمل ماصومیت سے بولی
عرش عمل کے پاس آیا اور بازوں سے گھسیٹتا ہوا صوفے پر لے گیا
اور زور سے وہاں پر پٹخا
سکون سے یہاں سوجاؤ سمجھی اب تم اس کمرے کے علاؤہ کہیں نہیں سو سکتی عرش بول کر جانے لگا
کچھ دیا بھی نہیں اوپر اوڑھنے کے لیۓ ہاۓ عمل بڑبڑائی جو عرش سن چکا تھا
کمرے میں اندھیرا تھا اسلیۓ عمل کو عرش صیح طرح سے دیکھائی نہیں دے رہا تھا اسلیے وہ آرام سے لیٹ گئی
عرش نے زور سے ایک گرم چادر اور تکیہ پھینکا جس سے عمل ڈر کے مارے کھڑی ہو گئی تھی
اور ساتھ ہی ایک چیخ بھی ماری تھی
اس گھر میں سب سے بڑا جن میں ہی ہوں تمہارے لیۓ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں خود تمہارے پاس نہیں آؤں گا
عرش عمل سے بولا جو کہ منہ پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی
تکیہ پھینکا ہے لے لو عرش بول کر منہ پھیر کر لیٹ گیا
جبکہ جن کا لفظ سن کر عمل اکیلی کیسے سوتی اسلیے دبے قدموں سے بیڈ کی طرف آئ اور آرام سے ایک نکر پر لیٹ گئی
عرش کو پتہ چل گیا تھا وہ جناب اسکے پیچھے لیٹی ہوئی ہے
لیکن اس کا کوئی بحس کا موڈ نہیں تھا اسلیۓ چپ ہوگیا
عمل کی آنکھ کھلی تو عرش اسکی طرف منہ کیۓ الٹا لیٹا ہوا تھا
عمل آرام سے کھڑی ہوئی اور عرش کی سائیڈ ٹیبل پر پڑے فون سے ٹائیم دیکھنے لگی
ٹائیم دیکھا تو صبح کے چھ بج چکے تھے
اسلیے عمل نے فٹافٹ وضو کیا اور نماز ادا کی
نماز ادا کرنے کے بعد وہ باہر آئ تو سارے مہمان اپنے اپنے روم میں سوۓ ہوئے تھے
کیا کروں سب کے سب سوۓ ہیں ایک تو آنکھ بھی روزانہ اسکول کی وجہ سے جلدی کھل جاتی ہے عمل دل میں بولی
ہاۓ سکول سے یاد آیا
سکول ہی کیوں نہ چلی جاؤں ویسے بھی اب شادی شادی ختم کرو عمل خود سے ہی بولتے ہوئے روم میں گئ
سکول جانے کی تیاری کے لیے
کیونکہ یونیفارم اور بیگ کل ہی اپنے ڈرائیور سے منگوا لیۓ تھے
میرب سوئی ہوئی تھی جب سبحان نے اسے جگایا
میرب اٹھو سارے مہمان جاگ چکے ہیں سبحان میرب کو اٹھاتے ہوئے بولا
ٹائیم کیا ہوا ہے میرب سوئی ہوئی آواز میں بولی
سات ہوگۓ ہیں سبحان میرب کی مہندی کو دیکھتے ہوئے بولا
اتنی صبح تم جگا رہے ہو دماغ تو خراب نہیں ہوگیا کدھر میرب غصے سے بولی
میرب شادی کی پہلی صبح ہے ایسے الفاظ استعمال مت کرو جس سے تمہاری اور میری زندگی کا آغاز برا ہو سبحان غصے سے بولا
تو جاؤ پھر بحس مت کرو اور مجھے آرام کرنے دو میرب بدتمیزی سے بولی
سبحان میرب کے بغیر باہر نہیں جاسکتا تھا کیونکہ باہر بیٹھے سارے مہمان میرب کا پوچھتے
انکل چلیں سکول لے جائیں مجھے عمل باہر آتے ہوئے بولی
جس نے درجن کتابیں بیگ میں ڈالی ہوئی تھی اور تین سے چار ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی
لیکن بیٹا آپ آج کے دن اسکول جائیں گی
ڈرائیور پریشانی سے بولا
کیا مطلب آج کے دن جائیں گی آج کوئ خاص دن ہے کیا عمل گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بولی
اور ساتھ ہی گاڑی میں بیٹھ گئ
اب ڈرائیور بھی کیا کرتا اس لیۓ عمل کو اسکول لے گیا
میرب نے سبحان کا موڈ دیکھا تو بہت زیادا اوف تھا
اس لیۓ میرب غصے سے اٹھ کر واشروم چلی گئ تاکہ فریش ہو کر باہر چلی جاۓ
عرش کی آنکھ تقریباً عمل کے جانے کے بعد آدھے گھنٹے بعد کھل گئی تھی
لیکن جب اسنے عمل کو اپنے پاس نہیں دیکھا تو ایک جھٹکے سے اپنے اوپر سے کمبل ہٹایا اور کھڑا ہوا
واشروم کی طرف گیا تو اس کا دروازا بھی کھلا ہوا تھا
وہ پھر اسٹڈی روم میں گیا تو وہ بھی خالی تھی
عرش بنا شرٹ کے باہر کی طرف دوڑا کہ کیا پتہ وہ باہر ہو
لیکن وہ باہر بھی نہیں تھی اب عرش کو ایسا محسوس ہو رہا تھا وہ بھی اپنی بہن جیسی نکلی ہے
عرش باہر گیٹ کے گارڈز کے پاس گیا
عمل کدھر ہے عرش اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گارڈ سے بولا
صاحب جی وہ تو صبح ہی رحیم بابا کے ساتھ اسکول چلی گئ تھی
وٹ عرش ہکا بکا رہ گیا تھا عمل کی اس حرکت پر
پھر لمبی سانس لے کر اپنے آپ کو نارمل کرنے لگا
اور پھر سیدھا اپنے روم میں گیا
تاکہ فریش ہو کر عمل کے سکول جاۓ
میرب ریڈی ہوگئ تھی لیکن سبحان بیٹھا موبائل یوز کر رہا تھا
چلیں سبحان جی میرب سبحان کو دیکھتے ہوئے بولی
تو سبحان مسکرانے لگا
سبحان کھڑا ہوا اور میرب کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا
میرب باہر آئ تو سمبل بیٹھی اپنی بیٹی کو ناشتہ کروا رہی تھی
آؤ میرب میرے پاس بیٹھو سمبل مسکراتے ہوئے بولی تو میرب بھی سمبل کے پاس بیٹھ گئ
سنا ہے تمہاری بھابھی بھاگ گئ ہے کسی کے ساتھ اس لیۓ تمہارے بھائ نے اس چھوٹی بچی سے شادی کرلی سمبل تیز آواز میں بولی تاکہ سارے سنیں اور ساتھ ہی سبحان بھی سن رہا تھا
میرب سبحان کو دیکھنے لگی تو سبحان نے میرب کو اگنور کردیا
آئ تھینک سمبل آپ کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیۓ میرب بھی انتہائی میٹھے لہجے میں ٹیکا کر جواب دیتے ہوئے بولی
تو سمبل نے غصے سے میرب کو دیکھا
جو مسکرا رہی تھی
ناشتہ کب آئے گا تمہارے گھر سے کیونکہ صبح کب کی ہوگئ ہے اتنا خیال تو تمہارے گھر والوں کو ہونا چاہیۓ سمبل دوبارا کڑوے الفاظوں میں بولی
میرے گھر والے زرہ لیٹ اٹھنے کے عادی ہیں اسلیۓ ابھی تک ناشتہ نہیں آیا بٹ ڈونٹ وری آجاۓ گا ناشتہ میرب بول کر اپنے ہاتھ میں رینگ کو گھومانے لگی جو سبحان نے پہنائی تھی
عرش عمل کے سکول کے آفس روم میں بیٹھا ہوا تھا
اور پرنسپل سے اس کے بارے میں باتیں پوچھنے لگا
سر اگر عمل سکول نہ آۓ تو کوئ پروبلم تو نہیں ہوگی
دیکھیں مسٹر عرش اگلے مہینے نویں اور دسویں کے فائینل اگزیمز ہیں فری تو ہم اسٹوڈنٹس کو کرلیتے ہیں بٹ وہ تیاری اچھی نہیں کرتے جس وجہ سے ان کی سپلی آجاتی ہیں
اسلیۓ اس سال ہم انھیں فری نہیں کر رہے لیکن آپ کہ رہے ہیں کچھ ذاتی پروبلمس ہیں آپ کی تو ہم فری کر دیتے ہیں عمل کو بٹ آپ ایک بار ان کی کلاس ٹیچر سے بھی بات کرلیں پرنسپل بولا
جی جی آپ بلائیں عمل کی میم کو عرش دانت پیستے ہوئے بولا
کیونکہ اسے بہت غصہ آرہا تھا
عمل کی میم آگئ تھی
اور عرش سے بات کرنے لگی
دیکھیں آپ عمل کو اچھا ٹویٹر ارینج کر کے دیں گیں کیونکہ وہ بہت اچھی سٹوڈنٹ ہے اسلیۓ اسکے مارکس بھی اچھے آنے چاہیۓ میم بولی
اوکے میں اب عمل کو لے جاؤں عرش ٹائیم دیکھتے ہوئے بولا
کیونکہ نو ہوگۓ تھے
جی بلکل میم بولی پیچھے سے عمل بھی اپنا بیگ ہاتھ میں لیۓ منہ لٹکاۓ ہوۓ آئ
عرش چئیر سے اٹھا اور پرنسپل سے ہاتھ ملا کر عمل کو ساتھ ہی باہر لے گیا
عرش ڈرائیو کر رہا تھا عمل آگے منہ بناۓ بیٹھی تھی
مجھ سے بغیر پوچھے کیوں گئ تھی سکول عرش عمل کو بنا دیکھے بولا
سکول بھی کوئ کسی سے پوچھ کر جاتا ہے کیا عمل بولی
عمل میرا خیال ہے تم سکول چھوڑ دو اتنا پڑھ کر کرنا کیا ہے عرش نرم لہجے میں بولا
پڑھ کر آپ نے جو کیا ہے وہی میں بھی کروں گی عمل عرش سے بولی
جتنی ماصوم تم لگتی ہو اتنی ہو نہیں
مجھے فارغ ہو جانے دو پھر تم سے بات کروں گا عرش بول کر باہر نکل گیا میرب کے سسرال کے لیۓ ناشتہ لینے کے لیۓ
رات پوری وہ اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی
صبح گیارہ بجے نکلی تو آرت لاؤنچ میں لیٹا ہوا تھا
بات سنیں عنیقہ دھیرے سے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی
آرت کی آنکھ جیسے کھلی تو وہ اس کی شکل دیکھنے لگا
ناراض ہیں عنیقہ بولی
آرت نے اپنا ہاتھ آنکھوں پر رکھ دیا بتا رہا تھا ہاں ناراض ہوں
اسنے آرام سے اسکا ہاتھ ہٹایا اور سوری بولی
آرت مسکرا ہی رہا تھا کہ جب اسنے ایک جھٹکے سے اسے صوفے پر لٹایا
اور خود اسکے اوپر جھکا
کیوں بھاگ گئ تھی رات کو
آرت عنیقہ کی لال ہوتی گالوں کو چومتا ہوا ہلکی سی آواز میں اسکے کان میں بولا
آپ نے ڈرنک کی تھی عنیقہ پانچ سو کی سپیڈ سے دھڑکتے دل سے بولی
ابھی تو نہیں کی اب تو کوئ مسئلہ نہیں ہے نا وہ مسکراتے ہوئے بولا
عنیقہ خاموش ہو گئی تھی
آرت عنیقہ کو اٹھا کر بیڈ کی طرف لایا
میری بات سنیں پلیززز عنیقہ گھبراتے ہوئے آرت سے بولی
بعد میں سنوں گا آرت عنیقہ کا دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھتا ہوا بولا
ابھی وہ اور کچھ اور بولتی
آرت نے اپنے ہونٹ اسکے ہونٹ پر رکھ دیۓ
اور اسکے ہاتھوں کو زور سے پکڑ لیا
اسکول کیوں گئ تھی ہمیں بغیر بتاۓ مہناز صاحبہ عمل کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولی
وہ میں بتانے آئ تھی لیکن آپ سب سورہے تھے عمل نیچے دیکھتے ہوئے بولی
ماما آپ بعد میں بات کر لیجۓ گا اس سے ابھی چلیں میرب کے سسرال آلریڈی اتنی دیر ہوگئ ہے عرش مہناز صاحبہ سے بولا
بات میں نے نہیں تم نے کرنی ہے اپنی بیوی سے اور سمجھانا بھی خود ہے مہناز صاحبہ غصے سے بولی
اوکے میں کرلوں گا بات اب چلیں عرش بولا
جاؤ عمل تمہارے کپڑے میں نے بھیجے ہیں روم میں جلدی سے تیار ہوکر نیچے آؤ تم بھی جاؤ گی ہمارے ساتھ مہناز صاحبہ بولی
ماما اسے لے کر جانے کی کیا ضرورت ہے عرش منہ بنا کر بولا
تم جاؤ عمل مہناز صاحبہ عمل کو دیکھتے ہوئے بولی جو عرش کی بات پر کافی ہرٹ ہوئ تھی
جی عمل بول کر چلی گئ
عرش عمل کو تم خود سیٹ کرو گے سمجھے اور اس سے زرا پیار سے بات کرو کیونکہ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے مہناز صاحبہ بولی
پیار ہاہاہا ماۓ فٹ عرش بول کر چلا گیا
عرش عمل اور مہناز صاحبہ میرب کے سسرال میں بیٹھیں ہوۓ تھے
عمل اکیلے بیٹھی ہوئی تھی جبکہ میرب اپنی ماما اور بھائ کہ ساتھ بیٹھی ہوئی تھی
ماما آپ اسے کیوں ساتھ لائ ہیں اسکی وجہ سے مجھے کتنی باتیں سننی پڑی ہیں آپ کو کوئ اندازا ہے
میرب ہلکی آواز میں مہناز صاحبہ سے بولی
کیوں کیا ہوا مہناز صاحبہ پریشانی سے بولی
بعد میں بتاؤں گی آپ اسکی شکل گم کریں یہاں سے میرب عمل کو دیکھتے ہوئے بولی
جب کے عمل بہت پیار سے میرب کو دیکھ رہی تھی
عرش میرب کو سن رہا تھا وہ کیا بول رہی ہے
عرش کو بلکل میرب کی باتیں پسند نہیں آئ اسلیۓ کھڑا ہوا
ٹھیک ہے ماما مجھے ضروری کام ہے میں اور عمل جارہے ہیں آپ آجائیے گا عرش بول کر بنا صبر کیۓ عمل کو لے کر نکل گیا
آپ مجھے کیوں لائیں ہیں اپنے ساتھ ابھی تو میں نے میرب آپی سے باتیں بھی نہیں کی تھی
عمل غصے سے بولی
تمھیں کوئ ضرورت نہیں ہے میرب یا ماما سے بات کرنے کی اپنے کام سے کام رکھا کرو عرش عمل کو گاڑی میں بیٹھاتا ہوا بولا
میرا تو کسی سے کوئی کام نہیں ہے نہ بابا سے نہ آپ سے بلکہ کسی سے بھی نہیں عمل دکھی لہجے میں بولی
بلکل تمہارا کسی سے بھی کام نہیں ہے عرش سپاٹ لہجے میں بولا
عمل خاموش ہو گئی
آج شام کا ریسپشن تھا میرب اور عمل کا ایک ساتھ
اسی لیۓ عمل کو پارلر میں بھیجا تھا اور ساری تیاریاں اسکی طرف سے احیان کر رہا تھا
جبکہ عرش جب سے میرب کے سسرال سے آیا تھا تب سے اپنے روم میں تھا
ابھی ظفر صاحب اسے بلانے کے لیۓ آئیں
عرش عمل سیلون ڈرائیور کے ساتھ چلی گئ تھی
ابھی تم جاؤ ریڈی ہوکر اسے پک کر کے سیدھا ہال پہنچ جانا کیونکہ وہاں پر سارے گیسٹ پہنچ گۓ ہیں
جی بابا عرش بولا
لیکن اٹھا نہیں
بیٹا جاؤ بھی ظفر صاحب پھر بولیں کیونکہ وہ جانتے تھے انکے صاحب زادے کا موڈ نہیں ہے روم سے نکلنے کا اسلیۓ وہ دوبارہ بولیں
عرش کھڑا ہوا کیونکہ وہ بار بار اپنے بابا کو منت کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا
شام ہوگئی تھی عنیقہ اور آرت بھوکے تھے
اور اب بھوک کی شدت دونوں کو بہت محسوس ہو رہی تھی
عنیقہ جاؤ کچن میں کھانا پڑا ہے گرم کر کے لے آؤ آرت عنیقہ سے بولا
جی عنیقہ بول کر کچن میں گئ کھانا لینے کے لیۓ
لیکن اس سالن پر ڈھکن نہیں تھا اسلیۓ عنیقہ نے اسے گرم نہیں کیا
کیونکہ پوری رات بغیر ڈھکن کے سالن پڑا تھا
اللہ جانے کن چیزوں نے اس سالن میں منہ مارا ہوگان میں تو نہیں کھاؤں گی عنیقہ کرک کرتے ہوئے بولی
اور ساتھ ہی چولہا لگا کر چاۓ رکھی
عرش پارلر کے باہر کھڑا عمل کا ویٹ کر رہا تھا لیکن وہ ابھی تک نہیں نلکی تھی
ایک تو اس لڑکی کے پاس فون بھی نہیں ہے عرش غصے سے بول کر گاڑی سے باہر نکلا
ایسکیوز می اندر میری وائف مسسز عرش ہیں پلیز انھیں زرا باہر بلائیں
عرش سیلون سے باہر کھڑے گارڈ سے بولا
اچھا گارڈ بول کر اندر چلا گیا
پھر پانچ منٹ کے اندر ہی واپس باہر آیا
سر وہ احیان نامی شخص کے ساتھ گئ ہیں جو ان کا بھائ ہے
گارڈ بولا
تھینکیو عرش بول کر گاڑی میں بیٹھا
یہ بھائ والا لاڈ ابھی تک اسکے ذہن سے ختم نہیں ہوا
لیکن کوئ بات نہیں آج ہی بندوبست کرتا ہوں عمل کا عرش نے بول کر گاڑی سٹارٹ کردی
