Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436 Qasoor-e-Ishq Episode 19
Rate this Novel
Qasoor-e-Ishq Episode 19
Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan
عمل یہ نخرے تم پر بلکل اچھے نہیں لگ رہے سمجھیں مہناز صاحبہ غصے سے بولیں
کیوں میں نے کیا نخرے کیۓ ہیں عمل اپنے تیور سخت کرتے ہوئے ہاتھ باندھتے ہوئے بولی
تمہارا یہ انداز تم اور تمہارے گھر والوں پر بلکل سوٹ نہیں کرتا کیونکہ جس گھر سے لڑکی بھاگ جاتی کر ہے انکی دو ٹکے کی عزت نہیں رہتی اور تم اچھے سے جانتی ہو جس کے پاس عزت نہیں تو اسکے پاس کچھ نہیں مہناز صاحبہ اپنی ایک آئیبرو اٹھاتے ہوئے بولی
اچھا جی ہوگیا عمل بیزاری سے بات کو ختم کرنے والے انداز میں بولی کیونکہ اسکے پورے بدن میں بہت درد ہو رہا تھا
مہناز صاحبہ افسوس سے سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئ
عمل واپس بیڈ پر جاکر بیٹھ گئ اور سوچنے لگی کہ اسنے کیا کرنا ہے
اسلام علیکم عرش کمرے میں آتے ہوئے بولا
وعلیکم السلام عمل عرش کو بغیر دیکھے بول کر کھڑی ہوئ
کہاں جارہی ہو عمل
عرش جو چیزیں عمل کے لئے لایا تھا اسے بیڈ پر رکھتے ہوئے بولا
عمل عرش کو اگنور کرتے ہوئے روم سے باہر جانے لگی جب عرش نے عمل کا ہاتھ پکڑ لیا
یہاں بیٹھو تھوڑی دیر
عرش عمل کو بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے بولا
عمل چپ کرکے بیٹھ گئ لیکن عرش کو نہیں دیکھا
عمل جو میں نے کیا ہے میں اچھے سے جانتا ہوں اسکے لئے کوئ بھی مجھے معاف نہیں کرے گا لیکن عمل میں اپنے گناہ کی معافی مانگ رہا ہوں نہ غلطیاں تو انسانوں سے ہی ہوتی ہے نہ اور میں بھی ان میں شامل ہوں
عمل ایک بار میری طرف دیکھو تو صیح مجھ سے شکوہ کرو مجھے ڈانٹوں تمہاری یہ خاموشی مجھ سے برداشت نہیں ہورہی عرش عمل کے پاؤں کے پاس زمین پر بیٹھتا ہوا بول رہا تھا اور اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا
عرش پلیییز یہاں سے چلے جائیں عمل نیچے دیکھتے ہوئے تلخی سے بولی
عمل ایسا نہ کرو عرش دکھ بھرے لہجے میں بولا
عمل اپنا ہاتھ عرش سے چھڑوانے لگی
ٹھیک ہے عمل میں جانتا ہوں تمھیں وقت چاہیۓ کیونکہ جو میں نے کیا ہے اس پر کوئ اتنی آسانی سے معاف نہیں کرتا عرش کھڑا ہوتے ہوئے بولا
عمل تمہارے لیۓ چھوٹا سا گفٹ لایا ہوں ریکوسٹ کرتا ہوں اسے اکسپٹ کر لینا اور اپنی دوائیاں ٹائم پر لے لینا
عرش بول کر واپس باہر نکل گیا کیونکہ وہ جانتا تھا اسکی موجودگی سے عمل تنگ ہوتی ہے
عرش کے جاتے ہی عمل کی نظر ٹیڈی بیئر اور پیک ہوئ چاکلیٹس پر گئ
عمل نے چیزوں کو اپنے ہاتھ میں اٹھایا پھر انہیں کافی دیر تک دیکھنے لگی
عرش اب میں بچی نہیں ہوں جو ان چیزوں سے مان جاؤں اور پہلے کی طرح یہ نہیں کہوں گی کے آپ دوبارہ تو مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گیں
عمل چیزوں کو دیکھتے ہوئے دل میں خود سے بول رہی تھی
عنیقہ کو راستے میں ہی ہوش آگیا تھا اور اب وہ یہ دعائیں کررہی تھی کے اللہ پاک اسے اس ظالم عورت سے بچا لے کیونکہ سب نے عنیقہ کو رشیدہ کے قصے سناۓ ہوۓ تھے
اوو بی بی رشیدہ جو آگے بیٹھی ہوئی تھی پیچھے مڑ کر غصے سے عنیقہ سے مخاطب ہوئی
عنیقہ اسکی طرف دیکھنے لگی
یہ جو حرکت تو نے کی ہے نہ آسکی سزا رشیدہ تجھے ایسی دے گی کے کوٹھے کی ہر لڑکی پناہ مانگے گی رشیدہ غصے سے بولی
عنیقہ چپ تھی حریم نے عنیقہ کے ہاتھ کو زور سے پکڑ لیا کیونکہ وہ بہت زیادہ ڈر رہی تھی
آپا
ڈرائیور بریک لگاتے ہوئے بولے
چل اتر رشیدہ عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولی
یااللہ بے شک تو رحیم و کریم ہے اور اپنے بندوں کی حفاظت کرنے والا ہے
اللہ پاک اگر میں نے آج کچھ بھی غلط کیا ہے تو مجھے رشیدہ آپا کے ہاتھوں زلیل کروانا اور وہ بھی اتنا کروانا کے آنے والی ہر لڑکی یاد رکھے باوفا ماں باپ کی نافرمانی انسان کو تاازل رسوا کرتی ہے عنیقہ دل میں اپنے اللہ سے مخاطب ہوئی اور ہر گناہ کی سزا کے لئے خود کو تیار کرتے ہوئے نکلی
جب حریم عنیقہ کا ہاتھ پکڑ کر بولی
عنیقہ میں نے تمھیں کتنا سمجھایا تھا ایسی ویسی کوئ حرکت نہیں کرنا حریم روتے ہوئے بولی
حریم میں نے اپنا ہر فیصلہ اپنے رب پر چھوڑ دیا ہے اور بے شک وہ انصاف کرنے والا ہے بیشک وہ ہم گناہ گاروں پر رحم کرنے والا مہربان ہے عنیقہ اپنی آنکھوں میں آنے والا آنسوں صاف کرتے ہوئے بولی
آج جو بھی میرے ساتھ ہوگا وہ دیکھا جاۓ گا عنیقہ حریم سے بولی
عنیقہ ہم بہت گناہگار ہیں مگر ہمارا رب مدد مانگنے والوں کو کبھی اپنے در سے خالی ہاتھ نہیں جانے دیتا وہ انسان نہیں جو سابقہ گناہ گنوائے وہ رب ہے
ہم اپنی اوقات دیکھ کر نہیں اپنے رب کی شان دیکھ کر مانگیں گیں حریم ایک مظبوط ایمان سے بولی
حریم کے الفاظ عنیقہ کے دل پر لگے جب ایک دم لڑکی کمرے میں داخل ہوئی
آجاؤ نیچے آپا بلا رہی ہیں
لڑکی اوپر حریم اور عنیقہ کے پاس آئ
اچھا حریم بیٹھتے ہوئے بولی
بیٹھنا نہیں ہے جلدی چلو نیچے
لڑکی دوبارہ بولی
عنیقہ کھڑی ہوئ اور جوتے پہننے لگی
حریم بھی اپنے آنسو صاف کرکے کھڑی ہوئ کمرے سے جیسے باہر نکلی تو سامنے مٹی کا مٹکا پڑا ہوا تھا اور اس پر ایک چھوٹا سا گلاس تھا
حریم نے گلاس میں پانی نکال کر اپنے چہرے پر چھینٹے پھینکی اور پھر ڈوپٹے سے اپنا چہرا خشک کرکے نیچے اترنے لگی
امی سبحان کی دوسری شادی کروا دیتے ہیں سمبل اپنی ماں کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی
یہ تم کیا بول رہی ہو تمھیں اندازا ہے کیا
ممتاز صاحبہ غصے سے بولی
ایسا کیا بول دیا ہے میں نے جو آپ اتنا ہائپر ہورہی ہیں سمبل بھی غصے سے بولی
سبحان کبھی بھی نہیں مانے گا دوسری شادی کے لئے
ممتاز صاحبہ بیٹی کو بیٹے کے خیالات سے باور کراتے ہوئے بولی
اسکو تو آپ چھوڑیں یہ بتائیں مجھے
آپ کو تو کوئ مسئلہ نہیں ہے نہ سمبل ماں کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی
دیکھو سمبل مجھے پہلے بھی کوئ مسئلہ نہیں تھا اور اب بھی کوئ مسئلہ نہیں ہے بس تم سبحان سے پوچھ لو ممتاز صاحبہ بیٹی سے بولی
ہمم اس سے جاکر میں ابھی پوچھ لیتی ہوں سمبل کھڑے ہوتے ہوئے بولی
ابھی کدھر جارہی ہو وہ غصے میں ہے ممتاز صاحبہ بیٹی کو سمجھاتے ہوئے بولی
اچھا جی مجھے غصہ دکھاۓ گا وہ
سمبل تنزیہ بولی
اچھا تو پھر خود جاکر دیکھ لو غصہ دیکھاتا ہے یا نہیں ممتاز صاحبہ بول کر لیٹ گئ کیونکہ انکی طعبیت خراب ہورہی تھی
سمبل سبحان کے کمرے میں چلی گئ
سبحان میں اندر آجاؤں سمبل دروازے سے منہ اندر کرتے ہوئے بولی
سبحان نے سمبل کو دیکھا پھر بولا
آجائیں
میں نے تم سے ضروری بات کرنی ہے سمبل سبحان کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولی
جی فرمائیں سبحان فون کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے بولا
سبحان میرب بانجھ ہوگئ ہے سمبل سبحان کو دیکھتے ہوئے بولی
یہ بات سنتے ہی سبحان کے چہرے کے رنگ ایکدم سے بدلے
ایسی تو کوئ بات مجھے ڈاکٹر نے نہیں بتائ
سبحان خود کو نارمل کرتا ہوا بولا
تو میں جھوٹ بول رہی ہوں کیا سمبل غصے سے بولی
شاید
سبحان بس اتنا بولا
ٹھیک ہے ڈاکٹر کو کال کرکے پوچھ لیتے ہیں سمبل اپنے ہی فون سے ڈاکٹر کے نمبر پر کال کرنے لگی
آپ رہنے دیں میں خود کال کروں گا سبحان اپنا فون اٹھاتے ہوئے بولا کیونکہ میرب کے علاج کے لیۓ تین چار ڈاکٹرز تھے
ٹھیک ہے بھائ خود کر لو کال ویسے بھی میں تمہاری بیوی کی طرح فلمیں نہیں چلاتی سمبل غصے سے بولی کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی سبحان اسکی باتوں پر یقین نہیں کررہا
سبحان جیسے کال کرنے لگا تو سمبل بولی
ایک منٹ سبحان
عنیقہ سبحان کو روکتے ہوئے بولی
بولیں
سبحان بہن کو دیکھتا ہوا بولا
جو بات میں نے کی ہے اگر یہ سچ ہوئ تو تم میری ایک بات لازمی مانوں گے سمبل بھائی سے ڈیل کرتے ہوئے بولی
ٹھیک ہے
سبحان نے بول کر فون کو اپنے کان سے لگایا
وعدہ سمبل ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولی
تو سبحان نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور وعدہ کردیا
سبحان سمجھ رہا تھا یہی وعدہ ہوگا باہر کھانا کھلا دو یا شاپنگ کروا دو لیکن آج کا وعدہ سبحان کی سوچ سے ہٹ کے تھا
عمل جو کب سے چیزوں کو گھور رہی تھی ایک دم کھڑی ہوئی اور سارے گفٹس اٹھا کر کونے میں پڑے ڈسٹ بین میں پھینکے دی میں اتنی سستی نہیں ہوں جو ان بےجان چیزوں سے مان جاؤں تم میری عزت کی دھجیاں اڑاؤ میرے پاک رشتے کی تذلیل کرو اور پھر سوری بول کر واپس اپنا مقام پا لو جب ایک عورت ایک غلطی کے بعد اپنا مقام واپس نہیں پا سکتی تو تم بھی نہیں پا سکتے عمل بول کر اپنے کبرڈ سے سارے کپڑے نکالنے لگی
اور اسے بیگ میں ٹھونسے لگی
بیگ پیک کرنے کے بعد اپنے اوپر پوری شال لپیٹ دی پھر نیچے آئی
آنٹی عرش کے روم میں میرا بیگ پڑا ہے وہ باہر لے آئیں عمل میڈ سے بول کر باہر نکل گئ
عمل بی بی آپ کدھر جارہی ہیں
گھر کا ڈرائیور آگے ہوتے ہوئے بولا
گھر
عمل اسے جواب دیتے ہوئے سیدھا باہر نکلنے لگی جب ڈرائیور بولا
اچھا آجائیں میں آپ کو لے جاؤں ڈرائیور بیک سیٹ کا دروازا کھولتا ہوا بولا
نہیں میں نے باہر کیب بک کروائ ہوئ ہے عمل ڈرائیور سے بولی
عمل بی بی اتنی گاڑیاں کھڑی ہونے کے باوجود بھی آپ کیب میں جارہی ہیں عرش صاحب کو پتہ چلا تو ہمیں مار دیں گیں وہ ڈرائیور خوفزدہ ہوتے ہوۓ بولا
انسان ہے جس چیز کی اکڑ ہے ایک دن خاک ہو جانی ہے کچھ بھی نہیں کہے گا وہ آپ کو پریشان نہیں ہو آپ
عمل بول کر جانے لگی
بی بی جی اگر وہ کچھ کہیں گے نہیں تو ہمیں نکال ضرور دیں گیں ڈرائیو پریشانی سے بولا
رزق دینے والی ذات صرف رب کی ہے اپنی پریشانی رب کے آگے بیان کریں کیوں انسان کو اپنا وسیلہ سمجھتے ہیں عمل دکھ سے ڈرائیور سے بولی اور کیب میں بیٹھی
یہ تماشہ کیوں لگایا تھا ہاں
رشیدہ غصے سے کھڑے ہوتے ہوئے بولی
اور ساتھ ہی اپنا ڈنڈا لیا جس کے ذریعے وہ کھڑی ہوئ تھی
عنیقہ بلکل چپ تھی اور دیکھ رہی تھی اللہ پاک کیا کرتا ہے
میں کچھ بکواس کر رہی ہوں تیرے ساتھ رشیدہ چیختے ہوئے بولی ساری لڑکیاں آگے پیچھے کھڑی تماشہ دیکھ رہی تھی
میں نے کوئ تماشہ نہیں لگایا تھا عنیقہ بھی سخت تیور کرتے ہوئے بولی ۔
واہ جیو جی ایک تو سارے الٹے کام کرتی ہے اور الٹا مجھے سنا بھی رہی ہے کے میں الٹے کام نہیں کرتی رشیدہ نے بولتے ساتھ ہی اپنے ڈنڈے کو گھوما کر عنیقہ کے ہاتھ پر مارنے لگی عنیقہ نے زور سے اپنی آنکھیں بند کردی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی وہ کس قدر زور سے مارنے لگی ہے
یہ کیا کرہی ہے تو آپا
آرت ڈنڈے کو پکڑتے ہوئے بولا
چھوڑ اسے رشیدہ اپنا ڈنڈہ چھوڑاتے ہوئے بولی
میں اسے چھوڑ تو دوں گا لیکن تو اسے کچھ نہیں کہے گی آرت رشیدہ سے بولا
آرت اس نے کیا کیا ہے تجھے اندازا بھی ہے کیا
رشیدہ غصے سے بولی
کیا کردیا ہے اسنے آرت عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا جو اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی
آج یہ گاڑی کے سامنے آگئی تھی خودکشی کرنے کے لئے رشیدہ غصے سے عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولی
تو میں نے تجھے کیا کہا تھا اس پاگل کو باہر نہ لے کر جائیں پھر بھی تو اسے باہر لے گئ آرت عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا
اور ساتھ ہی ہنس بھی رہا تھا اسکی حالت دیکھ کر
غلطی ہوگئ تھی مجھ سے رشیدہ منہ غصے سے موڑتے ہوئے بولی
اچھا چل میرے ساتھ آرت رشیدہ کو کندھے سے پکڑتے ہوئے بول کر صوفے پر بیٹھا نے لگا
جاؤ سارے یہاں سے آرت ساری لڑکیوں کو بھیجتے ہوئے بولا
دیکھ آپا غلطی اسکی نہیں ہے تیری خود کی ہے تجھے کس نے کہا تھا اسے ساتھ بازار لے کر جا آرت رشیدہ کو سمجھاتے ہوئے بولا کیونکہ اسے بہت زیادہ غصہ آیا ہوا تھا
تو کیوں آیا ہے یہاں رشیدہ آرت سے دور ہوتے ہوئے بولی
میں آج مریم سے ملنے آیا ہوں آرت مریم کی خوبصورتی یاد کرتے ہوئے بولا
اچھا جا پھر اسکے پاس رشیدہ آرت کو دھکا دیتے ہوئے بولی
تو ناراض ہے مجھ سے کیا آرت کھڑے ہوتے ہوئے بولا
نہیں ہوں میں ناراض
رشیدہ مسکراتے ہوئے بولی
چل پھر صیح ہے آرت بول کر مریم کے پاس چلاگیا
کیا کہا ڈاکٹر نے
سمبل مسکراتے ہوئے بولی
یہی کہا جو آپ بول رہی تھی سبحان گم سم اور پریشانی سے بولا
سبحان تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا یاد ہے سمبل اپنا وعدہ یاد دلاتے ہوئے بولی
جی کروا دوں گا ڈنر پلس شاپنگ سبحان جان چھڑاتا ہوا بولا
مجھے نہ ڈنر چاہیۓ نہ ہی شاپنگ سمبل بھائی کے پاس ہوتے ہوئے بولی
تو کیا چاہیۓ سبحان سمبل کو ناسمجھی سے دیکھتا ہوا بولا
تم نکاح کرلو میرے سسرال کے سامنے والے گھر میں ایک بیوہ لڑکی ہے اس سے کیونکہ اسکا شوہر شادی کے دو مہینے بعد فوت ہو گیا تھا سمبل بھائی کے سر پر بمب پھوڑتے ہوئے بولی بولی
آپ کا دماغ خراب ہوگیا ہے
سبحان غصے سے بولا
کیوں میں نے کیا پاگلوں والی حرکت کر دی ہے سمبل سنجیدگی تیور سخت کرتے ہوئے بولی
یہ جو آپ نے کہا ہے کے میں نکاح کروں اس لڑکی سے کیوں میں جان سکتا ہوں
سبحان غصے سے بولا
میری بات اپنے کان کھول کر سنو
سمبل اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی
ابھی تو تمہیں میرب پر ترس آرہا ہے کے وہ بے چاری کومے میں ہے یا پھر شاید تھوڑا بہت پیار ہو
سبحان ہر مرد کو بچہ لازمی چاہیۓ ہوتا ہے اور وہ بچے کے لیۓ دوسری شادی بھی کرتا ہے
لیکن میرب اب تمھیں کبھی اولاد نہیں دے گی اور تمھیں دوسری شادی بھی لازمی کرنی پڑے گی
اور میں کون سا تمھیں یہ کہ رہی ہوں کے میرب کو طلاق دے دو
میرب کو بھی ساتھ رکھو اگر وہ رہنا چاہے تو
ہم تو یہ بھی نہیں جانتے وہ کب ہوش میں آۓ گی اب اسکے پیچھے تم اپنی زندگی تو برباد نہیں کرسکتے نہ
اور میں اچھے سے جانتی ہوں اگر تم ابھی انکار کرو گے تو بعد میں خود مجھے کہو گے کے میرے لیۓ لڑکی ڈھونڈو سمبل ساری بات مکمل کرتے ہوئے بولی جو ایک حقیقت تھی
سبحان ابھی تم نکاح کرلو اس لڑکی سے بعد میں ہم سب میرب کو ساری سیچوییشن سمجھا دیں گیں
اور اگر وہ سمجھ دار ہوئ تو تمہارے ساتھ ہی رہے گی ورنہ اپنا راستہ الگ کرلے گی
تو بولو کیا کہتے ہو تم سمبل سبحان کو دیکھتے ہوئے بولی جو بہت سی سوچوں میں الجھا ہوا تھا
میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا سبحان کنفیوزڈ سا سمبل کو دیکھتا ہوا بولا
ٹھیک ہے اتنی جلدی بھی نہیں ہے بتانے کی سمبل بول کر باہر نکل گئ
ارے عمل تم کب آئ فریدہ صاحبہ روم سے باہر نکلتے ہوئے بولی
میں
تھوڑی دیر پہلے ہی آئی ہوں عمل مسکراتے ہوئے ماں سے بولی
اور ساتھ ہی فریدہ عمل کے پاس گئی
میری بیٹی کتنا مس کررہی تھی آپ کو ماما فریدہ صاحبہ عمل کو اپنے گلے لگانے لگی جب عمل ایک دم دور ہوئی
ماما پلیززز سلام کرلیں عمل ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولی کیونکہ اسکے پورے بدن میں بہت درد ہو رہا تھا
کیوں گلے کیوں نہیں لگ رہی فریدہ صاحبہ خفگی سے بولی
ماما پلیززز ابھی یہ سوال نہ کریں عمل منہ بنا کر بولی
اچھا جی فریدہ صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی اور عمل کے بلکل ساتھ بیٹھ گئ
عرش نہیں آیا فریدہ صاحبہ پیچھے دیکھتے ہوئے بولی
نہیں
عمل بس اتنا ہی بولی
کیوں نہیں آیا وہ فریدہ صاحبہ نے بولتے ساتھ ہی عمل کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ہاتھ رکھتے ہوئے تھوڑا زور بھی لگایا
آہ ہ عمل ایکدم درد کی وجہ سے کراہی
ماں ماں ہوتی ہے عمل کے چہرے کو دیکھ کر وہ شک میں چلی گئی تھی کوئ تو بات ضرور ہوئی ہے
کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ نہیں بلکے یہ کہنا درست ہوگا کے کیا کیا ہے عرش نے تمہارے ساتھ فریدہ صاحبہ غصے سے بولی
عرش نے مجھے مارا تھا طبعیت ٹھیک نہیں تھی اسلیۓ نہیں آسکی اب تھوڑی بہتر ہوئی تو آگئ عمل بلکل عام سے انداز میں بولی
فریدہ صاحبہ تو اپنی بیٹی کو دیکھ کر حیران تھی جو مار کھانے کے بعد اتنے نارمل لہجے میں بول رہی تھی ویسے عمل شادی سے پہلے کسی کی اونچی آواز تک نہیں سنتی تھی۔
کس طرح مارا ہے اسنے فریدہ صاحبہ اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بیٹی سے پوچھنے لگی
ماما عرش نے جو میرے ساتھ کیا ہے اسکی معافی نہیں ہے اور نہ ہی اب میں اسکے ساتھ رہوں گی اور پلیز آپ مجھ سے ایسے سوال کر کے میرے زخموں کو تازہ نہیں کریں عمل درد بھرے لہجے میں بولی
اب نہ ہی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نہ ہی کوئ عرش کے لیۓ گلہ تھا
بیٹا میں تمہارے بابا سے بات کروں گی فریدہ بیٹی کو دکھ سے دیکھتے ہوئے بولی
نہیں ماما آپ بابا سے کوئ بات نہیں کریں گی میں خود ان سے بات کروں گی عمل ماں سے بولی
ٹھیک ہے فریدہ صاحبہ اپنی عمل کو دیکھتے ہوئے بولی
جو بلکل کمزور ہوئی ہوی تھی
ماما آپ زمل کو کال کر کے بتائیں کے عمل اسے بلا رہی ہے
یا پھر آپ کریم انکل کو اسکے گھر بھیج دیں وہ زمل کو لے آۓ گا عمل ماں سے بولی
اچھا تم ریسٹ کرو میں زمل کو بلوا لوں گی فریدہ صاحبہ پریشانی سے بیٹی کو دیکھتے ہوئے بولی
اوکے تھینکیو عمل پھیکی سی مسکراہٹ مسکرا کر اپنے روم میں چلی گئ
مریم دیکھو تمہارا پرانا عاشق آگیا ہے آرت کمرے میں آتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اپنی شرٹ کے بٹن بھی کھولنے لگا
مریم بھی اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی
کیا ہوا لگتا ہے آج موڈ کافی اچھا ہے تمہارا آرت حیرانگی سے بولا کیونکہ جب بھی وہ مریم سے ملتا تو وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی اور ڈھیروں ڈھیر باتیں سناتی
ہاں آج میرا موڈ اتنا اچھا ہے تمھیں بتا نہیں سکتی مریم اپنا دوپٹہ اتارتے ہوئے بولی
واہ پھر تو بہت اچھی بات ہے آرت نے بولتے ساتھ ہی مریم کو اپنے قریب کھینچا
آرت تھوڑی دیر کے لیۓ پیچھے ہٹ جاؤ مریم اپنے آپ کو چھڑاتے ہوئے بولی
کیوں کیا ہوا آرت ماتھے پر سلوٹیں لاتے ہوئے بولا
بس دس منٹ مریم مسکراتے ہوئے بولی
مشکل ہے لیکن چلو تمہارے لیۓ یہ بھی منظور ہے آرت نے بولتے ساتھ ہی مریم کو چھوڑ دیا
مریم کے واشروم گۓ ہوۓ پندرہ منٹ گزر گئے تھے لیکن وہ ابھی تک نہیں نکلی تھی
مریم یار کیا ڈرامہ ہے اب نکل بھی جاؤ آرت غصے سے بولا
نکل گئ ہوں یار مریم باہر آتے ہوئے بولی
سارا موڈ خراب کردیا ہے میرا آرت بیڈ پر بیٹھتے ہوئے خفگی سے بولا
میں ہوں نہ تمہارا موڈ ٹھیک کرنے کے لیۓ مریم نے بولتے ساتھ ہی اپنے پیچھے سے پسٹل نکالی
پسٹل کو دیکھ کر آرت ایکدم کھڑا ہوا
یہ کیا کررہی ہو تم آرت خوفزدہ ہوتے ہوۓ بولا
میں تم سے کہتی تھی نہ کے نہیں چھوڑوں گی تمھیں اور تم ہنستے تھے
کے میں کیا کرسکتی ہوں تو دیکھو تم
مریم کیا کیا کرسکتی ہے مریم نے بولتے ساتھ ہی عرش کو گولیاں ماری جو عرش کی کمر سے لگ کر آگے سے نکلی تھی کیونکہ وہ بھاگ رہا تھا لیکن مریم نے اسے باہر بھاگنے کی مہلت دی ہی نہیں
وہ منہ کے بل نیچے گر گیا
یااللہ مجھے معاف کرنا مریم روتے ہوئے اپنے اللہ سے بولی اور ساتھ ہی اپنے سر پر پسٹل رکھ کر خود کو گولی مار دی
