238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 18

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

عرش ڈرائیو کر رہا تھا جب راستے میں اسنے ڈھابے کو دیکھ کر گاڑی روک دی

اور خود اتر کر ایک چارپائی پر بیٹھ گیا

عرش بھائ اتنے دنوں بعد آپ آئیں ہیں ایک چھوٹا سا بچہ عرش کے پاس آیا عرش ہفتے میں دو تین چکر اس ڈھابے پر ضرور لگاتا تھا کیونکہ یہاں کی چاۓ اسے بہت پسند تھی

میرے کاکے میں مصروف تھا بہت دنوں سے اسلیۓ نہیں آسکا عرش بچے کا گال کھینچتے ہوئے بولا

اچھا چلو اب آگۓ ہیں تو آپ کے لیۓ گرماگرم چاۓ لاتا ہوں کاکا بول کر چلاگیا

عرش اپنے سامنے کھلے روڈ کو دیکھ رہا تھا جہاں سے تیز تیز گاڑیاں جارہی تھی ہلکی ہلکی دھوپ رود پر پڑھ رہی تھی عرش کو صبح کی ٹھنڈ اور ہلکی دھوپ بہت پسند تھی

عرش تم یہاں کیا کر رہے ہو حسن صاحب عرش کی طرف آتے ہوئے بولے

اسلام علیکم مامو عرش کھڑا ہوتے ہوئے بولا

وعلیکم السلام حسن صاحب بولے

بیٹھیں عرش اپنے ساتھ ہی جگہ پر بیٹھاتے ہوۓ بولا

تو حسن صاحب بیٹھیں

میں تو آتا رہتا ہوں یہاں پر لیکن آپ کو آج دیکھ رہا ہوں عرش سنجیدگی سے بولا

ہاں بیٹا اس ڈھابے کے اردگرد کی جگہ میں نے عمل کے لیۓ خرید لی تھی کیونکہ اس میڈم نے ٹیچر بننا تھا تو میں اسکے لیۓ سکول بنانے کا سوچ رہا تھا لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا حسن صاحب افسوس سے بولے

دوسری طرف عرش بلکل خاموش تھا

حسن کل میں نے ظفر کو دیکھا تو اسکا رویہ میری بیٹی کے ساتھ بلکل اچھا نہیں تھا جو کچھ بھی ہوا ہے میرب کے ساتھ اسکا گنہگار میری عمل کو سمجھ رہا ہے لیکن جہاں تک میں عمل کو جانتا ہوں وہ کبھی کسی کے لیۓ برا نہیں چاہتی

اگر آپ نے میرے بابا کا رویہ دیکھا تھا تو آپ عمل کو لے جاتے عرش حسن صاحب کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا

بیٹا آخر کونسا باپ اپنی اولاد کو پریشانی میں دیکھ کر اسے اسی حال میں چھوڑ سکتا ہے

میں عمل کو لے کر جارہا تھا لیکن وہ نہیں آئ شاید اسے تم پر بھروسہ ہے کے تم اسکے برے وقت میں ساتھ دو گے حسن صاحب مسکراتے ہوئے بولے

عرش حسن صاحب کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ رہا تھا اور اپنے کی ہوئ حرکت کے بارے میں سوچ رہا تھا

یہ لیں چاۓ کاکا چاۓ دیتا ہوا بولا

عرش اسکو دیکھ کر مسکرانے لگا عرش بھائ آپ بہت پریشان لگ رہے ہیں کاکا ہنستے ہوئے بولا جس کے آگے سے دو دانت بھی نہیں تھے

میں پریشان ہوں تمھیں ایسا کیوں لگ رہا ہے عرش اس سے چاۓ لے کر سامنے ٹیبل پر رکھنے لگا

آپ پہلے آتے تھے تو ایسے خاموش نہیں بیٹھتے تھے بلکے مجھے اپنے ساتھ بیٹھا کر باتیں کرتے تھے اور میرے ساتھ ہی چاۓ پیتے تھے

اوو ہاں عرش ہنستے ہوئے بولا تو کاکا بھی ہنسنے لگا

آؤ میری جان عرش نے اس چھوٹے بچے کو اپنی گود میں بیٹھانے لگا

عرش بھائ اب میں بڑا ہوگیا ہوں کاکا مصنوعی غصہ دیکھاتے ہوئے بولا

تو حسن صاحب بھی ہنسنے لگے

تو میں کیا کروں عرش بچے کو دیکھتے ہوئے بولا

آپ مجھے گود میں بیٹھا کر میری توحین کررہے ہیں کاکا بولا

اپنا نام پتہ ہے سب تمھیں کیا کہتے ہیں عرش اسکی گالوں کو کھینچتا ہوا بولا

ہاں کاکا کہتے ہیں وہ بھی آپ کی وجہ سے کاکا منہ بنا کر بولا

ماشااللہ حسن صاحب نو سالہ کاکے کو اپنی گود میں بیٹھاتے ہوۓ بولا

بیٹا سکول کیوں نہیں جاتے حسن صاحب بولے

میں نہیں جاتا کیونکہ میں اپنے ابو کے ساتھ ڈھابے پر ہوتا ہوں کاکا مسکراتے ہوئے بولا

اچھا جب میری بیٹی اپنا سکول کھولے گی تو تم بھی پڑھنا حسن صاحب مسکراتے ہوئے بولے

پتہ نہیں انکل آپ کی بیٹی سکول کہاں کھولے گی اور کب کھولے گی کاکا افسوس سے بولا

جلدی کھولے گی اور آپ کے ڈھابے کے پیچھے ہی کھولے گی حسن صاحب بولے

جبکے عرش کا دماغ پھر عمل کی طرف چلا گیا تھا

او یس کاکا ہنستے ہوئے بولا تو حسن صاحب بھی مسکرانے لگے

کدھر جارہے ہو عرش حسن صاحب عرش کو دیکھتے ہوئے بولے جو کھڑا ہو گیا تھا

مامو ہوسپٹل جارہا ہوں کل رات سے نہیں گیا عرش اپنے والٹ سے پیسے نکالتے ہوئے بولا

ٹھیک ہے جاؤ حسن صاحب بول کر واپس کاکے کی طرف متوجہ ہوۓ

عرش بنا کچھ کہے ٹرے پر پیسے رکھ کر نکل گیا

شکر ہے یار سمبل تم آگئی سبحان شکر کے کلمے ادا کرتے ہوئے بولا

کیوں کیا ہوا سمبل مسکراتے ہوئے بولی

یار کل سے میرب کے گھر سے کوئ نہیں آیا اور مجھے آفس سے کال آئ ہے اگر میں آفس نہ گیا تو مجھے نکال دیں گیں سبحان اپنی جیکٹ پہنتے ہوئے بولا

اچھا میں یہی ہوں تم جلدی سے جاؤ سمبل بولی

اوکے اللہ حافظ سبحان ہوسپٹل سے بھاگتے ہوئے باہر نکل گیا

یہ کیا میرب کے گھر سے کل رات سے کوئ نہیں آیا سمبل حیرانگی سے بولی

عرش ڈرائیو کر رہا تھا اور ساتھ ہی خود سے باتیں بھی کررہا تھا

یار میں اتنا گھٹیا تو نہیں تھا کے ایک عورت پر ہاتھ اٹھاتا اور اس پر ہاتھ اٹھایا جس نے میرے لیۓ ہی اپنے گھر جانے سے انکار کر دیا

عرش بلکل آہستہ آہستہ ڈرائیو کررہا تھا

واقعی عمل تمھیں مار کر میں نے تمھیں تمہاری اوقات نہیں بلکے اپنی اوقات دیکھائی ہے کیوں میں نے وحشی جانوروں والی حرکت کی

میرے پاس تو علم ہے کے عورت پر ہاتھ اٹھانے والا مرد مرد نہیں ہوتا پھر بھی میں نے ساری حدیں پار کردی کیوں عرش نے غصے سے گاڑی کو بریک لگائی اور اسٹیرنگ پر اپنا سر رکھ دیا

عمل مجھے معاف تو کبھی بھی نہیں کرے گی کیونکہ ہر لڑکی کو محبت سے زیادا عزت چاہیۓ ہوتی ہے جو میری اوقات سے باہر تھا اسے دینا عرش افسوس سے بول رہا تھا کاش میں نے عمل کے ساتھ غلط نہ کیا ہوتا

عنیقہ تم نے اپنی خوشی کے لیۓ سب کی زندگی برباد کردی

اپنی بہن کو تم نے تباہی کی طرف خود دھکیلا ہے عرش عنیقہ کا سوچتے ہوئے بول رہا تھا

بات اتنی سی ہے ہم لاحاصل کو روتے ہیں اور حاصل کو رلاتے ہیں لیکن سب ایسا نہیں ہوگا عرش عنیقہ اور عمل کے بارے میں سوچتے ہوۓ بولا

اور ساتھ ہی اپنی گاڑی کو ریوس میں لے کر نکل گیا

حریم کل شو نہیں ہوا عنیقہ بیٹھتے ہوئے بولی

ہاں یار ویسے جب سے میں آئ ہوں تو ایسا پہلی بار ہوا ہے ورنہ یہاں پر کوئ شو کینسل ہوجاۓ ایسا کبھی نہیں ہوا حریم حیرانگی سے بولی

اچھا عنیقہ مسکراتے ہوئے بولی

لڑکیوں گاڑی آگئ ہے آجاؤ زینت بولی

اچھا حریم کھڑی ہوئ اور ساتھ ہی عنیقہ بھی کھڑی ہوگئ

عنیقہ تم نے ناشتہ بھی نہیں کیا حریم منہ بنا کر بولی

ابھی موڈ بھی نہیں ہے میرا عنیقہ بولی

یہ لو حریم نے سفید رنگ کی بڑی چادر عنیقہ کو دی جس پر لال رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھول بھی تھے

عنیقہ نے چادر کھول کر دیکھی تو وہ بہت بڑی تھی

حریم یہ عام چادروں سے بہت بڑی ہے عنیقہ چادر کو دیکھتے ہوئے بولی

ہاں میری بہن اس سے تم اپنے آپ کو مکمل ڈھانپ لینا جیسے میں نے اپنے آپ کو ڈھانپا ہے حریم مسکراتے ہوئے بولی جس نے اپنے چہرے کو بلکل چھپایا ہوا تھا

مجھ سے تم جیسا نقاب نہیں ہوتا اسلیۓ میں ایسے پہنو گی عنیقہ اپنے چہرے پر چادر ڈالتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی تھوڑی سی چادر نیچے سے اوپر کی تھی تاکہ وہ آگے پیچھے دیکھ کر چل سکے

یہ بھی ٹھیک ہے ہم طوائفوں کو تو بس اپنے آپ کو چھپانا ہوتا ہے حریم مسکراتے ہوئے بولی تو عنیقہ خاموش ہو گئی

عرش گھر آیا تو سیدھا اپنے کمرے میں گیا

عمل کو جہاں چھوڑ کر گیا تھا وہ وہاں پر ویسے ہی پڑی تھی

عرش اپنی پیشانی رگڑتے ہوئے آگے بڑھا اور عمل کو اپنی گود میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا تو اسے بخار کے ساتھ ساتھ نیل بھی پڑے تھے

عرش نے عمل کی قمیص کے بازو کو اوپر کیا تو اس پر بہت زیادا نیل ہوئے تھے

ابھی تو اسکے چھوٹے سے بازو پر اتنے نیل ہے پورے بدن پر کیا ہوگا عرش پریشانی سے بولا

کیا کروں میں عرش پریشانی سے بولا

عمل عرش عمل کا چہرا تھپتھپاتے ہوئے بولا لیکن وہ نہیں اٹھی یار یہ تو بے ہوش بھی ہے عرش سوچتے ہوئے کھڑا ہوا اور پھر کبرڈ کے پاس گیا جہاں سے عمل کے لیۓ ایک سمپل سی شرٹ نکالی جو لائٹ پنک کلر کی تھی اور اس پر دو باربی ڈول بھی بنی تھی عرش نے روم کے دروازے کو لاک کیا پھر جاکر روم کی لائٹ بھی آف کردی

عمل کے پاس آیا شرٹ کو لے کر کیونکہ دوسرے کپڑے اسکے بےحد خراب ہوۓ تھے اسلیۓ اسکی شرٹ چینج کی

چینج کرنے کے بعد عرش نے فیملی ڈاکٹر کو کال کی جو شروع سے ہی عرش کے گھر آتی رہتی تھی

اسلام علیکم ڈاکٹر رضیہ

وعلیکم السلام

ڈاکٹر آپ ابھی گھر آجائیں گی عمل کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے عرش بولا

عرش میں آ تو جاؤں گی لیکن یہ عمل کون ہے ڈاکٹر ہنستے ہوئے بولی

میری وائف ہے عرش بولا

تم نے شادی کرلی ڈاکٹر حیرانگی سے بولی کیونکہ عرش اور ڈاکٹر کے اچھے تعلقات تھے آپس میں

جی ڈاکٹر شادی کرلی میں نے عرش تنگ ہوتے ہوئے بولا کیونکہ عمل کی حالت اسے ٹھیک نہیں لگ رہی تھی

اوکے میں دو گھنٹے تک آجاؤں گی کیونکہ ابھی کلینک میں کوئ نہیں ہے ڈاکٹر بولی

دو گھنٹے تو بہت زیادہ ہو جائیں گیں عرش پریشانی سے بولا

میں عمل کو لے آؤں آپ کی کلینک میں عرش بولا

ہاں تم اسے یہی لے آؤ ڈاکٹر بولی

اوکے اللہ حافظ عرش نے بولتے ساتھ ہی کال کاٹ دی

پھر عمل کو اٹھا کر باہر نکلا

جو لینا ہے یہی سے لے لو کیونکہ اور دکانوں پر ہم نہیں جاسکتے رشیدہ عنیقہ سے بولی

جبکے عنیقہ بازار کو دیکھ رہی تھی جہاں سارے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے کچھ لڑکیاں ایک ساتھ چیزیں لے رہی تھی تو کچھ نے اپنی ماؤں کے ہاتھ پکڑے تھے عنیقہ کا دل کررہا تھا چیخ چیخ کر سب کو بتاۓ وہ کس اذیت سے گزر رہی ہے عنیقہ حریم نے اپنی کونی عنیقہ کو ماری جو خیالات میں گم تھی

جی عنیقہ ایکدم ہوش میں آئی رشیدہ کی طرف دیکھا تو وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی

کون سے کپڑے پسند ہے تمھیں حریم مسکراتے ہوئے بولی

عنیقہ کو جو سامنے نظر آۓ تو اسنے اس پر ہاتھ رکھ دیا

بھائ مجھے بچو اور بچیوں کے کپڑے دیکھائیں رشیدہ دوکاندار سے بولی

جی باجی وہ جانتا تھا یہ عورتیں کون ہے دوکاندار کے تعلقات بھی رشیدہ کے ساتھ اچھے تھے اسلیۓ رشیدہ ہر چیز اس سے لیتی تھی

رشیدہ نے بیس جوڑے لڑکے اور بیس لڑکیوں کے لے کر اپنے ڈرائیور کو کال کی کے دوکان میں آۓ اور ساری چیزیں لے جاۓ

عنیقہ کا چہرا بلکل چھپا ہوا تھا وہ اندر رو رہی تھی اور روتے ہوئے اسے پتہ ہی نہیں چلا کب اسکی ہچکیوں کی آواز باہر آنے لگی

حریم اسکا منہ بند کروا رشیدہ غصے سے ہلکی آواز میں بولی

عنیقہ یار چپ ہو جاؤ حریم عنیقہ کی طرف ہوتے ہوئے بولی لیکن عنیقہ چپ نہیں ہوئی عنیقہ چپ ہونے کی کوشش کررہی تھی لیکن اس سے چپ نہیں ہوا جارہا تھا

عنیقہ تمھیں میری قسم ہے یار چپ ہو جاؤ حریم رونے والا منہ بنا کر بولی کیونکہ بعد میں اسکی بھی شامت آنی تھی

باجی یہ سارے شاپر گاڑی میں رکھ دوں ڈرائیور آتے ہوئے بولا

ہاں لے جا سارا کچھ رشیدہ نے بول کر عنیقہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ ہی گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئ اور ساتھ ہی عنیقہ کے ہاتھوں میں اپنے ناخن کبھوۓ ہوئے تھے لیکن عنیقہ کو ہوش بلکل نہیں تھا اس ٹائیم اسکا دل چاہ رہا تھا وہ یہاں سے بھاگ جاۓ لیکن یہ بلکل نہ ممکن تھا

عنیقہ کو گاڑی میں پھینکا اور خود بھی اسکے ساتھ بیٹھی رشیدہ کا دوسرا ہاتھ حریم نے پکڑا ہوا تھا اسلیۓ وہ بھی انکے ساتھ ساتھ ہی چل رہی تھی

بیٹھ جا آگے تو رشیدہ حریم کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولی

تو وہ ڈر کر آگے بیٹھ گئ

گاڑی کے شیشے اوپر کیے ہوۓ تھے اور شیشے تھے بھی کالے جس وجہ سے باہر سے کچھ بھی اندر نظر نہیں آرہا تھا

رو رو کر سب کو اعلان کرنا ہے میں طوائف ہوں اور میں یہاں سے بھاگنا چاہتی ہوں ہاں رشیدہ نے غصے سے بول کر عنیقہ کے گلے کو پکڑ لیا

عنیقہ کی ٹانگوں سے جان ختم ہو رہی تھی کیونکہ وہ موٹی اپنی پوری قوت لگا رہی تھی

آپا مر جاۓ گی وہ ڈرائیور بولا کیونکہ حریم میں ہمت نہیں تھی کچھ بھی بولنے کی

رشیدہ نے زور سے عنیقہ کی گردن کو جھٹکا عنیقہ زور زور سے کھانسنے لگی آنکھو سے تیز پانی آرہا تھا

بات سن میری یہاں سے تیرا واپسی کا کوئ راستہ نہیں ہے طوائف خانے سے سیدھا تو نے قبر میں جانا ہے سمجھی رشیدہ عنیقہ کے پاؤں پر اپنا ٹھیک پاؤں رکھ کر مسلنے لگی جس کی وجہ سے عنیقہ کے پاؤں سے چمڑا بھی اترا

چھوڑ دو مجھے میں نہیں رہوں گی وہاں پر تم لوگ کیوں نہیں سمجھتے ہاں عنیقہ چیختے ہوئے بولی شاید باہر سے کوئ آجاۓ

یہ آرت کون سی پاگل کو اٹھا کر لے آیا ہے رشیدہ نے غصے سے بول کر اپنے گھِسے ہوۓ بٹوے میں سے چھوٹا سا چاقو نکالا

تیری آواز باہر کوئ نہیں سن سکتا سمجھ آئ تجھے رشیدہ چاقو عنیقہ کے سامنے کرتے ہوئے بولی

عنیقہ رونے لگ گئ

باجی ہم پہنچ گۓ ہیں ڈرائیور مین روڈ پر گاڑی کھڑی کرتے ہوئے بولا

اب اس لڑکی کا کیا کریں رشیدہ غصے سے بولی

آپا آپ جائیں بچو کے کپڑے دے دیں اسکی زمہ داری میں لیتی ہوں حریم بولی

رشیدہ حریم کو دیکھنے لگی

عرش کلینک میں بیٹھا ہوا تھا جبکے عمل اندر لیٹی ہوئی تھی

ڈاکٹر عمل کا چیکپ کر کے باہر آئ تو اسے بہت زیادا غصہ آیا ہوا تھا

یہ تمہاری بیوی ہے ڈاکٹر اپنے چشمے کو ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی

جی عرش نیچے دیکھتے ہوئے بولا

اتنی چھوٹی ایج میں لڑکی سے شادی کرنا قانونی جرم ہے لیکن یہاں شادی کرنے کے بعد تشدد بھی کیا گیا ہے میں جان سکتی ہوں ایسا کیوں ہوا ہے ڈاکٹر غصے سے بولی

عمل کیسی ہے عرش ڈاکٹر کی بات کو اگنور کرتا ہوا بولا

میں نے کیا پوچھا ہے ڈاکٹر پھر سے بولی

دیکھیں ہماری پوری فیملی آپ کی بہت عزت کرتی ہیں اسلیۓ میں کوئ بھی سوال کا جواب نہیں دوں گا جس کی وجہ سے آپ کو شرمندگی ہو عرش سیریس انداز میں بولا

عرش وہ لڑکی زیادہ سے زیادہ سولہ سترہ سال کی ہے اور جو کچھ تم نے اسکے ساتھ کیا ہے اس پر تم پر آیف آئ آر ہوسکتی ہے ڈاکٹر بولی

کون کاٹے گا مجھ پر آیف آئ آر عرش ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا ڈاکٹر خاموش تھی

عرش پھر عمل کے پاس چلا گیا

عمل عرش نے عمل کو آواز دی جو دوسری طرف گردن کیۓ لیٹی ہوئی تھی عرش کی آواز سننے کے باوجود بھی اسکی طرف نہیں دیکھا

ہیلو عرش نرس کو آواز دیتا ہوا بولا

یس نرس بولی

یہ اتاریں ڈرپ میں اسے گھر جاکر لگا دوں گا عرش بولا

اوکے نرس عمل کے پاس آئ تاکہ ڈرپ کو اتار دے

عمل نے نرس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تاکہ وہ نہ اتارے

آپ کی وائف اتارنے نہیں دے رہی نرس عرش سے بولی جو دروازے پر ٹیک لگاۓ اسے ہی دیکھ رہا تھا

آپ جائیں اپنے پیشنٹ دیکھ لیں عرش نرس سے بولا لیکن دیکھ عمل کو رہا تھا۔

اوکے نرس باہر چلی گئ

عرش عمل کے پاس آیا تو عمل نے بنا کچھ کہے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ دیا

عمل کی یہ ناراضگی عرش کو کافی تکلیف دے رہی تھی لیکن جو اسنے کیا تھا وہ بھی قابل معافی نہیں تھا

عرش نے جیسے عمل کے ہاتھوں سے ڈرپ اتاری عمل بنا کچھ کہے اٹھنے لگی لیکن درد کی وجہ سے واپس لیٹ گئ کیونکہ پورے جسم میں نیل کے ساتھ ساتھ تھوڑے تھوڑے زخم بھی بن گۓ تھے

یار تم ناراض ہو میں جانتا ہوں یوں مجھ سے دور بھاگنے سے تمھیں اور بھی تکلیف ہوگی عرش بولا کیونکہ عمل اسکے سہارے کے بغیر نہیں چل سکتی تھی

عمل چپ چاپ واپس لیٹ گئ عرش سے کوئ بھی بات نہیں کی

عرش عمل کی دوائیاں لینے چلاگیا

واپس آیا تو عمل اسی طرح لیٹی ہوئی تھی عرش نے عمل کو کمر سے پکڑ کر کھڑا کیا

لیکن عرش نے جیسے اسکی کمر کو ہاتھ لگایا تو ایکدم عمل کی ہلکی سی چیخ نکلی

عرش کو پھر سے شرمندگی ہوئ

عرش آہستہ آہستہ عمل کو گاڑی تک لایا

جیسے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تو عمل نے پیچھے والے دروازے پر ہاتھ رکھا صاف مطلب تھا آگے نہیں بیٹھنا تو عرش نے بنا بحس کیۓ پیچھے والی سیٹ کا دروازا کھولا اور آرام سے عمل کو بیٹھا دیا

پھر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کردی صیح ہے عمل مجھے ڈرائیور تو بنادیا عرش مسکراتے ہوئے بولا لیکن عمل نے کوئ بھی جواب نہیں دیا عمل ایسا بی ہیو کررہی تھی جیسے بہری ہو لیکن پھر بھی عرش چپ نہیں ہوا

عمل اتنی سردی ہے بتاؤ گرم چیزوں میں سے کیا کھاؤ گی عرش بولا

دوسری طرف جواب بلکل چپ میں آیا

عرش نے گاڑی روکی پھر باہر نکل گیا

عرش کے باہر جاتے ساتھ ہی عمل کی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے

عمل نے اپنی شرٹ کے بازو اوپر کیۓ تو نیل دیکھنے لگی پھر ان پر اپنی انگلیاں پھیرنے لگی

یااللہ میرے ساتھ ایسا کیوں کیا عرش نے

کیا انکو اپنی ماں بہن ہی عزیز ہے اپنی بہن کے لیۓ انہوں نے مجھے اس قدر مارا ہے عمل روتے ہوئے اپنے اللہ سے بات کررہی تھی

نہیں میرب آپی کے لیۓ تو انہوں نے مجھے نہیں مارا عرش نے تو مجھے عنیقہ کے لیۓ مارا ہے کیونکہ میں نے عنیقہ کو بھگا کر عرش کی شادی نہیں ہونے دی یہی وجہ ہے عرش کے مارنے کی

اگر وہ ابھی بھی عنیقہ سے پیار کرتے ہیں تو میرے ساتھ ہی یہ سارے ڈرامے کیوں

مجھے کیوں استعمال کررہے ہیں عمل روتے ہوئے دل میں بول رہی تھی

عرش دوڑتا ہوا گاڑی کی طرف آیا وہ اپنی جیکٹ بھی گاڑی میں بھول گیا تھا جس کی وجہ سے وہ تھر تھر کانپتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا

ہاتھ میں گجرے اور چاۓ تھی

لیکن چاۓ ایک ہی کپ تھی

عمل نے اپنے آنسو صاف کیے اور باہر دیکھنے لگی جیسے یہاں کوئ آیا ہی نہ ہو

عرش نے عمل کو روتے ہوئے دیکھ لیا تھا

ادھر دو اپنا ہاتھ میں اتنے اچھے گجرے لایا ہوں عرش پیچھے بیٹھتے ہوئے بولا لیکن عمل چپ

عرش نے خود ہی اسکے ہاتھوں میں گجرے پہنا دیۓ

یار چاۓ میں خود تمہارے لیۓ نہیں لایا کیونکہ تمھیں کھانا کھلا کر دوائ دینی ہے اگر چاۓ دے دی تو تم کھانا نہیں کھاؤ گی عرش عمل سے بول رہا تھا لیکن اسے لگ رہا تھا وہ فضول ہی کوئ بکواس کررہا ہے کیونکہ کوئ ہاں نہ کا جواب نہیں آرہا تھا

عمل نے تھوڑا تھوڑا کر کے پورے گجرے سے پھول نکال کر نیچے پھینک دیۓ پھر ان پر پاؤں رکھ دیۓ عرش اسے دیکھ کر مسکرانے لگا پھر واپس فرنٹ سیٹ سنبھالی

تو مجھے پاگل سمجھتی ہے کیا بتا رشیدہ غصے سے حریم سے بولی

نہیں آپا ایسی بات نہیں ہے حریم ڈرتے ہوۓ بولی

اسکو ساتھ لے کر جاؤں گی اور اگر کوئ فضول حرکت کی تو اسکی جان میں لے لوں گی رشیدہ نے غصے سے بول کر گاڑی کا دروازا کھولا چل نکل باہر تو عنیقہ باہر نکلی لیکن اسکا پورا جسم کانپ رہا تھا

رشیدہ نے اسکا ہاتھ پکڑا اور روڈ سے نیچے بڑے سے نالے کے قریب جھونپڑیاں تھی جہاں کافی لوگ سردی سے کانپ رہے تھے

بچو نے گتے لکڑیاں جمع کرکے آگ لگائی ہوئ تھی

رشیدہ ہاۓ ہاۓ کرتے ہوئے نیچے اترنے لگی کیونکہ اسکے پاؤں میں درد ہو رہا تھا

اوۓ بچو سارے ادھر آؤ ڈرائیور تیز آواز میں بولا تو سارے بچے دوڑتے ہوۓ اسکے پاس آۓ

سب کو دے کپڑے رشیدہ ڈرائیو سے بولی

جی آپا ڈرائیو نے سب کو ایک ایک کر سوٹ دیۓ

بچو اپنی ماؤں کو بھی بلاؤ رشیدہ بولی

تو بچے کپڑے لے کر اپنی ماؤں کو بلانے چلے گۓ

اسلام علیکم باجی عورتیں سلام کرتے ہوئے بولی

وعلیکم السلام یہ لو پیسے رشیدہ اپنے بٹوے سے ہر عورت کو پانچ پانچ ہزار دیتے بولی

تو ساری شکریا ادا کرتے ہوئے پیسے لینے لگی

رشیدہ ہر چھ ماہ بعد اس طرح غریب لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پیسے دیتی تھی

سب کے جانے کے بعد رشیدہ واپس گاڑی کی طرف چلنے لگی

آپا تو اتنا خرچہ کیوں کرتی ہے ان غریبوں پر ڈرائیور بولا

میں اور میرے بچے بھوکے مر رہے تھے لیکن کسی نے ایک روٹی کا نوالہ نہیں دیا اسلیۓ مجبوراً مجھے جسم فروشی کا کام کرنا پڑا تب جاکر میرے بچو کو روٹی ملی اب میری یہی کوشش ہوتی ہے میرے سے جتنا ہوسکے میں غریبوں کو پیسے دیتی ہوں تاکہ یہ لوگ غلط کام سے بچ سکے رشیدہ اپنے خیالات میں باتیں کررہی تھی جب عنیقہ چلتی ہوئی گاڑی کے سامنے اپنا ہاتھ چھڑوا کر آگے آگئ

ہاۓ میرے اللہ رشیدہ اپنے سینے پر دونوں ہاتھوں سے تھپڑ مارتے ہوئے بولی

جس گاڑی کے سامنے عنیقہ آئ تھی وہ روکی نہیں بلکے اور بھی گاڑی کو تیز کر کے چلا گیا

حریم کے منہ سے بھی اونچی چیخ نکل گئ تھی

آپا اسکو گاڑی میں لیٹاؤ تاکے اسکو ہسپتال لے جائیں ڈرائیور عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا

اٹھا اسکو جاکر میں لنگڑی کیا کر سکتی ہوں رشیدہ غصے سے بولی

تو ڈرائیور اور حریم نے مل کر عنیقہ کو گاڑی میں لٹایا

عمل بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اور جس جگہ عرش نے اسے مارا تھا اس جگہ کو دیکھ رہی تھی

عرش اپنے ہاتھ میں سوپ سے بھرا باؤل لے کر روم میں آیا

تو عمل نے اپنے اوپر کمبل ڈال دیا

عرش ہنسنے لگ گیا تھا پھر جا کر عمل کے سامنے بیٹھا اور اسکے چہرے سے کمبل ہٹا دیا

بیٹھو عمل عرش نرم لہجے میں بولا

عمل اسی طرح لیٹی ہوئی تھی

عمل ناراضگی مجھ سے رکھو اپنے کھانوں سے نہیں عرش نے سنجیدگی سے بول کر عمل کو بیٹھایا

منہ کھولو عرش چمچ میں سوپ لیۓ عمل کے آگے کرنے لگا

عمل نے اپنے ہاتھ سے عرش کے ہاتھ پر زور سے مارا جس کی وجہ سے سوپ بیڈ پر گرا

عرش نے بنا کچھ کہے دوبارا چمچ میں سوپ لیا عمل نے پھر ایسا کیا

عرش نے تیسری بار دوبارا سوپ لیا تو عمل نے وہی کیا سوپ گرا دیا

عمل کتنا گراؤ گی کچن میں اور بھی پڑا ہے عرش عمل کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا

عمل نے بنا کچھ کہے عرش کے ہاتھ سے باؤل لیا اور خود سوپ پینا شروع کردیا عرش عمل کو دیکھ کر مسکرانے لگا

پھر اٹھ کر کبرڈ کے پاس گیا وہاں سے بیڈ شیٹ نکال کر صوفے پر پھینکی

عمل نے مشکل سے تھوڑا سا سوپ پیا بقایا واپس ٹیبل پر رکھ دیا عرش نے عمل پر کوئ زور زبردستی نہیں کی کے اور پی لو سوپ

عمل کے منہ میں ٹیبلیٹ ڈالی اور ساتھ پانی بھی دیا

عمل نے ٹیبلٹ کھالی

اب عرش سرپ کو ہلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ عمل کو دیکھ کر ہنس بھی رہا تھا

میں یہ نہیں پیوں گی عمل سیریس انداز میں بولی

بچہ آپ نے پینا تو ہے عرش زبردستی آگے ہوتے ہوئے بولا

نہیں میں نہیں پیوں گی یہ دوائ عمل پیچھے ہوتے ہوئے بولی کیونکہ عمل کو شدید قسم کی نفرت تھی دوائیوں سے

عرش نے چمچ عمل کے منہ کے اندر کر ہی دی عمل نے عجیب سا منہ بنا کر دوائ پی لی

پھر واپس دوسری طرف منہ کر دیا اور غصہ عمل کی شکل سے نظر آرہا تھا

عرش نے عمل کے اوپر سے کمبل ہٹایا تو عمل آرام سے خود ہی کھڑی ہو گئی کیونکہ جو گند اسنے کیا تھا وہ صاف بھی تو کرنا تھا

عرش نے بیڈ پر بیڈ شیٹ ڈالی ایک سائیڈ سے صیح کرتا تو دوسری سائیڈ خراب ہو جاتی دوسری سائیڈ ٹھیک کرتا پھر پیچھے سے خراب ہو جاتی تھک گیا تھا وہ صیح کر کر کے لیکن مجال ہو جو بیڈ کی سلوٹیں ختم ہو

عمل اپنا چہرا دوسری طرف کرکے کھڑی تھی

آجاؤ عرش عمل سے بولا

عمل واپس بیڈ کی طرف آئ بیڈ کی چادر دیکھی تو پوری کی پوری خراب تھی

لیکن عمل کا عرش سے بات کرنے کا بلکل دل نہیں تھا اسلیۓ چپ کر کے بیڈ پر لیٹ گئ

عرش نے کھڑکی پر لگے پردے نیچے کیۓ اور لائٹ آف کردی

عمل میں ہوسپٹل جارہا ہوں عرش عمل سے بولا لیکن اسنے کوئ رسپونس نہیں دیا عرش نے ریموٹ اور موبائل عمل کے قریب ہی رکھ دیا تھا

عمل اگر بور ہوئ تو ٹی وی دیکھ لینا اور اگر پھر بھی بوریت ختم نہ ہورہی ہو تو مجھے کال کردینا عرش ہنستے ہوئے بولا

لیکن عمل چپ

عرش باہر نکل گیا

عنیقہ کو ہوسپٹل میں جیسے لے کر آۓ تو رشیدہ نے اسکا چہرا پورا کا پورا چھپایا ہوا تھا

جیسے روم میں لاۓ تو ڈاکٹر نے اسکے چہرے سے چادر ہٹائی

آپ کیا لگتی ہیں ان کی ڈاکٹر رشیدہ سے بولی

میری بیٹی ہے رشیدہ ڈاکٹر سے بولی

ڈاکٹر رشیدہ کو دیکھتی پھر عنیقہ کو کہی سے بھی یہ ماں بیٹی نہیں لگ رہی تھی

کیسی ہے میری بچی رشیدہ ڈاکٹر سے بولی

اتنی چوٹیں کیسے آئ ہیں انکو ڈاکٹر عنیقہ کے پاؤں ہاتھوں اور ماتھے پر دیکھتے ہوئے بولی

گاڑی کے سامنے آگئ تھی غلطی سے رشیدہ غصے سے بولی

ٹھیک ہے دو گھنٹے تک ہوش میں نہیں آۓ گی یہ کیونکہ انھیں انجیکشن دیا ہے جس کے زیر اثر یہ سورہی ہیں ڈاکٹر عنیقہ کے سر پر پٹی باندھتے ہوئے بولی

ڈاکٹر صاحبہ میں اسے لے جاؤں گھر وہاں میرے چھوٹے بچے اکیلے ہیں رشیدہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولی

لے جائیں آپ انھیں لیکن انکی پٹی کرواتی رہنا اور دوائیاں بھی بقایدہ ٹائیم پر دینا ڈاکٹر ہدایات دیتے ہوئے بولی

جی صیح ہے بہت بہت شکریا آپ کا ڈاکٹر صاحبہ رشیدہ بولی

ڈاکٹر مسکرا کر باہر چلی گئ

جا جلدی سے وہ بیڈ لے کر آ جس میں مریض کو لٹا کر گاڑی تک لے کر جاتے ہیں رشیدہ حریم سے بولی

حریم بھاگتے ہوئے باہر نکلی

تو حریم نے باہر سے ویل چئیر لائ

آپا عنیقہ کو اس میں بیٹھا دیں حریم بولی

جس میں بھی بیٹھانا ہے تو بیٹھا اس منہوس کو سارا دن خراب کردیا اس رشیدہ گالی دیتے دیتے چپ ہوگئ

حریم نے اکیلے بہت مشکل سے عنیقہ کو ویل چئیر پر بیٹھایا پھر رشیدہ آگے ہوئ اور عنیقہ کا چہرا پورا چھپا دیا

حریم عنیقہ کو لے کر جارہی تھی

عرش تیز تیز قدموں سے میرب کے پاس جارہا تھا جب وہ عنیقہ کی ویل چئیر کے سامنے آیا

حریم کی تو جان نکل رہی تھی اب رشیدہ اسے پھر سے باتیں سناۓ گی

اوو سوری عرش حریم سے بولا جس نے اپنا پورا کا پورا چہرا چھپایا ہوا تھا

حریم کچھ نہیں بولی بس عنیقہ کی ویل چئیر کو لے گئ

عرش حیرانگی سے حریم اور ویل چئیر پر بیٹھی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جنہوں نے ایک چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپا ہوا تھا اور منہ سے کچھ بولا بھی نہیں ایسے ہی چلی گئ

میں کیا سوچ رہا ہوں عرش خود سے ہی بولا

اچھے گھر کی لڑکی ہے اسلیۓ تو اپنے آپ کو مکمل ڈھانپا ہوا ہے وہ بھی ایک چادر سے

لیکن عرش یہ نہیں جانتا تھا کہ جو نظر آتا ہے ویسا بلکل نہیں ہوتا

امی آپ کو پتہ ہے میرب کے گھر سے کوئ بھی نہیں تھا ہوسپٹل میں پورا دن میں اکیلی سڑتی رہی ہوں میں سمبل گھر آتے ہوئے بولی

ہاں سبحان بتا رہا تھا ممتاز صاحبہ بولی

کدھر ہے یہ سبحان کا بچہ سمبل غصے سے بولی

ابھی آیا ہے آفس سے اپنے روم میں گیا ہے چینج کرنے ممتاز صاحبہ بولی

امی میں بتا رہی ہوں وہ میرب کا بھائ ہمیں کمتر سمجھتا ہے سمبل غصے سے بولی

کیسی باتیں کررہی ہو تم سمبل ممتاز صاحبہ تنگ آتے ہوئے بولی

امی ایک تو پورا دن ہوسپٹل آتا نہیں کوئ جب آتے ہیں تو ایسا خرچہ کرتے ہیں جیسے ہم لوگوں کے پاس کچھ بھی نہ ہو سمبل بولی

سمبل کیوں بچو کی طرح باتیں کرتی ہو ممتاز صاحبہ بولی

امی آپ کو ایک بات بتانی ہے سمبل سرگوشی والے انداز میں بولی

کیا ممتاز صاحبہ پریشانی سے بولی

میرب بانجھ ہوگئ ہے آج ہی مجھے ڈاکٹر سے پتہ چلا ہے سمبل بولی

کیااااا بات کررہی ہو تم سمبل ممتاز صاحبہ بولی

ہاں نہ امی آج ڈاکٹر نے مجھے بتایا تھا اور یہ بھی کہ رہی تھی کے یہ کب ہوش میں آۓ کوئ پتہ نہیں سمبل بولی

کیا کھسر پھسر ہورہی ہے سبحان باہر آتے ہوئے بولا

تم یہ بتاؤ جاب کا کیا ہوا سمبل بڑی بہنوں کی طرح بولی

تم کیوں بڑی بن رہی ہو سبحان مسکراتے ہوئے بولا

سبحان میرے ساتھ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے ایک سال ہی تو چھوٹی ہوں تم سے سمبل غصہ دیکھاتے ہوئے بولی

ہاہاہا ایک سال چھوٹی ہو بڑی نہیں اور فری تم ہورہی ہو میں نہیں سبحان مسکراتے ہوئے بولا

اچھا اب بس کرو یہ بتاؤ کچھ کہا تو نہیں تمہارے بوس نے ممتاز صاحبہ بولی

نکال دیا ہے مجھے سبحان بولا

نکال دیا ہے سمبل پریشانی سے بولی

کچھ دنوں تک جاؤں گا انٹرویو دینے سبحان ممتاز صاحبہ کے پاس بیٹھتا ہوا بولا

سبحان تم اچھے سے جانتے ہو تمہارے علاؤ کوئ گھر کا خرچہ نہیں اٹھاتا

اور تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے تمھیں نوکری سے فارغ کردیا اور ابھی بھی تم کہ رہے ہو کچھ دنوں تک جاؤں گا انٹرویو دینے سمبل غصے سے بولی

تو کیا کروں ہوسپٹل بھی جانا ہوتا ہے نہ سبحان غصے سے بولا

سبحان سویرا کی شادی بھی اگلے مہینے ہے اور تم جانتے ہو میرے دیور نے سویرا کو اپنے ساتھ کسی اور شہر میں سٹیللڈ ہونا ہے اسلیۓ کچھ بھی ہوجاۓ شادی کی ڈیٹ آگے پیچھے نہیں ہوگی سمبل بولی

تو میں کررہا ہوں نہ سب کچھ آپ کو کیا ٹینشن ہے سبحان سنجیدگی سے بولا

مجھے ٹینشن نہیں ہے بس تمھیں تمہاری زمے داریوں سے آگاہ کررہی تھی سمبل بولی

تھینکیو سو مچ سبحان غصے سے بول کر اپنے روم میں چلاگیا

سمبل ایک تو پہلے ہی میرا بیٹا پریشان ہے اور تم ہو کے اسے اور بھی پریشانیوں میں گھیر رہی ہو ممتاز صاحبہ خفگی سے بولی

امی اسے ہوش ہونا چاہیۓ اپنی ہر زمے داری کا سمبل بولی

امی آپ کو ایک مشورہ دوں سمبل سوچتے ہوۓ بولی

بولو ممتاز صاحبہ پھیکے لہجے میں بولی

عرش نے میرب کے لیۓ ایک اور نرس ہائیر کرلی تھی اور اس نرس کو اپنا پرسنل نمبر بھی دے دیا تھا

آپ کو کوئ بھی کام ہو تو مجھے کال کرنا ویسے تو میں خود ہی چکر لگا لیا کروں گا ہوسپٹل کا عرش سامنے کھڑی لڑکی سے بولا

اوکے سر

دیکھیں آپ نے ایک منٹ بھی میری سسٹر سے پیچھے نہیں ہونا عرش پھر سے بولا

ڈونٹ وری میں ان کے ساتھ ہی رہوں گی آپ پریشان نہ ہو لڑکی بولی

اوکے تھینکو عرش بول کر نکل گیا

عرش ڈرائیو کرتے ہوئے سیدھا گفٹس والی شوپ پر گیا

مجھے ٹیڈی بئیر دیکھا دیں وہ بھی بڑے سائیز کا عرش شاپ کیپر سے بولا

اوکے سر شاپ کیپر نے دو تین کلرز میں ٹیڈی بیئر لاۓ جن میں سے ایک کالا دوسرا لال اور تیسرا سفید تھا

آپ یہ ریڈ والا دے دیں عرش مسکراتے ہوئے بولا

جی شوپ کیپر چلا گیا

چاکلیٹس کے اس سے بڑے پیکٹ نہیں ہیں عرش سامنے پڑی چھوٹی چھوٹی چاکلیٹس کو دیکھتے ہوئے بولا

کیوں نہیں ہے شوپ کیپر کھڑا ہوتے ہوئے بولا

اور ساتھ ہی ہارڈ شیپ کے ڈبے نکالے ایک سب سے بڑا ہارڈ تھا جس کے اندر چاکلیٹس ہی چاکلیٹس تھی پھر دوسرا ڈبہ درمیانہ سائز کا اور تیسرا بلکل چھوٹا سا تھا

واؤ یہ بھی پیک کردیں عرش چاکلیٹس کو دیکھ کر خوشی سے بولا

تو آدمی نے وہ بھی پیک کر دیا

عرش چیزیں لے کر باہر آیا پیچھے والی سیٹ پر چیزیں رکھ کر واپس آگے آیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا

پھر گھر کی طرف گاڑی موڑی

یااللہ رحم کرنا مجھ پر عرش دل میں بولا

عمل یہ سوچ سوچ کر تھک گئ تھی کے اسکی شرٹ عرش نے چینج کی جتنی دفعہ اسکی نظر شرٹ پر پڑتی اتنی ہی اسے شرم آرہی تھی ۔

یار یہ کوئ طریقہ ہوتا ہے یعنی کسی کے بھی کپڑے یہ چینج عمل اتناہی بولی اور کھڑی ہوگئ

آہستہ آہستہ کبرڈ کے پاس گئی اور اپنے دوسرے کپڑے نکالے تا کے اسکا مائنڈ چینج ہو

کپڑے واشروم میں لے کر چلی گئ

عمل نے اپنے بدن میں نشان دیکھے تو خود بخود آنسو اسکی گالوں میں بہنے لگے

آنسو صاف کر کے وہ چینج کر کے باہر آگئ

اور دوپٹہ لے کر روم کے ٹیرس میں چلی گئ

نیچے گارڈن دیکھنے لگی جو چھوٹا لیکن پھولوں سے بھرا ہوا تھا کاش عنیقہ تم نہ جاتی آج میں بھی خوش ہوتی اور عرش تمہارے ساتھ عمل افسردگی سے بولی

کدھر ہو عمل مہناز صاحبہ روم میں آتے ہوئے بولی

جی عمل روم میں آئ

مہناز صاحبہ عمل کو اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھ رہی تھی

پرنٹڈ براؤن فراک اور براؤن کلر کا ہی پجامہ بال خراب جس کی ٹیل پونی بنائ ہوئ تھی اور اپنے

گلے پر دوپٹہ ڈالا ہوا تھا

تمہارا اور عرش کا جھگڑا ہوا تھا مہناز صاحبہ پریشانی سے بولی کیونکہ عرش نے تو مہناز صاحبہ کو بتایا تھا اس نے عمل کو مارا ہے لیکن یہاں پر عمل ٹھیک لگ رہی تھی

کیوں عمل ہاتھ باندھتے ہوئے بولی

جو پوچھا ہے اسکا جواب دو مجھے مہناز صاحبہ غصے سے بولی

پھوپھو آپ میرب آپی کے لیۓ دعا کریں کہ وہ ٹھیک ہوکر اپنے گھر چلی جاۓ

میرے اور میرے شوہر کے ہر معاملے سے دور رہیں آپ عمل جواب دیتے ہوئے بولی کیونکہ ہر کوئ آکر اسکا تماشہ بناتا اور نکل جاتا

اب عمل نے عہد کرلیا تھا وہ کسی کی بھی کوئ بکواس برداشت نہیں کرے گی