Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436 Qasoor-e-Ishq Episode 17
Rate this Novel
Qasoor-e-Ishq Episode 17
Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan
عمل کے بےہوش ہوۓ چار گھنٹے ہوگۓ تھے عرش کو عمل کی شکل دیکھ کر بہت زیادہ غصہ آرہا تھا
ماصوم لگتی ہو عمل لیکن ہو نہیں آستین کا سانپ ہو تم ہم سب کے لیۓ عرش عمل کو دیکھتے ہوئے بولا
اور ساتھ ہی ٹیبل پر پڑا جگ جو پانی سے بھرا ہوا تھا وہ اٹھا کر عمل کے اوپر پھینک دیا
عمل ایک دم ہڑبڑاتے ہوئے اٹھی
یہ کیا بدتمیزی ہے عمل عرش کو دیکھتے ہوئے بولی
لوگوں کی نیندیں حرام کر کے خود آرام سے سو کیسے سکتی ہو ہاں عرش عمل کو دیکھ کر بولا اسکی ماتھے کی رگیں بھی ابھری ہوئی تھی
میں نے کسی کی بھی نیندیں حرام نہیں کی سمجھے اور میں آپ کی خریدی ہوئ غلام نہیں ہوں جو آپ ایسا بی ہیو میرے ساتھ کریں گیں عمل اپنا دوپٹہ اتار کر جھاڑنے لگی
الٹے کام کر کے مجھے باتیں سناتے ہوئے تمھیں شرم نہیں آتی عرش نے عمل کو بازو سے پکڑ کر بولا
چھوڑیں میرا ہاتھ میں اپنے گھر جاؤں گی عمل اپنا ہاتھ چھوڑواتے ہوئے بولی
تم نہیں میں خود تمھیں لے کر جاؤں گا اور تمہارے باپ کو بھی بتاؤں گا کے بڑی والی کو تو اسنے بھگا کر کام کردیا ہے آپ کے لیۓ اب اسے بھی سنبھالے عرش عمل کا ہاتھ پکڑ کر غصے سے بولا
آپ اپنے کام سے کام رکھیں سمجھے میرے بابا سے آپ ایسی کوئ بات نہیں کریں گیں عمل حسن صاحب کا سوچتے ہوئے بولی کیونکہ وہ عمل پر بہت بھروسہ کرتے ہیں
تو تم مجھے بتاؤ گی کے میں اپنے کام سے کام رکھوں عرش غصے سے بولا
ہاں عمل اپنے ماتھے پر سلوٹے لاتے ہوئے غصے سے بولی
عرش نے عمل کے ہاتھ سے دوپٹہ کھینچ کر سائیڈ پر پھینکا میں اب اپنے کام سے کام ہی رکھوں گا عرش نے بولتے ساتھ ہی عمل کو دھکا دیا جس کی وجہ سے وہ بیڈ پر گری
یہ کیا جاہلیت ہے عرش عمل غصے سے بول کر اٹھنے لگی تھی تب عرش نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس بیڈ پر پٹخا اور خود عمل کے اوپر قابض ہو گیا
عرش میرا دم گھٹ رہا ہے ہٹ جائیں پیچھے عمل روتے ہوئے بولی کیونکہ اسکا بخار بھی تیز ہو رہا تھا
ساری زندگی تم نے میرے ساتھ ہی رہنا ہے اور روز ہی میری باتیں شدتیں برداشت کرنی ہے تو تمہارا ابھی سے دم کیسے گھٹ سکتا ہے عرش عمل کو دیکھتے ہوئے بولا
عرش چھوڑیں مجھے عمل عرش کو سینے سے پیچھے کرنے لگی اپنی ساری قوت لگاتے ہوئے
لیکن عرش اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا
ہوگیا تمہارا کام عرش عمل کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولا
عرش عمل روتے ہوئے عرش کا نام پکارنے لگی
لیکن عرش نے اپنے ہونٹوں کو عمل کے ہونٹوں پر رکھا اور جنونیت والے انداز میں اپنی شدتیں لٹانے لگا
عمل کی آواز بند ہو گئی تھی لیکن اسکے آنسوں بہت تیزی سے بہ رہے تھے
چل آپا کافی رات ہوگئ ہے ہے اب میں جارہا ہوں آرت کھڑا ہوتے ہوئے بولا
آج یہاں ہی ٹھر جا انتظام پورا ہے تیرے لیۓ رشیدہ ہنستے ہوئے بولی
نہیں آپا ابھی موڈ نہیں ہے آرت چیونگم چباتے ہوئے آنکھ مار کر بولا
ہاہاہا چل میرا ہیرو پھر نیا مال کب لاۓ گا تو رشیدہ بولی
پہلے کسی ایک کالج کے باہر کھڑا ہوں گا پھر کسی بھولی بھالی لڑکی دیکھوں گا وہ ملے گی تو اسے اپنی خوبصورتی سے پھنسانے کی کوشش کروں گا آرت ہنستے ہوئے بولا
ہاہاہاہاہاہا میرا آرت اتنی محنت کرتا ہے رشیدہ آرت کی باتوں پر ہنستے ہوئے بولی
محنت کرتا ہوں تو مجھے ایسا مال ملتا ہے نہ آرت موبائل یوز کرتا ہوا بولا
اووو آرت موبائل کو دیکھتے ہوئے بولا
کیا ہوا رشیدہ ایکدم پریشانی سے بولی
یار میرا اتنا مہنگا ترین موبائل کا شیشہ ٹوٹ گیا
ریحانہ رشیدہ تیز آواز میں بولی
جی آپا دوسری لڑکی دوڑتے ہوۓ اندر آئ
میں نے ریحانہ کو آواز لگائ ہے تجھے نہیں رشیدہ غصے سے بولی
آپا ریحانہ کو آپ نے ہی بھیجا تھا اندر کسٹمر جو آیا ہے زینت زمین کو دیکھتے ہوئے بولی
چل جا الماری سے نکال دو گڈیہہ اور دے آرت کو رشیدہ حکم دیتے ہوئے بولی
جی آپا زینت نے الماری سے پیسے نکال کر آرت کو دیۓ
خود بھی عیش کر اور آنے والی نئ بکری کو بھی کروا رشیدہ ہنستے ہوئے بولی
چل صیح ہے آرت نے پیسے اپنی جیکٹ کے اندر ڈالے اور چلا گیا
اس لڑکی کا پاؤں کیسا ہے رشیدہ زینت سے بولی
آپا مالش کر تو دی تھی حریم نے اب پتہ نہیں کیسا ہے زینت بولی
چل آ پکڑ میرا ہاتھ اور مجھے اسکے پاس لے کر جا رشیدہ ہاتھ اوپر اٹھا کر بولی کیونکہ رشیدہ ایک پاؤں سے لنگڑی تھی اور موٹاپے کی وجہ سے اسکا اٹھنا بیٹھنا بہت مشکل تھا
جی آپا زینت نے اسکا ہاتھ پکڑ کر عنیقہ کے پاس لائ
رقص آتا ہے تجھے رشیدہ عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولی
اور اسی کمرے میں تین چار اور بھی لڑکیاں تھی جو اپنا اپنا میکپ کررہی تھی
باظاہر تو اپنے کام میں مصروف تھی لیکن باتیں ساری رشیدہ کی سن رہی تھی
کیوں عنیقہ غصے سے بولی
کھانا لے کر آ رشیدہ زینت سے بولی
جی آپا زینت دوڑتے ہوۓ کھانا لینے چلی گئ
چل بتا اب رقص آتا ہے رشیدہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی
نہیں آتا مجھے رقص عنیقہ غصے سے بول کر کھڑی ہوگئی تاکہ رشیدہ سے دور جاسکے
یہ لیں کھانا زینت ٹرے میں کھانا رشیدہ کے سامنے پیش کرتے ہوئے بولی جس میں سالن روٹی اور مصالحے تھے
لے کر آ یہاں اسکو رشیدہ ساری لڑکیوں سے بولی
جی آپا دو لڑکیوں نے عنیقہ کا ہاتھ پکڑا تا کے اسے رشیدہ کے پاس لے جاۓ
چھوڑو میرا ہاتھ عنیقہ روتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی سب سے پیچھے ہٹی
میں تم سب سے ہی کہ رہی ہوں اسے یہاں لے کر آ رشیدہ چیختے ہوۓ بولی
تو دو تین لڑکیاں عنیقہ کو گھسیٹتے ہوئے رشیدہ کے پاؤں کے پاس لا کر بیٹھایا
پکڑ اسکا ہاتھ پیچھے سے رشیدہ لڑکیوں سے بولی
آپا خیر ہے نئ لڑکی ہے ہم اسے سمجھا دیں گیں معاف کر دے اسے حریم عنیقہ کی سائیڈ لیتے ہوئے بولی
تو میرے آگے بکواس کرے گی رشیدہ نے بولتے ساتھ ہی چھوٹی سی کٹوری میں پڑے لال مصالحے کو حریم کی آنکھوں پر پھینکا
آہ ہ ہ ہ حریم تیز آوازوں میں چیخنے لگی اور ساتھ ہی اپنی آنکھیں بھی مسلنے لگی
جا لے جا اسکو رشیدہ زینت کو دیکھتے ہوئے بولی
زینت نے فٹافٹ حریم کا ہاتھ پکڑا اور اسے تیسری منزل کے باتھروم میں لے گئ
چل کھانا کھا رشیدہ مسکراتے ہوئے بولی
میں کھانا کیسے کھاؤں عنیقہ ڈرتے ہوئے بولی کیونکہ اسکے ہاتھ پیچھے کی طرف لڑکیوں نے پکڑے ہوئے تھے
یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو کھانا کھا اگر نہیں کھایا تو تیرا حریم سے بھی برا حشر ہوگا رشیدہ دھمکی دیتے ہوئے بولی
عنیقہ کی آنکھوں میں آنسوں آگۓ تھے کے اب وہ کیا کرے
چل بول تو اسکو کے کیسے کھانا ہے روٹی کو رشیدہ دوسری لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کے وہ عنیقہ کو بتاۓ کے کھانا کیسے کھانا ہے
عنیقہ جیسے کتّے کھاتے ہیں نہ سر نیچے کر کے ویسے کھاؤ لڑکی افسوس بھرے انداز میں بولی
چل کھا رشیدہ ہنستے ہوئے بولی
عنیقہ نے روتے ہوئے اپنے اردگرد کھڑی لڑکیوں کو دیکھا جو خود دکھ سے عنیقہ کو دیکھ رہی تھی
عنیقہ نے روتے ہوئے اپنے چہرے کو نیچے کیا اور اپنے دانتوں سے روٹی توڑی اور سر اوپر کرکے چبانے لگی عنیقہ کا دل پھٹ رہا تھا
جانتی ہے تو میں نے ایسا کیوں کیا تیرے ساتھ رشیدہ عنیقہ کو بالوں سے پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر کرتے ہوئے بولی
عنیقہ نے روتے ہوئے اپنی گردن نہ میں ہلائی
تیری اکڑ کی وجہ سے جو مجھے تو ابھی بھی دیکھا رہی تھی اور آرت کے سامنے بھی
جو لڑکیاں یہاں آتی ہیں نہ تو شروع میں خوب اکڑ دیکھا رہی ہوتی ہیں پھر میں سب کی اکڑ کتیا بنا کر ختم کرتی ہوں رشیدہ عنیقہ کو دور دھکہ دیتے ہوئے بولی
عنیقہ بلکل خاموش تھی
اب بتا تجھے رقص کرنے آتا ہے کے نہیں رشیدہ بولی
نہیں عنیقہ روتے ہوئے بولی
چل رونا بلکل بند کر رشیدہ آرڈر دیتے ہوئے بولی
عنیقہ نے فٹافٹ اپنے آنسو صاف کیۓ
لاکر دے اسکو میکپ رشیدہ زینت سے بولی جو حریم کو باتھ روم تک چھوڑ کر واپس رشیدہ کے دائی جانب کھڑی تھی
جی اسنے جلدی سے ٹوٹی ہوئ سنگار میز سے میکپ اٹھایا اور عنیقہ کے سامنے رکھا
چل اپنے دھوبڑا بدل دے رشیدہ عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولی
عنیقہ نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنا میکپ کرنا شروع کیا
جا پازیب بھی لے کر آ رشیدہ بولی
عنیقہ نے اپنا میکپ کر لیا تھا صرف میکپ کا نام تھا کیونکہ اسنے لپسٹک اور مسکارا کے علاؤ کچھ نہیں لگایا تھا
حریم نیچے آئ تو اسکی آنکھیں بلکل لال اور چھوٹی ہوگئ تھی ناک اور گالیں بھی لال ہوگئ تھی
آجا اسکا میکپ کر رشیدہ حریم سے بولی جس نے بامشکل اپنی تھوڑی سی آنکھیں کھولی تھی
جی حریم روتے ہوئے زمین پر عنیقہ کے پاس بیٹھی اور اسکا میکپ شروع کیا
میکپ کرلیا ہے حریم اپنی قمیص کے دامن سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
چل پہنا اسکو پازیب بھی رشیدہ پازیب پھینکتے ہوئے بولی
جی حریم نے عنیقہ کے پجامے کو نیچے سے مروڑ کر اوپر کیا جس سے عنیقہ کے ٹخنے نظر آنے لگے
اور اس پر پازیب کو باندھ دیا
چل اب اسکو رقص سیکھاؤ رشیدہ آرام سے کرسی پر ٹیک لگاتے ہوئے بولی
حریم کھڑی ہوئ تو اسی کے ساتھ عنیقہ بھی کھڑی ہوئ
حریم نے رقص کرنا شروع کیا عنیقہ اسی کو دیکھ رہی تھی
حریم کی شکل نہ دیکھ اسکی طرح رقص کر رشیدہ غصے سے بولی
عنیقہ بھی حریم کی طرح رقص کرنے لگی
کافی جلدی سمجھنے والی لڑکی ہے تو کل تک تجھے رقص آجاۓ گا اسلیۓ رات پوری تیاری کر تاکہ مہمانوں کے سامنے کوئ غلطی نہ ہو تجھ سے رشیدہ بولی
عنیقہ نے ہلکے سے سر کو ہلایا
زینت رشیدہ نے زینت کو آواز دی جس نے فٹافٹ اسکا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا
زائیدہ سے کہو ہال سے فالتوں چیزے نکال لے کیونکہ اس لڑکی کے پیچھے چار لڑکیاں اور بھی رقص کریں گی رشیدہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی
صیح ہے آپا دوسری لڑکی رشیدہ سے بولی ۔
رشیدہ کے جاتے ساتھ ہی عنیقہ زمین پر بیٹھی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
عنیقہ میں نے تمھیں کہا تھا نہ انکے سامنے کچھ نہ کرنا یہ بہت برا کرتی ہیں حریم عنیقہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
لیکن عنیقہ زور و شور سے رو رہی تھی اپنی بربادی پر
حریم کو عنیقہ کی حالت پر رونا آرہا تھا اسنے عنیقہ کو اپنے گلے لگایا
عنیقہ رو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں مجھے اپنی بڑی بہن کی طرح سمجھو حریم روتے ہوئے عنیقہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی
حریم کاش میرے ماں باپ مجھے بد دعا دیتے کاش عنیقہ روتے ہوئے بول رہی تھی
عنیقہ چپ ہو جاؤ ماں باپ کبھی بھی اپنے بچو کو بد دعا نہیں دیتے حریم بھی روتے ہوئے بول رہی تھی اور اب اسکی آنکھوں میں جلن کی شدت کافی تیز ہوگئی تھی
اگر وہ مجھے بددعا دیتے تو اچھا تھا میں اتنی زلیل نہیں ہوتی لیکن انہوں نے مجھے بددعا نہیں دی انکی آہ لگی ہے مجھے اسی لیۓ میں یہاں تک آئ ہوں عنیقہ روتے ہوئے بول رہی تھی
اور نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ساتھ اور لڑکیوں کو رلانے لگی
سبحان پوری رات عرش کا انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہیں آیا
ابھی صبح کے دس بج چکے تھے سبحان تھک گیا تھا تین دن سے یہاں بیٹھ بیٹھ کر ابھی وہ میرب کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا جب اسے کال آئی
اسلام علیکم سبحان بنا نمبر دیکھے بولا
وعلیکم السلام مسٹر سبحان پچھلے تین دن سے آپ بنا بتاۓ چھوٹیاں کررہے ہیں آپ کو پتہ نہیں ہے کیا آپ کے بغیر آفس میں کتنے کام روک جاتے ہیں اگر آپ ایک گھنٹے کے اندر اندر آفس نہیں آۓ تو میں آپ کو فائیر کر دوں گا دوسری طرف سے بوس غصے میں بولا
سر میں آپ کو بتانے والا تھا بٹ ٹائیم ہی نہیں ملا مجھے سبحان پریشانی سے بولا کیونکہ اس دور میں جاب ملنا کوئ آسان نہیں تھا اگر اسے نکال دیا جاتا تو اسکا کیا ہوتا
میں کچھ نہیں سننا چاہتا آپ بس آفس پہنچے سر نے بول کر کال ڈسکنیکٹ کردی
اب میں کیا کروں میرب کو اکیلے بھی نہیں چھوڑ سکتا سبحان پریشانی اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے بولا
عرش آپ میرا یقین کریں
ایک تو روز تمہارا یقین کروں میں اور سارے گھر والے عرش غصے سے عمل سے بولا
عرش یہ سب جو بھی ہوا ہے اس میں میری کوئ غلطی نہیں ہے عمل پھر سے بولی
اپنی یہ بکواس نہ کھولا کرو عرش غصے سے بولتے ہوئے کھڑا ہوا
عرش آخر کب تک آپ میرا یقین نہیں کریں گیں عمل روتی ہوئی آواز میں بولی
کل رات جو میں نے تمہارے ساتھ کیا اتنی جلدی اپنی اوقات بھول گئ
عرش طنزیہ ہنستے ہوئے بولا
بس کردیں اب عمل چیختے ہوۓ بولی
یہ چیخ کس کے آگے رہی ہو عرش نے بولتے ساتھ ہی عمل کو اپنے قریب کیا
چھوڑے مجھے عمل اپنے آپ کو چھوڑواتے ہوئے بولی
لیکن عرش بنا کچھ بولے اس کے لبوں پر جھک گیا
اس قدر شدت سے جھکا عمل کو سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوا
اور عرش کو پیچھے دھکہ مارا
آپ کیا سمجھتے ہیں ایسا سب کچھ کرنے سے آپ میری اوقات دیکھا رہے ہیں
نہیں آپ میری نہیں بلکے اپنی اوقات دیکھا رہے ہیں عمل غصے سے بول کر اپنے ہونٹوں کو صاف کرنے لگی کیونکہ عرش بلکل بدل گیا تھا
میری اوقات مجھے بتا رہی ہو
عرش چیختے ہوۓ بولا
ہاں ہاں آپ کی ہی اوقات بتا رہی ہوں عمل بھی چیختے ہوۓ بولی
عرش نے اپنی بیلٹ نکالی اور اسے لہراتا ہوا عمل کے سر پر کھڑا ہوا
یہ کیا کر رہے ہیں آپ عمل ڈرتے ہوۓ بولی اور وہ سوچ نہیں سکتی تھی عرش ایسا بھی کچھ اسکے ساتھ کرے گا
اب میں بتاؤں گا تمھیں اوقات ہوتی کیا ہے
عرش نے بیلٹ کے ساتھ اس قدر زور زور سے مارنا شروع کیا
عمل کی چیخیں اس قدر درد ناک تھی دیواریں تک لرز گئ
عرش بس کریں میں مر جاؤں گی عمل اپنے آپ کو بچاتے ہوئے بولی کیونکہ عرش اسے لگاتار ما رہا تھا
عرش جب تھک گیا تو اسنے اپنی بیلٹ زمین پر پھینکی اور خود عمل کے پاس بیٹھا جو نیم بے ہوشی میں تھی
تمہاری یہ سزا بہہہہتتتت کم ہے جانتی ہو تم عرش بہت کو لمبا کرتے ہوئے بولا
کیونکہ تم نے ایک قتل کیا ہے اپنی ہی بہن کو اسکے عاشق کے ساتھ بھگانے میں مدد کی ہے اپنے ماں باپ کی عزت خود خراب کی ہے
اور اوپر سے معافی مانگنے کے بجاۓ مجھے اوقات دیکھا رہی ہو میں نے اپنا حق تم سے وصولا ہے جو مجھے بہت پہلے ہی وصول لینا چاہیۓ تھا لیکن تم پر ترس کھا کر چھوڑ دیا کے بچی ہے لیکن تم بچی ہو ہی کہاں ہو تم تو لیلہ اور مجنو کو ملانے والی گورو ہے عرش بلکل نارمل لہجے میں بولا
عمل کو عرش سے خوف آرہا تھا کیونکہ اس قدر مارنے کے بعد بھی اسکا رویہ بلکل نارمل تھا
آئیندہ مجھے میری اوقات مت یاد دلانا ورنہ ابھی تک تو صرف اس کمرے میں رسوا کیا ہے بعد میں تمہارے ماں باپ کے سامنے بھی کوئ قصر نہیں چھوڑوں گا عرش بول کر باہر نکل گیا
عرش کہاں جارہے ہو مہناز صاحبہ عرش کو جاتا ہوا دیکھ کر بولی
ماما ہوسپٹل جارہا ہوں عرش روکتے ہوئے بولا
بیٹا میں بھی تمہارے ساتھ آنا چاہتی ہوں مہناز صاحبہ بولی
ماما ابھی آنے کا کوئ فائیدہ نہیں ہے میرب کی طرف سے کوئ اچھی خبر ملی تو میں آپ کو ضرور لے جاؤں گا عرش بولا
ٹھیک ہے مہناز صاحبہ خفگی سے بولی
ماما آپ کیوں اداس ہورہی ہیں دعا کریں ہماری گڑیا کے لیۓ جو ہوسپٹل میں بے ہوش ہے عرش مہناز کو گلے لگاتے ہوئے بولا
دعا تو میں اپنی بیٹی کے لیۓ ہر ٹائیم کرتی ہوں مہناز صاحبہ بولی
پھر یہ تو اچھی بات ہے چلیں اب مجھے اجازت دیں تاکہ میں فٹافٹ ہوسپٹل کے لیۓ نکلوں عرش بولا
ٹھیک ہے بیٹے جاؤ مہناز صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی
عرش جانے لگا پھر اچانک مڑا
ماما میرے روم میں آج مت جائیے گا اور نہ ہی عمل کو بلائیے گا عرش مہناز صاحبہ کو دیکھتے ہوئے بولا
کیوں بیٹا خیریت تو ہے نہ مہناز صاحبہ بولی
زیادا اکڑ دیکھا رہی تھی وہ اتار دی ہے میں نے اسلیۓ مت جائیے گا عرش بولا۔
ٹھیک ہے بیٹا مہناز صاحبہ ایسے انداز میں بولی جیسے انہیں یہ بات بلکل پسند نہیں آئ
لیکن عرش کے جاتے ہی ان کی چہرے پر وہ خوشی آئ جو پہلے کبھی بھی نہیں آئ تھی
رات پوری عنیقہ کو حریم اور دو چار لڑکیوں نے مل کر رقص سیکھایا تھا اور اب وہ سیکھ چکی تھی
عنیقہ اب تمھیں رقص آگیا ہے میں تمہارے ساتھ ہی ہونگی جب ہمیں رقص کرنا ہوگا
میری بات سنو عنیقہ دوسری لڑکی بولی
جی عنیقہ اسکی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولی
رقص کرتے وقت تم اس ٹائیم تک نہیں رکو گی جب تک ٹائیم پورا نہیں ہو جاتا سمجھی
جی لیکن یہ رقص کتنی دیر تک ہوگا عنیقہ پریشانی سے بولی
دو سے ڈھائی گھنٹے حریم بولی
اتنا زیادا ٹائیم عنیقہ رونے والے انداز میں بولی
کوئ بات نہیں شروع میں تھوڑی مشکل ہوتی ہے لیکن بعد میں عادت ہو جاتی ہے حریم تسلی دیتے ہوئے بولی
لیکن اسکی تسلی عنیقہ کو بہت تکلیف دے رہی تھی
عنیقہ تم یہ سفید رنگ کا فراک پہن لو اور نیچے پاؤں پر گھنگرو پہن لینا اور لڑکیوں ہم سب لال رنگ کا سوٹ پہنے گیں تیاری کرو سارے کیونکہ عشا کی نماز کے بعد شو شروع ہوجاۓ گا
نماز کا ذکر سن کر عنیقہ حیرانگی سے انکی طرف دیکھنے لگی
آپ لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں عنیقہ حریم سے بولی
کیوں ہم مسلمان نہیں ہیں حریم مسکراتے ہوئے بولی
نہیں ایسی بات نہیں ہے وہ میں حیران ہوں عنیقہ بولی
ایک ہی تو سہارا ہے ہمارے پاس اپنے اللہ کو راضی کرنے کا اور وہ ہے نماز اسے قضا کر کے بے دین نہیں ہونا چاہتے اسلیۓ آپا ہمارا ہر شو عشا کی نماز کے بعد رکھواتی ہیں حریم بولی
تو عنیقہ بھی اسکی طرف دیکھ کر مسکرانے لگی
حریم آپا کا پیغام ہے تمہارے لیۓ زینت کمرے میں آتے ہوئے بولی
بولو کیا کہ رہی ہیں آپا حریم زینت کے پاس جاتے ہوئے بولی
آپا کہ رہی ہے اس نئ لڑکی کو کل بازار لے کر جانا ہے اور ساتھ میں یتیموں کو کپڑے بھی لے کر دینے ہیں اور پھر کچی آبادی جاکر انہوں میں تقسیم بھی کروانا ہے اسلیۓ کل صبح پہلے ٹائم پر تیار رہنا تم دونوں زینت بول کر چلی گئ
عنیقہ کل تمھیں آپا کپڑے لے کر دے گی اور میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی ٹھیک ہے حریم مسکراتے ہوئے بولی
ٹھیک ہے عنیقہ بولی لیکن دل میں اسکے نیا خیال آیا اور اُس خیال سے اسکی آنے والی زندگی میں کیا ہوگا وہ عنیقہ خود بھی نہیں جانتی تھی
