238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 15

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

ظفر صاحب اور مہناز صاحبہ نے فٹافٹ میرب کو گاڑی میں لٹایا

میں بھی چلوں گی آپ کے ساتھ عمل ظفر صاحب کو دیکھتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی آنسو بھی نکل رہے تھے

منہوس جس دن سے میرے گھر قدم رکھا ہے ہمارا تو جینا حرام کر دیا ہے تم نے پیچھے ہٹو ہمارے سامنے سے مہناز صاحبہ عمل کو دھکہ دیتے ہوئے بولی

ہیلو عرش بولا اور ساتھ ہی مہناز بیگم کی آواز بھی سنی

ماما کیا ہوا عرش پریشانی سے فون میں بولا

عرش تمہاری بیوی نے میرب کو سیڑھیوں سے دھکا دیا ہے جلدی سے ہوسپٹل پہنچو مہناز صاحبہ روتے ہوئے ہوسپٹل کا نام بتانے لگی

میرب گری ہے عرش پریشانی سے بولتے ساتھ ہی آفس سے دوڑتا ہوا نکلا اور گاڑی میں بیٹھا

مہناز صاحبہ اور ظفر صاحب بھی گاڑی لے کر نکل گۓ تھے

جبکے عمل روتے ہوئے اندر آئ اور اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے

عنیقہ اندر بیٹھی رو روہی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اپنے آپ کو یا آرت کو مار دے

ہاۓ بے بی لڑکا ہنستے ہوئے بول کر اندر آیا

بھائ آپ کو اللہ کا واسطہ ہے مجھے چھوڑ دیں پھر آپ جو کہیں گیں میں وہ کروں گی جتنے پیسے آپ مانگیں گیں میں آپ کو دوں گی عنیقہ روتے ہوئے بولی

پیسے کی کمی تو نہیں ہے مجھے

کمی ہے تو بس تیری ہے لڑکے نے بولتے ساتھ ہی عنیقہ کا دوپٹہ اتارا اور عنیقہ کے ہاتھوں کو زور سے پکڑ لیا

چھوڑو مجھے عنیقہ اپنے آپ کو چھوڑواتے ہوئے بولی

لیکن وہ عنیقہ سے پیچھے نہیں ہٹا

کمینے ہو تم سب عنیقہ نے بولتے ساتھ ہی لڑکے کو دانتوں سے کاٹا

سالی لڑکا درد سے کرہتے ہوۓ بولا اور ایک رخ کر عنیقہ کے منہ پر تھپڑ مارا جس وہ زمین پر جاگری

ہم کمینے ہے تو

تو آرت کے پاس دم کروانے آئ تھی تو بھی تو عاشقی معاشوقی لڑانے آئ تھی نہ لڑکے نے بولتے ساتھ ہی عنیقہ کو بیڈ پر پھینکا

ایک غلطی ہوئی ہے مجھ سے پلیززز رحم کرو عنیقہ روتے ہوئے بولی جس کے ناک سے ہلکا ہلکا خون نکل رہا تھا اور ہونٹ بھی پھٹ گۓ تھے

بس جانے من غلطی کی سزا تو ملتی ہے نہ وہ بولتے ساتھ ہی عنیقہ کے اوپر جھکا جب کے عنیقہ کو اپنی روح فنا ہوتے ہوئے محسوس ہوئی اور آج اسے شدت سے فریدہ صاحبہ کی بات یاد آرہی تھی جب وہ اسے اور عمل کو بیٹھ کر سمجھاتی تھی کہ باہر کا کوئ انسان بھی اگر آپ پر محبت ظاہر کرتا ہے تو وہ محبت نہیں بلکہ حوس ہے اسلیۓ آپ دونوں نے اپنا خیال رکھنا ہے

لیکن شاید عنیقہ کو یہ باتیں مزاق اور جھوٹی لگتی تھی اس وجہ سے اسنے فریدہ صاحبہ کی بات پر عمل نہیں کیا

عرش ہوسپٹل کے گیٹ کے پاس کھڑا تھا اور آگے پیچھے ٹہل رہا تھا کہ کب ظفر صاحب کی گاڑی آۓ گی

بابا آپ کیوں نہیں آرہے عرش چیختے ہوۓ بولا جس کی وجہ سے آگے پیچھے کے لوگ اسے دیکھنے لگے اور ساتھ ہی عرش فون نکالنے لگا

جب ظفر صاحب کی گاڑی ہوسپٹل کے گیٹ کے اندر آئ

گاڑی جیسے اندر آئ عرش نے گاڑی کا دروازا کھولا تو میرب کے سر سے خون نکل رہا تھا اور وہ بے ہوش تھی عرش کو میرب کی یہ حالت دیکھ کر رونا آرہا تھا کہ اسکی بہن کو کیا ہو گیا ہے

عرش نے بنا کچھ بولے سیدھا میرب کو گود میں اٹھایا اور دوڑتا ہوا ہوسپٹل میں لایا

ڈاکٹر ڈاکٹر عرش چیختے ہوئے بولا عرش کی چیخ و پکار سن کر سارے ڈاکٹر باہر آۓ

لیکن عرش کے ہاتھ میں میرب کی حالت دیکھ کر سیدھا اسے اوپریشن ٹھیٹر میں شفٹ کردیا

آپ کیا لگتے ہیں پیشنٹ کے نرس عرش کو دیکھتے ہوئے بولی جس کی آنکھیں لال اور شرٹ خون سے بھری ہوئی تھی

بھائ ہوں عرش دھیمی آواز میں بولا کیونکہ اسکی ہمت ختم ہو رہی تھی

سر اس پیپرز پر سائین کریں تاکے ہم اوپریشن سٹارٹ کریں نرس پیپر آگے کرتے ہوئے بولی

تو عرش نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے سائین کیا

نرس دوڑ کر واپس اندر گئ

ظفر میری بچی تو ٹھیک ہوجاۓ گی نہ مہناز صاحبہ روتے ہوئے بولی

اللہ پر بھروسہ رکھو اور دعا کرو یہ رونے دھونے سے کچھ نہیں ہو سکتا ظفر صاحب بولے جو کافی زیادا پریشان تھے

کیسے گری میرب عرش ظفر صاحب سے بولا

بیٹا وہ اسکا پاؤں پھسلا ظفر صاحب بولنے ہی والے تھے جب مہناز صاحبہ شروع ہوگئی

عرش عمل کی وجہ سے ہوا ہے یہ سب کچھ تم نے ہمیں منا کیا تھا کے ہمارا کوئ کام نہیں ہے اسکے ساتھ اسلیۓ میں نے باتیں کم کردی تھی جبکے میرب نے ختم کردی تھی لیکن پھر بھی تمہاری بیوی کو سکون نہیں تھا میری بیٹی کی ہنستی ہوئی زندگی برباد کردی اسنے مہناز صاحبہ عرش کے گلے سے لگ کر زور و قطار روتے ہوئے بولی

مہناز کیسی باتیں کررہی ہو تم ظفر صاحب غصے سے بولے

بس کردیں ظفر آپ کی شے نے عمل کو زیادا ہمارے سر پر چھڑا دیا ہے مہناز صاحبہ ظفر صاحب کو بھی ڈانٹتے ہوئے بولی

ماما آپ روۓ نہیں بس دعا کریں ہماری میرب ٹھیک ہو جائے عرش مہناز صاحبہ کو حوصلہ دیتے ہوئے بولا

امی میرب گر گئ ہے سیڑھیوں سے سبحان دوڑتا ہوا گھر میں آیا اور ممتاز صاحبہ سے بولا جو بیٹھی ہوئی تھی۔

ہاۓ اللہ کیسے گری وہ ممتاز صاحبہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی

پتہ نہیں امی جلدی کریں تاکہ ہوسپٹل چلیں سبحان بولا

سویرا اکیلی ہے اسے بھی ساتھ لے چلیں ممتاز صاحبہ سویرا کی بھی پریشانی لیتے ہوئے بولی کیونکہ سمبل چلی گئ تھی

ہاں سویرا کو بھی لے آئیں سبحان بول کر باہر نکل گیا

سویرا بھی کھڑی ہوئ تاکہ ہوسپٹل کے لیۓ نکلے۔

عمل کا رو رو کر برا حشر ہوگیا تھا اور اب وہ اللہ کے حضور بیٹھ کر دعائیں مانگ رہی تھی

یااللہ یہ مجھ سے کیا ہوگیا میں نے میرب آپی کو دھکا دیا ہے یااللہ مجھے معاف کردیں اور انھیں جلدی ٹھیک کردیں عرش مجھ سے بہت ناراض ہو جائیں گے اللہ پاک انہوں نے تو مجھے کہا تھا سب سے دور رہنے کو لیکن میں ویسے ہی الجھ گئ میرب آپی سے عمل ہچکیاں لیتے ہوئے اللہ سے دعائیں کررہی تھی

یااللہ بے شک مجھے اپنے پاس بلالیں لیکن میرب آپی کو کچھ نہ کرنا اللہ جیییییی عمل روتے ہوئے گڑگڑاتے ہوئے بولی رہی تھی

عرش ایک کونے میں کھڑا تھا اور سوچ سوچ کر پاگل ہونے والا تھا آخر عمل نے ایسا کیوں کیا

اور میرب کے اوپریشن کو بھی چار گھنٹے ہونے والے تھے

حسن صاحب اور فریدہ صاحبہ بھی آگۓ تھے

جبکے مہناز صاحبہ ممتاز صاحبہ کے ساتھ چئیر پر بیٹھی ہوئی تھی

کیسے گری ہے میرب ممتاز صاحبہ پریشانی سے مہناز صاحبہ سے بولی

گری نہیں ہے ممتاز گرایا ہے میری بچی کو مہناز صاحبہ اپنا سر کرسی پر رکھتے ہوۓ بولی

مہناز فضول باتوں سے پرہیز کرو اگر نہیں کرتی تو گھر جاؤ وہاں عمل اکیلی ہے ویسے بھی ظفر صاحب غصے سے بولے

کیونکہ وہ بار بار عمل کو گھسیٹ رہی تھی اس معاملے میں لیکن ظفر صاحب کا کہنا تھا جب تک میرب ہوش میں آکر خود کچھ نہیں بولتی تب تک وہ کچھ نہیں بولے گیں

ڈاکٹر جیسے اوپریشن ٹھیٹر سے باہر آئ تو عرش ایکدم ڈاکٹر کے پاس گیا

کیسی ہے میری بہن عرش بے چینی سے بولا

پیشنٹ پریگنینٹ تھی گرنے کی وجہ سے انکا مس کیرج ہوگیا ہے اور گرنے کی وجہ سے انکے سر پر بہت گہری چوٹیں آئیں ہیں اگر وہ بارا بجے تک ہوش میں نہ آئ تو وہ کومے میں بھی جاسکتی ہیں

ڈاکٹر عرش کو دیکھتے ہوئے بولی جبکے سبحان کی سوچ میرب کی پریگنینسی کی طرف چلی گئ تھی

تمہاری بیٹی کی وجہ سے میری بیٹی کو اپنی اولاد سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے مہناز صاحبہ اب فریدہ سے چیختے ہوۓ بولی

میری بیٹی فریدہ صاحبہ حیرانگی سے بولی

ہاں تمہاری بیٹی نے میری میرب کو سیڑھیوں سے دھکا دیا ہے تم دیکھنا جو اسنے میری بچی کے ساتھ کیا ہے نہ اگر وہ ہوش میں نہ آئ تو میں عمل کو برباد کر دوں گی مہناز صاحبہ کھلے عام دھمکی دیتے ہوئے بولی

اپنی زبان کو لگام دو مہناز میری بیٹی ایسی حرکتیں نہیں کرتی اور تمہاری اتنی ہمت نہیں ہے جو اسے کچھ کہو حسن صاحب غصے سے بولے کیونکہ انھیں اپنی تربیت پر پورا یقین تھا

مہناز صاحبہ چپ ہوگئ کیونکہ اب بڑے بھائ کو وہ جواب نہیں دے سکتی تھی

آرت آجا اور واپس لے جا اپنا مال لڑکا ہنستے ہوئے بولا

کیوں بھئ اتنی جلدی بات تو دو دن کی ہوئ تھی آرت بولا اور فون لاؤڈ اسپیکر پر تھا جس کی وجہ سے عنیقہ آرت کی آواز سن رہی تھی

یار ضروری کام ہے مجھے اسلیۓ نہیں رکھ سکتا اس لڑکی کو

پھر آؤں گا تیرے پاس اس لیۓ نیا مال تیار رکھی ہنستے ہوئے لڑکا بولا اور ساتھ ہی عنیقہ کو دیکھ رہا تھا جو آنکھیں بند کیۓ لیٹی ہوئی تھی اور اسکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے

اس سے اچھا مال اب ایک سال بعد آۓ گا کیونکہ پٹانے میں وقت لگتا ہے آرت ہنستے ہوئے بولا

چل پھر اس پر گزارا کر لیں گیں لڑکے نے بولتے ساتھ ہی عنیقہ کے بازو پر ہاتھ رینگنے لگا

چل صیح میں آجاؤں گا گھنٹے تک آرت نے بول کر کال کاٹ دی

بے بی اگر خودکشی کرنی ہو تو آرت کے سامنے کرنا ابھی نہ کرنا کیونکہ میں ان کیسوں میں بلکل نہیں پھنسنا چاہتا لڑکا بولتے ساتھ ہی واشروم چلا گیا

عنیقہ کی نظر گھڑی کی طرف گئ تو وہ دن کا ایک بجا رہی تھی عنیقہ کو نفرت ہورہی تھی اپنے آپ سے اپنے وجود سے

میں اپنے آپ کو آگ بھی لگا دوں تو میرا گناہ معاف نہیں ہوگا میں کیسے بھول گئ تھی کہ ماں باپ کی نافرمانی کرنے سے میں خوش ہونگی

میں تو اس قدر گھٹیا ہوں میں نے تو ماں باپ کی عزت کا بھی نہیں سوچا تھا عرش کے بارے میں بھی نہیں سوچا تھا بس اپنی جھوٹی محبت کے پیچھے سب کچھ لٹا دیا

عنیقہ روتے ہوئے خود سے بول رہی تھی

جب اسنے دروازے کی طرف دیکھا جو بند تھا

دوسری طرف واشروم کا دروازہ دیکھا جس میں ابھی وہ لڑکا گیا تھا۔

عنیقہ نے فٹافٹ زمین پر گری اپنی چادر اٹھائی جو کل بے دردی سے نیچے پھینکی تھی

اور سیدھا دروازے کی طرف گئ اور اسے کھولنے لگی

لیکن وہ نہیں کھلا

کیا کروں عمل روتے ہوئے بولی اگر آج نہ نکلی اس دلدل سے تو ساری زندگی نہیں نکل پاؤں گی عنیقہ خود سے بولی اور کھڑکی کو دیکھنے لگی

آج اپنے آپ کو بچانا ہے مجھے کسی بھی حالت میں عنیقہ بولتے ساتھ ہی کھڑکی کی طرف گئ اور اسے کھولا

عنیقہ نے نیچے دیکھا تو پانچ سے چھ فٹ جگہ تھی جہاں سے چھلانگ لگا کر وہ بھاگ سکتی تھی

عنیقہ نے روتے ہوئے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا جو کافی سوج گیا تھا پھر وہ نیچے دیکھنے لگی جہاں کوئ نہیں تھا عنیقہ نے دل پر پتھر رکھ کر اور اپنے آپ کو آنے والے گند سے بچانے کے لیۓ نیچے چھلانگ لگادی لیکن جب وہ نیچے گری تو اسکی چیخ نکلی جسے اسنے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بند کردی

میرب ہوش میں نہیں آئ تھی اور بارا سے اوپر ٹائیم چلا گیا تھا

ڈاکٹر میرب ہوش میں نہیں آئ اسلیۓ اب کیا ہوسکتا ہے سبحان بولا

سبحان اور عرش ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے

دیکھیں جیسا کے میں نے کل آپ لوگوں کو بتا دیا تھا اگر وہ ہوش میں نہ آئ تو کومے میں جاۓ گی ڈاکٹر میرب کی رپورٹ پڑھتے ہوئے بولی

کومے سے کب تک وہ باہر آئیں گی آپ کو کچھ اندازا ہے سبحان پریشانی سے بولا جبکے عرش بلکل چپ چاپ انکی باتیں سن رہا تھا

دیکھیں اس بات کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے کیا پتہ شام تک ہوش میں آجاۓ کیا پتہ مہینے میں آئیں یہ پھر سال دو سال تین سال یا پھر آۓ ہی نہ ہوش میں ہم کچھ نہیں کہ سکتے بس اتنا کہوں گی دعا کریں ڈاکٹر بولی

جی سبحان بول کر کھڑا ہوا اور ساتھ ہی عرش کے کندھے پر ہاتھ رکھا تاکہ وہ بھی کھڑا ہو

آپ لوگ پیشنٹ کے کپڑے اور بھی ضرورتوں والی چیزیں لے آئیں کیونکہ ابھی وہ ہوسپٹل میں ہی آڈمیٹ رہے گی اور آپ انکے لیۓ نرس خود ہائیر کرلیں ڈاکٹر بولی

جی سبحان بولا کیونکہ عرش باہر چلا گیا تھا

ساری رات ساروں نے کھڑے ہوکر اور ٹینشن سے رات گزاری تھی میرب کے لیۓ

امی میں جاکر میرب کے کپڑے لے کر آتا ہوں سبحان ممتاز صاحبہ سے بولا

تم رہنے دو میں خود لے آؤں گا کپڑے اپنی بہن کے عرش سبحان کو انگلی کے اشارے سے بولا

تو وہ خاموش ہو گیا

ماما میں گھر جارہا ہوں عرش بول کر چلا گیا

عمل نے صبح کی اذانوں تک اپنے اللہ سے روتے ہوئے دعائیں مانگی تھی ابھی بھی وہ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی

جب عرش اندر آیا اور عمل کو اگنور کرتا ہوا اپنی شرٹ نکالنے لگا

عرش میرب آپی کیسی ہیں عمل نے جیسے عرش کو دیکھا تو سیدھا اس کے پاس گئ اور عرش کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوئے بولی

پیچھے ہٹو میرے سے عرش اپنے ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے بولا

عرش آپ مجھ سے کیوں ناراض ہیں عمل رونے والے انداز میں بولی کیونکہ جو بھی ہوا تھا اسکے پیچھے اسکی غلطی نہیں تھی

میں تم سے ناراض نہیں بےزار ہوگیا ہوں یا یہ کہنا درست ہوگا جب سے تم دونوں بہنوں سے واسطہ پڑا ہے تب سے ہی میرے گھر والوں کے برے دن شروع ہوۓ ہیں عرش عمل کو دیکھتے ہوئے بولا اور یہی کوشش کررہا تھا کہ عمل کو وہ کچھ نہ کہے عرش اللہ کی قسم میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا تھا میرب آپی خود میرے ساتھ الجھ رہی تھی عمل روتے ہوئے بولی

عمل اپنی بکواس بند کرو تمہاری وجہ سے میری بہن کا بچہ مر گیا وہ کومے میں چلی گئ سارا نقصان اسکا ہوا ہے اور تم کہ رہی ہو غلطی اسکی ہے عرش عمل کے بازو کو پکڑتے ہوئے بولا

عرش میرب آپی کومے میں چلی گئ ہیں عمل روتے ہوئے بولی

عرش افسوس سے سر ہلاتے ہوئے باہر چلا گیا

یہ میں نے کیا کردیا عمل اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر رکھ کر روتے ہوئے بولی

کیوں میں نے میرب آپی کو دھکا دیا تھا میری وجہ سے انکی پہلی خوشی ان سے چھین گئ مجھے تو اللہ پاک بھی معاف نہیں کریں گیں میں نے تو قتل کیا ہے عمل اپنے بالوں کو زور سے پکڑتے ہوئے بولی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا بول رہی ہے عمل کو اس ٹائم بس یہ پتہ تھا یہ جو کچھ بھی ہوا ہے سب اسکی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے

عنیقہ ہمت کر کے کھڑی ہوئ اور لنگڑاتے ہوئے ہوٹل سے نکلنے لگی

اللہ پاک مجھے آرت سے بچا لیں مجھے بس ایک بار معافی مانگنی ہیں اپنے کیۓ کی اپنے ماما بابا سے عنیقہ روتے ہوئے بول رہی تھی اور آہستہ آہستہ چل رہی تھی

اوۓ آرت تو کدھر ہے لڑکا پریشانی سے فون میں بولا

پونچھنے والا ہوں کیوں آرت بولا

یار وہ لڑکی بھاگ گئ ہے

تجھے میں نے کیا کہا تھا اسکا خیال رکھی بہت چالاک ہے بھاگ جاۓ گی آرت ڈرائیو کرتے ہوئے چیخ کر بولا کیونکہ اسنے عنیقہ پر اپنا بہت ٹائیم ویسٹ کیا تھا

یار میں نے روم کا دروازا لوک کیا تھا پتہ نہیں سالی کدھر سے بھاگ گئ لڑکا بھی غصے سے بولا

دعا کر وہ مل جاۓ نئ تو میں تیری بہن کو لے جاؤں گا آرت غصے سے گھٹیا لہجے میں بولا

اپنی بکواس بند کر لڑکا آرت کو گندی گندی گالیوں سے نوازتا ہوا بولا کیونکہ بات اب اسکی بہن پر آئ تھی

بکواس تو میں نے ابھی کی ہی نہیں آرت نے بھی گالیاں دیتے ہوئے فون بند کرکے سیٹھ پر پٹخا

آپ لوگ اب گھر جائیں کیونکہ ہوسپٹل میں اتنے سارے لوگ نہیں روک سکتے سبحان سب سے بولا

میں گھر نہیں جاؤں گی مہناز صاحبہ بولی

ماما میں یہی ہوں آپ کیوں ٹینشن لے رہی ہیں جیسے میرب کو ہوش آیا تو میں آپ کو سب سے پہلے بتاؤں گا عرش بولا

بیٹا لیکن میں اپنی میرب کو کیسے اکیلے چھوڑ دوں مہناز صاحبہ کے بولتے ساتھ ہی انکی آنکھوں میں آنسوں آنے لگے

ماما میں ہوں سبحان ہے اکیلی نہیں ہے میرب عرش اپنی ماما کو گلے سے لگاتے ہوئے بولا

تو وہ راضی ہوئ گھر جانے کے لیۓ

امی آپ اور سویرا بھی گھر جائیں اور سمبل کو بتادیں کے میرب گری ہے تاکہ وہ کل ہوسپٹل آجاۓ سبحان ممتاز صاحبہ سے بولا کیونکہ سمبل نہیں آئ تھی اسلیۓ

ٹھیک ہے بیٹا لیکن جیسے ہی کوئ خبر ملے تو ہمیں لازمی بتانا ممتاز صاحبہ افسردگی سے بولی

ٹھیک ہے امی سبحان بولا