238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 16

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

آرت گاڑی کو آہستہ آہستہ چلا رہا تھا اور خود بھی آگے پیچھے دیکھ رہا تھا کیونکہ اسے پتہ تھا عنیقہ اتنی جلدی کہیں نہیں جاسکتی اور ساتھ ہی ساتھ اس لڑکے کو گالیوں سے بھی نواز رہا تھا

آرت اب ہوٹل کے قریب پہنچنے ہی والا تھا جب اسے روڈ کے ایک کونے میں عنیقہ چلتے ہوئے نظر آئ

آرت نے اسے دیکھا تو مسکراتے ہوئے گاڑی کو بریک لگائی اور باہر نکل کر عنیقہ کے پیچھے چلنے لگا

عنیقہ آرت ہلکی سی آواز میں بولا جو عنیقہ نے سن لی اور ایکدم آرت کی طرف مڑی

چلو آجاؤ گاڑی میں پیدل چلنے سے تم تھک جاؤ گی آرت نے بولتے ساتھ ہی عنیقہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر چلنے لگا

آرت پلیزز مجھے چھوڑ دو میں تمہارے پاؤں پڑتی ہوں عنیقہ روتے ہوئے بول رہی تھی

بے بی روڈ ہے تماشہ نہ لگاؤ ورنہ میری امیج خراب ہوجاۓ گی آرت نے بولتے ساتھ ہی گاڑی کا دروازا کھولا اور اس میں عنیقہ کو پھینکنے والے انداز میں بیٹھایا اور خود بھی سیٹی بجاتے ہوئے جاکر بیٹھا

آرت گاڑی چلا رہا تھا اور ساتھ ہی عنیقہ کی رونے کی آواز کو بھی انجوائے کررہا تھا

تباہ کن ہے وہ لوگ

جو عشق کو قصور عشق بنادیتے ہیں عنیقہ آرت کی طرف دیکھ کر روتے ہوئے بولی

اور اسے پتہ نہیں تھا یہ الفاظ اس سے پہلے کسی نے اسکے لیۓ بولے تھے

رئیلی بے بی آپ مجھ سے عشق کرتی ہو آرت عنیقہ کا چہرا پکڑتے ہوئے بولا تو عنیقہ نے جھٹکے سے اپنا چہرا ہٹایا

بے بی ایسی بے رخی تو نہ دیکھایا کرو آرت قہقہ لگاتے ہوئے بولا

آرت اب تم مجھے کہاں لے کر آۓ ہو عنیقہ روتے ہوئے اپنے ارد گرد کا ایریا دیکھنے لگی

تنگ گلی جہاں ہر طرف مرد ہی مرد تھے اور اس گلی میں تین سے چار گھر تھے اور گلی میں پان والا اور کریانہ سٹور والا تھا

عنیقہ کا دم گھٹ رہا تھا اس ایریہ کو دیکھ کر

میں تمہیں ایسی جگہ لایا ہوں جہاں پر تمہارے سے کم خوبصورت لڑکیاں ہیں آرت آنکھ مارتے ہوئے بولا سچی میں بہت اچھی لڑکیاں ہیں اور تم بیٹھ کر ان سے پوچھنا سب کی اسٹوریز کے سب یہاں تک کیسے آئ ہیں اور مزے کی یہ بات ان کو لایا کون ہے آرت بولا اور ساتھ ہی اسکے فون پر کال آنے لگی

یہ تو میرا فون ہے لیکن ہے کدھر آرت گاڑی میں ڈھونڈتا ہوا بولا

جب اسے عنیقہ کے پاؤں کے پاس نظر آیا

اوو یہ ہے آرت نے بول کر عنیقہ کے پاؤں کے پاس سے فون اٹھایا

کیا ہے بے آرت کال ریسیو کر کرکے اس لڑکے سے بولا

ملی وہ لڑکی یا نہیں لڑکا بھی روڈ پر خوار ہوتے ہوئے بولا

مل گئ ہے اور نہ بھی ملتی تو ڈھونڈ ہی لیتا کیونکہ بہت محنت سے یہاں تک اسے لایا ہوں آرت عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا

آج کے بعد تیرا میرا کونٹیکٹ ختم سمجھا لڑکے نے بول کر کال کاٹ دی

عنیقہ تمہاری وجہ سے میرا اتنا اچھا اور مہنگا گاہک خراب ہو گیا آرت افسوس سے بولا

مہناز صاحبہ گھر آئ تو ہر طرف خاموشی تھی ظفر میں یہاں نہیں بیٹھ سکتی مہناز صاحبہ روتے ہوئے بولی

کچھ نہیں ہوتا تم کیوں اتنی ٹینشن لے رہی ہو ظفر صاحب مہناز صاحبہ کو صوفے پر بیٹھاتے ہوۓ بولے

آپ کو بلکل بھی میرب سے پیار نہیں ہے مہناز صاحبہ روتے ہوئے بولی

مجھے کیوں نہیں محبت اپنی بیٹی سے تم کیسی فضول کی باتیں کرتی ہو تنگ آگیا ہوں میں تمہاری باتوں سے ظفر صاحب چڑتے ہوئے بولے کیونکہ صبح سے مہناز صاحبہ یہی بول رہی تھی آپ میرب سے پیار نہیں کرتے اسی لیۓ آپ عمل کو کچھ نہیں کہ رہے

میرب آپی کیسی ہیں عمل مہناز صاحبہ کو دیکھتے ہوئے بولی کیونکہ وہ صبح سے سب کا انتظار کر رہی تھی

مہناز صاحبہ نے عمل کو دیکھا تو اسکی آنکھیں بلکل اندر چلی گئ تھی رنگ پیلا زرد اور ایک ہی دن میں وہ کمزور ہو کر رہ گئی تھی

مر رہی ہے مہناز صاحبہ کڑوے الفاظوں سے بولی

ایسے نہ کہیں عمل روتے ہوئے بولی اور اسکا گلہ بھی بلکل بیٹھ گیا تھا

عمل اپنے کمرے میں جاؤ ظفر صاحب عمل کو دیکھ کر غصے سے بولے کیونکہ وہ اس ٹائیم عمل کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے تھے

آپ سب مجھ سے کیوں ناراض ہیں میں بھلا کیوں دھکہ دوں گی میرب آپی کو عمل اپنے خراب گلے سے بولی اسکی آواز بلکل بند ہورہی تھی کیونکہ وہ رو بھی رہی تھی

تمہارے علاؤ کون تھا سیڑھیوں پر بتاؤ مجھے اس سے پہلے تو ساری زندگی میرب نہیں گری

اور اگر اب گری ہے تو تم نے ہی تو گرایا ہے ظفر صاحب عمل کے سامنے آتے ہوئے بولے عمل کی شکل دیکھ کر انکا بلڈ پریشر ہاۓ ہو رہا تھا

عمل بھی تھک گئ تھی یہ بول بول کر کہ میری غلطی نہیں ہے

اب جاؤ یہاں سے نفرت ہوگئی ہے مجھے تمہاری شکل سے ظفر صاحب عمل سے ہٹتے ہوئے بولے

لیکن جب وہ مڑے تو حسن صاحب افسوس سے ظفر صاحب کو دیکھ رہے تھے آپ بھی میری بیٹی کو ایسے کہیں گیں مجھے یقین نہیں آرہا حسن صاحب بولے

لیکن ظفر صاحب چپ چاپ تھے

عمل چلو اب تم یہاں نہیں رہو گی حسن صاحب عمل کو دیکھتے ہوئے بولے

بابا آپ جائیں میں تب تک یہاں سے نہیں جاؤں گی جب تک میرب آپی ٹھیک نہیں ہو جاتی اور وہ ان سب کو بتا نہیں دیتی کے میری غلطی نہیں ہے عمل دل پر پتھر رکھ کر بولی کیونکہ وہ جانتی تھی یہاں کے لوگ اسے بہت زلیل کریں گیں

عمل جب اس گھر کے بڑے نہیں مان رہے کے تمہاری غلطی نہیں ہے تو میرب کیا مانیں گی حسن صاحب حقیقت بیان کرتے ہوئے بولے چلو آجاؤ بیٹا میں تمھیں یہاں نہیں چھوڑوں گا حسن صاحب عمل سے بولے کیونکہ وہ عمل کو ہر گز یہاں نہیں چھوڑ سکتے تھے

بابا عمل کی آنکھوں میں آنسوں تھے اور وہ انکار کر رہی تھی جانے سے

عمل جب میں عنیقہ کو بھول سکتا ہوں نہ تو تمھیں بھلانے میں مجھے کوئ دقت پیش نہیں آۓ گی حسن صاحب غصے سے بولے کیونکہ انھیں غصہ آرہا تھا عمل کے اس فضول سے بچپنے پے

عمل خاموش تھی حسن صاحب غصے سے باہر نکل گۓ کیونکہ عمل کی خاموشی وہ سمجھ چکے تھے

آرت عنیقہ کا ہاتھ پکڑ کر ایک تنگ سے گھر میں داخل ہوا جو تین منزلہ تھا لیکن بہت تنگ تھا

ہیلو

آرت ایک لڑکی کی طرف دیکھتا ہوا بولا جو ابھی کسی کمرے میں جانے لگی تھی

تمھیں میں نہیں چھوڑوں گی لڑکی بولی

ہر بار کی طرح گھسا پٹا ڈائیلاگ آرت ہنستے ہوئے اس لڑکی سے بولا

میری زندگی تم نے برباد کردی اس گندی جگہ میں لاکر مریم بول کر چلی گئ

جانتی ہو عنیقہ یہ بھی مجھ سے محبت کرتی تھی پیاری ہے نہ آرت مریم کو دیکھتے ہوئے بولا عنیقہ کو رونا آرہا تھا مریم کو دیکھ کر کیونکہ وہ بہت دکھ سے بولی تھی آرت کو کے تم نے میری زندگی برباد کردی ہے

آؤ میں تمھیں اپنی فیورٹ آنٹی سے ملاتا ہوں آرت بول کر عنیقہ کو لے کر ایک کمرے میں گیا

اسلام علیکم آپا آرت مسکراتے ہوئے ایک موٹی عورت سے بولا جو بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی اور ساتھ ہی اس کا منہ بھی پان سے بھرا ہوا تھا

وعلیکم السلام بیٹھ میرے ہیرو رشیدہ آرت کو اپنی پاس والی جگہ پر بیٹھاتے ہوۓ بولی

دیکھ اسکو آپا اور بتا تیرا دل خوش ہوا یا نہیں آرت عنیقہ کی طرف اشارا کرتے ہوئے بولا

دل تو ہر باری تو خوش کرتا ہے میرا رشیدہ آرت سے بول کر اپنے سامنے بیٹھی ہوئی لڑکی کو اشارا کیا جس نے تنگ قمیص اور نیچے پجامہ پہنا تھا لیکن اپنے جسم کو ڈھانپنے کے لیۓ کوئ دوپٹہ نہیں پہنا تھا

جا کر آرت کے لیۓ چاۓ اور گرم پکوان منگوا اور کل رات کے لیۓ اچھی سی تیاری بھی کرلو کیونکہ باہر کے لوگ آرہے ہیں رشیدہ اس لڑکی سے بولی

جی آپا لڑکی بول کر چلی گئ

ہاں اور بتا کہاں سے ائ ہے یہ لڑکی رشیدہ عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولی

اس کو تو بڑی مشکل سے لایا ہوں اور تجھے پتہ ہے یہ بھاگ بھی گئ تھی آرت رشیدہ کی طرف ایسے دیکھتے ہوئے بولا جیسے کچھ اور ہی ہوگیا ہو

اب آپا رشیدہ کے پاس آئ ہے کبھی بھی یہاں سے بھاگ نہیں سکتی رشیدہ پان تھوکتے ہوئے بولی

عنیقہ کمرے کو دیکھ رہی تھی جس میں انتہائی اندھیرا تھا تھوڑی بہت روشنی آرہی تھی وہ بھی اسلیۓ آرہی تھی کیونکہ باہر لڑکیاں کام کررہی تھی اسلیے لائٹ لگی تھی

کمرے میں ایک بیڈ اور سامنے صوفے تھے بیڈ پر بھی چمکیلی چادر ڈالی ہوئی تھی

سیگریٹوں اور پکوان کی سمل بھی ایک ساتھ آرہی تھی عنیقہ کا دل کررہا تھا بیٹھ کر الٹی کرے یا باہر تازہ ہوا میں سانس لے

آرت میرا دل بہت برے طریقے سے خراب ہو رہا ہے یہاں پلیز اٹھے یہاں سے ہم جائیں عنیقہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی

اب آپ ہمیشہ یہی رہو گی آرت عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا

میں یہاں اس گندی جگہ پر بلکل نہیں رہوں گی سمجھے عنیقہ غصے سے بولی

بات سن لڑکی یہ گندی جگہ نہیں انتہائی گندی جگہ ہے کیونکہ اسے کوٹھا کہتے ہیں یہاں پر جب ایک دفعہ کوئ لڑکی آجاۓ تو اسکا جانے کا کوئ راستہ نہیں ہوتا سمجھی اور اب آرت کا نام نہ لئ اپنی زبان سے رشیدہ عنیقہ کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولی

حریم ساتھ ہی رشیدہ نے ایک لڑکی کو تیز آواز دی جو دوڑتے ہوۓ کمرے میں آئ

جا لے جا اس لڑکی کو اور اگر کوئ بھی فالتو کی بات کرے تو مجھے بتا دی رشیدہ حریم سے بولی لیکن دیکھ عنیقہ کو رہی تھی

آجائیں حریم عنیقہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی

آرت اتنی بڑی سزا نہیں دو مجھے عنیقہ روتے ہوئے بولی

لیکن آرت خاموش تھا کیونکہ اسکے بس کی بات نہیں تھی عنیقہ کو کچھ بھی کہنے کی کیونکہ آپا رشیدہ کے کوٹھے میں کوئ بندہ اپنی لائ ہوئ بندی سے فضول بات نہیں کرسکتا تھا

حریم اسکے پاؤں پر موچ آئ ہے وہ بھی دیکھ لینا آرت عنیقہ کا پاؤں دیکھتے ہوئے بولا کیونکہ وہ بہت سوج گیا تھا

جی حریم بول کر عنیقہ کو اپنے ساتھ لے گئ

تجھے بہت فکر نہیں ہے اس لڑکی کی رشیدہ اپنے ہونٹوں کو صاف کرتے ہوئے بولی کیونکہ اسکی سائیڈوں پر پان لگا تھا

فکر تو نہیں ہے بس بڑے گھر کی لاڈلی ہے اسلیۓ تھوڑی خاطر کررہا ہوں آرت مسکراتے ہوئے بولا

تو رشیدہ بھی مسکرانے لگی

امی میرب پرسوں کی گری ہے اور آپ مجھے آج بتا رہی ہیں سمبل صبح سویرے آٹھ بجے ممتاز صاحبہ کے پاس آتے ہوئے بولی

بیٹا دو دن تو ہم خود بہت پریشان تھے کل رات ہی سبحان نے کہا تھا کے تمھیں بھی اطلاع دے دوں لیکن رات بہت ہوگئ تھی اسلیۓ فون نہیں کرسکی اور صبح ہوتے ہی تمھیں فون کردیا ممتاز صاحبہ تھکے ہوئے انداز میں بولی کیونکہ وہ بہت پریشان تھی اسلیے انھیں رات میں بھی نیند نہیں آئ

دو دن ہوگۓ ہیں میرب کو بےہوش ہوۓ کوئ خبر نہیں ہے کے کب ہوش میں آۓ گی سمبل پریشانی سے بولی

اللہ کے سوا تو کسی نہیں پتہ کب ہوش میں آۓ گی ممتاز صاحبہ بولی

امی وہ اتنی بڑی لڑکی گری کیسے کوئ ڈھنگ ہوتا ہے چلنے پھرنے اٹھنے بیٹھنے کا سمبل غصے سے بولی

سمبل سب کہ رہے ہیں کے عرش کی بیوی ہے نہ جو چھوٹی سی ہے اسنے گرایا ہے ممتاز صاحبہ آہستہ سی آواز میں بولی

نہیں نہیں امی میں نہیں مان سکتی کہ وہ لڑکی میرب جیسی چالاک لڑکی کو گرا سکتی ہے کیونکہ اسنے ادھر اتنے ڈرامے لگاۓ تھے تو وہ لڑکی تو پھر ماصوم ہے سمبل بلکل انکار کرتے ہوئے بولی

پتہ نہیں ہے سب کہ رہے تھے مجھے اسلیے تمھیں بھی بتا دیا ممتاز صاحبہ بولی

سمبل میرب حاملہ بھی تھی گرنے کی وجہ سے میرے سبحان کی پہلی خوشی ہی ختم ہوگئی ممتاز صاحبہ افسوس سے بولی

امی میرب حاملہ تھی سمبل حیرانگی سے بولی

ہاں ممتاز صاحبہ بولی

ایسی لڑکیاں لوگوں کا گھر اجاڑنے کے چکر میں اپنا گھر اجاڑ دیتی ہیں پھر نہ شوہر رہتا ہے اور نہ ہی اولاد سمبل غصے سے بولی کیونکہ ایک بھائ تھا اسکی پہلی خوشی ہی خوشی نہیں رہی

چلو دعا کرو میرب کے لیۓ وہ جلدی ہوش میں آجاے اور پھر اللہ پاک اسکی گود بھر دے گا ممتاز صاحبہ بولی

ہاں جی سمبل بس اتنا ہی بولی

یہ لیں اندر پیشنٹ کی یہ والی دوائیاں لے آئیں نرس باہر آئ تو سبحان کی طرف پرچی کی

یہاں دیں مجھے عرش سبحان کے ہاتھ سے پرچی لیتے ہوئے بولا

سبحان کو بہت برا لگ رہا تھا کیونکہ عرش نے ایک روپیہ بھی سبحان کے نہیں لگواۓ تھے جب سے میرب گری تھی

عرش میں لے آؤں گا میرب اب میری زمہ داری ہے سبحان تمیز سے بولا

تو میں کیا کروں عرش بول کر چلا گیا

آپ کیوں عمل کو چھوڑ کر آئیں ہیں وہاں پر آپ کو اندازا نہیں ہے وہ کیا کریں گے میری بچی کے ساتھ فریدہ صاحبہ غصے سے بولی

فریدہ وہ خود ہی نہیں آئ میں نے اسے بہت کہا حتی کہ میں نے یہاں تک بھی کہ دیا کے اگر تم نہ آئ تو میں نے جیسے عنیقہ کو بھلایا ہے ویسے تمھیں بھی بھلا دوں گا لیکن پھر بھی وہ نہیں آئ حسن صاحب انتہائی افسوس بھرے لہجے میں بولے

آپ یہ کیا کہ کر آگۓ ہیں کیا آپ واقعی میں عمل کو بھول سکتے ہیں فریدہ صاحبہ حسن صاحب سے بولی

ہممم حسن بولے

نہیں آپ تو ابھی تک عنیقہ کو بھی نہیں بھولے جس نے بھاگ کر اتنا بڑا گناہ کیا ہے آپ تو آدھی رات کو عنیقہ اور عمل کے کمرے میں بھی جاتے ہیں

آپ جانتے ہیں حسن میری اور آپ کی شادی کو بیس سال ہوگۓ ہیں لیکن میں نے آپ کو کبھی روتا ہوا نہیں دیکھا تھا

لیکن جب سے عنیقہ گئ ہے تب سے آپ کو میں نے اسکے کمرے میں روتا ہوا دیکھا ہے فریدہ صاحبہ روتے ہوئے بولی

تو حسن صاحب کی آنکھوں میں بھی آنسو آگۓ جس کی وجہ سے وہ اپنی گردن جھکا کر زمین کی طرف دیکھنے لگے

ہماری عمل کی تو کوئ غلطی بھی نہیں ہے وہ تو اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لئے وہاں سے نہیں آئ آپ کو اپنی بیٹی پر فخر کرنے کے بجائے اس سے رشتہ ہی ختم کردیا فریدہ صاحبہ افسوس بھرے لہجے میں حسن صاحب سے بولی

حسن صاحب خاموش تھے

حسن جب سے ہماری عنیقہ گئ ہے تب سے آپ نے اسکا ذکر نہیں کیا کیوں

آپ تو روتے ہیں اسکے لیۓ ہر رات پھر آپ نے کیوں نہیں ڈھونڈا اسے فریدہ صاحبہ بولی

فریدہ اگر عنیقہ مجھے نکاح کے وقت بھی کہتی نہ بابا میں نے عرش سے نہیں بلکے کسی اور سے شادی کرنی ہے تو میں قسم کھاتا ہوں میں اسکی شادی اس شخص کے ساتھ خوشی خوشی کروا دیتا لیکن اسنے ہمیں نہیں بتایا اسنے ہم پر اعتبار ہی نہیں کیا وہ ہمیں اپنی مرضی سے چھوڑ کر گئ ہے پھر ہماری کیا اوقات ہے جو اسے ڈھونڈنے کی حسن صاحب بولے

اور رہی بات عمل کی تو اللہ پاک اسکے ساتھ ہے اور میری دعائیں بھی میں اپنی بیٹی کے ساتھ کبھی بھی رشتہ ختم نہیں کرسکتا کیونکہ اسنے ہمارے لیۓ ہماری عزت کے لیۓ عرش سے نکاح کر کے ہمارے لیۓ اتنی بڑی قربانی دی ہے حسن صاحب بولے

سبحان یہ پکڑو عرش دوائیاں پکڑاتے ہوئے بولا

میں تھوڑی دیر کے لیۓ گھر جارہا ہوں عرش ٹائیم دیکھتے ہوئے بولا

میں آجاؤں تو تم بھی گھر کا چکر لگا لینا

ٹھیک ہے سبحان بولا

تو عرش چلا گیا

اسلام علیکم عمل کیسی ہو زمل فون پر بولی

وعلیکم السلام میں ٹھیک تم کیسی ہو عمل مشکل سے بول پائ کیونکہ اسکا گلہ درد کررہا تھا

تو ٹھیک نہیں ہے بتا کیا ہوا زمل بولی

بول رہی ہوں نہ کچھ بھی نہیں ہوا عمل بولی

عمل جلدی بات بتا عزت سے کیونکہ میں نے بھی تجھے بات بتانی ہے وہ بھی ضروری زمل پریشانی سے بولی

یار میرب آپی سیڑھیوں سے گری ہیں عمل نے پوری بات بتائ اور ساتھ ہی رو بھی رہی تھی

عمل اللہ پاک خیر کرے اور ہمت رکھ اللہ پاک ساری پریشانیاں دور کردیں گیں

عمل تجھے ایک اور بات بتانی ہے زمل پریشانی سے بولی

بول عمل بولی

عنیقہ کا نمبر دو دن سے آف جارہا کوئ رابطہ نہیں ہو رہا زمل پریشانی سے بولی

عنیقہ کا نمبر بند ہے تو اسکے ہسبنڈ سے رابطہ کر نہ عمل پریشانی سے بولی

کوئ رابطہ نہیں ہو رہا لاسٹ ٹائیم میری بات ہوئی تھی ان سے جس دن انکی برتھ ڈے تھی وہ بول رہی تھی کے وہ ابھی پارٹی پر جارہی ہیں تو میں نے بھی کہا جب آپ واپس آئ تو میں آپ سے بات کروں گی زمل بولی

یار عنیقہ کا نمبر بند ہے اللہ جی میری بہن کدھر ہوگی میں نے تو اسے پہلے کہا تھا کے نہ بھاگے بابا سے بات کر لے لیکن وہ نہیں مانی عمل پریشانی سے بول کر مڑی تو عرش اسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا

عمل نے جیسے عرش کو دیکھا تو اس سے فون ہی نیچے گر گیا جس کی وجہ سے وہ بند ہوگیا تھا۔

عرش اندر آیا اور دروازا کو لوک کیا

اور ساتھ ہی اپنی شرٹ کے کف کو بھی اوپر کرنے لگا

عرش آپ میری بات سنیں پھر جو پٹاخ عرش نے عمل کے منہ پر رخ کر تھپڑ مارا

عرش آپ میری بات تو سنیں عمل روتے ہوئے بولی پٹاخ عرش نے بنا کچھ کہے ایک اور تھپڑ مارا اور ساتھ ہی چار پانچ تھپڑ مارتا گیا

گھٹیا لڑکی بے شرم اپنی بہن کو خود بھگایا تم نے اور سب کے سامنے زبان کو تالہ لگا کر رکھا

تمھیں میں کتنا ماصوم سمجھتا تھا اور تم نے ایسی حرکت کی عرش عمل کے بالوں کو فل شدت سے پکڑتے ہوئے بولا جو سات آٹھ تھپڑ کھانے کے وجہ سے زمین پر پڑی تھی

جانتی ہو تم نے میرب کو گرایا اس بات پر میں نے تمھیں کچھ نہیں کہا بلکے میں دو دن گھر ہی نہیں آیا تاکہ میں تمھیں کچھ نہ کہ دوں کیونکہ تم مجھے پاک اور صاف دل کی لگتی تھی لیکن تم پاک ہاہا تم بھی اپنی بہن کی طرح بد کردار نکلی عرش عمل کے منہ کے قریب ہوکر غصے سے بول رہا تھا اور اسکی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا

عرش میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا عمل روتے ہوئے بولی اور اسکی آواز بلکل بند ہوگئی تھی اور ساتھ ہی آنکھیں بھی بند ہورہی تھی

تم نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا عرش چیخ کر بولا

تو کس نے کیا ہے بتاؤ مجھے عرش عمل کو منہ سے پکڑ کر چلا کر بولا عمل بے بس ہورہی تھی عرش کی مار سے

عرش نے عمل کو بالوں سے پکڑتے ہوئے کھڑا کیا جس کی وجہ سے عمل اپنے خراب گلے سے چیخی کیونکہ یہ تکلیف اسے موت سے کم نہیں لگ رہی تھی

میں تم سے آخری بار پوچھ رہا ہوں بتاؤ مجھے کیوں کیا تم نے کیوں گرایا میری بہن کو کیوں بھگایا عنیقہ کو

عرش میں بول عمل بول ہی رہی تھی جب وہ عرش کے ہاتھوں میں بے ہوش ہو گئی کیونکہ اسے بہت تیز بخار بھی تھا

عرش نے عمل کی طرف دیکھا آج اسے ترس نہیں آرہا تھا عمل کو دیکھ کر بلکے خون گھول رہا تھا

آپ تیل لگاؤ اپنے پاؤں پر حریم بولی

میں نہیں لگاؤں گی میں اپنے گھر جاؤں گی عمل روتے ہوئے بولی

کیا نام ہے آپ کا حریم پیار سے بولی

عنیقہ نام ہے میرا عنیقہ روتے ہوئے بولی

دیکھو عنیقہ یہاں پر جب کوئ لڑکی آجاۓ تو وہ کبھی بھی اپنے گھر نہیں جاسکتی کیونکہ نہ آپا تمھیں نکلنے دے گی یہاں سے اور نہ ہی تمھیں گھر والے ایکسپٹ کریں گیں سمجھ رہی ہو نہ تم حریم بہت نرم لہجے میں بولی

نہیں میرے گھر والے ایسے نہیں ہے وہ مجھے اپنا لے گیں بس مجھے یہاں سے نکلنا ہے عنیقہ روتے ہوئے دوبارا بولی

آہستہ بولو عنیقہ اگر آپا نے سن لیا تو وہ بہت برا کریں گی تمہارے ساتھ حریم سچ بولی

عنیقہ اپنا چہرہ گھٹنوں میں رکھ کر رونے لگ گئ

ادھر دو مجھے اپنا پاؤں حریم عنیقہ کا پاؤں لے کر خود ہی تیل سے مالش کرنے لگی

آپ کو یہاں کون لایا تھا عنیقہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے حریم سے بولی

ہم لڑکیاں بہت بھولی بھالی ہوتی ہیں ہم کسی کی بھی باتوں میں آکر اپنی ہنستی مسکراتی زندگی چھوڑ کر ایسے شخص کے پاس آجاتے ہیں جو ہمیں یہاں پھینک دیتے ہیں حریم کے الفاظ ایسے تھے سننے والے کے کلیجہ کاٹ دیتا تھا

تم بھی یہاں تک قصور عشق کی وجہ سے آئ ہو عنیقہ اپنی آنکھوں میں آنسوں لیۓ حریم کو دیکھتے ہوئے بولی جس کی اپنی آنکھیں بھی نم تھی

یہی سمجھ لو حریم عنیقہ کے پاؤں پر گرم پٹی باندھتے ہوئے بولی

آپ لوگ بھاگے کیوں نہیں جاتے یہاں سے عنیقہ بولی

اوّل تو یہاں سے کوئ بھاگ نہیں سکتا اور اگر بھاگتے ہوئے پکڑا جاۓ تو اسکو آپا سے ایسی سزا ملتی ہے وہ ساری زندگی یاد رکھتا ہے

اور دوسرا ہم بھاگ کر جائیں گے بھی کہاں کیونکہ ایک عورت کو ایک مرد کا سہارا لازمی چاہیۓ اور یہ سہارا ہمیں باپ بھائ شوہر کی صورت میں ملتے ہیں

لیکن باپ بھائ کے پاس جاسکتے نہیں ہیں اور شوہر وہ تو کوئ نہیں ہوگا ہم طوائفوں کا حریم نے شوہر والی بات تنزانیہ بولی

میں عنیقہ حسن ہوں میں طوائف کبھی نہیں بنوں گی عنیقہ حریم کو دیکھتے ہوئے بولی

ہاہاہا اس گلی سے گزرنے والا مرد اپنا منہ چھپا کر جاتا ہے تاکہ کوئ اسے پہچان نہ لے اور اسکی عزت خراب نہ ہو تو سوچو یہاں پر آنے والی عورت کی کیا عزت ہوگی حریم حقیقت بیان کرتے ہوئے بولی

عنیقہ کو آج اپنے لیۓ نہیں بلکے یہاں رہنے والی ہر عورت کے لیۓ افسوس ہو رہا تھا